Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Manzoor ul Hassan Profile

Manzoor ul Hassan

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
زنا بالجبر کی سزا کے بارے میں فقہا کا موقف (۲) | اشراق
Font size +/-

زنا بالجبر کی سزا کے بارے میں فقہا کا موقف (۲)

[ڈاکٹر محمد مشتاق اور جناب حسن الیاس کی بحث کے تناظر میں]


’’زنا بالجبرکی سزا کے بارے میں فقہا کا موقف‘‘ کے زیر عنوان گذشتہ مضمون کے اختتام پر ہم نے برادر مکرم جناب ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب کی خدمت میں یہ سوال کیا تھا کہ اگر کسی معصوم بچی کو کوئی غیر شادی شدہ شخص ظلم کا نشانہ بنا کرچھوڑ دے اورچار چشم دید گواہ اس کے خلاف زنابالجبر کی شہادت دیں تو ہماری فقہ میں اس جرم کے لیے کیا تعبیر اختیار کی جاتی ہے اور مجرم پر کس سزا کا نفاذ ہوتا ہے؟ جناب مشتاق صاحب نے اس کے جواب میں یہ بیان کیا ہے کہ اس صورت میں سو کوڑے کی حد اور اس کے ساتھ تعزیر کی کوئی سزا نافذ ہو گی جو جرم کی شناعت کے اعتبار سے موت بھی ہو سکتی ہے۔ ’’زنا بالجبر سے متعلق آخری سوال کا جواب‘‘ کے عنوان کے تحت انھوں نے لکھا ہے:

’’سوال ہوا کہ اگر چار گواہوں کی گواہی سے جرم ثابت ہوجاتا اور مجرم غیرمحصن ہوتا تو اس آرڈی نینس کی رو سے کیا سزا ہوتی؟ (یاد کیجیے ’’اگر زینب زندہ ہوتی‘‘ نامی ڈرامے کا سنسنی خیز کلائمیکس!) اس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں اسے زنا کی سزا کے طور پر سو کوڑے دیے جاتے اور اکراہ کی سزا کے طور پر مناسب تعزیر جو سزاے موت بھی ہوسکتی تھی!‘‘ (فیس بک)

یہی بات اُن کی بعض گذشتہ تحریروں سے بھی مفہوم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ’’زنا بالجبر کی بحث میں غلطی کہاں سے ہوتی ہے‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’...پس جہاں اکراہ بھی ثابت شدہ ہو اور زنا بھی ثابت شدہ ہو تو اکراہ کرنے والے کو اکراہ کی سزا بھی دی جائے گی اور زنا کی بھی۔ یہ رہا ایک مسئلہ۔ اب آئیے دوسرے مسئلے کی طرف۔ جہاں صرف اکراہ ثابت ہو تو وہاں کیا کیا جائے گا؟ اس سیدھے سادے سوال میں ہی سارے مسئلے کی کنجی ہے۔ اس سیدھے سادے سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں اکراہ ثابت ہو وہاں اکراہ کی سزا دی جائے گی۔ اس پر سوال قائم ہوتا ہے کہ اکراہ کی سزا کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت نے بہت سے دیگر جرائم کی طرح اکراہ کے جرم کی سزا بھی متعین نہیں کی ہے بلکہ اسے حکمران کی صواب دید پر چھوڑا ہے جو اکراہ کی صورت اور نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پر مناسب سزا مقرر کر سکتا ہے۔ سنگین صورتوں میں وہ سزاے موت بھی مقرر کر سکتا ہے۔ بہت زیادہ سنگین صورتوں میں وہ سزاے موت کے لیے کوئی عبرت ناک طریقہ بھی تجویز کرسکتا ہے۔ یوں فقہاے کرام کے لیے یہ معاملہ حدود کا نہیں، بلکہ ’’سیاسہ‘‘ کا ہوا۔‘‘(فیس بک)

