Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 135 آیات ) Taha Taha
Go
  • طہ (Ta-Ha)

    135 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    اس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو، مخالفین کے مقابل میں، صبر اور انتظار کی تلقین ہے کہ آپ ان کے پیچھے زیادہ پریشان نہ ہوں، اگر وہ آپ کی بات نہیں سنتے تو بہت جلد یہ اپنا انجام خود دیکھ لیں گے۔ اسی مضمون سے سورہ کا آغاز بھی ہوا ہے اور اسی پر اختتام بھی۔ اس صبر کے حصول اور اس کی تربیت کے لیے نماز اور دعا کے اہتمام کی ہدایت فرمائی گئی ہے اور ساتھ ہی عجلت و بے صبری کے نقصانات واضح فرمائے گئے ہیں۔ سورہ میں خطاب تمام تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ مخالفین سے اگر کوئی بات کہی بھی گئی ہے تو ان کو خطاب کر کے نہیں بلکہ منہ پھیر کر غائبانہ انداز میں کہی گئی ہے۔
    پچھلی سورہ میں متعدد انبیائے عظام کا ذکر آیا ہے۔ اس میں صرف حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ ولادت سے لے کر دعوت و ہجرت تک جتنے اہم موڑ بھی ان کی زندگی میں پیش آئے ہیں سب اس سورہ میں نمایاں کیے گئے ہیں تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، دعوت کے اس مرحلہ میں بھی اور آگے کے مراحل میں بھی، جس رہنمائی کی ضرورت ہے وہ ایک عملی مثال کی صورت میں آپ کے سامنے رکھ دی جائے۔

  • طہ (Ta-Ha)

    135 آیات | مکی

    طٰہٰ —— الانبیاء

    ۲۰ ——- ۲۱

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے۔پہلی سورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس انذار و بشارت کے ردعمل پر صبر و انتظار کی تلقین ہے اور دوسری میں آپ کے مخاطبین کو شدید تنبیہ کہ اُن کے احتساب کی گھڑی قریب آگئی ہے۔ اب پیغمبر کو زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اُن کی قیادت و سیادت کا دائرہ سمٹ رہا ہے۔ وہ متنبہ ہو جائیں، اُن کے لیے خدا کا فیصلہ عنقریب صادر ہونے والا ہے۔

    پہلی سورہ میں خطاب تمام تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دوسری میں قریش مکہ سے ہے۔

    اِن سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ سورۂ طٰہٰ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ ان حروف پر مفصل بحث سورۂ بقرہ کے شروع میں دیکھیے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’طٰہٰ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہم نے تم پر قرآن اس لیے نہیں اتارا ہے کہ تم مصیبت میں پھنس جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تبلیغ میں حضورؐ کی محنت شاقہ اور آپؐ کو دل نواز تسلی: یہ نہایت دل نواز اور پر محبت انداز میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھایا ہے کہ قرآن کی تبلیغ و دعوت سے متعلق آپ نے اپنے سر پر جو ذمہ داری اٹھائی ہے اور جو محنت شاقہ اس کے لیے آپ جھیل رہے ہیں، اس کا مطالبہ ہرگز آپ سے نہیں ہے۔ آپ کی ذمہ داری صرف لوگوں تک اس کتاب کو پہنچا دینے کی ہے۔ جن کے اندر حق شناسی کی صلاحیت اور خشیت الٰہی کی کچھ رمق ہو گی وہ اس کو قبول کریں گے، جو ان صلاحیتوں سے عاری ہیں ان کے دلوں میں اس کو اتار دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ان کے پیچھے آپ اپنی زندگی کو اجیرن بنا لیں۔
      یہ بات ہم اس کتاب میں متعدد جگہ واضح کر چکے ہیں کہ رات دن دعوت کے کام میں لگے رہنے کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ لوگ اتنی واضح بات کو جھٹلا رہے ہیں اور کسی طرح ان کے دل نرم ہوتے نظر نہیں آتے تو آپ کو یہ پریشانی ہوتی کہ مبادا اس میں آپ ہی کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ اس احساس سے دعوت کے کام میں آپ کی سرگرمیاں اور بڑھ جاتیں اور سارے جتن کر ڈالنے کے باوجود آپ کو کسی طرح تشفی نہ ہوتی۔ آپ کی اسی حالت پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن آپؐ پر اس لیے نہیں اتارا گیا کہ آپؐ کی زندگی اجیرن ہو کے رہ جائے۔ آپ کی جو ذمہ داری ہے وہ ادا کر دیجیے۔ دوسروں کے ایمان و اسلام کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے یہ قرآن تم پر اِس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ نہایت دل نواز اور محبت بھرے انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ دوسروں کے ایمان کی فکر میں اپنی زندگی اجیرن نہ کریں۔ خدا نے آپ سے یہ مطالبہ نہیں کیا ہے کہ آپ ایمان و اسلام کی اِس دعوت کو ہر حال میں اپنے مخاطبین کے اندر اتار دیں۔ یہ آپ کی قدر نہیں پہچان رہے تو آپ کو بھی اِن کے پیچھے جان ہلکان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے پروردگار نے آپ کو اِس کا مکلف نہیں ٹھیرایا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ تو بس ان لوگوں کے لیے یاددہانی ہے جو خدا سے ڈریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن ایک تذکرہ ہے: اس ٹکڑے سے قرآن کی حیثیت بھی واضح ہو گئی، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری کی حد بھی معین ہو گئی اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کون لوگ اس سے اثر پذیر ہوں گے اور کون اس سے محروم رہیں گے۔
      فرمایا کہ یہ تو بس ایک ’تذکرہ‘ ہے۔ ’تذکرہ‘ کے معنی یاددہانی کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یاددہانی جس چیز کی کی جاتی ہے وہ خارج سے لائی ہوئی چیز کی نہیں کی جاتی بلکہ اس چیز کی کی جاتی ہے جو مخاطب کے خود اپنے پاس ہو لیکن وہ اس کو بھولا ہوا ہو۔ قرآن پر غور کیجیے تو اس کی اصلی نوعیت یہی ہے۔ وہ کوئی اوپری اور انوکھی چیز نہیں ہے۔ وہ کسی خارج سے لائی ہوئی چیز کو ہمارے اوپر نہیں لادتا بلکہ انہی حقائق کی یاددہانی کرتا ہے جو خود ہماری فطرت کے اندر موجود ہیں لیکن ہم ان سے غافل ہیں۔ قرآن ان حقائق کی یاددہانی کے لیے جو دلائل استعمال کرتا ہے وہ بھی آفاق و انفس کے وہی دلائل ہیں جو ہماری عقل کے خزانے میں موجود ہیں۔ لیکن ہم یا تو ان کو استعمال نہیں کرتے یا ان کے بدیہی نتائج کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ عبرت و موعظت کے لیے قرآن نے جو تاریخ پیش کی ہے وہ بھی ان قوموں کی پیش کی ہے جو مخاطب گروہ کی جانی پہچانی ہوئی تھیں۔ جن انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کا حوالہ دیا ہے یہ بھی وہ انبیاء ہیں جن کی ذریت اور جن کے پیرو ہونے کے لوگ مدعی تھے۔
      قرآن سے اثر پذیر ہونے کے لیے شرط: اس یاددہانی سے اثر پذیر ہونے والوں کی صفت ’لِّمَنْ یَّخْشٰی‘ بیان فرمائی۔ قرینہ دلیل ہے کہ ’یَّخْشٰی‘ کا مفعول یہاں محذوف ہے۔ قرآن کے نظائر کی روشنی میں اس محذوف کو متعین کیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ ’لِّمَنْ یَّخْشٰی رَبَّہٗ بِالْغَیْبِ‘ یعنی یاددہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو غیب میں رہتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ یہ دوسرے لفظوں میں وہی بات ارشاد ہوئی ہے جو بقرہ کی دوسری ہی آیت میں ’ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ‘ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ وہاں ہم نے تفصیل سے واضح کیا ہے کہ یہ تقویٰ اور یہ خوف ان تمام لوگوں کے اندر موجود ہوتا ہے جن کی فطرت مسخ ہونے سے محفوظ رہتی ہے۔ اس طرح کے لوگوں پر اگر غفلت ہوتی ہے تو وہ قرآن کی یاددہانی سے دیر سویر جاگ پڑتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنی بداعمالیوں سے اپنی فطرت مسخ کر لیتے ہیں ان کو کتنا ہی جھنجھوڑیے وہ کروٹ نہیں لیتے۔ ان کے اوپر گدھوں کی طرح ڈنڈے کی منطق کے سوا اور کوئی منطق کارگر نہیں ہوتی۔ وہ سب کچھ سر کی آنکھوں سے دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں لیکن خدا کے ہاں ماننا صرف وہ معتبر ہے جو عقل و دل کی آنکھوں سے دیکھ کر مانا جائے نہ کہ سر کی آنکھوں سے۔
      نبی مذکِّر ہوتا ہے نہ کہ مصیطر: قرآن کے تذکرہ ہونے سے یہ بات بھی نکلی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت ایک ’مذکِّر‘ کی ہے، نہ کہ ایک ’مصیطر‘ کی۔ آپ کا فریضہ صرف یہ تھا کہ آپ لوگوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلا دیں۔ یہ لوگ اس سبق کو یاد کرتے ہیں یا نہیں، یہ لوگوں کی ذمہ داری تھی نہ کہ آپ کی۔ قرآن نے یہاں اسی حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اگر آپ کی قوم کے لوگ آپ کی تذکیر سے فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں تو آپ پریشان نہ ہوں، اس کے لیے جواب دہ عند اللہ وہ ہیں نہ کہ آپ۔

