Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 227 آیات ) Ash-Shuara Ash-Shuara
Go
  • الشعراء (The Poets)

    227 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ فرقان ۔۔۔ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ اس میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کا اثبات ہے لیکن نہج استدلال اور اسلوب بیان اس کا سابق سورہ سے مختلف ہے۔
    سابق سورہ میں جن انبیائے کرام کی سرگزشتوں کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا گیا تھا اس میں ان کی تفصیل بیان کر دی گئی ہے۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش کاہن اور شاعر ہونے کا جو الزام لگاتے تھے اس میں اس الزام کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے۔
    اس میں ہر پیرے کے بعد آیات ’اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۵ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَالْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ‘ بطور ترجیع آٹھ بار وارد ہوئی ہیں۔ اس ترجیع سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ آپؐ کی صداقت کے ثبوت کے لیے آپؐ سے کسی نشانئ عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے وہ اس میں خاص طورپر مخاطب ہیں۔ ان کو تاریخ کے حقائق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ رسولوں اور ان کے مکذبین کی تاریخ سے سبق لیں۔ ان لوگوں کی روش کی تقلید نہ کریں جو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔

  • الشعراء (The Poets)

    227 آیات | مکی

    الفرقان ۔ الشعراء

    ۲۵ ۔۲۶

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات رسالت اور اُس کے حوالے سے انذار وبشارت ہے۔ دوسری سورہ میں، البتہ اُن سرگذشتوں کی تفصیل کر دی گئی ہے جن کی طرف پہلی سورہ میں بالاجمال اشارہ فرمایا ہے۔ نیز کاہن اور شاعر ہونے کا جو الزام قریش مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے، اُس کی اِس سورہ میں خاص طور پر تردید کی گئی ہے۔

    دونوں میں خطاب قریش سے ہے جو آپ کی صداقت کے ثبوت کے لیے اُس زمانے میں آپ سے بار بار عذاب کی کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دوسری سورہ میں آیت ترجیع اِسی حوالے سے وارد ہوئی ہے۔

    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ طٰسٓمّٓ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’طٰسٓمّٓ‘ ہمار ے نزدیک مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔ ہم نے ترجمہ میں یہ محذوف کھول دیا ہے۔ یعنی یہ سورۂ ’طٰسٓمّٓ‘ ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’طٰسٓمّٓ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ سورہ کا نام ہے۔ اِس کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق ہم نے اپنا نقطۂ نظر سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آفتاب آمد دلیل آفتاب! ’کتاب مبین‘ سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے جس نے نہایت فصیح و بلیغ زبان میں اپنی دعوت کے ہر پہلو کوگوناگوں اسلوبوں سے بالکل مدلل و مبرہن کر دیا ہے۔ قرآن کی اس صفت کے ذکر سے یہاں مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ آپ جو کتاب لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ اپنی صحت و صداقت کی خود سب سے بڑی دلیل ہے۔ کسی خارجی شہادت کی محتاج نہیں ہے اس وجہ سے جو لوگ اس کی تصدیق کے لیے کسی معجزہ یا نشانئ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کا مطالبہ درخور اعتناء نہیں ہے، آپ اس کی پروا نہ کریں۔ آفتاب اپنی دلیل خود ہوتا ہے۔ اس پر خارج سے کوئی دلیل قائم نہیں کی جاتی۔

      جاوید احمد غامدی یہ اُس کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنا مدعا وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا جو مضمون آگے آ رہا ہے، یہ اُس کی تمہید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کی بات ایسی واضح اور مبرہن ہے کہ اُس کے لیے کسی خارجی شہادت کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ آپ ہی اپنی دلیل ہے۔ لہٰذا جو نشانیاں اور معجزات یہ مانگ رہے ہیں، اُن کے لیے آپ اِن کی کوئی پروا نہ کریں۔

