Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 77 آیات ) Al-Furqan Al-Furqan
Go
  • الفرقان (The Criterion, The Standard)

    77 آیات | مکی

    سورتوں کے چوتھے گروپ پر ایک اجمالی نظر

    سورۂ فرقان سے سورتوں کا چوتھا گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس میں آٹھ سورتیں ۔۔۔ فرقان، شعراء، نمل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ ۔۔۔ مکی ہیں، آخر میں صرف ایک سورہ ۔۔۔ احزاب ۔۔۔ مدنی ہے۔ سورتوں کے جوڑے جوڑے ہونے کا اصول دوسرے گروپوں کی طرح اس میں بھی مَرعی ہے۔ البتہ سورۂ احزاب کی حیثیت خلاصۂ بحث یا سورۂ نور کی طرح تکملہ و تتمہ کی ہے۔ اسلامی دعوت کے تمام ادوار ۔۔۔ دعوت، ہجرت، جہاد ۔۔۔ اور تمام بنیادی مطالب ۔۔۔ توحید، رسالت، معاد ۔۔۔ اس میں بھی زیربحث آئے ہیں البتہ اسلوب، انداز اور مواد استدلال دوسرے گروپوں سے اس میں فی الجملہ مختلف نظر آئے گا۔
    اس گروپ کا جامع عمود اثبات رسالت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے خلاف قریش اور ان کے حلیفوں نے جتنے اعتراضات و شبہات اٹھائے اس گروپ کی مختلف سورتوں میں، مختلف اسلوبوں سے، ان کے جواب بھی دیے گئے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کا اصل مرتبہ و مقام بھی واضح فرمایا گیا ہے۔ اسی کے ضمن میں قرآن پر ایمان لانے والوں کو، مرحلۂ امتحان سے گزرنے کے بعد، دنیا اور آخرت دونوں میں، فوز و فلاح کی بشارت دی گئی ہے اور جو لوگ اس کی تکذیب پر اڑے رہیں گے، اتمام حجت کے بعد، ان کو ان کے انجام سے آگاہ کیا گیا ہے۔

    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا عمود قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع ہے۔ مخالفین نے جو شبہات و اعتراضات، قرآن اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اٹھائے وہ اس میں نقل کر کے ان کے جواب دیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی مخالفین کے اعتراض و انکار کے اصل محرکات کا بھی پتہ دیا گیا ہے اور قرآن کی جن باتوں سے وہ خاص طور پر متوحش تھے مثلاً دعوت توحید یا انذار عذاب، وہ مزید دلائل سے مبرہن کی گئی ہیں۔

  • الفرقان (The Criterion, The Standard)

    77 آیات | مکی

    الفرقان ۔ الشعراء

    ۲۵ ۔۲۶

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات رسالت اور اُس کے حوالے سے انذار وبشارت ہے۔ دوسری سورہ میں، البتہ اُن سرگذشتوں کی تفصیل کر دی گئی ہے جن کی طرف پہلی سورہ میں بالاجمال اشارہ فرمایا ہے۔ نیز کاہن اور شاعر ہونے کا جو الزام قریش مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے، اُس کی اِس سورہ میں خاص طور پر تردید کی گئی ہے۔
    دونوں میں خطاب قریش سے ہے جو آپ کی صداقت کے ثبوت کے لیے اُس زمانے میں آپ سے بار بار عذاب کی کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دوسری سورہ میں آیت ترجیع اِسی حوالے سے وارد ہوئی ہے۔

    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کر دینے والی کتاب اتاری تا کہ وہ اہل عالم کے لیے ہوشیار کر دینے والا بنے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے: جس طرح ’تعاظم‘ اور ’تعالیٰ‘ اور اس باب کے دوسرے صیغوں کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے اسی طرح ’تبارک‘ کے اندر بھی مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی بڑی ہی بابرکت اور بافیض ہستی ہے وہ جس نے لوگوں کے انذار کے لیے، اپنے بندے پر، ایک ایسی کتاب اتاری جو حق اور باطل کے درمیان امتیاز کے لیے ایک حجت قاطع کی حیثیت رکھتی ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس نعمت کی قدر اور اس کتاب کی روشنی میں اپنی گمراہیوں کی اصلاح کریں، طرح طرح کے اعتراضات اٹھا کر اس کی مخالفت اور اللہ کے رسول سے کسی معجزے یا کسی نشانئ عذاب کا مطالبہ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تواس کتاب کے بجائے وہ اپنے رسول کو کسی تازیانۂ عذاب سے مسلح کر کے بھی بھیج سکتا تھا، اس کے لیے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں تھا، لیکن اس نے اپنی عظیم مہربانی کی وجہ سے یہ پسند فرمایا کہ وہ لوگوں کو ایک ایسی روشنی دکھائے جو لوگوں کو پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کر کے فوز و فلاح کی راہ سعادت کی طرف رہنمائی کرے۔ قرآن کو ’فرقان‘ کے لفظ سے تعبیر کر کے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب اپنے دعاوی اور اپنے پیش کرنے والے کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے بجائے خود دلیل و حجت ہے، یہ کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو رسول کے ہاتھوں تقسیم ہونے والی اس نعمت عظمیٰ سے متمتع ہونے کے بجائے اس سے ایسی چیزوں کا مطالبہ کریں جو ان کے لیے خیر کے بجائے تباہی کا باعث ہوں۔
      نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک خاص برمحل التفات: ’عَلٰی عَبْدِہٖ‘ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک خاص التفات پایا جاتا ہے۔ اس التفات کا یہاں ایک خاص محل ہے۔ آگے کفار کے وہ اعتراضات نقل ہوئے ہیں جو وہ نہایت تحقیر آمیز انداز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے تھے۔ یہ اعتراضات زیادہ تر مکہ اور طائف کے دولت مندوں کے اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ اپنی مالی برتری کے گھمنڈ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی اسباب و وسائل سے بے تعلقی پر خاص طور پر چوٹیں کرتے اور اس چیز کو آپؐ کی رسالت کی تردید کی ایک بہت بڑی دلیل کی حیثیت سے پیش کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں مستکبرین کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندۂ خاص پر ’فرقان‘ کی شکل میں جو نعمت عظمیٰ اتاری ہے اس کے بعد وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ خلق کے انذار کے وہ جس مشن پر مامور ہے اس کی تکمیل کے لیے وہ جس زاد و راحلہ کا محتاج ہے وہ سب بدرجۂ کمال اس کے پاس موجود ہے۔
      یہ آیت اس سورہ کی تمہید ہے۔ اس کے یہ مضمرات جو ہم نے واضح کیے ہیں وہ آگے کے مباحث سے ان شاء اللہ مزید واضح ہو جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی بہت بزرگ، بہت فیض رساں ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر یہ فرقان اتارا ہے، اِس لیے کہ وہ اہل عالم کے لیے خبردار کرنے والا ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایک ایسی کتاب جو حق وباطل میں امتیاز کے لیے ایک کسوٹی، ایک معیار فیصلہ اور حجت قاطع ہے۔ دوسری جگہ یہی حقیقت لفظ ’میزان‘ سے واضح فرمائی ہے، یعنی ایک ترازو تاکہ ہر شخص اُس پر تول کر دیکھ سکے کہ کیا چیز حق اور کیا باطل ہے۔ چنانچہ اپنے دعاوی اور اپنے پیش کرنے والے کی صداقت کوثابت کرنے کے لیے بھی یہ کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے، بلکہ بجاے خود دلیل وحجت ہے۔ قرآن کی یہی حیثیت ہے جس کی بنا پر ہم نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کے مقدمہ ’’اصول و مبادی‘‘ میں لکھا ہے کہ خدا کی اِس کتاب کے بارے میں یہ دو باتیں بطور اصول ماننی چاہییں:

