Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Dr. Waseem Mufti Profile

Dr. Waseem Mufti

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (۷) | اشراق
Font size +/-

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (۷)

حضرت علی کی شہادت

حضرت عائشہ کوحضرت علی کی شہادت کی خبر ملی تو معقر بن اوس کا یہ شعر پڑھا:

فالقت عصاہا و استقر بہا النوی          کما قر عینًا بالایاب المسافر

’’اس عورت نے اپنی لاٹھی ٹیک دی(یعنی سامان سفر رکھ دیا) اور اسے منزل مل گئی جیسے گھرلوٹ آنے سے مسافر کی آنکھ ٹھنڈی ہوتی ہے۔‘‘

پھر پوچھا: انھیں کس نے شہید کیا؟ بتایا گیا: بنو مراد کے ایک شخص (ابن ملجم) نے تو کہا:

فإن یک نائےًا فلقد نعاہ          غلام لیس في فیہ التراب

’’اگر وہ دور تھے توان کی وفات کی خبر ایک لڑکا (سفیان بن عبد شمس) لے آیا، افسوس ہے کہ کسی نے اس کے منہ میں خاک نہ بھری۔‘‘

اس پر حضرت زینب بنت ابو سلمہ نے کہا: کیا یہ آپ علی کے بارے میں کہہ رہی ہیں؟ فرمایا: میں سب واقعات بھول گئی ہوں۔ جب میں بھول جایا کروں تو مجھے یاددلا دیا کرو۔

حضرت علی کی شہادت کے بعد مشہور تابعی عبد ﷲ بن شداد حضرت عائشہ سے ملنے آئے۔ حضرت علی کی شہادت کے وقت وہ کوفہ میں تھے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: مجھے سچ سچ بتاؤ ،کن لوگوں نے علی کو شہید کیا؟ انھوں نے بتایا: حضرت علی نے جب حضرت معاویہ سے معاہدہ کر کے فیصلہ دو ثالثوں کے ہاتھ میں دے دیاتو آٹھ ہزار خارجی (دوسری روایت:بارہ ہزار)کوفہ کے مضافات میں حرورا کے مقام پر جمع ہوگئے ۔ انھوں نے الزام لگایا کہ حضرت علی نے ﷲ کی پہنائی ہوئی خلعت خلافت اتار دی ہے اور ﷲ کے حکم ’اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِِ‘، ’’حکم ﷲ کے سوا کسی کا نہیں‘‘ (یوسف ۱۲: ۴۰) کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا مقدمہ سن کر حضرت علی نے اعلان کر دیا: وہی شخص ان سے ملنے آئے جسے قرآن یاد ہو۔جب ان کا گھر قاریوں سے بھر گیا تو انھوں نے بڑے مصحف کو سامنے رکھ کر کہا:اے مصحف، لوگوں کو بتا دے۔ لوگ حیران ہوئے کہ اوراق اور سیاہی کیا بتا سکتے ہیں؟تب انھوں نے سورۂ نساء کی یہ آیت پڑھی: ’وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا‘، ’’اگر تمھیں میاں اور بیوی کے درمیان بگاڑ کا خدشہ ہو تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک ثالث بیوی کے گھر والوں میں سے مقرر کر دو ۔اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے توﷲ ان کے درمیان سازگاری پیدا کر دے گا‘‘ (۴: ۳۵)۔ یہ تو دو میاں بیوی کا معاملہ تھا ،حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کی حرمت ان سے زیادہ ہے۔رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے اسوہ ہے ، آپ نے بھی تو حدیبیہ کا عہد نامہ تحریر کرایا۔ حضرت علی نے حضرت عبدﷲ بن عباس کو خارجیوں کے پاس بھیجا۔تین دن حضرت ابن عباس کے دلائل سننے کے بعد چار ہزار خارجی تائب ہوئے۔ حضرت علی نے باقی خوارج کو پیغام بھیجا کہ خوں ریزی اور راہ زنی سے اجتناب کریں، ورنہ جنگ کے لیے تیار رہیں۔ حضرت عائشہ نے ساری بات سننے کے بعد پوچھا: تب انھوں نے علی کو قتل کر دیا؟ پھر سوال کیا: کیا تم نے پستان والے شخص کو دیکھا؟ عبدﷲ بن شداد نے کہا: میں حضرت علی کی معیت میں گیا اور اسے مقتولوں میں پڑا پایا۔حضرت عائشہ نے پوچھا: تب علی نے کیا کہا؟ انھوں نے کہا: ’صدق اللّٰہ و صدق رسولہ‘ حضرت عائشہ نے پھر سوال کیا: تم نے ان سے ’صدق اللّٰہ و صدق رسولہ‘ کے علاوہ کوئی کلمہ سنا؟ عبدﷲ بن شداد نے کہا: نہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا: ﷲ علی پر ر حم کرے، انھیں کوئی چیزبھاتی تو یہی کلمہ کہتے۔

خوارج کا فتنہ برپا ہونے سے پہلے حضرت علی فرمان رسول سنایاکرتے تھے کہ ایک گروہ دین سے اس طرح خارج ہو جائے گا، جس طرح تیر کمان سے نکلتا ہے ۔ا س گروہ میں ایک ایسا شخص شامل ہو گاجس کا ہاتھ پیدایشی طور پر ناقص ہو گا۔ جنگ نہروان کے اختتام پرحضرت علی نے خوارج کی لاشوں میں سے اس نشانی کے حامل شخص کی خود تلاش کی، جوروان کے کنارے پچاس لاشوں میں پھنسی ہوئی اس کی نعش پڑی تھی۔ بازو کی جگہ گوشت کا ایک لوتھڑا لٹک رہا تھا جو عورت کی چھاتی سے مماثلت رکھتا تھا، پستان پر چند بال بھی تھے۔اسے پکڑ کر کھینچا گیا تو دوسرے بازو جتنا لمباہو گیا اور چھوڑنے پر کندھے سے چپک گیا۔ حضرت علی نے ا ﷲ اکبر کا نعرہ لگایااور کہا:میں نے جھوٹ کہا، نہ مجھے بتانے والے نبی کی بات جھوٹ تھی۔ مسروق کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ نے حکم دیا کہ ان لوگوں کی گواہیاں اکٹھی کروں جنھوں نے پستان والے شخص کو دیکھا تھا۔میں کوفہ میں کئی ہفتے رہا، ہر ہفتے دسیوں لوگوں نے اسے دیکھنے کی شہادت دی۔ حضرت عائشہ کو معلوم ہواتو ان کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اور فرمایا:ﷲ علی پر رحم کرے ، وہ حق پر تھے (دلائل النبوۃ ۶/ ۴۳۵)۔