اب سوچیے کہ اکراہ کی ممکن صورتیں کیا ہوسکتی ہیں؟ انسان کس حد تک وحشی ہوسکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی جامع و مانع فہرست مرتب کرنا کسی انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ ہم صرف چند موٹی موٹی کیٹگریز ہی ذکر کرسکتے ہیں۔ ان کیٹگریز میں ایک کیٹگری ’’جنسی تشدد‘‘ کی ہے۔ اب اس پر سوچیے کہ جنسی تشدد کی ممکن صورتیں کیا ہوسکتی ہیں؟ اس کا جواب بھی یہی ہے کہ اس کی جامع و مانع فہرست بنانا ممکن ہی نہیں۔ بے شمار صورتیں ہوسکتی ہیں جن میں ایک وہ صورت بھی ہوسکتی ہے جسے انگریزوں نے ’ریپ‘ کہا اور پھر یہاں اس کے لیے ’زنا بالجبر‘ کا ترجمہ رائج کرایا.... اس لیے ایک تو ریپ اور زنا بالجبر کا تصور انتہائی حد تک ناقص ہے۔ جنسی تشدد کی بے شمار دیگر قسمیں، جو زیادہ سنگین بھی ہوسکتی ہیں، اس تعریف میں آتی ہی نہیں۔ دوسرا یہ کہ اسے ’’زنا‘‘ کی صورت بنا دیا گیا ہے، جو فقہاے کرام کے اصولوں کے مطابق غلط ہے۔ یہ زنا کی قسم نہیں، بلکہ جنسی تشدد کی قسم ہے، اکراہ کی قسم ہے، سیاسہ جرم ہے۔ اس بحث کے بعد معیارِ ثبوت کا مسئلہ خود بخود واضح ہوگیا۔ جب جنسی تشدد کا جرم زنا کے جرم سے الگ جرم ہے اور اس پر سیاسہ کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے تو پھر اس کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط بھی ضروری نہیں ہے اور اس کی سزا بھی سو کوڑے یا رجم کے علاوہ کچھ اور شکل اختیار کرسکتی ہے۔
مشتاق صاحب کی اس توضیح و تفہیم سے فقہا کا جو موقف سامنے آتا ہے، وہ درج ذیل نکات پر مبنی ہے:
۱۔زنا بالجبر یا زنا بالاکراہ کا مجرم ایک نہیں، بلکہ دو جرائم کا ارتکاب کرتا ہے: ایک زنا اور دوسرے جبر و اکراہ۔
۲۔ زنا کا جرم دائرۂ حد کا جرم ہے جو چار گواہوں کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے۔اس کی سزا خود شریعت نے مقرر کی ہے اور وہ غیر شادی شدہ (غیرمحصن)مجرم کے لیے سو کوڑے ہے۔
۳۔ جبر واکراہ کا جرم دائرۂ حد کا نہیں، بلکہ دائرۂ تعزیر یا سیاسہ کا جرم ہے جس کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شہادت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حالات و قرائن کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے۔ شریعت نے اس کی کوئی سزا مقرر نہیں کی۔ اس لیے عدالت، حکومت یا ریاست جرم کی شدت اور شناعت کے لحاظ سے خود کوئی سزا مقرر کر سکتی ہے اور یہ سزاے موت بھی ہو سکتی ہے۔
۴۔ چنانچہ اگر کسی غیر شادی شدہ شخص نے زنا بالجبر کا ارتکاب کیا ہے اور زنا کا جرم چار گواہوں کی شہادت سے اور جبر و اکراہ کا جرم حالات و قرائن کی گواہی سے ثابت ہو گیا ہے تو مجرم پر زنا اور جبر واکراہ کے دو جرائم کی سزاؤں کا نفاذ ہو گا۔ زنا کے جرم میں سو کوڑے کی شرعی حد لاگو ہو گی اور اکراہ کے جرم میں قتل تک کی سزا کی کوئی تعزیر نافذ کی جائے گی۔
ہمارے علم اور مطالعے کی حد تک اس موقف کی فقہا سے نسبت صریح طور پر غلط ہے۔زنا بالجبر یا زنا بالاکراہ کی صورت میں ہمارے فقہا نہ جبر و اکراہ کو زنا سے الگ جرم قرار دیتے ہیں، نہ اس کے لیے الگ معیار ثبوت طے کرتے ہیں اور نہ اس کی کوئی الگ تعزیری سزا مقرر کرتے ہیں۔ یہ جرم رضامندی سے ہو یا کسی کو مجبور کر کے کیا گیا ہو، ہر دو صورتوں میں وہ اسے ایک ہی جرم شمار کرتے ہیں، ایک ہی طریقے سے اس کو ثابت مانتے ہیں اور ایک ہی نوعیت کی سزاؤ ں کا اس پر اطلا ق کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے نزدیک زنا بالرضا ہو یا زنا بالاکراہ، چار گواہوں کی شہادت سے ثابت ہو تا ہے اور مجرم پر سو کوڑے یا رجم کی حد نافذکی جاتی ہے۔ یہ فرق البتہ، ان کے ہاں ملحوظ ہے کہ زنا بالرضا کی صورت میں تو جرم کے دونوں شریک حد کے سزاوار قرار پاتے ہیں، جب کہ زنا بالجبر میں وہی فریق حد کا مستحق ٹھیرتا جس نے جبراً زنا کا ارتکاب کیا ہے۔جبر کا شکار ہونے والے فریق پر سزا نافذ نہیں کی جاتی۔
درج ذیل حوالوں سے اسی موقف کا اثبات ہوتا ہے:

’’علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زبردستی اور جبراً زنا کرنے والا موجب حد ہے،اگر اس پر وہ گواہیاں پیش کر دی جائیں جو حد کو لازم کرتی ہیں یا پھر وہ خود اس کا اقرار کر لے۔‘‘ (امام ابن عبدالبر، الاستذکار)
’’جب گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ ایک شخص نے ایک عورت کو مجبور کر کے اس کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا ہے تو اس شخص پر تو حد نافذ کی جائے گی، مگر عورت پر نہیں کی جائے گی۔اس (عورت پر حد نافذ نہ کرنے) کی وجہ یہ ہے کہ حد کا وجوب سرزنش کے لیے ہے اور یہ عورت تو خود سرزنش کرنے والی اورقدرت دینے سے انکار کرنے والی تھی،یہاں تک کہ اس آدمی نے اسے مجبور کر دیا۔اور اکراہ اس بات کی بھی نفی کرتا ہے کہ عورت سے گوئی گناہ سرزد ہوا ہے.... اور (جہاں تک اُس شخص کا تعلق ہے جس نے عورت کو مجبور کر کے اُس کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا تو) اُس شخص پر حد کی سزا نافذ کی جائے گی۔ اس لیے کہ اس نے فعل زنا کی تکمیل کی اور اس لیے کہ اس کا جبراً یہ کام کرنا رضا مندی سے کرنے سے زیادہ سنگین ہے۔‘‘ (امام سرخسی، المبسوط ۹/ ۴۵)

مولانا عمار خان ناصر نے بھی فقہا کا یہی موقف نقل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’فقہا اس (زنا بالجبر) کو زنا بالرضا کے مقابلے میں سنگین تر جنایت تسلیم کرنے کے باوجود بالعموم اس کے مرتکب کے لیے زنا کی عام سزا ہی تجویز کرتے یا زیادہ سے زیادہ زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کو اس کے مہر کے برابر رقم کا حق دار قرار دیتے ہیں، جب کہ احناف اس کو اس رقم کا مستحق بھی نہیں سمجھتے۔‘‘ (حدود و تعزیرات: چند اہم مباحث ۱۷۰)

