Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 78 آیات ) Al-Hajj Al-Hajj
Go
  • الحج (The Pilgrimage, The Hajj)

    78 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور زمانۂ نزول

    یہ سورہ مکی دور کی ان آخری سورتوں میں سے ہے جب مسلمانوں نے قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر، دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت شروع کر دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ہجرت کا وقت بالکل قریب آ چکا تھا۔ اس دور میں قریش کے لیے آخری انذار و تنبیہ کے ساتھ یہ سورہ نازل ہوئی۔ اس میں ان کو خدا کے غضب سے ڈرایا گیا، توحید اور قیامت کی قطعیت نہایت مؤثر دلائل کے ساتھ واضح کی گئی اور حضرت ابراہیمؑ کی دعوت اور بیت اللہ کے مقصد تعمیر کی روشنی میں ان پر یہ حقیقت واضح کی گئی کہ اس گھر کی تولیت کے اصل حق دار مشرکین نہیں بلکہ وہ مسلمان ہیں جن کو انھوں نے اس سے محروم کر رکھا ہے اور ان کو یہاں سے نکالنے کے لیے ان پر ہر قسم کے ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں۔ فتح مکہ کی طرف اشارہ تو پچھلی سورہ کی آیت ۴۴ میں بھی گزر چکا ہے، اس سورہ میں اس اشارے نے بالکل قطعی فیصلہ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس میں قریش کو غدار اور غاصب قرار دے کر ان کو اس گھر سے بے دخل کیے جانے کی دھمکی اور مسلمانوں کو بشارت دی گئی کہ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے گا اور قریش کو اس سے بے دخل کر کے ان کو اس کا امین و متولی بنائے گا۔
    یہ سورہ مکی ہے: یہ سورہ اپنے مزاج و مطالب کے اعتبار سے مکی ہے۔ اس کی صرف چار آیات (۳۸-۴۱) ہجرت کے بعد کی ہیں جس میں مسلمانوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ اگر وہ حج کے لیے جائیں اور کفار قریش ان کو بزور روکنے کی کوشش کریں تو ان کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مدافعت میں تلوار اٹھائیں۔ اللہ ان کی مدد فرمائے گا۔ یہ بات چونکہ اوپر والی بات ہی کی وضاحت کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے مصحف کی ترتیب میں ان آیات کو یہاں جگہ ملی تاکہ اس اجازت کی حکمت واضح ہو جائے کہ مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کا یہ حق اس لیے حاصل ہے کہ قریش کا خانہ کعبہ پر تسلط بالکل غاصبانہ ہے۔ اس کی تولیت کے اصلی حق دار مسلمان ہیں نہ کہ قریش۔
    انہی چند آیات کی بنا پر ہمارے مفسرین نے، اس سورہ کے مکی یا مدنی ہونے کے باب میں، اختلاف کیا ہے۔ لیکن کسی مکی سورہ میں چند مدنی آیتیں داخل ہو جانے سے، جب کہ ان آیات کی نوعیت بھی محض توضیحی آیات کی ہو، پوری سورہ کو مدنی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بعض مدنی آیات سورۂ مزمل میں بھی ہیں حالانکہ وہ بالاتفاق مکی ہے۔ ہم آگے ان آیات کی تفسیر میں واضح کریں گے کہ ان کی حیثیت اجمال کے بعد تصریح کی ہے۔ ایک بات جو مکی زندگی کے آخری دور میں فرمائی گئی تھی جب مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں اس کی تفصیل نازل ہوئی تو اجمال اور تفصیل دونوں کو ایک ساتھ رکھ دیا گیا۔ صاحب کشاف نے بھی اس سورہ کو، باستثنائے چند آیات، مکی ہی قرار دیا ہے۔

  • الحج (The Pilgrimage, The Hajj)

    78 آیات | مدنی

    الحج - المؤمنون

    ۲۲ - ۲۳

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے۔ پہلی سورہ میں قریش مکہ کو، بالخصوص حرم کی تولیت کے حوالے سے آخری انذار و تنبیہ اور دوسری میں اُن کے لیے اُسی انذار و تنبیہ کے نتائج کی وضاحت ہے جس میں ایمان والوں کی کامیابی کا مضمون بہت نمایاں ہو گیا ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

    سورۂ حج کی چند آیات، البتہ مدنی ہیں جو اُس اقدام کی وضاحت کے لیے سورہ کا حصہ بنا دی گئی ہیں جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد خدا کا فیصلہ قریش مکہ کے لیے ظاہر ہو جائے گا۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اے لوگو! اپنے خداوند سے ڈرو بے شک قیامت کی ہلچل بڑی ہی ہولناک چیز ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ‘ کا خطاب اگرچہ عام ہے لیکن مراد اس سے وہی متمردین قریش ہیں جو قیامت کی تکذیب کر رہے تھے اور عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے۔ فرمایا کہ اپنے رب سے ڈرو، اس نے اپنی عنایت سے جو مہلت دے رکھی ہے اس کو غنیمت جانو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ وہ اپنی زحمت و رافت کے سبب سے دیرگیر ضرور ہے لیکن بڑا ہی سخت گیر بھی ہے۔ قیامت کو سہل چیز نہ سمجھو کہ اس ڈھٹائی کے ساتھ اس کا مطالبہ کر رہے ہو۔ اس کی ہلچل بڑی ہی ہولناک ہو گی۔ وہ پناہ مانگنے کی چیز ہے، مطالبہ کرنے کی چیز نہیں ہے!

      جاوید احمد غامدی لوگو، اپنے پروردگار سے ڈرو۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا بھونچال بڑی ہی ہول ناک چیز ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ لفظ اگرچہ عام ہے، لیکن اِس سے مراد وہی متمردین قریش ہیں جو قیامت کو جھٹلاتے اور عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے۔
      یعنی اُس کے مقابلے میں سرکشی اختیار نہ کرو، اِس لیے کہ اُس کا عذاب پناہ مانگنے کی چیز ہے، وہ مطالبہ کرنے کی چیز نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جس دن تم اسے دیکھو گے اس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہے ہی بڑی ہولناک چیز! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کی ہولناکی کی تصویر: یہ اس دن کی ہولناکی کی تصویر ہے کہ وہ دن ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کسی کے اعوان و انصار اور اس کے اخوان و اقرباء اس کے ذرا کام نہ آئیں گے۔ اس دن مرضعہ، جس کو اپنا بچہ جان سے زیادہ عزیز ہوتا ہے، اپنے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ دہشت کے سبب سے اپنا حمل ڈال دے گی۔ لوگوں کا حال یہ ہو گا کہ بالکل مدہوش اور متوالے ہو رہے ہوں گے۔ لیکن یہ مدہوشی شراب کے نشہ کی نہیں ہو گی بلکہ عذاب الٰہی کی ہولناکی سب کو پاگل بنا کے رکھ دے گی!
      آیت میں ایک ہی ساتھ مخاطب کے لیے جمع اور واحد دونوں کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ جمع کے لیے جب واحد کا صیغہ استعمال ہوتا ہے تو مخاطب گروہ کا ایک ایک شخص فرداً فرداً مراد ہوتا ہے اور اس میں جمع کے بالمقابل زیادہ زور ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی تم جس دن اُس کو دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی، اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے، حالاں کہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں مخاطبین کے لیے ایک جگہ جمع اور دوسری جگہ واحد کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ ہم دوسری جگہ وضاحت کر چکے ہیں کہ جمع کے لیے واحد کا صیغہ استعمال کیا جائے تو اُس میں مخاطبین کا ایک ایک شخص فرداً فرداً مراد ہوتا ہے اور کلام میں جمع کے بالمقابل زیادہ زور پیدا ہو جاتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے خدا کی توحید کے باب میں کٹ حجتی کرتے اور ہر سرکش شیطان خبیث کی پیروی کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک خاص اسلوب بیان: ’وَمِنَ النَّاسِ مَنْ‘ کے اسلوب بیان میں جب کوئی بات کہی جاتی ہے تو اس سے مقصود عام میں سے خاص کا ذکر ہوتا ہے۔ اگر موقع و محل تحسین کا ہو تو یہ اسلوب تحسین کے لیے بھی آتا ہے اور اگر موقع و محل تقبیح کا ہو، جیسا کہ یہاں ہے، تو اس سے تقبیح کی شدت نمایاں ہو گی۔ اگر اس اسلوب کو اپنی زبان میں ادا کرنا چاہیں گے تو کہیں گے کہ لوگوں میں ایسے جاہل، احمق اور بدھو بھی ہیں جو یوں کہتے یا یوں کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر اس گروہ کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت، خاص طور پر توحید کی مخالفت میں، ہر وقت مناظرہ و مجادلہ کے لیے آستینیں چڑھائے رہتا تھا۔ اس طرح کے لوگ کسی معاشرہ میں بھی تعداد میں بہت زیادہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا ایک خاص طائفہ ہی ہوتا ہے۔ ان کا علم بھی بس سنی سنائی اور رٹی رٹائی باتوں پر مبنی ہوتا ہے لیکن زبان درازی میں طاق اور لاف زنی میں مشاق ہوتے ہیں اس وجہ سے شاطر لوگوں کے ایجنٹ بن کر بے چارے سادہ لوح عوانم کو گمراہ کرنے کی خدمت خوب انجام دیتے ہیں۔
      مجادلہ بغیر علم کے: ’یُجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ‘۔ ’فِی اللّٰہِ‘ سے مراد فی توحید اللہ ہے اس لیے کہ کفار عرب خدا کے منکر نہیں تھے۔ وہ صرف خدا کی توحید کے منکر تھے اور توحید کے انکار کے لیے ان کے پاس دین آباء کی اندھی تقلید کے سوا کوئی دلیل نہیں تھی۔ آگے آیت ۸ میں وضاحت آئے گی کہ ان کے پاس اللہ کے دین کا کوئی علم تھا، نہ عقل و فطرت کی کوئی ہدایت، نہ کوئی قرآن و کتاب، بس یونہی، بغیر کسی دلیل اور علم کے، خدا کی توحید کے بارے میں مناظرہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ پیشہ ور مناظروں کے پاس زبان درازی کے سوا اور کوئی علم نہیں ہوتا، یہ صرف اپنے ضال و مضل لیڈروں سے الہام حاصل کرتے ہیں اور گلی گلی میں ان کا ڈھول پیٹتے پھرتے ہیں۔
      شیطان سے مراد شیاطین جن و انس، دونوں ہیں: ’وَ یَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ‘۔ ’شیطان‘ سے مراد شیاطین جن و انس دونوں ہیں۔ لفظ ’کل‘ اس مفہوم کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ شیاطین جن اور شیاطین انس دونوں میں بڑا گہرا گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ شیاطین جن، شیاطین انس ہی کو اپنی فتنہ انگیزیوں کا ذریعہ بناتے ہیں۔ شیاطین جن القا کرتے ہیں اور شیاطین انس ان کے القا کو مختلف ناموں سے ایک فلسفہ بناتے اور پھر اولاد آدمؑ کو گمراہ کرنے کے لیے اس کو تمام ذرائع سے پھیلاتے ہیں۔ قرآن نے اس طرح کے تمام ائمۂ ضلالت کے لیے شیطان ہی کا لفظ استعمال کیا ہے۔
      ’مَرِیْدٌ‘ کے معنی: ’مَرِیْدٌ‘ کے معنی شریر و خبیث اور متعری عن الخیر یعنی لا خیرے کے ہیں۔
      ’شَیٰطِیْنُ‘ خواہ شیاطین جن ہوں یا شیاطین انس، ظاہر تو ہوتے ہیں ہمیشہ خیر خواہ، ناصح، ہمدرد اور بہی خواہ قوم و وطن کے بھیس میں لیکن درحقیقت وہ نہایت ہی خبیث و شریر اور بالکل لا خیرے ہوتے ہیں۔ وہ خدا کے بندوں کو خدا کی راہ سے ہٹا کر اپنی ڈگر پر ڈال دیتے ہیں اور جو لوگ ان کے نقیب و چاؤش بن کر ان کے فتنوں کے پھیلانے میں ان کے آلۂ کار بن جاتے ہیں ان کو اپنے سمیت جہنم کا فرزند بنا دیتے ہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ خدا کی توحید کے بارے میں ہمارے پیغمبر سے مباحثے اور مناظرے کر رہے ہیں وہ ایسے ہی خبیث اور لا خیرے شیطانوں کے پیرو ہیں۔
      قیامت کے ذکر کے ساتھ توحید کے ذکر کی حکمت: قیامت کے ذکر کے ساتھ یہ معاً توحید کا ذکر اس لیے ہے کہ درحقیقت قیامت کی ساری اہمیت توحید کے ساتھ ہی ہے۔ اگر خدا کے ساتھ اس کے شرکاء و شفعاء کا وجود تسلیم کر لیا جائے تو قیامت کی ساری اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی روز عدالت ہے تو اس سے کیا اندیشہ ہو سکتا ہے اگر ایسے شرکاء و شفعاء موجود ہیں جواپنے زور و اثر یا سعی و سفارش سے اپنے نام لیواؤں کو خدا کی پکڑ سے بچا سکتے ہیں! اسی وجہ سے قرآن میں قیامت اور رد شرک دونوں مضمون ہمیشہ ساتھ ساتھ بیان ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح کر دی جائے کہ خدا کی پکڑ سے کوئی بھی کسی کو بچانے والا نہیں بن سکے گا۔ سب کا معاملہ اسی کے حضور میں پیش ہو گا اور وہی تنہا ہر ایک کا فیصلہ فرمائے گا۔