      جاوید احمد غامدی یہ تو صرف ایک یاددہانی ہے اُن کے لیے جو (بن دیکھے) اپنے پروردگار سے ڈریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُن حقائق کی یاددہانی ہے جو انسان کی فطرت میں ودیعت ہیں، جن کے دلائل خود اُس کی عقل کے خزینوں میں موجود اور اُس کی تاریخ میں محفوظ ہیں۔
      اِس سے یہ بات واضح ہوئی کہ خدا کے پیغمبر تذکیر و نصیحت کے لیے آتے ہیں، اُنھیں لوگوں کے لیے داروغہ بنا کر نہیں بھیجا جاتا۔ اُن کی ذمہ داری اِس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں کو اُن کا بھولا ہوا سبق یاد دلا دیں۔ پھر یہ لوگوں کا کام ہے کہ اُس سے یاددہانی حاصل کرکے فوز و فلاح سے ہم کنار ہوں یا اُسے جھٹلا کر جہنم کا ایندھن بن جائیں۔

    • امین احسن اصلاحی یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اس ذات کی طرف سے اتارا گیا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’تنزیل‘ کا مفہوم: ’تنزیل‘ کے معنی دوسرے مقام میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ کسی چیز کو نہایت اہتمام اور ترتیب و تدریج کے ساتھ اتارنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن چونکہ لوگوں کی یاددہانی کے لیے اترا ہے اس وجہ سے اللہ نے صرف اتنے پر اکتفا نہیں فرمایا کہ کسی نہ کسی طرح بات ایک مرتبہ لوگوں تک پہنچ جائے بلکہ نہایت اہتمام اور تدریج اور وقفہ وقفہ کے ساتھ اس کو اتارا تاکہ لوگوں کے لیے یہ عذر باقی نہ رہے کہ بات کے سنانے یا سمجھانے میں کوئی کسر رہ گئی۔
      قرآن کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خالق کا فرمان ہے: ’مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰی‘۔ یہ قرآن کی عظمت واضح فرمائی کہ یہ زمین اور بلند آسمانوں کے خالق و مالک کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ نہ یہ کوئی ہوائی بات ہے کہ یوں ہی ہوا میں اڑ جائے نہ یہ کسی سائل کی درخواست ہے کہ لوگوں نے قبول کر لی تو سائل پر ان کا کرم ہو گا، نہ قبول کی تو سائل محروم ہو کر رہ جائے گا۔ بلکہ یہ خالق ارض و سماء کا فرمان واجب الاذعان ہے، اگر لوگوں نے اس کو رد کیا تو اچھی طرح سوچ لیں کہ اس کے نتائج کیا کچھ ہو سکتے ہیں۔
      اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ اشارہ بھی ہے کہ اس کو اسی طرح لوگوں کے سامنے پیش کیجیے جس طرح آسمان و زمین کے خالق و مالک کا کلام پیش کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے نہ زیادہ استمالت کی ضرورت ہے، نہ کسی الحاح و اصرار کی۔ اس کے قبول کرنے میں لوگوں کا اپنا نفع ہے نہ کہ خدا کا۔ یہ کوئی ملتجیانہ درخواست نہیں ہے بلکہ خلق کے لیے صحیفۂ ہدایت ہے اس کو رد کرنے والے خود اپنی شامت بلائیں گے۔ آپ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔
      یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے قرآن مجید میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ سورۂ عبس میں یہی حقیقت یوں واضح کی گئی ہے:

      کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ. (۱۱-۱۶)
      “ہرگز نہیں! یہ تو ایک یاددہانی ہے تو جو چاہے اس سے فائدہ اٹھائے۔ یہ معزز بلند اور پاکیزہ صحیفوں میں ہے۔ باعزت اور باوفا کاتبوں کے ہاتھ میں۔”

       

      جاوید احمد غامدی یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اُس ہستی کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس نے زمین کو اور (تمھارے اوپر) اِن اونچے آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جو رحمان عرش حکومت پر متمکن ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کی عظمت کا بیان اور یہ خدا کی جن صفات کا مظہر ہے ان کا حوالہ: یہ قرآن کی عظمت کا بیان بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی جن صفات کا یہ مظہر ہے ان کی طرف اشارہ بھی۔ فرمایا کہ وہ خالق ارض و سماء رحمان ہے۔ اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ وہ خلق کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ نہ دے بلکہ جس طرح اس نے اس کی مادی زندگی کے اسباب و وسائل مہیا فرمائے اسی طرح اس کی ہدایت کا سامان بھی کرے، چنانچہ اس نے انسان کی رہنمائی کے لیے اس کو عقل و نطق سے نوازا اور اس پر مزید فضل یہ فرمایا کہ اس کی ہدایت کے لیے اپنی کتاب اتاری۔ اسی حقیقت کی طرف سورۂ رحمان میں ’اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ قرآن کو رد کر رہے ہیں وہ نہ تو خدا کا کچھ بگاڑ رہے ہیں نہ اس کے رسول کا بلکہ خود اپنے آپ کو خدا کی سب سے بڑی رحمت سے محروم کر رہے ہیں۔
      ’عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی‘ یہ خدائے رحمان کی صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ دنیا کو پیدا کر کے الگ تھلگ کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے بلکہ بالفعل اپنی کائنات کے عرش حکومت پر متمکن ہے۔ اس کائنات کا حقیقی فرماں روا وہی ہے اس وجہ سے لوگوں کو قرآن کے ذریعہ سے اس نے اپنے احکام و قوانین سے آگاہ کر دیا ہے۔ اس آگاہی کے بعد جو لوگ اپنی من مانی کریں گے وہ حساب کے دن اپنا انجام خود دیکھ لیں گے۔