    • امین احسن اصلاحی شاید تم اپنے آپ کو اس فکر میں ہلاک کر کے رہو گے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دل نواز تسلی: وہی تسلی کا مضمون جو اوپر والی آیت میں مخفی تھا اس آیت میں نہایت دل نواز پیرائے میں واضح ہو گیا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے ارشاد ہوا ہے کہ ان لوگوں کا اس ’کتاب مبین‘ پر ایمان نہ لانا آپ کے دل پر اتنا شاق ہے کہ معلوم ہوتا ہے آپ اس غم میں اپنے کو ہلاک کر کے رہیں گے حالانکہ قصور نہ آپ کا ہے نہ اس کتاب کا، سارا قصور ان لوگوں کا خود اپنا ہے کہ ایک بالکل واضح حقیقت کو جھٹلانے کے لیے مختلف قسم کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ آپ کی ذمہ داری صرف تبلیغ ہے۔ اس کا حق آپ نے پورا پورا ادا کر دیا اور ادا کر رہے ہیں، پھر ایسے ناقدروں کے پیچھے آپ اپنے کو کیوں ہلکان کریں!

      جاوید احمد غامدی شاید تم اِس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ ایمان نہیں لاتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں پس ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہی رہ جائیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عربیت کا ایک اسلوب: آیت میں بظاہر ’خٰضِعِیْنَ‘ کی جگہ ’خَاضِعَۃ‘ ہونا تھا لیکن ’اَعْنَاقُھُمْ‘ میں مضاف الیہ کی رعایت سے ’خٰضِعِیْنَ‘ آیا ہے۔ یہ عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے۔ اس کی بعض مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں۔
      پیغمبرؐ کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے تہدید: اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کے ساتھ کفار کے لیے دھمکی بھی مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان لانے کے لیے کوئی نشانی دیکھنے ہی پر اڑے ہوئے ہیں تو یاد رکھیں کہ ہمارے پاس نشانیوں کی کمی نہیں ہے۔ ہم جب چاہیں آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار سکتے ہیں جس کے آگے سب کی گردنیں جھک جائیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ سوچ سمجھ کر اپنے اختیار و ارادہ سے ایمان لائیں۔ ہمارے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جو اختیار و ارادہ کے ساتھ لایا جائے نہ کہ مجبور ہو کر۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تسلی ہے کہ جب ایمان کے باب میں سنت الٰہی یہ ہے تو آپ ان لوگوں کے مطالبات سے پریشان کیوں ہوں، ان کے معاملے کو خدا پر چھوڑ دیں!

      جاوید احمد غامدی اگر ہم چاہیں تو اِن پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں کہ اِن کی گردنیں اُس کے سامنے جھک کر رہ جائیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ ہم یہ بھی کر سکتے ہیں، لیکن جب ارادہ و اختیار کا امتحان مقصود ہے تو اِس کی گنجایش نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ سمجھا رہے ہیں تو آپ کو بھی اِن کے مطالبات سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
      آیت میں ’خاضعۃ‘ کی جگہ ’خٰضِعِیْنَ‘ مضاف الیہ کی رعایت سے آ گیا ہے۔ یہ عربیت کا معروف اسلوب ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان کے پاس خدائے رحمان کی طرف سے جو تازہ یاددہانی بھی آتی ہے یہ اس سے اعراض کرنے والے ہی بنے رہتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دوا سے مریض کی بیزاری اور اس کا انجام: یہ ذرا مختلف الفاظ میں وہی مضمون ہے جو سورۂ فرقان کی آخری آیت میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکیر و تعلیم کے اس سارے اہتمام سے، جو رب رحمان نے ان کے لیے کیا، مقصود یہی تھا کہ یہ لوگ سوچیں سمجھیں اور زندگی کی صحیح روش اختیار کریں لیکن ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جتنی ہی ان کے علاج کی تدبیر کی گئی اتنی ہی دوا اور طبیب سے ان کی نفرت بڑھتی گئی۔ اللہ نے تازہ بتازہ، نو بنو اسلوبوں سے ان کو یاددہانی کی لیکن وہ اعراض کرنے والے ہی بنے رہے اور قرآن و رسول دونوں کا انھوں نے مذاق اڑایا۔ ان کی اس روش کے بعد اب ان کے لیے اس کے سوا کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ جس قرآن کا انھوں نے اب تک مذاق اڑایا ہے، اس نے جن نتائج سے ان کو خبردار کیا ہے وہ ایک ایک کر کے ان کے سامنے آئیں، چنانچہ وہ ان کے سامنے آئیں گے۔

