Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Dr. Waseem Mufti Profile

Dr. Waseem Mufti

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (۱۱) | اشراق
Font size +/-

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (۱۱)

آداب زندگی
حضرت عائشہ فرماتی ہیں: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ کسی بھی مجلس سے اٹھنے سے پہلے دعا فرماتے: ’سبحٰنک اللّٰہم ربي و بحمدک لا إلٰہ إلا أنت، أستغفرک و أتوب إلیک‘، ’’پاک ہے تو اے اﷲ، میرے رب، تیری حمد ہی سے(شروع اور ختم کرتا ہوں)،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،میں تمھاری بخشش کا طالب ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں‘‘۔ میں نے پوچھا: یا رسول اﷲ، آپ نشست برخاست ہونے پر عام طور پر یہی کلمات کیوں ادا فرماتے ہیں؟ ارشاد کیا: جوبھی مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کلمات کہتا ہے،اس مجلس میں اس سے سرزد ہوئے گناہ معاف ہو جاتے ہیں (مستدرک حاکم، رقم ۱۸۲۷۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۴۴۴۵)۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں:نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کوجب کوئی سہل معاملہ پیش آتا تو فرماتے: ’الحمد للّٰہ بنعمتہ تتم الصالحات‘، ’’شکر ہے اس اﷲ کا جس کی عنایت سے بھلائیوں کی تکمیل ہوتی ہے‘‘۔ جب ناگوار امر لاحق ہوتا تو فرماتے: ’الحمد للّٰہ علی کل حال‘، شکر ہے اﷲ کا ہر حالت میں (مستدرک حاکم، رقم ۱۸۴۰)۔
حضرت عائشہ نے استفسار کیا: یا رسول اﷲ، میرے دوہم سایے ہیں، ہدیہ کس کو بھیجوں؟فرمایا: جس کا دروازہ تمھارے دروازے کے قریب ہے (بخاری، رقم ۲۲۵۹۔ ابوداؤد، رقم ۵۱۵۵۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۴۲۳۔ مستدرک حاکم، رقم ۷۳۰۹)۔
حضرت عائشہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے (ان)متعدد مسکینوں کی گنتی کی (جنھیں صدقات دیے گئے)۔ آپ نے فرمایا: صدقہ دے دو اور شمار نہ کرو، کہیں تمھارارزق نہ شمار کر لیا جائے (ابوداؤد، رقم ۱۷۰۰)۔ ایک بار حضرت عائشہ نے ایک سوالی کو کچھ دیا، لیکن پھر اسے بلا کر تحقیق کی۔رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم پاس بیٹھے تھے ، فرمایا: تو چاہتی ہے کہ گھر میں آنے جانے والی ہر شے تمھارے علم میں رہے؟ جواب دیا: ہاں۔ فرمایا: ٹھیرو، عائشہ، گن گن کر نہ دو، کہیں اﷲ تمھیں گن کرنہ دینے لگے (نسائی، رقم ۲۵۵۰۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۴۱۸) ۔
حضرت عائشہ اہل صفہ کے لیے کچھ نہ کچھ صدقہ بھیجا کرتی تھیں۔ کہتیں: ان میں کسی بربری مرد یا عورت کو نہ دینا، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایاتھا ،یہ وہ ناخلف ہیں جن کے بارے میں اﷲکا ارشاد ہے: ’فَخَلَفَ مِنْ م بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ‘، ’’ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنھوں نے نمازضائع کر دی‘‘ (مریم ۱۹: ۵۹)۔ (مستدرک حاکم، رقم ۲۹۶۳) ۔
حضرت عائشہ نے سوال کیا: یا رسول اﷲ، وہ کون سی شے ہے جس سے انکار کرنا جائز نہیں۔فرمایا: پانی ،نمک اور آگ۔ کہا: یا رسول اﷲ، پانی کی بات تو سمجھ میں آتی ہے۔ نمک اور آگ کا کیا معاملہ ہے؟آپ نے جواب فرمایا: حمیرا، جس نے آگ دے دی، گویا اس نے آگ سے پکانے والی ہر شے دے دی۔جس نے نمک دیا ، گویا اس نے نمک کا ذائقہ رکھنے والی تمام اشیا دیں۔جس نے کسی مسلمان کو پانی پلایا،ایسی جگہ پر جہاں پانی موجود تھا ،گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا اورجس نے مسلمان کو پانی پلایا،ایسی جگہ جہاں پانی موجودہی نہ تھا ،گویا اس نے اسے زندگی بخشی (ابن ماجہ، رقم ۲۴۷۴)۔
ایک سوالی حضرت عائشہ کے پاس آیا۔انھوں نے اسے روٹی کا ایک ٹکڑا دے دیا۔پھر ایک آدمی گزرا جس کی ہےئت اور لباس اچھا تھا۔انھوں نے اسے بٹھا لیا ۔وہ کھانا کھا کر رخصت ہوا تو معترض نے پوچھا: یہ فرق کیوں؟ کہا: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: لوگوں کی تواضع ان کے مرتبے کے مطابق کرو (ابوداؤد، رقم ۴۸۴۲)۔
آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس گوہ کا گوشت آیاتو آپ نے نہ کھایا،حضرت عائشہ نے کہا: ہم اسے مسکینوں کو نہ کھلا دیں۔ آپ نے فرمایا: انھیں وہ شے نہ کھلاؤ جو تم خود نہیں کھاتے (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۱۱۰۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۹۴۲۶)۔ محدثین نے روایت کے دوسرے جملے کوغیرصحیح قرار دیا ہے۔
عبداﷲ بن عامر نے حضرت عائشہ کوکچھ نقدی اور کپڑے بھیجے۔انھوں نے کہا: بچے، میں کسی سے تحفہ قبول نہیں کرتی۔ جب ہدیے لانے والا واپس ہونے لگا تو کہا: لے آؤ، واپس لے آؤ۔مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ایک بات یاد آگئی ہے۔آپ نے فرمایا تھا: عائشہ، جب کوئی بغیر مانگے تمھیں کچھ دے تو قبول کر لو۔اصل میں یہ رزق ہے جو اﷲ نے تمھیں بھیجا ہے (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۴۸۰)۔
حضرت عائشہ سے سوال کیا گیا: کیا اپنی پرورش میں رہے ہوئے یتیم کی کمائی کھائی جا سکتی ہے؟انھوں نے جواب دیا: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان ہے: انسان کی سب سے عمدہ روزی اس کی اپنی محنت کی کمائی ہے اوراس کی اولاد بھی اس کی محنت کا ثمر ہے (ابوداؤد، رقم ۳۵۲۸۔ نسائی، رقم ۴۴۵۴۔ ابن ماجہ، رقم ۲۱۳۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۰۳۲۔ مستدرک حاکم، رقم ۲۲۹۴)۔