      جاوید احمد غامدی وہی رحمن، وہ (اِس کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اسی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے، جو کچھ زمین میں ہے، جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَمَا بَیۡنَھُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی‘۔ یہ شرک کے ہر جرثومہ کی جڑ کاٹ دی۔ فرمایا کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان اور جو کچھ زیرزمین ہے سب کا خالق و مالک وہی ہے۔ سب کو خلق بھی اسی نے کیا ہے اور سب پر اختیار بھی اسی کا ہے۔ اس کائنات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو اس کی خدائی سے باہر ہو۔ جس کو کسی خاص دائرے میں کوئی آزادی ملی بھی ہے وہ بھی اس کے امر و حکم کے تحت ہے۔ اس وجہ سے کوئی یہ گمان نہ کرے کہ وہ خدا سے کہیں بھاگ سکتا ہے یا کوئی دوسرا اس کو پناہ دے سکتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے، سب اُسی کے اختیار میں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ قرآن کی عظمت واضح فرمائی ہے کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے، بلکہ زمین و آسمان کے خالق کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ اُس کی رحمت کا تقاضا تھا کہ لوگوں کی ہدایت کا سامان کرے۔ چنانچہ اُس نے یہ کتاب اتاری۔ وہ اِس کائنات کو پیدا کرکے اِس سے الگ نہیں ہو بیٹھا ہے، بلکہ اِس کے تخت سلطنت پر متمکن ہے اور اپنی مخلوقات پر فرماں روائی کر رہا ہے۔ اِس کتاب کے ذریعے سے اُس نے لوگوں کو اپنے احکام و قوانین سے آگاہ کر دیا ہے۔ اب اگر اُنھوں نے اِس کی قدر نہیں پہچانی اور اِسی طرح اِس کو رد کرتے رہے تو اِس کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔ وہ اِس کے نتائج خود بھگتیں گے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’اِس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ اشارہ بھی ہے کہ اِس کو اُسی طرح لوگوں کے سامنے پیش کیجیے، جس طرح آسمان و زمین کے خالق و مالک کا کلام پیش کیا جانا چاہیے۔ اِس کے لیے نہ زیادہ استمالت کی ضرورت ہے، نہ کسی الحاح و اصرار کی۔ اِس کے قبول کرنے میں لوگوں کا اپنا نفع ہے نہ کہ خدا کا۔ یہ کوئی ملتجیانہ درخواست نہیں ہے، بلکہ خلق کے لیے صحیفۂ ہدایت ہے۔ اِس کو رد کرنے والے خود اپنی شامت بلائیں گے، آپ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۱۶)

    • امین احسن اصلاحی خواہ تم علانیہ بات کہو یا چپکے سے، وہ علانیہ اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عربیت کا ایک اسلوب: فصیح عربی کے اسلوب کے مطابق اس میں مقابل کے الفاظ، بربنائے قرینہ، حذف ہیں۔ اس اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آئے ہیں۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات گویا یوں ہو گی، ’وَاِنْ تَجْھَرْ بِالْقَوْلِ اَوْ تُخَافِتْ بِہٖ فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَالسِّرَّ وَاَخْفٰی‘۔ یعنی خواہ تم بات کو علانیہ کہو یا چپکے سے کہو، خدا علانیہ، پوشیدہ اور پوشیدہ تر سب کو جانتا ہے۔
      نبی صلعم کو ایک نئے پہلو سے تسلی: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دوسرے پہلو سے تسلی دی گئی ہے کہ آپ مطمئن رہیں کہ اپنی مشکلات میں جو کچھ آپ اپنے پروردگار سے کہتے اور جو دعا و مناجات بھی کرتے ہیں خواہ سرًّا یا علانیۃً، اور جو پریشانی بھی آپ کو لاحق ہوتی ہے خواہ وہ زبان پر آئے یا دل کے مخفی گوشوں ہی میں رہے، آپ کا رب علیم و خبیر ہر چیز سے باخبر رہتا ہے۔ مقصود اس حقیقت کے اظہار سے ظاہر ہے کہ اس کا لازم ہے۔ یعنی جب آپ کا پروردگار ہر مخفی سے مخفی بھید سے بھی واقف ہے تو وہ کسی حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور اسی میں آپ کے لیے خیر و برکت ہے۔ سورۂ مریم کی آیت ۶۴ ’وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیَّا‘ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں مزید تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔

      جاوید احمد غامدی تم چاہے اپنی بات علانیہ کہو (یا چپکے سے کہو، اُس سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے)، اِس لیے کہ وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات، بلکہ اُس سے زیادہ مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      جملے کا یہ حصہ عربیت کے اسلوب پر اصل میں حذف ہے۔
      یہ ایک دوسرے پہلو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دل و دماغ کے مخفی گوشوں میں چھپے ہوئے سوالات اور پریشانیاں ہوں یا آپ کی دعا و مناجات میں ظاہر ہونے والی مشکلات اور تمنائیں، اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ آپ مطمئن رہیں، وہ آپ کی ہر مشکل کو آسان کرے گا اور اِس دعوت کے کسی مرحلے میں بھی آپ اُس کی رہنمائی سے محروم نہیں رہیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تمام اچھی صفتیں اسی کے لیے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تفویض کی ہدایت: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل تفویض کی ہدایت ہے کہ آپ مخالفین کے رویہ سے پریشان اور ان کے پیچھے ہلکان ہونے کے بجائے اپنا معاملہ کلیۃً اپنے رب کے حوالے کیجیے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کے ہوتے آپ کسی کے محتاج نہیں۔
      تسلی و طمانیت کا خزانہ: اسمائے حسنیٰ کی برکات: ’لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی‘۔ یہ ٹکڑا تسلی و طمانیت کا خزانہ ہے۔ اوپر کی آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تسلی دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے اس کی عظمت، اس کی رحمت، اس کی حاکمیت اس کی یکتائی اور اس کے علم کے مقتضیات کی روشنی میں دی گئی ہے لیکن خدا کی صفات اتنی ہی تو نہیں ہیں! وہ تو تمام اچھی اور اعلیٰ صفتوں سے متصف ہے تو ظاہر ہے کہ ان صفات کے مقتضیات بھی حضورؐ کے لیے حالات کے اعتبار سے ظاہر ہوں گے۔ گویا اس ٹکڑے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ تمام اچھی صفتیں خدا ہی کے لیے ہیں اور وہ سب آپ کے اوپر سایہ فگن ہیں، آپ ان میں سے جس کا سہارا بھی لیں گے اس کی برکتوں سے متمتع ہوں گے۔ ان کے سوا آپ کسی اور سہارے کے محتاج نہیں ہیں۔
      اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ یہاں اسماء سے مراد صفات الٰہی ہیں اس لیے کہ خدا کے تمام نام اس کی صفات ہی کی تعبیر ہیں۔