عہد معاویہ

۳۸ھ: حضرت معاویہ نے مصر کے باغی سردار عمرو بن خدیج سے خط و کتابت کرکے حضرت عمرو بن عاص کی قیادت میں چھ ہزار کا لشکرمصربھیجا۔حضرت علی کے مقرر کردہ مصر کے گورنرمحمدبن ابوبکر نے مقابلے کے لیے دو ہزار کی فوج جمع کرکے کنانہ بن بشر کو بھیجا۔حضرت علی نے بھی حضرت مالک بن کعب کی سالاری میں دوہزارکی کمک بھیجی۔ حضرت عمرو بن عاص نے ایک ایک کر کے دستے بھیجے، لیکن کنانہ نے ان کو پسپا کر دیا۔یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمرو نے معاویہ بن خدیج سے مدد طلب کی۔دونوں نے مل کر کنانہ کا گھیراؤ کر لیا ،کنانہ گھوڑے سے اترے اور تلوار چلاتے چلاتے شہید ہو گئے۔کنانہ کی شکست دیکھ کر محمد بن ابوبکر کے بقیہ سپاہی بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔خود کو تنہا پا کر وہ بھاگ کر ویرانے میں پہنچے اور جبلہ بن مسروق کے مکان میں پناہ لی۔ حملہ آور فوجیوں نے انھیں تلاش کر لیا۔وہ بھوکے پیاسے تھے، انھیں قتل کر کے نعش مردہ گھوڑے کی کھال میں بھر کر جلا دی اور کہا: اس نے حضرت عثمان کو اسی طرح روزے کی حالت میں پانی بند کر کے شہید کیا تھا۔حضرت عائشہ کو اپنے بھائی کے قتل کا بہت رنج ہوا۔ انھوں نے ہر نمازکے بعد دعائے قنوت پڑھنا شروع کی جس میں حضرت معاویہ اور حضرت عمرو بن عاص کے لیے بددعا مانگتیں۔ محمد کے بیٹے قاسم کو انھوں نے اپنی پرورش میں لے لیا۔ چنانچہ وہ فقہاے سبعہ میں سے ایک بڑے فقیہ کی شکل میں امت کے سامنے آئے۔

۴۹ ھ:حضرت حسن کو کئی بار زہر دیا گیا، لیکن بچ جاتے ۔کہا جاتا ہے کہ آخری بار انھیں ان کی بیوی جعدہ بنت اشعث نے حضرت معاویہ کے کہنے پر زہر دیا۔ اہل تاریخ کا کہنا ہے کہ حضرت معاویہ کو زہرخورانی کی کوئی ضرورت نہ تھی، حضرت حسن کی طرف سے ایسی کوئی بات نہ ہوئی تھی جس سے حضرت معاویہ کو خطرہ ہوتا ۔سیدناحسن نے حضرت حسین کو وصیت کی کہ میری قبر نبی صلی ﷲ علیہ و سلم کے ساتھ بنائی جائے اور اگر فتنے کا اندیشہ ہو تو عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفنا دیا جائے۔ اپنے مرض الموت میں انھوں نے سیدہ عائشہ سے اس کی اجازت بھی لے لی تھی، لیکن گورنر مدینہ مروان نے ایسا نہ کرنے دیا۔ حضرت حسین بہت برافروختہ ہوئے، لیکن حضرت ابوہریرہ ،حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت جابر اور حضرت عبدﷲ بن عمر نے انھیں تلقین کی کہ اس بات پر جھگڑا نہ کیا جائے۔ آخر کار جنت البقیع میں سیدہ فاطمہ اور حضرت حسن کے بیٹوں کی قبروں کے درمیان ان کی تدفین ہوئی۔

۵۱ھ: حضرت معاویہ کے مقررہ گورنر کوفہ زیاد بن ابوسفیان نے حضرت حجر بن عدی کے خلاف ستر شہادتیں جمع کیں اور بغاوت کے الزام میں حضرت معاویہ کے پاس بھیجا۔ان کے خلاف گواہی دینے والوں میں ابن سیرین اور چند تابعین شامل تھے۔ گواہوں میں حضرت حسن کا نام بھی لیا جاتا ہے، لیکن وہ اس وقت زندہ ہی نہ تھے۔حضرت معاویہ نے انھیں قتل کرنے کا حکم جاری کیا تو حضرت حجر نے پہلے دو رکعت نفل ادا کیے۔حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو عبدالرحمن بن حارث کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ حضرت حجر کو چھوڑ دیا جائے، لیکن تب تک ان کی گردن اڑائی جا چکی تھی۔ بعد میں حضرت معاویہ حضرت عائشہ سے ملنے گئے تو انھوں نے اس فعل پر ملامت کی۔ حضرت معاویہ نے جواب دیا کہ ان کے خلاف گواہی دینے والے ان کے قتل کے ذمہ دار ہیں، اگر وہ بچ جاتے تو امت میں فساد پھیل جاتا۔ حج کے موقع پر حضرت عائشہ نے ان سے کہا: آپ کی بردباری کہاں گئی؟جواب دیا: جیسے آپ میری قوم میں سے نکل گئی ہیں۔

زمانۂ جاہلیت میں حضرت عائشہ کے سگے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر مال تجارت لے کر شام گئے تو ایک عورت لیلیٰ بنت جودی کو دیکھا جو پشم والے قالین پر باندیوں اور غلاموں کے جھرمٹ میں بیٹھی تھی۔وہ انھیں بھا گئی اور اس کی یاد میں شعر کہہ ڈالے۔عہد فاروقی میں جب ایک لشکر شام گیا تو حضرت عمر نے امیر لشکر سے کہا: اگر لیلیٰ بنت جودی قید میں آئے تو حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر کے حوالے کر دی جائے۔حسن اتفاق سے ایسا ہی ہوا ۔ حضرت عبدالرحمن اسے اپنی بیویوں پرترجیح دینے لگے ۔ انھوں نے حضرت عائشہ سے شکایت کی تو انھوں نے حضرت عبدالرحمن کو ڈانٹا۔ انھوں نے کہا: مجھے لگتا ہے کہ میں اس کے دانتوں سے انار کے دانے چوستا ہوں۔ﷲ کا کرنا ایسا ہوا کہ اسے ایسی بیماری آن لگی کہ اس کا منہ لٹک گیا۔اب حضرت عبدالرحمن اس سے بے اعتنائی برتنے لگے ۔ اس نے حضرت عائشہ سے شکایت کی تو انھوں نے کہا: عبدالرحمن، تو نے لیلیٰ سے محبت کی تو حد سے گزر گیااور اب اس کی ناپسندیدگی میں بھی تجاوز کرنے لگا ہے۔ اس سے انصاف کر یا اسے اس کے گھر والوں کے پاس بھیج دے۔

