Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

زندہ درگور کا انجام | اشراق
Font size +/-

زندہ درگور کا انجام

(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث ۱۱۲)

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الوائدۃ والموؤدۃ فی النار.
’’حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور کی جانے والی لڑکی، دونوں جہنم میں جائیں گی۔‘‘

لغوی مباحث

الوائدۃ: یہ ’وائد‘ سے اسم فاعل مونث واحد کا صیغہ ہے۔ ’وأد‘ کے معنی ہیں: اس نے زندہ دفن کردیا۔
الموؤدۃ:یہ ’وأد‘ سے اسم مفعول مونث واحد کا صیغہ ہے۔

متون

صاحب مشکوٰۃ نے پوری روایت کی حیثیت سے ایک جملہ ہی نقل کیا ہے۔ یہ روایت انھوں نے ابوداؤد سے لی ہے اور ابو داؤد میں بھی یہ روایت اسی جملے پر مبنی ہے۔ لیکن مسند احمد اور بعض دوسری کتب میں یہ جملہ ایک مکالمے کے حصے کے طور پر آیا ہے۔ ہم مسند احمد کی پوری روایت یہاں نقل کر رہے ہیں:

عن سلمۃ بن یزید الجعفی قال: انطلقت انا واخی الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم. قال: قلنا: یارسول اللّٰہ ان امنا ملیکۃ کانت. تصل الرحم وتقری الضیف وتفعل وتفعل. ھلکت فی الجاھلیۃ. فھل ذلک نافعھا شیئا؟ قال: لا. قلنا: فانھا کانت وادت اختالنا فی الجاھلیۃ. فھل ذلک نافعھا شیئا؟ قال: الوائدۃ والموؤد ۃ فی النار الا ان تدرک الوائدۃ الاسلام فیعفعواللّٰہ عنھا.(رقم ۲۰۹۸۰)
’’سلمہ بن یزید جعفی بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ ہم نے پوچھا: یارسول اللہ، ہماری والدہ ملیکہ رشتے داروں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ مہمان نوازی کرتی تھیں۔ اور یہ اور یہ (نیکیاں) کرتی تھیں۔ زمانۂ جاہلیت میں فوت ہو گئیں۔ کیا یہ نیکیاں انھیں کچھ فائدہ دیں گی۔ آپ نے فرمایا: نہیں۔ (اس پر) ہم نے پوچھا: پھر ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے ہماری ایک بہن کو زمانۂ جاہلیت میں زندہ دفن کر دیا تھا۔ کیا یہ چیز ان کے لیے کچھ نتیجہ پیدا کرے گی۔ آپ نے فرمایا: زندہ دفن کرنے والی اور زندہ دفن کی گئی، دونوں جہنم میں ہوں گی۔ الا یہ کہ زندہ دفن کرنے والی اسلام قبول کر لیتی تو اللہ اس کو معاف کر دیتا۔‘‘

اس تفصیل کو بیان کرنے میں الفاظ کا فرق موجود ہے۔ لیکن کوئی معنوی فرق نہیں ہے۔ ہمیں کوئی ایسا متن نہیں ملا جو ’موؤدۃ‘ کے جہنم میں جانے کے سبب کو بیان کرتا ہو۔ قرآن مجید میں ’موؤدۃ‘ کو ایک مظلوم کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ اورروز قیامت اس سے پوچھا گیا یہ سوال کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں قتل کی گئی تھی، اس کے بے گناہ ہونے کی طرف صریح اشارہ ہے۔

