Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Muhammad Husnain 76 Profile

Muhammad Husnain 76

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
ذات باری تعالیٰ پر صفاتی اعتراضات کا اجمالی جائزہ* | اشراق
Font size +/-

ذات باری تعالیٰ پر صفاتی اعتراضات کا اجمالی جائزہ*

محمد حسنین اشرف

خالق کاانکار تو شاید ہی کوئی ذی ہوش کر پائے، کسی نہ کسی شکل میں، کسی نہ کسی صورت میں لوگ خالق کے تصور کو مانتے ہیں۔ کہیں یہ تصور یکتائی کے لبادے میں ملبوس ملتا ہے اور کہیں اسی یکتا نے ایک سےزائد دیوی دیوتاؤں کو کائنات کی باگ ڈور سونپ دی ہے۔ کوئی اس کائنات سے ماوراہستی کو خدا مانتا ہے اور کوئی اسی کائنات کے خدا ہونے پر مصر ہے۔خالق یا خدا کا انسانوں سے تعلق ہمیشہ سے ہے اور شاید آنے والے وقتوں میں کسی نہ کسی شکل میں یہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ انسان چونکہ نہ تو ہمیشہسے ہے اور نہ ہمیشہ رہے گا ، اس لیے بطور مخلوقایک خالق کی تلاش اسے ہمیشہ رہے گی،یہاں تک کہ وہ موت کو ہمیشہ کے لیے موت دے دے۔

عام طور پر لوگ خالق کا انکار نہیں کرتے، وہ اس مذہبی خدا کا انکار کرتے ہیں جو شخصیت رکھتا ہے، جسے بیان کیا جاسکتا ہے، جو کلام کرتا ہے، اتمام حجت کرتا ہے،قیامت صغریٰ برپا کرتا ہے ۔ وہ خدا جو مذہب دیتا ہے، پابندیاں لگاتا ہے، وعیدیں سناتا ہے اور خوش خبریاں دیتا ہے۔آسان لفظوں میںیوں کہہ لیجیے کہ لوگ جب خدا کا انکار کرتے ہیں تو وہ اصل میں خدا کا انکار نہیں کرتے ،بلکہ میرے یا آپ کے خدا کا انکار کرتے ہیں ۔’خدا نہیں ہے‘،کا مطلب ہے کہ تم جس خدا کی دعوت دے رہے ہو یا جس کی خبر مذہب دے رہا ہے ، وہ خدا موجود نہیں ہے۔ اب ان تمام صفات سے ماورا کسی ہستی کو لے آیئے اور ایکملحد سے پوچھیےتو وہ اپنے مخلوق ہونے اور یوں اسی وجود سے خالق کی دلیل کو نہایت آسانی سے مان لیں گے۔ لیکن مذہبی خدا چونکہ صفات کا حامل ہے اور وہ صفات وقتکےساتھ ساتھ در آنے والی فکری تبدیلیوں کے نتیجے میں غیر متعلقہوتی چلی جاتی ہیں ، اس لیے ان پر صفاتی اعتراضات کی لمبی فہرست پیش کی جاتی ہے۔

وجود باری تعالیٰ پر یوں تو کئی رخ سے ہزاروں اعتراضات کیےجاتے ہیں، لیکن فی الحال موضوع بحث، وجود خدا کا وہ پہلو ہے جس پر سب سے زیادہ اعتراض کیا جاتا ہے۔یہ صفاتی پہلو ہے، مثلاً ایک رحیم و کریم خدا کیوں کر ایک بچے کو کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا کردے گا؟ یا ایک رحیم و کریم خدا کیوں کر اپنے بندوں کو تکالیف میں دیکھ سکتا ہے؟ یاایک خدا اپنے آپ کو سجدہ کروا کر کیوں خوش ہوتا ہے؟ وہ شرک سے حسد کیوں محسوس کرتا ہے؟ وہ چھوٹی چھوٹی غلطی پر کیوں برہم ہوجاتا ہے؟وغیرہ وغیرہ۔