نافع کہتے ہیں: میں سامان تجارت شام اور مصر کوبھیجا کرتا تھا۔ایک بار میں نے عراق لے جانے کا ارادہ کیا، حضرت عائشہ کو بتانے آیا تو انھوں نے کہا: ایسا نہ کرو،تمھاری پہلی منڈی کا کیا ہوا؟ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، جب اﷲ نے کسی جگہ تمھارے رزق کا سبب بنایا ہو تو اسے نہ چھوڑو جب تک اس میں کوئی تغیر یا خرابی پیدانہ ہو (ابن ماجہ، رقم ۲۱۴۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۶۰۹۲)۔اس روایت کوضعیف بتایا گیا ہے۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں:بریرہ کی زندگی سے تین سنتیں یا شرعی احکام معلوم ہوئے: (۱) آزاد کیے جانے کے بعد اسے اپنے خاوند کے نکاح میں رہنے یا نہ رہنے کی آزادی دی گئی۔ (۲) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کے قضیے میں یہ فیصلہ فرمایا، حق وراثت (موالات) اسی کا ہے جو آزاد کرتا ہے۔ (۳) آپ گھر تشریف لائے تو آگ پر ہنڈیا دھری تھی۔ آپ کو روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا تودریافت فرمایا: کیا بات ہے ہنڈیاوالا سالن نظر نہیں آرہا؟ بتایا گیا، اس میں بریرہ کو ملنے والا صدقے کا گوشت ہے جو آپ نہیں کھاتے۔ فرمایا: وہ اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے (بخاری، رقم ۵۰۹۷۔ مسلم، رقم ۳۷۷۴۔ نسائی، رقم ۳۴۷۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۱۸۷)۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: اگر بریرہ کا خاوندمغیث آزاد ہوتا تو آپ اسے خاوند چھوڑنے کا اختیار نہ دیتے (ابوداؤد، رقم ۲۲۳۳۔ ترمذی، رقم ۱۱۵۴)۔
حضرت عائشہ کے ایک رشتہ دار پر نزع کا عالم طاری تھا۔نبی صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے اور انھیں تسلی دی، نزع کی سختی پر رنجیدہ نہ ہو۔ جانے والے کی نیکیاں ہی اس کا سبب ہیں (ابن ماجہ، رقم ۱۴۵۱)۔ یعنی اس وقت کی تکلیف سے رہے سہے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
ام المومنین حضرت ام حبیبہ نے وفات(۴۴ھ ) کے وقت حضرت عائشہ کو بلایااور کہا: اﷲ سے دعا ہے کہ ہمارے مابین رہنے والی سوتنوں والی خلش کومعاف فرمائے۔ میں نے آپ کی تمام باتوں سے درگذر کر لیا ہے۔حضرت عائشہ نے جواب دیا: آپ نے مجھے خوش کر دیا ہے۔اﷲ آپ کو خوش کرے۔ پھر حضرت ام حبیبہ اور ام المومنین حضرت ام سلمہ کے درمیان بھی ایسا ہی مکالمہ ہوا (مستدرک حاکم، رقم ۶۷۷۳) ۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ایک عورت کسی کافر کواہل ایمان کی جانب سے پناہ دے تو وہ جائز اور نافذ ہو گی (ابوداؤد، رقم ۲۷۶۴)۔ جیسا کہ حضرت ام ہانی نے فتح مکہ کے موقع پر ایک مشرک کو پناہ دی تو آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے جسے پناہ دی، ہم نے بھی اسے امان دیا (ابوداؤد، ر قم ۲۷۶۳)۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں: اس امت نے اﷲ کے اس فرمان سے جیسی بے پروائی برتی ہے،میں نے کسی اور معاملے میں نہیں دیکھی: ’وَاِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا فَاِنْم بَغَتْ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓءَ اِلآی اَمْرِ اللّٰہِ‘، ’’اگر اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کر رہا ہو تو اس زیادتی کرنے والے سے قتال کرو، حتیٰ کہ وہ اﷲ کے فیصلے کی طرف لوٹ آئے‘‘ (الحجرات ۴۹: ۹)۔ (مستدرک حاکم، رقم ۲۶۶۴۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۶۷۰۷)۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں: نبی صلی اﷲعلیہ وسلم کی ایک اہلیہ کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا۔لوگ اسے ان مردوں میں شمار کرتے تھے جن کا جنس مخالف کی طرف میلان نہیں ہوتا۔ایک روز نبی صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے تووہ کسی عورت کی برائی کر رہا تھا کہ جب وہ آگے جاتی ہے تو موٹاپے کی وجہ سے اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں اور واپس مڑتی ہے تویہ بل آٹھ ہو جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا: یہ جانتا ہے کہ پیٹ میں کیا ہوتا ہے ،تمھارے پاس ہر گز نہ آئے چنانچہ ازواج مطہرات نے اس سے پردہ کرنا شروع کر دیا (مسلم، رقم ۵۷۴۲۔ ابوداؤد، رقم ۴۱۰۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۱۸۵)۔
ارشاد ربانی ہے: ’لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌْ‘، ’’اﷲ تمھاری بے معنی قسموں پر تم سے پوچھ گچھ نہ کرے گا، مگر وہ ان قسموں کی ضرورتم سے بازپرس کرے گا جو تم سچے دل سے کھاتے ہو ،اور اﷲ بہت درگذر کرنے والا اورتحمل والا ہے‘‘ (البقرہ۲: ۲۲۵)۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: اس فرمان کااطلاق لوگوں کے اس طرح کے اقوال ’لا، واللّٰہ!‘ نہیں ،اﷲ کی قسم!، ’بلی، واللّٰہ!‘ کیوں نہیں ،اﷲ قسم!پر ہوتا ہے (بخاری، رقم ۶۶۶۳)۔ کئی لوگ قسموں کو تکیہ کلام بنا لیتے ہیں ، کچھ لوگ کھیل کود یا لڑائی جھگڑے میں قسموں کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ اﷲ تعالیٰ نے انھیں چھوٹ عطا کی، تاہم ایک مومن کو دوسرے لا یعنی کاموں کی طرح لغو قسموں سے بھی پرہیز کرناچا ہیے۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں: نبی صلی اﷲ علیہ وسلم برے مفہوم کے حامل انسانی ناموں کو بدل دیا کرتے تھے (ترمذی، رقم ۲۸۳۹)۔ جیسے آپ نے عاصیہ (مفہوم: گناہ گار) کو جمیلہ (مطلب: خوب صورت) سے تبدیل فرمایا (ترمذی، رقم ۲۸۳۸)۔ آپ کااپنے نواسے حرب (جنگ)کا نام حسن (خوب صورت) سے بدلنابھی اس کی مثال ہے۔ حضرت خدیجہ کے زمانے میں آنے والی عورت حضرت جثامہ (کند ذہن)مزنیہ آپ سے ملنے آئیں تو آپ نے ان کا نام حسانہ (انتہائی خوب صورت) مزنیہ کر دیا (مستدرک حاکم، رقم ۴۰) ۔