معنی

عربوں میں بعض خاندانوں میں یہ رواج تھا کہ وہ بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔ اس کے دو اسباب بیان کیے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ بعض عرب خاندان تنگ دستی کے اندیشے سے ایسا کرتے تھے۔ دوسرا یہ کہ وہ ایسا غیرت کے باعث کرتے تھے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ ایسا کرنا ایک شنیع جرم ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک فطری سوال ہے کہ اس کاارتکاب کرنے والے یاکرنے والی کو کیا سزا ملے گی۔ اسی طرح اس بچی کا کیا انجام ہوگا جسے اس طرح قتل کر دیا جاتا تھا۔
اپنے الفاظ سے یہ روایت اس مضمون کو بیان کرتی ہے کہ نہ صرف ماں، بلکہ وہ بچی بھی جہنم میں جائے گی جسے زندہ دفن کر دیاگیا تھا۔ بچی کی ماں کے جہنم میں جانے میں کوئی اشکال اس لیے نہیں ہے کہ وہ عاقل وبالغ ہونے کے باوجود مذہب شرک کی حامل تھی اور قرآن مجید سے واضح ہے کہ مشرکین ومشرکات جہنم میں جائیں گے۔
سوال ’موؤدہ‘ کے حوالے سے ہے کہ اسے کس بنا پر جہنم میں بھیجا جائے گا۔
شارحین نے اس کے دو حل پیش کیے ہیں: ایک یہ کہ یہ روایت کفار کے بارے میں ہے اور اسے اس روایت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے بچوں کے بارے میں یہ وضاحت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوں گے اور اس پر کیے جانے والے اس سوال پر کہ یہ فیصلہ ان کے کچھ نہ کرنے کے باوجود ہو گا آپ نے یہ بتایا کہ یہ فیصلہ اللہ کے اس علم کی بنیاد پر ہوگا کہ وہ اگر زندہ رہتے تو کیا کرتے۔ یہ روایت زیر بحث آچکی ہے اور ہم یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ بات قرآن مجید میں بیان کیے گئے اس اصول کے بالکل خلاف ہے کہ ’’لیس للانسان الا ما سعی‘۔
دوسرا حل یہ ہے کہ انجام کی یہ خبر صرف اسی ماں بیٹی سے متعلق تھی، جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا تھا۔ اس خبر کو اصول کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔ لیکن اس سے کوئی جوہری فرق واقع نہیں ہوتا۔ وہ اعتراض اس صورت میں بھی قائم رہتا ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ’موؤدۃ‘ کے جہنم میں جانے کی کوئی قابل قبول توجیہ ممکن نہیں ہے۔ اس لیے اس روایت کے بارے میں یہ کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل الفاظ نقل نہیں ہوئے۔
یہ دونوں حل روایت کے الفاظ کے ایک معنی کو پیش نظر رکھ کر کیے گئے ہیں۔ ایک حل الفاظ کی ایک مختلف تاویل سے بھی کیا گیاہے۔ اس کے مطابق ’الوائدہ‘ سے مراد دایہ ہے اور ’الموؤدہ‘ سے مراد وہ عورت ہے جو بچی کو جنم دینے والی ہے۔ ’الموؤدہ‘ کی اس تاویل کے لیے ’موؤدہ‘ کے بعد ’لھا‘ کا صلہ محذوف قرار دیا گیا ہے۔ دایہ اور زچہ کے شریک جرم ہونے کی تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے کہ ولادت کے موقع پر ایک گڑھا کھودا جاتا تھا۔ دایہ اور زچہ اس کے اوپر بیٹھ جاتی تھیں۔ اگر لڑکا ہوتا تو دایہ اسے سنبھال لیتی اور اگر لڑکی ہوتی تو اسے گڑھے میں گرا دیتی اور اس پر مٹی ڈال دی جاتی۔ دونوں الفاظ کی یہ توجیہ ایک بعید از قیاس توجیہ ہے۔ پوری روایت اس توجیہ کو قبول نہیں کرتی۔ مزید یہ کہ قرآن مجید میں ’موؤدہ‘ کا لفظ واضح طور پر زندہ دفن کی جانے والی بچی کے لیے آیا ہے۔

کتابیات

ابوداؤد، رقم ۴۰۹۴۔ مسند احمد، رقم ۱۵۳۵۸۔ ابن حبان، رقم ۷۴۸۰۔ موارد الظمآن، رقم ۶۶۔ السنن الکبریٰ، رقم ۱۱۶۴۹۔ مسند بزاز، رقم ۱۵۹۶،۱۶۰۵،۱۸۲۵۔ مسند الشاشی، رقم ۶۴۸۔ المعجم الکبیر، رقم ۶۳۱۹۔

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List