      ’’پہلی یہ کہ قرآن کے باہر کوئی وحی خفی یا جلی، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے، اِس کے کسی حکم کی تحدید وتخصیص یا اِس میں کوئی ترمیم وتغیر نہیں کر سکتا۔ دین میں ہر چیز کے رد و قبول کا فیصلہ اِس کی آیات بینات ہی کی روشنی میں ہو گا۔ ایمان وعقیدہ کی ہر بحث اِس سے شروع ہو گی اور اِسی پر ختم کر دی جائے گی۔ ہر وحی، ہر الہام، ہر القا، ہر تحقیق اور ہر راے کو اِس کے تابع قرار دیا جائے گا اور اِس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بوحنیفہ وشافعی، بخاری ومسلم، اشعری وماتریدی اور جنید وشبلی، سب پر اِس کی حکومت قائم ہے اور اِس کے خلاف اِن میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جا سکتی۔
      دوسری یہ کہ اِس کے الفاظ کی دلالت اِس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے۔ یہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے، پوری قطعیت کے ساتھ کہتا ہے اور کسی معاملے میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے ہرگز قاصر نہیں رہتا۔ اِس کا مفہوم وہی ہے جو اِس کے الفاظ قبول کر لیتے ہیں، وہ نہ اُس سے مختلف ہے نہ متبائن۔ اِس کے شہرستان معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اِس کے الفاظ ہیں۔ وہ اپنا مفہوم پوری قطعیت کے ساتھ واضح کرتے ہیں، اُس میں کسی ریب وگمان کے لیے ہرگز کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔‘‘(۲۵)
      یعنی صرف ام القریٰ مکہ اور اُس کے گرد وپیش کے لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ پورے عالم کے لیے۔ سورۂ انعام (۶) کی آیت ۱۹ میں مزید وضاحت فرمائی ہے کہ قرآن کی دعوت آنے والے تمام زمانوں کے لیے بھی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: ’اُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ م بَلَغَ‘ (یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے کہ اِس کے ذریعے سے میں تمھیں انذار کروں اور اُن کو بھی جنھیں یہ پہنچے)۔قرآن کی یہ حیثیت لازماً تقاضا کرتی ہے کہ بعد میں آنے والوں کے لیے بھی یہ اپنے ثبوت اور دلالت کے لحاظ سے اُسی طرح قطعی رہے، جس طرح اپنے اولین مخاطبین کے لیے تھا۔ خدا کی عنایت ہے کہ ایسا ہی ہے اور اُس کی یہ کتاب اِسی قطعیت کے ساتھ ہمارے پاس موجود ہے۔
      نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آیت میں ’عَلٰی عَبْدِہٖ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ التفات خاص کا اسلوب ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس التفات کا یہاں ایک خاص محل ہے۔ آگے کفار کے وہ اعتراضات نقل ہوئے ہیں جو وہ نہایت تحقیر آمیز انداز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے تھے۔ یہ اعتراضات زیادہ تر مکہ اور طائف کے دولت مندوں کے اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ اپنی مالی برتری کے گھمنڈ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی اسباب و وسائل سے بے تعلقی پر چوٹیں کرتے اور اِس چیز کو آپ کی رسالت کی تردید کی ایک بہت بڑی دلیل کی حیثیت سے پیش کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں مستکبرین کی اِسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندۂ خاص پر ’فرقان‘ کی شکل میں جو نعمت عظمیٰ اتاری ہے، اُس کے بعد وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ خلق کے انذار کے وہ جس مشن پر مامور ہے، اُس کی تکمیل کے لیے وہ جس زاد وراحلہ کا محتاج ہے، وہ سب بدرجۂ کمال اُس کے پاس موجود ہے۔‘‘(تدبر قرآن ۵/ ۴۴۳)

    • امین احسن اصلاحی وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس نے اپنے لیے کوئی اولاد نہیں بنائی اور اس کی بادشاہی میں کوئی اس کا ساجھی نہیں اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کا ایک خاص اندازہ ٹھہرایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خالق کائنات کا فرمان واجب الاذعان ہے: اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی فیض بخشی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اب یہ اپنی توحید اور کبریائی و یکتائی کا حوالہ دیا ہے جس سے مقصود حقیقت کی یاددہانی ہے کہ جس نے خلق کے انذار و تذکیر کے لیے یہ کتاب اتاری ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے؛ اس وجہ سے کوئی اس کتاب کو کسی سائل کی درخواست نہ سمجھے بلکہ یہ اس کائنات کے بادشاہ حقیقی کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ اگر اس کی تکذیب کی گئی تو جس نے اس کو اتارا ہے وہ اس کی تکذیب کا انتقام لینے کے لیے کوئی کمزور ہستی نہیں ہے۔ وہ اس کا انتقام لے گا اور جب انتقام لے تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہ بن سکے گا۔
      ایک غلط فہمی کا ازالہ: ’وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ‘۔ یعنی اگر کسی نے اس کے بیٹے بیٹیاں فرض کر کے ان کی عبادت شروع کر رکھی ہے اور اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ اس کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے تو وہ اس خیال خام کو دل سے نکال دے۔ نہ خدا کے کوئی بیٹی ہے نہ بیٹا، نہ اس کی بادشاہی میں کوئی اور ساجھی ہے۔ وہ اپنی بادشاہی کا یکہ و تنہا مالک ہے، وہ کسی مددگار و شریک کا محتاج نہیں ہے۔
      خدا کی یکتائی کی دلیل: ’وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّّرَہٗ تَقْدِیْرًا‘۔ یہ اس کی توحید و یکتائی کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا دیا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کے ٹھہرائے ہوئے اندازہ سے سرمو کم و بیش یا آگے پیچھے ہو سکے۔ انسان کو پیدا کیا تو اس کے لیے زندگی اور موت کی ایک حد معین کر دی، کوئی اس حد سے باہر نہیں نکل سکتا۔ ابر و ہوا سب اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کے پابند ہیں۔ سورج اور چاند، جن کو نادانوں نے معبود بنا کر پوجا، ایک مخصوص محور و مدار کے ساتھ لگے بندھے ہوئے اور اپنے وجود سے شہاد ت دے رہے ہیں کہ وہ ایک خدائے عزیز و حکیم کے پیدا کیے ہوئے اور اسی کے مقرر کیے ہوئے حدود و قیود کے پابند ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف دوسرے مقام میں یوں توجہ دلائی ہے:

      وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّھَا ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ (یٰسٓ: ۳۸)
      ’’اور سورج اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے۔ یہ خدائے عزیز و علیم کی منصوبہ بندی ہے!‘‘

      اس سے زیادہ وسیع الفاظ میں یہی بات یوں فرمائی گئی ہے:

      وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُہٗ وَمَا نُنَزِّلُہٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (الحجر:۲۱)
      ’’اور ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے موجود ہیں لیکن ہم ان کو ایک خاص اندازے ہی کے ساتھ اتارتے ہیں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی وہی جس کے لیے زمین اور آسمانوں کی بادشاہی ہے،اُس نے اپنی کوئی اولاد نہیں بنائی ہے، اُس کی بادشاہی میں کوئی اُس کا شریک نہیں ہے، اُس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اُس کا ایک خاص اندازہ ٹھیرایا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ کوئی اِس کتاب کو سائل کی درخواست نہ سمجھے۔ یہ اِس کائنات کے بادشاہ حقیقی کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ اِسے جھٹلایا گیا تو اُس کی گرفت سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا۔
      خدا کے لیے جن لوگوں نے بیٹے اور بیٹیاں فرض کر رکھی ہیں، اُن کے بارے میں وہ لازماً اِس زعم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اُنھیں وہ خدا کی پکڑ سے بچا لیں گی۔ قرآن نے یہ اِسی زعم باطل کی نفی کی ہے۔
      یہ خدا کی توحید اور یکتائی کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ جب وہ ہر چیز کا خالق ہے اور اُسی نے ہر چیز کے لیے صورت، جسامت، قوت واستعداد، اوصاف وخصائص، عروج و ارتقا اور بقا وزوال کے حدود و قیود متعین کیے ہیں تو کوئی دوسرا اُس کی خدائی میں کہاں سے شریک ہو گا؟ کیا کسی شخص کے لیے ممکن ہے کہ اُس کی بنائی ہوئی کسی چیز کو اُس کے ٹھیرائے ہوئے اندازے سے سرمو کم وبیش یا آگے پیچھے کر سکے؟

    • امین احسن اصلاحی اور لوگوں نے اس کے سوا دوسرے معبود بنائے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، وہ خود مخلوق ہیں اور جو خود اپنے لیے بھی نہ کسی ضرر پر اختیار رکھتے ہیں نہ کسی نفع پر اور نہ ان کو موت پر کوئی اختیار ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اسی مضمون کی توضیح مزید ہے اور اس میں اظہار تعجب کا مضمون بھی مضمر ہے کہ اصل حقیقت تو یہ ہے جو بیان ہوئی لیکن قرآن اور رسول کے ان مخالفین کا حال یہ ہے کہ انھوں نے خدا کے سوا ایسی چیزوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے جو نہ صرف یہ کہ کسی چیز کو پیدا کر سکنے پر قادر نہیں بلکہ وہ خود خدا کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ اور جو دوسروں کو کوئی نقصان یا نفع پہنچانا تو درکنار، خود اپنے کو بھی کسی نقصان سے بچانے یا کوئی نفع پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتی ہیں اور جن کو نہ موت پر کوئی اختیار، نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر! ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے بے بس فرضی معبودوں کے بل پر قرآن کے پیش کردہ حقائق کو جھٹلانا محض ان کی خرد باختگی ہے۔

      جاوید احمد غامدی مگر (لوگوں کا حال یہ ہے کہ) اُنھوں نے اُس کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے، وہ خود مخلوق ہیں اور اپنے لیے بھی کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ نہ موت پر کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ زندگی پر اور نہ مرے ہوؤں کو اٹھانا اُن کے اختیار میں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اِس سے بڑھ کر خرد باختگی کیا ہوگی کہ ایسے بے بس معبودوں کے سہارے پر قرآن کے پیش کردہ حقائق کو جھٹلا دیا جائے۔