انسانی فہم کا ایک بڑا نقص یہ بھی ہے کہ اسے کسی بھینامعلوم چیز کے ادراک کے لیے ایک شبیہ درکار ہوتی ہے۔ اس کے بغیر وہکسینئی چیز کو سمجھ نہیں سکتا، یعنی اگر میں لفظ ’سیب ‘کہوں اور سننے والے نے سیب نہ دیکھ رکھا ہو تو مجھے یا تو اب سیب دکھا کر یا اس کی کوئی شبیہ بنا کر سامنے لانی ہوگی۔شبیہ کے بغیر جملہ کچھ یوں بنے گا کہ سیب گیند سا گول، انار سا سرخ،شکر سا میٹھااور آم سا رس بھرا ہوتا ہے۔ یہ تمام صفات سیب کی ذاتی نہیں ہیں، لیکن ان صفات کو ادھار لیا گیا تاکہ سامع پروجود،صفات کے اعتبار سےواضح ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا تخیل جیسا کیسا بھی بے ترتیبہو،وہ ان جہتوں سے باہر نہیں جھانک سکتا جو معلوم ہیں۔ اس کے لیے ایک دوسری مثال نہایت کارآمد ہوسکتی ہے، جیسے کہ اگر مجھے کسی کو بتانا ہو کہ میں نے کس رنگ کی پتلون پہنی ہے تو ضروری ہے کہ یا تو وہ رنگ دکھا دیا جائے یا کسی چیز سے تشبیہ دے دی جائے۔تو جملہ کچھ یوں ہوگا کہ میں نے آسمانی(آسمان کے رنگ جیسی، نیلی) یا گلابی (گلاب کے رنگ جیسی، گلابی)رنگ کی پتلون یا قمیص پہنی ہے۔اب ذرا غور کیجیے تو اندازہ ہوگا کہ آپ جس گلابی رنگ میں ملبوس ہیں اوروہ گلاب(پھول) جس سے تشبیہ دی ہے، دونوں کے رنگ میں خاصا فرق ہوسکتا ہے۔چونکہ شبیہ کا مقصد بعینہٖ وہی چیز دکھانا نہیں ، بلکہ سمجھانے کے لیے اس کے قریب ترین چیز کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی مذہب، رسول، پیغمبر یا گرو نے خدا کی پہچان کروانے کی کوشش کی ہےتو وہ معلوم انسانی صفات کے اندر رہ کر ہی ممکن ہوسکا ہے، وگرنہ اول تو یہ تصور سمجھ میں ہی نہ آتااور اگر آتا تو ایسا بے ڈھنگا ہوتا کہ اس خدا سے تعلق کی کوئی صورت پیدا نہہوسکتی۔ جدید دنیا میں بھیاگر آپ کچھ آوازیں سنیں تو چند اگناسٹک بھی خدا کے سائنس دان یا ریاضی دان ہونے کی نوید دیتے ہیں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی چند معلوم صفات کو مستعار لے کر خدا کے وجود کو بیان کر رہے ہیں جو جدید انسان کے پیش نظر ہیں۔بس فرق صرف یہ ہے کہ قدیم انسان خدا کے بڑے بڑےہاتھ اور پاؤں ہونے پر قانع تھاجب کہجدید انسان خدا کےبڑادماغ ہونے پرمصر ہے۔

