Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

عرفان شہزاد Profile

عرفان شہزاد

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
زکوٰۃ: ایک مطالعہ نو؛ فقہی قیود اور ان کے نتائج (1/2) | اشراق
Font size +/-

زکوٰۃ: ایک مطالعہ نو؛ فقہی قیود اور ان کے نتائج (1/2)


وحی، خدا کی وہ عظیم نعمت ہے جو انسان اوراس کے سماج سے متعلق ایسے مستقل نوعیت کے معاملات میں متعین رہنمائی کرتی ہے جن کا کوئی معین حل نکالنا یا بالاتفاق کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا عقلِ انسانی کے لیے ممکن نہیں، اور اسی وجہ سے وہ محل نزاع و بحث بنے رہتے ہیں۔ ان میں ایمانیات سے لے کر سماجی، معاشی اور سیاسی معاملات تک سے متعلق متعین اور قطعی رہنمائی خدا کی آخری وحی، قرآن مجید کے ذریعے سے فراہم کر دی گئی ہے۔
ریاست کا قیام، انسانی سماج کے اجتماعی معاملات اور ان میں پیدا ہونے والے نزاعات کو دور کرنے کا ایک ناگزیر بندوبست ہے۔ ریاست اپنے فرائض و وظائف، جن میں دفاع، قیام امن، ترسیل انصاف سے لے کر عوام کے فلاح و بہبود تک کے سب امور شامل ہیں، کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مال و دولت کی محتاج ہوتی ہے۔ اس کے مستقل حل کے لیے ریاستیں اپنے شہریوں پر ٹیکس اور لگان عائد کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ اس ٹیکس کی شرح کتنی ہو، اور یہ کہاں خرچ کیا جانا چاہیے، یہ ہمیشہ سے محل نزاع رہا ہے۔ اہل حکومت نے جہاں ٹیکس وصولی میں زیادتی کی انتہائیں کیں اور اخراجات میں جدتیں پیدا کرکے بے اندازہ اسراف کیے، وہاں بعض اہل فکر نے ٹیکس فری معیشت کے نظریات بھی پیش کیے، نیزٹیکس کے مصارف پر بھی خود ساختہ پابندیاں تجویز کیں۔ لیکن وحی نے اپنے ماننے والوں کو اس مخمصے سے ہمیشہ کے لیے نجات دلا دی۔ اس نے مملکت کے شہریوں کے مال میں مقررہ ٹیکس بنام زکوٰۃ کی شرحیں اور اس کے مصارف، جن میں ریاستی مشینری کے اخراجات اورفرد اور سماج کی بہبود کے تمام امور شامل ہیں، بھی خود مقرر کردیے۔ ان میں کوئی ردو بدل بغیر کسی انتظامی مجبوری یا اضطرار کے کسی مسلمان حاکم اور عالم کو روا نہیں۔
شریعت کی رو سے ایک مسلم ریاست کے مالی معاملات کے پورا کرنے کے لیے زکوٰۃ و عشر اور زمین کا کرایہ ہی مستقل آمدن کا ذریعہ ہے۔ عشر بھی پیداوار کی زکوٰۃ ہی ہے۔ اس لیے اس مضمون میں ہم اسے بھی زکوٰۃ کے عموم میں ہی بیان کریں گے۔ مسلم حکومت زکوٰۃ کے علاوہ کوئی اور ٹیکس مسلم عوام کی رضامندی کے بغیر وصول کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔
وحی نے اس ٹیکس کو زکوٰۃ جیسی مذہبی اصطلاح عطا کی، اسے عبادات میں شامل کیا، بلکہ اسے دین کے ایک رکن کی حیثیت دے دی،نماز اور زکوٰۃ، دونوں کو مسلمانیت کی شرط قرار دیا، جس کے بعد ایک مسلمان کسی مسلم ریاست میں حقوق شہریت کا استحقاق پیدا کرتا ہے:

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(التوبہ۹: ۵)
’’پھراگر یہ توبہ کر لیں اور نمازکا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو۔ یقیناً اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

اسی بنا پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جن لوگوں نے حکومت کو زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کیا، ان کے خلاف جنگ کی گئی۔
مختلف قسم کے اموال پر زکوٰۃ کی شرحیں اور اس کے مصارف نزول قرآن سے پہلے سے خدا کی شریعت میں ہمیشہ سے معروف اور معلوم رہے ہیں:

وَجَعَلْنٰھُمْ اَءِمَّۃً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَیْنَآ اِلَیْھِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَآءَ الزَّکٰوۃِ وَکَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَ.(الانبیاء۲۱: ۷۳)

اہل کتاب تو اس کی تفصیلات سے بھی اچھی طرح آگاہ تھے۔ اہل عرب بھی دین ابراہیم کو کافی کچھ بھلا دینے کے باوجوداس سے واقف تھے، اسی بنا پر مکی سورہ میں بھی زکوٰۃ کا ذکر موجود ہے۔عربوں کے جد امجد اور ان کے پیغمبر حضرت اسمٰعیل کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیۡلَ اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا. وَکَانَ یَاْمُرُ اَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ وَکَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِیًّا.(مریم۱۹: ۵۴۔۵۵)

’’اور اِس کتاب میں اسمٰعیل کا ذکر کرو۔ وہ وعدے کا سچا اور رسول نبی تھا۔ وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تلقین کرتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا۔‘‘

سورۂ نمل جو مکی سورہ ہے، اس میں بھی زکوٰۃ کا ذکر ہے:

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ.(۲۷: ۳)
’’جو نماز کا اہتمام کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہی آخرت پر فی الواقع یقین رکھتے ہیں۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے یہ تجدید پا کر امت کو متواتر سنت کے ذریعے سے حاصل ہوئی ہے۔ قرآن میں زکوٰۃ و صدقات کے مصارف کا ذکر منافقین کے ایک اعتراض کے جواب میں آ گیا ہے، ورنہ وہ بھی اسی طرح معلوم تھے، جیسے زکوٰۃ کی شرحیں، جن کا ذکر قرآن میں نہیں، بلکہ سنت متواترہ میں ہے:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ.(التوبہ ۹: ۶۰)
’’(اِنھیں بتا دو کہ) صدقات تو درحقیقت فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن کے لیے جو اُن کے نظم پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہے۔ نیز اِس لیے کہ گردنوں کے چھڑانے میں اور تاوان زدوں کے سنبھالنے میں اور خدا کی راہ میں اور مسافروں کی بہبود کے لیے خرچ کیے جائیں۔ یہ اللہ کا مقرر کردہ فریضہ ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔‘‘

