Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

ضبط ولادت کے حق میں قرآن سے استدلال | اشراق
Font size +/-

ضبط ولادت کے حق میں قرآن سے استدلال

سوال: قرآنی نظام ربوبیت کے علم بردار رسالہ نے اپنے جولائی ۶۰ء کے شمارہ میں قرآن مجید کی ایک آیت سے ضبط ولادت کے حق میں استدلال کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’بچوں کو عندالضرورت پیدا کرنا ہی اس صلاحیت کا (اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کا) صحیح استعمال ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت کا یہی مفہوم ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ’نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِءْتُمْ‘، ’’تمھاری عورتیں تمھارے لیے کھیتی کے بمنزلہ ہیں، سو تم اپنی کھیتی میں جب چاہو آؤ‘‘ (البقرہ ۲: ۲۲۳)۔ کھیتی کی تشبیہ سے یہ کہنا مقصود ہے کہ وہ اولاد کی پیدایش کا ذریعہ ہیں اور ’’جب چاہو‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جس طرح کھیت میں عند الضرورت فصل اگائی جاتی ہے، اسی طرح اولاد بھی عند الضرورت پیدا کی جائے گی۔‘‘
براہ کرم واضح فرمائیے کہ کیا قرآن مجید کی مذکورہ آیت سے ضبط ولادت کے حق میں مذکورہ استدلال صحیح ہے؟
جواب: ضبط ولادت کے مسئلہ سے تو ہمیں نفیاً یا اثباتاً کچھ زیادہ دل چسپی نہیں ہے، لیکن قرآن مجید سے دل چسپی ضرور ہے، اس وجہ سے ہمیں مذکورہ آیت اور اس کے سیاق و سباق پر اچھی طرح غور کرنا پڑا۔ اور اس غور و فکر کے بعد ہم جس نتیجہ پر پہنچے ہیں، وہ یہ ہے کہ مذکورہ آیت سے نہ صرف یہ کہ ضبط ولادت کے حق میں کوئی دلیل نہیں نکلتی، بلکہ یہ آیت مختلف پہلوؤں سے ضبط ولادت کے نظریہ کے بالکل خلاف جاتی ہے۔ جو لوگ اس آیت سے ضبط ولادت کی تائید نکال سکتے ہیں، وہ قرآن سے جو چاہیں نکال سکتے ہیں، کوئی شخص بھی ایسے بے لگام لوگوں کا منہ نہیں بند کر سکتا۔
قرآن مجید نے عورتوں کو کھیتی سے تشبیہ دے کر نہایت لطیف انداز میں بہت سی باتوں کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ ہم ان میں سے چند اہم باتوں کی یہاں وضاحت کرتے ہیں، آپ ان سے خود نہایت بہتر طریق پر اندازہ کر لیں گے کہ یہ باتیں ضبط ولادت کے حق میں جاتی ہیں یا اس کے خلاف۔
عورتوں کو کھیتی سے تشبیہ دینے سے پہلی بات تو یہ نکلتی ہے کہ جس طرح کھیتی سے اصل مقصود پیداوار حاصل کرنا ہوتا ہے، اسی طرح عورتوں کا اصل مقصود افزایش نسل انسانی ہے۔ جس طرح اس مقصد سے نکل جانے کے بعد کھیتی کھیتی نہیں رہ جاتی ہے، اسی طرح مذکورہ مقصد سے نکل جانے کے بعد عورت عورت نہیں باقی رہتی۔
دوسری بات یہ نکلتی ہے کہ جس طرح ہر کسان زرخیز اور فصل آور زمین کا اپنے لیے انتخاب کرتا ہے، نہ کہ شور اور بنجر زمین کا، اسی طرح ہر مرد کو ازدواجی تعلق کے لیے ایسی عورت کا انتخاب کرنا چاہیے جو بچے جننے والی، بچوں سے محبت کرنے والی اور بچوں کی آرزو رکھنے والی ہو، نہ کہ بانجھ اور عقیم اور اولاد سے بے زار عورت کا، خواہ اس کا بانجھ پن مصنوعی ہو، یا حقیقی۔ اسی حقیقت کو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح واضح فرمایا کہ ’أنکحوا الولود الودود فانیّ مکاثر بکم الأمم یوم القیٰمۃ او کما قال‘ یعنی بچے جننے والیوں اور محبت کرنے والیوں سے شادیاں کرو، کیونکہ میں قیامت کے دن تمھاری کثرت پر دوسری امتوں کے مقابل میں فخر کرنے والا ہوں۔