      جاوید احمد غامدی اِدھر لوگوں (کا حال یہ ہے کہ اُن) میں ایسے (احمق) بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے خدا کے بارے میں جھگڑتے اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ’وَمِنَ النَّاسِ مَنْ‘ کا یہ اسلوب تحسین اور تقبیح، دونوں کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہ تقبیح کے لیے ہے۔ لفظ ’احمق‘ کے اضافے سے ہم نے اِسی کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
      یعنی عقل و فطرت، علم و استدلال اور کتاب الٰہی کی کسی شہادت کے بغیر ہی مناظرے اور مجادلے کے لیے آستینیں چڑھا لیتے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اِس طرح کے لوگ کسی معاشرے میں بھی تعداد میں بہت زیادہ نہیں ہوتے، بلکہ اِن کا ایک خاص طائفہ ہی ہوتا ہے۔ اِن کا علم بھی بس سنی سنائی اور رٹی رٹائی باتوں پر مبنی ہوتاہے۔ لیکن زبان درازی میں طاق اور لاف زنی میں مشاق ہوتے ہیں، اِس وجہ سے شاطر لوگوں کے ایجنٹ بن کر بے چارے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کی خدمت خوب انجام دیتے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۲۰۸)

      یہ اُس جھگڑے کا ذکر ہے جو وہ خدا کی توحید اور اُس کے حضور میں جواب دہی کے متعلق پیدا کیے ہوئے تھے۔ چنانچہ کسی طرح باور کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ قیامت برپا ہو گی اور بالفرض ہو گی تو اُنھیں تنہا خدا سے معاملہ پڑے گا اور اُن کے شرکا و شفعا وہاں اُن کے کام نہ آئیں گے۔
      یعنی خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

    • امین احسن اصلاحی جس کی یہ ڈیوٹی ہی مقرر ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا وہ اس کو گمراہ کر کے رہے گا اور اس کی رہنمائی وہ عذاب دوزخ کی طرف کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شیطان کی ڈیوٹی: قرآن میں جگہ جگہ یہ بات تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ شیطان نے قیامت تک کے لیے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مہلت لی ہے اور اللہ نے اس کو یہ مہلت دی ہے کہ جا، جو تجھے اپنا دوست، مددگار اور رہنما بنائیں ان کو گمراہ کر لے، میں ان کو اور تجھ کو سب کو جہنم میں جھونک دوں گا۔ اسی حقیقت کو یہاں ’کُتِبَ عَلَیْہِ‘ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی یہ شیطان کی خدا کی طرف سے ایک مقررہ ڈیوٹی ہے کہ جو اس کو دوست بنائیں ان کو وہ گمراہ اور جہنم کی طرف ان کی رہنمائی کرے۔ ’فَاَنَّہٗ‘ کا عطف ’اَنَّہٗ‘ پر ہے اور ’مَنْ تَوَلَّاہُ‘ بطور بیان شرط کے ہے یعنی شیطان کا یہ فریضہ کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے اور ان کو جہنم کی راہ دکھائے بایں شرط مشروط ہے کہ جو لوگ اس کو اپنا ولی و کارساز بنائیں گے صرف وہی اس کے دام میں شکار ہوں گے۔ خدا کے ان بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلے گا جو اس کو اپنا دشمن سمجھیں گے اور ہمیشہ اس کے فتنوں سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے یہ کہا جائے کہ زہر کا تو کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ہلاک کرے، احمق ہیں وہ جو اس کو تریاق سمجھیں اور نگل لیں۔ شیطان کو خدا نے جو مہلت دی ہے وہ لوگوں کے امتحان کے لیے دی ہے اس کو لیڈر بنانے اور اس سے الہام حاصل کرنے یا اس کی پیروی کے لیے نہیں دی ہے۔

      جاوید احمد غامدی جس کی نسبت لکھ دیا گیا ہے کہ جو اُس کو دوست بنائے گا تو اُس کو وہ گمراہ کرکے رہے گا اور اُس کو دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھا دے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس مہلت کی طرف اشارہ ہے جو خدا نے شیطان کو دے رکھی ہے اور اِس طرح گویا اُس کے لیے طے کر دیا ہے کہ قیامت تک وہ یہی خدمت انجام دیتا رہے۔

    • امین احسن اصلاحی اے لوگو! اگر تم دوبارہ جی اٹھنے کے باب میں شبہ میں ہو تو دیکھو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر منی کے ایک قطرے سے، پھر ایک جنین سے، پھر ایک لوتھڑے سے، کوئی کامل ہوتا ہے اور کوئی ناقص۔ ایسا ہم نے اس لیے کیا تاکہ تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح واضح کر دیں اور ہم رحموں میں ٹھہرا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مدت معین کے لیے۔ پھر ہم تم کو ایک بچہ کی شکل میں برآمد کرتے ہیں، پھر ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔ اور تم میں سے بعض پہلے ہی مر جاتے ہیں اور بعض بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچتے ہیں تاآنکہ وہ کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جانتے۔ اور تم زمین کو بالکل خشک دیکھتے ہو تو جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہریں لینے لگتی اور اُپجتی ہے اور طرح طرح کی خوش نما چیزیں اُگاتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کا مشاہدہ اپنے اندر اور باہر: ’فِی رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ‘ قیامت کے باب میں مشرکین عرب کی روش صریح انکار کی نہیں بلکہ شک اور تردد ہی کی تھی۔ وہ اس کو ایک بہت ہی بعید چیز خیال کرتے تھے اور اس استبعاد کی بڑی وجہ ان کے نزدیک یہ تھی کہ مر کھپ جانے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا ان کے خیال میں بہت بعید از قیاس بات تھی۔ اپنے اس واہمہ کے سبب سے اول تو قیامت کو وہ کوئی اہمیت دیتے ہی نہیں تھے اور اگر ایک مفروضہ کے درجہ میں اس کو مانتے بھی تھے تو ان کو اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر یہ اعتماد تھا کہ وہ اپنی سفارش سے ان کو خدا کی بازپرس سے بچا لیں گے۔ قرآن نے قیامت کا جب اس شد و مد سے ذکر کیا کہ وہی اس زندگی اور اس کائنات کی اصل غائت قرار پا گئی اور ساتھ ہی ان کے تمام شرکاء و شفعاء کو بھی بے حقیقت ثابت کر دیا تو یہ چیز ان پر بہت شاق گزری۔ انھیں محسوس ہوا کہ ان کی ساری عمارت بالکل ریت پر ہے۔ اس کو بچانے کے لیے ان کے پاس واحد حربہ صرف یہ رہ گیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زچ کرنے کے لیے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر قیامت ایسی ہی یقینی چیز ہے تو وہ اس کو دکھا دیں یا اس کی کوئی ایسی محسوس نشانی ’بشکل عذاب‘ دکھائی جس کے بعد وقوع قیامت میں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ قرآن نے ان کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر ان کو خود ان کے اپنے وجود اور اس دنیا میں روزمرہ کے مشاہدات کی طرف توجہ دلائی کہ قیامت اور توحید کی دلیل ڈھونڈھنے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خدا نے انسان اور اس کائنات کو بنایا ہی اس طرح ہے کہ جو شخص آنکھیں رکھتا ہے وہ اپنے اندر اور باہر ہر وقت خدا اور قیامت کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔
      ’عَلَقَۃ‘ کے معنی: ’فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّغَیْرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ‘۔ ’عَلَقَۃٌ‘ خون کی پھٹکی کو بھی کہتے ہیں اور چھوٹے جان دار کیڑے کو بھی۔ یہ نطفہ کے قرار پا جانے کے بعد کا درجہ ہے جب وہ خون اور ایک جنین کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور اس کے اندر زندگی کی نمود پیدا ہو جاتی ہے۔
      ’مُضْغَۃٌ‘ کے معنی: ’مُضْغَۃٌ‘ گوشت کے لوتھڑے کو کہتے ہیں۔ یہ ’عَلَقَۃ‘ کے بعد کا مرحلہ ہے جب جنین گوشت کے ایک لوتھڑے کی شکل میں ایک جسم کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس ’مُضْغَۃٌ‘ کی بابت فرمایا کہ ان میں سے بعض کا ڈیزائن بالکل مکمل ہوتا ہے اور بعض کو قدرت نامکمل ہی چھوڑ دیتی ہے اور کسی کے بس میں بھی یہ نہیں ہے کہ اس کو مکمل کر دے۔
      انسان کی اپنی خلقت ایک درس گاہ ہے: ’لِنُبَیِّنَ لَکُمْ‘ یہ وہ اصل مقصد ہے جس کے لیے انسان کی خلقت کے ان تمام مراحل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا انسان کو وجود میں لانے کے لیے ان تمام مراحل اور اس سارے اہتمام کا محتاج نہیں تھا کہ پانی کی ایک بوند کسی مادہ کے رحم میں قرار پکڑے، پھر وہ خون اور جنین کی صورت اختیار کرے اور قدرت اپنے ڈیزائن کے مطابق اس کی نقاشی و مصوری کر کے اس کو حسین پیکر بنائے۔ اس تمام اہتمام و انتظام کے بغیر اگر خدا چاہتا تو بنے بنائے آدمی کسی دریا یا پہاڑ سے جھنڈ کے جھنڈ اور ریوڑ کے ریوڑ برآمد ہو جایا کرتے لیکن خدا نے یہ چاہا کہ انسان کی خود اپنی خلقت اس کے لیے خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی ایک درس گاہ بن جائے۔ جس میں وہ اپنے اور اس کائنات کے احسن الخالقین کی معرفت حاصل کرے۔ اس کا خود اپنا وجود اس پر شہادت دے کہ جس نے اس اہتمام و عنایت کے ساتھ اس کو پیدا کیا ہے اس نے اس کو محض ایک کھلونا نہیں بنایا ہے بلکہ اس کی خلقت کے پیچھے ایک عظیم غایت ہے، جو لازماً ظہور میں آ کے رہے گی۔ اس کے اپنے ہر بن مو سے اس کو یہ گواہی ملے کہ خالق نے اس کو مٹی کے خلاصہ اور پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا اور اس کو اس میں کوئی زحمت پیش نہیں آئی تو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا بھی اس کے لیے نہایت آسان ہے۔ بعینہٖ یہی مضمون سورۂ مومنون میں اس طرح بیان ہوا ہے:

      وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ۵ ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۵ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلْقَنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ ۵ ثُمَّ اِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوْنَ ۵ ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تُبْعَثُوْنَ (۲۳: ۱۲-۱۶)
      ’’اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا، پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک قرار کی جگہ میں رکھا، پھر ہم نے پانی کی بوند کو جنین کی شکل دی، پھر جنین کو ایک لوتھڑا بنایا، پس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں، پھر ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنایا، پھر اس کو ایک بالکل ہی مختلف مخلوق کی شکل میں مشکّل کر دیا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ بہترین پیدا کرنے والا! پھر اس کے بعد تم لازماً مرو گے، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘

      سورۂ مومنون کی اس آیت میں وہ خلاصہ بھی سامنے رکھ دیا ہے جس پر انسان کی خلقت کے یہ تمام مراحل شہادت دے رہے ہیں لیکن ہمارے دور حاضر کے فلسفیوں اور سائنسدانوں کا یہ عجیب اندھا پن ہے کہ انھیں انسان کی خلقت کے یہ تمام مراحل و مدارج تو نظر آتے ہیں لیکن اس اصل حقیقت تک ان کی نظر نہیں پہنچتی جس کو واضح کرنے ہی کے لیے خدا نے یہ سارا اہتمام فرمایا۔
      ’وَنُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا‘۔ ابھی اصل سلسلۂ کلام پورا نہیں ہوا تھا کہ بیچ میں ’لِنُبَیِّنَ لَکُمْ‘ کا ٹکڑا اچانک مخاطبوں کو جھنجھوڑنے کے لیے آ گیا تھا کہ بلادت کے سبب سے وہ سو نہ رہے ہوں۔ ان کو جھنجھوڑنے کے بعد پھر اصل سلسلۂ کلام کو لے لیا۔ فرمایا کہ اس کے بعد ایک مدت تک اس کو رحم میں ہم ٹھہراتے ہیں کہ وہ ایک پورے بچے کی شکل اختیار کر لے۔ ’مَا نَشَآءُ‘ یعنی یہ کلیۃً ہماری مشیت پر منحصر ہے کہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی ، خوب صورت ہو یا بدصورت، ناقص ہو یا کامل، کسی دوسرے کے اختیار میں یہ نہیں ہے کہ وہ لڑکی کو لڑکا بنا دے یا بدصورت کو خوب صورت ’اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی‘ یعنی اسی طرح وضع حمل کے لیے ہم نے ایک مدت ٹھہرا دی ہے اور یہ چیز بھی کلیۃً ہمارے ہی اختیار میں ہے، کسی کے بس میں نہیں ہے کہ ہماری مقرر کی ہوئی مدت میں کوئی تغیر و تبدل کر دے۔
      حذف کا ایک قرینہ: ’ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ‘ یہاں ’ل‘ اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سے پہلے فعل محذوف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں اور سورۂ مومن آیت ۶۷ میں بھی اس کی نہایت واضح مثال آئے گی۔ یعنی بچہ کی شکل میں تمہیں وجود بخشنے کے بعد ہم تمہیں ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی اور پختگی کو پہنچو اور یہ قانون بھی ہمارا ہی بنایا ہوا ہے، کسی کی مجال نہیں کہ وہ بچپن اور مراہقہ کے مراحل کو لانگ کر جوانی کے حدود میں قدم رکھ دے۔
      ’وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ‘ یہاں تقابل کے اصول پر، بربنائے وضاحت قرینہ، پہلے ٹکڑے میں ’فی صباہ او فی شبابہٖ‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذف ہیں اور دوسرے ٹکڑے میں ’ارذل العمر‘ کے الفاظ اس حذف کو واضح کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کتنے تو اپنے بچپن یا جوانی ہی میں مر جاتے ہیں اور کتنے ایسے ہوتے ہیں جو بڑھاپے کی آخری منزل تک پہنچتے ہیں اور یہ امر بھی کلیۃً خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ کوئی شخص اپنی مدت حیات میں نہ کمی کر سکتا ہے نہ بیشی۔
      ’ل‘ غایت و نہایت کے مفہوم میں: ’لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا‘ ’ل‘ غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا ترجمہ ’یہاں تک‘ یا ’تاآنکہ‘ ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ ’علم‘ کی تنکیر تحقیر کے لیے بھی ہو سکتی ہے اور تفخیم کے لیے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ ایسی ارذل عمر کو پہنچ جاتا ہے کہ تھوڑا بہت علم جو اس کو حاصل ہوا ہوتا ہے وہ بھی غائب ہو جاتا ہے۔ دوسری صورت میں مفہوم یہ ہو گا کہ وہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ بھی نہیں جانتا، ہر چیز اس کے حافظہ سے محو ہو جاتی ہے۔ ہم پہلے مفہوم کو ترجیح دیتے ہیں اس لیے کہ قرآن کے نظائر سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ فرمایا ہے:

      ’اِنْ اُوْتِیْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا‘
      (تمہیں تو بس تھوڑا ہی علم عطا ہوا ہے)

      اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان چاہے سقراط و بقراط ہی کیوں نہ بن جائے لیکن علم کے بحر بیکراں کا ایک قطرہ ہی ہے جس کا وہ حامل بنتا ہے۔ اس سے زیادہ کے لیے وہ اپنے اندر ظرف ہی نہیں رکھتا۔ اور اس علم کا بھی حال یہ ہے کہ عمر کے ایک خاص حصہ میں وہ سب سلب ہو جاتا ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اپنے علم پر بھی کسی کو غرہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی خدا ہی کی دین ہے، وہی بخشتا ہے اور وہ جب چاہے اس کو چھین سکتا ہے۔
      ایک نظر عامل خارج پر: ’وَتَرَی الْاَرْضَ ھَامِدَۃً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْھَاالْمَآءَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَھِیْجٍ‘۔ انسان کی خلقت کے اندر قیامت کے جو دلائل ہیں ان کی طرف توجہ دلانے کے بعد اس کو باہر کی دنیا کی طرف توجہ دلائی کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین بالکل خشک اور بے آب و گیاہ ہوتی ہے۔ پھر جب اس پر بارش ہوتی ہے تو وہ نرم و گداز ہو جاتی اور نوع بنوع خوشنما نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس زمین کو بار بار مرتے اور جیتے دیکھتے ہو تو آخر اسی زمین سے اپنے ہی دوبارہ جی اٹھنے کو کیوں بعید از امکان سمجھتے ہو! ہر فصل و موسم میں یہ ریہرسل تو تمہارے سامنے تو اسی غرض سے ہو رہا ہے کہ قیامت کا مشاہدہ اس کے ہونے سے پہلے ہی تمہیں ہوتا رہے۔ ’لِنُبَیِّنَ لَکُمْ‘ کے الفاظ یہاں مقدر ہیں۔ چونکہ یہ نشانی بالکل واضح تھی اس وجہ سے یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں تھی۔

       

      جاوید احمد غامدی لوگو، اگر تمھیں دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں کچھ شک ہے تو (غور کرو کہ) ہم نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے،پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے، جو پوری بھی ہوتی ہے اور ادھوری بھی۔ اِس لیے کہ تم پر (وہ حقائق) واضح کریں (جو تم کو سمجھنے چاہییں)۔ ہم جو چاہتے ہیں، ایک مقرر مدت تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں۔ پھر ایک بچے کی صورت میں تمھیں نکال لاتے ہیں۔ پھر ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو ۔اور تم میں سے کوئی پہلے ہی بلا لیا جاتا ہے اور کوئی( بڑھاپے کی)نکمی عمر کو پہنچایا جاتا ہے کہ وہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ بھی نہیں جانتا۔ (اِسی طرح) زمین کو دیکھتے ہو کہ خشک پڑی ہے۔ پھر جب ہم اُس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہلہانے لگتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر طرح کی خوش منظر چیزیں اگاتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ مشرکین عرب قیامت کے بارے میں فی الواقع ایک نوعیت کے شک اور تردد میں مبتلا تھے، اُس کا صریحاً انکار نہیں کرتے تھے۔
      یعنی ابتدا میں، جب انسان زمین کے پیٹ میں اُنھی مراحل سے گزر کر پیدا ہوا جن سے وہ اب ماں کے پیٹ میں گزرتا ہے۔
      یہ اُن بڑے بڑے تغیرات کا ذکرکیا ہے جن سے اُس زمانے کا ایک عام بدو بھی واقف تھا۔
      یعنی ضروری نہیں کہ پوری ہو کر بچے کی صورت اختیار کرے، بعض اوقات ادھوری ہی رہ جاتی ہے اور کسی کے بس میں نہیں ہوتا کہ اُسے مکمل کر دے۔
      یہ سلسلۂ کلام کو بیچ میں چھوڑ کر مخاطبین کو جھنجھوڑنے کے لیے اصل مقصد کی طرف توجہ دلادی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ خدا انسان کو وجود میں لانے کے لیے اِن تمام مراحل اور سارے اہتمام کا محتاج نہیں تھا کہ پانی کی ایک بوند کسی مادہ کے رحم میں قرار پکڑے، پھر وہ خون اور جنین کی صورت اختیار کرے اور قدرت اپنے ڈیزائن کے مطابق اُس کی نقاشی و مصوری کرکے اُس کو حسین پیکر بنائے۔ اِس تمام اہتمام و انتظام کے بغیر اگر خدا چاہتا تو بنے بنائے آدمی کسی دریا یا پہاڑ سے جھنڈ کے جھنڈ اور ریوڑ کے ریوڑ برآمد ہو جایا کرتے، لیکن خدا نے یہ چاہا کہ انسان کی خود اپنی خلقت اُس کے لیے خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی ایک درس گاہ بن جائے جس میں وہ اپنے اور اِس کائنات کے احسن الخالقین کی معرفت حاصل کرے۔ اُس کا خود اپنا وجود اِس پر شہادت دے کہ جس نے اِس اہتمام و عنایت کے ساتھ اُس کو پیدا کیا ہے، اُس نے اُس کو محض ایک کھلونا نہیں بنایا ہے، بلکہ اُس کی خلقت کے پیچھے ایک عظیم غایت ہے جو لازماً ظہور میں آکے رہے گی۔ اُس کے اپنے ہر بن مو سے اُس کو یہ گواہی ملے کہ خالق نے اُس کو مٹی کے خلاصہ اور پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا اور اُس کو اِس میں کوئی زحمت پیش نہیں آئی تو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا بھی اُس کے لیے نہایت آسان ہے۔ ‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۲۱۷)

      یہ فقرہ اصل میں محذوف ہے جس پر ’لِتَبْلُغُوْا‘ کا لام دلالت کررہا ہے۔
      آیت میں آگے ’اَرْذَلِ الْعُمُرِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے مقابل میں ’فی صباہ أو فی شبابہ‘ یا اِن کے ہم معنی الفاظ اصل میں محذوف ہیں۔ ترجمے میں یہ اضافہ اُنھی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
      آیت میں ’ل‘ غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے اور لفظ ’عِلْم‘ کی تنکیر تفخیم کے لیے ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ ’لِکَیْلَا یَعْلَمَ‘ کے مقابل میں آیا ہے۔ اِس سے انسان کے علم کی اصل حقیقت کو بیان کرنا مقصود نہیں ہے جو علم کے بحر بے کراں میں ایک قطرہ ہی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ ہی پروردگار حقیقی ہے۔ اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خلاصۂ بحث: شروع سورہ سے لے کر یہاں تک جو کچھ بیان ہوا ان آیات میں اس کا خلاصہ سامنے رکھ دیا۔ یعنی خدا اور قیامت سے تمہیں ڈرتے رہنے کی یہ ہدایت جو کی جا رہی ہے اس لیے کی جا رہی ہے کہ معبود حقیقی صرف خدا ہی ہے، اس کے ماسوا جو تم نے اس کے شریک و سہیم بنا رکھے ہیں، اور ان کے بل پر تم خدا اور آخرت سے نچنت ہوئے بیٹھے ہو، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ محض تمہارے وہم کی ایجاد ہیں ’وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی‘ یعنی اوپر جو دلائل مذکور ہوئے ان سے یہ بات ثابت ہے کہ خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اس لیے جب وہ چاہے گا تمہیں اٹھا کھڑا کرے گا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو پانی کے ایک قطرے کو عاقل و بالغ انسان بنا دیتا اور زمین کو اس کے خشک اور چٹیل ہو جانے کے بعد باغ و بہار کر دیتا ہے، اس کے لیے دنیا کو ازسرنو زندہ کر دینا کیوں مشکل ہو جائے گا!

      جاوید احمد غامدی یہ سب اِس لیے کہ اللہ ہی پروردگار حقیقی ہے اور اِس لیے کہ وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور اِس لیے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور قیامت آ کے رہے گی، اس کے آنے میں ذرا شبہ نہیں اور اللہ ان سب کو ایک دن زندہ کر کے اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خلاصۂ بحث: شروع سورہ سے لے کر یہاں تک جو کچھ بیان ہوا ان آیات میں اس کا خلاصہ سامنے رکھ دیا۔ یعنی خدا اور قیامت سے تمہیں ڈرتے رہنے کی یہ ہدایت جو کی جا رہی ہے اس لیے کی جا رہی ہے کہ معبود حقیقی صرف خدا ہی ہے، اس کے ماسوا جو تم نے اس کے شریک و سہیم بنا رکھے ہیں، اور ان کے بل پر تم خدا اور آخرت سے نچنت ہوئے بیٹھے ہو، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ محض تمہارے وہم کی ایجاد ہیں ’وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی‘ یعنی اوپر جو دلائل مذکور ہوئے ان سے یہ بات ثابت ہے کہ خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اس لیے جب وہ چاہے گا تمہیں اٹھا کھڑا کرے گا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو پانی کے ایک قطرے کو عاقل و بالغ انسان بنا دیتا اور زمین کو اس کے خشک اور چٹیل ہو جانے کے بعد باغ و بہار کر دیتا ہے، اس کے لیے دنیا کو ازسرنو زندہ کر دینا کیوں مشکل ہو جائے گا!

