Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 118 آیات ) Al-Muminoon Al-Muminoon
Go
  • المومنون (The Believers)

    118 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ حج ۔۔۔ کی توام اور مثنیٰ ہے۔ سورۂ حج جس مضمون پر تمام ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ سورۂ حج کے آخر میں مسلمانوں کا فریضۂ منصبی یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول نے دین حق کی گواہی جس طرح تم پر دی ہے اسی طرح اب تمہارا فرض ہے کہ یہ گواہی تم خلق پر دو۔ ساتھ ہی اس منصب کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جن باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے مثلاً اہتمام نماز، ادائیگی زکوٰۃ اور توکل علی اللہ، ان کی ہدایت فرمائی ہے۔ اب اس سورہ کو پڑھیے تو بعینہٖ اسی مضمون سے اس طرح شروع ہو گئی ہے گویا اسی کا تکملہ و تتمہ ہے۔ سورۂ حج کی آخری اور سورۂ مومنون کی ابتدائی آیات نے ایک حلقۂ اتصال کی صورت اختیار کرلی ہے۔ مضمون کے اعتبار سے بھی دونوں سورتوں میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ صرف اسلوب بیان اور نہج استدلال کا فرق ہے۔ سورۂ حج میں اہل ایمان کو فوز و فلاح کی اور کفار کو ذلت و نامرادی کی جو خبر دی گئی ہے وہ اس سورہ میں پوری طرح آشکارا ہو گئی ہے۔ خاص طور پر اہل ایمان کے لیے بشارت کا مضمون اس میں بالکل کھل کر سامنے آ گیا ہے اور وہ اوصاف بھی وضاحت سے بیان ہو گئے ہیں جن کے ساتھ یہ بشارت مشروط ہے۔ اسی طرح کفار پر بھی یہ حقیقت اچھی طرح واضح کر دی گئی ہے کہ تمہیں جس ذلت کی خبر دی جا رہی ہے وہ لازماً پیش آ کے رہے گی، آفاق و انفس اور تاریخ کی شہادت یہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو امتحان کا گھر بنایا ہے اس وجہ سے اس میں اہل ایمان کی آزمائش بھی ہوتی ہے اور اہل کفر کو ڈھیل بھی دی جاتی ہے۔ لیکن یہ عارضی وقفے ہیں۔ بالآخر حق ہی کا بول بالا ہو گا اور اہل باطل نامراد ہوں گے۔

  • المومنون (The Believers)

    118 آیات | مکی

    الحج - المؤمنون

    ۲۲ - ۲۳

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے۔ پہلی سورہ میں قریش مکہ کو، بالخصوص حرم کی تولیت کے حوالے سے آخری انذار و تنبیہ اور دوسری میں اُن کے لیے اُسی انذار و تنبیہ کے نتائج کی وضاحت ہے جس میں ایمان والوں کی کامیابی کا مضمون بہت نمایاں ہو گیا ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

    سورۂ حج کی چند آیات، البتہ مدنی ہیں جو اُس اقدام کی وضاحت کے لیے سورہ کا حصہ بنا دی گئی ہیں جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد خدا کا فیصلہ قریش مکہ کے لیے ظاہر ہو جائے گا۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی فائز المرام ہوئے وہ اہل ایمان۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل ایمان کو فلاح دنیا و آخرت کی بشارت: لفظ ’مُؤْمِنُوْنَ‘ ہر چند عام ہے لیکن یہاں اس کے مصداق اول وہی اہل ایمان ہیں جو اس دور میں حق کی خاطر ہجرت اور جہاد کی بازیاں کھیل رہے تھے۔ فرمایا کہ وہ فائز المرام ہوئے۔ یہ بشارت ہے تو مستقبل سے متعلق، لیکن اس کو تعبیر ماضی کے صیغے سے فرمایا ہے جس سے مقصود اس کی قطعیت کا اظہار ہے اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک بات کا فیصلہ ہو چکا تو گویا وہ بات واقع ہو چکی۔ یہاں جس فلاح کی بشارت ہے اس کا حقیقی ثمرہ تو فلاح آخرت ہے۔ وہی اصل چیز ہے اور اہل ایمان کا نصب العین ہمیشہ وہی ہوتی ہے، لیکن اس کے اندر تمکن فی الارض کی وہ بشارت بھی مضمر ہے جو پچھلی سورہ میں دی گئی ہے۔ لیکن اس کا ذکر چونکہ پچھلی سورہ میں وضاحت سے ہو چکا ہے اس وجہ سے اس سورہ میں اصل مقام ۔۔۔ فردوس ۔۔۔ کا ذکر ہوا۔ دوسری چیزیں اس کے تحت خود بخود آ گئیں۔

      جاوید احمد غامدی اپنی مراد کو پہنچ گئے ایمان والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُن کے لیے فیصلہ ہو گیا کہ لازماً فائز المرام ہوں گے۔ یہ مستقبل میں کسی بات کے واقع ہونے کی قطعیت کے اظہار کا اسلوب ہے جو ہماری زبان میں بھی موجود ہے۔ اِس بشارت کا ظہور کب ہو گا؟ اِس کی وضاحت پیرے کے آخر میں کر دی ہے کہ ہمیشہ کے لیے فردوس کی میراث پا لیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی جو اپنی نمازوں میں فروتنی اختیار کرنے والے (ہیں)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      روحِ نماز کی طرف اشارہ: ’خشوع‘ کے معنی عاجزی، تذلل، نیاز مندی اور فروتنی کے ہیں۔ یہ لفظ مختلف شکلوں میں قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ ’خشعت الاصوات‘ اور ’تخشع قُلُوْبُھُمْ‘ وغیرہ کے استعمالات سے لفظ کی اصل روح پر روشنی پڑتی ہے اس وجہ سے جن لوگوں نے اس کے معنی مجرد ’سکون‘ کے لیے ہیں ہمارے نزدیک ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔ یہ اس نماز کی اصل روح کی طرف اشارہ ہے جس پر مذکورہ فلاح کا انحصار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رب کے آگے آدمی کی کمر اور اس کا سر ہی نہ جھکے، بلکہ اس کا دل بھی سرفگندہ ہو جائے۔ ان اہل ایمان کی کیفیت یہی ہے کہ نمازوں میں ان کے قیام، ان کی ہیئت، ان کی آواز اور ان کے رکوع و سجود ایک ایک چیز سے ان کے دل کے خشوع کی شہادت ملتی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ پچھلی سورہ کی آخری آیت میں ’اقامۃ صلٰوۃ‘ کی ہدایت ہوئی تھی جو نماز کے ظاہری اہتمام و التزام کی تعبیر ہے۔ اس سورہ میں نماز کی اصل روح کا ذکر ہوا اور وہ بھی اس حیثیت سے کہ یہ ان اہل ایمان کی صفت ہے جن کو فلاح کی یہ بشارت دی جا رہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اپنے پروردگار کے آگے نیاز مندی، تذلل اور عاجزی و فروتنی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ یہی نماز کی اصل روح ہے جو اگر نماز میں موجود ہو تو آدمی محسوس کرتا ہے کہ اُس کی کمر اور اُس کا سر ہی نہیں، اُس کا دل بھی اپنے پروردگار کے آگے سرفگندہ ہو گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو لغویات سے احتراز کرنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زندگی پر نماز کا اثر: یہ زندگی پر نماز کا اثر بیان ہوا ہے۔ ’لغو‘ سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو زندگی کے اصل مقصود ۔۔۔ رضائے الٰہی ۔۔۔ سے غافل کرنے والا ہو۔ قطع نظر اس سے کہ وہ مباح ہے یا غیر مباح۔ جس نماز کے اندر خشوع ہو اس کا اثر زندگی پر لازماً یہ پڑتا ہے کہ فضول، غیر ضروری، لا یعنی، بے مقصد چیزوں سے آدمی احتراز کرنے لگتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ اگر میں نے کوئی فضول قسم کی حرکت کی تو اپنے عالم الغیب مالک کو ایک روز منہ دکھانا ہے اور اس چیز کی شب و روز میں کم از کم پانچ بار اس کو یاددہانی ہوتی رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کا ضمیر اتنا بیدار اور حساس ہو کہ ہر غیر ضروری حرکت سے اس کی طبیعت انقباض محسوس کرے وہ کسی بڑی بے حیائی اور برائی کا مرتکب کبھی مشکل ہی سے ہو گا۔ نماز کا زندگی پر یہی اثر سورۂ عنکبوت میں یوں بیان ہوا ہے:

      ’اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ‘۔ (۴۵)
      (نماز بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے)

      روکنے کا مطلب یہی ہے کہ وہ ایک نہایت ہی موثر واعظ و زاجر ہے جو شب و روز میں پانچ مرتبہ انسان کو تذکیر کرتی رہتی ہے کہ دربار الٰہی کے شایان شان اعمال و کردار کیا ہیں اور انسان کو کہاں جانا ہے اور اس کے لیے اس کو کیا تیاریاں کرنی چاہییں اور اپنے آپ کو کس سانچے میں ڈھالنا چاہیے۔
      آیت کا اصل مفہوم تو یہی ہے لیکن موقع کلام ایک اور ضمنی مفہوم کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ اس میں مخالفین کی ان خرافات پر ایک تعریض بھی ہے جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر وقت بکتے رہتے تھے۔ یہ مفہوم سورۂ قصص کی اس آیت سے نکل رہا ہے:

      وَاِذَا سَمِعُوا الَّلغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ. (قصص ۵۵)
      ’’اور جب وہ کوئی فضول بکواس سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے ساتھ تمہارے اعمال۔‘‘

      یہی مضمون دوسرے مقام میں ’وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا‘ (فرقان ۷۲) کے الفاظ سے ادا ہوا ہے۔ ان آیات کی روشنی میں زیربحث آیت سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ اللہ کے یہ بندے مخالفین کی ژاژخائیوں میں اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے اپنے رب کے ذکر اور اس کی آیات کے فکر میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی جو لغویات سے دور رہنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’اللَّغْو‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ہر اُس بات اور کام کے لیے آتا ہے جو فضول، لا یعنی اور لا حاصل ہو۔ مطلب یہ ہے کہ بڑی برائیاں تو ایک طرف، وہ اُن چیزوں سے بھی احتراز کرتے ہیں جو اپنا کوئی مقصد نہ رکھتی ہوں اورجن سے انسان کی زندگی کے لیے کوئی نتیجہ نہ نکلتا ہو۔ اِس میں ضمناً اُن لغویات کی طرف بھی اشارہ ہو گیا ہے جو اُس زمانے میں قرآن کے منکرین سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں صادر ہوتی تھیں۔ چنانچہ دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ایمان والے جب کوئی فضول بات سنتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اورتمھارے لیے تمھارے اعمال۔ اِسی طرح فرمایا ہے کہ جب اُن کا گزر کسی بے ہودہ چیز پر ہوتا ہے تو وقار سے گزر جاتے ہیں۔ گویا نہ لغویات میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ اُن لوگوں سے الجھتے ہیں جو اُن میں مبتلا ہوں۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو زکوٰۃ ادا کرتے رہنے والے (ہیں)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نماز کے بعد دین کا دوسرا ستون زکوٰۃ ہے: نماز کے بعد دین کا دوسرا ستون، جیسا کہ ہم اس کتاب میں وضاحت سے بیان کر چکے ہیں، زکوٰۃ ہے۔ سورۂ مریم اور سورۂ انبیاء میں آپ تفصیل سے پڑھ آئے ہیں کہ ہر نبی کے باب میں یہ بات وارد ہوئی ہے کہ

      ’وَکَانَ یاْمُرُ اَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ‘
      (وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تعلیم دیتا تھا)