شریعت نے تین قسم کے اموال پر تین طرح سے زکوٰۃ عائد کی ہے:
۱۔ مال: سونا چاندی اور دیگر مالیت کی چیزیں۔ ان میں زائد از ضرورت اشیا، حد نصاب سے زیادہ ہونے اور ان کی کل مالیت پر سال میں ایک بار اڑھائی فیصد کی شرح سے زکوٰۃ عائد ہوگی۔
۲۔ پیداوار: زمین کی پیداوار اور اس کے علاوہ پیداوار کی تمام جدید صورتوں میں بھی ہر پیداوار کے موقع پرپانچ، دس اور بیس فیصد کے حساب سے زکوٰۃ عائد ہوگی، جسے عشر اور نصف عشر وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس کا فارمولہ یہ ہے کہ پیداوار اگر محنت اور سرمائے، دونوں سے وجود میں آئی ہے تو اس کا پانچ فی صد، سرمائے یا محنت میں سے کسی ایک سے وجود میں آئی ہے تو دس فی صد اور ان دونوں کے بغیر پیداوار ہوئی ہے، جیسے کوئی خزانہ نکل آئے، تو اس کا بیس فی صد زکوٰۃ میں دیا جائے گا۔
۳۔ مویشی: ا۔ اونٹ
۴۔ ۵سے ۲۴ تک، ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکر ی ،
۵۔ ۲۵سے ۳۵ تک، ایک یک سالہ اونٹنی اور اگر وہ میسر نہ ہو تو دوسالہ اونٹ ،
۶۔ ۳۶ سے ۴۵ تک ، ایک دو سالہ اونٹنی ،
۷۔ ۴۶ سے ۶۰ تک، ایک سہ سالہ اونٹنی ،
۸۔ ۶۱سے ۷۵ تک ، ایک چار سالہ اونٹنی ،
۹۔ ۷۶ سے ۹۰ تک ، دو ، دوسالہ اونٹنیاں ،
۱۰۔ ۹۱سے ۱۲۰تک ، دو، سہ سالہ اونٹنیاں ،
۱۱۔ ۱۲۰سے زائد کے لیے ہر ۴۰ پر ایک دوسالہ اورہر ۰ ۵پرایک سہ سالہ اونٹنی ۔
۱۲۔ ب۔گائیں
۱۳۔ ہر ۳۰ پرایک یک سالہ اور ہر ۴۰ پرایک دو سالہ بچھڑا ۔
۱۴۔ ج۔بکریاں
۱۵۔ ۴۰ سے ۱۲۰ تک، ایک بکری ،
۱۶۔ ۱۲۱سے ۲۰۰ تک ، دوبکریاں ،
۱۷۔ ۲۰۱ سے ۳۰۰ تک ، تین بکریاں،
۱۸۔ ۳۰۰ سے زائد میں ہر ۱۰۰ پرایک بکری ۔
دور جدید نے پیداوار کی بہت سے نئی صورتیں پیدا کر دی ہیں، جن میں صنعتی پیداوار، تنخواہ، پینشن، کمیشن، اور مختلف خدمات کی فیسیں وغیرہ شامل ہیں، جو روزانہ، ہفتانہ اور ماہانہ بنیادوں پر پیدا ہوتی ہیں۔ فقہا نے انھیں مال میں شامل کیا ہے، یعنی اخراجات کے بعد ان میں سے جو بچ جائے، اس پر سال میں ایک دن مقرر کر کے اڑھائی فی صد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے، لیکن غور کیجیے کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ اصلاً پیداوار ہی ہیں، چنانچہ ان پر پیداوار کی زکوٰۃ عائد ہونی چاہیے، انھیں مزروعات، یعنی زمین کی فصل کی پیداوار پر قیاس کرنا ہی درست ہو سکتا ہے۔ چنانچہ جیسے ہی یہ وصول ہوں، ان پر پانچ، دس اور بیس فی صد زکوٰۃ عائد ہو جائے گی۔ ان کی بچت انھیں الگ سے مال بھی بناتی ہے، جس پر سال میں ایک بارالگ سے اڑھائی فی صد کے حساب سے زکوٰۃ عائد ہوتی ہے۔ اس کے لیے حدنصاب کا مقرر کرنا حکومت کا اختیار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت میں جو نصاب مقرر کیا تھا، وہ ایک نمونہ ہے کہ نصاب مقرر کرتے ہوئے کن امور کا خیال کرنا چاہیے۔ حکومت کا یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق قابل زکوٰۃ اشیا میں سے کسی چیز کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دے دے یا اس پر زکوٰۃ کی شرح کم عائد کر دے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں گھوڑوں اور سبزیوں کو بوجوہ مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔
دیکھا جا سکتا ہے کہ اگر ایک مسلم حکومت، مال اور پیداوار کی ان تمام مدات سے زکوٰۃ کی وصولی کرے، تو عمومی حالات میں اسے مزید کوئی ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور ٹیکس کی شرح میں زیادتی کے عوامی شکوے، اور ردعمل میں ٹیکس چوری کا اخلاقی جواز بھی ختم ہو جائے گا۔ معاملہ ملکی قانون کے علاوہ شریعت، اخلاق اور ضمیر کی عدالت میں آ جائے گا۔
جب تک حکومت اس پر عمل پیرا نہیں ہوتی، تب تک، البتہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت جتنا ٹیکس تنخواہوں اور پراپرٹی ٹیکس وغیرہ پر کاٹ لیتی ہے، مسلمان اپنے اموال اور پیداوار کا حساب لگا کر اتنا حصہ اپنی زکوٰۃ میں سے منہا کر لیں۔ اگر ٹیکس میں کٹنے والی رقم زکوٰۃ کی مقدار سے کم ہے تو باقی کی زکوٰۃ وہ خود ادا کر دیا کریں، اور اگر ٹیکس میں محسوب ہونے والی رقم زیادہ ہے تو اس زائد کٹ جانے والی رقم کو سماج کے اجتماعی کاموں میں اپنی طرف سے عام صدقہ سمجھیں اور عند اللہ اجر و ثواب کی امید رکھیں۔ معلوم ہونا چاہیے کہ زکوٰۃ وہ کم سے کم مقدار ہے جسے ایک مسلمان کو خدا کے دیے ہوئے مال میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرنا ضروری ہے، لیکن مکارم اخلاق کا تقاضا ہے کہ خدا کی راہ میں وسعت سے خرچ کیا جائے۔
نماز اور زکوٰۃ، دونوں کا انتظام ایک مسلم حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔ تاہم بد قسمتی سے مسلم حکومتیں اپنے ان فرائض سے عموماً غافل ہیں۔ نماز اور زکوٰۃ کا معاملہ چونکہ فرد کی عبادت کا معاملہ ہے اور ریاست اس کی اجتماعی سطح پر جمع و تقسیم کرنے میں معاون کا کردار ادا کرتی ہے،اس لیے ریاست کے بندوبست کی عدم موجودگی میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ جیسے انھوں نے خود سے باجماعت نماز، مساجد، جمعہ اورعیدین کا انتظام کامیابی سے قائم کیا ہے، اسی طرح زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا انتظام بھی کریں۔ اس کے لیے ایسی تمام تنظیمیں اور ادارے جو عوامی، فلاحی اور تعمیری کاموں میں مصروف ہیں، کو زکوٰۃ ادا کرکے اس فریضہ کی ادائیگی کرنی چاہیے۔