۵۵ھ:حضرت معاویہ مدینہ گئے تو حضرت عائشہ سے ملنے گئے ۔ انھوں نے کہا:آپ حسین کو یزید کی بیعت کرنے پر مجبور کر رہے ہیں اور انھیں قتل کی دھمکی دی ہے۔حضرت معاویہ نے کہا: ام المومنین، وہ مجھے محبوب ہیں، لیکن میں سب لوگوں سے یزید کے حق میں بیعت لے چکا ہوں ۔آپ چاہتی ہیں کہ میں بیعت مکمل نہ ہونے دوں؟ حضرت عائشہ نے کہا: آپ ان سے نرم برتاؤکریں، وہ آپ کا منشا پورا کر دیں گے۔

۵۵ھ:میں حضرت سعد بن ابی وقاص نے وفات پائی۔گورنر مدینہ مروان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ سیدہ عائشہ نے حکم دیا: سعد کے جنازہ کو مسجد نبوی میں سے گزار ا جائے تاکہ وہ ان کی نماز جنازہ ادا کر سکیں ۔ لوگوں نے اعتراض کیا تو انھوں نے جواب دیا: لوگ کتنی جلد باتیں بھول جاتے ہیں ، کیا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضا (والدہ کا نام، والد: دعد)اور ان کے بھائی کی نماز جنازہ مسجدمیں ادا نہ فرمائی تھی؟ (مسلم، رقم ۲۲۱۲۔ ابوداؤد، رقم ۳۱۸۹)۔ چنانچہ میت ازواج مطہرات کے حجروں کے آگے رکھی گئی اور انھوں نے الگ نماز جنازہ ادا کی۔

۵۸ھ: حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر کی وفات مکہ سے چھ میل دور حبشی کے مقام پر ہوئی۔ان کا جنازہ بالائی مکہ لایا گیا، جہاں ان کی تدفین ہوئی۔حضرت عائشہ مکہ گئیں تو ان کی قبر پر پہنچیں اور کہا: اگر میں پاس ہوتی تو مقام مرگ سے منتقل نہ کرتی(ترمذی، رقم ۱۰۵۵)۔

حضرت عائشہ بطور زوجۂ رسول

(شادی کے وقت) حضرت عائشہ بہت دبلی تھیں،ان کی والدہ نے بہت جتن کیے کہ ذرا موٹی ہو جائیں ۔اور کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو انھوں نے تازہ کھجور اور ککڑی کھلانا شروع کی جس سے حضرت عائشہ کا جسم بھر گیا (ابوداؤد، رقم ۳۹۰۳)۔

رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا: مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ کب تم غصہ کرتی ہو اور کب خوشی سے بولتی ہو، پوچھا: کیسے؟ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ فرمایا: جب راضی ہو تو اس طرح قسم کھاتی ہو، محمد کے رب کی قسم اورجب غصہ میں آتی ہو تو کہتی ہو ،نہیں ابراہیم کے رب کی قسم ۔حضرت عائشہ نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، یا رسول ﷲ ، تب میں آپ کا نام نہیں لیتی (بخاری، رقم ۵۲۲۸۔ مسلم، رقم ۶۳۶۶)۔

رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ان باتوں میں اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے جن کے بارے میں شریعت اسلامی نے کوئی حکم نہیں دیا۔ اہل کتاب سر کے بالوں کو(پیشانی پر)لٹکا کر رکھتے تھے، جب کہ مشرکین مانگ نکالتے تھے۔ آپ بھی ایک عرصہ تک بالوں کو لٹکاتے رہے، پھر مانگ نکالنا شروع کر دی (بخاری، رقم ۳۵۵۸۔ ابوداؤد، رقم ۴۱۸۸)۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے سر کی مانگ نکالتی،سر کے پچھلے حصے سے شروع کرتی اور آنکھوں کے درمیان پیشانی تک لے آتی (ابوداؤد، رقم ۴۱۸۹)۔

اہل ایمان عام طور پر اپنے تحائف رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں اس روز پیش کرتے، جب آپ سیدہ عائشہ کے ہاں ہوتے۔باقی ازواج ام سلمہ کے پاس جمع ہوئیں اور آپ کی خدمت میں درخواست کرنے کو کہا کہ لوگوں کو ہدایت کریں کہ آپ جہاں بھی ہوں ،ہدیے دے دیا کریں۔ ام سلمہ نے یہ بات عرض کی تو آپ نے جواب نہ دیا۔ اپنی ساتھی ازواج کے اصرار پر انھوں نے دوسری بار کہا تو بھی آپ خاموش رہے ۔تیسری دفعہ یہی بات کہی تو فرمایا: مجھے عائشہ کے باب میں ایذا نہ پہنچاؤ، وﷲ ! اس کے علاوہ کسی زوجہ کے لحاف میں ہوتے ہوئے مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی۔ ام سلمہ نے اسی وقت توبہ و استغفار کی۔ ازواج مطہرات نے اب سیدہ فاطمہ کو بھیجا ۔ انھوں نے کہا: آپ کی بیویاں بنت ابوبکر کے معاملے میں عدل چاہتی ہیں۔ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:میری بچی، کیا تم وہ عمل پسند نہیں کرتی جو میں کرتاہوں؟ انھوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، امہات المومنین نے تیسری بارحضرت زینب بنت جحش کو بھیجا۔وہ آپ سے اونچی آواز میں بولیں توحضرت عائشہ نے سن لیا اوران کو برا بھلا کہا۔آپ نے فرمایا: یہ ابوبکر کی بیٹی ہے (بخاری، رقم ۲۵۸۱۔ مسلم، رقم ۶۳۷۱۔ ترمذی، رقم ۳۸۷۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۶۵۱۲)۔

ایک انصاریہ حضرت عائشہ سے ملنے آئیں تو دیکھا کہ ایک چوغہ دہرا کر کے بستر کی جگہ رکھا ہوا ہے۔ انھوں نے فوراً اون کاایک گدا بھجوا دیا۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو پوچھا: عائشہ، یہ کیا؟ بتایاکہ فلاں انصاریہ نے بھیجا ہے۔آپ نے فرمایا: واپس بھیج دو ، لوٹا دو ۔اگر میں چاہتا تو ﷲ سونے اور چاندی کے پہاڑمیرے ساتھ رواں کر دیتا (دلائل النبوۃ،بیہقی۱/ ۳۴۵)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ایک بارنبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی ازواج نے جوایک جگہ اکٹھی تھیں، آپ سے سوال کیا کہ ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ سے آملے گی؟ فرمایا: جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہوں گے ۔آپ کا مطلب تھا، جو سب سے زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والی ہوگی، لیکن ازواج مطہرات نے پیمانے سے اپنے اپنے ہاتھوں کی پیمایش کر ڈالی ۔حضرت سودہ کے ہاتھ سب سے لمبے نکلے۔حضرت زینب بنت جحش کا انتقال ہوا تو انھیں آپ کا فرمان سمجھ آیا۔حضرت زینب کھلے دل سے انفاق کیا کرتی تھیں (بخاری، رقم ۱۴۲۰۔ مسلم، رقم ۶۳۹۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۸۹۹)۔