      اس زکوٰۃ کی قانونی شکل ہر دین میں کچھ مختلف رہی ہے، لیکن انفاق فی سبیل اللہ کی تعبیر کے لیے یہ ایک جامع اور معروف لفظ ہے اور اس کی حیثیت دین میں نماز کے مثنیٰ اور اس کے مظہر اول کی ہے۔ نماز بندے کو خالق سے جوڑتی ہے اور زکوٰۃ بندے کو بندوں کے ساتھ مربوط کرتی ہے اور جو بندہ خلق اور خالق دونوں سے صحیح بنیاد پر مربوط ہو جائے درحقیقت وہی بندہ دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کا سزاوار ہے۔ اگرچہ یہ سورہ مکی ہے اور اسلام میں باقاعدہ اصطلاحی زکوٰۃ کا نظام بعد میں قائم ہوا، لیکن یہ لفظ مصطلحہ شرعی زکوٰۃ کے مفہوم میں نہیں، بلکہ انفاق کے مفہوم میں ہے۔ جن لوگوں نے اس کو مصدری معنی یعنی تزکیہ کے مفہوم میں لیا ہے، ان کی رائے ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ یہ لفظ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مکی سورتوں میں بھی نماز کے ساتھ بار بار آیا ہے اور کہیں بھی اس سے مراد تزکیہ نہیں، بلکہ انفاق فی سبیل اللہ ہی ہے جس کے برکات و ثمرات میں سے تزکیہ بھی ہے۔
      نماز اور زکوٰۃ میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے: فلسفۂ دین کے پہلو سے نماز اور زکوٰۃ ایمان کے دو بازو ہیں اور ان دونوں کے درمیان قدر مشترک خدا کی شکرگزاری ہے۔ یہی شکر گزاری کا جذبہ بندے کو نماز پر ابھارتا ہے جو تمام تر شکر ہے اور یہی شکرگزاری کا جذبہ اللہ کی راہ میں انفاق اور قربانی پر ابھارتا ہے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ زکوٰۃ درحقیقت نماز ہی کا ایک مظہر اور پہلو ہے اور دونوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔
      پھر نماز کی روح، جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ’خشوع اور خشیت بھی ہے‘ اس پہلو سے یہ ہر برائی اور بے حیائی سے، جیسا کہ سورۂ عنکبوت کے حوالہ سے اوپر واضح ہوا، روکنے والی چیز ہے۔ چنانچہ اوپر بیان ہوا کہ جن کی نمازوں میں خشوع ہوتا ہے وہ منکرات اور لغویات سے احتراز کرتے ہیں۔ اب اسی نماز کے مزید اثرات آگے بیان ہو رہے ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      زکوٰۃ سے مراد وہ مال ہے جو نظم اجتماعی کی ضرورتوں کے لیے خدا کے حکم پر اور اُس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ نماز کی طرح اِس کا حکم بھی انبیا علیہم السلام کے دین میں ہمیشہ موجود رہاہے۔ چنانچہ قرآن کے مخاطبین جانتے تھے کہ اِس کا مصداق کیا ہے۔ یہ اُن کے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں تھی کہ اِس کی شرح و نصاب بتا کر اِس کا ذکر کیا جاتا۔ اِن سب چیزوں سے وہ اُسی طرح واقف تھے ، جس طرح نماز کے اعمال و اذکار سے واقف تھے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اِس کی حیثیت نماز کے مثنیٰ کی ہے۔ نماز بندے کو خدا سے متعلق کرتی ہے اور یہ اُس کو بندوں سے جوڑتی ہے۔ مراد کو پہنچنے کے لیے یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شہوانی خواہشات پر قابو: یعنی یہ لوگ اپنی شہوانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ ان کو صرف وہیں آزادی دیتے ہیں جہاں اس کا حق ان کو حاصل ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی بجز اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے حد تک سو اس بارے میں ان کو کوئی ملامت نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی بیویوں اور لونڈیوں پر۔۱؂ یہ نہیں ہوتا کہ شہوات سے اندھے ہو کر بالکل سانڈ بن جائیں اور ہر حرمت پر دست اندازی اپنا حق سمجھ لیں۔ فرمایا کہ اپنے حدود کے اندر یہ چیز مباح ہے۔ اس پر کسی کو ملامت نہیں۔ یعنی کوئی اس کو تقویٰ، دین داری اور خدا ترسی کے منافی نہ سمجھے جیسا کہ راہبانہ تصورات کے تحت عام طور پر سمجھا گیا ہے۔
      _____
      ۱؂غلاموں اور لونڈیوں کے مسئلہ پر ہم اس کتاب میں پیچھے بھی بحث کر چکے ہیں اور آگے سورۂ نور کی تفسیر میں بھی اس پر مفصل بحث آ رہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے سوا کہ (اُن کے بارے میں) اُن پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      بیویوں کے ساتھ یہاں لونڈیوں کا ذکر اِس لیے ہوا ہے کہ اُس وقت تک غلامی ختم نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ سورۂ محمد میں جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے کی ممانعت کے باوجود جوغلام پہلے سے معاشرے میں موجود تھے ، اُن کے لیے یہ استثنا باقی رکھنا ضروری تھا۔ بعد میں قرآن نے اُن کے ساتھ لوگوں کو مکاتبت کا حکم دے دیا۔ یہ اِس بات کا اعلان تھا کہ لوح تقدیر اب غلاموں کے ہاتھ میں ہے اوروہ اپنی آزادی کی تحریر اُس پر، جب چاہے، رقم کر سکتے ہیں۔
      یہاں یہ بات واضح رہے کہ قرآن کے زمانۂ نزول میں غلامی کو معیشت اور معاشرت کے لیے اُسی طرح ناگزیر سمجھا جاتا تھا، جس طرح اب سود کو سمجھاجاتا ہے۔ نخاسوں پر ہر جگہ غلاموں اور لونڈیوں کی خرید وفروخت ہوتی تھی اور کھاتے پیتے گھروں میں ہر سن و سال کی لونڈیاں اور غلام موجود تھے۔اِس طرح کے حالات میں اگر یہ حکم دیا جاتا کہ تمام غلام اور لونڈیاں آزاد ہیں تو اُن کی ایک بڑی تعداد کے لیے جینے کی کوئی صورت اِس کے سوا باقی نہ رہتی کہ مرد بھیک مانگیں اورعورتیں جسم فروشی کے ذریعے سے اپنے پیٹ کا ایندھن فراہم کریں۔یہ مصلحت تھی جس کی وجہ سے قرآن نے تدریج کا طریقہ اختیار کیا اور اِس سلسلہ کے کئی اقدامات کے بعد بالآخر سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۳۳ میں مکاتبت کا وہ قانون نازل فرما یا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ اِس کے بعد نیکی اور خیر کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھنے والے کسی شخص کو بھی غلام بنائے رکھنے کی گنجایش باقی نہیں رہی۔

    • امین احسن اصلاحی البتہ جو ان کے سوا کے خواہش مند ہوئے تو وہی ہیں جو حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      البتہ وہ لوگ جو اس حد سے آگے بڑھیں گے وہ خدا کے حدود کو توڑنے والے ہیں۔ یہاں صرف ان کے جرم کا ذکر فرمایا، اس کی سزا کا ذکر نہیں فرمایا۔ سزا کا ذکر نہ کرنے میں غصہ اور نفرت کی جو شدت ہے وہ خود واضح ہے۔ع

      خموشی معنئ دارد کہ درگفتن نمی آید

      یہاں اس امر کو یاد رکھیے کہ موجودہ مغربی اور مغرب زدہ سوسائٹی میں جنسی آزادی پر اگر کوئی قدغن ہے تو صرف اس صورت میں ہے جب جبر و اکراہ کی نوبت آئے۔ اگر یہ بات نہ ہو تو پھر ہر ایک کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی ہاں، جو اُن کے علاوہ چاہیں تو وہی ہیں جو حد سے بڑھنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ رہبانیت مقصود نہیں ہے۔ بیویوں کے ساتھ شہوانی تعلق بالکل جائز ہے۔ لیکن اُن کے سوا کسی دوسرے کے ساتھ، خواہ وہ زنا اور متعہ کی صورت میں ہو یا اغلام اوروطی بہائم کی صورت میں ، یہ تعلق بالکل ممنوع ہے۔ کسی مسلمان سے اِس کی توقع نہیں کی جاتی۔ تاہم اتنی بات واضح رہے کہ آیت کے الفاظ میں اِس کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ اِس ممانعت کو دوسروں کے ساتھ جنسی تعلق سے آگے استمنا بالید اور اِس نوعیت کے دوسرے افعال تک بھی وسیع کر دیا جائے۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ آیت میں ’عَلٰی‘ ’یُحَافِظُوْنَ‘ کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا، اِس لیے یہاں لازماً تضمین ہے اور ’حٰفِظُوْنَ‘ کے بعد ’عن الوقوع علٰی أحد‘ یا اِس کے ہم معنی الفاظ حذف کر دیے گئے ہیں۔ چنانچہ مستثنیٰ منہ استمنا کے طریقے نہیں، بلکہ افراد ہیں جن سے کوئی شخص جنسی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ آیت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بیویوں اور مملوکہ عورتوں سے مباشرت کے سوا قضاے شہوت کا کوئی طریقہ جائز نہیں ہے، بلکہ یہ ہیں کہ بیویوں اور مملوکہ عورتوں کے سوا کسی سے قضاے شہوت کرنا جائز نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      امانات اور عہود کی حفاظت: ’امانات‘ سے مراد وہ امانتیں بھی ہیں جو ہمارے رب نے قوتوں اور صلاحیتوں، فرائض اور ذمہ داریوں کی شکل میں یا انعامات و افضال اور اموال و اولاد کی صورت میں ہمارے حوالہ کی ہیں ۔۔۔ اور وہ امانتیں بھی اس میں داخل ہیں جو کسی نے ہمارے پاس محفوظ کی ہوں یا ازروئے حقوق ان کی ادائیگی کی ذمہ داری ہم پر عاید ہوتی ہو۔ اسی طرح عہد میں وہ تمام عہد و میثاق بھی داخل ہیں جو ہمارے رب نے ہماری فطرت سے عالم غیب میں لیے ہیں یا اپنے نبیوں کے واسطہ سے، اپنی شریعت کی شکل میں، اس دنیا میں، لیے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس وہ تمام عہد و میثاق بھی اس میں داخل ہیں جو ہم نے اپنی فطرت یا انبیاؑء کے واسطہ سے اپنے رب سے کیے ہیں یا کسی جماعت یا فرد سے اس دنیا میں کیے ہیں، خواہ وہ قولاً و تحریراً عمل میں آئے ہوں یا ہر شائستہ سوسائٹی میں بغیر کسی تحریر و اقرار کے، سمجھے اور مانے جاتے ہوں، فرمایا کہ ہمارے یہ بندے ان تمام امانات اور ان تمام عہود و مواثیق کا پاس و لحاظ رکھنے والے ہیں۔ نہ اپنے رب کے معاملہ میں خائن اور غدار ہیں نہ اس کے بندوں کے ساتھ بے وفائی اور عہد شکنی کرنے والے ہیں۔
      ان دو لفظوں کے اندر وہ تمام شرعی و اخلاقی، قانونی اور عرفی ذمہ داریاں آ گئیں جن کا احترام ہر شریعت میں مطلوب رہا ہے۔ یہاں یہ اوپر کی باتوں کے بعد ایک جامع بات کی حیثیت سے مذکور ہوئی ہے اور درحقیقت اسی اجمال کی تفصیل ہے جو پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے۔
      حکمت دین کا ایک نکتہ: یہاں حکمت دین کا یہ نکتہ نگاہ میں رہے کہ نماز ہی ان تمام امانات و عہود کی اصل محافظ ہے۔ نماز خود بھی، جیسا کہ تفسیر سورۂ بقرہ میں ہم واضح کر چکے ہیں، بندے کا اپنے رب کے ساتھ عہد و میثاق ہے جس کی تجدید ہر بندۂ مومن دن رات میں کم از کم پانچ مرتبہ کرتا رہتا ہے اور یہ ان تمام عہود و مواثیق اور امانات و فرائض کی یاددہانی بھی ہے جن کی ذمہ داری بندے پر عاید ہوتی ہے۔ ان مسائل پر ہم اس کتاب میں بھی موزوں مقامات میں بحث کر رہے ہیں اور خاص نماز کے اسرار و حقائق پر ’حقیقت نماز‘ کے عنوان سے ہم نے ایک رسالہ بھی لکھا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔

      جاوید احمد غامدی اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      دین کی تمام اخلاقیات کے لیے یہ نہایت جامع تعبیر ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’ ’اَمٰنٰت‘ سے مراد وہ تمام امانتیں بھی ہیں جو ہمارے رب نے قوتوں اور صلاحیتوں، فرائض اور ذمہ داریوں کی شکل میں یا انعامات و افضال اور اموال و اولاد کی صورت میں ہمارے حوالے کی ہیں ۔۔۔اور وہ امانتیں بھی اِس میں داخل ہیں جو کسی نے ہمارے پاس محفوظ کی ہوں یا ازروے حقوق اُن کی ادائیگی کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہو۔ اِسی طرح عہد میں وہ تمام عہد و میثاق بھی داخل ہیں جو ہمارے رب نے ہماری فطرت سے عالم غیب میں لیے ہیں یا اپنے نبیوں کے واسطے سے، اپنی شریعت کی شکل میں، اِس دنیا میں لیے ہیں۔ علیٰ ہٰذا القیاس وہ تمام عہد و میثاق بھی اِس میں داخل ہیں جو ہم نے اپنی فطرت یا انبیا علیہم السلام کے واسطے سے اپنے رب سے کیے ہیں یا کسی جماعت یافرد سے اِس دنیا میں کیے ہیں، خواہ وہ قولاً و تحریراً عمل میں آئے ہوں یا ہر شایستہ سوسائٹی میں بغیر کسی تحریر و اقرار کے سمجھے اور مانے جاتے ہوں۔ فرمایا کہ ہمارے یہ بندے اِن تمام امانات اور اِن تمام عہود و مواثیق کا پاس و لحاظ رکھنے والے ہیں۔ نہ اپنے رب کے معاملے میں خائن اور غدار ہیں، نہ اُس کے بندوں کے ساتھ بے وفائی اور عہد شکنی کرنے والے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۲۹۹)

    • امین احسن اصلاحی اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ نماز ہی سے اہل ایمان کی صفات کا ذکر شروع ہوا تھا اور اسی پر آ کر ختم ہوا۔ شروع میں نماز کا ذکر اس کی روح یعنی ’خشوع‘ کے پہلو سے ہوا اور آخر میں اس کی محافظت اس کے رکھ رکھاؤ اور اس کی دیکھ بھال کے پہلو سے ہوا، اس لیے کہ وہ برکات جو نماز کی بیان ہوئی ہیں اسی صورت میں پوری ہوتی ہیں جب ان کے اندر خشوع کی روح ہو اور اس کی برابر رکھوالی بھی ہوتی رہے۔ یہ باغ جنت کا پودا ہے جو پوری نگہداشت کے بغیر پروان نہیں چڑھتا۔ ذرا غفلت اور ناقدری ہو جائے تو یہ بے ثمر ہو کے رہ جاتا ہے، بلکہ اس کے بالکل ہی سوکھ جانے کا ڈر پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر اس کی حقیقی برکات سے بہرہ مند ہونے کی آرزو ہے تو شیاطین کی تاخت سے اس کو بچائیے اور وقت کی پوری پابندی کے ساتھ آنسوؤں سے ان کو سینچتے رہیے۔ تب کچھ اندازہ ہو گا کہ رب نے اس کے اندر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے!!
      یہ بات کہ نماز ہی تمام دین کی محافظ ہے قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے۔ ہم نے دوسرے مقام میں ان تمام مثالوں کا حوالہ دیا ہے۔ یہ دین کی اس حکمت کی طرف اشارہ ہے کہ نماز ہی سے تمام نیکیاں نشوونما بھی پاتی ہیں اور وہی اپنے حصار میں ان کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ اگر وہ نماز وجود میں نہ آئے تو دوسری نیکیاں بھی وجود میں نہیں آ سکتیں۔ اور اگر نماز ہدم کر دی جائے تو دین و اخلاق کا سارا چمن تاراج ہو کر رہ جائے گا۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ جس نے نماز ضائع کر دی تو وہ باقی دین کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کر دے گا۔

      جاوید احمد غامدی اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر نماز ہی سے اہل ایمان کی صفات کا ذکر شروع ہوا تھا اور یہ اُسی پر ختم ہوا ہے۔ اِس سے دین میں نماز کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ وہی درحقیقت اُن تمام مکارم اخلاق کی محافظ ہے جو دین میں مطلوب ہیں اور اِس لحاظ سے دین پر قائم رہنے کی ضمانت ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ شیطان کے حملے اُس کے بعد بھی جاری رہتے ہیں، لیکن نماز پر مداومت کے نتیجے میں اُس کے لیے مستقل طور پر انسان کے دل میں ڈیرے ڈال دینا ممکن نہیں ہوتا۔ نماز اُسے مسلسل دور بھگاتی اور ایک حصار کی طرح اُس کے حملوں سے انسان کے دل و دماغ کی حفاظت کرتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطرے کی حالت میں بھی تاکید کی گئی ہے کہ پیدل یا سواری پر، جس طرح ممکن ہو، اُسے لازماً ادا کیا جائے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے بعض دوسرے پہلوؤں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... شروع میں نماز کا ذکر اُس کی روح، یعنی ’خشوع‘ کے پہلو سے ہوا اور آخر میں اُس کی محافظت ،اُس کے رکھ رکھاؤ اور اُس کی دیکھ بھال کے پہلو سے ہوا، اِس لیے کہ وہ برکات جو نماز کی بیان ہوئی ہیں، اُسی صورت حال میں حاصل ہوتی ہیں، جب اُس کے اندر خشوع کی روح ہو اور اُس کی برابر رکھوالی بھی ہوتی رہے۔ یہ باغ جنت کا پودا ہے جو پوری نگہداشت کے بغیر پروان نہیں چڑھتا۔ ذرا غفلت اور ناقدری ہو جائے تو یہ بے ثمر ہو کے رہ جاتا ہے، بلکہ اِس کے بالکل ہی سوکھ جانے کا ڈر پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر اِس کی حقیقی برکات سے بہرہ مند ہونے کی آرزو ہے تو شیاطین کی تاخت سے اِس کو بچائیے اور وقت کی پوری پابندی کے ساتھ آنسوؤں سے اِس کو سینچتے رہیے۔ تب کچھ اندازہ ہو گا کہ رب نے اِس کے اندر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے!‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۲۹۹)