تیسری بات اس سے یہ نکلتی ہے کہ جس طرح ایک زیرک اور ہوش مند کسان موسم پر اپنے کھیت میں ہل چلاتا اور تخم ریزی کرتا ہے، اگر وہ زمین کو بغیر تخم ریزی کے چھوڑے رکھے تو اپنی انفرادی دولت کو بھی نقصان پہنچائے اور ملک کی اجتماعی دولت کو بھی۔ اسی طرح جو شخص عورت کی بارآوری اور اس کی آمادگی کے زمانہ کو ضائع کرتا ہے، وہ اپنی شخصی ثروت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور مجموعی طور پر بنی نوع انسان کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
چوتھی بات اس سے یہ نکلتی ہے کہ جس طرح کوئی کسان اپنی زمین میں اس مقصد کے لیے کبھی زہرپاشی نہیں کرتا کہ اس کی زمین شور اور بنجر ہو جائے یااس میں بوئے ہوئے تخم مارے جائیں، اسی طرح کسی مرد کے لیے بھی یہ بات صحیح نہیں ہو سکتی کہ وہ عورت کو ناقابل ولادت بنا دینے کی تدبیریں کرے یا ایسی صورتیں اختیار کرے جس سے نطفہ قرار نہ پکڑ سکے یا حمل ضائع ہو جائے۔
پانچویں بات اس سے یہ نکلتی ہے کہ جس طرح کوئی کسان اپنی زمین میں محض محنت برائے محنت کے لیے ہل چلانے کی حماقت نہیں کرتا، بلکہ ہل چلاتا ہے تو پیش نظر تخم ریزی بھی ہوتی ہے، اسی طرح ایک مرد کے لیے بھی یہ بات صحیح نہیں ہے کہ وہ محض اپنے بدن کا خمار نکالنے کے لیے تو عورت سے مواصلت کا خواہش مند ہو، لیکن بیوی کے حاملہ ہو جانے کی ذمہ داریوں سے گھبرائے۔ چنانچہ زیربحث آیت میں جہاں یہ فرمایا ہے کہ تم اپنی کھیتی میں جب چاہو آؤ۔ تو وہیں یہ بات بھی فرمائی ہے کہ ’قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ‘ اور اپنی نسل کو آگے بڑھاؤ۔
یہ ہم نے اس تشبیہ کے صرف چند واضح پہلوؤں کی طرف اشارات کیے ہیں اور پیش نظر اختصار ہے، ورنہ اس تشبیہ سے اور بھی بہت سی حقیقتیں واضح ہوتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ جس طرح ایک کسان اپنی کھیتی کی چرند و پرند اور آیند و روند سے حفاظت کرتا ہے، اسی طرح مرد کو بھی عورت کی حفاظت و نگہداشت کرنی چاہیے۔ جس طرح کھیتی کے لیے موسم ہیں اور ان کا لحاظ ضروری ہے، اسی طرح عورت سے قربت کے بھی خاص زمانے ہیں اور صحت و بقاے نسل کے پہلو سے ان کا اہتمام ضروری ہے۔ نیز جس طرح کھیتی میں تخم ریزی کا اصلی محل کھیت ہوتا ہے، اسی طرح عورت کے معاملہ میں بھی قانون فطرت کی پابندی لازمی ہے۔ اس کی خلاف ورزی جائز نہیں ہے۔
غور کیجیے تو مذکورہ تشبیہ قرآنی سے یہ ساری باتیں نکلتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بات بھی آپ ایسی نہیں بتا سکتے جو ضبط ولادت کے حق میں جاتی ہو، لیکن ساون کے اندھوں کو ہمیشہ ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے۔ جو لوگ قرآن میں ہمیشہ اپنی خواہشیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں، وہ ان گوشوں سے بھی اپنے مطلب کی بات ڈھونڈ ہی نکالتے ہیں جہاں دور دور بھی اس کے پائے جانے کا کوئی امکان نہیں۔ ان ذہین لوگوں سے بعید نہیں کہ اس تشبیہ کے مذکورہ نکات سننے کے بعد یہ سوال کر بیٹھیں کہ جب کھیتی کی تشبیہ سے یہ سارے مضمون نکلتے ہیں تو پھر کیوں نہ عورت کو بیع، رہن اور ہبہ کے لیے بھی مباح کر دیا جائے، کیونکہ کھیتی پر تو یہ سارے تصرفات بھی جاری ہوتے ہیں؟ ایسے نکتہ طرازوں کے جواب میں یہ گزارش ہے کہ یہ بات صحیح ہوتی اگر عورت کے حقوق، اس کی حیثیت اور اس کے درجہ و مرتبہ کو واضح کرنے والی قرآن میں صرف یہی ایک آیت ہوتی۔ لیکن قرآن اور حدیث میں عورتوں سے متعلق اور بھی احکام و ہدایات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت اگر مذکورہ بالا اعتبارات سے کھیتی سے مشابہت رکھتی ہے تو اپنے دوسرے پہلوؤں سے وہ انسانیت کا آدھا حصہ ہے، اس وجہ سے اس پر وہ قوانین بھی جاری ہوتے ہیں جو اسلام نے اس کی انسانی حیثیت کے تحفظ و تعین کے لیے بنائے ہیں۔