حضرت زینب بنت جحش خوب صورتی میں حضرت عائشہ کی ہم مثل تھیں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ متقی، راست گو اور امانت دار خاتون نہیں دیکھی۔

ایک بارنبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا:کیا آپ مجھے عائشہ کی طرف سے معذرت نہیں دلا دیتے؟ حضرت ابوبکر نے حضرت عائشہ کے سینے پر زور سے ماراتو آپ نے فرمایا: ﷲ آپ پر رحم کرے ،میں یہ نہیں چاہتا تھا۔

حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم گھر میں آنے کے بعد سب سے پہلے کیا کام کرتے تھے؟ بتایا: مسواک کرتے تھے (ابوداؤد، رقم ۵۱)۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے آگے سوتی تھی۔ میرے پاؤں اس جگہ ہوتے تھے جہاںآپ کا قبلہ ہوتا، (یعنی سجدے کرنے کی جگہ ہوتی)۔ آپ سجدہ کرتے ہوئے مجھے چھوتے تو میں ٹانگیں اکٹھی کر لیتی ،جب قیام کرتے تو میں انھیں پھیلا لیتی۔تب گھروں میں چراغ نہ ہوا کرتے تھے (بخاری، رقم ۳۸۲۔ مسلم، رقم ۱۰۸۱۔ ابوداؤد، رقم ۷۱۱)۔ آپ وتر پڑھنے لگتے تو مجھے جگا دیتے اور میں بھی وتر ادا کرتی (بخاری، رقم ۵۱۲۔ مسلم، رقم ۱۰۷۶۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۳۶)۔

دوسری روایت کے مطابق حضرت عائشہ نے بتایا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تخت کے درمیان میں نماز تہجد ادا کرتے تھے،میں قبلہ کی طرف آپ کے سامنے پڑی ہوتی تھی ۔ رفع حاجت کی ضرورت ہوتی تو کھڑا ہوکر آپ کے سامنے آنابرا معلوم ہوتا، اس لیے میں کھسک کر اتر جاتی (بخاری، رقم ۶۲۷۶)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: آخر شب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تہجد ادا کر لیتے تومیری طرف دیکھتے ۔میں جاگ رہی ہوتی تو باتیں کرتے ،اگر سوئی ہوئی ہوتی تو بیدار کردیتے ۔آپ دو مزید رکعتیں ادا کر کے لیٹ جاتے۔ مؤذن آکر نمازفجر کی خبر دیتا تودوہلکی رکعتیں پڑھ کر فرض پڑھانے نکل جاتے (ابوداؤد، رقم ۱۲۶۲)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ہمارے کمرے کا دروازہ قبلہ کی طرف تھا۔ایک بار میں باہر سے آئی اور دروازہ کھولنے کو کہا۔ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔آپ چل کر آئے ،دروازہ کھولا اور پھر جا نماز پر کھڑے ہو گئے (ابوداؤد، رقم ۹۲۲۔ ترمذی، رقم ۶۰۱) ۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں ایام سے ہوتی تھی، جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میری گودمیں سر رکھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرتے (بخاری، رقم ۲۹۷۔ ابوداؤد، رقم ۲۶۰)۔ میں حائضہ ہوتی اورآپ کے پہلو میں لیٹی ہوتی۔ آپ اس حالت میں تہجداداکرتے کہ میری چادر کا کچھ حصہ آپ پر اور کچھ میرے اوپر ہوتا (ابوداؤد، رقم ۳۷۰)۔ میں اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ایک ہی چادر اوڑھ کر سوتے ۔ آپ کے کپڑوں پر کوئی داغ لگ جاتاتو آپ کپڑے کا اتنا حصہ ہی دھو کر پہن لیتے (ابوداؤد، رقم ۲۱۶۶)۔ دوران ایام میں میں ہڈی چوس کر آپ کودیتی اور آپ اسی جگہ پر دہن مبارک رکھ دیتے جہاں میں نے رکھا تھا۔میں پانی پی کر برتن آپ کو دیتی اور آپ اسی جگہ منہ لگا لیتے جہاں سے میں نے پیا تھا (ابوداؤد، رقم ۲۵۹)۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے،آپ نے سر مبارک حضرت عائشہ کے حجرے کے اندرکیا اور انھوں نے حالت حیض ہی میں آپ کی کنگھی کی (بخاری، رقم ۲۹۶۔ ابوداؤد، رقم ۲۴۶۷۔ ترمذی، رقم ۸۰۴)۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: مجھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مسجد سے جا نمازپکڑانے کو کہا: میں نے کہا: میں حیض سے ہوں، فرمایا: حیض تمھارے ہاتھ میں نہیں (ترمذی، رقم ۱۳۴)۔

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو پاس نہ پایاتو سمجھی کہ وہ اپنی کسی دوسری زوجہ کے ہاں چلے گئے ہیں۔میں ڈھونڈ کر آئی تو دیکھا کہ آپ رکوع کر رہے ہیں یا سجدے میں پڑے ہیں اور ان کلمات کا ورد کر رہے ہیں: ’سبحانک وبحمدک لا إلٰہ إلا أنت‘ (اے ﷲ ، میں تیری پاکی تیری حمد کے ساتھ بیان کرتا ہوں۔تیرے سوا کوئی معبود نہیں)۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں!میں کس خیال میں تھی اور آپ کس کام میں مصروف ہیں (مسلم، رقم ۱۰۲۳) ۔

ایک رات رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے حجرے سے نکلے تو وہ شک میں مبتلا ہو گئیں۔آپ لوٹے تو پوچھا: کیا تمھیں رقابت محسوس ہونے لگی تھی؟کہا: میری طرح کی نو عمر بیوی اپنے خاوند پر شک ہی تو کرے گی۔آپ نے فرمایا: اچھا توتمھارا شیطان آگیا ہوگا۔حضرت عائشہ نے پوچھا: توکیا ایک شیطان میرے ساتھ لگا ہے؟ فرمایا: ہاں، پوچھا: گویا ہر انسان کا الگ شیطان ہوا ؟ جواب ارشاد ہوا: ہاں۔ حضرت عائشہ نے پوچھا: تو کیا آپ کا بھی شیطان ہے ؟ آپ نے فرمایا: بالکل، لیکن میرے رب نے میری مدد کی تو وہ مسلمان ہو گیا (مسلم، رقم ۷۲۱۲)۔