    • امین احسن اصلاحی اور کافر کہتے ہیں کہ یہ محض جھوٹ ہے جس کو اس شخص نے گھڑا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے ظلم اور جھوٹ دونوں باتوں کا ارتکاب کیا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن سے عوام کو بدگمان کرنے کے لیے قریش کے لیڈروں کا پروپیگنڈا: یہ مخالفین کے وہ اقوال نقل ہو رہے ہیں جو قرآن اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں کو بدگمان کرنے کے لیے وہ پھیلاتے تھے۔ ہم دوسرے مقام میں یہ ذکر کر چکے ہیں کہ جہاں تک قرآن کے زور بیان اور اس کی تاثیر و تسخیر کا تعلق ہے اس کے انکار کی تو قریش کے لیڈروں کے اندر ہمت نہیں تھی۔ اس کے اعتراف پر تو وہ مجبور تھے۔ البتہ یہ کوشش ان کی تھی کہ ان کے عوام پر قرآن کے کتاب آسمانی ہونے کا تصور جو بیٹھتا جا رہا ہے وہ بیٹھنے نہ پائے بلکہ وہ اس کو اسی درجہ میں رکھیں جس درجہ میں اعلیٰ شاعروں یا زور دار خطیبوں کا کلام رکھا جاتا ہے۔ ان کو اصلی کد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے رسالت اور قرآن کے وحی الٰہی ہونے سے تھی۔ اس کی تردید میں وہ یہ کہتے تھے کہ قرآن کے وحی الٰہی ہونے کا دعویٰ جو کیا جاتا ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔ یہ وحی الٰہی نہیں بلکہ (نعوذ باللہ) یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اپنے ذہن کا گھڑا ہوا کلام ہے جس کو وہ جھوٹ موٹ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر تے ہیں تاکہ اس طرح ہم پر اپنی برتری کی دھونس جمائیں۔
      ’وَاَعَانَہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ‘۔ اپنی بات کو مدلل کرنے کے لیے ایک اور جھوٹ اس کے ساتھ وہ یہ لگا دیتے کہ اس کتاب کی تصنیف میں کچھ دوسرے لوگوں کے ذہن بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ شریک ہیں۔ اس اضافے کی ضرورت اس وجہ سے انھوں نے محسوس کی ہو گی کہ قرآن میں پچھلے انبیاؑء کی سرگزشتوں اور ان کی تعلیمات کے حوالے بھی تھے جن کے جاننے کا آحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔ ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اگر یہ وحی الٰہی نہیں ہے تو آخر یہ باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح معلوم ہو گئیں اور وہ بھی ایسی تفصیل اور صحت کے ساتھ کہ پچھلے صحیفوں پر ایمان کے مدعیوں کو بھی اس کی تفصیل و صحت کے ساتھ معلوم نہیں تھیں۔ اس سوال کے جواب میں انھوں نے اس کے ساتھ اس جھوٹ کا بھی اضافہ کر دیا کہ کچھ دوسرے ہاتھ بھی اس سازش میں شریک ہیں۔ مخالفین کے اس قول میں جو ابہام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب الزام جھوٹا ہو تو اس کے لیے ابہام ہی کا اسلوب موزوں ہوتا ہے۔ اگر اس کے لیے تصریح کا اسلوب اختیار کیا جائے تو اس کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔ مخالفین کا یہ اشارہ کن لوگوں کی طرف تھا؟ اس سوال کے جواب میں ہمارے مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس ابہام کا مبہم رہنا ہی ٹھیک ہے اس لیے کہ الزم لگانے والوں کا مقصد ایک الزام لگانا تھا نہ کہ فی الواقع کسی شخص یا اشخاص کا سراغ دینا۔ قریش نے اس مبہم الزام سے اپنے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہو گی کہ قرآن میں آسمانی کتابوں کے انداز کی جو باتیں اور حکمتیں ہیں ان کو وحی کا نتیجہ نہ سمجھو بلکہ بعض اہل کتاب یا دوسری قوموں کے تعلیم یافتہ اشخاص جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی بن گئے ہیں وہ ان کو اس طرح کی باتیں بتاتے ہیں اور وہ ان کو اپنے فصیح و بلیغ الفاظ میں ہمارے سامنے پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ان کے اوپر فرشتہ وحی لایا ہے۔ اس مسئلہ پر سورۂ نحل کی آیت ۱۰۳ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
      ’ظُلْم‘ اور ’زُوْر‘ کا مفہوم: ’فَقَدْ جَآءُ وْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا‘۔ ’جَآءُ وْ‘ یہاں مرتکب ہونے کے مفہوم میں ہے اور اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ ’ظُلْم‘ سے مراد ان کا وہ شرک ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے اور ’زُوْر‘ سے اشارہ ان کے اس قول کی طرف ہے جو قرآن کے باب میں نقل ہوا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ شرک کے ظلم عظیم کے بھی مرتکب ہوئے اور ساتھ ہی قرآن کی مخالفت میں ایک بہت بڑے جھوٹ کے بھی ۔۔۔ یہ کہہ کر بات ختم کر دی ہے۔ اس کے نتیجے کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ اس ڈھٹائی کے ساتھ اتنے بڑے بڑے جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں، اندازہ کر لو کہ وہ کس انجام کے مستحق ہیں!

      جاوید احمد غامدی (اِس کے) منکرین کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے جس کو اِس شخص نے گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اِس کام میں اِس کی مدد کی ہے۔ یہ کہہ کر اُنھوں نے بڑے ظلم اور جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وحی الٰہی نہیں ہے، جس طرح کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے، بلکہ اپنے ذہن کا گھڑا ہوا کلام ہے جسے خدا کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔
      اُنھوں نے یہ بات کسی نام کی تصریح کے ساتھ اِس لیے نہیں کی کہ الزام جھوٹا ہو تو ابہام ہی کا اسلوب موزوں ہوتا ہے۔ استاذ امام کے الفاظ میں، اگر اُس کے لیے تصریح کا اسلوب اختیار کر لیا جائے تو بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔ قرآن کو (معاذ اللہ) جھوٹ قرار دے کر اُس کے ساتھ یہ بات اُنھیں اِس لیے کہنا پڑی کہ قرآن میں پچھلے انبیا علیہم السلام کی سرگذشتوں کے حوالے بھی تھے۔ اُن کے بارے میں یہ سوال ہر شخص کے ذہن میں پیدا ہو سکتا تھا کہ اگر یہ وحی الٰہی نہیں ہے تو آخر یہ سب باتیں اُنھی کے اندر کے ایک شخص کو اِس صحت اور تفصیل کے ساتھ کس طرح معلوم ہو گئی ہیں۔ اِس کے جواب میں اُنھوں نے اُن لوگوں کی طرف اشارہ کر دیا جو اہل کتاب میں سے آپ پر ایمان لے آئے تھے کہ یہ اُن کی سکھائی ہوئی ہیں۔ اپنی بات کو موکد کرنے کی یہ ایسی کوشش ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حق کی دشمنی میں یہ لوگ کیسے اندھے ہو گئے تھے اور کس قدر صریح جھوٹ اور بے انصافی پر اتر آئے تھے۔
      قرآن جس عظیم علم وحکمت کا حامل اور زبان وبیان کے لحاظ سے جس پایے کا شہ پارۂ ادب ہے اور اُس میں انبیا علیہم السلام کی سرگذشتیں جس طریقے سے اور جن مضامین پر استدلال کے لیے سنائی گئی ہیں، اُن کو دیکھ کر ہر سلیم الطبع انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ جس الزام کا ذکر ہواہے، وہ کس قدر پوچ، کیسا لغو اور مہمل اور کتنا بے وزن ہے۔ چنانچہ یہی بات کافی تھی جو قرآن نے اُس کے جواب میں کہہ دی ہے۔ جو لوگ ایسی بالبداہت مہمل باتیں اِس ڈھٹائی کے ساتھ کہیں، اُن کی تردید میں اِس سے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