    • امین احسن اصلاحی یہی لوگ وارث ہونے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فردوس کی وراثت کے اصلی حق دار: فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جو اپنے باپ کی کھوئی ہوئی جنت کے وارث ہوں گے اور پھر ان کو اس سے نکالے جانے کا کوئی اندیشہ نہ ہو گا، جیسا کہ آدمؑ کو پیش آیا، بلکہ وہ اس میں اپنے باپ کے ساتھ ہمیشہ ہمیش رہیں اس لیے کہ وہ اس میں اپنے دشمن شیطان کو ہمیشہ کے لیے شکست دے کر داخل ہوں گے۔ فردوس جنت کے اعلیٰ ترین مقامات میں سے ہے اور یہ ان لوگوں کا حصہ ہے جو اس دنیا میں حق کی سربلندی کے لیے سر دھڑ کی بازیاں لگائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی وہی مالک ہونے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’الوٰرِثُوْنَ‘ استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں اِس کے استعمالات سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہا اِس میں تجرید ہو جاتی ہے اور یہ محض مالک ہو جانے کے مفہوم میں بھی آ جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں بھی یہی ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جو فردوس کے وارث ہوں گے۔ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فردوس کی وراثت کے اصلی حق دار: فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جو اپنے باپ کی کھوئی ہوئی جنت کے وارث ہوں گے اور پھر ان کو اس سے نکالے جانے کا کوئی اندیشہ نہ ہو گا، جیسا کہ آدمؑ کو پیش آیا، بلکہ وہ اس میں اپنے باپ کے ساتھ ہمیشہ ہمیش رہیں اس لیے کہ وہ اس میں اپنے دشمن شیطان کو ہمیشہ کے لیے شکست دے کر داخل ہوں گے۔ فردوس جنت کے اعلیٰ ترین مقامات میں سے ہے اور یہ ان لوگوں کا حصہ ہے جو اس دنیا میں حق کی سربلندی کے لیے سر دھڑ کی بازیاں لگائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی جو فردوس کے مالک ہوں گے۔ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ جنت کے لیے معروف ترین لفظ ہے اور قریب قریب تمام انسانی زبانوں میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔ قرآن میں یہ دو جگہ استعمال ہوا ہے،ایک یہاں اور ایک سورۂ کہف (۱۸) کی آیت ۱۰۷ میں۔ وہاں یہ جس طریقے سے استعمال ہوا ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت کے لیے علم ہو چکا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انسان کا اپنا وجود خدا اور آخرت کا شاہد ہے: انسان کی خلقت کے ان تدریجی مراحل کا بیان، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سورۂ حج میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں اس کی تمہید ’اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ‘ سے اٹھائی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مقصود اس کے بیان سے زندگی بعد الموت کا اثبات ہے۔ نیز وہاں اثنائے کلام میں ’لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ‘ کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں جو اس حقیقت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ انسان کی خلقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے تدریج و ترقی کا یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ ہرانسان کا اپنا وجود خدا کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی پروردگاری کا ایسا نشان ہو کہ آخرت کے باب میں اس کو کسی خارجی دلیل کی ضرورت باقی نہ رہے۔ سورۂ حج میں اس آیت کے الفاظ کی بھی تحقیق گزر چکی ہے اور اس کا مدعا بھی تفصیل سے بیان ہو چکا ہے۔ یہاں اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں تک انسان کی خلقت کا تعلق ہے یہ تمام مراحل بالکل معلوم و معروف ہیں۔ جدید سائنس نے اس کے بعض ایسے گوشے بھی بے نقاب کر دیے ہیں جن کی طرف قرآن نے صرف اشارہ کر کے چھوڑ دیا تھا کہ انسان کے علم میں جتنا ہی اضافہ ہوتا جائے گا اتنے ہی اس کے اسرار کھلتے جائیں گے۔ اس نوع کی بعض باتوں کی طرف ہم پیچھے اس کتاب میں اشارہ کر آئے ہیں۔ غرض یہ راز توسب کو معلوم ہے کہ مٹی کے جوہر سے وجود میں آنے والی پانی کی ایک بوند ہے جس کو قدرت پرورش کر کے درجہ بدرجہ اس طرح پروان چڑھاتی ہے کہ بالآخر وہ سقراط و بقراط اور ارسطو و جالینوس کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ آپ سے آپ ہو رہا ہے؟ کیا یہ ساری تدریج و تکمیل اور ساری تربیت و نگہداشت محض اندھے بہرے مادے کی کارفرمائی ہے؟ کیا یہ تمام قدرت و حکمت اور تمام ربوبیت و رافت بالکل بے مقصد و غایت ایک کھیل ہے جس کے پیچھے کوئی نتیجہ اور انجام نہیں ہے؟ کیا جو پانی کی ایک بوند کو، آدمی بنا سکتا ہے، وہ اس آدمی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا؟ یہی سوالات ہیں جن کے جواب میں نادانوں نے، اگرچہ وہ فلسفی اور سائنسدان کے معزز ناموں ہی سے موسوم ہوں، اختلاف کیا ہے۔ قرآن نے انہی سوالوں کے جواب کے لیے انسان کو خود اس کے وجود کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ان کے جواب کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے خود اپنے وجود کے مراحل پر غور کرو۔ ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔

      جاوید احمد غامدی (تمھارے منکرین اِس کو نہیں مانتے تو دیکھیں کہ) ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کو نہیں مانتے کہ لوگ مرنے کے بعد جی اٹھیں گے اور وہاں ایمان والوں کے لیے کوئی جنت بھی ہو گی۔
      یعنی ابتدا میں، جب انسان زمین کے پیٹ میں اُنھی مراحل سے گزر کر پیدا ہوا جن سے وہ اب ماں کے پیٹ میں گزرتا ہے۔ دوسری جگہ اشارہ ہے کہ مٹی کا یہ جوہر، جس کا ذکر یہاں ہوا ہے، پانی کی آمیزش سے وجود میں آیا جس سے وہ سڑے ہوئے گارے کی صورت اختیار کر گئی۔ پھر یہ گارا انڈے کے خول کی طرح اوپر سے خشک ہو گیا تاکہ نشوونما کے مختلف مراحل سے گزر کر جب انسان کا حیوانی وجود پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے تو یہ خول ٹوٹے اور نک سک سے درست پورا انسان اُسی طرح اُس سے باہر نکل آئے، جس طرح بعض جانوروں کے بچے اب بھی انڈوں سے نکلتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک محفوظ مستقر میں رکھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انسان کا اپنا وجود خدا اور آخرت کا شاہد ہے: انسان کی خلقت کے ان تدریجی مراحل کا بیان، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سورۂ حج میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں اس کی تمہید ’اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ‘ سے اٹھائی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مقصود اس کے بیان سے زندگی بعد الموت کا اثبات ہے۔ نیز وہاں اثنائے کلام میں ’لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ‘ کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں جو اس حقیقت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ انسان کی خلقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے تدریج و ترقی کا یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ ہرانسان کا اپنا وجود خدا کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی پروردگاری کا ایسا نشان ہو کہ آخرت کے باب میں اس کو کسی خارجی دلیل کی ضرورت باقی نہ رہے۔ سورۂ حج میں اس آیت کے الفاظ کی بھی تحقیق گزر چکی ہے اور اس کا مدعا بھی تفصیل سے بیان ہو چکا ہے۔ یہاں اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں تک انسان کی خلقت کا تعلق ہے یہ تمام مراحل بالکل معلوم و معروف ہیں۔ جدید سائنس نے اس کے بعض ایسے گوشے بھی بے نقاب کر دیے ہیں جن کی طرف قرآن نے صرف اشارہ کر کے چھوڑ دیا تھا کہ انسان کے علم میں جتنا ہی اضافہ ہوتا جائے گا اتنے ہی اس کے اسرار کھلتے جائیں گے۔ اس نوع کی بعض باتوں کی طرف ہم پیچھے اس کتاب میں اشارہ کر آئے ہیں۔ غرض یہ راز توسب کو معلوم ہے کہ مٹی کے جوہر سے وجود میں آنے والی پانی کی ایک بوند ہے جس کو قدرت پرورش کر کے درجہ بدرجہ اس طرح پروان چڑھاتی ہے کہ بالآخر وہ سقراط و بقراط اور ارسطو و جالینوس کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ آپ سے آپ ہو رہا ہے؟ کیا یہ ساری تدریج و تکمیل اور ساری تربیت و نگہداشت محض اندھے بہرے مادے کی کارفرمائی ہے؟ کیا یہ تمام قدرت و حکمت اور تمام ربوبیت و رافت بالکل بے مقصد و غایت ایک کھیل ہے جس کے پیچھے کوئی نتیجہ اور انجام نہیں ہے؟ کیا جو پانی کی ایک بوند کو، آدمی بنا سکتا ہے، وہ اس آدمی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا؟ یہی سوالات ہیں جن کے جواب میں نادانوں نے، اگرچہ وہ فلسفی اور سائنسدان کے معزز ناموں ہی سے موسوم ہوں، اختلاف کیا ہے۔ قرآن نے انہی سوالوں کے جواب کے لیے انسان کو خود اس کے وجود کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ان کے جواب کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے خود اپنے وجود کے مراحل پر غور کرو۔ ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔

      جاوید احمد غامدی پھر اُس کو (آگے کے لیے) ہم نے پانی کی( ایک ٹپکی ہوئی) بوند بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھ دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ دوسرے مرحلے کا ذکر ہے جس کے بعد انسان ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا شروع ہوئے اور اب تک ہو رہے ہیں۔ اِس کی جو تفصیل آگے بیان ہوئی ہے، وہ معلوم و معروف ہے۔ دور جدید کا انسان اپنے مشینی مشاہدات کی بدولت اِس کی جزئیات تک سے واقف ہو گیا ہے۔ قرآن کا اعجاز ہے کہ اُس نے صدیوں پہلے جو کچھ کہا تھا، وہ حیرت انگیز طور پر اُس کے مشاہدات کے عین مطابق ثابت ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پھر ہم نے پانی کی بوند کو ایک جنین کی شکل دی۔ پھر جنین کو گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا۔ پس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں۔ پھر ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنایا۔ پھر اس کو ایک بالکل ہی مختلف مخلوق کی شکل میں مشکّل کر دیا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انسان کا اپنا وجود خدا اور آخرت کا شاہد ہے: انسان کی خلقت کے ان تدریجی مراحل کا بیان، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سورۂ حج میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں اس کی تمہید ’اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ‘ سے اٹھائی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مقصود اس کے بیان سے زندگی بعد الموت کا اثبات ہے۔ نیز وہاں اثنائے کلام میں ’لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ‘ کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں جو اس حقیقت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ انسان کی خلقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے تدریج و ترقی کا یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ ہرانسان کا اپنا وجود خدا کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی پروردگاری کا ایسا نشان ہو کہ آخرت کے باب میں اس کو کسی خارجی دلیل کی ضرورت باقی نہ رہے۔ سورۂ حج میں اس آیت کے الفاظ کی بھی تحقیق گزر چکی ہے اور اس کا مدعا بھی تفصیل سے بیان ہو چکا ہے۔ یہاں اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں تک انسان کی خلقت کا تعلق ہے یہ تمام مراحل بالکل معلوم و معروف ہیں۔ جدید سائنس نے اس کے بعض ایسے گوشے بھی بے نقاب کر دیے ہیں جن کی طرف قرآن نے صرف اشارہ کر کے چھوڑ دیا تھا کہ انسان کے علم میں جتنا ہی اضافہ ہوتا جائے گا اتنے ہی اس کے اسرار کھلتے جائیں گے۔ اس نوع کی بعض باتوں کی طرف ہم پیچھے اس کتاب میں اشارہ کر آئے ہیں۔ غرض یہ راز توسب کو معلوم ہے کہ مٹی کے جوہر سے وجود میں آنے والی پانی کی ایک بوند ہے جس کو قدرت پرورش کر کے درجہ بدرجہ اس طرح پروان چڑھاتی ہے کہ بالآخر وہ سقراط و بقراط اور ارسطو و جالینوس کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ آپ سے آپ ہو رہا ہے؟ کیا یہ ساری تدریج و تکمیل اور ساری تربیت و نگہداشت محض اندھے بہرے مادے کی کارفرمائی ہے؟ کیا یہ تمام قدرت و حکمت اور تمام ربوبیت و رافت بالکل بے مقصد و غایت ایک کھیل ہے جس کے پیچھے کوئی نتیجہ اور انجام نہیں ہے؟ کیا جو پانی کی ایک بوند کو، آدمی بنا سکتا ہے، وہ اس آدمی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا؟ یہی سوالات ہیں جن کے جواب میں نادانوں نے، اگرچہ وہ فلسفی اور سائنسدان کے معزز ناموں ہی سے موسوم ہوں، اختلاف کیا ہے۔ قرآن نے انہی سوالوں کے جواب کے لیے انسان کو خود اس کے وجود کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ان کے جواب کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے خود اپنے وجود کے مراحل پر غور کرو۔ ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔
      ’ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ‘ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ کہاں پانی کی ایک بوند اور کہاں ایک بھلا چنگا، عاقل و بالغ انسان، دونوں میں کیا نسبت ہے! لیکن ہر انسان کے وجود میں قدرت کا یہ کرشمہ موجود ہے تو جس قدرت کا یہ کرشمہ ہر وجود میں مشاہدہ کرتے ہو اس سے یہ کیوں بعید سمجھتے ہو کہ وہ تمھیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرے! کیا وہ کام اس سے زیادہ مشکل ہے!
      ’فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ‘ یہ وہ تاثر اور نتیجہ بیان ہوا ہے جو انسان کی خلقت کے ان تمام مراحل پرغور کرنے والے کے سامنے آنا چاہیے کہ اللہ، جس نے ایک ایک وجود کے اندر اپنی یہ شانیں اور حکمتیں اور یہ عنایتیں اور برکتیں ظاہر فرمائی ہیں، بڑی ہی برکت اور بافیض ہستی ہے کہ اس نے ذلیل پانی کی ایک بوند کو رحم مادر کے صدف میں پرورش کر کے ایک گوہر آب دار بنا کر نکالا اور اس کے اندر ایسی اعلیٰ صلاحیتیں ودیعت فرمائیں کہ وہ فرشتوں کا مسجود اور زمین میں خدا کی خلافت کا اہل ٹھہرا۔ مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں پر غور کرنے سے آدمی کے اندر صرف خدا کا اقرار ہی نہیں پیدا ہوتا، بلکہ اس کے بے پایاں فیض وجود والی ہستی اور اس کے نہایت حکیم و قدیر اور نہایت اعلیٰ و برتر خالق ہونے کا یقین پیدا ہوتا ہے۔ یہاں عربی زبان کے اس اسلوب کو بھی یاد رکھیے کہ ’اَفْعَلُ‘ کا صیغہ بالخصوص جب کہ وہ جمع کی طرف مضاف ہو بسا اوقات تفضیل و ترجیح کے مفہوم سے مجرد ہو کر محض اعلیٰ مرتبہ صفت کے اظہار کے لیے آتا ہے۔ اس وجہ سے ’اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ‘ کے معنی ہوں گے کہ وہ صرف خالق ہی نہیں، بلکہ بہترین خالق ہے۔ اس نے انسان کو جیسا تیسا پیدا ہی نہیں کر دیا ہے، بلکہ بہترین ساخت اور بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس اسلوب سے ناواقفیت کے باعث لفظ ’خالق‘ کا مفہوم بدل دیا ہے حالانکہ اس قسم کے کسی تصرف کی ضرورت نہیں ہے۔ مقصود یہاں یہ ظاہر کرنا ہے کہ انسان کی خلقت خود اس بات کی شاہد ہے کہ وہ کسی اندھے بہرے مادے، یا کسی محرک اول یہ علۃ العلل کی ایجاد نہیں ہے اور نہ اس کا ارتقاء آپ سے آپ ہوا یا ہو رہا ہے بلکہ وہ سراپا خیر و برکت ہستی خدائے جَواد و کریم کا پیدا کیا ہوا ہے جو بہترین خالق ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر پانی کی اُس بوند کو ہم نے ایک جنین کی صورت دی اور جنین کو گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا اور لوتھڑے کی ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا۔ پھر ہم نے اُس کو ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ سو بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس کے حیوانی وجود کی تکمیل کے بعد اُس میں روح پھونکی اور اُسے چیزے دیگر بنا دیا جسے اب انسان کی حیثیت سے دیکھتے ہو۔
      یہ اُس تاثر کا بیان ہے جو انسان کی خلقت کے اِن تمام مراحل پر غور کرنے والوں کی زبان پر لازماً آنا چاہے۔ آیت میں ’أفعل‘ کا صیغہ جمع کی طرف مضاف ہے، لہٰذا تفضیل و ترجیح سے مجرد ہو کر محض کمال صفت کو بیان کرنے کے لیے آ گیا ہے۔ ’أفعل‘ کا یہ استعمال عربی زبان میں معروف ہے۔ اِس میں قرآن کے کسی طالب علم کو کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔

    • امین احسن اصلاحی پھر تم ان سب کے بعد لازماً مرنے والے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ وہ اصل نتیجہ ہے جس کو سامنے لانے ہی کے لیے اوپر کے تمام مراحل خلقت بیان ہوئے ہیں کہ ان مراحل سے گزرنے کے بعد لازماً ایک دن آتا ہے کہ تم مرتے ہو اور کسی کے لیے بھی اس موت سے مفر نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اِس کے بعد تم کو لازماً مرنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پھر قیامت کا دن آئے گا اور اس دن تم لازماً اٹھائے جاؤ گے۔ اس اٹھائے جانے کو مستبعد سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ جس خدا کی یہ شانیں تم خود اپنے وجود کے اندر مشاہدہ کرتے ہو اس کے لیے تمہیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے!

      جاوید احمد غامدی (یہ سب گواہی دیتا ہے کہ) اِس کے بعد قیامت کے دن تم لازماً اٹھائے بھی جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ وہ اصل مدعا ہے جس کے لیے مخاطبین کو اُن کی پیدایش کے اِن تمام مراحل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ آپ سے آپ ہو رہا ہے؟ کیا یہ ساری تدریج و تکمیل اور ساری تربیت و نگہداشت محض اندھے بہرے مادے کی کارفرمائی ہے؟ کیا یہ تمام قدرت و حکمت اور تمام ربوبیت و رأ فت بالکل بے مقصد و غایت ایک کھیل ہے جس کے پیچھے کوئی نتیجہ اور انجام نہیں ہے؟ کیا جو پانی کی ایک بوند کو آدمی بنا سکتا ہے، وہ اُس آدمی کو مرنے کے بعد زندہ نہیں کر سکتا؟ یہی سوالات ہیں جن کے جواب میں نادانوں نے، اگرچہ وہ فلسفی اور سائنس دان کے معزز ناموں ہی سے موسوم ہوں، اختلاف کیا ہے۔ قرآن نے اِنھی سوالوں کے جواب کے لیے انسان کو خود اُس کے وجود کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اِن کے جواب کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، خود اپنے وجود کے مراحل پر غور کرو، ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۳۰۴)