      جاوید احمد غامدی اور اِس لیے کہ قیامت آ کر رہے گی، اُس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے، اور اِس لیے کہ اللہ اُن سب کو ضرور اٹھائے گا جو قبروں میں پڑے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر جن حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے، اُن کو دیکھنے کے بعد یہ بدیہی نتائج ہیں جن کا انکار کوئی عقل کا اندھا ہی کر سکتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی علم، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے (تکبر سے اینٹھتے ہوئے)، حجتیں کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      بے دلیل مجادلہ کبر ہے: آیت ۳ میں جن مجادلین کی طرف اشارہ فرمایا تھا یہ ان کے رویہ کی تفصیل ہے۔ وہاں ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ خدا کے بارے میں مشرکین کی اصلی مخاصمت عقیدۂ توحید سے تھی۔ جہاں تک خدا کا تعلق ہے اس کو تو وہ بلابحث و نزاع مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ انھوں نے اس کے بہت سے دوسرے شریک بھی ٹھہرا لیے تھے جن کو ثابت کرنے کی ذمہ داری خود ان پر عائد ہوتی تھی لیکن ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ بس زیادہ سے زیادہ جو چیز وہ پیش کرتے وہ یہ کہ ہمارے باپ دادا ان معبودوں کو پوجتے آئے ہیں اس لیے ہم ان کو پوجتے رہیں گے اور ان کی توہین کسی حال میں برداشت نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب بحث کا تعلق دلیل کے بجائے مجرد آباء و اجداد کی اندھی تقلید سے رہ جائے تو یہ کبر و غرور ہے جس میں مبتلا ہو جانے کے بعد آدمی کے سامنے ساری منطق بے کار ہو کے رہ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے اس بے دلیل مجادلہ کو کبر قرار دیا ہے:

      اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰھُمْلا اِنْ فِیْ صُدُوْرِھِمْ اِلَّا کِبْرٌ مَّا ھُمْ بِبَالِغِیْہِ (مومن ۵۶)
      ’’بے شک جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بغیر کسی دلیل کے، جو ان کے پاس آئی ہو، کٹ حجتی کرتے ہیں، ان کے دلوں میں صرف غرور ہے جس میں ان کو کامیابی حاصل ہونے والی نہیں ہے۔‘‘

      دوسرے مقام میں یہ حقیقت بھی واضح فرما دی ہے کہ اس سارے مجادلے کی محرک طریقۂ آباء کی اندھی عصبیت ہے:

      وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلَا ھُدًَی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ۵ وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَ نَا(لقمان ۲۰-۲۱)
      ’’اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی رہنما کتاب کے جھگڑتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی چیز کی پیروی کرو تو کہتے ہیں ہم اسی طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی اِس کے باوجود لوگوں کا حال یہ ہے کہ اُن میں ایسے بھی ہیں جوبغیر کسی علم، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے [( تکبر سے) شانے جھٹکتے ہوئے] اللہ کے بارے میں حجتیں کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ رویہ انسان میں اُسی وقت پیدا ہوتا ہے، جب وہ علم و استدلال کے بجاے مجرد آبا و اجداد کی اندھی تقلید کو اپنے ایمان و عقیدہ کا ماخذ بنا لیتا ہے۔ یہ اِسی طرح کے لوگوں کا ذکر ہے جو قرآن کی دعوت یہ کہہ کر رد کر دیتے تھے کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تکبر سے اینٹھتے ہوئے، (حجتیں کرتے ہیں) کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے برگشتہ کریں۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ہم قیامت کے دن ان کو آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ثَانِیَ عِطْفِہٖ‘ ان کے کبر و غرور کی تصویر ہے۔ جب کوئی شخص غرور کے ساتھ کسی سے اپنا رخ موڑتا ہے تو شانے جھٹک کر موڑتا ہے۔ آدمی کے پاس دلیل نہ ہو اور وہ اپنے غلط موقف سے دست بردار ہونے کے لیے بھی تیار نہ ہو تو اس کے پندار کو بڑی چوٹ لگتی ہے اور اس کا انتقام وہ اپنے غرور کا مظاہرہ کر کے لینے کی کوشش کرتا ہے۔ ’لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ‘ یعنی یہ سارا طنطنہ اور یہ ساری حمیت کسی حق کی حمایت کے لیے نہیں بلکہ صرف اس لیے ہے کہ جس طرح وہ خود خدا کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے دوسروں کو بھی اسی طرح بھٹکا دے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ آدمی کا خدا کی راہ سے بھٹکا ہوا ہونا، اگر اس کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہو، اس سے مایوس کر دینے والی چیز نہیں ہے، حق کی طرف اس کی بازگشت کا امکان ہے، لیکن جو شخص اپنے باطل کے حق میں اپنے پاس کوئی دلیل نہ رکھنے ہوئے بھی اس کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے، پوری رعونت کے ساتھ، اٹھ کھڑا ہو تو اس سے پھر کسی امید خیر کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔
      استکبار کی سزا دنیا اور آخرت کی رسوائی: ’لَہٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّنُذِیْقُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ‘۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب نار ہے۔ رسوائی اس لیے کہ انھوں نے حق کے مقابل میں استکبار کا مظاہرہ کیا اس وجہ سے وہ مستحق ہیں کہ دنیا میں بھی ذلیل ہوں۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں زیربحث رسول کے مخالفین ہیں۔ رسولوں کے مخالفین کے باب میں سنت الٰہی، جیسا کہ ہم متعدد مقامات میں واضح کر چکے ہیں، یہی ہے کہ اگر وہ حق کی مخالفت پر جمے رہ جاتے ہیں تو، اتمام حجت کے بعد، لازماً وہ اس دنیا میں بھی شکست اور ذلت سے دوچار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی جہنم کے سزاوار ٹھہریں گے۔
      ’عَذَابَ الْحَرِیْقِ‘۔ میں بھی عمل اور جزا کی مشابہت کا پہلو موجود ہے۔ یعنی چونکہ وہ اس دنیا میں حق کے خلاف غصہ، نفرت اور حسد سے جلتے اور کھولتے رہے اس وجہ سے وہ مستحق ہیں کہ آخرت میں جلنے کے عذاب کا مزا چکھیں۔

      جاوید احمد غامدی شانے جھٹکتے ہوئے [اللہ کے بارے میں حجتیں کرتے ہیں] کہ (لوگوں کو ) اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں۔ اُن کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اُن کو جلتی آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ رویہ انسان میں اُسی وقت پیدا ہوتا ہے، جب وہ علم و استدلال کے بجاے مجرد آبا و اجداد کی اندھی تقلید کو اپنے ایمان و عقیدہ کا ماخذ بنا لیتا ہے۔ یہ اِسی طرح کے لوگوں کا ذکر ہے جو قرآن کی دعوت یہ کہہ کر رد کر دیتے تھے کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔
      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ یہاں رسول کے مخاطبین زیر بحث ہیں جن کے بارے میں سنت الٰہی یہ ہے کہ اُن کے کبر و غرور کی سزا اُنھیں دنیا میں بھی لازماً ملتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کہ یہ ہے تیرے اپنے ہی ہاتھوں کی کرتوت اور اللہ اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زبان حال کی شہادت: ہم قرآن کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ کرتے آئے ہیں کہ جہاں مقصود صورت حال کی تعبیر ہو وہاں بالعموم ’قیل‘ اور ’یقال‘ وغیرہ حذف کر دیے جاتے ہیں۔ یہاں بھی یہی صورت حال ہے۔ یعنی زبان حال خود ان پر گواہی دے گی کہ یہ تمہاری اپنی ہی بوئی ہوئی بِس بھری فصل کا حاصل ہے جو تمہارے سامنے آیا ہے، خدا نے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی ہے۔
      جو بوئے گا وہی کاٹے گا: ’وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ‘۔ اس اسلوب کی وضاحت بھی متعدد جگہ ہو چکی ہے کہ جب مبالغہ پر نفی آئے تو اس سے مقصود مبالغہ فی النفی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ’لَیْسَ بِظَلَّامٍ‘ کے معنی ہوں گے اللہ تعالیٰ بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
      آیت کا مقصود یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں جو بوئے گا اسی کی فصل آخرت میں کاٹے گا۔ اگر اس نے استکبار کی کاشت کی ہے تو استکبار کا حاصل رسوائی ہے، وہ رسوائی کی فصل کاٹے گا۔ اور اگر حق کے خلاف غصہ اور نفرت کی پرورش اس نے کی ہے تو اس کا حاصل جلنے کا عذاب ہے وہ اس سے دوچار ہو گا۔ غرض جو کچھ اس نے کیا ہو گا وہی اللہ تعالیٰ اس کے سامنے رکھ دے گا۔ سرمو اس کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہو گی!

      جاوید احمد غامدی یہ ہے تمھارے اعمال کا بدلہ جو تمھارے ہاتھوں نے آگے بھیجے تھے اور (تمھارے لیے خدا کا انصاف) کہ اللہ اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ خدا نے تمھارے ساتھ کوئی بے انصافی نہیں کی ہے۔ یہ اُسی بِس بھری فصل کا حاصل ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سے بوئی تھی۔ آیت میں یہ مضمون ’اَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اِس میں مبالغہ پر نفی مبالغہ فی النفی کے لیے ہے۔ یہ وہی بات ہے جو دوسرے مقامات میں ’اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ‘* (اللہ ذرے کے برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا) اور ’اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا‘** (اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا) کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ اِس اسلوب کی مثالیں قرآن مجید اور کلام عرب، دونوں میں موجود ہیں۔
      _____
      * النساء ۴: ۴۰۔
      ** یونس ۱۰: ۴۴۔

    • امین احسن اصلاحی اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو خدا کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں۔ اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچا تب تو ان کا دل خدا پر جمتا ہے اور اگر کوئی آزمائش پیش آ گئی تو اوندھے ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے دنیا بھی کھوئی اور آخرت بھی۔ کھلا ہوا خسارہ درحقیقت یہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مذبذبین کا کردار: ان کٹر مشرکین کا ذکر کرنے کے بعد، جو شرک کی حمایت میں لڑائی ٹھانے ہوئے تھے، اب یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو بیک وقت یزدان اور اہرمن، اللہ اور غیر اللہ، حق اور باطل دونوں سے تعلق باقی رکھنا چاہتے تھے۔ یکسو ہو کر نہ وہ اہل ایمان کے اندر شامل ہونا چاہتے تھے نہ مشرکین کے اندر۔ وہ ان دونوں صفوں سے الگ کھڑے ہو کر اپنی مصلحت اور مفاد کو دیکھتے تھے۔ جس حد تک ان کو مسلمانوں کی ہمنوائی میں فائدہ نظر آتا ان کی ہمنوائی کرتے اور جب دیکھتے کہ شرک اور اہل شرک کی تائید میں فائدہ ہے، ان کے ساتھی بن جاتے۔ اس قسم کے دو رنگے اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر، اس دور میں، مشرکین اور اہل کتاب کے اندر بھی پیدا ہو گئے تھے جو کفر و اسلام دونوں میں سمجھوتے کے خواہش مند تھے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ خدا کی بھی بندگی ہونی چاہیے اور ان اصنام و الٰہہ کی بھی جن کی عبادت باپ دادا سے ہوتی چلی آ رہی ہے۔ آخر یہ بھی کام آنے والی ہستیاں ہیں تو ان کو کیوں نظرانداز کیا جائے؟ یہی گروہ ہے جس کی طرف سے قرآن میں ترمیم کی تجویز بھی پیش ہوئی تھی جس کا ذکر سورۂ یونس میں گزر چکا ہے۔ اس طرح کے عناصر اگر مسلمانوں میں داخل ہوئے تو وہ توحید میں یکسو نہیں ہوئے۔ جہاں تک ان کو راہ ہموار نظر آتی وہاں تک تو وہ قافلۂ اسلام کا ساتھ دیتے لیکن جب کوئی آزمائش پیش آ جاتی تو وہیں لڑکھڑا جاتے اور خدا سے مایوس و بدگماں ہو کر دوسروں کو مولیٰ و مرجع بنا بیٹھتے۔ یہ چیز اپنی حقیقت کے اعتبار سے شرک ہے۔ اوپر مجادلین کا جو شرک بیان ہوا ہے۔ اس میں اور اس میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ حقیقت کا نہیں بلکہ صرف مزاج کا فرق ہے۔ مجادلین کے شرک کا مزاج معاندانہ ہے، اس کا مزاج منافقانہ۔ اس فرق کے سوا ان دونوں میں کوئی اور فرق نہیں ہے۔ توحید کا تقاضا صرف اس شکل میں پورا ہوتا ہے جب بندہ کلیۃً اپنے آپ کو اپنے رب کی تحویل میں دے دے۔ وہ پھولوں کی سیج پر لٹائے جب بھی راضی رہے اور اگر سر پر آرے چلوا دے جب بھی راضی و مطمئن رہے۔ صرف منفعت ہی کے حد تک جو خدا کی بندگی کرنا چاہتا ہے وہ موحد نہیں بلکہ مشرک ہے اور خدا کے ہاں ایسے ابن الوقتوں اور مفاد پرستوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ سرمد نے نہایت دوٹوک بات کہہ دی:

      سرمد گلہ اختصارمی باید کرد      یک کارا زیں دو کارمی باید کرد
      یاتن برضائے یارمی باید داد      یا قطع نظر زیار می با ید کرد

      ’وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ‘۔ یہ اسلوب بیان یہاں اظہار تعجب اور اظہار نفرت و کراہت کے لیے ہے اور لفظ ’عبادت‘ پرستش اور اطاعت دونوں ہی معنوں پر مشتمل ہے۔ ’عَلٰی حَرْفٍ‘ یعنی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر، دور دور سے۔ خدا کی بندگی اور اطاعت میں پوری طرح داخل ہو کر نہیں، جو ’اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً‘ کا تقاضا ہے بلکہ ’مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ وَلَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ‘ کے مصداق بن کر۔ نہ پوری طرح خدا کی طرف جو ایک حنیف مسلم کی شان ہے اور نہ کفار کی طرح کفر کی حمایت میں برہنہ ہو کر بلکہ ع منہ پھیر کر اِدھر کو اُدھر کو بڑھا کے ہاتھ۔