زکوٰۃ پر فقہی قیود اور ان کے نتائج

یہ سمجھنے میں کوئی دقت نہیں تھی کہ زکوٰۃ فقرا و مساکین وغیرہ کی بہبود کے لیے وضع کی گئی ہے۔ لیکن ہمارے فقہا نے نصاب زکوٰۃ اور فقیر کی تعریف میں ایسی پر تکلف شرائط اورفقہی قیود پیدا کر دی ہیں جو نہ صرف زائد از ضرورت قانون سازی معلوم ہوتی ہے، بلکہ اس سے بہت سے حقیقی ضرورت مند، فقیر و مسکین کے زمرے سے خارج قرار پائے ہیں۔ یہ قیود شریعت کو ریاضیاتی منطقی اصولوں پر برتنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔
مسلم حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے زکوٰۃ جیسے اہم ستون سے سماج کو کما حقہٗ فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔ ریاستی اداروں کے متبادل کے طور پر جو نج کی (پرائیویٹ) تنظیمیں سماج کی فلا ح کے لیے مسلمانوں کے مالی تعاون کو مربوط انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت کے ساتھ برسر عمل ہیں، ان کی افادیت اور دائرۂ عمل کو بھی زکوٰۃ سے متعلق فقہی قواعد و ضوابط نے نہایت محدود اور غیر موثر کر دیا ہے۔ انھیں بہت سیتکلفات برتنے پڑتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، بلکہ بعض اوقات صورت حال مضحکہ خیز ہو جاتی ہے، مثلاً حیلۂ تملیک کیا جاتا ہے جس میں زکوٰۃ کی رقم کسی شخص کے سپردیا مدارس میں عموماً کسی نوبالغ طالب علم (کیونکہ اس کے لیے بالغ ہونا شرط ہے، جسمانی بلوغت کے ساتھ عاقل ہونا لازم سمجھ لیا گیا ہے) کے حوالے کر کے اسے براے نام مالک بنا دیا جاتا ہے اور پھر اسے ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنی ’’مرضی‘‘ سے اتنے سارے پیسے تنظیم یا مدرسے کو دے دے۔ اس بے جا قانون سازی سے شریعت ایک مذاق بن جاتی ہے، یا پھر یہ محسوس ہوتا ہے کہ شریعت سماج کے لیے مفید ہونے کے بجاے اس کی فلاح و بہبود میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے۔ آگے کی سطور میں ہم یہ دیکھیں گے کہ شریعت کی پوزیشن واقعی یہی ہے یا فقہی تعبیرات اور قواعدنے اس کی یہ پوزیشن بنا دی ہے۔ ان فقہی قیود کا ایک نمونہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے، جس کے بعد دیکھا جا سکتا ہے کہ خود زکوٰۃ کی مد کس حد تک سماج کی بہبود میں مفید رہ جاتی ہے:
i۔ پہلی شرط یہ لگائی گئی ہے کہ زکوٰۃ کی تملیک کی جائے۔ یعنی ضرورت مند کو زکوٰۃ کی رقم یا چیزکا مالک بنانا ضروری ہے، حقیقی ضرورت مند سامنے نہ ہو تو ضرورت مندوں کے مجاز وکیل کو ادا کرنے سے زکوۃادا ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کو مفت سروسز کی شکل استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی ایسے اجتماعی بہبود کے کام میں صرف کیا جا سکتا ہے جس کا کوئی شخصی مالک نہیں ہو سکتا۔ مالکانہ تصرف کے بغیر، مثلاً کھانا کھلانا بھی درست نہیں،خیراتی ہسپتال میں غربا کا علاج معالجہ جس میں علاج کا خرچ مریض کو دینے کے بجاے براہ راست ہسپتال کو دیا جائے یا بے گھر افراد کی رہایش کے لیے بلا ملکیت مفت یا رعایتی کراے پر رہایش کا بندوبست کرنا بھی جائز نہیں، یا غربا کو کوئی ایسا ذریعۂ آمد ن مہیا کرنا جس میں مالکانہ اختیار نہ ہو، اسی طرح مردہ کا کفن دفن کرنا، کوئی کنواں، واٹر فلٹر پلانٹ یا اسی قسم کا اجتماعی بہبود کا کوئی فلاحی کام کرنا جس میں کوئی شخص مالک نہیں ہوتا، یہ سب زکوٰۃ کے فنڈ سے کرنا درست نہیں۔ مساجد کی تعمیر میں، کسی مرنے والے کے قرض کی ادائیگی میں بھی زکوٰۃ کا پیسا استعمال نہیں ہو سکتا، وغیرہ۔ یعنی زکوٰۃ میں کسی حاجت مند کواس کا مالک بنانا ضروری ہے۔