    • امین احسن اصلاحی اور کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کے فسانے ہیں جو اس نے لکھوائے ہیں تو وہ اس کو صبح اور شام لکھ کر تعلیم کیے جاتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اکْتَتَبَ فُلَان‘ کا صحیح مفہوم لغت میں یہ ہے کہ ’سأل ان یکتب لہ‘ اس نے درخواست کی کہ اس کے لیے لکھ دیا جائے۔
      ’تملٰی‘ کے بعد ’علٰی‘ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ ’تلقٰی علیہ‘ یا ’تقرء علیہ‘ کے مضمون پر متضمن ہے۔ اس وجہ سے اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ اس کو لکھوائے جاتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ اس کو لکھ کر تعلیم کیے جاتے ہیں۔ یہاں یہ دوسرے معنی میں ہے، اس لیے کہ قریش جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُمی ہیں۔ آپ لکھنا نہیں جانتے۔
      قریش کی طرف سے آفتاب پر خاک ڈالنے کی کوشش: یہ اوپر والے الزام ہی کی مزید وضاحت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن میں ہے کیا؟ محض اگلوں کے فسانے ہیں جو اس میں دہرائے گئے ہیں! اس شخص نے کچھ لوگوں سے یہ فرمائش کی کہ اس کے لیے یہ لکھ دیے جائیں چنانچہ وہ صبح و شام اس کے لیے لکھتے ہیں اور یہ شخص انہی کی لکھی ہوئی چیزوں کو ہمارے سامنے وحی الٰہی کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تو اس کتاب میں کوئی ایسی حکمت ہے جس سے مرعوب ہوا جائے اور نہ اس کے پیش کرنے والے کا یہ دعویٰ ہی صحیح ہے کہ یہ وحی آسمانی ہے جو اضطراراً اس کے اوپر نازل ہوتی ہے بلکہ پچھلی قوموں اور پچھلے نبیوں کے کچھ جھوٹے سچے قصے ہیں جو اس شخص نے فرمائش کر کے دوسرے لوگوں سے لکھوائے ہیں۔ اس طرح انھوں نے قرآن کی حکمت کے اثر کو بھی مٹانے کی کوشش کی اور اس کے وحی آسمانی ہونے کے دعوے کو بھی مشتبہ کرنا چاہا لیکن ظاہر ہے کہ ان کی یہ کوشش آفتاب پر خاک ڈالنے کے ہم معنی تھی۔ قرآن نے تاریخ جس حکمت کے ساتھ پیش کی تھی اس کی زد براہ راست متمردین قریش کے غرور پر پڑتی تھی اور اس کے آئینہ میں ان کو اپنا مستقبل نہایت بھیانک نظر آتا تھا اس وجہ سے وہ جھلا کر اس کو ماضی کا افسانہ کہتے تھے لیکن حقیقت کو افسانہ کہہ کر نہ اپنے ہی دل کو تسلی دی جا سکتی ہے نہ دوسروں ہی کو دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اگر ایک سلمان فارسیؓ اور ایک ابو فکیہہ رومیؓ یا دو چار اہل کتاب مل کر قریش کے زعم کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن جیسی معجز کتاب تصنیف کر سکتے تھے تو قریش کے پاس تو ہزاروں عربی و عجمی اور لاکھوں اہل کتاب تھے، آخر انھوں نے ان کی مدد سے ایک قرآن تیار کر کے کیوں نہ پیش کر دیا کہ اس کے معجزہ ہونے کا دعویٰ باطل ہو جاتا! لیکن جب وہ قرآن کی مسلسل تحدی کے باوجود اس کی کوئی نظیر نہ پیش کر سکے تو ان کی اس مہمل بات کو کون باور کر سکتا تھا کہ یہ عظیم کتاب بعض عجمیوں یا بعض اہل کتاب کی ایجاد ہے۔ چونکہ یہ بات بالبداہت مہمل تھی اس وجہ سے قرآن نے اس کی تردید کی ضرورت نہیں سمجھی۔ آگے والی آیت میں صرف اصل حقیقت کا اظہار فرما دیا جس میں ان بوالفضولیوں کی اس بوالفضولی پر ایک لطیف طنز بھی ہے۔

      جاوید احمد غامدی کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں جو اِس نے (کسی سے) لکھوا لیے ہیں۔ سو وہی اب صبح وشام (اِس کتاب میں) لکھنے کے لیے اِس کو سنائے جاتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُسی الزام کی مزید وضاحت ہے جو اوپر نقل ہوا ہے۔ آیت میں اِس کے لیے ’تُمْلٰی عَلَیْہِ‘ کے الفاظ اِس لیے آگئے ہیں کہ جو چیز سنائی جا رہی تھی، اُسے یاد کرنے والے یاد کر رہے اور لکھنے والے ساتھ ساتھ لکھ بھی رہے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی ان سے کہہ دو کہ اس کو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید کو جانتا ہے۔ بے شک وہ بڑا ہی غفور رحیم ہے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      معترضین پر ایک لطیف طنز اور ان کو تنبیہ: فرمایا کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ اس کتاب کو اتارنے والا وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کے سارے بھیدوں اور تمام اسرار و رموز سے خود اچھی طرح باخبر ہے۔ وہ اس کی تصنیف میں کسی عربی و عجمی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ کوئی کتنا ہی بڑا عالم و حکیم ہو وہ اس کتاب سے بصیرت و رہنمائی تو حاصل کر سکتا ہے لیکن اس طرح کی کتاب تصنیف کرنا تو درکنار، وہ اس کے علم و حکمت میں کوئی اضافہ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ حقیقت اس کتاب کی سطر سطر سے واضح ہے کہ اس کا اتارنے والا وہی ہے جو اس کائنات کے تمام بھیدوں سے واقف اور اس کے ظاہر و باطن اور آغاز و انجام ہر چیز سے باخبر ہے چنانچہ اس نے ماضی کی عبرتیں بھی سامنے رکھ دی ہیں، حاضر کی ذمہ داریاں بھی واضح کر دی ہیں اور مستقبل کے نتائج سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔
      ’اِنَّہٗ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا‘ یعنی وہ چونکہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اس وجہ سے اس نے یہ کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ جو لوگ توبہ و اصلاح کرنا چاہیں وہ توبہ و اصلاح کر کے اس کی رحمت کے مستحق بن جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اتارنے کو تو عذاب بھی اتار سکتا ہے۔ وہ حق کے دشمنوں کے رویہ سے اچھی طرح باخبر ہے لیکن وہ اپنی رحمت کے سبب سے عذاب میں جلدی نہیں کرتا بلکہ چاہتا ہے کہ لوگ ہدایت کی راہ اختیار کریں تاکہ اس کی مغفرت کے سزاوار ہوں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ بہرحال وہ سارے حالات و معاملات سے اچھی طرح واقف ہے۔ اگر لوگوں نے صحیح روش نہ اختیار کی تو اس کا جو انجام ہونا ہے وہ بھی سامنے آ کے رہے گا۔

      جاوید احمد غامدی اُن سے کہو کہ (یہ کتاب تو اپنے لفظ لفظ سے شہادت دے رہی ہے کہ) اِسے اُس (پروردگار) نے اتارا ہے جو زمین اور آسمانوں کے بھید جانتا ہے۔ (تم جیسے سرکشوں کے لیے وہ اِس کی جگہ عذاب بھی اتار سکتا تھا، مگر) حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ جو علم وحکمت اور ماضی، حال اور مستقبل کے جو حقائق اِس کتاب میں بیان کیے جا رہے ہیں، وہ نہ کسی عربی کے لیے جاننا ممکن ہیں، نہ کسی عجمی کے لیے۔ اُن کا ماخذ علم اور منبع الہام تو وہی ذات ہو سکتی ہے جو زمین وآسمان کے سارے بھیدوں اور تمام اسرار و رموز سے واقف ہو۔ یہ بات اِس کتاب کی سطر سطر سے واضح ہے۔ اِس کے بعد خود سمجھ سکتے ہو کہ تمھارا الزام کس قدر پوچ اور مہمل ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور کہتے ہیں کہ کیا بات ہے اس رسول کی کہ یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے! اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ وہ اس کے ساتھ لوگوں کو ڈرانے والا بنتا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ مخالفین کے بعض اور اعتراضات کا حوالہ دیا ہے۔
      معترضین کے بعض اور اعتراضات رسولؐ پر: ’مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ‘ کے اسلوب میں استعجاب اور طنز و استہزا دونوں ہے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہ خوب رسول ہیں کہ اللہ کے رسول ہونے کے مدعی ہیں اور حال یہ ہے کہ ہمارے ہی طرح یہ بھی کھانے پینے کے محتاج ہیں اور اپنی ضروریات و مایحتاج کی فراہمی کے لیے ہما شما کی طرح یہ بھی بازاروں میں پھرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر خدا کو کوئی رسول ہی بھیجنا ہوتا تو کیا ہمارے ہی جیسے ایک بشر کو رسول بناتا، آخر اس کے پاس فرشتوں کی ایک فوج ہے ان میں سے کسی کو اس نے رسول بنا کر کیوں نہ بھیجا۔
      ’لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا‘۔ یعنی اگر کسی بشر ہی کو رسول بنایا تھا تو کم از کم یہ تو ہونا تھا کہ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو ساتھ ساتھ منادی کرتا پھرتا کہ لوگو، یہ اللہ کے رسول ہیں، یہ جس چیز سے ڈرا رہے ہیں اس سے ڈرو۔

      جاوید احمد غامدی کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے؟ یہ تو (ہماری طرح) کھانا کھاتا ہے اور (اپنی ضرورتوں کے لیے) بازاروں میں پھرتا ہے! اِس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ اِس کے ساتھ ہو کر وہ (نہ ماننے والوں کو) خبردار کرتا؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِن کے ساتھ ساتھ پھرتا اور منادی کرتا کہ لوگو، یہ اللہ کے رسول ہیں، یہ جس چیز سے ڈرا رہے ہیں، اُس سے ڈرو، ورنہ ابھی خدا کا عذاب برسا دیتا ہوں۔