حضرت عائشہ کا لحاف (یاگلو بند)چوری ہو گیا تو وہ چورکوبددعا دینے لگیں۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: بددعا دے کر اس کے گناہ و عذاب میں تخفیف نہ کرو (ابوداؤد، رقم ۱۴۹۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۷۹۸)۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے کسی کی نقل اتاری تو آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کسی انسان کی نقل اتارنا پسند نہ کروں، چاہے اس کا کتنا ہی صلہ ملے (ابو داؤد، رقم ۴۸۷۵۔ ترمذی، رقم ۲۵۰۲۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۹۶۴) ۔
حضرت عائشہ اونٹ پر سوار ،نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے شریک سفر تھیں۔اثنائے سفر میں انھوں نے اونٹ پرلعنت بھیجی تو آپ نے وہ اونٹ واپس بھیجنے کا حکم دیا اور فرمایا: کوئی شے ملعون میرے ساتھ سفر نہ کرے (مسلم، رقم ۷۴۳۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۴۳۴)۔ مسلم کی روایت میں اونٹ کو لعنت ملامت کرنے والے کسی صحابی کا ذکر کیا گیا ہے جن کا نام نہیں بتایا گیا۔ انھیں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہی حکم ارشاد کیا۔
مسائل طہارت
حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم نے پیشاب پاخانے سے فارغ ہونے کے بعد پانی استعمال نہ کیا ہو (ابن ماجہ، رقم ۳۵۴)۔ پرانے زمانے میں مٹی کے ڈھیلوں سے استنجا کیا جاتا تھا، آج کل اس مقصد کے لیے ٹشو پیپر استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن کامل طہارت پانی ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
حضرت حذیفہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا (بخاری، رقم ۲۲۴۔ نسائی، رقم ۲۶۔ ابن ماجہ، رقم ۳۰۶)۔ لیکن حضرت عائشہ اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’’ جو شخص یہ کہتا ہے، اس کو سچا ہی نہ سمجھو۔ آپ ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کیا کرتے تھے (ترمذی، رقم ۱۲۔نسائی، رقم ۲۹۔ ابن ماجہ، رقم۳۰۷۔موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۰۴۵۔ مستدرک حاکم، رقم ۶۴۴)۔ امام نسائی نے کتاب طہارت کے جو عنوانات قائم کیے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے، حضرت عائشہ کا مشاہدہ گھر کی حد تک تھا۔ لہٰذا ان کی تنقید درست تھی۔ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت محض صحرا میں استثنائی حالات تک محدود ہے۔
حضرت عائشہ نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا بیان اس طرح کیا،آپ پہلے دونوں ہاتھ دھوتے پھر برتن سے پانی لے کر شرم گاہ دھوتے اور نماز والا وضو کرتے، پھر انگلیوں سے بالوں کی جڑوں کو اچھی طرح تر کرتے، سر پر تین چلو بھر کر پانی ڈالتے اورپھر تمام جسم پرپانی بہا دیتے (بخاری، رقم ۲۴۸۔ مسلم، رقم ۶۴۴۔ ترمذی، رقم ۱۰۴۔ نسائی، رقم ۴۲۰۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۵۷)۔ حضرت میمونہ کی روایت میں ہے، پاؤں آپ آخر میں ذرا ہٹ کریا غسل خانے سے باہر نکل کر دھوتے (بخاری، رقم۲۴۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۳۷۰)۔ اس طرح غسل کر لینے کے بعدآپ وضو نہ کرتے (ترمذی، رقم ۱۰۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۳۸۹)۔ حضرت عائشہ کی اس روایت کی بنیاد پر امام ابوحنیفہ اورامام شافعی غسل سے پہلے وضو کو سنت قرار دیتے ہیں،امام مالک اسے مستحب سمجھتے ہیں۔ابن حزم کی راے ہے، ابتداے غسل جنابت میں وضو کرنا فرض ہے۔انور شاہ کشمیری کہتے ہیں: اس وضو میں سر کا مسح کرنا ضروری ہو گا۔ پاؤں، البتہ حضرت میمونہ کی روایت پر عمل کرتے ہوئے غسل کے اختتام پر دھوئے جا سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ کی ایک روایت میں نماز والے وضو کا نام نہیں لیاگیا۔اس میں پہلے شرم گاہ اور ہاتھ دھونے پھر کلی کرنے، ناک میں پانی چڑھانے اور پھر سر اور جسم پر پانی بہانے کا ذکر ہے (نسائی، رقم ۲۴۴۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۲۸۳)۔
نخع کا ایک شخص حضرت عائشہ کے ہاں مہمان ہوا۔انھوں نے اس کے سونے کے لیے ایک زردچادر بھیجی۔اسے احتلام ہو گیا توچادر پانی سے دھوکر واپس کی۔ حضرت عائشہ نے کہا: ہماری چادرخراب کیوں کی؟ اسے انگلی سے کھرچ دینا کافی تھا۔ میں اکثر نبی صلی اﷲعلیہ وسلم کے کپڑوں کے داغ انگلیوں سے رگڑ دیتی تھی (مسلم، رقم ۵۹۵۔ ترمذی، رقم ۱۱۶۔ ابن ماجہ، رقم ۵۳۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۱۵۸)۔ حضرت عائشہ ہی کی دوسری روایت میں دھونے کا ذکر ہے۔ فرماتی ہیں: ’’میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے کپڑوں سے اثر جنابت دھو دیتی تھی۔ آپ نماز پڑھانے کے لیے جاتے تو جگہ جگہ سے گیلا کپڑا نظر آرہا ہوتا‘‘ (بخاری، رقم ۲۲۹۔ مسلم، رقم ۵۹۴۔ ترمذی، رقم ۱۱۷۔ نسائی، رقم۲۹۶۔ ابن ماجہ،ر قم ۵۳۶) ۔
عورتیں ڈبیا میں رطوبت حیض سے تر پھاہے ڈال کر حضرت عائشہ کے پاس بھیجتیں ۔اگر ان میں زردی ہوتی تو کہتیں: جلدی نہ کرو، حتیٰ کہ چونے جیسی سفیدی نمایاں ہو جائے (بخاری، کتاب الحیض،باب ۱۹)۔
ایک انصاریہ نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے استفسار کیا ، میں حیض سے پاکی کیسے حاصل کروں؟آپ نے فرمایا: مشک میں بسا ہوا ایک کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کرو (اور غسل مکمل کرلو)۔پھر آپ نے شرما کر رخ مبارک پھیر لیا۔ سیدہ عائشہ نے اس عورت کو پکڑ کر کھینچ لیا اور بتایاکہ اس کپڑے کو جسم کے خون آلودہ حصوں پر پھیر لو (اور پورے جسم پر پانی بہا لو) (بخاری، رقم ۳۱۴، ۳۱۵۔ نسائی، رقم ۴۲۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۹۰۷)۔ دوسری روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: پہلے پانی اور بیری کے پتوں (آج کل صابن) سے( نیچے والا جسم) اچھی طرح د ھوئے پھر سر پرپانی ڈالے اور خوب ملے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے۔پھر اپنے اوپر( تمام بدن پر) پانی ڈالے، پھر ایک مشک لگا ہوا پھاہامل کر پاکی مکمل کرے (مسلم، رقم ۶۷۶۔ ابوداؤد، رقم ۳۱۴۔ ابن ماجہ، رقم ۶۴۲۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۱۴۵)۔