آپ کسی دور کے خداؤں یا دیوی دیوتاؤں کا مطالعہ کیجیے تو اندازہ ہوگا کہ اس دور کے خدا اصل میں اسی دور کی صفات اور اس دور کے لوگوں کی ذہنی ساخت کے بہت زیادہ قریب ہیں۔ اس پر یہ قیاس نہایت غیر علمی ہوگا کہ اس دور کے خداؤں کی صفات چونکہاس دور کے لوگوں کی ذہنی ساخت اور علمی مقام کے زیادہ قریب ہیں تو ہو نہ ہو یہ محض ان کے تخیل کی پیداوار ہوگی۔اس کی صرف اور صرف وجہ، کسی بھی شخصیت کو معلومصفات سے ہٹ کر سمجھ نہ سکنا ہے ۔مثلاً اگر کوئی یہکہے کہ وہ جس خدا کو مانتا ہے ، وہ ’دریم ‘ ہےتو اب اسے اس بات کی وضاحت انھیصفات سے کرنا پڑے گی جو معروف ہیں۔اس کے بغیر اس کا تصور خدا معاشرے کے لیے قابل قبول نہ ہوگا۔ اب یہ بتانا ہوگا کہ دریم، رحیم کے قریب قریب کی چیز ہے یا اس کے برعکس کوئی کیفیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونانی و رومی خدا، آپس میں لڑتے جھگڑتے،چوریاں کرتے ، یہاں تک کہ انسانی عورتوں کی محبت میں گرفتار ہوجاتے تھے۔ اس وقت کے ذہن کے لیے خدا کو ان صفات کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں تھا۔یعنی یہ کیسے ممکن ہو کہ ایک خدا طاقت ور ہو اور وہ چوریکر کے اپنی ضرورت نہ پوری کر پائے، یہ کیسے ممکن ہو کہ ایک خدا طاقت ور ہو اور وہ اپنی جنس کی آگ نہ بجھاپائے۔ با لکل ایسے ہی ، جیسے آج کے ذہن کے لیے خدا کو سائنس اور ریاضی کے بغیر سمجھناممکن نہیں ہے۔جدید دور میں خدا جو بھی ہو ، لیکن وہ ذہین ہوگا توہی ایسیلاجواب کائنات بنا پائے گا،کیونکہ ریاضی کے پیچیدہ فارمولے جانے بغیر ایسی کائنات کو وجودبخشا ہی نہیں جاسکتا۔ اس لیے اگر کوئی خدا ہے تو وہ ذہین ہونا چاہیے، وہ مساوات کا قائل ہونا چاہیے، وہ حاسد نہ ہو، ذرا ذرا سی بات پر انسانوں پر برہم نہ ہو، اس کے علاوہ خدا کا اخلاقی اور جمالیاتی وجود کمال کو پہنچا ہو۔ یہ وہ تمام صفات ہیں جن سے متعلق جدید معاشرے بہت زیادہ حساس ہیں۔ اب ذرا رومی اوریونانی معاشروں کی اقدار کا موازنہ ان کے خداؤں کی خصوصیات سے کیجیے، ان کے خدا خون ریزی کو پسند کرتے ہیں، لڑتے ہیں ، جھگڑتے ہیں۔ با لکلاسی طرح آجاگر کوئی یہ کہہ دے کہ خدا نے ایک منتر پڑھا اور ایک دھواں بلند ہوا اور یہکائنات بن گئیتو یہ بات قابل قبول نہیں ہوگی، کیونکہ جدید ذہن کے لیے ایسی صفاتکا حامل خدا قدیم خدا ہے، اس لیے نہیں کہ قدیم خدا کم طاقت ور ہے، بلکہ اس لیے کہ قدیم خدا جدید تقاضوں پر پورا نہیں اتر تا۔ جدید خدا کا سائنسی ہونا ضروریہے۔اس کی سب سے واضح مثال، اس بات پر اصرار ہے کہ خدا کو ان دو آنکھوں سے نظر آنا چاہیے۔ آج کے انسان کا مطالبہ ہے کہ خدا اسے ہی مانا جاسکتا ہے جو جدید صفات رکھتا ہو،یعنی اگر وہ وجود رکھتا ہو تو اس کا وجود مادی ہونا چاہیے اور اس مادے کی صفات بھی وہ ہونی چاہییں جو ایک جدید انسان کے لیے قابل قبول ہوں۔ رچرڈ ڈاکننز، مشہور ماہر طبیعات ڈاکٹر براون گرین کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