      جاوید احمد غامدی (لیکن ہم سمجھا رہے ہیں اور اِن کا حال یہ ہے کہ ) خداے رحمٰن کی طرف سے اِن کے پاس جو تازہ یاد دہانی بھی آتی ہے، یہ اُس سے اعراض کیے رہتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی سو انھوں نے جھٹلا دیا تو جس چیز کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں اب اس کی تنبیہات ان کے آگے ظاہر ہوں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دوا سے مریض کی بیزاری اور اس کا انجام: یہ ذرا مختلف الفاظ میں وہی مضمون ہے جو سورۂ فرقان کی آخری آیت میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکیر و تعلیم کے اس سارے اہتمام سے، جو رب رحمان نے ان کے لیے کیا، مقصود یہی تھا کہ یہ لوگ سوچیں سمجھیں اور زندگی کی صحیح روش اختیار کریں لیکن ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جتنی ہی ان کے علاج کی تدبیر کی گئی اتنی ہی دوا اور طبیب سے ان کی نفرت بڑھتی گئی۔ اللہ نے تازہ بتازہ، نو بنو اسلوبوں سے ان کو یاددہانی کی لیکن وہ اعراض کرنے والے ہی بنے رہے اور قرآن و رسول دونوں کا انھوں نے مذاق اڑایا۔ ان کی اس روش کے بعد اب ان کے لیے اس کے سوا کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ جس قرآن کا انھوں نے اب تک مذاق اڑایا ہے، اس نے جن نتائج سے ان کو خبردار کیا ہے وہ ایک ایک کر کے ان کے سامنے آئیں، چنانچہ وہ ان کے سامنے آئیں گے۔

      جاوید احمد غامدی سو اِنھوں نے جھٹلا دیا ہے تو اُس چیز کی خبریں عنقریب (اپنی حقیقت کے ساتھ) اِن کے آگے ظاہر ہوجائیں گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی قرآن جو اِنھیں خبردار کرتا رہا ہے کہ اُس کی تکذیب کے نتیجے میں اِنھیں کیا نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا انھوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی! ہم نے اس میں کتنی نوع بنوع کی فیض بخش چیزیں اگا رکھی ہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’زَوْجٍ‘ کے معنی قسم اور نوع کے ہیں۔ ’مِنْ کُلِّ زَوْجٍ‘ یعنی نوع بنوع چیزیں۔ ’کَرِیْمٍ‘ یہاں فیض بخش اور منفعت رساں کے مفہوم میں ہے۔ اہل عرب انگور کو ’کرم‘ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ نام انھوں نے انگور کی غایت درجہ منفعت رسانی ہی کی وجہ سے رکھا۔
      زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ: آیت کا مطلب یہ ہے کہ آخر یہ لوگ آسمان سے اترنے والی کسی نشانئ عذاب ہی کے منتظر کیوں ہیں، اس زمین پر پھیلی ہوئی ان گوناگوں نعمتوں کو کیوں نہیں دیکھتے جن کو رب رحیم و کریم نے اسی لیے پیدا کیا ہے کہ لوگ ان سے فائدہ بھی اٹھائیں اور بصیرت و یاددہانی بھی حاصل کریں!

      جاوید احمد غامدی (یہ نشانیوں کے منتظر ہیں)۔ کیا اِنھوں نے زمین کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اُس میں ہر طرح کی کتنی نفع بخش چیزیں اگائی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس میں بے شک بہت بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اگر یہ کسی نشانی ہی کے طالب ہیں تو اس سے بڑی نشانی اور کیا چاہیے! یہاں ان تمام دلائل توحید قیامت و جزا کو ذہن میں مستحضر کر لیجیے جو قرآن میں تفصیل سے مذکور ہوئے ہیں اور جن کی شہادت میں قرآن نے زمین کی انہی نعمتوں اور برکتوں کا حوالہ دیا ہے۔ آگے سورۂ لقمان کی آیت ۱۱۰ اور سورۂ سجدہ کی آیت ۲۷ کے تحت اس مضمون کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔
      ’وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ یعنی یہ بات نہیں کہ نشانیوں کی کمی ہے۔ نشانیوں سے تو اس زمین کا چپہ چپہ معمور ہے لیکن جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے ان کا کیا علاج!