ایک شب آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے ہاں استراحت فرمارہے تھے ۔یک دم آپ اٹھے، چادر اور نعلین پاس رکھ لیں۔ حضرت عائشہ کے سونے کا گمان ہوا توچپکے سے چادر اوڑھی ، جوتے پہنے اور ہولے سے دروازہ کھول کر بند کیا۔حضرت عائشہ ابھی بیدار تھیں، انھوں نے بھی ایک چادر سر پر اوڑھی ، گھونگٹ مارا،ایک چادر گرد لپیٹی اور آپ کے پیچھے چل پڑیں۔ آپ جنت البقیع پہنچ کر دیر تک کھڑے رہے،تین بار(دعا کے لیے) ہاتھ اٹھائے، پھر واپسی کا رخ کیا۔ آپ تیز چلے تو حضرت عائشہ بھی تیز چلیں،آپ دوڑے تو وہ بھی دوڑیں۔حضرت عائشہ نے گھر پہنچنے میں سبقت کی ۔وہ لیٹ چکی تھیں، جب آپ حجرے میں داخل ہوئے۔حضرت عائشہ کی کیفیت دیکھ کر پوچھا: کیا بات ہے ،تمھارا سانس اور پیٹ کیوں پھولاہوا ہے؟ انھوں نے کہا:کچھ نہیں، تو فرمایا: مجھے ﷲ ، باریک بین و خبیر خبر کر دے گا۔تب حضرت عائشہ نے ساری بات کھول دی۔فرمایا: میں نے اپنے آگے ایک ہیولا سا دیکھا، وہ تم تھیں۔ انھوں نے ہاں کہا، تو آپ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا جس سے ان کو درد ہوا۔پھر فرمایا:تم سمجھتی تھی کہ ﷲ و رسول تمھارا حق ماریں گے؟ یعنی تمھاری باری کسی اور زوجہ کو دے دیں گے۔ مجھے جبریل علیہ السلام بلانے آئے تھے، انھوں نے تمھیں مخاطب نہیں کیا، کیونکہ تم زائد کپڑے اتار چکی تھی۔میں نے بھی تمھیں سوتا خیال کیا۔ تمھارے لیے بھی رب کا حکم ہے کہ اہل بقیع کے پاس جا کر ان کے لیے دعاے مغفرت کرو۔حضرت عائشہ نے پوچھا: میں کیا دعا کروں؟آپ نے فرمایا: کہنا: ’السلام علی أہل الدیار من المؤمنین والمسلمین ویرحم اللّٰہ المستقدمین منا والمستأخرین وأنا إن شاء اللّٰہ بکم للاحقون‘، ’’مومنوں اور مسلمانوں سے آباد دیار خموشاں کے رہنے والو، تم پر سلامتی ہو۔ﷲ ہم میں سے پہلے رخصت ہوجانے والوں اور بعد میں جانے والوں پر رحم کرے۔ہم بھی جب ﷲ نے چاہا،تم سے آن ملیں گے‘‘ (مسلم، رقم ۲۲۱۶۔ ترمذی، رقم ۷۳۹)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ہم ازواج کی باری مقرر کرنے میں کسی کو ترجیح نہ دیتے تھے۔ کم ہی کوئی ایسا دن ہوتا کہ آپ تمام ازواج کے پاس نہ جاتے، لیکن قربت اسی اہلیہ کی اختیارکرتے جس کے پاس رات بسر کرنا ہوتی۔ سن رسیدہ ہونے کے بعد،آپ کی مفارقت سے بچنے کے لیے سودہ نے کہا:یا رسول ﷲ ، میری باری عائشہ کو دے دیجیے (ابوداؤد، رقم ۲۱۳۵)۔ حضرت عائشہ مزیدبیان کرتی ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم شب باشی اپنی ازواج میں تقسیم کرتے تھے اور اس میں عدل سے کام لیتے تھے۔آپ فرماتے تھے: اے ﷲ ، میری یہ تقسیم اس امرمیں ہے جومیرے دائرۂ اختیار میں ہے۔ محبت و میلان میں مجھے ملامت نہ کرنا جو تیرے اختیار میں ہے اور میرے بس سے باہر ہے(ترمذی، رقم ۱۱۴۰) ۔

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ہر سال رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے۔ فجر کی نماز پڑھا کرآپ اپنی جاے اعتکاف (عارضی خیمے )میں تشریف لے جاتے۔(ایک سال)میں نے بھی اعتکاف کرنے کی اجازت لی اورآپ کے اذن سے ایک خیمہ میرے لیے بھی لگا دیا گیا ۔ حضرت حفصہ اور حضرت زینب نے سنا تو انھوں نے بھی خیمے گاڑ لیے۔ فجر کے بعد آپ تشریف لائے اور چار خیمے لگے دیکھے۔( مسجد تنگ ہونے لگی تھی) فرمایا: یہ کیا ؟ کیا ان کی نیت ثواب کی ہے؟پھرآپ نے خیمے اکھاڑنے کا حکم دیا اور اس برس اعتکاف رمضان ترک کیا۔ عید الفطر کے بعد شوال کاپہلا عشرہ آپ نے قضاے اعتکاف کے لیے مختص کیا(بخاری، رقم ۲۰۴۱۔ مسلم، رقم ۲۷۵۵۔ ابوداؤد، رقم ۲۴۶۴)۔

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں مجھ پر رمضان کے جو روزے قضا ہوئے، ان کو اگلے برس شعبان ہی میں اداکیا کرتی تھی، کیونکہ آپ کی خدمت میں مشغول رہتی تھی (مسلم، رقم ۲۶۵۷۔ ابوداؤد، رقم ۲۳۹۹۔ ترمذی، رقم ۷۸۳) ۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ایک سفرمیں میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ دوڑ لگائی اور آگے نکل گئی ۔کچھ عرصہ بعد مجھ پر فربہی آگئی ،ہم نے دوبارہ دوڑ لگائی تو آپ کو سبقت مل گئی۔فرمایا: یہ تمھاری گذشتہ جیت کا بدلہ ہے(ابوداؤد، رقم۲۵۷۸) ۔

ایک بار حضرت ابوبکر آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے ملنے آئے تو حضرت عائشہ کو بلند آواز میں بولتے سنا۔وہ حجرے میں داخل ہوئے اوراپنی بیٹی کو یہ کہہ کر مارنے کے لیے لپکے کہ میں نے تمھیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے اونچی آوازمیں بولتے کیوں دیکھاہے؟آپ نے انھیں روک لیا تو وہ غصے کی حالت ہی میں چلے گئے۔ان کے جانے کے بعد فرمایا: دیکھا میں نے تمھیں کیسے بچا لیا؟کچھ دن گزرے تھے کہ حضرت ابوبکر پھر آئے تو دیکھا کہ دونوں صلح صفائی سے بیٹھے ہیں۔کہا: تم نے مجھے اب حالت صلح میں،پہلے حالت جنگ میں اپنے گھر میں داخل کیا تھا۔ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یہی بات ہے،ہاں ہم نے ایسا ہی کیا ہے (ابوداؤد، رقم ۴۴۹۹)۔