Even the deistic God who sets the laws in place and withdraws, if those laws, if the implication is that those laws were cunningly designed, were cunningly crafted as many people think they were, so that atom should come into existence, so that chemistry should come into existence, so that stars should come into existence, so that nuclear reactions and stars could produce the elements, so that they did explode and we get a suitable chemistry to make life and the origin of life and so on. If the deistic god thought all that through and set up laws of physics then he would have to be damn clever. He would have to be the physicist and all physicist. I don’t care if he then withdraws, he needs an explanation in his own right, and it seems to me that noble scientific enterprise is to start from near nothing as you can get.
”ایک ایسا خدا جس نے یہ کائناتی قوانین بنائے اور خود پیچھے ہٹ گیا،اگر ان قوانین کی صورت یہ ہے کہ وہ نہایت ماہرانہ طریقے سے بنائے گئے ہیں، جیسا کہ بہت سے لوگ سوچتے ہیں، تا کہ ایٹم وجود میں آ سکے، کیمسٹری وجود میں آسکے، ستارے وجود میں آ سکیں،نیوکلیئر ری ایکشن اور ستارے نئے ایلیمنٹس کو وجود دے سکیں، تاکہ وہ تمام پھٹیں اور ہمیں ایکموزوں کیمسٹر ی مل جائے جس سے زندگی کو وجود بخشا جا سکے اور زندگی کے آغاز کے عمل کو شروع کیا جاسکے۔اگر ڈی ایسٹک خدا نے یہ سب سوچااور طبعی قوانین ترتیب دیے تو اس خدا کو نہایت چالاک ہونے کی ضرورت ہے۔اسے پھر ایک طبعیات دان اور طبیعات دان ہی ہونے کی ضرورت ہے۔ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اس کے بعد وہ پیچھے ہٹ جائے،لیکن اسے اپنی طرف سے ایک وضاحت دینے کی ضرورت ہے،اور یہ مجھے لگتا ہے کہ مقدس سائنسی ادارے کو قریب قریب کچھ نہیں سے شروع کرنا چاہیے جہاں تک وہ جاسکتا ہے۔“

ایک بات جسے سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اصرار کہ کوئی چیز ہمارے بنائے پیمانے پر اترے گی توہی قابل قبول ہوگی، ایک نہایت نامناسب بات ہے،کیونکہ جیسے قدیم انسان کے پیمانے غلط ہوسکتے ہیں،اسی طرح جدید انسان کے بھیغلط ہوسکتے ہیں اوراسی طرح جدید صفات رکھنےوالے خدا پر بھی بہت سے اعتراضات وارد ہوسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ میں کیا سمجھتا اور مانتا ہوں، سچائی اس سے بہت دور کھڑی ہوتی ہے۔دوسری اہم ترین بات یہہےکہ صفات پر اعتراض سے ذات کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ، جیسا کہ اوپر والی مثال میں سیب کی چند مستعار شدہصفات مذکور ہیں۔ اب اگر آپ سامع کو سیب پیش کریں اور وہ اس رخ پر استدلال کرے کہ یہ نہ تو شکر کے ذائقہ کی طرح میٹھا ہے اور نہ آم کی ہیئت کے مساوی رس بھرا اور اس کا رنگ بھی انار والا سرخ نہیں،اس لیے یہ سیب تو نہیں ہوسکتا، تو یہ ایک درست استدلال نہیں ہوگا۔

جدید ذہن کے لیے دوسرا بڑا چیلنج ذاتی صفات اور ایک عہدے کے تقاضو ں میں فرقنہ کرسکناہے، موخرالذکر کے لیے کوئی خاص اصطلاح میرے ذہن میں نہیں ہے، اس لیے قاری کو چاہیے کہ وہ اسی پر قناعت کرے۔ مذہب خدا سے متعلق جن صفات کو بیان کرتا ہے، وہ تمام صفات ، مستعار ہی سہی، لیکنان میں سے بعض پھر بھی قابل قبول نہیں ہوسکتیں۔ جیسے بچے کوکینسر کا ہونا،انسان کا مصیبت میں مبتلا ہونا، ذرا سی غلطی پر ہمیشہ کی آگ میں ڈال دینااور اندھی تقلید والوں کو جنت میں ڈال دینا۔ یہ بات تو خیر مانی جاسکتی ہے کہ خدا کی صفت رحمت اور صفت قہر کا ظہوریہ تمام چیزیں انسانی صفت کے ظہور کی سی نہیں ہوں گی۔ اس سب کے باوجود خدا کی صفات کے ایسے مظاہر بہرحال جدید انسان کے لیے ناقابل قبول ہیں۔