اسی بات کو مولانا مفتی تقی عثمانی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’ قرآن کریم، سنت نبویہ علی صاحبہا السلام اور خلفاء راشدین کے فیصلوں سے یہ بات کسی شبہہ کے بغیر ثابت ہے کہ زنا کی حد جس طرح رضا مندی کی صورت میں لازم ہے، اسی طرح زنا بالجبر کی صورت میں بھی لازم ہے، اور یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ قرآن وسنت نے زنا کی جو حد (شرعی سزا) مقرر کی ہے وہ صرف رضا مندی کی صورت میں لاگو ہوتی ہے، جبر کی صورت میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔‘‘ (حدود آرڈیننس ایک علمی جائزہ ۲۲۔ ۲۳)

مولانا زاہدالراشدی، مفتی منیب الرحمن، قاری حنیف جالندھری،مولانا حسن جان، ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور بعض دیگر علما کا بھی یہی موقف ہے کہ:

’’زنا بالجبر اگر حد کی شرائط کے ساتھ ثابت ہو جائے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے گی۔‘‘(ماہنامہ الشریعہ، اکتوبر ۲۰۰۶ء)

ان اقتباسات سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ فقہا کے نزدیک نہ اکراہ کوئی الگ جرم ہے اور نہ زنا بالاکراہ اور زنا بالرضا میں جرم، ثبوت اور نفاذ حدود کے اعتبار سے کوئی فرق ہے۔ لہٰذا برادرم مشتاق صاحب کا فہم فقہا کے موقف کی صحیح تعبیر نہیں ہے۔
یہ ساری تقریر ہمارے گذشتہ مضمون میں بیان کی گئی بات ہی کا بہ الفاظ دیگر اعادہ ہے۔ اسے مکرر کہنے کی ضرورت اس لیے پڑی ہے کہ برادرم مشتاق صاحب نے ہمارے مضمون کے جواب میں جو مختصر نوٹ تحریر کیاہے، وہ اس کو پڑھے بغیر یا اس سے صرف نظر کر کے لکھاگیا معلوم ہوتا ہے۔ ہمارا مضمون اس ایک نکتے پر مبنی تھا کہ ’’مشتاق صاحب نے زنا بالجبر کی سزا کے حوالے سے جو بات فقہا کی نسبت سے بیان کی ہے، اُسے کسی طرح بھی فقہا کے موقف کی ترجمانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ اپنی بات کو کسی ابہام یا غلط فہمی سے بچانے کے لیے ہم نے مشتاق صاحب کی مزعومہ فقہی آرا اورعلما کی مسلمہ فقہی آرا کا نکتہ وار تقابل کیا تھا اور اس کی بنا پر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ دونوں باہم مخالف اور متضاد ہیں، انھیں یکساں یا ہم معنی ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔ دیکھیے، ہم نے لکھا تھا کہ:

’’فقہ حنفی کے اکابرین یہ کہتے ہیں کہ زنا بالجبر زنا ہی کی ایک صورت ہے، جب کہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ زنا بالجبر زنا کی قسم نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ حدود کے دائرے کا جرم ہے، جب کہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ یہ حدود کے دائرے کا نہیں، بلکہ سیاسہ کے دائرے کا جرم ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ جرم مجرم کے اقرار یا چار مسلمان گواہوں کی شہادت سے ثابت ہو گا، جب کہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ یہ حالات و قرائن سے ثابت ہو گا۔وہ کہتے ہیں کہ اس پر زنا (بالرضا) ہی کی حد، یعنی سو کوڑے یا رجم کی سزا نافذ ہو گی، مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ نہیں اس پر سو کوڑے یا رجم کی سزا کے علاوہ کوئی اور سزا نافذ ہو گی۔اگر صورت معاملہ یہی ہے توپھر یہ کوئی بہت بڑا مغالطہ ہے جس کا شکار مشتاق صاحب ہوئے ہیں یا بصورت دیگر قارئین کا حد درجہ سوء فہم ہے کہ وہ مشتاق صاحب کی بات کا مفہوم اُن کے مدعا کے برعکس سمجھ رہے ہیں۔‘‘ (ماہنامہ اشراق، فروری ۲۰۱۸ء، ۱۰)