      جاوید احمد غامدی وہ اللہ ہے، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ تمام اچھے نام اُسی کے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ کامل تفویض کی ہدایت ہے کہ آپ اپنا معاملہ اُسی کے حوالے کیجیے۔ وہ تنہا معبود ہے۔ اُس کے ہوتے ہوئے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
      استاذ امام کے الفاظ میں، یہ ٹکڑا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور طمانیت کا خزانہ اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... اوپر کی آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تسلی دی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے اُس کی عظمت، اُس کی رحمت، اُس کی حاکمیت ،اُس کی یکتائی اور اُس کے علم کے مقتضیات کی روشنی میں دی گئی ہے، لیکن خدا کی صفات اتنی ہی تو نہیں ہیں۔ وہ تو تمام اچھی اور اعلیٰ صفتوں سے متصف ہے تو ظاہر ہے کہ اُن صفات کے مقتضیات بھی حضور کے لیے حالات کے اعتبار سے ظاہر ہوں گے۔ گویا اِس ٹکڑے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ تمام اچھی صفتیں خدا ہی کے لیے ہیں اور وہ سب آپ کے اوپر سایہ فگن ہیں۔ آپ اُن میں سے جس کا سہارا بھی لیں گے، اُس کی برکتوں سے متمتع ہوں گے۔ اُن کے سوا آپ کسی اور سہارے کے محتاج نہیں ہیں۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۱۷)

    • امین احسن اصلاحی اور کیا موسیٰ ؑ کی سرگزشت تمہارے علم میں آئی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس امت کے لیے حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کی خاص اہمیت: یہ اسلوب بیان قرآن میں تہدید و وعید کے لیے بھی آیا ہے اور ترغیب و تشویق کے لیے بھی۔ یہاں موقع و محل دلیل ہے کہ یہ ترغیب و تشویق کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے موسیٰ ؑ کی سرگزشت سنی ہے؟ یہ سرگزشت ہم تمہیں سناتے ہیں۔ اس میں ان تمام سوالوں کا جواب مل جائے گا جو دعوت کے اس مرحلہ میں تمہارے سامنے موجود ہیں، یا آگے کے مراحل میں پیش آنے والے ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کی سرگزشت قرآن میں مختلف اسلوبوں سے جو بار بار بیان ہوئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی امت ہی کی وراثت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو منتقل ہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشتر صاحب شریعت نبی حضرت موسیٰ ؑ ہی تھے۔ ان کو اپنی امت کی تشکیل میں جو زہرہ گداز مراحل پیش آئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی جس جس طرح نصرت فرمائی وہ ساری باتیں آنحضرتؐ کے لیے نہایت سبق آموز تھیں اور بنی اسرائیل نے قدم قدم پر جو ٹھوکریں کھائیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح و تربیت کے لیے جو ہدایات دیں وہ اس امت کے لیے درس عبرت ہیں۔ اس سرگزشت کو پڑھتے ہوئے اس کی اس اہمیت کو نظر انداز نہ کیجیے۔ یہ دوسروں ہی کی نہیں بلکہ اپنی بھی حکایت ہے۔

      جاوید احمد غامدی تمھیں کچھ موسیٰ کی سرگذشت بھی پہنچی ہے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اوپر صفات الٰہی کے حوالے سے جو تسلی دی گئی ہے، یہ اُسی کے حقائق اب موسیٰ علیہ السلام کی سرگذشت سے سمجھنے کی تشویق ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جو کچھ بتایا گیا ہے، اُسے آپ ایک جلیل القدر پیغمبر کی زندگی اور دعوت کی جدوجہد میں بھی دیکھ لیں جو آپ ہی کی طرح خدا کی کتاب اور شریعت کے ساتھ اپنے مخاطبین کے لیے خدا کا فیصلہ لے کر مبعوث ہوئے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی جب کہ اس نے دیکھا ایک شعلہ تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ تم لوگ ذرا ٹھہرو، مجھے آگ نظر آئی ہے، تاکہ میں اس میں سے ایک انگارہ لاؤں یا ممکن ہے مجھے وہاں راستہ کا کچھ سراغ مل جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت ابتدائے نبوت سے: یہ حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کا آغاز اس وقت سے کیا ہے جب ان کو نبوت عطا ہوئی ہے۔ مدین سے واپسی پر جب وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ وادئ طور کے پاس پہنچے تو شب کا وقت تھا۔ راستہ کا بھی کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا اور سردی بھی معلوم ہوتا ہے کہ سخت تھی۔ اتنے میں ایک سمت سے انھیں شعلہ سا نظر آیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو، مجھے ایک شعلہ سا دکھائی دیا ہے، میں وہاں جاتا ہوں یا تو وہاں سے تمہارے تاپنے کے لیے، جیسا کہ سورۂ قصص میں تصریح ہے، کوئی انگارہ لاؤں گا یا وہاں کچھ لوگ ہوئے تو ان سے راستہ معلوم کر لوں گا اور ہمارا سفر جاری رہ سکے گا۔
      ایک شعلۂ مستعجل کا مشاہدہ: ’اٰنَسْتُ‘ کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کو جو آگ نظر آئی اس کی نوعیت آگ کے کسی جلتے ہوئے الاؤ کی نہیں بلکہ ایک شعلۂ مستعجل کی تھی جو چمکا اور غائب ہو گیا۔ اس لیے یہ لفظ تاڑنے اور بھانپنے کے لیے آتا ہے۔ بس ایک چمک سی نظر آئی اور دفعۃً غائب ہو گئی۔ حضرت موسیٰ ؑ کے سوا اس کو کسی نے شاید دیکھا بھی نہیں۔ اگر بھڑکتی ہوئی آگ ہوتی تو حضرت موسیٰ ؑ یوں کہتے کہ دیکھو وہ سامنے آگ جل رہی ہے، میں یا تو وہاں سے راستہ معلوم کرتا ہوں اور اگر وہاں کوئی نہ ملا تو پھر تاپنے کا کچھ سامان کرتا ہوں تاکہ سردی سے بچاؤ کا کچھ سامان ہو سکے۔