      ’فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ نِ اطْمَأَنَّ بِهِ وَاِنْ اَصَابَتْہٗ فِتْنَۃُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْھِہٖ‘۔ ’فِتْنَۃُ‘ کے معنی یہاں مصیبت اور آزمائش کے ہیں۔ یہ ’عَلٰی حَرْفٍ‘ کی وضاحت ہے کہ یہ احمق لوگ خدا کی بندگی صرف اپنے مفاد کے حد تک کرنا چاہتے ہیں۔ جب تک ہر بات ان کے منشا کے مطابق ہوتی رہے اس وقت تک تو یہ خدا سے راضی و مطمئن رہتے ہیں، لیکن کوئی امتحان پیش آ جائے تو پھر یہ اوندھے ہو جاتے ہیں اور خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے آستانوں پر جبہ سائی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ پھولوں کے طالب ہیں لیکن کانٹوں کی خلش برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں حالانکہ خدا کی راہ میں راحتوں کے ساتھ آزمائشیں بھی ہیں اور جب تک کوئی ان آزمائشوں میں پورا نہ اترے خدا کے ہاں اس کی کوئی پوچھ نہیں ہے۔
      ’خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ‘ کا مفہوم: ’خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ‘ فرمایا کہ ایسے احمق لوگ دنیا اور آخرت دونوں ہی برباد کرتے ہیں۔ اگر دنیا میں بندے کو کوئی آزمائش پیش آتی ہے، وہ جان یا مال کے کسی خسارہ میں مبتلا کیا جاتا ہے تو اس کے لیے اس خسارہ کے اندر ایک عظیم اخروی منفعت بھی پوشیدہ ہوتی ہے بشرطیکہ وہ اپنے رب کے فیصلہ پر راضی و مطمئن رہے اور اپنے آپ کو اس کے آگے ڈال دے۔ اس طرح کا امتحان بندے کے ایمان کو پختہ اور اس کی اخروی منفعتوں کو ’اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً‘ کرتا ہے لیکن کوئی احمق اگر اس طرح کی کسی آزمائش سے گھبرا کر خدا سے مایوس و بدگمان ہو بیٹھے تو اس نے دنیا کا بھی نقصان اٹھایا اور اپنی آخرت بھی برباد کی۔ ’ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ‘ ظاہر ہے کہ اصلی اور کھلا ہوا خسارہ یہی ہے۔ اگر اس دنیا کا کوئی نقصان ہوا تو وہ نقصان نہیں ہے۔ اگر بندے نے اپنا اخروی اجر اس کے عوض میں محفوظ کرا لیا۔ البتہ جس نے اپنی دنیا بھی کھوئی اور اپنی آخرت بھی اس کا خسران ’خُسْرَانٌ مُبِیْن‘ ہے۔
      ابنائے زمانہ کا کردار: ’وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ‘۔ میں جس گروہ کا کردار بیان ہوا ہے، غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہی کردار ابنائے زمانہ کا ہے۔ آج ہم بھی، جو اس شرک کو مٹانے ہی کے لیے مامور کیے گئے تھے، اسی طرح دور دور سے خدا کی بندگی کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن کو خدا کی کتاب بھی مانتے ہیں لیکن قانون، تہذیب، معاشرت، معیشت، سیاست ہر شعبۂ زندگی میں پیروی دوسروں کی کرتے ہیں۔ قرآن کا مصرف اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ جب کوئی مرے تو، کچھ حافظ اس کے لیے قرآن خوانی کر کے اس کو بخشوا دیا کریں۔ اگرچہ اس نے خود کبھی اتفاق سے بھی قرآن کو ہاتھ نہ لگایا ہو!! ان کے نزدیک قرآن زندوں کے لیے نہیں بلکہ مردوں کے لیے اترا ہے اور وہ ہدایت کے لیے نہیں بلکہ صرف کبھی کبھی چوم لینے کے لیے ہے۔ خوب بات کہی جس نے کہی ہے کہ:

      یاران عجب انداز دو رنگی دارند      مصحف بہ بغل دین فرنگی دارند

       

      جاوید احمد غامدی اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو خدا کی بندگی کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں۔ پھر اگر اُن کو کوئی فائدہ پہنچا تو خدا پر مطمئن ہو گئے اور اگر اُن کو کوئی آزمایش پیش آ گئی تو اوندھے ہو جاتے ہیں۔ اُنھوں نے دنیا بھی کھو دی اور آخرت بھی۔ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی منافقانہ جس میں حق و باطل اور یزداں و اہرمن، دونوں کو راضی رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ اُن متکبرین سے مختلف گروہ ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ آیت کا اسلوب اظہار تعجب اور اظہار نفرت و کراہت کا ہے اور بندگی سے مراد پرستش ہے جو اطاعت کو بھی شامل ہو جاتی ہے۔ آگے اِسی کی وضاحت فرمائی ہے۔
      یعنی خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے آستانے پر جبہ سائی شروع کر دیتے ہیں۔ استاذ امام کے الفاظ میں، پھولوں کے طالب ہیں، لیکن کانٹوں کی خلش برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
      دنیا اُس نقصان کی وجہ سے جو پیش آیا اور آخرت اِس لیے کہ خدا کی بارگاہ سے الٹے پھر گئے۔ ایسا نہ کرتے تو صرف دنیا کھوتے، مگر آخرت کا اجر اپنے لیے محفوظ کرا لیتے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ خدا کے سوا ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ ان کو کوئی نقصان پہنچا سکیں اور نہ کوئی نفع پہنچا پائیں۔ یہی بڑی دور کی گمراہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      غیر اللہ سے دعا شرک اور ضلال بعید ہے: ’یَدْعُوْا‘ یہاں دعا، استغاثہ، فریاد، استرحام اور استمداد سب معنوں پر مشتمل ہے۔ اگر خدا کے سوا کسی کو نافع و ضار مان کر، پکارا جائے تو یہ شرک ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ خدا سے مایوس ہو کر جن سے طالب مدد ہوتے ہیں وہ نہ ان کو ضرر پہنچا سکتے ہیں نہ نفع۔ نفع و ضرر صرف خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اگر کسی کو کسی سے کوئی نفع یا ضرر پہنچتا ہے تو اللہ ہی کے اذن سے پہنچتا ہے اس وجہ سے ہر حال میں بندے کا اعتماد اللہ ہی پر ہونا چاہیے نہ کہ اس سے مایوس ہو کر دوسروں پر۔ دوسروں کے نافع یا ضار ہونے کی حقیقت اسی سورہ کے آخر میں ایک تمثیل کے ذریعہ سے یوں واضح فرما دی گئی ہے:

      یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِاجْتَمَعُوْا لَہٗ وَاِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ (حج: ۷۳)
      ’’اے لوگو! ایک تمثیل سنائی جا رہی ہے تو اس کو توجہ سے سن لو۔ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے اگرچہ وہ سارے کے سارے مل کر اس کے لیے اپنا زور لگا ڈالیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس سے اس کو بچا نہیں سکتے، طالب اور مطلوب دونوں ہی ناتواں!!‘‘

      ’ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیۡدُ‘۔ فرمایا کہ دور کی گمراہی درحقیقت یہی ہے۔ مطلب یہ ہے اگر یہ خدا سے روٹھ کر کسی ایسے کی پناہ لیتے جو کوئی نفع یا نقصان ان کو پہنچا سکتا تب تو یہ ایک گمراہی ہوتی لیکن بہت دور کی نہ ہوتی لیکن خدا کی آزمائش سے بھاگ کر ایسوں کی پناہ ڈھونڈھنا جو خود اپنے چہرے سے بھی مکھی ہنکا نہیں سکتے صرف گمراہی نہیں بلکہ بہت دور کی گمراہی ہے۔ یہ خدا کے امتحان کی بھٹی سے بھاگے اور سیدھے جہنم میں جا کودے!

       

      جاوید احمد غامدی یہ خدا کے سوا اُن چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ اِن کا برا کر سکتی ہیں، نہ اِن کا بھلا۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’یَدْعُوْا‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ دعا ، استغاثہ، فریاد، استرحام اور استمداد، سب معنوں کو شامل ہے۔ آگے اِسی کو حسرت و افسوس کے ساتھ دہرایا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جن کا ضرر ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ کیا ہی برے ہیں ان کے یہ مرجع اور کیا ہی برے ہیں ان کے یہ ساتھی!! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ضرر نقد اور نفع موہوم: اس ’یَدْعُوْا‘ کے بارے میں مجھے ان نجومیوں کا مذہب قوی معلوم ہوتا ہے جو اس کو سابق الذکر ’یَدْعُوْا‘ کا اعادہ اور بعد کے جملے سے اس کو بالکل غیر متعلق مانتے ہیں۔ اعادۂ فعل یہاں اظہار حسرت و افسوس کے لیے ہے ’لَمَنْ ضَرُّہٗ‘ ’یَدْعُوْا‘ کا مفعول نہیں بلکہ اوپر والے مفعول ’مَا لَا یَضُرُّہٗ وَمَا لَا یَنْفَعُہٗ‘ پر ایک قسم کا استدراک ہے اور مقصود اس سے اس کے ’ضَلٰل بَعِیۡد‘ ہونے کی وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں صرف یہی نہیں کہ وہ کوئی ضرر یا نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ ستم بالائے ستم ہے کہ ان کا ضرر ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ اگر کسی ایسے کی پناہ ڈھونڈھی جائے جو نہ نفع پہنچا سکے نہ ضرر تو یہ حماقت ہے لیکن حماقت در حماقت یہ ہے کہ ایسے کی پناہ ڈھونڈھی جائے جس کا ضرر تو نقد اور ثابت و معلوم لیکن نفع بالکل موہوم۔ جنھوں نے خدا سے تعلق توڑ کر دوسروں کو اپنا ولی و کارساز مانا انھوں نے اپنا حقیقی سہارا تو ختم کر دیا رہے دوسرے مزعومہ سہارے تو وہ کام آتے ہیں یا نہیں؟ یہ بعد کی چیز ہے اور یہ بھی ان کے سامنے آ جائے گی۔
      امام اور مقتدی دونوں ناہنجار: ’لَبِئۡسَ الْمَوْلٰی وَلَبِئۡسَ الْعَشِیْرُ‘۔ یہ فقرہ یہاں بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح آیت ۷۳ میں، جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے، ’ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ‘ ہے۔ جس طرح وہاں فرمایا ہے کہ ’’طالب و مطلوب دونوں ہی بے بس و ناتوان‘‘ اسی طرح یہاں فرمایا ہے کہ مولیٰ اور عشیر دونوں ہی ایک سے ایک بڑھ کر ناہنجار! ’مولیٰ‘ سے مراد وہ شرکاء و شفعاء ہیں جن کو خدا کے سوا مرجع اور کارساز بنایا گیا اور ’عشیر‘ سے مراد وہ مشرکین ہیں جنھوں نے ان کو مرجع و کارساز بنایا۔ پیر اور مرید، امام اور مقتدی، لیڈر اور پیرو دونوں اگر ایک ہی سانچے کے ڈھلے ہوئے اور برے ہونے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہوں تو ان کا انجام معلوم ہے!

      جاوید احمد غامدی یہ اُن کو پکارتے ہیں، وہی جن کا نقصان اُن کے نفع سے قریب تر ہے۔ کیا ہی برے ہیں یہ مولیٰ اور کیا ہی برے ہیں اُن کے یہ ساتھی (جو اُنھیں مولیٰ بنائے ہوئے ہیں)! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ جملہ ’یَدْعُوْا‘ کا براہ راست مفعول نہیں ہے،بلکہ اوپر والے مفعول ’مَا لَا یَضُرُّہٗ وَمَا لَا یَنْفَعُہٗ‘ پر ایک قسم کا استدراک ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں، صرف یہی نہیں کہ وہ کوئی ضرر یا نفع نہیں پہنچا سکتے، بلکہ ستم بالاے ستم ہے کہ اُن کا ضرر اُن کے نفع سے قریب تر ہے۔ اگر کسی ایسے کی پناہ ڈھونڈی جائے جو نہ نفع پہنچا سکے نہ ضرر تو یہ حماقت ہے، لیکن حماقت در حماقت یہ ہے کہ ایسے کی پناہ ڈھونڈی جائے جس کا ضرر تو ثابت و معلوم ہو، لیکن نفع بالکل موہوم۔ جنھوں نے خدا سے تعلق توڑ کر دوسروں کو اپنا ولی و کارساز مانا، انھوں نے اپنا حقیقی سہارا تو ختم کر دیا۔ رہے دوسرے مزعومہ سہارے تو وہ کام آتے ہیں یا نہیں، یہ بعد کی چیز ہے اور یہ بھی اُن کے سامنے آ جائے گی۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۲۲۴)

      یعنی مشرکین۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل صالح کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ بے شک اللہ جو چاہے گا کر ڈالے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخلصین کا انجام: خدا سے مایوس ہو کر دوسروں کی پناہ ڈھونڈھنے والوں کا انجام بیان کرنے کے بعد یہ ان لوگوں کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا جو سختی و نرمی اور رنج و راحت ہر طرح کے حالات میں ایمان و عمل صالح کی روش پر قائم و دائم رہیں گے۔ فرمایا کہ بے شک اللہ ان لوگوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ سیاق کلام دلیل ہے کہ یہاں فعل اپنے کامل معنوں میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ یہ مقابل میں ہے ’وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ‘ کے۔ اس وجہ سے اس سے لازماً وہ لوگ مراد ہوں گے جو دودلی اور نفاق میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ پوری دل جمعی و یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی پر جمے ہوئے ہوں۔
      ’اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ‘۔ یعنی یہ مشرکین تو جن پر تکیہ کیے ہوئے ہیں وہ نہ کوئی نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ کوئی ضرر، یہاں تک کہ اگر کوئی مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس کو بھی اس سے بچا سکنے پر قادر نہیں۔ البتہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ جو چاہے کر ڈالتا ہے۔ اس میں مسلمانوں کے لیے طمانیت و بشارت ہے کہ تم ظاہری حالات کی نامساعدت کو نہ دیکھو۔ حالات خواہ کتنے ہی ناموافق و نامساعد ہوں اپنے رب پر جمے رہو۔ اور اطمینان رکھو کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے برخلاف) اللہ اُن کو جو پوری سچائی کے ساتھ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے، یقیناًایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ بے شک، اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر فرمایا ہے: ’مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ‘۔ یہ اُس کے مقابل میں ہے، اِس لیے فعل یہاں کمال فعل کے معنی میں ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔
      یہ تسلی کا جملہ ہے کہ مسلمان حالات کی نا مساعدت نہ دیکھیں۔ اُن کا پروردگار جو چاہے، کر سکتا ہے۔ اُس کے ارادوں میں کوئی چیز بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