شام کے شہر حمص کی عورتیں حضرت عائشہ سے ملنے آئیں تو انھوں نے کہا: تم وہ عورتیں ہو جو حماموں میں جاتی ہو۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کہیں کپڑے اتارے،اس نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان حائل پردہ اتار پھینکا (ترمذی، رقم ۲۸۰۳۔ ابن ماجہ، رقم ۳۷۵۰۔ مستدرک حاکم، رقم ۷۷۸۰)۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے پہلے مردوں کو بھی حماموں میں جانے سے منع فرمایا تھا، پھر انھیں تہ بند پہن کر جانے کی اجازت دے دی (ابن ماجہ، رقم۳۷۴۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۰۰۶)۔
ممیزات حضرت عائشہ
حضرت عائشہ ایک خصلت اپناتیں تو اس پر قائم رہتیں۔
حضرت عائشہ کے پاس قرآن مجیدکا ایک قلمی نسخہ تھاجو انھوں نے اپنے غلام ابویونس سے لکھوایا تھا۔
مسجد نبوی کا وہ گوشہ جو حضرت عائشہ کے حجرے سے متصل تھا، اپنے دور کی عظیم درس گاہ تھی۔ عورتیں، وہ لڑکے اور مرد جن کا حضرت عائشہ سے پردہ نہ تھا، حجرہ کے اندر آ کر بیٹھتے۔ دیگر حضرات پردے کے باہر ہوتے۔ سوالات و جوابات کا سلسلہ شروع ہوتا اور حضرت عائشہ بحث علمی کو سمیٹتیں۔ انھوں نے اپنے خاندان اورشہر کے جن یتیم بچوں کو پرورش میں لے رکھا تھا، اس کلیۂ علمی کے مستقل طالب علم تھے۔ وہ نامحرم جنھیں اندرجانے کی اجازت نہ ہوتی، شکوہ مند ہی رہتے کہ ہمیں حصول علم کا اچھی طرح موقع نہیں ملتا۔
حج کا موسم آتا تو جبل حرا اور کوہ ثبیر کے درمیان نصب حضرت عائشہ کاخیمہ حلقۂ درس بن جاتا۔ کبھی سیدہ بیت اﷲ میں چاہ زم زم کی چھت کے نیچے بیٹھ جاتیں اورتشنگان علم کا ہجوم ان کو گھیر لیتا۔
روایت حدیث میں حضرت عائشہ کا یہ خاصہ ہے کہ وہ احکام بتانے کے ساتھ ان کے اسباب و علل بھی بیان کرتی ہیں۔ انھوں نے معاصرین کے مسامحات کی دار و گیر اور ان کی غلط فہمیوں کی اصلاح بھی کی۔ محدثین کی اصطلاح میں اسے استدراک کہتے ہیں۔ جلال الدین سیوطی نے ’’عین الإصابۃ في ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ‘‘ میں ان استدراکات کو جمع کر دیا ہے۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں:ایک رات آل ابوبکر نے ہمیں بکری کا ایک پایہ بھیجا۔کبھی میں نے اس کو پکڑا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کاٹا اور کبھی آپ نے پکڑا اور میں نے چھری چلائی۔یہ سب اندھیرے میں بغیر چراغ کے ہوا۔ روشنی ہوتی تو ہم سالن بنا لیتے (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۶۳۱)۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو نظر بد کا دم کیا کرتی تھی۔ اپنا ہاتھ آپ کے سینے پر رکھتی اور کہتی: ’امسح البأس رب الناس، بیدک الشفاء، لا کاشف لہ إلا أنت‘، ’’اے لوگوں کے رب، تکلیف زائل کر دے، تیرے ہاتھ میں شفا ہے، مصیبت کو تو ہی ٹالنے والا ہے‘‘ (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۹۹۵۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۷۴۸۹) ۔
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ سے کہا: خالہ جان، مجھے آپ کے فہم وفراست پر اتنا تعجب ہوتا ہے نہ عربوں کے اشعار اور ان کے مشہور واقعات پر آپ کی معلومات پر اچنبھا ہوتا ہے، حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ آپ کے پاس علم طب کیسے آ گیا؟ حضرت عائشہ نے ان کے مونڈھے پر ہاتھ مار کر کہا:او عریّہ، آخری عمر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بیمار رہتے تھے۔عرب کے تمام اطراف سے وفود آپ کے پاس آتے اور اپنے اپنے نسخے تجویز کرتے ۔میں ہی ان کے مطابق آپ کا علاج کیا کرتی تھی (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۳۸۰۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۸۸۱۶۔ حلےۃ الاولیاء، رقم ۱۴۸۳۔ مستدرک حاکم، رقم ۷۴۲۶) ۔
مدینہ کے قصہ گوابن ابی سائب کو حضرت عائشہ نے تین نصیحتیں کیں: دعا میں قافیہ گوئی سے پرہیز کرو، کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہ ایسا نہیں کرتے تھے۔ہر جمعہ کو ایک ہی بار قصہ گوئی کرنا،زیادہ سے زیاد ہ دو یا تین بار سنا سکتے ہو۔ لوگوں کے پاس اس وقت نہ آنا جب وہ اپنی باتوں میں مشغول ہوں۔جب وہ تمھاری طرف متوجہ ہوں تو اپنی بات کرنا (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۱۹۸۔ صحیح ابن حبان، رقم ۹۷۸)۔
ایک بار حضرت عائشہ نے خواب میں دیکھا کہ تین چاند ان کی گود میں آن پڑے ہیں۔ان کے والد حضرت ابوبکر نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ روے زمین کے تین بہترین افراد ان کے حجرے میں مدفون ہوں گے۔آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی ابدی آرام گاہیں اس گھر میں بن گئیں تو یہ خواب سچا ہوا (مستدرک حاکم، رقم۴۴۰۰) ۔
حضرت عائشہ سے مروی چند دیگر وقائع و مسائل
حضرت عائشہ سے ان کے شاگرد ابن ابی ملیکہ نے جواز متعہ کی روایتوں کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے روایات سے تعرض کرنے کے بجاے یہ آیات تلاوت کیں: ’وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ. اِلَّا عَلآی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ‘، ’’(فلاح پا گئے وہ اہل ایمان) جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، ماسواے اپنی بیویوں اور مملوکہ عورتوں سے۔ ان پر کچھ ملامت نہ ہو گی‘‘ (المومنون ۲۳: ۵۔ ۶) اور کہا کہ قرآن کی رو سے ان دو جائز قسموں کے علاوہ کسی تیسری نوع کی گنجایش نہیں۔ متعہ کی جانے والی عورت بیوی ہے نہ باندی، اس لیے جائز نہیں (مستدرک حاکم، رقم ۳۴۸۴)۔