    • امین احسن اصلاحی یا اس کے لیے کوئی خزانہ اتارا جاتا یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ اپنی معاش حاصل کرتا! ۔۔۔ اور ان ظالموں نے کہا کہ تم لوگ تو بس ایک سحرزدہ شخص کے پیچھے لگ لیے ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یا آسمان سے ان کے لیے کوئی خزانہ اتار دیا جاتا یا ان کے پاس کوئی شان دار باغ ہوتا جس سے یہ اپنی معاش حاصل کرتے اور عام آدمیوں کی طرح ان کو بازاروں میں جوتیاں چٹخاتے نہ پھرنا پڑتا! مطلب یہ ہے کہ جب ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے تو آخر ہم ان کو اللہ کا رسول کس طرح مان لیں!
      ’وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا‘ یعنی مذکورہ بالا اعتراضات کے بعد یہ ظالم لوگ مسلمانوں کو خطاب کر کے یہ کہتے ہیں کہ اگر تم لوگوں نے ایک ایسے شخص کو رسول مان لیا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم لوگ ایک ایسے شخص کے پیرو بن گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر کے اس کی عقل کو مختل کر دیا ہے جس کے سبب سے وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یا اِس پر کوئی خزانہ اتارا جاتا یا (زیادہ نہیں تو) اِس کے لیے کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ کھاتا پیتا ۔۔۔ یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم لوگ تو ایک سحرزدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اُسی سے اپنی معاش حاصل کر لیتا اور اِسے کوئی ضرورت نہ ہوتی کہ عام آدمیوں کی طرح بازاروں میں جوتیاں چٹخاتا پھرے۔

    • امین احسن اصلاحی دیکھو، تمہارے اوپر کیسی کیسی پھبتیاں چست کر رہے ہیں! پس یہ بالکل کھوئے گئے ہیں اور کوئی راہ نہیں پا رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      معترضین کی حواس باختگی: یہ آیت بعینہٖ سورۂ بنی اسرائیل میں بھی گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت ۴۸۔ وہاں ہم واضح کر چکے ہیں کہ ’ضرب مثل‘ کا محاورہ جس طرح کوئی تمثیل بیان کرنے یا کوئی حکمت کی بات کہنے کے لیے آتا ہے اسی طرح کسی پر اعتراض کرنے یا اس پر پھبتی چست کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ اعتراض باطل کے مفہوم میں یہ لفظ آگے اسی سورہ کی آیت ۳۳ میں بھی استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ پھبتی یا اعتراض ہی کے مفہوم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخالفین کی مذکورہ بالا خرافات نقل کرنے کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا کہ دیکھو، یہ تمہارے اوپر کیسی کیسی پھبتیاں چست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی بات بنتی نظر نہیں آتی ہے تو جس کے منہ میں جو آتا ہے وہی بک دیتا ہے۔
      ’فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا‘۔ یعنی مخالفت کے جنون میں بالکل کھوئے گئے ہیں۔ اعتراض کی کوئی راہ نہ پا رہے ہیں، نہ پا سکیں گے۔ محض اپنے دل کا بخار نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس طرح یہ حقیقت کو کب تک جھٹلا سکیں گے! یہ امر ملحوظ رہے کہ جب کوئی شخص کسی سچی بات کی دیدہ و دانستہ مخالفت کرتا ہے تو وہ اسی طرح کی حواس باختگی کا مظاہرہ کرتا ہے جس طرح کی حواس باختگی ان اعتراضات کے اندر پائی جاتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی دیکھو، (اے پیغمبر)، یہ تمھاری نسبت کیسی کیسی باتیں بنا رہے ہیں۔ سو بالکل کھوئے گئے ہیں، اب کوئی راستہ نہیں پا رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی حقیقت اتنی واضح ہے کہ اُس کی تردید کے لیے کوئی راستہ نہیں پا رہے ہیں۔ چنانچہ عناد اور تعصب میں اندھے ہو کر ایسی لچر اور پوچ باتیں کر رہے ہیں جن کے بارے میں خود بھی جانتے ہیں کہ اُن کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جو چاہے تو تمہیں اس سے بھی کہیں بہتر چیزیں بخش دے ۔۔۔ ایسے باغ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں اور تمہارے لیے محل بنوا دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اعتراضات کا جواب: جس طرح نقل اعتراضات کی تمہید لفظ ’تبارک‘ سے اٹھائی ہے اسی طرح جواب کی تمہید بھی اسی لفظ سے اٹھائی ہے اور سب سے پہلے معترضین کے اس اعتراض کو لیا ہے جو سب سے آخر میں آیت ۸ میں نقل ہوا ہے۔ فرمایا کہ خدا کی ذات بڑی ہی بافیض اور بڑی ہی صاحب جود و کرم ہے۔ اس کے پاس نہ باغوں کی کمی ہے اور نہ خزانوں کی۔ یہ ایک باغ کو کہتے ہیں۔ خدا اگر چاہے تو تمہارے لیے بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں اور بہت سے ایوان و محل تیار کرا دے اور یہ سب کچھ تمہیں ایک دن ملنے والا ہے۔ لیکن ان لوگوں کی نگاہیں چونکہ اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہیں، آخرت کی زندگی کا، جو اصل زندگی ہے کوئی تصور نہیں رکھتے اس وجہ سے یہ اپنے دنیوی اسباب و وسائل پر نازاں اور تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ دنیا دارالامتحان ہے، دارالانعام نہیں ہے۔ یہاں کی غربت و امارت دونوں امتحان کے لیے ہے۔ انعام کا گھر آخرت ہے۔ جو وہاں کامیاب ہوا وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہے اور جو وہاں نامراد ہوا وہ ہمیشہ کے لیے نامراد ہے اور وہاں کی کامیابی ان لوگوں کے لیے ہے جو اس دنیا میں خدا سے ڈرنے والے بنیں۔

      جاوید احمد غامدی بہت بزرگ، بہت فیض رساں ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو تمھیں اِس سے کہیں بہتر چیزیں بخش دے ۔۔۔ ایسے باغ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں اور (اُن میں) تمھارے لیے محل بنوا دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جو کچھ قیامت میں دینے والا ہے، وہ اِسی دنیا میں تمھیں دے دے۔ یہ اُس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بلکہ ان لوگوں نے قیامت کو جھٹلا دیا ہے اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ ان کے اصل مغالطہ کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اپنی دنیوی کامرانیوں کو جو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھے ہوئے ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت کے منکر ہیں۔ حالانکہ انھیں نہیں معلوم کہ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں ہم نے ان کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے اگرچہ اس دنیا میں ان کے پاس کتنے ہی مربعے، کتنے ہی باغ اور کتنی ہی کوٹھیاں ہوں!

      جاوید احمد غامدی (نہیں، یہ بات نہیں ہے)، بلکہ اِنھوں نے قیامت کو جھٹلا دیا ہے اور جو قیامت کو جھٹلا دیں، اُن کے لیے ہم نے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اصل بات یہ نہیں ہے جو یہ زبان سے کہہ رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی وہ دور ہی سے جب ان کو دیکھے گی تو وہ اس کا بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دوزخ اور اہل دوزخ کی تصویر: ’تَغَیُّظٌ‘ کے معنی غصہ سے بپھرنے اور ’زفیر‘ کے معنی چیخنے اور دھاڑنے کے ہیں۔ یہ اس دوزخ کی صفت بیان ہوئی ہے جو ان ظالموں کے لیے اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھی ہے۔ فرمایا کہ وہ ان سے انتقام کے جوش میں پہلے سے بپھری ہوئی ہے اور ان کو دور ہی سے دیکھ کر اس طرح دھاڑے گی جس طرح بھوکا شیر دھاڑتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی وہ جب اِن کو دور ہی سے دیکھے گی تو (دیکھتے ہی بپھر جائے گی اور) یہ اُس کا بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور یہ جب اس کی کسی تنگ جگہ میں باندھ کر ڈال دیے جائیں گے تو اس وقت اپنی ہلاکت کو پکاریں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ تصویر ہے ان ظالموں کے عذاب دوزخ کی۔ فرمایا کہ جب یہ اس کی کسی نہایت تنگ جگہ میں، باندھ کر، ڈال دیے جائیں گے تو وہاں وہ اپنی موت کو پکاریں گے۔ یعنی اول تو جگہ تنگ اور پھر اس میں بھی وہ باندھ کر اور زنجیروں میں جکڑ کر ڈالے جائیں گے۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے ’اِنَّھَا عَلَیْھِمْ مُّوْصَدَۃٌ فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ‘ (الھمزۃ: ۸-۹) یعنی وہ ان کے اوپر سے بند ہو گی اور وہ اس کے اندر لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے۔ ایک اور مقام میں ان کے لیے سلاسل اور اغلال کا ذکر بھی آیا ہے۔
      ’دَعَوْا ھُنَالِکَ ثُبُوْرًا‘۔ ’ثبور‘ کے معنی موت اور ہلاکت کے ہیں یعنی اس وقت وہ موت کی دہائی دیں گے اس لیے کہ اس عذاب سے رہائی کی واحد شکل جو ان کو نظر آئے گی وہ یہی ہو گی کہ کسی طرح موت آئے۔ وہ ان کی زندگی کا خاتمہ کرے لیکن وہاں موت بھی نہیں آئے گی۔ دوسرے مقام میں تصریح ہے کہ وہاں موت ان پر ہر طرف سے پل پڑ رہی ہو گی لیکن وہ مریں گے نہیں بلکہ برابر ’لَا یَمُوْتُ وَلَا یَحْیٰی‘ کے ضیق میں مبتلا رہیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اور جب اُس کی کسی تنگ جگہ میں باندھ کر ڈال دیے جائیں گے تواُس وقت موت کو پکاریں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ جس طرح کا عذاب وہاں ہو گا، اُس سے رہائی کی ایک ہی صورت اُن کو نظر آئے گی کہ کسی طرح موت آ جائے۔