    • امین احسن اصلاحی جو یہ گمان رکھتا ہو کہ خدا دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا تو وہ آسمان تک ایک رسی تانے اور پھر اپنے معاملہ کا فیصلہ کر ڈالے اور دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کے غم کو دور کرنے والی بنتی ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ضمیر مفعول کا مرجع: ’مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ‘ ’یَنْصُرَہُ‘ میں ضمیر کا مرجع ’من‘ ہے۔ جن لوگوں نے اس کا مرجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا ہے ان کی رائے سیاق و سباق کلام سے بالکل بے جوڑ ہے۔ آیت میں اشارہ انہی دودلوں اور منافقوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے اور جن کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ اگر انھیں کوئی آزمائش پیش آ جاتی ہے تو خدا سے مایوس و بدگمان ہو کر دوسروں کو مولیٰ و مرجع بنا بیٹھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پیش آمدہ مشکل سے خدا ان کو نہیں نکالے گا یا نہیں نکال سکتا۔
      ’مدّسبب‘ کا مفہوم: ’فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآءِ‘۔ آسمان میں رسی تاننا آخری اور انتہائی تدبیر کر دیکھنے کے لیے اسی طرح کا ایک استعارہ ہے جس طرح ہماری زبان میں تھگلی لگانے کا استعارہ ہے۔ سورۂ انعام میں بھی آسمان میں تھگلی لگانے کا استعارہ گزر چکا ہے۔ فرمایا ہے:

      وَاِنْ کَانَ کَبُرََ عَلَیْکَ اِعْرَاضُھُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْسُلَّمًا فِی السَّمآءِ فَتَاْتِیَھُمْ بِاٰیَۃٍط وَلَوْشَآءَ اللّٰہُ لَجَمَعَھُمْ عَلَی الْھُدٰی فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ (انعام: ۳۵)
      ’’اور اگر ان لوگوں کا اعراض تم پر ایسا ہی شاق گزر رہا ہے تو اگر تم زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگا کر ان کے لیے کوئی نشانی لا سکو تو لا دو! اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر مجتمع کر دیتا تو تم جذبات سے مغلوب ہو جانے والوں میں سے نہ بنو!‘‘

      زہیر اور اعشیٰ نے بھی انتہائی اور آخری جدوجہد کے مفہوم کے لیے یہ محاورہ استعمال کیا ہے۔ زہیر کا مصرع ہے ع

      ولو نال اسباب السماء بسلّم

      اسی طرح اعشیٰ کہتا ہے۔ ع

      ورقیت اسباب السماء بسلّم

      ’قطع‘ کا مفہوم: ’ثُمَّ لْیَقْطَعْ‘۔ ’قطع‘ کے معنی ابو مسلم نے قطع مسافت کے لیے یعنی وہ آسمان میں رسی تانے اور آسمان میں چڑھ جائے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی قطع وحی کے لیے ہیں یعنی جس کو یہ گمان ہو کہ اللہ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا وہ آسمان میں چڑھ کر سلسلۂ وحی کو قطع کر دے۔ اکثر لوگوں نے اس کے معنی پھانسی لگانے یا گلا گھونٹ لینے کے لیے ہیں یعنی وہ چھت میں رسی لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی لگا لے۔ ان تاویلوں میں جو قباحت ہے اس سے قطع نظر لفظ ’قطع‘ کا جو مفہوم ان حضرات نے لیا ہے وہی محل نظر ہے۔ وحی کو منقطع کر دینے یا پھانسی لگا لینے کے معنی کے لیے تو اس لفظ کا استعمال بالکل ہی ناموزوں ہے، عربیت کا ذوق اس اسے ابا کرتا ہے۔ کسی مفہوم کے لیے معروف و متداول الفاظ کے ہوتے ہوئے کسی ناموزوں لفظ کا استعمال قرآن کی فصاحت و بلاغت کے بالکل منافی ہے۔ قطع مسافت کے مفہوم کے لیے اگرچہ اس لفظ کو ناموزوں نہیں قرار دیا جا سکتا اس لیے کہ ’قطع وادی‘ وغیرہ کے محاورات عربی میں معروف ہیں لیکن یہاں اس لفظ کا استعمال اس مفہوم کے لیے بالکل ناموزوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آسمان کی طرف رسی تاننے کا ذکر ہے تو اس کے ساتھ ’فَلْیَتَصَعَّد‘ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ موزوں ہو سکتا ہے، ’یقطع‘ اس کے ساتھ کسی طرح بھی موزوں نہیں ہے۔
      ہمارے نزدیک یہ تمام اقوال ضعیف ہیں۔ البتہ عزم و جزم کے ساتھ کسی معاملہ کا فیصلہ کرنے کے مفہوم کے لیے یہ لفظ اعلیٰ عربی میں معروف ہے۔ اس کی نظیر خود قرآن میں موجود ہے۔ مثلاً سورۂ نمل میں ہے:

      قَالَتْ یٰٓاَیُّھَا المَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْٓ اَمْرِیْ مَا کُنْتُ قَاطِعَۃً اَمْرًا حَتّٰی تَشْھَدُوْنِ (نمل: ۳۲)
      ’’ملکۂ سبا نے کہا کہ اے درباریو، میرے اس معاملے میں آپ لوگ اپنی رائے دیں۔ میں کسی معاملہ کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک آپ لوگ موجود ہو کر مشورہ نہ دیں۔‘‘