اس نقد کی تردید کے دو ہی راستے تھے: یا بہ دلائل یہ کہا جاتا کہ ہم نے فقہا کی بات کو غلط بیان کیا ہے یا یہ ثابت کیا جاتا کہ مشتاق صاحب کی بات کی غلط ترجمانی کی گئی ہے۔ مشتاق صاحب کی جوابی تحریر میں ان میں سے کوئی راستہ اختیار نہیں کیا گیا۔ اس کے بجاے چند سوالات نقل کرنے پر اکتفا کی گئی ہے جن کا ہماری دانست میں مسئلۂ زیر بحث سے اصلاً کوئی تعلق نہیں ہے۔
بہرحال، اس تکرار سے اب آگے بڑھتے ہیں اور الفاظ کے ابہامات اور استدلال کے تناقضات سے قطع نظر کرتے ہوئے مشتاق صاحب کے مدعا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ غالباً یہ کہنا چاہتے ہیں کہ فقہا کے نزدیک زنا بالاکراہ میں زنا اوراکراہ کے دو جرائم ویسے ہی جمع ہوتے ہیں جیسے مثال کے طور پر بعض اوقات ز نا کے ساتھ چوری یا جراحت یا قتل کے جرائم جمع ہو جاتے ہیں۔ اگر فی الواقع ان کی بناے استدلال یہی ہے تو پھر انھیں اپنی بات کے ثبوت کے لیے فقہ کی کتابوں کے حوالے نقل کرنے چاہییں اور یہ بتانا چاہیے کہ فلاں فلاں فقیہ زنا بالاکراہ کو زنا اور اکراہ کے دو جرائم کا مجموعہ قرار دیتے اور اس بنا پر حد اور تعزیر کی فلاں فلاں سزائیں تجویز کرتے ہیں۔ ہمارے علم کی حد تک فقہا سے اس بات کی نسبت قطعاً درست نہیں ہے۔ قتل، چوری اور جراحت وغیرہ کی انفرادی نوعیت، بلاشبہ ان کے ہاں مسلم ہے،لیکن زنا اور اکراہ کے اجتماع کی صورت میں اکراہ کی انفرادی نوعیت کو وہ تسلیم نہیں کرتے۔ مزید برآں وہ اکراہ سے اضافی طور پرپیدا ہونے والی شدت اور شناعت کی بنا پر زنا بالجبر کو زنا کے علاوہ ایک الگ جرم کے طور پر بھی شمار نہیں کرتے۔
یہ تو فقہا کا معاملہ ہے، عقلاً بھی جبر و اکراہ کو ایک الگ جرم ماننا محال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکراہ ظلم و جبر کی ایک ہیجانی کیفیت کا نام ہے۔ یہ کسی جرم کا محرک تو ہو سکتی ہے، مگر بذات خود کوئی جرم نہیں ہو سکتی۔ اسے اپنے اظہار کے لیے کسی جرم کا قالب درکار ہوتا ہے۔ چنانچہ بدزبانی، دھونس، دھمکی، تشدد، جراحت، قید و بنداور بعض صورتوں میں قتل و غارت، یقیناًجبرو اکراہ کے مظاہر ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سب بذاتِ خود جرائم ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ جب کوئی شخص مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے قتل کی دھمکی دیتا ہے یا مارتا پیٹتا ہے یا جسمانی اعضا کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس صورت میں جبر جرم نہیں بنتا، بلکہ جبر کے یہ مظاہر جرم بنتے ہیں۔
یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ جو جرائم دوسرے کے خلاف ہوں یا جن میں دوسرے پر تعدی کی جائے، وہ ہوتے ہی بالاکراہ ہیں۔ قتل، جراحت، چوری، ڈاکا، دھوکا، توہین، تذلیل، ان سب میں اکراہ شامل ہے۔ مقتول یا مجروح یا چوری، ڈاکے اور دھوکے کا شکار ہونے والا کبھی اپنی رضا مندی سے ان جرائم کا ہدف نہیں بنتا۔ ان میں ایک جرم کرنے والا اور دوسرا اس کا شکار ہونے والا ہوتا ہے، یعنی ایک قاتل اور دوسرا مقتول ہوتا ہے، ایک جارح دوسرا مجروح ہوتا ہے۔