      جاوید احمد غامدی اِس میں، یقیناً بہت بڑی نشانی ہے، لیکن اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور بے شک تمہارا رب غالب بھی ہے، مہربان بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدائے عزیز و رحیم کی سنت امہال: ’وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ‘۔ یہ وہی اوپر والی بات اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کی روشنی میں واضح فرمائی ہے کہ تمہارا خداوند عزیز بھی ہے اور ساتھ ہی رحیم بھی۔ ’عَزِیْزٌ‘ یعنی غالب، وہ جو چاہے کر سکتا ہے کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ اگر وہ ان پر فوراً کوئی عذاب نازل کر دے تو کوئی اس کی پکڑ سے ان کو بچا نہ سکے گا، لیکن وہ رحیم بھی ہے اس وجہ سے عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا کہ جو لوگ توبہ اور اصلاح کرنی چاہیں وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر کر لیں اور اس کی رحمت کے سزاوار بن جائیں۔ یہاں مبتدا کے اعادہ سے مقصود خاص طور پر ان صفات پر زور دینا اور لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرنا ہے اس لیے کہ خدا کی ان صفات کو مستحضر نہ رکھنے ہی کے باعث نادانوں کو یہ مغالطہ پیش آیا کہ وہ خدا کی ڈھیل کو اپنے رویہ کی صحت و صداقت کی دلیل سمجھ بیٹھے اور نہایت غرور کے ساتھ ان لوگوں کا مذاق اڑایا جنھوں نے ان کو اصلاح کی دعوت دی ۔۔۔ یہ آیات اس سورہ میں، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، بار بار آئیں گی اس وجہ سے ان کے مفہوم کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے تاکہ آگے اس کے اعادے کی ضرورت نہ پیش آئے۔