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک بار رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ایک صحابی کو بلانے کا حکم دیا۔ میں نے ابوبکر ،عمر اور علی کے نام لیے تو فرمایا: نہیں۔ عثمان کا نام لیا تو فرمایا: ہاں۔ وہ آئے تو آپ نے مجھے پرے ہٹنے کو کہا اور ان سے سرگوشی میں کوئی ایسی بات کی کہ ان کے چہرے کا رنگ متغیرہو گیا۔ پھر جب حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا گیاتو انھوں نے اپنی خاطر قتال کرنے سے منع کر دیا اور کہا: رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے (تب)مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا اور میں نے اس کے مطابق صبر کرنے کا فیصلہ کیا ہے (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۵۳۔دلائل النبوۃ۶ /۳۹۱)

حضرت عائشہ کے ذہن میں دوزخ کا خیال آیا تو رونا شروع کر دیا۔رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے پوچھا: تمھیں کیوں رونا آیا؟کہا: مجھے نار جہنم کا خیال آیا تو رونا نکل گیا،کیا روز قیامت آپ اپنے گھر والوں کو یاد رکھیں گے؟ فرمایا: تین مقامات ایسے ہیں کہ کوئی کسی کو یاد نہ رکھے گا: میزان قائم ہوتے وقت، حتیٰ کہ پتا چل جائے کہ ترازو اٹھتا ہے یا برابر ہوتا ہے۔ نامۂ اعمال پکڑاتے وقت، یہاں تک کہ معلوم ہو جائے، دائیں ہاتھ میں دیا جاتا ہے، بائیں ہاتھ میں یا پیٹھ پیچھے سے پکڑایا جاتا ہے اور صراط کی جگہ، جب جہنم کے اوپر کھڑا کر دیا جائے گا(ابوداؤد، رقم ۴۷۵۵) ۔

ایک بار رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تودیکھا کہ حضرت عائشہ رو رہی ہیں۔فرمایا: تمھیں کس بات نے رلا دیا؟ بتایا،مجھے دجال یاد آ گیا تو میں نے رونا شروع کردیا۔آپ نے فرمایا: اگر دجال میری زندگی میں آیا تو میں تم سب کا اس سے دفاع کروں گا (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۴۶۷)۔ حضرت ام سلمہ کی روایت میں اضافہ ہے کہ اگر وہ میری زندگی کے بعد آیا تو ﷲ صالحین کے ذریعے سے تمھارا بچاؤ کرے گا (المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۹۰۷۲) ۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ دو ماہ میں تین چاندطلوع ہوئے، لیکن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے گھروں میں چولہا نہ جلا۔ راوی حدیث عروہ نے پوچھا: خالہ، آپ زندگی کیسے بسر کرتی تھیں؟بتایا: کھجور اور پانی سے یا انصاری پڑوسیوں سے دودھ آجاتا تھا (بخاری، رقم ۲۵۶۷۔ مسلم، رقم ۷۵۶۵)۔دوسری روایت میںآگ نہ سلگنے کی مدت ایک ماہ بیان ہوئی۔ اس روایت میں قلیل مقدار میں گوشت پکنے کا ذکر بھی ہے (بخاری، رقم ۶۴۵۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۳۲)۔

حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے گھر والے دن میں دو بار کھانا کھاتے تو ایک وقت کھجور ہی ہوتی (بخاری، رقم ۶۴۵۵)۔ آپ کا ارشاد ہے: جس گھر میں کھجور ہو ،اس کے مکین بھوکے نہیں رہتے (مسلم، رقم ۵۳۸۶)۔ یہ بھی فرمایا:جس گھر میں کھجورنہ ہو ،اس میں رہنے والے بھوکے رہتے ہیں (ابوداؤد، رقم ۳۸۳۱۔ ترمذی، رقم ۱۸۱۵ ) ۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: آل محمد نے جب سے آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم مدینہ آئے اور آپ کی وفات ہوئی، گندم کی روٹی لگاتار تین دن بھی نہیں کھائی (بخاری، رقم ۵۴۱۶)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں:رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد میرے گھر کے طاق میں پڑی جو کی ایک تھیلی کے علاوہ کھانے کی کوئی شے نہ تھی۔ میں کئی دن یہ جوکھاتی رہی ،(از راہ تجسس )میں نے اس کی مقدار جانچنے کی کوشش کی تو وہ جلدختم ہو گیا(بخاری، رقم ۳۰۹۷۔ ترمذی، رقم ۲۴۶۷) ۔

رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے قربانی کے لیے ایک سینگوں والا مینڈھا منگوایاجو چلنے ،بیٹھنے اور دیکھنے میں سیاہ نظر آتا تھا، یعنی اس کے پاؤں، پیٹ اور آنکھوں کے گرد والا حصہ سیاہ تھے۔ارشاد کیا: عائشہ، چھری لاؤ۔ پھر فرمایا: اسے پتھر سے رگڑو۔حضرت عائشہ نے چھری تیز کر کے آپ کو دی تو آپ نے میندھے کو پہلو کے بل لٹایا اور ’باسم اللّٰہ، اللّٰہم تقبل من محمد و آل محمد و من أمۃ محمد‘ (ﷲ کے نام پر ذبح کرتا ہوں۔اے ﷲ ، محمد کی طرف سے، ان کی آل اور امت کی طرف سے قبول کرلے) پڑھتے ہوئے ذبح فرمادیا (مسلم، رقم ۵۱۳۲۔ ابوداؤد، رقم ۲۷۹۲)۔

عابس بن ربیعہ نے حضرت عائشہ سے سوال کیا کہ کیا نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ عیدالاضحی کی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھایا جائے؟ انھوں نے جواب دیا: آپ نے ایسا حکم ارشاد کیا، جب لوگ قحط کا شکار تھے اور دیہات کے فاقہ کش عید الاضحٰی منانے مدینہ چلے آئے تھے ۔آپ نے تین دن کی پابندی لگائی تاکہ مدینہ کے لوگ زائد گوشت ان غریبوں کو کھلا دیں۔ ہمارا حال تویہ تھا کہ قربانی کے پائے سنبھال کر رکھتے اور کہیں پندرہ دن کے بعد کھاتے تھے۔پوچھا گیا: ایسی کیا مجبوری ہوتی تھی؟حضرت عائشہ ہنسیں اور کہا:حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی برابر تین دن تک گیہوں کی روٹی اور سالن پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔اسی حالت میں آپ کی وفات ہوئی (بخاری، رقم ۵۴۲۳)۔ حضرت عائشہ کی دوسری روایت اس طرح ہے: جب اگلا برس آیا،آپ سے درخواست کی گئی: یارسول ﷲ ، لوگ قربانی کیے ہوئے جانوروں سے بہت فائدہ اٹھایا کرتے تھے،ان کی چربی اکٹھی کر تے اور ان کی کھالوں کی مشکیں بنالیتے تھے۔فرمایا: میں نے تومدینہ میں آنے والے خانہ بدوشوں(اورخشک سالی) کی خاطر منع کیا تھا۔اب گوشت کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو (بخاری، رقم ۵۵۶۹۔ مسلم، رقم ۵۱۴۴۔ ابوداؤد، رقم ۲۸۱۲)۔