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے تمہارے اوپر سات تہہ بہ تہہ آسمان بنائے۔ اور ہم مخلوق سے بے پروا نہیں ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’طَرَآئِقُ‘ کا مفہوم: ’طَرَآئِقُ‘ ’طَرِیقۃٌ‘ کی جمع ہے۔ ’طرایق‘ ’اسرّۃ‘ یعنی دھاریوں کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں صفت بول کر موصوف کو مراد لیا ہے جو عربی زبان میں معروف ہے۔ یعنی دھاریوں والے سات آسمان۔ یہاں اس لفظ سے آسمان کی رنگا رنگی و بو قلمونی کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے اور اس بارش کی طرف بھی جس کا ذکر آگے نہایت اہتمام سے آ رہا ہے۔
      ’کُنَّا‘ یہاں بیان شان کے لیے ہے جس طرح ’کَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا‘ میں ہے۔ یعنی ہم اپنی مخلوق کو پیدا کر کے اس سے غافل نہیں ہو بیٹھے، بلکہ برابر نہایت اہتمام کے ساتھ اس کی پرورش اور دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
      اہتمام ربوبیت کیوں ہے؟ اوپر کی آیات میں انسان کی خلقت کا بیان ہوا اور مقصود امکان معاد کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اب یہ ربوبیت کے اہتمام و انتظام کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ خدا اس دنیا کو پیدا کر کے اس کے خیر و شر سے بے تعلق ہو کر نہیں بیٹھا ہے، بلکہ وہ برابر اس کی پرورش و پرداخت فرما رہا ہے۔ اس نے رنگا رنگ سات آسمان بنائے اور وہ آسمان سے پانی برساتا اور اپنی مخلوق کی پرورش کا برابر سامان کر رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور (یہی نہیں)، ہم نے تمھارے اوپر تہ بہ تہ سات آسمان بنائے ہیں اور ہم اپنی مخلوقات سے غافل نہیں ہوئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’سَبْعَ طَرَآئِقَ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ ’طَرَآئِق‘ ’طَرِیْقَۃ‘ کی جمع ہے۔ یہ طبقے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ قرآن نے یہاں صفت بول کر موصوف مراد لیا ہے۔ چنانچہ اِس کا مفہوم وہی ہے جو دوسری جگہ ’سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا‘ کے الفاظ سے ادا فرمایا ہے۔
      یعنی اُس کو پیدا کرکے بھول نہیں گئے، بلکہ برابر اُس کی پرورش اور نگہداشت کا اہتمام کر رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا ایک اندازہ کے ساتھ۔ پس اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کو واپس لے لینے پر قادر ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پانی ہی سے تمام زمین کی زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل فرماتا ہے اور یہ اس کی رحمت و ربوبیت ہی ہے کہ وہ اس کو ایک خاص اندازہ اور مقدار کے ساتھ اتارتا ہے ورنہ اگر وہ اس کے دہانے ایک مرتبہ کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے پر قادر نہیں اور یہی پانی رحمت و برکت ہونے کے بجائے طوفان نوح کی طرح عذاب و نقمت بن جائے۔ پھر یہ اس کی رحمت و ربوبیت ہی ہے کہ وہ اس پانی کو زمین میں ٹکا دیتا ہے، جو ایک ذخیرے اور محفوظ خزانے کی طرح تمام مخلوقات کے کام آتا ہے۔ اگر خدا چاہتا تو وہ اس سارے پانی کو غائب کر دیتا، اس کی ایک بوند بھی اس زمین میں نہ ٹک سکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہی ارادہ ہے جو آسمانوں اور زمین دونوں میں کارفرما ہے۔ اگر ان میں الگ الگ ارادے کارفرما ہوتے تو آسمان کے کارفرماؤں کو کیا پڑی تھی کہ وہ زمین والوں کے لیے ان کی ضرورت کے مطابق ناپ تول کر پانی برساتے اور اس کی بھی فکر رکھتے کہ پانی کا ذخیرہ زمین میں ضرورت کے اوقات کے لیے محفوظ بھی رہے۔ پھر یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جس ذات واحد کے ارادے سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ نہایت مہربان و کریم ہستی ہے جو نہایت اہتمام کے ساتھ اس دنیا کی پرورش کر رہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی برسایا، پھر اُس کو زمین میں ٹھیرا دیا اور ہم (اگر چاہتے تو) اُس کو واپس بھی لے جا سکتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس پانی کا ذکر ہے جس کو اللہ تعالیٰ سمندروں سے اٹھا کر فضا میں لے جاتے اور پھر بارش کی صورت میں برسا دیتے ہیں۔ یہ ہمیشہ ایک خاص اندازے اور مقدار کے ساتھ برسایا جاتا ہے، الاّ یہ کہ خود اِس کا برسانے والا ہی اِس کو لوگوں کے لیے تنبیہ و تہدید یا عذاب بنا کر اِس کے دہانے کسی وقت کھول دے۔
      اِس لیے کہ ذخیرہ ہو کر وہ تمام مخلوقات کے کام آتا رہے۔ یہ خدا ہی کی عنایت ہے، ورنہ اِس کی ایک بوند بھی زمین پر نہ ٹک سکتی۔

    • امین احسن اصلاحی پس ہم نے اس سے تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے۔ تمہارے لیے ان میں بہت سے میوے ہیں جن سے تم لذت اندوز بھی ہوتے ہو اور اپنی غذا کا سامان بھی کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’تَاْکُلُوْنَ‘ کا قرینہ دلیل ہے کہ ’فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌ‘ کے بعد ’تَتَفَکَّھُوْنَ‘ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف مانا جائے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
      یعنی اسی پانی سے اللہ نے تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے جن میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے پھل پیدا ہوتے ہیں جن سے تم لذت اندوز ہوتے اور انہی باغوں سے تم اپنے لیے غذائی اجناس بھی حاصل کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے صرف زندہ رہنے کا سامان ہی نہیں پیدا کیا، بلکہ تمہارے کام و دہن کی ضیافت کا سامان بھی مہیا فرمایا۔ جینے کو تو انسان صرف روٹی سے بھی جی سکتا ہے، لیکن رب کریم نے تمہارے آگے قسم قسم کے میوے اور پھل چن دیے۔ اہل عرب کے ہاں ایک اچھے باغ کا تصور، جیسا کہ سورۂ کہف کی آیت ۳۲ میں مذکور ہے، یہ ہے کہ انگوروں کا باغ ہو، اس کے کنارے کنارے کھجوروں کی باڑھ ہو اور بیچ بیچ میں مختلف اجناس اور دوسرے موسمی پھلوں کے قطعات ہوں۔ ان کے ہاں اصل پھل کی حیثیت تو کھجور اور انگور ہی کو حاصل تھی، لیکن دوسرے پھل اور بعض غذائی اجناس بھی پیدا ہوتیں۔ انہی کی طرف ’فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌ‘ اور ’مِنْھَا تَاْکُلُوْنَ‘ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی پھر اِسی سے ہم نے تمھارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے ہیں۔ اِن میں تمھارے لیے بہت سے میوے ہیں (جن سے تم لذت اندوز ہوتے ہو) اور اِنھی سے اپنی غذا کا سامان بھی کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں یہ الفاظ تقابل کے اسلوب پر حذف کر دیے گئے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ درخت بھی اگایا جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ روغن اور کھانے والوں کے لیے سالن کے ساتھ اگتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’شَجَرَۃً‘ سے مراد زیتون کے درخت ہیں۔ اگرچہ اس کا نام نہیں لیا ہے لیکن جو صفات اس کی بیان فرمائی ہیں وہ خود پتہ دے رہی ہیں کہ اس سے مراد زیتون ہی ہے۔ طور سینا اس کی پیداوار کا خاص علاقہ تھا۔ اس کا روغن اہل عرب میں بہت مقبول تھا اور اہل کتاب کے ہاں تو اس کو صرف غذائی روغن ہی کا نہیں بلکہ ایک قسم کے مذہبی تقدس کا بھی درجہ حاصل تھا۔ ’صِبْغٌ‘ کے معنی سالن کے ہیں۔ یہ مکھن کی طرح ایک لذیذ اور مقوی سالن بھی تھا۔ یہاں اس کی تنکیر اس کی خوبی پر دلیل ہے۔ یعنی ’صِبْغٌ طَیِّبٌ لِّلْاٰکِلِیْنَ‘ کھانے والوں کے لیے ایک اچھا سالن۔ یہ اس کے دوسرے فوائد کے ساتھ اس کی ایک مزید خوبی کا بیان ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِسی طرح) وہ درخت بھی اگایا ہے جو طور سینا سے نکلتا ہے۔ وہ روغن لیے ہوئے اگتا ہے اور (روغن کی صورت میں) کھانے والوں کے لیے ایک اچھا سالن بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی زیتون، طور سینا جس کی پیداوار کا خاص علاقہ تھا۔
      اصل میں لفظ ’صِبْغ‘ آیا ہے۔ اِس کی تنکیر اِس کی خوبی پر دلالت کر رہی ہے۔ یعنی ’صبغ طیب للاٰکلین‘۔ اہل عرب میں یہ روغن بہت مقبول تھا اور وہ مکھن کی طرح اِسے ایک لذیذ اور مقوی سالن کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے۔اہل کتاب کے بارے میں معلوم ہے کہ اُن کے ہاں اِس کو ایک قسم کے مذہبی تقدس کا درجہ بھی حاصل تھا۔

    Join our Mailing List