      جاوید احمد غامدی اور تیرا پروردگار، اِس میں کچھ شک نہیں کہ وہ زبردست بھی ہے اور نہایت مہربان بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر جو بات بیان ہوئی ہے، یہ اُسی کو اپنی صفات کی روشنی میں واضح فرمایا ہے کہ خدا زبردست ہے، وہ چاہے تو اِن پر اپنا عذاب نازل کر دے، لیکن وہ رحیم و کریم بھی ہے، اِس لیے عذاب میں جلدی نہیں کرتا اور اپنے بندوں کو اُن کی سرکشی کے باوجود مہلت دیتا ہے کہ سمجھانے ہی سے سمجھ جائیں اور اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آئیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور جب پکارا تیرے رب نے موسیٰ کو کہ ظالم قوم — (قوم فرعون) — کے پاس جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب مدین سے واپس ہوتے ہوئے وادئ مقدس طویٰ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے کلام سے مشرف فرمایا اور ان کو منصب رسالت پر سرفراز کر کے فرعون اور اس کی قوم کے پاس انذار کے لیے جانے کی ہدایت فرمائی۔
      ایک خاص اسلوب بیان: ’اَلَا یَتَّقُوْنَ‘ کا اسلوب بیان فرعون اور اس کی قوم کے غایت درجہ طغیان و فساد کو ظاہر کر رہا ہے، اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ کیا یہ ظالم لوگ اسی طرح بگ ٹٹ اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی چلے جائیں گے اور اس کے انجام اور خدا کے قہر و غضب سے نہیں ڈریں گے؟ آگے آیات ۱۲۵، ۱۴۳، ۱۶۲ اور ۱۷۸ سے معلوم ہو گا کہ بعینہٖ اسی اسلوب سے دوسرے انبیائے کرام نے بھی اپنی اپنی قوموں کو انذار فرمایا ہے۔ اس اسلوب خطاب میں حسرت، غصہ، زجر و ملامت اور عذاب الٰہی کے قرب کی جو وعید ہے وہ محتاج تشریح نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِنھیں اُس وقت کا قصہ سناؤ، جب تیرے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ تم ظالم قوم کے پاس جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      دوسری جگہ وضاحت ہے کہ یہ واقعہ وادی مقدس طویٰ میں اُس وقت پیش آیا، جب موسیٰ علیہ السلام کئی برس کی جلاوطنی کے بعد مدین سے واپس آ رہے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی قوم فرعون کے پاس جاؤ، کیا وہ ڈریں گے نہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب مدین سے واپس ہوتے ہوئے وادئ مقدس طویٰ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے کلام سے مشرف فرمایا اور ان کو منصب رسالت پر سرفراز کر کے فرعون اور اس کی قوم کے پاس انذار کے لیے جانے کی ہدایت فرمائی۔
      ایک خاص اسلوب بیان: ’اَلَا یَتَّقُوْنَ‘ کا اسلوب بیان فرعون اور اس کی قوم کے غایت درجہ طغیان و فساد کو ظاہر کر رہا ہے، اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ کیا یہ ظالم لوگ اسی طرح بگ ٹٹ اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی چلے جائیں گے اور اس کے انجام اور خدا کے قہر و غضب سے نہیں ڈریں گے؟ آگے آیات ۱۲۵، ۱۴۳، ۱۶۲ اور ۱۷۸ سے معلوم ہو گا کہ بعینہٖ اسی اسلوب سے دوسرے انبیائے کرام نے بھی اپنی اپنی قوموں کو انذار فرمایا ہے۔ اس اسلوب خطاب میں حسرت، غصہ، زجر و ملامت اور عذاب الٰہی کے قرب کی جو وعید ہے وہ محتاج تشریح نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی قوم فرعون کے پاس ۔۔۔ کیا وہ ڈریں گے نہیں؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اپنے طغیان اور سرکشی میں بڑھتے ہی جائیں گے اور خدا کے قہر و غضب سے ڈریں گے نہیں؟ استاذ امام کے الفاظ میں، اِس اسلوب خطاب میں حسرت، غصہ، زجر و ملامت اور عذاب الٰہی کے قرب کی جو وعید ہے، وہ محتاج تشریح نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے کہا، اے میرے رب! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نبوت پا کر حضرت موسیٰ ؑ کے اندیشے: حضرت موسیٰ ؑ اس عظیم ذمہ داری سے بہت ڈرے اور یہ ڈرنا ذمہ داری کے صحیح احساس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ مدین جانے سے پہلے ہی انھیں یہ اندازہ اچھی طرح ہو چکا تھا کہ فرعونیوں کے سامنے کوئی حق بات کہنا کتنا مشکل ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُس نے عرض کیا: پروردگار، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور میرا سینہ بھنچتا ہے اور میری زبان رواں نہیں ہے تو ہارون کے پاس پیغام بھیج۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نیز وہ اپنے اندر قوت بیان کی کمی بھی محسوس فرماتے تھے اور قبطی کی موت کا جو واقعہ ان کے ہاتھوں ہو چکا تھا اس کی بنا پر بھی وہ اندیشہ ناک تھے کہ فرعون اور اس کے اعیان ان کے خلاف غصہ میں بھرے بیٹھے ہوں گے وہ ان کو آسانی سے معاف کرنے والے نہیں ہیں۔ بالخصوص اس صورت میں جب کہ وہ ان کے سامنے رسالت کا دعویٰ لے کر جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اور (میرا حال یہ ہے کہ اِس ذمہ داری کے احساس سے) میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان بھی رواں نہیں ہے تو آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں (کہ وہ اِس کام میں میری مدد کرے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس اضطراب و تردد کی تعبیر ہے جو وہ ایک فرض شناس آدمی کی حیثیت سے اُس عظیم منصب کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے اپنے دل میں محسوس کر رہے تھے جو اُنھیں دیا جا رہا تھا۔
      یعنی میں کوئی زبان آور خطیب بھی نہیں ہوں کہ اپنی بات موثر طریقے سے مخاطبین تک پہنچا سکوں۔ یہ نہایت خاکسارانہ انداز اپنی عاجزی کا اظہار ہے۔ اِس کا کسی جسمانی نقص سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
      یہودی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہارون علیہ السلام نہایت فصیح اللسان آدمی تھے۔ حضرت موسیٰ نے جس اعتماد کے ساتھ اُن کا نام لیا ہے، اُس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اپنے بھائی کو اخلاق و کردار کے لحاظ سے بھی وہ اِس منصب کا اہل سمجھتے تھے۔ چنانچہ اُنھوں نے یہ غیر معمولی درخواست پیش کر دی۔ اُن سے پہلے کسی نبی کے بارے میں معلوم نہیں ہے کہ ایک دوسرے نبی کو اِس طرح اُس کا ساتھی بنا دیا گیا ہو۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان کے ایک گناہ کا بار بھی میرے اوپر ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اور ان کے ظلم و تعدی پر ان کو انذار کریں گے۔ اپنے یہ اندیشے ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی یہ گزارش بھی پیش کر دی کہ اگر مرضی الٰہی یہی ہے کہ میں یہ بارگراں اٹھاؤں تو میری مدد کے لیے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے بھائی ہارون کو میرا شریک کار بنا دیا جائے جو فصیح اللسان آدمی ہیں۔ تاکہ ہم دونوں مل کر اس خدمت کو بہتر طریقہ پر انجام دے سکیں۔