حضرت نسیبہ (ام عطیہ ) انصاریہ کے پاس صدقے کی ایک بکری آئی تو انھوں نے حضرت عائشہ کوبھیج دی۔ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم گھر آئے تو کھانے کا پوچھا۔حضرت عائشہ نے بتایا: خیرات کی اسی بکری کا گوشت ہے جو نسیبہ نے بھیجا۔ آپ نے فرمایا: لاؤ !اب اس کا کھانا درست ہو گیا ہے، (یعنی ہمارے لیے وہ صدقہ نہیں رہا ،ہدیہ بن گیا ہے۔ بخاری، رقم ۱۴۴۶۔ مسلم، رقم ۲۴۵۷)۔

رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا ایک ہم سایہ ایرانی تھاجوشوربا بہت اچھابناتا تھا۔ایک دفعہ اس نے شوربا تیار کیا اور آپ کو کھانے کی دعوت دینے آیا۔ آپ نے پوچھا : کیا عائشہ کے لیے بھی ہے؟ کہا: نہیں، فرمایا: تو میں نہیں آتا۔ دوسری بار بھی یہی مکالمہ ہوا۔ تیسری بار وہ دعوت طعام دینے آیاتو آپ کے استفسار پر بولا: ہاں ،عائشہ کو بھی دعوت ہے۔ تب آپ جانے کے لیے لپکے (مسلم، رقم ۵۳۶۲)۔ حضرت عائشہ بھی اس شوربے میں رغبت رکھتی تھیں۔ قاضی عیاض کہتے ہیں: ممکن ہے کہ ایرانی نے اکیلے آپ کے کھانے کا اہتمام کیا ہو، اس لیے وہ حضرت عائشہ کو بلانے میں متامل ہوا، تاہم شبیر احمد عثمانی کا خیال ہے کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ حضرت عائشہ کے بارے میں سوء ظن کا شکار ہو،اسی لیے آپ نے ان کی شمولیت پر اصرار کیا۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں نے ایک تکیہ خریدا جس پر تصاویربنی ہوئی تھیں۔رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے رہے اور اندر تشریف نہ لائے۔میں نے چہرۂ مبارک پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو توبہ کی اور پوچھا: مجھ سے کیا گناہ سرزد ہوا؟سوال فرمایا:یہ تکیہ کیسا ہے؟میں نے کہا: یہ میں نے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس سے ٹیک لگائیں۔ آپ نے فرمایا: روز قیامت تصاویر رکھنے والوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ اپنی بنائی ہوئی تصویروں میں جان ڈالو۔ جس گھر میں تصویریں ہوں ، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے (بخاری، رقم ۲۱۰۵۔ مسلم، رقم ۵۵۸۴)۔ اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ حضرت عائشہ ہی نے اس طرح بیان کیا ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تشریف لے گئے تھے۔میں نے آپ کی غیرموجودگی میں اپنے حجرے کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا دیا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ آپ واپس لوٹے تو میں نے سلام کیا اورکہا: ﷲ کا شکر ہے جس نے آپ کو عزت و اکرام سے نوازا۔ آپ نے پردے کو دیکھا اور سلام کا جواب بھی نہ دیا۔پھر اسے اتار پھینکا اور فرمایا: ﷲ نے ہمیں حکم نہیں دیا کہ اس کے دیے ہوئے رزق سے پتھروں اور اینٹوں کو جامہ پہنائیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے پردے کو پھاڑ کر اس کے دو گدے(یا تکیے) بنا ڈالے جو گھر میں پڑے رہے اور آپ ا ن پر بیٹھا کرتے (بخاری، رقم ۲۴۷۹۔ مسلم، رقم ۵۵۷۱۔ ابوداؤد، رقم ۴۱۵۳)۔ دونوں احادیث کو ملا کر غور کیا جائے توپتا چلتا ہے کہ تصاویر مقام اہانت میں ہوں تو شریعت ان سے تعرض نہیں کرتی۔عینی کہتے ہیں کہ غالب امکان ہے کہ گدے بناتے ہوئے وہ تصویریں کٹ پھٹ گئی ہوں۔

ایک روایت کے مطابق حضرت عائشہ نے گھر کے ایک طرف ایک پردہ لٹکا رکھا تھا(جس پر تصاویر نقش تھیں)۔ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ہٹا دو، اس پردے کی مورتیں مجھے دنیا یاددلاتی ہیں اور نماز کی یکسوئی میں خلل ڈالتی ہیں (بخاری، رقم ۵۹۵۹۔ مسلم، رقم ۵۵۷۲۔ ترمذی، رقم ۲۴۶۸)۔ حضرت عائشہ ہی کی دوسری روایت کے مطابق آپ نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، فرمایا: یہ نقش ونگار میرا دھیان بٹاتے ہیں۔ ابوجہم عامر بن حذیفہ کی تحفہ کی ہوئی یہ چادر واپس دے آؤاور مجھے ان کا انبجان (شام کا ایک مقام ،دوسرا نام :منبج) کا بنا ہواسادہ کمبل لا دو (مسلم، رقم ۱۱۷۵۔ ابوداؤد، رقم ۹۱۴)۔ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کا نماز میں کیا دھیان ہو گا ،اس کے باوجود آپ نے منقوش و مصور اشیا کا پاس سے ہٹانا ضروری خیال فرمایا۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جبریل علیہ السلام نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کے لیے ایک وقت متعین کیا۔ معینہ وقت ہوگیا، لیکن جبریل علیہ السلام نہ آئے۔ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی،اسے پھینکا اورفرمایا: ﷲ اور اس کے فرشتے وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ (آپ نے ان کے نہ آنے کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی تو )پتا چلا کہ آپ کی چارپائی کے نیچے کتے کا پلا ہے۔ حضرت عائشہ سے پوچھا: یہ کتا یہاں کب گھس آیا؟ بتایا: وﷲ !مجھے علم نہیں۔ آپ کے حکم پر اسے نکال دیاگیا تو جبریل آئے اور کہا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا مورت ہو (مسلم، رقم ۵۵۶۲)۔ ایسی ہی روایت ام المومنین حضرت میمونہ سے بھی مروی ہے (مسلم، رقم ۵۵۶۴)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے ہاتھ میں چاندی کی بڑی بڑی انگوٹھیاں دیکھ کر پوچھا: عائشہ، یہ کیا؟کہا: یا رسول ﷲ ، یہ میں نے آپ کے سامنے زیب و زینت اختیارکرنے کے لیے بنوائی ہیں۔ کیا تم نے ان کی زکوٰ ۃ اداکر دی ہے؟ سوال فرمایا، جواب ملا: نہیں۔ فرمایا:یہ جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہیں (ابوداؤد، رقم ۱۵۶۵)۔