    • امین احسن اصلاحی آج ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس دن ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک ہی موت کی دہائی نہ دو بلکہ بہت سی موتوں کی دہائی دو۔ یعنی آج تم پر نئی نئی بے شمار مصیبتیں ٹوٹیں گی اور تم کو ہر مصیبت پر اسی طرح واویلا کرنا ہے لیکن تمہارا یہ سارا واویلا بالکل بے سود ہو گا۔ یہ بات قولاً بھی ہو سکتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہنم کے داروغوں کے ذریعہ سے ان کو کہلائی جائے گی اور صورت حال کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت دوسرے مقامات میں ہم کر چکے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی آج ایک ہی موت کو نہیں، بہت سی موتوں کو پکارو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ بات قولاً بھی ہو سکتی ہے اور اُس صورت حال کی تعبیر بھی جس سے وہ دوچار ہوں گے۔

    • امین احسن اصلاحی ان سے پوچھو، کیا یہ بہتر ہے یا وہ جنت ابد جس کا خدا ترسوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے! وہ ان کے لیے صلہ اور ٹھکانا ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جنت اور اہل جنت کی تصویر: اب یہ اس اصل مدعا کا ذکر ہے جس کے لیے دوزخ کی یہ ساری تفصیل سنائی گئی ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا کہ جو لوگ تمہیں طعنہ دیتے ہیں کہ تمہارے پاس کوئی باغ کیوں نہ ہوا ان سے پوچھو کہ یہ دوزخ بہتر ہے جو ان کے لیے تیار ہے یا وہ جنت خلد جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں سے وعدہ فرما رکھا ہے! یعنی تمہاری نگاہیں چونکہ اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہیں اس وجہ سے تم اپنے باغوں اور محلوں پر نازاں اور مومنین کی بے مائگی پر طعنہ زن ہو۔ اگر تمہیں آخرت کا علم ہوتا اور تم یہ جان سکتے کہ وہاں تمہارے لیے کیا عذاب تیار کیا ہے اور اہل ایمان کے لیے کس ابدی بادشاہی کا اہتمام ہے تو تم ان غریب اہل ایمان پر رشک کرتے اور اپنی شامت اعمال پر اپنے سر پیٹتے لیکن تمہیں تو اس دنیا کے غرور نے اس طرح اندھا کر دیا ہے کہ اپنی ناک سے آگے تمہیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔

      جاوید احمد غامدی اِن سے پوچھو، کیا یہ بہتر ہے یا ہمیشہ کی جنت جس کا وعدہ خدا سے ڈرنے والوں سے کیا گیا ہے۔ وہ اُن کے عمل کی جزا اور اُن کا ٹھکانا ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس میں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو وہ چاہیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ تیرے رب کا وعدہ ہے جس کے ایفا کی اس پر حتمی ذمہ داری ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس جنت سے متعلق یہاں چار باتیں فرمائی گئی ہیں:

      ایک یہ کہ یہ اہل ایمان کو ان کے اعمال کے صلے اور بدلے کے طور پر ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کو یہ اطمینان دلا دے گا کہ یہ تم نے اپنی سعی و عمل سے حاصل کی ہے اور تم اس کے پوری طرح حق دار ہو۔
      دوسری یہ کہ یہ ان کی ابدی قیام گاہ ہو گی۔ اس سے محروم ہونے کا ان کو کبھی کوئی اندیشہ نہ ہو گا۔
      تیسری یہ کہ اس میں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمیشہ کے لیے ملے گا۔
      چوتھی یہ کہ اس جنت کا اہل ایمان سے اللہ تعالیٰ نے حتمی وعدہ فرمایا ہے اور ازخود اپنے اوپر اس کا ایفاء واجب اور اپنے بندوں کے آگے اس کے لیے اپنے کو ذمہ دار و مسؤل ٹھہرایا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُس میں جو چیز بھی چاہیں گے، اُن کے لیے موجود ہو گی۔ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ تیرے پروردگار کے ذمے ایک وعدہ ہے جس کو اُسے ہر حال میں پورا کرنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اُن کی جو تجویز یں اوپر نقل ہوئی ہیں، اُنھی کو سامنے رکھ کر یہ دوزخ اور جنت، دونوں کے احوال بیان کر دیے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ اگر تم دیکھ سکتے کہ تمھارے لیے وہاں کیا عذاب تیار ہے اور ایمان والوں کے لیے کس ابدی بادشاہی کا اہتمام کیا گیا ہے تو کبھی وہ باتیں نہ کرتے جو پیغمبر کی دعوت کے جواب میں کر رہے ہو۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’اِس جنت سے متعلق یہاں چار باتیں فرمائی گئی ہیں:
      ایک یہ کہ یہ اہل ایمان کو اُن کے اعمال کے صلے اور بدلے کے طور پر ملے گی۔ اللہ تعالیٰ اُن کو یہ اطمینان دلا دے گا کہ یہ تم نے اپنی سعی وعمل سے حاصل کی ہے اور تم اِس کے پوری طرح حق دار ہو۔
      دوسری یہ کہ یہ اُن کی ابدی قیام گاہ ہو گی۔ اِس سے محروم ہونے کا اُن کو کبھی کوئی اندیشہ نہ ہو گا۔
      تیسری یہ کہ اِس میں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمیشہ کے لیے ملے گا۔
      چوتھی یہ کہ اِس جنت کا اہل ایمان سے اللہ تعالیٰ نے حتمی وعدہ فرمایا ہے اور از خود اپنے اوپر اِس کا ایفا واجب اور اپنے بندوں کے آگے اُس کے لیے اپنے کو ذمہ دار ومسؤل ٹھیرایا ہے۔‘‘(تدبر قرآن ۵/ ۴۵۵)