ہماری سمجھ میں یہ اولاد پیدا کرنے والے کے لیے ’’عندالضرورت‘‘ کی قید و شرط بھی نہیں آئی۔ آخر اس ضرورت کا فیصلہ کون کرے گا۔ اور اس فیصلہ کے لیے معیار کیا ہو گا؟ اس کا فیصلہ تو وہی کر سکتا ہے جو اولاد پیدا کرنے پر قادر ہو۔ یہ قدرت افراد کو تو حاصل نہیں کہ وہ جب چاہیں اور جس صنف کی چاہیں اولاد پیدا کر لیں۔ کتنے افراد ہیں جو زندگی بھر اولاد کے لیے ترستے رہتے ہیں، لیکن اولاد سے محروم ہی رہتے ہیں۔ کتنے ہیں جو اولاد نرینہ کے لیے ترستے مر جاتے ہیں، لیکن ان کے ہاں بیٹیاں ہی بیٹیاں جنم لیتی ہیں۔ افراد کے بس میں اگر ہے تو مواصلت کرنا یا نہ کرنا ہے۔ رہا اولاد کے پیدا ہونے اور نہ ہونے کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، نہ کہ ہمارے اور آپ کے، کہ اب ضرورت آپڑی ہے، اس لیے اتنے بیٹے اور بیٹیاں پیدا کر لیجیے، اور اب ضرورت باقی نہیں رہی ہے، اس لیے اس سلسلہ کو بند کر دیجیے۔ اس قسم کی منصوبہ بندی تو وہی کر سکتا ہے جو پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور مارنے پر بھی۔ اس وجہ سے جب تک ہماری سائنس موت اور زندگی پر کنٹرول نہیں کر پاتی ہے، اس وقت تک تو یہ بیل ہمیں منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی ہے۔۱؂
پھر ضرورت کے لیے آخر معیار کیا ہو گا؟ ظاہر ہے کہ ضبط ولادت کا مسئلہ روٹی کے سوال نے پیدا کیا ہے، اس وجہ سے روٹی ہی اس کے لیے معیار قرار پائے گی، یعنی جس کے پاس کھانے کے لیے جتنی ہی روٹی ہو، اتنے ہی بچے پیدا کر لے۔ لیکن ایمان داری کے ساتھ غور کیجیے کہ روٹی ہی انسان کے اپنے اختیار میں کب ہے۔ افراد ہوں یا حکومتیں، روٹی پیدا کرنے کے لیے منصوبے تو بنا سکتے ہیں، لیکن روٹی صرف منصوبوں سے تو نہیں پیدا ہوتی۔ اس میں تو صدہا دوسرے عوامل بھی کام کرتے ہیں جن میں سے اکثرو بیش تر ایسے ہیں جن پر ہمیں کوئی اختیار نہیں ہے، بلکہ وہ تمام تر خالق کائنات کے اختیار میں ہیں۔ اس وجہ سے ہم یہ کوشش تو بے شک کر سکتے ہیں کہ اپنی پیداوار بڑھائیں، لیکن یہ سوال کہ ہماری کوشش سے روٹی پیدا ہو گی کتنی؟ اس کا علم صرف اس کو ہے جو آسمان و زمین اور ابر و ہوا کا مالک ہے۔
یہاں یہ بحث تو صرف قرآن مجید کی مذکورہ بالا تشبیہ کے تعلق سے پیدا ہو گئی ہے اور ہماری گزارش کا مقصود صرف یہ ہے کہ مذکورہ تشبیہ کسی پہلو سے بھی ضبط ولادت کے معروف نظریہ کے حق میں نہیں جاتی۔ رہے وہ معاشی دلائل جو اس کے حق میں دیے جاتے ہیں تو ان پر یہاں گفتگو کا موقع نہیں ہے۔ ہم ہر مسئلہ پر پہلے اس کے اسلامی و اخلاقی پہلو سے نگاہ ڈالتے ہیں۔ کسی مسئلہ پر معاشی پہلو سے غور کرنا بھی ضروی ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ بعد کی چیز ہے۔ ہم جب اس کے اخلاقی پہلو پر غور کرتے ہیں تو ہمارا دل کانپ جاتا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ زنا کو روکنے والی چیزوں میں ایک بہت بڑی چیز حمل کا خوف ہے۔ اگر یہ خوف دلوں سے نکل جائے تو موجودہ معاشرے کی سب سے زیادہ عام وبا پھر زنا ہی کو سمجھیے۔ جس ملک کے نوجوان مرد اور نوجوان عورتیں جیبوں میں مانع حمل گولیاں لیے پھریں گے، اس ملک کے اخلاقی دیوالیہ پن میں وہی شبہ کر سکتا ہے جس کی عقل میں کچھ فتور ہو۔
(تفہیم دین ۳۶۔۴۰)

________

۱؂ اس موضوع پر مفصل بحث ’’مقالات اصلاحی‘‘ جلد اول میں موجود ہے۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List