حضرت عبداﷲ بن زبیر فتویٰ دیتے تھے کہ عورت حج کرنے کے بعد چار انگل ناپ کر بال ترشوائے۔ حضرت عائشہ کومعلوم ہواتو فرمایا: تم کوابن زبیر کی بات پر تعجب نہیں ہوا۔ عورت کے لیے کسی طرف کا ذرا سا بال لے لینا بھی کافی ہے۔ سیوطی نے ’’عین الإصابۃ في ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ‘‘ میں امام احمد بن حنبل کی تالیف ’’مناسک کبیر‘‘ یا ’’کتاب المناسک‘‘ کے حوالہ سے یہ روایت نقل کی ہے (سیرت عائشہ ۳۰۷)۔ کوشش بسیار کے باوجود ہماری اس کتاب تک رسائی نہ ہو سکی، تاہم ’’موطاامام مالک‘ ‘کی شرح ’’المنتقٰی‘‘ (۴/ ۵۶) میں حضرت عائشہ کا یہ فتویٰ دیکھا کہ ’عورت کے لیے اپنے بالوں کے کنارے تراش لینا کافی ہے‘۔
حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حضرت عمار بن یاسر فطرت پر وفات پائیں گے، ماسوا اس کے بڑھاپے کی وجہ سے ان سے کوئی لغزش ہو جائے (مستدرک حاکم، رقم ۵۶۸۵)۔
مسلم بن صبیح حضرت عائشہ سے ملنے آئے تو ایک نابینا ان کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ انھیں لیموں(یا چکوترا) کاٹ کر شہد کے ساتھ کھلا رہی تھیں۔انھوں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ بتایا: یہ وہی ابن ام مکتوم ہیں جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل کرکے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو متوجہ کیا تھا: ’عَبَسَ وَتَوَلّٰٓی. اَنْ جَآءَ ہُ الْاَعْمٰی‘، ’’نبی نے ناگواری کا اظہارکر کے (عتبہ اور شیبہ کی طرف) رخ پھیر لیا، اس بات پر کہ نابینا (ابن ام مکتوم) ان کے پاس آبیٹھا ہے‘‘ (عبس۸۰: ۱۔۲)۔ (مستدرک حاکم، رقم ۶۶۷۱) ۔
ایک عورت حضرت عائشہ کے کمرے میں داخل ہوئی اور نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ کے پاس نماز پڑھنے لگی۔آتے وقت وہ بالکل تندرست تھی، لیکن سجدے میں گرتے ہی اﷲ کو پیاری ہو گئی۔حضرت عائشہ ٹھٹکیں اور کہا:شکر ہے اس اﷲ کا جو زندگی و موت دیتا ہے۔مجھے اپنے بھائی عبدالرحمن بن ابوبکر کی موت کے بارے میں نصیحت حاصل ہو گئی۔ وہ دوپہر کو قیلولہ کرتے ہوئے فوت ہو گیا تھا۔مجھے شبہ تھا کہ لوگوں نے جلد بازی کی اوراسے زندہ ہی دفنا دیا (مستدرک حاکم، رقم ۶۰۱۱۔ تاریخ دمشق: ۳۵/ ۳۸)۔
حضرت عائشہ نے عروہ بن زبیر سے کہا: بھانجے، مجھے پتا چلا ہے کہ عبداﷲ بن عمرو ہمارے پاس سے گزر کر حج کو جا رہے ہیں۔ ان سے ملو اورسوالات کرو، کیونکہ انھوں نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت علم سیکھ رکھا ہے۔چنانچہ عروہ ان سے ملے اور ان سے ہونے والی گفتگو سے حضرت عائشہ کومطلع کیا۔حضرت عبداﷲ بن عمرو نے ایک حدیث یہ بیان کی کہ’ اﷲ تعالیٰ لوگوں سے علم کلی طور پر سلب نہیں کرتا،بلکہ علما کو اٹھا لیتا ہے اور ان کے ساتھ علم بھی چلا جاتا ہے۔‘ حضرت عائشہ کو یقین نہ آیا اور پوچھا: کیا انھوں نے بتایا کہ میں نے یہ بات رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے سماع کی؟اگلا برس ہوا توحضرت عائشہ نے عروہ کوپھران کے پاس بھیجا۔ انھوں نے پہلی روایت پھر دہرا دی۔اب حضرت عائشہ کو اطمینان ہوا اور فرمایا: عبداﷲ نے سچ کہا اور کمی بیشی نہیں کی (مسلم، رقم ۶۸۹۶)۔
ایک عورت نے حضرت عائشہ کو اے اماں، کہہ کر پکارا تو کہا: میں تمھاری ماں نہیں، بہن ہوں (موسوعۂ مسند احمد، رقم۲۵۱۳۶)۔ اور تمھارے مردوں کی ماں ہوں۔
حضرت عائشہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں اپنے غلام میاں بیوی جوڑے کو آزاد کرنا چاہتی ہوں۔ آپ نے فرمایاکہ عورت کو آزادکرنے سے پہلے اس کے خاوند کو آزاد کرو(تاکہ عورت کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار حاصل نہ ہو جائے) (ابوداؤد، رقم ۲۲۳۷۔ ابن ماجہ، رقم ۲۵۳۲۔ مستدرک حاکم، رقم ۲۸۲۷) ۔
عبداﷲبن ابو ملیکہ نے حضرت عائشہ کو قبرستان سے آتے دیکھا تو ان کے پوچھنے پر بتایا کہ میں اپنے عبدالرحمن بن ابوبکر کی قبر سے ہوکرآرہی ہوں۔ عبداﷲنے کہا: کیا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے زیارت قبور سے منع نہ فرمایا تھا؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا: ہاں، آپ نے منع فرمایا تھا، پھر قبرستان جانے کی اجازت دے دی تھی (مستدرک حاکم، رقم ۱۳۹۲)۔
حضرت جابر بن عبداﷲ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کھجور اور انگور ملا کر نبیذ بنایا جائے (ابوداؤد، رقم ۳۷۰۳)۔ امام مالک ، امام شافعی،امام احمد بن حنبل اور اہل حدیث علما اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے ایک سے زیادہ اجزا پر مشتمل نبیذ کومطلقاً حرام سمجھتے ہیں، چاہے اس میں نشے کا شائبہ نہ ہو۔ انور شاہ کشمیری کہتے ہیں کہ یہ نہی سد ذریعہ کے لیے ہے۔چونکہ دوسرے جزوکے ملنے سے مشروب کے مسکر ہونے کا احتمال بڑھ جاتا ہے، اس لیے خلیطین (mixture) سے منع کر دیا گیا۔اس روایت کے برعکس حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مشت انگور چمڑے کے برتن میں ڈالتی ،اس میں پانی ڈال کر ہاتھ سے ملتی، پھر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو پلاتی (ابوداؤد، رقم ۳۷۰۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۱۹۸)۔ حضرت عائشہ وضاحت کرتی ہیں کہ میں جو نبیذ صبح تیار کرتی، آپ شام کے کھانے کے بعد پیتے اوراگر بچ جاتا تو میں بہا دیتی یا ختم کر دیتی۔ جب نبیذ رات کو بنایا جاتاتو آپ ناشتے کے بعد پیتے۔ نبیذ کا مشکیزہ ہم دن میں دو بار دھوتے (ابوداؤد، رقم ۳۷۱۲۔ ترمذی، رقم ۱۸۷۱۔ ابن ماجہ، رقم ۳۳۹۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۹۳۰)۔ یہی نبیذ زیادہ دن پڑا رہے توگاڑھا ہو کر جوش مارتا ہے اور چمڑے کو پھاڑ دیتا ہے۔ تب یہ نشہ آور ہو جاتا ہے اور اس کا پینا حرام ہو جاتا ہے۔ سفیان ثوری، امام ابوحنیفہ اور امام ابویو سف حضرت عائشہ کی روایت پر عمل کرتے ہوئے مرکب نبیذ کا پینا جائز سمجھتے ہیں، بشرطیکہ اس میں نشہ نہ ہو۔