      جاوید احمد غامدی جب اُس نے (دور) ایک شعلہ دیکھا تو اپنے گھر والوں سے کہا: تم لوگ ذرا ٹھیرو، مجھے آگ سی دکھائی دی ہے۔ (میں وہاں جاتا ہوں) تاکہ اُس میں سے تمھارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں یا آگ پر (بیٹھے ہوئے لوگوں سے) مجھے راستے کا کچھ پتا مل جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس وقت کا قصہ ہے جب موسیٰ علیہ السلام چند سال مدین میں گزارنے کے بعد اپنی بیوی کو لے کر مصر جا رہے تھے۔ قرآن میں دوسری جگہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہو گیا تھا اور وہ اِس اندیشے سے کہ اُن کے ساتھ انصاف کا معاملہ نہیں ہو گا، مصر سے بھاگ کر مدین میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ وہاں اُن کی شادی ہوئی اور اپنے خسر کے ساتھ قراردادہ مدت پوری کرنے کے بعد اب اُن کے لیے ممکن ہو گیا تھا کہ وہ واپس اپنے لوگوں کے پاس چلے جائیں۔
      اصل میں لفظ ’اٰنَسْتُ‘استعمال ہوا ہے۔ اِس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اُنھوں نے آگ کا کوئی جلتا ہوا الاؤ نہیں، بلکہ ایک شعلہ سا دیکھا تھا جو اچانک چمکا اور غائب ہو گیا اور اُن کے سوا شاید کسی اور کو نظر بھی نہیں آیا۔
      دوسری جگہ تصریح ہے کہ وہ یہ انگارا اِس لیے لانا چاہتے تھے کہ اپنے اہل و عیال کو رات بھر گرم رکھنے کا کچھ سامان کر سکیں۔ اِس سے معلوم ہوا کہ یہ سردی کا زمانہ تھا اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ جب وہ وادی طور کے پاس پہنچے تو رات ہو چکی تھی اور اُنھیں راستے کا بھی کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔

    • امین احسن اصلاحی تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اس کو آواز آئی کہ اے موسیٰ ؑ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ندائے غیب: جب حضرت موسیٰ ؑ اس مقام پر پہنچے جہاں ان کو شعلہ نظر آیا تھا تو ان کو آواز آئی کہ اے موسیٰ یہ تو میں تمہارا رب ہوں۔ یعنی تم تو آگ سمجھ کر یہاں آئے ہو لیکن یہاں آگ نہیں ہے بلکہ میں تمہارا رب ہوں۔

      جاوید احمد غامدی پھر جب وہ اُس کے پاس پہنچا تو آواز آئی: اے موسیٰ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی یہ تو میں تمہارا رب ہوں تو تم اپنے جوتے اتار دو کیونکہ تم طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ندائے غیب: جب حضرت موسیٰ ؑ اس مقام پر پہنچے جہاں ان کو شعلہ نظر آیا تھا تو ان کو آواز آئی کہ اے موسیٰ یہ تو میں تمہارا رب ہوں۔ یعنی تم تو آگ سمجھ کر یہاں آئے ہو لیکن یہاں آگ نہیں ہے بلکہ میں تمہارا رب ہوں۔
      تواضع کی ہدایت اور اس کے آداب: ’فَاخْلَعْ نَعْلَیۡکَ‘ پہلی ہدایت یہ ہوئی کہ جوتے اتار دو۔ جوتے اتار کر حاضر ہونا صرف طہارت ہی کے آداب میں سے نہیں بلکہ تواضع کے آداب میں سے بھی ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں مسجد کے احترام کے لیے بھی اس کو ضروری قرار دیا گیا ہے اس لیے کہ مسجد خدا کے سامنے حاضری کی جگہ ہے جس کے لیے طہارت اور تواضع دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جوتے صاف ہوں تو ان کے ساتھ مسجد میں جانے میں کوئی ہرج نہیں لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے اس لیے کہ یہ تواضع کے خلاف ہے اور مسجد کی حاضری کے لیے جس طرح طہارت شرط ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ تواضع شرط ہے۔
      وادئ طویٰ: ’اِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی‘ یہ اس ہدایت کی علت واضح فرمائی ہے کہ تم اس وقت طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔ ’طُوٰی‘ اس میدان کا نام ہے جو جزیرہ نمائے سینا میں کوہ سینا کے دامن میں واقع ہے۔ کسی پہاڑ یا وادی یا رقبۂ زمین کا تقدس ایک امر اضافی ہے۔ زمین ساری خدا کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اس کے کسی ٹکڑے کو کسی دوسرے ٹکڑے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے الّاآنکہ کسی ٹکڑے کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی خاص نسبت ہو جائے۔ اس وادی کو یہ خاص شرف حاصل ہوا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی تجلی اور اپنے کلام سے نوازا اس وجہ سے اس کو تقدس کا درجہ حاصل ہو گیا۔

      جاوید احمد غامدی یہ تو میں تمھارا پروردگار ہوں، سو اپنے جوتے اتار دو، اِس لیے کہ تم طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے واضح ہے کہ خدا کی بارگاہ میں جوتے اتار کر حاضر ہونا تواضع کے آداب میں سے ہے، لہٰذا عام حالات میں اِسی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
      یہ اُس میدان کا نام ہے جو کوہ سینا کے دامن میں واقع ہے۔ اِس کو مقدس اِس لیے کہا گیا ہے کہ یہاں حضرت موسیٰ اپنے پروردگار کی تجلی اور اُس کے کلام سے نوازے گئے۔ اللہ تعالیٰ زمین کے کسی ٹکڑے یا کسی علاقے کو اپنے لیے خاص کر لیں تو اُس کو تقدس حاصل ہو جاتا ہے۔ سرزمین فلسطین کو قرآن کی سورۂ مائدہ (۵) میں اِسی بنا پر ’الْاَرْضُ الْمُقَدَّسَۃُ‘ کہا گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور میں نے تم کو برگزیدہ کیا تو جو وحی کی جا رہی ہے اسے غور سے سنو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اِسْتِمَاع‘ کے معنی توجہ اور اہتمام کے ساتھ سننے کے ہیں۔ یہ جملہ اصل بات کہنے سے پہلے پوری طرح متوجہ کرنے کے لیے ہے یعنی میں نے تمہیں اپنے کارخاص، فریضۂ نبوت و رسالت کے لیے منتخب کیا ہے تو جو کچھ تم پر وحی کی جا رہی ہے اس کو غور سے سنو۔ اس میں اس تشریف و تکریم کی طرف بھی اشارہ ہے جو منصب نبوت پر سرفراز ہونے کے سبب سے حضرت موسیٰ ؑ کو حاصل ہوئی اور عظیم ذمہ داری کی طرف بھی جو حضرت موسیٰ ؑ پر اس منصب کی بدولت عاید ہوئی۔

