Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

Qatai ud Dalalah


جاوید غامدی لکھتے ہیں " دنیا کی ہر زندہ زبان کے الفاظ و اسالیب جن مفاہیم پر دلالت کرتے ہیں ، وہ سب متواترات پر مبنی اور ہر لحاظ سے بالکل قطعی ہوتے ہیں ۔ لغت و نحو اور اِس طرح کے دوسرے علوم اِسی تواتر کو بیان کرتے ہیں ۔ اِس میں نقل کرنے والوں کا صدق و کذب اور اُن کی تعداد سرے سے زیر بحث ہی نہیں ہوتی۔ جن الفاظ و اسالیب کو شاذ اور غریب کہاجاتا ہے ،وہ بھی اپنے مفہوم کے لحاظ سے نہیں، بلکہ اپنے استعمال کی قلت و کثرت، اور سننے اور پڑھنے والوں کے علم و اطلاع کے لحاظ سے شاذ اور غریب کہلاتے ہیں۔ لفظ اور معنی کا سفر کبھی الگ الگ نہیں ہوتا ، وہ جب تک مستعمل رہتا ہے ، اپنے معنی کے ساتھ مستعمل رہتا ہے ۔ ہم کسی لفظ کے مفہوم سے ناواقف ہو سکتے ہیں اور اُس کی تعیین میں غلطی بھی کر سکتے ہیں ،لیکن وہ اپنے مفہوم کی قطعیت کے بغیر ہی مستعمل ہے یا کسی دور میں مستعمل رہا ہے ، اِس کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ مجاز ، کنایہ اور اجمال و تخصیص وغیرہ کے مواقع کا شعور بھی اِسی طرح متواتر ہے ۔دنیا کی سب زبانوں میں یہ انسان کا مشترک سرمایہ ہے ۔ ’شیر جنگل کا بادشاہ ہے ‘ اور ’ کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے ‘ اِن جملوں میں مجاز اور حقیقت کو الگ الگ پہچاننے میں کوئی فرد تو بے شک، غلطی کر سکتا ہے ، لیکن انسان کا یہ اجتماعی شعور کبھی متردد نہیں ہوتا اور ہم اِسی کی روشنی میں فرد کو اُس کی غلطی پر متنبہ کرتے ہیں ۔ زبان سے متعلق یہی حقیقت ہے جس کی بنا پر ہم جو کچھ بولتے اور لکھتے ہیں ، اِس اعتماد کے ساتھ بولتے اور لکھتے ہیں کہ دوسرے اُس سے وہی کچھ سمجھیں گے جو ہم کہنا چاہتے ہیں ۔دنیا میں ہر روز جو دستاویزات لکھی جاتی ہیں ،جو فیصلے سنائے جاتے ہیں ، جو احکام جاری کیے جاتے ہیں ،جو اطلاعات بہم پہنچائی جاتی ہیں اور جن علوم کا ابلاغ کیا جاتا ہے ، اُن کے بارے میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال اگر پیدا ہو جائے کہ اُن کے الفاظ کی دلالت اپنے مفہوم پر قطعی نہیں ہے تو اُن میں سے ہر چیز بالکل بے معنی ہو کر رہ جائے گی ۔چنانچہ یہ نقطۂ نظر نری سوفسطائیت ہے جس کے لیے علم کی دنیا میں ہرگز کوئی گنجایش پیدا نہیں کی جا سکتی ۔ " اس موضوع پر جاوید غامدی کا موقف جاننے کے لئیے ان کے مضامین کو اس ترتیب میں پڑہنا چاہیے۔ میزان اور فرقان (جس کا عنوان انگریزی میں ہے۔ لنک پر جاکر آپ انگریزی کی جگہ اردو منتخب کر سکتے ہیں) ۔ ۔ قطعی الدلالہ ۔ ۔ قطعی اور ظنی۔ ۔ علم کی بنیاد ۔ ۔ علم کی بنیاد ۲۔ ۔ علم کی بنیاد ۳۔ ۔ اضطراری علم ۔ ۔ عام اور خاص ۔


You'll have to visit item page to remote it from this collection. Click on item title to visit the page.