حضرت عائشہ بچوں کے پھوڑوں، پھنسیوں کا علاج کرتی تھیں۔ ایک بچے کو دوا دینے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ اسے (بغرض روحانی تاثیر) لوہے کی پازیبیں پہنائی گئی ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا:تم سمجھتے ہو کہ یہ پازیبیں اﷲ کی لکھی ہوئی تکلیف دور کر دیتی ہیں۔ میں ان کو پہلے دیکھ لیتی تو تمھارا علاج ہی نہ کرتی۔ چاندی کی پازیبیں ان لوہے کی پازیبوں سے بہتر ہوتی ہیں، (کیونکہ انھیں پہناتے وقت کوئی غیر مرئی تاثیر مطلوب نہیں ہوتی۔ مستدرک حاکم، رقم ۷۵۰۸)۔ دوسری روایت میں ہے کہ ایک نومولود دعاے برکت کے لیے حضرت عائشہ کے پاس لایا گیا۔ انھوں نے اس کا تکیہ ہٹایا توسر کے نیچے ایک استرا رکھا پایا۔ پوچھا: یہ کیا؟ والدین نے بتایا کہ ہم بچے کو جنات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے استرا پکڑ کر پھینک دیا اور کہا: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم شگون لینے کو برا سمجھتے تھے اور اس پر سخت ناراض ہوتے تھے (الادب المفرد، بخاری، رقم ۹۱۲)۔ البانی نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
عہد عثمانی میں ایرانیوں سے اختلاط بڑھا تو عجم کی اخلاقی بیماریاں (کبوتر بازی، شطرنج، نرد وغیرہ) عربوں میں بھی راہ پانے لگیں۔ حضرت عائشہ کے ایک گھر میں کرایہ دار رہتے تھے۔ انھیں معلوم ہوا کہ وہ نرد (چوسر) کھیلتے ہیں تو وہ سخت برافروختہ ہوئیں اور کہلا بھیجا کہ اگر نرد کی گوٹیوں کو باہر نہ پھینکا تو میں تمھیں اپنے گھر سے نکلوا دوں گی (الادب المفرد، بخاری، رقم ۱۲۷۴)۔ نرد، تختہ نرد، backgammon یا چوسر ایران اورمشرق وسطیٰ میں پانچ ہزار سال سے کھیلے جانے والا ایک پرانا کھیل ہے جس میں دو کھلاڑی پندرہ پندرہ مہروں یا گوٹوں سے ایک چوبی بساط پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک بارنبی صلی اﷲ علیہ وسلم گھر آئے تو حضرت عائشہ بخار میں پھک رہی تھیں۔ بخار کی شکایت کرتے ہوئے انھوں نے اسے کوس دیا۔ آپ نے فرمایا: بخار کو گالی نہ دو، یہ اﷲ کے حکم سے آتا ہے۔ اگر تو چاہے تو میں تمھیں ایسے دعائیہ کلمات سکھا دوں جن کے ذریعے سے اﷲ بخار زائل کر دے۔ فرمایا: کہو، اے اﷲ، میری نازک جلد پر رحم کر، میری ناتواں ہڈیوں سے بخار کی گرمی دور کر دے۔ اے ام ملدم، (بخار کی کنیت) اگر تو عظیم اﷲ پر ایمان رکھتا ہے تو سر کو درد کر نہ منہ میں بو پیدا کر، گوشت کھا نہ خون پی۔ مجھے چھوڑ کر اس شخص کے پاس چلے جا جو اﷲ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھیراتا ہے۔ حضرت عائشہ نے یہ کلمات ادا کیے تو بخار چلا گیا (دلائل النبوۃ، بیہقی: ۶/ ۱۶۹۔ کنز العمال: ۲۸۵۰۸)۔ اس حدیث کے راوی عبدالملک بن عبد ربہ طائی پر نقد کیا گیا ہے۔
حضرت عائشہ بچوں کے پھوڑوں ،پھنسیوں کا علاج کرتی تھیں۔ایک بچے کو دوا دینے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ اسے(بغرض روحانی تاثیر) لوہے کی پازیبیں پہنائی گئی ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا: تم سمجھتے ہو کہ یہ پازیبیں اﷲ کی لکھی ہوئی تکلیف دور کر دیتی ہیں۔میں ان کو پہلے دیکھ لیتی تو تمھارا علاج ہی نہ کرتی۔چاندی کی پازیبیں ان لوہے کی پازیبوں سے بہتر ہوتی ہیں (کیونکہ انھیں پہناتے وقت کوئی غیر مرئی تاثیر مطلوب نہیں ہوتی) (مستدرک حاکم، رقم۷۵۰۸)۔
باندی سائبہ نے حضرت عائشہ کے گھر بھالا پڑا ہوا دیکھا تو پوچھا: ام المومنین، آپ اس سے کیا کرتی ہیں؟بتایا: ہم اس سے چھپکلیاں مارتے ہیں۔ اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دے رکھی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو چھپکلی کے علاوہ ہر جانورنے آگ بجھائی۔ چھپکلی پھونک کر اسے بھڑکاتی رہی۔اس لیے آپ نے اسے مارنے کا حکم ارشاد کیا (مسلم، رقم ۵۹۰۵۔ ابن ماجہ، رقم ۳۲۳۱۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۵۳۴)۔ شبیر احمد عثمانی کہتے ہیں: نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے چھپکلی کومارنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ ایک موذی جانور ہے۔ آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ اس کی فطری خباثت واضح کرنے کے لیے بیان فرمایا، ورنہ ظاہری بات ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کی چھپکلی کے جرم کی سزا آج کل کی چھپکلی کو نہیں دی جا سکتی۔شوکانی کا کہنا ہے، نوع انساں سے عداوت چھپکلی کی جبلت میں پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شیطان تھا جس نے چھپکلی کے بھیس میں نار ابراہیم کو بھڑکایا۔
حضرت عائشہ نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان سنایا: ’’جس کسی نے غیر مملوکہ ،بے آباد زمین کو آباد کیاتو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔‘‘ توخلیفۂ ثانی حضرت عمر نے اسی کو قانون بنا دیا (بخاری، رقم ۲۳۳۵)۔
حضرت افلح بن قعیس نے حضرت عائشہ سے ملنے کی اجازت طلب کی تو انھوں نے منع کر دیا۔حضرت افلح نے کہا: آپ مجھ سے پردہ کر رہی ہیں، حالاں کہ میں آپ کا رضاعی چچا ہوں۔حضرت عائشہ نے پوچھا:وہ کیسے؟بتایا: میرے بھائی ابو القعیس کی بیوی،میری بھابھی نے آپ کودودھ پلا رکھا ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا: یا رسول اﷲ،اس شخص نے تو نہیں، بلکہ اس کی بیوی نے مجھے دودھ پلا رکھا ہے۔آپ نے فرمایا: انھیں آنے دو ،وہ تمھارے رضاعی چچا ہوئے۔ تب حضرت عائشہ نے کہنا شروع کیا، رضاعت کی بنا پر ان سب رشتوں کو حرام سمجھو جو تعلق نسب سے حرام ہوتے ہیں (بخاری، رقم ۶۱۵۶۔ مسلم، رقم ۳۵۶۳۔ ابوداؤد، رقم ۲۰۵۷۔ ترمذی، رقم ۱۱۴۸۔ نسائی، رقم ۳۳۱۹۔ ابن ماجہ، رقم ۱۹۴۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۰۵۴)۔ مسند احمدکی روایت ۲۵۶۵۱ میں مذکورہ صحابی کا نام حضرت ابو الجعید یا حضرت ابو القعیس بیان ہوا ہے۔ ایک ملتی جلتی روایت میں حضرت حفصہ کے رضاعی چچا کا ذکر ہے (بخاری، رقم۳۱۰۸۔مسلم، رقم ۳۵۵۸)۔