ii۔ اسی طرح زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا بندوبست کرنے والی کوئی تنظیم اپنے ملازمین کو زکوٰۃ کے فنڈ سے تنخواہ بھی نہیں دے سکتی، کیونکہ زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم اصلاً حکومت کا کام ہے، وہی غربا کی مجاز وکیل ہے۔ جو تنظیمیں اپنے طور پر یہ کام کر رہی ہیں، انھیں یہ کام رضاکارانہ ہی کرنا ہوگا یا ان کی تنخواہ زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور فنڈ سے ادا کی جائے۔
iii۔ حاجت مندسید اور ہاشمی نہ ہو۔
iv۔ حاجت مند غیر مسلم نہ ہو۔
v۔ حاجت مند کے پاس سونا چاندی، رقم، مال تجارت اور زائد از ضروت کوئی چیز، مثلاً پلاٹ، دکان، ٹی وی، موبائل فون، ضرورت سے زائد سواری، کپڑے جوتے وغیرہ نہ ہوں جو حد نصاب کو پہنچیں۔نصاب کی حدچاندی کے نصاب ۶۴۲گرام ہے
vi۔ حاجت مند نے کوئی کمیٹی ڈالی ہوئی نہ ہو کہ وہ قابل وصول قرض میں آ جاتی ہے۔ اگر یہ بھی حد نصاب کے مساوی نہ ہو، ورنہ فقیر و مسکین کی تعریف سے خارج ہو جائے گا۔
vii۔ پراویڈنٹ فنڈ حد نصاب کے برابر نہ ہو کہ وہ بھی قابل وصول قرض کی مد میں آ جاتا ہے۔
اگر ان میں سے کوئی بھی چیز پائی جائے تو ایسا شخص ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے۔ اس کی مدد ضروری ہو تو زکوٰۃ کے علاوہ دیگر نفلی صدقات سے کی جا سکتی ہے، لیکن زکوٰۃ کی مد سے نہیں کی جا سکتی۔
معاشرے قانون اور اخلاق، دونوں کی مدد سے چلتے ہیں۔ قانون سے وہ کم سے کم معیار حاصل کیا جاتا ہے جو معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ زکوٰۃ قانونی معاملہ ہے۔ یہ وہ کم سے کم حق ہے جس کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تو بس خدا کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب ہی دی جا سکتی ہے، مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ درج بالا فقہی قیود کے بعد دیکھا جا سکتا ہے کہ زکوٰۃ کا دائرہ اس قدر محدود ہو جاتا ہے کہ فقہی تعریف پر پورا نہ اترنے والے حاجت مندوں اور اجتماعی نوعیت کے فلاحی کاموں کے لیے رقم کا بندوبست کرنے کے لیے مسلمانوں کے نظم اجتماعی (حکومت) کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ بھی ٹیکس لگانا ناگزیر ہو جاتا ہے، جب کہ ایک مسلم حکومت زکوٰۃ کے علاوہ کوئی اور ٹیکس عائد کرنے کی مجاز نہیں، یا پھر ان کاموں کے لیے عوام سے اپیلیں کرنا پڑتی ہیں۔ ’’زکوٰۃ اسلامی معاشرے کے لیے بمنزلہ ریڑھ کی ہڈی کے ہے، لیکن اگر یہ واقعہ ہے کہ اس کے ذریعے سے کوئی اجتماعی نوعیت کا کام نہیں کیا جا سکتا اور غریبوں کی مجموعی بہبود کی اسکیمیں اس سے بروے کار نہیں لائی جاسکتیں، بلکہ ختم کی دیگ کی طرح اس کا وہیں تقسیم کر دیا جانا لازمی ہے جہاں یہ پکائی گئی ہے تو اس کی افادیت کم ازکم موجودہ زمانہ کے اقتصادی ماحول میں تو بمنزلۂ صفر ہو کے رہ جاتی ہے۔‘‘ (مسئلۂ تملیک، مولانا امین احسن اصلاحی ۱۲)