      جاوید احمد غامدی اور اُن کا ایک جرم بھی میرے اوپر ہے، اِس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اُس واقعے کی طرف اشارہ ہے جس میں ایک قبطی اُن کے ہاتھ سے نادانستہ قتل ہو گیا تھا اور اُس کے انتقام سے بچنے کے لیے وہ ملک چھوڑ کر مدین چلے گئے تھے۔ آگے سورۂ قصص (۲۸) میں اِس کی تفصیل ہے۔

    • امین احسن اصلاحی فرمایا، ہرگز نہیں! پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ، ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطمینان دہانی: اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کے اس اندیشے کی تو پوری شدت کے ساتھ تردید فرما دی کہ قبطی انھیں قتل کر دیں گے لیکن حضرت ہارونؑ کے بارے میں ان کی درخواست، جیسا کہ دوسرے مواقع میں تصریح اور یہاں اشارہ ہے، منظور فرما لی اور ان کو حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کوئی اندیشہ نہ رکھو۔ ’اِنَّا مَعَکُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ‘ اطمینان دہانی کا نہایت بلیغ فقرہ ہے۔ دوسرے مقام میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے:

      ’اِنَّنِیْ مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰی‘ (طٰہٰ۔ ۴۶)
      (میں تم دونوں کے ساتھ سنتا اور دیکھتا ہوں تو مجال ہے کہ کوئی تمہیں گزند پہنچا سکے!)

       

      جاوید احمد غامدی فرمایا: ہرگز نہیں، (وہ تمھیں قتل نہیں کر سکتے) تواب دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ، ہم تمھارے ساتھ سب سنتے رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی سنتے اور دیکھتے رہیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام کو اطمینان دلانے کے لیے یہ نہایت بلیغ فقرہ ہے۔ اِس کے اجمال میں جو تفصیل مضمر ہے اور اِس سے جس سطوت و جلالت اور تحفظ و ضمانت کا اظہار ہوتا ہے، وہ محتاج بیان نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تو فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم خداوند عالم کے رسول ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرعون کی طرف ایک کے بجائے دو رسول: ’اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارونؑ ، حضرت موسیٰ ؑ کے مددگار، شریک رسالت کی حیثیت سے تھے۔ دوسرے مقام میں اس کی وضاحت ہو گئی۔ فرمایا ہے:

      ’اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّکَ‘ (طٰہٰ: ۴۷)
      (ہم دونوں تیری طرف تیرے رب کے رسول ہیں)