دختر رسول حضرت فاطمہ کے ہاتھ چکی پیستے پیستے پھٹ گئے تھے۔ انھیں معلوم ہوا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس کچھ جنگی قیدی آئے ہیں تو آپ سے ایک خادم کا تقاضا کیا۔آپ نے ان کی بات نہ مانی تو حضرت عائشہ نے ان کی سفارش کی ۔ آپ رات کے وقت ان کے پاس تشریف لائے تویہ بستر میں پڑی تھیں۔ فرمایا: ’’جب سونے کے لیے بستر میں داخل ہو تو چونتیس دفعہ ’اللّٰہ أکبر‘، تینتیس بار ’الحمد للّٰہ‘ اور تینتیس دفعہ ’سبحان اللّٰہ‘ کہہ لو۔ یہ تمھارے مطالبے سے بہتر ہے‘‘ (بخاری، رقم ۳۱۱۳۔ مسلم، رقم ۷۰۱۵۔ ابوداؤد، رقم ۵۰۶۲)۔ ابن سیرین کی روایت کے مطابق’اللّٰہ أکبر‘ اور ’الحمد للّٰہ‘ تینتیس تینتیس بار اور ’سبحان اللّٰہ‘ چونتیس بار کہنا چاہیے (بخاری، رقم ۶۳۱۸)۔

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک بار رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم گھر آئے تو بڑے مسرور تھے ،آپ کا چہرہ دمک رہا تھا۔ فرمایا: تم نے سنا نہیں! قیافہ شناس مجزز مدلجی نے زید اور اسامہ کے بارے میں کیا کہا؟اس نے ان کے پاؤں دیکھے اور کہا: یہ دونوں پاؤں ایک دوسرے سے گہرا (نسبی) تعلق رکھتے ہیں (بخاری، رقم ۶۷۷۰۔ مسلم، رقم ۳۶۰۸۔ ابوداؤد، رقم ۲۲۶۷۔ ترمذی، رقم ۲۱۲۹) ۔

حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے بچھو ،نظر بد اور پھپھولوں (چھاتی پر نکلنے والے آبلے یا eruptions جیسے herpes zoster) سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت عطا فرمائی (ترمذی، رقم ۲۰۵۶) توربشتی کہتے ہیں کہ یہ اجازت ممانعت کے بعد دی گئی، جب اہل اسلام نے جھاڑ پھونک کے لیے استعمال ہونے والے جاہلانہ اور مشرکانہ کلمات ترک کر دیے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مجھے نظر بدکا دم کرنے کا حکم ارشاد کرتے تھے (بخاری، رقم ۵۷۳۸۔ مسلم، رقم ۵۷۷۳۔ ابن ماجہ، رقم ۵۵۵۷)۔ حضرت عائشہ ہی کی دوسری روایت سے دم کرنے کا طریقہ پتا چلتا ہے کہ جس کی نظر لگے ،اسے وضوکرنے کو کہا جاتا ہے، پھر بقیہ پانی سے نظر سے متاثرہ شخص کو نہانے کو کہاجاتا ہے اور اس کے لیے دعا کی جاتی ہے (ابوداؤد، رقم ۳۸۸۰)۔ شاہ ولی ﷲ دہلوی اور مولانا امین احسن اصلاحی کہتے ہیں کہ اس روایت میں بیان کردہ عمل مستند ہے، لیکن ابن شہاب زہری نے اس پر جن ٹوٹکوں کا اضافہ کیا ہے، وہ یقیناً اوہام اور جبت ہیں۔

ایک بار نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اصحاب صفہ کو حضرت عائشہ کے گھر لے گئے ۔حضرت طخفہ بن قیس غفاری ان میں شامل تھے۔ فرمایا: عائشہ، ہمیں کھانا کھلاؤ۔ حضرت عائشہ نے گندم ،گوشت او ر کھجوروں سے بنا ہوا دلیا (حشیشۃ، تھولی) پیش کیا۔اسے کھانے کے بعد آپ نے مزید طلب فرمایاتو وہ چکھنے کے لیے کھجور، ستو اور گھی سے بنایا ہوا حلوہ (حیسۃ) لے کر آئیں۔اب نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:کچھ پلا بھی دو۔حضرت عائشہ نے دودھ کا بڑا، پھر چھوٹاپیالہ بھیجا۔طعام سے فارغ ہونے کے بعد اصحاب صفہ مسجد نبوی میں جا کر لیٹ گئے۔حضرت طخفہ چھاتی میں درد کی وجہ سے پیٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے کہ آپ نے انھیں ٹہوکا دے کر فرمایا:اس طرح لیٹنے سے ﷲ ناراض ہوتا ہے (ابوداؤد، رقم ۵۰۴۰) ۔

حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہم ازواج سے فرمایا: میں اپنے بعد تمھاری بہت فکر رکھتا ہوں۔ تمھارا حق اہل صبر ہی ادا کر سکیں گے۔ پھر ارشاد کیا: ’’میرے بعدیہ سچا اور نیک انسان، عبدالرحمن تمھارے ساتھ شفقت سے پیش آئے گا۔ اے ﷲ ! عبدالرحمن کوجنت کے چشمۂ سلسبیل سے سیراب کر‘‘ (ترمذی، رقم ۳۷۴۹۔ مستدرک حاکم، رقم ۵۳۵۷)۔

ایک بار رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کم سن حضرت اسامہ کی ناک کی رینٹ صاف کرنے لگے تو حضرت عائشہ نے کہا: آپ رہنے دیں، میں پونچھ دیتی ہوں۔ فرمایا: عائشہ، اسامہ سے محبت کرو کیونکہ میں اس کو محبوب رکھتا ہوں (ترمذی، رقم ۳۸۱۸)۔

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)،الجامع المسند الصحیح المختصر (بخاری، شرکۃ دار الارقم) المسند الصحیح المختصر من السنن (مسلم، شرکۃ دار الارقم)، تاریخ الامم والملوک (طبری)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم (ابن جوزی)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ (ابن اثیر)، سیراعلام النبلاء (ذہبی)، البدایۃ والنہایۃ (ابن کثیر)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (مقالہ، امین ﷲ وثیر)۔

[باقی]

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List