مسئلۂ تملیک

ہمارے فقہا زکوٰۃ میں تملیک کی شرط عائد کرتے ہیں، بلکہ وہ اسے زکوٰۃ کا رکن قرار دیتے ہیں۔ مولانا ظفر احمد صاحب تھانوی لکھتے ہیں:

’’’’تملیک فقیر‘‘ زکوٰۃ کے لیے شرط ہی نہیں، بلکہ رکن ہے، بلکہ زکوٰۃ کی حقیقت ہی’’تملیک فقیر‘‘ہے۔ زکوٰۃ میں تملیک کا ضروری ہونا متفق علیہ ہے۔ کسی امام کا اس میں اختلاف بیان نہیں کیا گیا، بلکہ امام شافعی کی طرف تو یہ قول منسوب کیا گیا ہے کہ ان کے نزدیک ’اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ‘ میں ’لام‘ ملک کے لیے ہے۔‘‘(مسئلۂ تملیک، مولانا امین احسن اصلاحی ۸)

حیرت اس پر ہے کہ تملیک کے اس استدلال کے لیے دین و شریعت میں کوئی ماخذ موجود نہیں۔ اِس وجہ سے ہمارے نزدیک زکوٰۃ جس طرح فرد کے ہاتھ میں دی جاسکتی، اُسی طرح اُس کی بہبود کے کاموں میں بھی خرچ کی جاسکتی ہے۔
تملیک کے استدلال پر زیادہ سے زیادہ اگر کچھ کہا جا سکا ہے تو وہ یہ ہے کہ سورہ توبہ (۹) کی آیت ۶۰ میں ’لِلْفُقَرَآءِ‘ میں لام تملیک یا عاقبت، یعنی انجام فعل کے لیے آیا ہے جو تملیک کا ہی فائدہ دیتا ہے، یعنی زکوٰۃ فقرا و مساکین کی ملک بنانے کے لیے ہے یا زکوٰۃ اس لیے ہے کہ فقرا و مساکین وغیرہ کو دی جائے تاکہ وہ اس کے مالک بن سکیں۔ دوسری دلیل یہ دی گئی ہے کہ ’ایتاء‘ اور ’تصدق‘، یعنی دینا یا صدقہ کرنا، اس کا نتیجہ تملیک ہی ہوتا ہے، جب آپ کسی کو کچھ دیتے ہیں تو تملیک کر دیتے ہیں۔
گویا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ تملیک کا یہ استدلال ایک فقہی استنباط ہے۔ قرآن و سنت یا حدیث میں اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی اس پر استدلال درست نہیں۔ آپ اورآپ کے عمال زکوٰۃ کی وصولی کے بعد اکثر اسے فوراً تقسیم کر دیتے یا یہ بیت المال میں لا کر تقسیم کر دی جاتی تھی۔ اُس دور میں زکوٰۃ کا مال زیادہ تر اجناس ہوتی تھیں۔ ان کا مصرف یہی تھا کہ جلد ہی مستحقین کے حوالے کر دی جائیں۔ نیز تمام محاصل بیت المال میں جمع کیے جاتے تھے، لیکن ایسی کوئی تصریح نہیں ملتی کہ زکوٰۃ کے محصول کو الگ رکھا اور برتا جاتا تھا۔ چنانچہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ زکوٰۃ کی تملیک کرنا کوئی شرعی قاعدہ ہے، نہ اس کا کوئی قانونی بیان موجود ہے۔
انصاف کا تقاضا ہے کہ ایک استنباط کو استنباط ہی کی حیثیت سے پیش کرنا چاہیے، جو درست بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی، اسے اس مسئلہ کی واحد شرعی تعبیر کی صورت میں پیش کرنا حد سے تجاوز ہے۔ دوسری بات یہ کہ کوئی اگر دلیل کی بنیاد پر اس سے اختلاف کرے تو اسے شریعت سے انحراف نہیں سمجھا جا سکتا۔
اس بارے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ سورۂ توبہ کی آیت مذکورہ میں آنے والا لام دو وجہ سے تملیک کے لیے نہیں ہے: ایک تو اس لیے کہ لام کے دیگر استعمالات بھی ہیں، اسے لام تملیک قرار دینے کے لے جو مضبوط قرینہ درکار ہے، وہ یہاں دستیاب نہیں۔ بلکہ سیاق و سباق اس کے خلاف جاتے ہیں۔ متعلقہ آیت اپنے سیا ق و سباق کے ساتھ ملاحظہ کیجیے:

وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْھَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْھَآ اِذَاھُمْ یَسْخَطُوْنَ. وَلَوْ اَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗٓ اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ. اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ.(التوبہ ۹: ۵۸۔۶۰)
’’اِن میں ایسے بھی ہیں، (اے پیغمبر) جو صدقات (کی تقسیم)کے معاملے میں تم پر عیب لگاتے ہیں۔ (یہ وہ لوگ ہیں جنھیں لالچ نے تمھارے ساتھ باندھ رکھا ہے)۔ چنانچہ اگر اُس مال میں سے اِنھیں دیا جائے تو راضی رہتے ہیں اور نہ دیا جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ (اِن کے لیے کہیں بہتر ہوتا)، اگر یہ اُس پر راضی رہتے جو اللہ اور اُس کے رسول نے اِنھیں دیا تھا اور کہتے کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے۔ اللہ آگے اپنے فضل سے ہم کو بہت کچھ دے گا اور اُس کا رسول بھی۔ ہمیں تو اللہ چاہیے۔ اِنھیں بتا دو کہ) صدقات تو درحقیقت فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن کے لیے جو اُن کے نظم پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہے۔ نیز اِس لیے کہ گردنوں کے چھڑانے میں اور تاوان زدوں کے سنبھالنے میں اور خدا کی راہ میں اور مسافروں کی بہبود کے لیے خرچ کیے جائیں۔ یہ اللہ کا مقرر کردہ فریضہ ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔‘‘
’’دیکھیے، یہاں اوپر والی آیت میں ذکر ان منافقین کا تھا جن کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسن ظن اور سوء ظن تمام تر اغراض پر مبنی تھا۔ اگر خیرات کے مال میں سے ان کی خواہش کے بقدر انھیں مل جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب خوب تعریفیں کرتے اور خواہش کے بقدر نہ ملتا تو آپ کو متہم کرنے سے بھی باز نہ رہتے۔ آپ پر بے جا جانب داری اور ناروا پاس داری کا الزام لگاتے اور لوگوں میں طرح طرح کی وسوسہ اندازیاں کرتے پھرتے۔ غور کیجیے کہ اس سیاق میں بتانے کی بات کیا ہو سکتی ہے، یہ کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کسی فقیر کو اس کا مالک بنانا ضروری ہے یا یہ کہ زکوٰۃ و خیرات کی رقموں کے اصلی حق دار اور مستحق فلاں فلاں قسم کے لوگ ہیں؟ ظاہر ہے کہ اس سیاق میں بتانے کی بات یہ دوسری ہی ہو سکتی ہے، نہ کہ پہلی۔ چنانچہ مفسرین میں سے جن لوگوں کی نظر سیاق و سباق پر رہتی ہے، انھوں نے آیت کی یہی تاویل کی بھی ہے۔ صاحب کشاف ’اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ‘ کی تاویل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
قصر لجنس الصدقات علی الاصناف المعدودۃ وانھا مختصۃ بھا لا تتجاوزھا الی غیرھا کانہ قیل انما ھی لہم لا لغیرھم ونحوہ قولک انما الخلافۃ لقریش ترید لا تتعداھم ولا تکون لغیرھم.(الکشاف ۲/ ۲۶۹)
’’یہاں صدقات و زکوٰۃ کو مذکورہ اقسام پر محدود کر دیا گیا ہے اور یہ کہ یہ انھی کے لیے خاص ہے۔ دوسروں کی طرف یہ چیز منتقل نہیں ہو سکتی۔ گویا یہ بات کہی گئی ہے کہ یہ چیز انھی کے لیے ہے، ان کے ماسوا لوگوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے کہ تم کہو: ’اِنَّمَا الْخِلَافَۃُ لِقُرَیْشٍ‘ (خلافت تو بس قریش کے لیے ہے) یعنی یہ ان کے سوا دوسروں کا حق نہیں ہے۔‘‘‘‘(مسئلۂ تملیک، مولانا امین احسن اصلاحی ۱۹۔۲۰)