ہمارے ہاں ہر وہ چیز جو کسی سے صادر ہو رہی ہے،اسے اس ذات سے منسلک کردیا جاتا ہے، حالاں کہبہت سی چیزیں محض کسی عہدے کا تقاضا بھی ہوسکتی ہیں۔اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں،ایک جمہوری ریاست کی فضامیں کسی دوسری ریاست یا ملک کا جنگی جہاز آن وارد ہو تو فضائیہ کا سربراہ اس جہاز کو مار گرانے کا حکم دے گا۔ وارننگ دینے کے بعد جہاز کو مار گرایا جاتا ہے، بعد میں معلوم پڑتا ہے کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے جہازران اس وارننگ سے بے خبر رہا، ایک پورا خاندان برباد ہوگیا اور ایک جان چلی گئی یاجس جہازران نے اپنے سربراہ کے حکم پر غیر ملکی جہاز کو مار گراتے ہوئے ایک جان لے لی ،کیا وہ اپنی ذات میں قاتل ہے یا یہ اس کے عہدے کا تقاضا ہے؟ اور کیا فضائیہ کے سربراہ کی یہ ذاتی صفت ہے کہ وہ بے گناہ لوگوں کی جان لیتا ہے یا یہ اس کے عہدے کا تقاضا ہے؟اسے بادشاہ کی مثال سے ہی سمجھتے ہیں، ایک بادشاہاپنی سلطنت میں لوگوں کے ساتھ سخت سے سخت معاملات کرتاہے ، وہ لوگوں کو دار پر چڑھا دیتا ہے، حملہ آور فوجوں کو مارتا ہے کچھ کو قید کرلیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ بادشاہ کی ذاتی صفت ہے کہ وہ لوگوں کو دار پر چڑھا دیتا ہے، اس کے ملک میں در آنے والی فوجوں کو مار دیتا ہے اوربغاوت کرنے والوں کو کچل دیتا ہے؟ یا یہ اس کے عہدے کا تقاضا ہے؟

اسی طرح خدا پر صفاتی اعتراضات سے قبل ضروری ہے کہ سمجھ لیا جائے کہ خدا محض خالق نہیں ، بلکہ وہ ایک منصف بھی ہے،اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایک دن ایک عدالت برپا کرے گا۔اس نے یہ اعلان کیا ہے کہ یہ دنیاامتحان کی دنیا ہے۔اس اسکیم کو سمجھنے کے بعد، اب جو صفات بیان کی جا رہی ہیں اور ان کے مظاہر کو پرکھا جانا چاہیے۔ خدا کو محض خالقکی عینک سے نہیں، ایک ممتحن، ایک منصف اور بادشاہ کی عینک سے دیکھا جانا چاہیے تو شاید یہ کہنا درست ہو کہ ایک بچے کو کینسر میں مبتلا کردینا ، بچے کا امتحان نہیں ہے ، والدین کا امتحان ہے۔سزا دینااس لیے ضروری ہے کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ زیادتی کرنے والے کو سزا دی جائے۔اوروہ شرک پر سزا اس لیے دیتا ہے کہ جانتے بوجھتے اس کے بندے اس پر جھوٹ باندھتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک خدا ہونے کا تقاضا ہے کہ دنیا سرنگوں ہو، سجدہ ریز ہو۔ واللہ أعلم و أنا لا أعلم۔

________


*۔ اس مضمون کا مقصد وجود پر بحث نہیں، بلکہ وجود کی صفات پر اٹھنے والے اعتراضات کا اجمالی جائزہ ہے۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List