اس کے برعکس زنا کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ یہ دوسرے کی مرضی سے بھی ہو سکتا ہے اور اس کی مرضی کے خلاف بھی۔ مرضی سے ہوا ہے تو اس کی ایک نوعیت ہے، مرضی کے خلاف ہوا ہے تو دوسری نوعیت ہے۔ اس لیے زنابالرضا اور زنا بالجبر کو ایک جرم کی دو صورتوں پر محمول کرنے کے بجاے دو الگ الگ جرائم پر محمول کرنا زیادہ قرین عقل اور زیادہ قرین انصاف ہے۔ اس صورت میں اکراہ کو ایک الگ جرم قرار دے کر اسے زنا میں شامل کرنے اور اسے دو جرائم کا مرکب بنانے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔
بات کچھ تفصیل میں چلی گئی۔ کہنا فقط یہ مقصود تھا کہ مشتاق صاحب کا پورا سلسلۂ کلام جس نکتے کے گرد گھومتا ہے کہ فقہا زنابالاکراہ میں اکراہ کو زنا سے الگ جرم قرار دے کر اس کے لیے الگ سزا تجویز کرتے ہیں، اس کو فقہ کے ذخیرے میں دریافت کرنا امر محال ہے۔ اس بعید از قیاس تاویل کا سبب یقیناًکوئی غلط فہمی ہو گی، وگرنہ مشتاق صاحب جیسی صاحب علم شخصیت سے یہ توقع ہر گز نہیں کی جا سکتی کہ وہ محض حمیت و حمایت کے جذبے میں فقہا سے ایک ایسی بات منسوب کریں گے جو وہ نہیں کہہ رہے۔
فقہا کا کام اس کی تمام علمی جلالت کے باوجود بہرحال انسانی کام ہے،اس لیے اسے اسقام سے مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسقام کا سبب کبھی فہم کی غلطیاں ہوتی ہیں اور کبھی حالات اور ذرائع و وسائل کی محدودیتیں ان کا باعث بن جاتی ہیں۔جرائم کی جو صورتیں مرور زمانہ سے وجود میں آئی ہیں، ضروری نہیں کہ ماضی میں بھی ان کی یہی نوعیت اور یہی شدت و شناعت ہو۔ اسی طرح تحقیق و تفتیش کے جو طریقے آج کے زمانے میں دستیاب ہیں، لازم نہیں کہ وہ گزرے زمانے میں بھی اسی سطح پر میسر رہے ہوں۔ لہٰذا ان وجوہ کی بنا پر غلطی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
فقہا کے کام میں کوئی غلطی، سقم یا خلا رہ گیا ہے تو اس کی نشان دہی کرنا اور اس کے تدارک کے لیے کوئی تحقیق پیش کرنا سرتاسر ایک مخلصانہ علمی خدمت ہے جس کی افادیت کا کوئی صاحب علم انکار نہیں کر سکتا۔یہ علم کا سفر ہے اور علوم اسلامی کی علمی تاریخ اس سفر کی عظیم الشان داستان ہے۔
استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی اس موضوع پر تنقید و تحقیق بھی اسی نوعیت کی ایک علمی خدمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھوں نے ایک جانب ان اسقام کی نشان دہی کی ہے جو عقل و نقل کی رو سے نمایاں ہوتے ہیں اور دوسری جانب اپنے علم و فہم کے مطابق شریعت اسلامی کے صحیح موقف کو واضح کیا ہے۔خاتمۂ کلام کے طور پر یہ مناسب ہو گا کہ ان کے نقد و نظر کے چند متعلق نکات کا یہاں ذکر کر دیا جائے۔ اس ضمن میں درج ذیل تین باتیں بنیادی نوعیت کی ہیں اور کم و بیش یہی وہ باتیں ہیں جن کی جانب برادرم حسن الیاس صاحب نے اپنی تحریر کے ذریعے سے توجہ دلائی تھی:
ایک بات یہ ہے کہ ہماری فقہ میں زنا اور زنا بالجبرکی سزا میں فرق قائم نہیں کیا گیا۔ اس کے مطابق جرم کا مرتکب اگر محصن، یعنی شادی شدہ ہے تو اسے سنگ سار کر کے ہلاک کر دیا جائے گا اور اگر غیر محصن، یعنی غیر شادی شدہ ہے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں گے۔ گویا زناکی سزا میں اگر کوئی فرق قائم ہے تو وہ ازدواجی حیثیت کی بنا پرہے، اس کے بالرضا یا بالجبر ہونے کی بنا پر نہیں ہے۔ استاذ گرامی کے نزدیک زنابالرضا اور زنا بالجبر، دونوں الگ الگ جرم ہیں۔ ان میں وہی فرق ہے جوچوری اور ڈکیتی میں ہے۔ شریعت میں ان دونوں کے لیے الگ الگ سزامقرر کی گئی ہے۔زنا کی سزا سو کوڑے ہے جو سورۂ نور میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ: ’’زانی مرد ہو یا عورت، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔‘‘ جہاں تک زنا بالجبر کا تعلق ہے تویہ اور اس نوعیت کے دیگر سنگین جرائم کی سزائیں سورۂ مائدہ میں ’محاربہ‘ اور ’فساد فی الارض‘ کے جامع عنوانات کے تحت بیان کی گئی ہیں۔انھی میں سے ایک سزا عبرت ناک طریقے سے قتل ہے۔ ’رجم‘، یعنی لوگوں کی ایک جماعت کا مجرم کو پتھر مار کر ہلاک کرنا بھی اسی سزا کی ایک صورت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اوباشی کے بعض مجرموں پر اسی آیت کی پیروی میں رجم کی سزا نافذ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تھا۔
دوسری بات یہ ہے کہ فقہی تعبیر کے مطابق اسلامی شریعت میں ثبوت جرم کے لیے ایک متعین اور مخصوص طریقۂ کار طے کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جرم چار گواہوں کی عینی شہادت سے ثابت ہو گا۔ حالات و قرائن کو ثبوت جرم کے لیے بطور شہادت قبول نہیں کیا جائے گا۔ غامدی صاحب کے نزدیک یہ چیز اخلاقیات قانون اور عدل و انصاف کے خلاف ہے۔ شریعت اسلامی اس سے پاک ہے کہ اس طرح کی غیر عقلی اور خلاف عدل باتوں کو اس کی نسبت سے بیان کیا جائے۔ اُن کا موقف ہے کہ ثبوت جرم کے لیے شریعت نے کسی خاص طریقے کی پابندی لازم نہیں ٹھیرائی ہے۔ چنانچہ اسلامی قانون میں جرم ان تمام طریقوں سے ثابت ہوتا ہے جو اخلاقیات قانون میں مسلمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یعنی وہ طریقے جو علم و فن اور تہذیب و تمدن کے ارتقا کے نتیجے میں وجود پذیر ہوئے ہیں اور جنھیں انسان کے اجتماعی ضمیر نے ہمیشہ قبول کیا ہے۔ چنانچہ حالات و قرائن، طبی معاینہ یا اس نوعیت کے دیگر شواہد کی بنا پر اگر جرم کے ارتکاب اور مجرم کا پوری طرح تعین ہو جاتا ہے تو جرم ثابت قرار پاتا ہے اور مجرم سزا کا مستحق ٹھیرتاہے۔
جہاں تک سورۂ نور کی آیات ۴۔ ۵ میں چار گواہوں اور سورۂ نساء کی آیت ۱۵ میں چار مسلمان گواہوں کی شرط کا تعلق ہے تو استاذ گرامی کے نزدیک یہ شہادت کا کوئی عمومی قانون نہیں ہے، بلکہ دو استثنائی صورتوں کا بیان ہے: ایک صورت وہ ہے جسے اسلامی شریعت میں ’قذف‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی پاک دامن پر زنا کی تہمت لگائے تو اسے کہا جائے گا کہ اس الزام کی تائید میں چار عینی گواہ پیش کرو۔ اس سے کم کسی صورت میں الزام ثابت نہیں ہو گا۔حالات و قرائن اور طبی معاینہ جیسی شہادتوں کی اس معاملے میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ نہ انھیں طلب کیا جائے گا اور نہ قبول کیا جائے گا۔ الزام لگانے والا اگرچار گواہ پیش نہیں کرتا تو اسے اسّی کوڑے مارے جائیں گے اور ہمیشہ کے لیے ساقط الشہادت قرار دے دیا جائے گا۔ قذف کے اس قانون سے اللہ تعالیٰ کا مقصود یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی حیثیت عرفی مسلم ہے اور وہ ایک شریف آدمی کے طور پر پہچانا جاتاہے تو اسے توبہ و انابت کا موقع دیا جائے اور معاشرے میں رسوا نہ کیا جائے۔چار گواہوں کی شرط کی دوسری صورت ان عورتوں سے متعلق ہے جو قحبہ گری کی عادی مجرم ہوں۔ حکومت ان سے نمٹنے کے لیے چار مسلمان گواہوں کو طلب کرسکتی ہے جو اس بات کی گواہی دیں گے کہ فلاں زنا کی عادی ایک قحبہ عورت ہے اور ہم اسی حیثیت سے اسے جانتے ہیں۔ ان دو مستثنیٰ صورتوں کے سوا اسلامی شریعت ثبوت جرم کے لیے عدالت کو کسی خاص طریقے کا پابند نہیں کرتی۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہماری فقہی تعبیر میں گواہوں کے معاملے میں جنس اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کی گئی ہے۔ جرم زنا اسی صورت میں لائق حد قرار پاتا ہے جب جرم کے عینی گواہ چار بالغ مرد ہوں اور مسلمان ہوں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس جرم میں اکیلی عورت یا غیر مسلم کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ جناب جاوید احمد غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ اسلامی شریعت میں شہادت کے معاملے میں جنس اور مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جرم کے موقع پر گواہ کا موجود ہونا سراسر ایک اتفاقی امر ہے۔کسی جرم کے موقع پر کوئی مردبھی موجود ہو سکتا ہے اور کوئی عورت بھی، مسلمان بھی ہو سکتا ہے اور غیر مسلم بھی، بچہ بھی ہو سکتا ہے اور بوڑھا بھی اور ایک فرد بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ افراد بھی اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ مظلوم اور مجرم کے علاوہ کوئی فرد بشر موجود ہی نہ ہو۔ چنانچہ یہ اسلامی شریعت کی صحیح تعبیرنہیں ہے کہ مثال کے طور پر اگر کوئی معصوم بچی ماں کے سامنے درندگی کا شکار ہوئی ہو اور عدالت ماں کی گواہی محض عورت ہونے کی بنا پر رد کر دے یا کسی پاک دامن کی آبرو ریزی کا گواہ مذہباً عیسائی ہو اور اس کی گواہی غیر مسلم ہونے کی وجہ سے قبول نہ کی جائے؟ استاذ گرامی کے نزدیک اسلام اس سے بری ہے کہ اس پر اس طرح کی تہمت لگائی جائے۔ قذف اور قحبہ عورتوں کی سرکوبی کے معاملے کے سوا یہ گواہوں کے حوالے سے کوئی شرط عائد نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک ثبوت جرم کی اصلاًایک ہی شرط ہے اور وہ عدالت کا اطمینان ہے۔ یہ اطمینان اگر کسی عورت کی گواہی سے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا، کسی غیر مسلم کی گواہی سے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا، کسی بالغ کی گواہی سے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا، کسی بچے کی گواہی سے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا، یہاں تک کہ اگر کوئی فرد بطور گواہ میسر نہیں ہے اور عدالت فقط طبی معاینے کی بنا پر مطمئن ہو جاتی ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا اور مجرم پر شرعی حدود کا پوری طرح نفاذ ہوگا۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List