دوسرا یہ کہ عطا یا صدقہ کرنے سے تملیک کرنا لازمی نہیں ہوجاتا۔ مثلاً کھانا پکا کر کھلانا، یا حاجت مندوں کے مفت علاج کے لیے خدمات مہیا کرنا۔ یہ بھی دوسروں پر ’ایتاء‘ اور ’تصدق‘ ہی دینا اور صدقہ کرنا ہی ہے اور اس میں شخصی تملیک بھی نہیں۔ اگر حقیقت میں ایسا ہوتا تو ’اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ‘ (اور ہم نے ان کو کتاب دی)، اور ’اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا‘ (اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی) میں تملیک کا مفہوم لینا پڑتا جو کہ درست نہیں۔(ملخص مسئلۂ تملیک، مولانا امین احسن اصلاحی ۲۳)
تیسری وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں پہلے چار مصارف زکوٰۃ حرف لام کے تحت آئے ہیں، لیکن بقیہ چار حرف ’فِیْ‘ کے ساتھ آئے ہیں۔ ’فی‘ میں تملیک کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس میں افادیت اور خدمت و مصلحت کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: ’واللّٰہ في عون العبد ما کان العبد في عون أخیہ‘ (جب تک کہ ایک مسلمان اپنے بھائی کے کام میں یا اس کے مصالح کی خدمت میں لگا رہتا ہے، اللہ اس کے مصالح میں اس کی مدد کرتا رہتا ہے)۔ چنانچہ پوری آیت کی ایسی تاویل ہی درست ہوسکتی ہے جو لام اور ’فی‘ کے مدلول میں کوئی تضاد پیدا نہ کرے۔ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ پہلے چار مصارف میں تو تملیک سمجھی جائے اور دوسری چار میں تملیک نہ سمجھی جائے۔ اس بنا پر لام کا بھی وہی مطلب درست ہو سکتا ہے جو ’فی‘ کے مخالف نہ ہوں، اور لام کے استعمالات میں یہ مفہوم موجود ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں لام استحقاق کے مفہوم کے لیے ہے یا انتفاع و افادہ کے مفہوم کے لیے۔ یعنی زکوٰۃ فقرا و مساکین وغیرہ کی فلاح و بہبود کے لیے ہے۔ کلام کا سیاق و سباق بھی جیسا کہ پیشتر عرض کیا گیا،اسی کی تائید کرتا ہے۔(ملخص مسئلۂ تملیک، مولانا امین احسن اصلاحی ۲۰ا۔۱۲۱)
چوتھی دلیل یہ ہے کہ یہاں ’الصَّدَقٰت‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس میں زکوٰۃ اور عام صدقات، سب شامل ہیں۔ یہ دراصل حکومت کو حاصل ہونے والا ریوینیو ہے، نہ کہ محض زکوٰۃ۔ یہ مصارف بھی صرف زکوٰۃ کے نہیں، بلکہ تمام صدقات کے ہیں۔ عام صدقات میں تملیک فقیر کو ضروری نہیں سمجھا گیا، زکوٰۃ کے معاملے میں بھی یہ ضروری نہیں سمجھا جائے گا۔
یہ مسئلہ حل ہو جانے کے بعد وہ تمام فقہی تکلفات برتنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو زکوٰۃ کے انتظامات کرنے والے اداروں کو نہایت درجے انتظامی مشکلات سے گزرنا پڑتاہے، اور دوسری طرف بہت سے اجتماعی نوعیت کے ایسے فلاحی کام بھی وجود پذیر نہیں ہو پاتے جن میں فرد کی تملیک ممکن نہیں ہوتی اور پھر ان کے لیے الگ سے ٹیکسز یا اپیلیں کرنی پڑتی ہیں۔ اسی طرح حاجت مندوں کو مفت سروسز بھی فراہم کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ تملیک کی شرط کے بغیر زکوٰۃ کے زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال سے عوامی بہبود زیادہ موثر طریقے سے ممکن ہے۔ خدا کے دین کا منشا بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List