      فرعون کے سامنے اس امر واقعی کا اظہار اتمام حجت کے پہلو سے ہوا ہے کہ ایک چھوڑ دو دو رسول، اللہ نے اس کی طرف بھیجے ہیں اگر اس کے بعد بھی اس نے صحیح روش اختیار نہ کی تو اس کی شامت ہی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی سو دونوں (بغیر کسی تردد کے) فرعون کے پاس جاؤ اوراُس سے کہو کہ ہم خداوند عالم کے رسول ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ‘ سے متعلق مولانا فراہیؒ کا نقطۂ نظر: ’اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ‘ کی وضاحت سورۂ طٰہٰ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ ہم کر چکے ہیں۔ تورات سے یہ تومعلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام بنی اسرائیل کو عید قربانی منانے کے لیے تین دن کی راہ بیابان میں لے جانا چاہتے تھے، لیکن یہ تصریح تورات میں نہیں ہے کہ بیابان میں کہاں لے جانا چاہتے تھے۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کا خیال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ ان کو حج و قربانی کے لیے مکہ معظمہ لے جانا چاہتے تھے۔ میں نے مولاناؒ کا یہ خیال ایک نظریے کی حیثیت سے پیش کر دیا ہے، ان کے دلائل میرے سامنے موجود نہیں ہیں اس وجہ سے میں پوری طرح اس پر مطمئن نہیں ہوں۔ میں اپنا رجحان اعراف کی تفسیر میں ظاہر کر چکا ہوں۔ بعض باتیں مولاناؒ کے اس خیال کی تائید کرتی ہیں۔ ممکن ہے آگے کسی موزوں مقام پر میں ان کی وضاحت کروں۔ فرعون کو انذار کے ساتھ یہ حضرت موسیٰ ؑ کو بنی اسرائیل کی تنظیم اور ان کے اندر دین کے احیاء و تجدید کے سلسلہ میں پہلی ہدایت ہوئی۔
      تورات میں اس واقعے کے ابہام کی وجہ: اس امرخاص میں تورات کے بیان کے اندر جو ابہام ہے اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو فرعون پر ظاہر نہ کرنا چاہا ہو اس وجہ سے اس کو مبہم ہی رکھا ہو یا یہ ہوا کہ یہود نے اس کے اظہار کو اپنے مصالح کے خلاف پا کر جس طرح حضرت اسماعیلؑ اور خانہ کعبہ کی ساری تاریخ پر پردہ ڈال دیا اسی طرح اس بات پر بھی پردہ ڈال دیا۔
      ’اَنْ اَرْسِلْ‘ اصل میں ’بِاَنْ اَرْسِلْ‘ ہے۔ عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق ب حذف ہو گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم اس پیغام کے ساتھ رسول بن کر آئے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (اور اِس لیے آئے ہیں) کہ تم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ‘۔ ’اَنْ‘ سے پہلے ’ب‘ عربیت کے اسلوب پر حذف ہو گئی ہے۔ دعوت و انذار کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یہ مطالبہ اِس لیے کرنے کی ہدایت فرمائی تھی کہ اِس سے اُس اسکیم کو بروے کار لانا مقصود تھا جس کے تحت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کو عالمی سطح پر ابلاغ دعوت اور اتمام حجت کے لیے منتخب کیا گیا۔ اِس اسکیم کے مطابق یہ ضروری تھا کہ اُنھیں ایک خاص علاقے میں آباد کرکے وہاں دعوت حق کا مرکز قائم کیا جائے۔ بائیبل کی کتاب خروج کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے یہ پوری اسکیم فرعون اور اُس کے درباریوں کے سامنے واضح نہیں فرمائی، بلکہ صرف اتنا کہا کہ وہ قربانی کی عبادت کے لیے تین دن کی راہ بیابان میں جانا چاہتے ہیں، اِس لیے کہ جس چیز کی قربانی کرنا پیش نظر ہے، اُس کی قربانی اگر مصر میں کی گئی تو وہاں کے لوگ اُنھیں سنگ سار کر دیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے کہا، کیا ہم نے تم کو بچپن میں اپنے اندر پالا نہیں؟ اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے اندر بسر کیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرعون کا حضرت موسیٰ ؑ کو حقارت آمیز جواب: یہاں اتنی بات بربنائے قرینہ حذف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے بموجب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی حضرت ہارونؑ کو ساتھ لے کر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس گئے اور انذار کے ساتھ ساتھ اس کے سامنے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے جانے کا مطالبہ بھی رکھا۔ بھلا فرعون یہ تصور کہاں کر سکتا تھا کہ کوئی اس کے سامنے اتنا بڑا دعویٰ اور اتنا اہم مطالبہ لے کر آئے گا اور وہ بھی ایک اسرائیلی! اس نے نہایت حقارت آمیز انداز میں کہا کہ کیا تم وہی نہیں ہو جس کی پرورش بچپن میں ہم نے اپنے گھر میں کی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اُنھوں نے یہ بات فرعون سے آ کر کہی تو) اُس نے کہا: کیا ہم نے تمھیں بچپن میں اپنے ہاں رکھ کر پالا نہیں تھا اور (تم وہی نہیں ہو کہ ) اپنی عمر کے کئی سال تم نے ہمارے اندر بسر کیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور تم نے اپنی وہ حرکت کی جو کی اور تم ناشکروں میں سے ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اور کیا تم وہی نہیں ہو جس نے وہ حرکت کی جو تم نے کی! بے شک تم بڑے ہی ناشکرے ہو! ’کَافِرٌ‘ یہاں لغوی، یعنی ناشکرے کے معنی میں ہے اور ’فَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ‘ سے اس کا اشارہ قبطی کے واقعۂ قتل کی طرف تھا جس کی سنگینی کی تعبیر کے لیے اس نے یہ ابہام کا اسلوب اختیار کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ’ایاز قدرِ خود بشناس‘! تم ہمارے پروردہ اور ہمارے مجرم ہونے کے باوجود ہمارے سامنے اپنی نبوت کا دعویٰ اور بنی اسرائیل کو ساتھ لے جانے کا مطالبہ لے کر اٹھے ہو!