      جاوید احمد غامدی میں نے تمھیں منتخب کر لیا ہے، لہٰذا جو وحی کی جا رہی ہے، اُس کو توجہ سے سنو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ جس منصب پر تم سرفراز کیے گئے ہو، وہ ایک عظیم ذمہ داری ہے اور تمھیں اُس ذمہ داری کو ہر حال میں پورا کرنا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کیجیو اور میری یاد کے لیے نماز کا اہتمام رکھیو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت موسیٰ ؑ کو اولین تعلیم: یہ اولین تعلیم ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی اور یہی تعلیم ہمیشہ تمام انبیاء کو دی گئی ہے۔ اس آیت کا تجزیہ کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں تین باتیں مذکور ہیں۔
      سب سے پہلے عقیدۂ توحید اس لیے کہ عقیدہ مرکز دین ہے۔ جہاں تک خدا کے ماننے کا تعلق ہے دنیا نے ہمیشہ خدا کو مانا ہے۔ انکار خدا کی حماقت موجودہ زمانے کی پیداوار ہے، البتہ شرک کی ضلالت ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں انسان پر حملہ آور ہوتی رہی ہے چنانچہ ہر نبی کو سب سے پہلے توحید ہی کی تعلیم دی گئی اور ہر نبی نے سب سے پہلے شرک ہی کے خلاف جہاد کیا۔
      دوسری چیز جس کی حضرت موسیٰ ؑ کو ہدایت ہوئی وہ خدا کی عبادت ہے۔ یہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اور یہ حق بلاشرکت غیرے ہے۔ جب وہ معبود ہے تو لازم ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور جب اس کا کوئی شریک نہیں تو یہ بھی لازم ہے کہ یہ عبادت بلاشرکت غیرے ہو۔ اس عبادت کے لوازم میں سے، جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں ذکر کرچکے ہیں، خدا کی اطاعت بھی ہے۔ جس طرح خدا کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں ہے اسی طرح خدا کے احکام کے خلاف طوعاً کسی کی اطاعت بھی جائز نہیں ہے۔ عبادت کی اصل روح خدا کے آگے اپنی بندگی اور غلامی کا اقرار اس کے ساتھ اپنے عہد اطاعت وفاداری کی تجدید اور اس کا تذکر ہے۔ اس وجہ سے یہ بات خدا کی بندگی کے بالکل منافی ہے کہ تسبیح تو اس کی کی جائے اور شریعت خود تصنیف کی جائے یا کسی دوسرے کے لیے یہ حق تسلیم کیا جائے۔ یہ چیز شرک ہے۔ اس کے شرک ہونے کے دلائل ہم نے اپنے رسائل حقیقت شرک اور حقیقت توحید میں بیان کیے ہیں۔
      تیسری چیز نماز ہے۔ نماز کے لیے ’اقامت‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے اندر اہتمام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ نماز کا حکم اللہ کے ذکر کو قائم و دائم رکھنے کے لیے دیا گیا ہے۔ ’اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ‘ نماز انفرادی ہو یا اجتماعی خدا کے ذکر کی سب سے بڑی محافظ بھی ہے اور اس کا سب سے اعلیٰ اور سب سے زیادہ مؤثر مظہر بھی۔ اسی وجہ سے تمام انبیاء کو توحید کی تعلیم کے بعد سب سے پہلے اسی کی ہدایت ہوئی۔ نماز ہی کے ذریعے سے بندہ اپنے عہد بندگی کو یاد کرتا ہے جو اس کے رب نے اس سے لیا ہے اور جو اپنے رب سے اس نے باندھا ہے اور اسی کے ذریعہ سے کوئی امت اپنے اس میثاق کو یاد رکھتی ہے جو خدا نے اس سے لیا ہے اور جس کا خدا سے اس نے اقرار کیا ہے۔ اگر کوئی فرد یا امت نماز کو ضائع کر دے تو اس نے پورے دین کو ضائع کر دیا۔ اس مضمون کی وضاحت سورۂ مریم کی آیت ۵۹ کے تحت ہو چکی ہے۔ اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔

      جاوید احمد غامدی اِس میں شبہ نہیں کہ میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ سو میری ہی بندگی کرو اور میری یاد کے لیے نماز کا اہتمام رکھو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ہر نبی کو سب سے پہلے یہی تعلیم دی گئی، اِس لیے کہ تمام دین کا انحصار اِسی عقیدے پر ہے۔
      توحید پر ایمان کے بعد دین کا پہلا حکم یہی ہے کہ جب اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پھر عبادت بھی اُسی کی ہونی چاہیے۔ اِس عبادت کے بارے میں ہم جگہ جگہ بیان کر چکے ہیں کہ اِس کی حقیقت خضوع اور تذلل ہے جس کا اولین ظہور پرستش کی صورت میں ہوتا ہے۔ پھر انسان کے عملی وجود کی رعایت سے یہی پرستش اطاعت کو شامل ہو جاتی ہے۔ پہلی صورت کے مظاہر تسبیح و تحمید، دعا و مناجات، رکوع و سجود، نذر، نیاز، قربانی اور اعتکاف ہیں۔دوسری صورت میں آدمی کسی کے لیے خدائی اختیارات مانتا اور مستقل بالذات شارع و حاکم کی حیثیت سے اُس کے ہر حکم پر سرتسلیم خم کرتا ہے۔ اللہ، پروردگار عالم کا فیصلہ ہے کہ اِن میں سے کوئی چیز بھی اُس کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہو سکتی۔
      ایمانیات میں جو حیثیت توحید کی ہے، وہی اعمال میں نماز کی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آیات الٰہی کی تذکیر سے خدا کی جو معرفت حاصل ہوتی اور اُس سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت اور شکر گزاری کے جو جذبات انسان کے اندر پیدا ہوتے ہیں یا ہونے چاہییں، اُن کا پہلا ثمرہ یہی نماز ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک قیامت شدنی ہے۔ میں اس کو چھپائے ہی رکھوں گا تاکہ ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیامت کی یاددہانی: یہ قیامت کی یاددہانی ہے اور اس کے لیے ’اٰتِیَۃ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ وہ آئے گی، بلکہ یہ فاعل کا صیغہ ہے جس کے اندر زور اور تاکید ہے کہ یہ آکے رہے گی، یہ شدنی اور اٹل ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ قیامت کے باب میں عام ذہن کبھی انکار صریح کا نہیں بلکہ تعجب اور استبعاد کا رہا ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کے اثبات کے پہلو بہ پہلو اس کی قطعیت پر بہت زور دیا ہے۔
      قیامت کا مقصد: ’لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ م بِمَا تَسْعٰی‘ یہ قیامت کا اصل مقصد بیان ہوا ہے کہ اس کا آنا اس لیے لابدی ہے کہ ہر جان کو اس کی کمائی کا، نیک ہو یا بد، بدلہ دیا جانا ناگزیر ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ دنیا ایک رحیم و حکیم کی بنائی ہوئی دنیا نہیں بلکہ ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے اور یہ بات بالبداہت خلاف عقل ہے۔ ’بِمَا تَسْعٰی‘ کے لفظ نے یہ حقیقت بھی واضح کر دی کہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے عمل ہی کا بدلہ پائے۔ اگر کسی کے اعمال تو ہوں شیطان کے لیکن وہ کسی کی سعی و سفارش یا اپنے حسب و نسب کے بل پر مرتبہ صالحین و ابرار کا حاصل کر لے یا بازپرس سے بری ہو جائے تو اس کے معنی نعوذ باللہ یہ ہوں گے کہ اللہ میاں کے ہاں بھی اصل قدر عمل اور کردار کی نہیں بلکہ شفاعت و سفارش اور خاندان و نسب ہی کی ہے۔
      ایک بلیغ جملہ معترضہ: آیت کے بیچ میں ’اَکَادُ اُخْفِیۡھَا‘ کے الفاظ بطور جملہ معترضہ کے ہیں۔ یہ جملہ معترضہ نہایت بلیغ ہے۔ صرف یہ نہیں فرمایا کہ میں قیامت کو چھپائے رکھوں گا بلکہ فرمایا کہ قریب ہے کہ میں اس کو چھپائے ہی رکھوں، عربیت کا ذوق رکھنے والے اندازہ کر سکتے ہیں کہ لفظ ’اَکَادُ‘ سے جملہ کے اندر یہ مضمون پیدا ہو گیا ہے کہ ہرچند میں نے تو ابھی قیامت پر پردہ ڈال رکھا ہے اور یہ پردہ ابھی ڈالے ہی رکھوں گا لیکن خود قیامت کا یہ حال ہے کہ وہ بے نقاب ہو جانے کے لیے بالکل بے قرار ہے۔ یہی مضمون دوسرے الفاظ میں سورۂ اعراف میں یوں وارد ہوا ہے:

      ’ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغَتَۃً‘
      (آسمان و زمین دونوں اس کے بوجھ سے گراں بار ہیں، وہ تمھارے اوپر بس اچانک ہی آ دھمکے گی) ۱؂

      _____
      ۱؂ (اس مضمون کی مزید وضاحت مطلوب ہے تو اس آیت کی تفسیر ’تدبر قرآن‘ جلد سوم صفحہ ۴۰۴ پر ملاحظہ فرمائیے۔)

      جاوید احمد غامدی حقیقت یہ ہے کہ قیامت ضرور آنے والی ہے ۔۔۔ میں اُس کو چھپائے رکھنے کو ہوں ۔۔۔اِس لیے (آنے والی ہے) کہ ہر شخص کو اُس کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اثبات قیامت کے پہلو بہ پہلو اُس کی قطعیت پر یہ زور اِس لیے ہے کہ بالعموم لوگ اُس کو مستبعد سمجھتے رہے ہیں۔ اُنھیں کسی طرح باور نہیں آتا کہ مرنے کے بعد جب مٹی ہو جائیں گے تو دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔
      یہ الفاظ آیت کے بیچ میں بطور جملۂ معترضہ کے آئے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... یہ جملۂ معترضہ نہایت بلیغ ہے۔ صرف یہ نہیں فرمایا کہ میں قیامت کو چھپائے رکھوں گا، بلکہ فرمایا کہ قریب ہے کہ میں اُس کو چھپا ئے ہی رکھوں۔ عربیت کاذوق رکھنے والے اندازہ کر سکتے ہیں کہ لفظ ’اَکَادُ‘ سے جملے کے اندر یہ مضمون پیدا ہو گیا ہے کہ ہرچند میں نے تو ابھی قیامت پر پردہ ڈال رکھا ہے اور یہ پردہ ابھی ڈالے ہی رکھوں گا، لیکن خود قیامت کا یہ حال ہے کہ وہ بے نقاب ہو جانے کے لیے بالکل بے قرار ہے۔ ‘‘(تدبرقرآن ۵ /۳۳)

      یہ قیامت کا مقصد بیان کر دیا ہے کہ وہ اِس لیے اٹل اور شدنی ہے کہ لوگوں کو اُن کے اعمال کا بدلہ دیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ کارخانۂ ہستی کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے، اِس سے زیادہ اِس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پھر اِس میں یہ بھی ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے عمل ہی کا بدلہ پائے اور کسی کی سفارش و شفاعت یا رشتہ و پیوند اُس کے بارے میں خدا کے فیصلے پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ آیت میں ’بِمَا تَسْعٰی‘ کا لفظ اِسی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی تو نماز سے تمہیں وہ شخص غافل نہ کرنے پائے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کا پیرو ہے کہ تم ہلاک ہو کر رہ جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایجاز بیان کی ایک مثال: ’عَنْھَا‘ میں ضمیر کا مرجع ہمارے نزدیک ’صَلٰوۃ‘ ہے اور ’بِھَا‘ کی ضمیر کا مرجع ’الساعۃ‘ ہے۔ یعنی نماز سے تمہیں وہ شخص روکنے یا غافل نہ کرنے پاوے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کا پیرو ہے۔ یہ مفہوم لینے میں اگرچہ بظاہر انتشار ضمیر کا سوال پیدا ہوتا ہے جس کو کلام کا عیب سمجھا جاتا ہے لیکن انتشار ضمیر صرف اس صورت میں عیب ہے جب مرجع کے تعین کے لیے کوئی واضح قرینہ موجود نہ ہو۔ اگر واضح قرینہ موجود ہو تو یہ کوئی عیب نہیں بلکہ اس سے کلام میں ایجاز کا حسن پیدا ہوتا ہے اور فصحاء کے کلام میں اس کی نہایت عمدہ مثالیں موجود ہیں۔
      یہاں قرینہ بالکل واضح ہے۔ نماز اور قیامت کے ذکر کے بعد دو فعل استعمال ہوئے ہیں ایک ’یَصُدَّنَّ‘ اور دوسرا ’یُوْمِنُ‘ زبان کا ذوق رکھنے والا شخص بے تکلف سمجھ سکتا ہے کہ پہلا فعل ’صلٰوۃ‘ سے واضح مناسبت رکھتا ہے اور دوسرا قیامت سے۔ یہی رائے اگلوں میں سے ابومسلم کی ہے اور مجھے یہ رائے ہر اعتبار سے صحیح معلوم ہوتی ہے۔
      نماز اور ایمان بالآخرۃ کا باہمی تعلق: حکمت دین کے پہلو سے اس مسئلہ پر غور کیجیے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص آخرت پر پختہ ایمان نہیں رکھتا اس کے لیے نماز ایک مصیبت ہے۔ قرآن میں اس کی تصریح موجود ہے:

      وَاِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ وَاَنَّھُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ.(بقرہ ۴۵-۴۶)
      ’’اور بے شک یہ بہت گراں ہے مگر ان ڈرنے والوں پر جو یہ گمان رکھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی سے ان کو سابقہ پڑنے والا ہے۔‘‘

      اسی طرح یہ بات بھی قرآن میں موجود ہے کہ اتباع ہوا اور ترک نماز میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ سورۂ مریم میں یہ آیت گزر چکی ہے:

      فَخَلَفَ مِنْ م بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّھَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا.(۵۹ مریم)
      ’’پس ان کے بعد ایسے برے جانشین اٹھے جنھوں نے نماز ضائع کر دی اور خواہشوں کے پیرو بن گئے تو وہ عنقریب اپنی گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔‘‘

      یہود نماز اور ایمان بالاخرۃ دونوں ضائع کر بیٹھے: ان آیات سے یہ بات واضح ہوئی کہ حضرت موسیٰ ؑ کو توحید کی تعلیم کے بعد سب سے پہلے جس چیز کی تاکید ہوئی وہ نماز ہے اور خاص طور پر جس چیز کی یاددہانی کی گئی وہ آخرت ہے۔ یہی بات حضرات انبیائے کرام کی تاریخ سے، جیسا کہ سورۂ مریم میں آپ معلوم کر چکے ہیں، ہم آہنگ بھی ہے لیکن یہود کی بدقسمتی قابل ماتم ہے کہ انھوں نے نماز بھی ضائع کر دی اور آخرت کو بھی بھلا بیٹھے۔ آپ کو یہ سن کر تعجب ہو گا کہ ان کے صحیفوں میں قربانی کا ذکر تو ملتا ہے لیکن نماز کا ذکر، بالخصوص ہیکل میں، صرف ایک جگہ سفر خامس باب ۲۶ میں ملتا ہے۔ ان کے بعض فقہاء کا خیال تو یہ بھی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے نماز کا حکم سرے سے دیا ہی نہیں، اگر تورات میں اس کا کہیں ذکر ہے تو وہ بعد کے مرتبوں کی ایجاد ہے۔ رہا آخرت کا معاملہ تو ان کے صدوقی تو حشر بعد الموت کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ جزا و سزا جو کچھ ہے سب اسی دنیا میں پوری ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں مرجۂ نے بھی اپنا عقیدہ معلوم ہوتا ہے کہ انہی سے مستعار لیا ہے۔
      آخر میں لفظ ’فَتَرْدٰی‘ بطور تنبیہ ہے کہ اگر نماز اور یاد آخرت سے غفلت ہوئی تو سمجھ لو کہ بیڑا غرق ہو جائے گا۔ یہی چیزیں سارے دین کی حفاظت کرنے والی اور شیطان کے فتنوں سے امان میں رکھنے والی ہیں۔ جو ان سے غافل ہوا اس نے گویا اپنے آپ کو شیطان کے حوالہ کر دیا۔