ایک بار نبی صلی اﷲ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو حضرت عائشہ کے پاس ایک شخص بیٹھا دیکھا ۔ابن حجر کہتے ہیں، شاید وہ حضرت ابوقعیس (وائل)کا بیٹا ہو۔ ناپسندیدگی سے آپ کے چہرۂ مبارک کا رنگ بدل گیا۔انھوں نے بتایا: یہ میرا(رضاعی) بھائی ہے۔آپ نے فرمایا: اپنے (رضاعی)بھائیوں کی پرکھ رکھو۔ رضاعت تو صرف بھوکے بچے کو دودھ پلانے سے ثابت ہوتی ہے (بخاری، رقم ۵۱۰۲۔ مسلم، رقم ۳۵۹۶۔ ابوداؤد، رقم ۲۰۵۸۔ نسائی، رقم ۳۳۱۴۔ ابن ماجہ، رقم۱۹۴۵۔موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۶۳۲)۔ یہ روایت حضرت عائشہ ہی کی اس روایت کے معارض ہے: ’’حضرت ابو حذیفہ کی بیوی حضرت سہلہ بنت سہیل نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا: (ہمارا لے پالک) سالم عاقل و بالغ ہو گیا ہے۔ وہ میرے پاس آتا جاتا ہے، ابوحذیفہ اسے برا سمجھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اسے دودھ پلادو تو وہ تمھارے لیے محرم بن جائے گااور ابو حذیفہ کی خفگی جاتی رہے گی۔‘‘ حضرت سہلہ نے کہا: وہ تو (ڈاڑھی مونچھ والا) بڑا آدمی ہے؟ آپ مسکرائے اور فرمایا: میں جانتا ہوں کہ وہ بڑا شخص ہے۔ چنانچہ حضرت سہلہ نے اسے پانچ بار دودھ چسایا اور وہ ان کے رضاعی بیٹے کے مانند ہو گیا(مسلم، رقم ۳۵۹۰۔ ابوداؤد، رقم ۲۰۶۱۔ نسائی، رقم ۳۳۲۲۔ ابن ماجہ، رقم ۱۹۴۳۔ مستدرک حاکم، رقم ۲۶۹۲)۔ حضرت عائشہ نے اپنی بھتیجیوں، بھانجیوں، حتیٰ کہ حضرت ام سلمہ کوبھی گھر میں آنے جانے والے ملازموں کے باب میں اسی طریقے پرعمل کرنے کا مشورہ دیا (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۴۱۵)۔ اس باب میں انھوں نے پانچ دفعہ دودھ پلانے کی شرط لگائی اورکہا: ایک بار یا دو بار دودھ چسانا حرمت رضاعت ثابت نہیں کرتا (مسلم، رقم ۳۵۸۰۔ ابو داؤد، رقم ۲۰۶۳۔ ترمذی، رقم ۱۱۵۰۔ نسائی، رقم ۳۳۱۲۔ موسوعۂ مسند احمد،ر قم۲۴۰۲۶)۔ سیدہ ام سلمہ اور باقی ازواج النبی نے پسند نہ کیا کہ گود میں بٹھائے بغیر اس طرح کی دودھ پلائی کے ذریعے سے وہ کسی شخص کو اپنے گھر میں داخل کر لیں۔ وہ حضرت عائشہ سے کہتی تھیں کہ شاید یہ ایک رخصت ہو جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے محض سالم کے لیے جائز قرار دی ہو (مسلم، رقم ۳۵۹۵۔ ابو داؤد، رقم ۲۰۶۱۔نسائی، رقم۳۳۲۷۔ ابن ماجہ، رقم۱۹۴۷)۔
ایک عورت نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی توآپ نے پوچھا: عائشہ، تم اسے جانتی ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، تو فرمایا: یہ فلاں قبیلے کی مغنیہ ہے۔تمھیں گانا سنانا چاہتی ہے۔حضرت عائشہ نے ہاں کہا تو آپ نے اسے ایک تھالی دی تو (اس نے اسے بجا کر) ایک گانا سنایا۔ پھر آپ نے فرمایا: شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونک مار دی ہے (السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۸۹۱۱۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۱۵۷۲۰۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۶۶۸۶)۔ تھالی دینے والی بات صرف مسند احمد میں بیان ہوئی ہے۔
تابعی منکدر حضرت عائشہ سے ملنے آئے تو انھوں نے پوچھا: آپ کی اولاد ہے؟منکدر کے نہ کہنے پر فرمایا: اگر میرے پاس دس ہزار درہم ہوتے تو آپ کو عطیہ کر دیتی۔اﷲ کا کرنا ایسا ہوا کہ شام ہونے سے پہلے ہی حضرت معاویہ نے انھیں مال بھیج دیا۔حضرت عائشہ نے دس ہزار درہم بھیجے تو منکدر نے باندی خریدی،اسی سے محمد بن منکدر اور ان کے بھائی ابوبکر وعمر پیدا ہوئے۔
روایت حدیث
حضرت عائشہ سے مروی احادیث کی تعداد دو ہزار دو سو دس ہے ۔ان میں سے دو سو چھیاسی احادیث صحیحین کا حصہ ہیں۔ان میں سے چون صرف بخاری میں، انہترصرف مسلم میں اورایک سو چوہتر متفق علیہ ہیں۔حضرت عائشہ نے نبی صلی اﷲعلیہ وسلم،اپنے والد حضرت ابوبکر ،حضرت عمر ،حضرت فاطمہ ، حضرت سعد بن ابی وقاص،حضرت اسید بن حضیر،حضرت جدامہ بنت وہب اور حضرت حمزہ بنت عمرو سے احادیث روایت کیں۔ان سے روایت کرنے والے صحابہ میں شامل ہیں: حضرت عمر ، ان کے بیٹے حضرت عبداﷲ بن عمر ، حضرت ابوہریرہ ،حضرت ابوموسیٰ اشعری، حضرت زید بن خالد،حضرت عبداﷲ بن عباس ، حضرت ربیعہ بن عمرو ،حضرت سائب بن یزید،حضرت صفیہ بنت شیبہ، حضرت عبداﷲ بن عامر اور حضرت عبداﷲ بن حارث۔ان کے اہل خانہ میں سے ان لوگوں نے ان سے حدیث اخذ کی: ان کی بہن ام کلثوم بنت ابوبکر ،ان کے رضاعی بھائی حضرت عوف بن حارث،ان کے بھتیجے قاسم بن محمد، بھتیجیاں حفصہ اوراسماء بنت عبدالرحمن ،پوتے عبداﷲ بن ابوعتیق اور محمد بن عبدالرحمن ،بھانجے عبداﷲ اور عروہ بن زبیر، حضرت اسماء کے پوتے عباد اورحبیب بن عبداﷲ ،حضرت عبداﷲ بن زبیر کے پوتے عباد بن حمزہ،بھانجی عائشہ بنت طلحہ۔ حضرت عائشہ کے آزادکردہ ابوعمر ، ذکوان ، ابویونس اور ابن فروخ ۔کبار تابعین میں سے حسب ذیل علم حدیث میں حضرت عائشہ کے خوشہ چیں ہیں:سعید بن مسیب،عمرو بن میمون،علقمہ بن قیس،مسروق،عبداﷲ بن حکیم،اسود بن یزید، عطاء بن ابورباح،عکرمہ،مجاہد،میمون بن مران،نافع بن جبیر،ابوعثمان نہدی،ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور ابووائل۔ حضرت عائشہ کی شاگرد خواتین میں سے حفصہ بنت سیرین، عمرہ بنت عبدالرحمن اور عائشہ بنت طلحہ امتیازی مقام رکھتی ہیں۔ان کے مرد شاگردوں میں عروہ بن زبیر ،قاسم بن محمد،ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور مسروق نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
وفات