      جاوید احمد غامدی اور پھر اپنی وہ حرکت کی جو کی (اور بھاگ گئے)۔ تم بڑے ہی ناشکرے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُسی واقعۂ قتل کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ تمھاری یہ حیثیت کہ ہمارے سامنے آ کر اِس طرح کے مطالبات کرو۔ یہ انتہائی ناشکرا پن ہے۔ تم ہمارے پروردہ بھی ہو اور مجرم بھی، اِس لیے ایاز قدر خود بہ شناس۔ تمھیں تو شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہم تمھارے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی موسیٰ نے جواب دیا کہ میں نے یہ اس وقت کیا اور میں خطاواروں میں سے تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ضال‘ کا مفہوم: ’ضَآلٌ‘ یہاں اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے جس مفہوم میں ’وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی‘ (الضحیٰ: ۷) میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی سرگشتہ، جویائے راہ، کھویا ہوا۔
      حضرت موسیٰ ؑ کا اعتراف حق اور اظہار حق: حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں تک قبطی کے واقعہ کا تعلق تھا صاف صاف اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور فرمایا کہ بے شک مجھ سے یہ فعل صادر تو ہوا لیکن اس وقت ہوا جب مجھے میرے رب کی طرف سے علم کی صحیح روشنی حاصل نہیں ہوئی تھی بلکہ میں ابھی جستجوئے علم کی راہ میں سرگشتہ اور کھویا ہوا تھا، چنانچہ جب مجھ سے یہ فعل صادر ہو گیا اور مجھے اندیشہ ہوا کہ اس نادانستہ فعل پر آپ لوگ مجھے قتل کر دیں گے تو میں یہاں سے نکل گیا۔ اس کے بعد میرے رب نے مجھے علم و حکمت کی روشنی اور حق و باطل میں امتیاز کے لیے قوت فیصلہ عطا فرمائی اور مجھے اپنے رسولوں میں سے بنایا اور اب میں ایک رسول کی حیثیت سے آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں۔ میری موجودہ حیثیت میری سابق حالت سے بالکل مختلف ہے۔ اس گزرے ہوئے واقعہ کو نظر انداز کر کے میری بات پر دھیان کیجیے۔

      جاوید احمد غامدی موسیٰ نے جواب دیا: میں نے یہ اُس وقت کیا تھا اور (مجھے اعتراف ہے کہ) اُس وقت میں چوک گیا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں لفظ ’ضَآلّ‘ ٹھیک اُس مفہوم میں آیا ہے، جس میں یہ سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۲۸۲ میں ہے۔

    Join our Mailing List