       

      جاوید احمد غامدی چنانچہ کوئی ایسا شخص جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کا پیرو ہے، تم کو نماز سے روک نہ دے کہ تم ہلاک ہو جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’ھَا‘ کی ضمیر ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ اِس کا مرجع بھی قیامت ہی کو ہونا چاہیے، مگر زبان کا ذوق رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اِس کے لیے ’یَصُدَّنَّ‘ کا فعل کسی طرح موزوں نہیں ہے۔ چنانچہ یہ اِس بات کا واضح قرینہ ہے کہ اِس کا مرجع نماز ہے جس کا ذکر پیچھے ہو چکا ہے۔ پھر روکنے والے کی جو صفات بیان ہوئی ہیں، وہ بھی ترک نماز کے ساتھ لازم و ملزوم کا رشتہ رکھتی ہیں۔ اِس طرح کے قرائن موجود ہوں تو ضمیر کا انتشار کوئی عیب نہیں ہے، بلکہ اِس سے، اگر غورکیجیے تو کلام میں ایجاز کا حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ یہود کی بدقسمتی ہے کہ اُنھوں نے نماز بھی ضائع کر دی اور آخرت کو بھی بھلا بیٹھے، دراں حالیکہ اُن کے پیغمبر کو سب سے پہلے اِنھی دو چیزوں کی تعلیم دی گئی تھی۔

    • امین احسن اصلاحی اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ ؑ! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’یمین‘ دہنے بائیں کے مفہوم سے مجرد ہو کر صرف ہاتھ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔
      سوال برائے التفات و نوازش: یہ سوال ظاہر ہے کہ تحقیق کے لیے نہیں بلکہ اظہار التفات و نوازش ہی کے لیے ہو سکتا ہے۔ جس طرح باپ بچے سے پوچھتا ہے کہ بیٹے یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے حالانکہ وہ اس چیز سے بیٹے سے زیادہ واقف ہوتا ہے اسی طرح کریم نے حضرت موسیٰ ؑ سے سوال کیا کہ موسیٰ! یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ اور سوال اس چیز سے متلق کیا جو آگے ان تمام خوارق کا ذریعہ بننے والی تھی جو حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھوں ظاہر ہوئے۔

      جاوید احمد غامدی اور یہ تمھارے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’یَمِیْن‘ آیا ہے۔ یہ دائیں بائیں کے مفہوم سے مجرد ہو کر محض ہاتھ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہ اِسی معنی میں ہے۔
      یہ سوال طلب علم کے لیے نہیں، بلکہ التفات و نوازش کے اظہار کے لیے ہے تاکہ حضرت موسیٰ اُس لاٹھی کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جائیں جس سے حیرت انگیز معجزے ظہور میں آنے والے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے کہا، یہ میری لٹھیا ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لیے دوسرے فائدے بھی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ھش‘ کے معنی: ’ھش‘ کے معنی درخت سے پتے جھاڑنے کے ہیں۔ عبکری نے ’اَھُشُّ بِھَا عَلٰی غَنَمِیْ‘ کے معنی ’اَقُوْمُ بِھَا غَنَمِیْ‘ کے لیے ہیں۔ یعنی اس لٹھیا سے میں اپنے ریوڑ کی چرواہی اور حفاظت کرتا ہوں۔ اگر لغت سے اس معنی کی شہادت مل جائے تو بہت خوب ہے لیکن عکبری نے کوئی شہادت نہیں پیش کی ہے۔ اس وجہ سے میں نے معروف معنی ہی کی پیروی کی ہے۔
      لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم! حضرت موسیٰ ؑ نے جواب دیا کہ یہ میری لٹھیا ہے جس پر میں عند الضرورت ٹیک بھی لگاتا ہوں، اپنی بکریوں کے لیے درختوں سے پتے بھی جھاڑ لیتا ہوں اور میرے دوسرے کام بھی اس سے نکلتے ہیں۔
      صاف محسوس ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے سوال کا صرف سیدھا سادا جواب دے دینے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ ان کے جواب میں کچھ انبساط کلام اور سخن گستری کی شان پیدا ہو گئی ہے۔ وہ صرف یہ جواب بھی دے سکتے تھے کہ یہ میری لٹھیا ہے لیکن انھوں نے سوال کے انداز سے بھانپ لیا کہ یہ محض سوال نہیں ہے بلکہ اس میں التفات خاص کی دل نوازی بھی ہے۔ اس وجہ سے انھوں نے جواب میں تفصیل سے کام لیا کہ شاید اس طرح کچھ مزید سوال و جواب کی راہ کھلے۔ مخاطب کرنے والا محبوب و مطلوب ہو تو گفتگو کو طویل کرنے کی خواہش ایک امر فطری ہے۔

      لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم!

       

      جاوید احمد غامدی اُس نے کہا: یہ میری لاٹھی ہے، میں اِس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اِس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور اِس میں میرے کچھ دوسرے کام بھی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      پتے بالعموم درختوں سے اور بکریوں کے اوپر جھاڑے جاتے ہیں۔ آیت میں ’عَلٰی غَنَمِیْ‘ کے الفاظ اِسی رعایت سے آئے ہیں۔
      موسیٰ علیہ السلام جواب میں صرف اتنی بات بھی کہہ سکتے تھے کہ حضور، یہ لاٹھی ہے۔ مگر اُنھوں نے سوال کے انداز سے بھانپ لیا کہ التفات خاص کا موقع ہے، چنانچہ لمبا جواب دیا۔ گویا وہی صورت پیدا ہو گئی کہ ۔۔۔ ’لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم‘۔ استاذ امام کے الفاظ میں، مخاطب کرنے والا محبوب و مطلوب ہو تو گفتگو کو طویل کرنے کی خواہش ایک امر فطری ہے۔

    • امین احسن اصلاحی فرمایا، اس کو زمین پر ڈال دو، اے موسیٰ ؑ ! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عصا کا معجزہ: ارشاد ہوا کہ اس لٹھیا کو زمین پر ڈال دو اور پھر قدرت خداوندی کا کرشمہ دیکھو! چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ نے لٹھیا زمین پر ڈال دی اور وہ دفعۃً ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔

      جاوید احمد غامدی فرمایا: اِس کو (زمین پر) ڈال دو، اے موسیٰ! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس نے اس کو ڈال دیا تو دفعۃً وہ ایک رینگتا ہوا سانپ بن گئی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عصا کا معجزہ: ارشاد ہوا کہ اس لٹھیا کو زمین پر ڈال دو اور پھر قدرت خداوندی کا کرشمہ دیکھو! چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ نے لٹھیا زمین پر ڈال دی اور وہ دفعۃً ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔

      جاوید احمد غامدی اِس پر موسیٰ نے لاٹھی کو (زمین پر) ڈال دیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ ایک سانپ ہے جو دوڑ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List