حضرت عائشہ ایک بار بیمار ہوئیں ،ان کی بیماری نے شدت پکڑی توان کے بھتیجوں نے مدینہ میں آنے والے ایک طبیب سے رجوع کیا ۔اس نے کہا کہ آپ کی بتائی ہوئی علامات تو اس عورت کی لگتی ہیں جسے جادو کیا گیا ہو۔پتا چلا کہ حضرت عائشہ کی اس باندی نے جادو کیا ہے جسے وہ اپنی وفات کے بعد آزاد کرنے کا اعلان کرچکی ہیں، کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ آزادی جلدحاصل ہوجائے۔حضرت عائشہ نے اسے کسی ایسے شخص کے ہاتھ بیچنے کا حکم دیاجو غلاموں کے ساتھ سخت سلوک کرنے میں عرب بھر میں مشہور ہو (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۱۲۶۔ مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۷۴۹)۔
حضرت عائشہ کے مرض الموت میں حضرت عبداﷲ بن عباس ان سے ملنے آئے۔پہلے تو انھوں نے ملنے سے انکار کیا، پھر اپنے بھتیجے ،حضرت ابوبکر کے پوتے عبداﷲبن عبدالرحمن کے اصرار پرآنے دیا۔حضرت عبداﷲ بن عباس نے کہا: میں رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ازواج سے محبت کرتا رہا ہوں،کیونکہ آپ پاکیزہ چیزوں ہی سے محبت کرتے تھے۔ آپ پہلے چلے جانے والی دو صادق ہستیوں کے پاس جا رہی ہیں، یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور ابوبکر (بخاری، رقم ۳۷۷۱)۔ حضرت عبداﷲ بن عباس نے مزید کہا: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ کے علاوہ کسی کنواری خاتون سے شادی نہیں کی۔آپ پاکیزہ اشیا کو پسند کرتے تھے اور آپ انھیں بہت محبوب تھیں۔ ابوا کی رات آپ کا ہار گم ہوا تو نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم اسے ڈھونڈنے کی خاطر رک گئے ۔اس موقع پر پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں تیمم کی نعمت عطا ہوئی۔ اﷲ نے ساتویں آسمان سے آپ کی براء ت نازل کی۔ہر مسجد میں اﷲ کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ آیات براء ت تلاوت کی جاتی ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا: ابن عباس، رہنے دو، میری آرزو ہے کہ کاش، میں بھولی بسری اور گم نام ہوتی(مستدرک حاکم، رقم ۶۷۲۶۔ حلےۃ الاولیاء، رقم ۱۴۶۲)۔ حضرت ابن عباس کے بعد حضرت عبداﷲ بن زبیر آئے تو حضرت عائشہ نے کہا: پہلے ابن عباس آ کر میری تعریفیں کر چکے ،میں تو یہی چاہتی ہوں، بھولی بسری شے ہوجاؤں (بخاری، رقم۴۷۵۳۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۹۶)۔
وفات سے پہلے فرمایا: کاش، میں ایک درخت ہوتی یا درخت کاایک پتا ہوتی ،کاش میں ایک پتھر ہوتی، کاش میں مٹی کا ڈھیلا ہوتی۔راوی نے بتایا: اس کا مطلب توبہ کرنا تھا۔ حضرت عائشہ نے وفات سے پہلے کہا: میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے رخصت ہونے کے بعد ایک بدعت کا ارتکاب کیا ۔ذہبی کہتے ہیں کہ ان کی مرادجنگ جمل میں حصہ لینا تھا۔ انھیں اس پر بہت شرمندگی تھی، حالاں کہ انھوں نے طلب خیرکرتے ہوئے اس جنگ میں شمولیت کی تھی (مستدرک حاکم، رقم ۶۷۱۷)۔ ایک بار کہا:عبداﷲ بن عمر گزریں تو میری ان سے بات کرانا۔جب وہ آئے تو کہا: ابوعبدالرحمن، آپ نے مجھے بصرہ جانے سے کیوں نہیں روکا؟ انھوں نے کہا: آپ پر عبداﷲ بن زبیر کے مشوروں کا غلبہ تھا۔
وقت شہادت حضرت عمر نے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تدفین کی اجازت چاہی تو حضرت عائشہ نے اپنی جگہ ان کو عطیہ کر دی، البتہ دیگر صحابہ نے ایسی درخواست کی تو انھوں نے قبول نہ کی (بخاری، رقم۷۳۲۸)۔
حضرت عائشہ نے ۱۷ ؍رمضان ۵۷ھ (۱۹ ؍رمضان ۵۸ھ: ابن سعد، ۱۳ جولائی ۶۷۸ء) بروز منگل چھیاسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی۔ انھوں نے اپنے بھانجے حضرت عبداﷲ بن زبیر کو وصیت کی کہ مجھے جنت البقیع میں باقی ازواج مطہرات کی قبروں کے ساتھ رات کے وقت سپردخاک کیا جائے۔اپنے حجرے میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تدفین کرنے سے منع کر دیا اور کہا: میں نہیں چاہتی کہ دوسری ازواج سے بڑھ کر مجھے سراہا جائے (بخاری، رقم ۷۳۲۷)۔ وتر ادا کرنے کے بعدگورنر مدینہ مروان بن عبدالملک کے نائب حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ مدینہ کے بالائی علاقوں سے کئی لوگ جنازے میں شرکت کے لیے آئے۔ زیتون کے تیل میں بھگوئے ہوئے پارچے لکڑیوں پر لٹکا کر روشن کیے گئے اور جنازہ قبرستان کی طرف لے جایا گیا۔ عورتوں کی ایک کثیر تعداد جنت البقیع میں موجود تھی۔ قبر کے گرد پردہ تانا گیا ، قبر میں حضرت عائشہ کے بھانجے حضرت عبداﷲ بن زبیر،عروہ بن زبیر اور حضرت ابوبکر کے پوتے قاسم بن محمد، عبداﷲ بن محمد اور عبداﷲ بن عبدالرحمن اترے۔
حضرت عائشہ کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔ ایک شاذ روایت کے مطابق ان کے ہاں ایک مردہ بچہ ہوا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداﷲ رکھا اور حضرت عائشہ نے اسی بچے کے نام پر ام عبداﷲ کی کنیت اختیار کی۔ یہ روایت سند کے اعتبار سے نہایت کم زور ہے اس لیے اہل علم نے اسے درست نہیں مانا۔
مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویۃ(ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، الجامع المسند الصحیح المختصر (بخاری، شرکۃ دار الارقم) المسند الصحیح المختصر من السنن (مسلم، شرکۃ دار الارقم)، الجمل من انساب الاشراف (بلاذری)، تاریخ الامم و الملوک (طبری)، احکام القرآن (جصاص)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، احکام القرآن (ابن عربی)، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم (ابن جوزی)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ (ابن اثیر)، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (مزی)، سیر اعلام النبلاء (ذہبی)، البدایۃ والنہایۃ (ابن کثیر)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)، تہذیب التہذیب (ابن حجر)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (مقالہ، امین اﷲ وثیر)، سیرت عائشہ (سید سلیمان ندوی)، Wikipedia, the free encyclopedia۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List