      خدا سے مایوسی و بدگمانی کا انجام: اجزائے آیت کی تشریح کے بعد اب آیت کے مفہوم پر غور کیجیے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بدبخت و نامراد خدا سے مایوس و بدگمان ہوتا ہے کہ وہ اس کی مدد نہیں کرے گا اور اس بدگمانی میں مبتلا ہو کر دوسروں کو اپنا مولیٰ و مرجع بناتا ہے وہ جو چاہے کر دیکھے، وہ آسمان میں تھگلی لگائے اور انا پورا زور لگا کر اپنے معاملہ کا فیصلہ اور غم اور پریشانی کو اگر دور کر سکتا ہے تو دور کر لے۔ مطلب یہ کہ خدا کو ایسے لاخیروں سے کوئی بحث نہیں۔ وہ جہاں چاہیں آوارہ گردی کریں اور جس جوہڑ سے چاہیں اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کریں۔ لیکن یاد رکھیں کہ انسانی فطرت کے اندر جو پیاس ہے وہ ہر جوہڑ کے پانی سے نہیں بجھ سکتی، وہ صرف ایمان کے حوض کوثر ہی سے بجھتی ہے۔ اور اس کے اندر جو خلا ہے وہ ہر اینٹ پتھر سے نہیں بھرا جا سکتا، اس کو اگر بھرا جا سکتا ہے تو صرف اللہ واحد کی یاد ہی سے بھرا جا سکتا ہے۔ سورۂ طٰہٰ کی آیت ۱۲۴ ’وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا‘ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس آیت سے متعلق بعض مزید سوالات جو پیدا ہوں گے وہ اس سے صاف ہو جائیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خدا سے مایوسی و بدگمائی شرک کے بہت بڑے عوامل میں سے ہے۔ اس حقیقت کی وضاحت ہم اپنی کتاب ’حقیقت شرک‘ میں کر چکے ہیں۔ انسان جب خدا سے کٹتا ہے تو وہ بہرحال اپنی فطرت سے مجبور ہو کر کوئی نہ کوئی سہارا ڈھونڈھنے کی سعی کرتا ہے لیکن حقیقی سہارا چونکہ خدا اور صرف خدا ہی ہے اس وجہ سے وہ چاہے آسمان ہی پر چڑھ جائے اس کی ساری سعی لاحاصل ہی رہتی ہے۔
      اس آیت میں ’فِی الْاٰخِرَۃِ‘ کا لفظ بھی قابل غور ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں خدا ہی یاور و ناصر ہے اسی طرح آخرت میں بھی خدا ہی یاور و ناصر ہے۔ اگر کوئی خدا کے رحم یا انصاف سے بدگمان ہو کر کسی اور کو اپنا یاور و ناصر بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے مقابل میں اس کے کام آئیں گے تو وہ یہ بھی کر دیکھے۔ اس کے اس وہم کی حقیقت بھی قیامت کے دن اس پر آشکارا ہو جائے گی۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِنھیں بتاؤ کہ) جو یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں ہرگز اُس کی مدد نہ کرے گا، اُس کو چاہیے کہ (اپنے تصور میں ذرا) ایک رسی (اوپر چڑھنے کے لیے) آسمان کی طرف تانے، پھر (جب منزل کو بہت دور دیکھ کر رنجیدہ ہو تو) اُس کو کاٹ دے اور دیکھے کہ آیا اُس کی یہ تدبیراُس کے رنج کو دور کرنے والی بنتی ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی خدا کی آزمایش میں اُس سے مایوس اور بدگمان ہو جاتا ہے کہ جس طرح دنیا میں اُس نے اُسے چھوڑ دیا ہے، آخرت میں بھی اِسی طرح بے یارومددگار چھوڑ دے گا۔ چنانچہ خدا سے منہ موڑ کر دوسروں کو اپنا مولیٰ و مرجع بنا لیتا ہے۔
      یعنی یہ تصور کرے کہ وہ آسمان کی طرف رسی تان کر اوپر چڑھ رہا ہے، لیکن جب دیکھتا ہے کہ منزل بہت دور ہے تو رنجیدہ ہو کر رسی کو کاٹ دیتا ہے۔ یہ اُنھی لوگوں کے رویے کی نہایت بلیغ تمثیل ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے کہ خدا کی بندگی کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں اور اگر کوئی آزمایش پیش آجائے تو اُس سے امیدیں توڑ کر دوسروں کے دروازے پر آ گرتے ہیں۔ اُنھیں بتایا ہے کہ خدا کی آزمایشوں میں اُس سے رحمت کی امید درحقیقت وہ رسی ہے جو انسان کو سہارا دیتی ہے اور اُسی کو پکڑ کر وہ اوپر کی طرف اٹھتا اور خدا سے قریب ہوتا ہے، لیکن دوری منزل سے گھبرا کر اگروہ غصے میں آجائے اور رسی کو کاٹ دے تو اِس حماقت کا نتیجہ کیا ہو گا؟ آیا اُس کا رنج اور غصہ دور ہو جائے گا یا وہی صورت حال پیدا ہو جائے گی جس کو قرآن نے آگے اِسی سورہ کی آیت ۳۱ میں بیان کیا ہے کہ گویا آسمان سے گر پڑا ہے، اب یا پرندے اُس کو اچک لے جائیں گے یاہوائیں اُس کو کسی گہرے کھڈ میں لے جا کر پھینک دیں گی؟ خدا سے مایوس ہو کر دوسروں کے آستانے پر ماتھا رگڑنے والے بالآخر اِسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ اِس کے برخلاف جو خدا سے امید کی رسی تھامے رہتے ہیں، جلد یا بدیر اُن کے لیے خدا کا ہاتھ نمودار ہوتا ہے اور اوپر چڑھنے کی مشقت سے نجات دلا کر اُن کو اپنے دامن رحمت کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ آیت میں امید کی رسی کاٹ دینے کے اِس فعل کو لفظ ’کَیْد‘سے تعبیر کیا ہے ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ محض فریب نفس ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان یہ حماقت کرتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کو نہایت واضح دلیلوں کی صورت میں اتارا ہے کہ لوگ ہدایت حاصل کریں اور بے شک اللہ ہی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ آیت بطور تنبیہ کے ہے اور ’کَذٰلِکَ‘ کا اشارہ توحید اور رد شرک کے ان روشن دلائل کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوئے۔ فرمایا کہ اسی طرح نہایت روشن دلائل کے ساتھ ہم نے قرآن کو اتارا ہے۔ اس کے بعد بربنائے قرینہ یہ مضمون محذوف ہے کہ جو صاحب توفیق ہوں گے وہ آیات پر ایمان لائیں گے اور جو توفیق سے محروم ہوں گے وہ، جیسا کہ اوپر آیت ۸ میں اشارہ ہوا، اللہ اور اس کی آیات میں کٹھ حجتی ہی کرتے رہیں گے۔ ’وَاَنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ‘ میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو ہدایت و ضلالت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی ہے اور جس کی وضاحت ہم بار بار کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت انہی کو نصیب ہوتی ہے جو اپنی عقل و بصیرت سے کام لیتے ہیں۔ جو اندھے بہرے بن جاتے ہیں ان کے دلوں پر مہر کر دی جاتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے اِس (قرآن) کو اِسی طرح کھلی کھلی دلیلوں کی صورت میں اتارا ہے اور (اِس وضاحت کے ساتھ اتارا ہے) کہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) ہدایت دیتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اپنے اِس قانون کے مطابق کہ ہدایت اُنھی کو نصیب ہو گی جو عقل و بصیرت سے کام لیں گے اور جو ہدایت اُن کے اندر ودیعت کی گئی ہے، اُس کی قدر کریں گے، اور جو اندھے بہرے بن جائیں گے، اُن کے دلوں پر مہر کر دی جائے گی، وہ کبھی ہدایت نہ پائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی جو لوگ ایمان لائے، جنھوں نے یہودیت اختیار کی اور صابئین، نصاریٰ، مجوس اور جنھوں نے شرک کیا، اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مشرکین اور ان کے اتحادیوں کو تنبیہ: اس آیت میں جن گروہوں کا ذکر ہے ان میں سے مجوس اور مشرکین کے سوا ہر گروہ کا ذکرسورۂ بقرہ آیت ۶۲ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے یہود، نصاریٰ اور صابئین، سب پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ملاحظہ ہوں صفحات ۱۸۲-۱۸۷ جلد اول۔ مجوس اصلاً تو دین زردشت کے پیرو تھے اور دین زردشت کی بنیاد، جیسا کہ ہم سورۂ کہف میں بیان کر چکے ہیں، خالص توحید پر تھی لیکن جس طرح امتداد زمانہ سے ہر دین کا حلیہ بگڑا اسی طرح اس دین کے پیرو بھی اپنے اصل دین کو مسخ کر کے آتش پرستی اور دوسری مشرکانہ بدعتوں میں مبتلا ہو گئے۔
      اوپر کی آیات میں مومنین اور مشرکین کے درمیان جس مناظرہ و مجادلہ کا ذکر ہوا ہے یہ آیت بھی اسی سے متعلق ہے۔ اس مناظرہ کے اصلی فریق تو مسلمان اور مشرکین قریش ہی تھے لیکن اس دور میں، جیسا کہ پیچھے کی سورتوں میں تفصیل گزر چکی ہے، دوسرے مذاہب کے پیرو بھی، جو عرب میں موجود تھے، اس میں فریق بن گئے، اور چونکہ اسلام کی دعوت کی زد ان سب پر پڑتی تھی اس وجہ سے ان کی ہمدردیاں مشرکین کے ساتھ تھیں، خاص طور پر یہود و نصاریٰ تو کھلم کھلا ہر محاذ پر ان کا ساتھ دے رہے تھے۔ قرآن نے ان سب کو نام لے کر آگاہ کیا کہ آج خدا اور اس کی آیات کے باب میں جو محاذ گرم ہے وہ یہیں نہیں ختم ہو جائے گا بلکہ یہ قضیہ قیامت کے دن خدا کی عدالت میں بھی پیش ہونے والا ہے جس میں ایک طرف اہل ایمان ہوں گے، دوسری طرف یہ مشرکین اور ان کے ہمنوا ۔۔۔ یہود، صابئین، نصاریٰ اور مجوس ۔۔۔ اس دن خدا فیصلہ فرمائے گا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔ ظاہر ہے کہ یہاں ’فیصلہ‘ سے مقصود اس کے نتیجہ کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اس دن ہر ایک کے سامنے اس کی اس سعی و سرگرمی کے نتائج آ جائیں گے جس میں وہ آج مصروف ہے۔ اہل ایمان اپنی جاں بازیوں کا صلہ پائیں گے اور کفار و مشرکین اور ان کے اتحادی اپنی سرگرمیوں کے نتائج بھگتیں گے۔
      ’اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ‘۔ اہل ایمان کے لیے پیام تسلی اور اہل شرک اور ان کے حامیوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ خدا ہر چیز کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اپنے باایمان بندوں کی جاں بازیوں اور سرفروشیوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور شرارتوں کو بھی۔ اس وجہ سے وہ ہر ایک کے ساتھ ٹھیک ٹھیک وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔
      جو اہل ایمان کے ساتھ نہیں وہ اہل کفر ہیں: اس آیت میں آپ نے غور کیا ہو گا کہ سب سے پہلے اہل ایمان کا ذکر ہوا ہے اور آخر میں مشرکین کا اور بیچ میں دوسرے مختلف فرقوں کا۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ ہے کہ اصل فریق کی حیثیت اس مباحثہ و مناظرہ میں انہی دو کو حاصل تھی، باقی گروہوں کی حیثیت ضمنی تھی۔ چنانچہ آگے آیت ۱۹ میں تصریح بھی ہے کہ اصل فریق دو ہیں۔ اہل ایمان اور اہل کفر و شرک۔ جو اہل ایمان کے ساتھ نہیں ہے وہ اہل کفر میں سے ہے، خواہ وہ کسی نام سے موسوم اور کسی دین کی پیروی کا مدعی ہو۔
      اسم اور فعل کے مواقع استعمال میں ایک نازک فرق: آیت میں مختلف گروہوں کے ذکر کے لیے جو اسلوب بیان اختیار فرمایا گیا ہے وہ بھی قابل توجہ ہے۔ مسلمانوں اور یہود و مشرکین کا ذکر تو فعل کی شکل میں ہوا اور صابئین، نصاریٰ اور مجوس کا اسم کی شکل میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عملاً اس میدان میں ایک طرف مسلمان تھے، دوسری طرف مشرکین اور یہود۔ مشرکین کی حمایت اور اسلام کی مخالفت میں اپنے حسد و عناد کے باعث بہت سرگرم تھے۔ باقی فرقوں کی ہمدردیاں اگرچہ تھیں تو مشرکین ہی کے ساتھ لیکن وہ کچھ زیادہ سرگرم نہ تھے۔ اس وجہ سے معرکہ کے اصلی حریفوں کو تو فعل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور دوسروں کا ذکر اسم کے ساتھ۔ زبان کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ فعل کے اندر ایک قسم کی سرگرمی کا مفہوم پایا جاتا ہے جب کہ اسم بالعموم صرف علامت امتیاز کا فائدہ دیتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ خدا کے بارے میں حجتیں کرتے ہیں۔ اِنھیں بتاؤ کہ) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنھوں نے یہودیت اختیار کر رکھی ہے اورصابئی اور نصاریٰ اور مجوس اورجو شرک اختیار کیے ہوئے ہیں، اللہ قیامت کے دن اِن سب کے درمیان (اِن کے اختلافات کا) فیصلہ کر دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہود و نصاریٰ اور صابئین کا تعارف سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۶۲ کے تحت ہو چکا ہے۔ یہاں مجوس کا اضافہ ہے۔ یہ دین زردتشت کے پیرو تھے۔ عام خیال یہی ہے کہ اِس دین کی بنیادبھی اصلاً توحید خالص پر تھی، لیکن شرک کی گمراہیوں نے اِسے بری طرح مسخ کرکے رکھ دیا تھا۔ چنانچہ بعثت نبوی کے زمانے میں یہ بھی ثنویت، آتش پرستی اور دوسری مشرکانہ بدعتوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔
      یعنی مشرکین عرب جو اصلاً دین ابراہیمی کے پیرو تھے۔
      یہ ایمان والوں کے لیے تسلی اور منکرین کے لیے تہدید و وعید ہے۔ اِس پوری آیت کو دیکھیے تو اِس میں جو اسالیب اختیار کیے گئے ہیں، وہ نہایت قابل توجہ ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’ اِس آیت میں آپ نے غور کیا ہو گا کہ سب سے پہلے اہل ایمان کا ذکر ہوا ہے اور آخر میں مشرکین کا اور بیچ میں دوسرے مختلف فرقوں کا۔ اِس کی وجہ... یہ ہے کہ اصل فریق کی حیثیت اِس مباحثہ و مناظرہ میں اِنھی دو کو حاصل تھی، باقی گروہوں کی حیثیت ضمنی تھی۔ چنانچہ آگے آیت ۱۹ میں تصریح بھی ہے کہ اصل فریق دو ہیں: اہل ایمان اور اہل کفر و شرک۔ جو اہل ایمان کے ساتھ نہیں ہے، وہ اہل کفر میں سے ہے، خواہ وہ کسی نام سے موسوم اور کسی دین کی پیروی کا مدعی ہو۔
      آیت میں مختلف گروہوں کے ذکر کے لیے جو اسلوب بیان اختیار فرمایا گیا ہے، وہ بھی قابل توجہ ہے۔ مسلمانوں اور یہود و مشرکین کا ذکر تو فعل کی شکل میں ہواہے اور صابئین، نصاریٰ اور مجوس کا اسم کی شکل میں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ عملاً اِس میدان میں ایک طرف مسلمان تھے، دوسری طرف مشرکین اور یہود۔یہود مشرکین کی حمایت اور اسلام کی مخالفت میں اپنے حسد و عناد کے باعث بہت سرگرم تھے۔ باقی فرقوں کی ہمدردیاں اگرچہ تھیں تو مشرکین ہی کے ساتھ ، لیکن وہ کچھ زیادہ سرگرم نہ تھے۔ اِس وجہ سے معرکے کے اصلی حریفوں کو تو فعل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور دوسروں کا ذکر اسم کے ساتھ۔ زبان کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ فعل کے اندر ایک قسم کی سرگرمی کا مفہوم پایا جاتا ہے، جبکہ اسم بالعموم صرف علامت امتیاز کا فائدہ دیتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۲۲۸)

       

    • امین احسن اصلاحی کیا نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی کے آگے جھکتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت اور چوپائے اور لوگوں میں سے بہتیرے۔ اور بہتیرے ایسے ہیں جن پر خدا کا عذاب لازم ہو چکا ہے۔ اور جن کو خدا ذلیل کر دے تو ان کو کوئی دوسرا عزت دینے والا نہیں بن سکتا۔ بے شک اللہ ہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کائنات کی ہر چیز سجدے میں ہے: یہ توحید کی وہ دلیل بیان ہوئی ہے جس کی شہادت اس کائنات کی ہر چیز اپنے وجود سے دے رہی ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز اپنی تکوینی حیثیت میں ابراہیمی مزاج رکھتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ اور چوپائے سب خدا کے امر و حکم کے تحت مسخر ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی سرمو خدا کے مقرر کیے ہوئے قوانین سے انحراف نہیں اختیار کرتی۔ سورج، جس کو نادانوں نے معبود بنا کر سب سے زیادہ پوجا ہے، خود اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ وہ شب و روز اپنے رب کے آگے قیام، رکوع اور سجدے میں ہے۔ طلوع کے وقت وہ سجدے سے سر اٹھاتا ہے، دوپہر تک وہ قیام میں رہتا ہے، زوال کے بعد وہ رکوع میں جھک جاتا ہے اور غروب کے وقت وہ سجدے میں گر جاتا ہے اور رات بھر اسی سجدے کی حالت میں رہتا ہے۔ اسی حقیقت کا مظاہرہ چاند اپنے عروج و محاق سے اور ستارے اپنے طلوع و غروب سے کرتے ہیں۔ پہاڑوں، درختوں اور چوپایوں کا بھی یہی حال ہے۔ ان میں سے ہر چیز کا سایہ ہر وقت قیام، رکوع اور سجود میں رہتا ہے۔ اور غور کیجیے تو یہ حقیقت بھی نظر آئے گی کہ اس سایہ کی فطرت ایسی ابراہیمی ہے کہ یہ ہمیشہ آفتاب کی مخالف سمت میں رہتا ہے۔ اگر سورج مشرق کی سمت میں ہے تو سایہ مغرب کی جانب پھیلے گا اور اگر مغرب کی جانب ہے تو ہر چیز کا سایہ مشرق کی طرف پھیلے گا۔ گویا ہر چیز کا سایہ اپنے وجود سے ہمیں اس بات کی تعلیم دے رہا ہے کہ سجدہ کا اصل سزاوار آفتاب نہیں بلکہ خالق آفتاب ہے۔
      توحید کی یہ دلیل اشارات کی نوعیت کی ہے اس وجہ سے یہ منطق کی گرفت میں نہیں آتی لیکن نظام کائنات میں تدبر کرنے والوں کی نظر میں ان اشارات کی بڑی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ع

      آں کس است اہلِ بشارت کہ اشارت داند

      یہی دلیل سورۂ رعد میں یوں بیان ہوئی ہے:

      وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّظِلٰلُھُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ. (رعد۱۵)
      ’’اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، خواہ طوعاً یا کرہاً اور ان کے سائے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں صبح و شام۔‘‘

      اس آیت کی وضاحت سورۂ رعد میں ہم کر چکے ہیں۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس میں ’ظِلٰلُھُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ‘ کے الفاظ اس حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر کوئی شامت کا مارا اپنے دائرۂ اختیار میں خدا کو سجدہ کرنے سے بغاوت کرتا ہے تو اس کا اپنا سایہ اپنی شہادت حال سے اس پر اظہار نفرت کرتا ہے اور وہ بدستور اپنی ابراہیمی فطرت پر جمع رہتا ہے، کسی حال میں بھی کسی غیر اللہ کے آگے جھکنے کا ننگ گوارا نہیں کرتا۔
      سورۂ نحل میں یہی دلیل اس طرح بیان ہوئی ہے:

      اَوَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُہٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَالشَّمَآءِلِ سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَھُمْ دٰخِرُوْنَ ہ وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّۃٍ وَّالْمَلٰٓئِکَۃُ وَھُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ. (نحل: ۴۸-۴۹)
      ’’کیا ان لوگوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے اس پہلو پر غور نہیں کیا کہ ان کے سائے داہنے اور بائیں سے لوٹتے ہیں اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہوئے اور وہ اس کے آگے سرفگندہ ہوتے ہیں اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں آسمانوں اور زمین میں جو جاندار بھی ہیں اور فرشتے بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘

      سب سے بڑا شرف سب سے بڑی ذلت: ’وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ‘ یعنی یہی حال ان بہت سے اللہ کے بندوں کا بھی ہے جن کی فطرت سلیم ہے۔ جس طرح کائنات کی تمام بے ارادہ اشیاء اللہ ہی کے امر کے تابع اور اسی کے آگے سربسجود ہیں اسی طرح اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں جنھوں نے اپنے اختیار و ارادے کو اللہ ہی کے امر و حکم کے تابع کر دیا ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے، لیکن بہتوں نے اپنے اس اختیار و ارادہ کو غلط استعمال کیا ہے اور اس سب سے بڑے شرف کو، جو اللہ نے ان کو بخشا، اپنی شامت اعمال سے انھوں نے اپنے لیے سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی ذلت کا سبب بنا لیا۔ کائنات کی چیزوں کا حال تو یہ ہے کہ باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو انسان کی خدمت کے لیے بنایا ہے لیکن اس کے باوجود ان میں سے کوئی چیز بھی یہ ننگ گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ وہ انسان کو سجدہ کرے لیکن انسان کی رذالت و سفاہت کا حال یہ ہے کہ وہ اشرف المخلوقات اور خلیفۃ اللہ فی الارض ہوتے ہوئے اپنے سے فروتر مخلوقات کو معبود مان کر ان کے آگے ڈنڈوت کرتا ہے! فرمایا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کا عذاب واجب ہو چکا ہے۔ اس لیے کہ انھوں نے اپنے کو بھی ذلیل کیا اور اپنے رب کی بھی نہایت تحقیر کی۔
      انسان کا شرف کردار کے ساتھ مشروط ہے: ’وَمَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَالَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ‘۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جو شرف بخشا ہے وہ صفات و کردار کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر وہ اس شرف کا حق ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے شرف کو قائم رکھتا ہے اور اس کے درجات و مراتب میں اضافہ فرماتا ہے اور اگر وہ اس کی قدر نہیں کرتا تو وہ اس کو اپنی سنت کے مطابق اسی گڑھے میں گرنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے جس میں وہ گرنا چاہتا ہے۔ ’نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی‘ اور اس مضمون کی دوسری آیات میں اسی سنت الٰہی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ اس سنت الٰہی کی زد میں آ جاتے ہیں ان کو کوئی دوسرا سنبھالنے والا نہیں بن سکتا۔ اس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی بھی ہے کہ اب یہ لوگ جس ذلت کے گڑھے میں گر چکے ہیں اس سے ان کو نکالنے کے لیے تم لاکھ جتن کرو لیکن یہ اس سے نکلنے والے نہیں ہیں۔ خدا کی مشیت کا فیصلہ اس اتمام حجت کے بعد یہی ہے کہ اب یہ اس ذلت کی مار کھائیں۔
      من چہ می سرایم و طنبورہ من چہ می سراید: اس آیت سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ انسان کا اصلی شرف توحید ہے، اگر وہ اس شرف سے اپنے کو محروم کر لے تو اس کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے بھی وہ فروتر اور حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ دوسری حقیقت اس سے یہ واضح ہوئی کہ اس کائنات کے ساتھ انسان کی ہم آہنگی اسی وقت تک باقی رہتی ہے جب تک اس کی پیشانی کسی غیر اللہ کے سجدے سے آلودہ نہیں ہوتی۔ اگر وہ اس ذلت پر راضی ہو جائے تو وہ اس پوری کائنات سے بالکل بے جوڑ اور گول خانے میں ایک چوکھٹی چیز بن کر رہ جاتا ہے یہاں تک کہ خود اس کا اپنا سایہ بھی اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ پھر اس میں اور اس کے سایہ میں ایسی بے ربطی پیدا ہو جاتی ہے کہ اس پر ’من چہ می سرایم و طنبورۂ من چہ می سراید‘ کی مثل صادق آتی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی کیا دیکھتے نہیں ہو کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، سب اللہ ہی کے آگے سر بہ سجود ہیں، اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپایے اور بہت سے لوگ بھی۔ اور بہت سے وہ بھی ہیں کہ جن پرخدا کا عذاب لازم ہو چکا ہے، (اِس لیے کہ اُنھوں نے یہ ذلت قبول کر لی کہ دوسروں کے آگے سر جھکا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ) جس کو اللہ ذلیل کر دے، اُسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں ہے، اِس لیے کہ اللہ (اپنے قانون کے مطابق) جو چاہے، کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہ لوگ بھی سربہ سجود ہیں جن کی فطرت سلیم ہے اور جنھوں نے پورے شعور کے ساتھ اپنے ارادہ و اختیار کو خدا کے امر و حکم کے تابع کر دیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’یہ توحید کی وہ دلیل بیان ہوئی ہے جس کی شہادت اِس کائنات کی ہر چیز اپنے وجود سے دے رہی ہے۔ ہم ... اِس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ اِس کائنات کی ہر چیز اپنی تکوینی حیثیت میں ابراہیمی مزاج رکھتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ اور چوپاے، سب خدا کے امر و حکم کے تحت مسخر ہیں۔ اِن میں سے کوئی چیز بھی سرموخدا کے مقرر کیے ہوئے قوانین سے انحراف نہیں اختیار کرتی۔ سورج، جس کو نادانوں نے معبود بنا کر سب سے زیادہ پوجا ہے، خود اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ وہ شب و روز اپنے رب کے آگے قیام، رکوع اور سجدے میں ہے۔ طلوع کے وقت وہ سجدے سے سر اٹھاتا ہے، دوپہر تک وہ قیام میں رہتا ہے، زوال کے بعد وہ رکوع میں جھک جاتا ہے اور غروب کے وقت وہ سجدے میں گرجاتا ہے اور رات بھر اِسی سجدے کی حالت میں رہتا ہے۔ اِسی حقیقت کا مظاہرہ چاند اپنے عروج و محاق سے اور ستارے اپنے طلوع و غروب سے کرتے ہیں۔ پہاڑوں، درختوں اور چوپایوں کا بھی یہی حال ہے۔ اِن میں سے ہر چیز کاسایہ ہر وقت قیام، رکوع اور سجود میں رہتا ہے۔ اور غور کیجیے تو یہ حقیقت بھی نظر آئے گی کہ اِس سایے کی فطرت ایسی ابراہیمی ہے کہ یہ ہمیشہ آفتاب کی مخالف سمت میں رہتا ہے۔ اگر سورج مشرق کی سمت میں ہے تو سایہ مغرب کی جانب پھیلے گا اور اگر مغرب کی جانب ہے تو ہر چیز کا سایہ مشرق کی طرف پھیلے گا۔ گویا ہر چیز کا سایہ اپنے وجود سے ہمیں اِس بات کی تعلیم دے رہا ہے کہ سجدے کا اصل سزاوار آفتاب نہیں ،بلکہ خالق آفتاب ہے۔
      توحید کی یہ دلیل اشارات کی نوعیت کی ہے، اِس وجہ سے یہ منطق کی گرفت میں نہیں آتی، لیکن نظام کائنات میں تدبر کرنے والوں کی نظرمیں اِن اشارات کی بڑی قدر و قیمت ہوتی ہے:

      آں کس است اہل بشارت کہ اشارت داند

      ‘‘
      (تدبرقرآن ۵/ ۲۲۹)

      یعنی اِس کے باوجود کہ خدا نے اپنی بہت سی مخلوقات پر اُن کو فضیلت بخشی تھی، لیکن اُنھوں نے یہ ذلت قبول کر لی کہ اپنے سے فروتر مخلوقات کو معبود مان کر اُن کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں اختلاف کیا تو جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کے جامے تراشے جائیں گے۔ ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا پانی بہایا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دونوں گروہوں کے انجام کی تفصیل: اب یہ ان دونوں فریقوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جن کا ذکر اوپر آیت ۱۷ میں گزرا۔ وہاں صرف اس قدر اشارہ فرمایا تھا کہ ایک دن آئے گا جب اللہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، ان کے انجام کی تفصیل اس آیت میں بیان نہیں ہوئی تھی۔ ان آیات میں ان کے انجام کی تفصیل آ رہی ہے۔
      ایک سوال اور اس کا جواب: آیت ۱۷ میں کئی گروہوں کا ذکر ہے اور یہاں ’ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ‘ کے الفاظ ہیں۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس آیت میں انہی گروہوں کی طرف اشارہ ہے تو ان کے لیے مثنیٰ کا صیغہ کیوں استعمال ہوا، جمع کا صیغہ کیوں نہیں استعمال ہوا؟ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان، کلام عرب کی روشنی میں اس بات کی طرف معلوم ہوتا ہے کہ اگر فریق دو سے زیادہ ہوں تو ان کے لیے مثنیٰ اور جمع دونوں کے صیغے استعمال ہو سکتے ہیں۔ یہاں ’اِخْتَصَمُوْا‘ کے صیغۂ جمع سے بھی ان کے خیال کی تائید نکلتی ہے۔ لیکن میرا رجحان، جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا، اس بات کی طرف ہے کہ یہاں اوپر کے گروہوں کا ذکر، ان کے ظاہری تعدد کو نظرانداز کر کے، ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ہوا ہے۔ فی الظاہر تو یہود، نصاریٰ، صابئین، مجوس اور مشرکین الگ الگ گروہ تھے لیکن جہاں تک توحید اور اسلام کی مخالفت کا تعلق ہے اس میں یہ سب مشترک تھے۔ ان کی مخالفت کا مزاج، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں، الگ الگ ضرور تھا لیکن اسلام کی مخالفت میں، اپنے اپنے رجحان کے مطابق، سب شریک تھے اس وجہ سے قرآن نے ’اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَّاحِدَۃٌ‘ کے اصول کے مطابق ان سب کو ایک ہی پارٹی قرار دیا اور ان کے مقابل میں مسلمانوں کو ایک مستقل پارٹی کی حیثیت دی اور اسی حیثیت سے دونوں کے انجام کو بیان فرمایا۔
      ’اِخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ‘ میں اسی بحث و جدال کی طرف اشارہ ہے جو مسلمانوں اور ان کی مخالف پارٹیوں کے درمیان درباب شرک و توحید برپا تھا اور جس کا ذکر اوپر آیت ۳ اور آیت ۸ میں گزر چکا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ توحید اور شرک کے اس معرکے میں اہل کتاب نے، اہل کتاب ہونے کا دعویٰ رکھتے ہوئے، کھلم کھلا مشرکین عرب کا ساتھ دیا۔
      شرک اپنی حقیقت کے اعتبار سے کفر ہے: ’فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ سے مراد وہ تمام پارٹیاں ہیں جنھوں نے توحید و شرک کی اس جنگ میں شرک کا ساتھ دیا۔ شرک کو کفر سے تعبیر کرنے کی وجہ کی طرف ہم جگہ جگہ اشارہ کر چکے ہیں کہ شرک اپنی اصل حقیقت و غایت کے اعتبار سے کفر ہی ہے اسی وجہ سے قرآن میں شرک کو کفر سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ شرک کو کفر کے مقابل میں اہون خیال کرتے ہیں ان کا خیال قرآن کے بالکل خلاف ہے۔
      جزاء اور عمل کی مطابقت: ’قُطِّعَتْ لَھُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ‘ یعنی اس دنیا میں وہ حق کی مخالفت کے جوش میں نفرت، غصہ، حسد اور انتقام کی جس آگ میں جلتے رہے ہیں اس کی پاداش میں آخرت میں ان کے لیے آگ ہی کا جامہ تراشا جائے گا اور ان کے سروں پر کھولتا پانی انڈیلا جائے گا جو ان کے تمام اندرونی احشاء اور ان کے بیرونی کھالوں کو پگھلا کے رکھ دے گا۔

      جاوید احمد غامدی یہ (اہل ایمان اور مشرکین) دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ سو جنھوں نے (اُس کی توحید کو ماننے سے) انکار کر دیا ہے، اُن کے لیے آگ کے کپڑے تراشے جائیں گے، اُن کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے سب پگھل جائے گا اور ان کی کھالیں بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اس دنیا میں وہ حق کی مخالفت کے جوش میں نفرت، غصہ، حسد اور انتقام کی جس آگ میں جلتے رہے ہیں اس کی پاداش میں آخرت میں ان کے لیے آگ ہی کا جامہ تراشا جائے گا اور ان کے سروں پر کھولتا پانی انڈیلا جائے گا جو ان کے تمام اندرونی احشاء اور ان کی بیرونی کھالوں کو پگھلا کے رکھ دے گا۔

      جاوید احمد غامدی اُن کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے، سب اُس سے پگھل جائے گا اور (اوپر سے) اُن کی کھالیں بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List