    • امین احسن اصلاحی اور اس دن کو خیال کرو جس دن ان کو اور جن چیزوں کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں، وہ اکٹھا کرے گا پس ان سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انھوں نے خود ہی صحیح راہ کھوئی؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آخرت میں انبیاء و صالحین کا اپنے پرستاروں سے اعلان براء ت: اوپر آیات ۲-۳ میں ان شرکاء کا ذکر گزر چکا ہے جن کے اعتماد پر یہ مشرکین آخرت سے سے بے پروا ہو کر قرآن اور رسول کا مذاق اڑا رہے تھے۔ یہاں انہی کو پیش نظر رکھ کر فرمایا کہ حشر کے دن اللہ ان کے ساتھ ان کے ان معبودوں کو بھی جمع کرے گا جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اور ان سے سوال کرے گا کہ کیا تم لوگوں نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انھوں نے اپنی راہ خود گم کی؟ وہ جواب دیں گے کہ معاذ اللہ! ہمارے لیے یہ کس طرح روا تھا کہ ہم تیرے سوا کسی اور کو اپنا ولی و کارساز بناتے یا دوسروں کو اس کا حکم دیتے! اصل بات یہ ہے کہ تو نے معیشت دنیا کی جو فراوانی ان کو اور ان کے آباؤ اجداد کو بخشی اسی میں ان کی کئی بشتیں گزر گئیں جس کے سبب سے وہ سمجھ بیٹھے کہ وہ اسی عیش کے لیے پیدا ہوئے ہیں، اسی میں جئیں گے اور اسی میں مریں گے، وہ اس کے پیدائشی حق دار ہیں۔ انھوں نے خیال کیا کہ آخرت اول تو کوئی شے ہے نہیں اور اگر بالفرض ہے تو جس طرح اس دنیا میں ہم سب پر بالا ہیں اسی طرح آخرت میں بھی سب پر بالا رہیں گے۔ان کے اس مغالطہ نے ان کو راہ حق سے برگشتہ رکھا اور جن لوگوں نے ان کو اصل حقیقت کی یاددہانی کی اپنی اس دنیوی برتری کو اپنے برحق ہونے کو دلیل قرار دے کر انھوں نے جھٹلا دیا اور ہلاک ہونے والے بنے۔
      اس جواب سے صاف واضح ہے کہ یہ ان انبیاء و صلحاء اور ملائکہ کا جواب ہو گا جن کی پرستش کی گئی ہے۔ رہے مشرکین کے وہ خیالی اصنام و اوثان جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو اگرچہ جمع تو، جیسا کہ ’وَمَا یَعْبُدُوْنَ‘ کے عموم سے ظاہر ہوتا ہے، ان کی مورتیں بھی کی جائیں گے لیکن ان سے کسی سوال و جواب کا کیا سوال! البتہ قرآن میں دوسرے مقامات میں یہ تصریح موجود ہے کہ یہ بھی اپنے پوجنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونک دی جائیں گی تاکہ جن بدقسمت لوگوں نے ان کی پرستش کی ان پر واضح ہو جائے کہ جن کے آگے انھوں نے زندگی بھر ڈنڈوت کی ان کا کیا حشر ہوا!
      یہاں انبیاء و صلحاء کا جو جواب نقل ہوا ہے بعینہٖ وہی جواب حضرت مسیحؑ کی زبان سے سورۂ مائدہ کی آیات ۱۱۵-۱۱۸ میں نقل ہوا ہے، اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
      اصل سبب انکار: ’وَلٰکِنْ مَّتَّعْتَہُمْ وَ اٰبَآءَ ھُمْ حَتّٰی نَسُوا الذِّکْرَ‘۔ میں وہی بات فرمائی گئی ہے جو سورۂ حدید کی آیت ۱۶ میں یوں فرمائی گئی ہے کہ ’فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ‘ (ان لوگوں کو عیش و رفاہیت کا طویل زمانہ ملا اس وجہ سے ان کے دل سخت ہو گئے) آیت میں ’ذکر‘ سے مراد وہ یاددہانی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو برابر آخرت کو یاد رکھنے کی کی گئی۔ یہ مضمون انبیاء آیت ۴۴ اور قصص آیت ۴۵ میں بھی بیان ہوا ہے۔ مزید وضاحت مطلوب ہو تو ان پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
      ’قَوْمًا بُوْرًا‘۔ ’بُوْر‘ واحد، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی شور زمین کے بھی ہیں اور فاسد و ناکارہ آدمی کے بھی۔ یہاں یہ قوم کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہلاک ہونے والی قوم کے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی یہ اُس دن کا دھیان کریں، جس دن وہ اِنھیں اکٹھا کرے گا اور اُن کو بھی جنھیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں۔ پھر اُن سے پوچھے گا: کیا تم نے میرے اِن بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی راہ راست سے بھٹک گئے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِن معبودوں کا ذکر اوپر آیت۳ میں گزر چکا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ جواب دیں گے کہ معاذ اللہ! ہمیں یہ حق کہاں تھا کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو کارساز بنائیں! بلکہ تو نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو دنیا سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ وہ تیری یاد بھلا بیٹھے اور ہلاک ہونے والے بنے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آخرت میں انبیاء و صالحین کا اپنے پرستاروں سے اعلان براء ت: اوپر آیات ۲-۳ میں ان شرکاء کا ذکر گزر چکا ہے جن کے اعتماد پر یہ مشرکین آخرت سے سے بے پروا ہو کر قرآن اور رسول کا مذاق اڑا رہے تھے۔ یہاں انہی کو پیش نظر رکھ کر فرمایا کہ حشر کے دن اللہ ان کے ساتھ ان کے ان معبودوں کو بھی جمع کرے گا جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اور ان سے سوال کرے گا کہ کیا تم لوگوں نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انھوں نے اپنی راہ خود گم کی؟ وہ جواب دیں گے کہ معاذ اللہ! ہمارے لیے یہ کس طرح روا تھا کہ ہم تیرے سوا کسی اور کو اپنا ولی و کارساز بناتے یا دوسروں کو اس کا حکم دیتے! اصل بات یہ ہے کہ تو نے معیشت دنیا کی جو فراوانی ان کو اور ان کے آباؤ اجداد کو بخشی اسی میں ان کی کئی بشتیں گزر گئیں جس کے سبب سے وہ سمجھ بیٹھے کہ وہ اسی عیش کے لیے پیدا ہوئے ہیں، اسی میں جئیں گے اور اسی میں مریں گے، وہ اس کے پیدائشی حق دار ہیں۔ انھوں نے خیال کیا کہ آخرت اول تو کوئی شے ہے نہیں اور اگر بالفرض ہے تو جس طرح اس دنیا میں ہم سب پر بالا ہیں اسی طرح آخرت میں بھی سب پر بالا رہیں گے۔ان کے اس مغالطہ نے ان کو راہ حق سے برگشتہ رکھا اور جن لوگوں نے ان کو اصل حقیقت کی یاددہانی کی اپنی اس دنیوی برتری کو اپنے برحق ہونے کو دلیل قرار دے کر انھوں نے جھٹلا دیا اور ہلاک ہونے والے بنے۔
      اس جواب سے صاف واضح ہے کہ یہ ان انبیاء و صلحاء اور ملائکہ کا جواب ہو گا جن کی پرستش کی گئی ہے۔ رہے مشرکین کے وہ خیالی اصنام و اوثان جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو اگرچہ جمع تو، جیسا کہ ’وَمَا یَعْبُدُوْنَ‘ کے عموم سے ظاہر ہوتا ہے، ان کی مورتیں بھی کی جائیں گے لیکن ان سے کسی سوال و جواب کا کیا سوال! البتہ قرآن میں دوسرے مقامات میں یہ تصریح موجود ہے کہ یہ بھی اپنے پوجنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونک دی جائیں گی تاکہ جن بدقسمت لوگوں نے ان کی پرستش کی ان پر واضح ہو جائے کہ جن کے آگے انھوں نے زندگی بھر ڈنڈوت کی ان کا کیا حشر ہوا!
      یہاں انبیاء و صلحاء کا جو جواب نقل ہوا ہے بعینہٖ وہی جواب حضرت مسیحؑ کی زبان سے سورۂ مائدہ کی آیات ۱۱۵-۱۱۸ میں نقل ہوا ہے، اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
      اصل سبب انکار: ’وَلٰکِنْ مَّتَّعْتَہُمْ وَ اٰبَآءَ ھُمْ حَتّٰی نَسُوا الذِّکْرَ‘۔ میں وہی بات فرمائی گئی ہے جو سورۂ حدید کی آیت ۱۶ میں یوں فرمائی گئی ہے کہ ’فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ‘ (ان لوگوں کو عیش و رفاہیت کا طویل زمانہ ملا اس وجہ سے ان کے دل سخت ہو گئے) آیت میں ’ذکر‘ سے مراد وہ یاددہانی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو برابر آخرت کو یاد رکھنے کی کی گئی۔ یہ مضمون انبیاء آیت ۴۴ اور قصص آیت ۴۵ میں بھی بیان ہوا ہے۔ مزید وضاحت مطلوب ہو تو ان پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
      ’قَوْمًا بُوْرًا‘۔ ’بُوْر‘ واحد، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی شور زمین کے بھی ہیں اور فاسد و ناکارہ آدمی کے بھی۔ یہاں یہ قوم کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہلاک ہونے والی قوم کے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی وہ جواب دیں گے کہ پاک ہے تیری ذات، ہمیں یہ حق بھی کہاں تھا کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو کارساز بنائیں! مگر (ہوا یہ کہ) تو نے اِن کو اور اِن کے باپ دادا کو خوب سامان زندگی دیا، یہاں تک کہ وہ تیری یاددہانی بھلا بیٹھے او رایسے لوگ بن گئے جو برباد ہو کر رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      دولت اور اقتدار کے ساتھ دو تین پشتیں گزر جائیں تو اکثر لوگ اِس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ یہ اب اُن کا پیدایشی حق ہے، اور آخرت اول تو ہو گی نہیں، اور اگر بالفرض ہوئی بھی تو جس طرح دنیا میں اُنھیں دوسروں سے کہیں بڑھ کر ملا ہے، آخرت میں بھی لازماً مل جائے گا۔ یہ اِسی ذہنیت کا بیان ہے اور صاف واضح ہے کہ یہ اصنام و اوثان نہیں، بلکہ اُن انبیا وصلحا اور ملائکہ کا جواب ہو گا جن کی یہ لوگ پرستش کرتے رہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ لو، انھوں نے تو تمہاری بات میں، جو تم کہتے تھے، تمہیں جھوٹا ٹھہرا دیا! سو اب تم نہ تو عذاب کو ٹال سکتے اور نہ اپنی کوئی مدد کر سکتے۔ اور جو بھی تم میں سے شرک کا مرتکب ہو گا ہم اس کو ایک بڑا عذاب چکھائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک بلیغ اسلوب: یہاں مستقبل کی بات کو بتقاضائے بلاغت ماضی کی شکل میں کر دیا ہے۔ فرمایا کہ یہ لو، انھوں نے تو، تمہاری اس بات کو جھٹلا دیا جو تم کہتے تھے! تمہارا دعویٰ تو یہ تھا کہ انھوں نے تمہیں اپنی عبات کا حکم دیا ہے اور تم جن باتوں کو اختیار کیے ہوئے ہو انہی کی ہدایت کے مطابق اختیار کیے ہو لیکن ان کا کہنا تو یہ ہے کہ اپنی عبادت کا کسی کو حکم دینا تو درکنار، وہ اس بات کے بھی ایک لمحہ کے لیے روادار نہیں کہ کسی کو اپنا ولی و کارساز بنائیں۔
      ’ظلم عظیم‘ کی سزا ’عذاب کبیر‘: ’فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّلَا نَصْرًا‘ الآیۃ۔ یعنی اس آخری اتمام حجت اور قطع عذر کے بعد تمہارے لیے کوئی راہ فرار باقی نہ رہ جائے گی۔ نہ تم خود اپنے سے عذاب کو ہٹا سکو گے اور نہ اپنی یا کسی دوسرے کی کوئی مدد کر سکو گے اور تم میں سے جو بھی شرک کے مرتکب ہوں گے ہم ان کو ایک عذاب عظیم چکھائیں گے۔ یہ امر واضح رہے کہ شرک کی سزا ’عذاب کبیر‘ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک کی حیثیت ’ظلم عظیم‘ کی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (کہا جائے گا): یہ لو، اِنھوں نے تو جو تم کہتے تھے، اُس میں تمھیں جھوٹا ٹھیرا دیا۔ سو اب نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے نہ اپنی کوئی مدد کر سکو گے اور تم میں سے جو بھی ظلم کے مرتکب ہوں گے، اُنھیں ہم ایک بڑا عذاب چکھائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی شرک و کفر جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ اِس کی سزا کے لیے اصل میں ’عَذَابًا کَبِیْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں اِسے ’ظُلْمٌ عَظِیْمٌ‘ قرار دیا گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں میں سے جن کو بھی بھیجا وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔ اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے تو بولو، صبر کرتے ہو! اور تمہارا رب سب دیکھ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تمام رسول بشر تھے: اس آیت میں اگرچہ خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن آیت کے الفاظ خود شاہد ہیں کہ کلام کا رخ عام لوگوں کی طرف ہے چنانچہ اس میں ضمیریں اور فعل واحد بھی استعمال ہوئے ہیں اور جمع بھی۔ یہ معترضین کے اس اعتراض کا جواب ہے جو اوپر آیت 7 میں نقل ہوا ہے۔ فرمایا کہ اگر تم بشر ہو، کھانا بھی کھاتے ہو اور بازاروں میں لین دین کے لیے بھی تمہیں جانا پڑتا ہے تو ان میں سے کوئی بات بھی منصب رسالت کے منافی نہیں ہے۔ تم سے پہلے جتنے رسول بھی ہم نے بھیجے وہ سب بلااستثناء کھانے بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں عام آدمیوں کی طرح چلتے پھرتے بھی تھے۔ قرآن کا یہ جواب بالکل واضح ہے اس لیے کہ یہ معترضین حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہا السلام کو نہ صرف نبی و رسول مانتے تھے بلکہ ان کی ذریت اور ان کے دین کے وارث ہونے پر ان کو بڑا فخر و ناز تھا لیکن ان میں سے کسی کے متعلق بھی ان کا یہ دعویٰ نہیں تھا کہ وہ مافوق بشر تھے بلکہ ان کو وہ بشر ہی تسلیم کرتے تھے۔ اسی طرح بنی اسرائیل بھی اپنے انبیاء میں سے کسی کے مافوق بشر ہونے کے قائل نہیں تھے۔ چنانچہ قرآن نے دوسرے مقام میں قریش کے ان معترضین سے کہا بھی ہے کہ اگر تم نبوت و رسالت کی تاریخ سے بے خبر ہو تو ان اہل کتاب سے پوچھ لو جو انبیاء و رسل کی تاریخ سے واقف ہیں کہ ان کے انبیاء کھانا کھاتے تھے یا نہیں اور انھیں بازاروں میں چلنے پھرنے کی ضرورت پیش آتی تھی یا نہیں؟ عیسائیوں نے اگرچہ پال کے زمانہ سے حضرت عیسیٰ کو مافوق بشر بنانے کی بڑی کوشش کی لیکن ان کے اور ان کی والدہ ماجدہ کے کھانا کھانے سے وہ بھی انکار نہیں کر سکتے اس لیے کہ انجیلوں میں یہ چیز نہایت تصریح کے ساتھ موجود ہے۔ چنانچہ قرآن نے اس کو بھی ان کے متعلق دعوائے الوہیت کے خلاف دلیل کے طو پر پیش کیا ہے۔ ’کَانَایَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ‘ (مائدہ: ۷۵) (ماں بیٹا دونوں کھانا کھاتے تھے)۔
      انبیاؑء اور ان کی امتوں کے لیے ایک امتحان: ’وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃً‘ بعینہٖ یہی مضمون انعام آیت ۵۳ میں گزر چکا ہے۔ وہاں فرمایا ہے:

      ’وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَھآؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنْ بَیْنِنَا‘
      (اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے تا کہ یہ مستکبرین کہیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے اپنے فضل سے منتخب کیا!)

      یعنی مسلمانوں کی غربت ان کفار کے لیے فتنہ بن گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تمام نعمتوں اور مال و جاہ کے وارث اور مالک ہم ہیں تو یہ دین اگر کوئی خدائی دین ہوتا تو وہ ان قلاش مسلمانوں کو کس طرح ملتا، وہ بھی لازماً ہمیں ملتا اور اگر اللہ انسانوں ہی میں سے کسی کو نبی بنانے والا ہوتا تو طائف یا مکہ کے کسی رئیس کو بناتا نہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جیسے غریب آدمی کو اس منصب پر سرفراز کرتا! اسی طرح یہاں فرمایا ہے کہ ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا ہے۔ یعنی تمہاری غربت ان کے لیے قبول حق کی راہ میں حجاب بن گئی ہے۔ حق تو یہ تھا کہ وہ نعمت پا کر خدا کے شکر گزار بندے بنتے لیکن یہ نعمت ان کے لیے استکبار کا سبب بن گئی اور اس استکبار کے نشہ میں انھوں نے تمہاری پیش کردہ دعوت پر غور کرنے اور اس کو اختیار کرنے کے بجائے تمہیں اعتراضات و مطاعن کا ہدف بنا لیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے صبر کا امتحان ہے۔
      عربیت کا ایک بلیغ اسلوب: ’اَتَصْبِرُوْنَ‘ یہ مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد ہوا کہ وہ تو اپنے شکر کے امتحان میں بالکل ناکام رہے، اب تم بتاؤ کہ تم ان کے طنز و استہزاء اور ان کی مخالفت و عداوت کے مقابل میں ثابت قدم رہنے والے بنتے ہو یا نہیں؟ عربیت کا ذوق رکھنے والوں سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ جب امر کے اندر ترغیب و تشویق اور حث و تحریض کا مفہوم پیدا کرنا ہو تو وہ خبریہ اسلوب کے قالب میں آتا ہے اور اگر اس پر حرف استفہام آ جائے تو اس کے اندر مزید زور پیدا ہو جاتا ہے. ’ھَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَ‘ (شعراء: ۳۹) کے تحت اس اسلوب کی مزید وضاحت آئے گی اور پیچھے بھی اس کی بعض عمدہ مثالیں گزر چکی ہیں۔ یہ مسلمانوں کو اس بات پر ابھارا گیا ہے کہ اگر تمہارے مخالفین اپنے امتحان میں ناکام رہے تو ان کو ان کی قسمت کے حوالہ کرو، تمہارے سامنے صبر کے امتحان کا جو مرحلہ ہے اس میں کامیابی کے لیے عزم و حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھو۔
      ’وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارا نگران حال ہے۔ اس کی نصرت پر پورا بھروسہ رکھو۔ اگر تم ثابت قدم رہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان تمام مخالفتوں کے علی الرغم منزل مقصود پر پہنچائے گا۔
      اس آیت میں فتنہ کو اللہ تعالیٰ نے جو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو اس نے اپنے بندوں کے امتحان کے لیے اس دنیا میں جاری فرمائی ہے۔ اس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی تم سے پہلے بھی جتنے رسول ہم نے بھیجے ہیں، وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (ایمان والو)، ہم نے ایک دوسرے کے لیے تمھیں آزمایش بنا دیا ہے تو بولو، (اِن سب باتوں پر) صبر کرتے ہو؟ (تم مطمئن رہو، اے پیغمبر، یہ جو کچھ کر رہے ہیں)، تیرا پروردگار سب دیکھ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر قریش مکہ کا اعتراض نقل ہوا ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ قرآن نے یہ اِسی اعتراض کا جواب دیا ہے کہ اِس سے پہلے جن رسولوں کو مانتے ہو، اُن میں سے کون سا رسول ایسا تھا جو نہ کھانا کھاتا ہو اور نہ بازاروں میں چلتا پھرتا ہو؟ نوح، ابراہیم، اسمٰعیل، اور موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام، جن کی رسالت کے تم قائل ہو، وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ نرالا اعتراض کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟
      یعنی اُن کی طرف سے تحقیر وتضحیک کے رویے کو تمھارے لیے اور تمھاری غربت کو اُن کے لیے آزمایش بنا دیا ہے کہ اِسی کے باعث وہ یہ کہہ کر حق کا انکار کر رہے ہیں کہ یہ اگر خدا کا دین ہوتا تو اِس سے مکہ اور طائف کے رؤسا واکابر بہرہ یاب کیے جاتے، یہ اِن قلاش مسلمانوں کو نہ ملتا۔
      مطلب یہ ہے کہ و ہ تو اپنے شکر کے امتحان میں بالکل ناکام ہو گئے ہیں۔ اب بتاؤ، کہ اُن کے استکبار اور طنز واستہزا کے مقابلے میں تم کیا رویہ اختیار کرو گے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ مسلمانوں کو اِس بات پر ابھارا گیا ہے کہ اگر تمھارے مخالفین اپنے امتحان میں ناکام رہے تو اُن کو اُن کی قسمت کے حوالے کرو۔ تمھارے سامنے صبر کے امتحان کا جو مرحلہ ہے، اُس میں کامیابی کے لیے عزم وحوصلہ کے ساتھ آگے بڑھو۔‘‘(تدبر قرآن ۵/ ۴۵۸)

      یعنی جب دیکھ رہا ہے تو مطمئن رہو، ان تمام مخالفتوں کے علی الرغم وہ تمھیں فائز المرام بھی کرے گا۔

    Join our Mailing List