Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
تصویر اور مصوری (2/3) | اشراق
Font size +/-

تصویر اور مصوری (2/3)

تصویر اور مصوری (1/3)

—۱۰—

عَنْ عَاءِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ، أَنَّہَا قَالَتْ:۱ لَمَّا مَرِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ بَعْضُ نِسَاءِہِ کَنِیسَۃً رَأَتْہَا بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ، وَکَانَتْ أُمُّ سَلَمۃَ وَأُمُّ حَبِیبَۃَ قَدْ أَتَیَا أَرْضَ الْحَبَشَۃِ، فَذَکَرْنَ کَنِیسَۃً رَأَیْنَہَا بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ، یُقَالُ لَہَا: مَارِیَۃُ، وَذَکَرْنَ مِنْ حُسْنِہَا وَتَصَاوِیرَ فِیہَا، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأْسَہُ، فَقَالَ: ’’إِنَّ أُولٰءِکَ [قَوْمٌ۲] إِذَا مَاتَ فِیہِمْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلٰی قَبْرِہِ مَسْجِدًا [وَصَوَّرُوہُ۳]، ثُمَّ صَوَّرُوا فِیہِ تِلْکَ الصُّوَرَ، أُولٰءِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰہِ [یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۴]‘‘.
ام المومنین سیدہ عائشہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوئے تو آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اُس گرجے کا ذکر کیا جو اُنھوں نے حبشہ کی سرزمین میں دیکھا تھا۔ ام سلمہ اور ام حبیبہ حبشہ جاچکی تھیں، لہٰذا جو گرجا اُنھوں نے اُس سر زمین میں دیکھا تھا،اُس کا ذکر کیا، جس کا نام ماریہ تھا۔ اُنھوں نے اُس کی خوب صورتی اور اُس میں تصویروں کا بھی ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اِن میں کوئی صالح آدمی دنیا سے رخصت ہوجاتا تو اُس کی قبر پر عبادت گاہ بناتے اور اُس کی مورت بنالیتے، پھر یہی نہیں، اُس عبادت گاہ میں اِسی طرح تصویریں بناتے تھے۱۔یہی ہیں جو قیامت کے دن خدا کے نزدیک بد ترین خلائق ہوں گے۔

________

۱۔ یعنی جس طرح سیدہ مریم اور سیدنا مسیح کی تصویریں بنائی جاتی ہیں، اُسی طرح اپنے بعض صالحین کی تصویریں بناکر اُنھیں بھی مشرکانہ عقیدت کے ساتھ گرجوں اور خانقاہوں میں رکھ لیتے تھے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن اصلاً موطا مالک (روایۃ ابی مصعب الزہری)، رقم ۱۹۴۷ سے لیا گیا ہے۔ اِس کی راوی تنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ اِس کے متابعات کے مراجع یہ ہیں: مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۷۵۴۸، ۱۱۸۱۵۔ مسند اسحاق، رقم ۷۶۸، ۷۶۹۔ مسند احمد، رقم ۲۴۲۵۲۔ صحیح بخاری، رقم ۴۲۷،۴۳۴، ۱۳۴۱، ۳۸۷۳۔ صحیح مسلم، رقم ۵۲۸۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۷۰۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۷۸۵۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۴۶۲۹۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم ۷۹۰۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۱۱۸۹، ۱۱۹۰، ۱۱۹۱۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۱۸۱۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۷۲۲۰۔
۲۔ صحیح بخاری، رقم ۴۳۴۔
۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۷۵۴۸۔
۴۔ مسند احمد، رقم ۲۴۲۵۲۔

—۱۱—


إِنَّ عَاءِشَۃَ، تَقُولُ:۱ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَتَرْتُ سَہْوَۃً لِيْ بِقِرَامٍ فِیہِ تَمَاثِیلُ، فَلَمَّا رَآہُ ہَتَکَہُ، وَتَلَوَّنَ وَجْہُہُ، وَقَالَ: ’’یَا عَاءِشَۃُ، أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، الَّذِینَ یُضَاہُونَ۲ بِخَلْقِ اللّٰہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی‘‘۳. قَالَتْ عَاءِشَۃُ: فَقَطَعْنَاہُ فَجَعَلْنَا مِنْہُ وِسَادَۃً أَوْ وِسَادَتَیْنِ۴.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔میں نے گھر کے ایک روشن دان کو باریک پردے سے ڈھانپ رکھا تھا، جس پر مورتیں بنی تھیں ۔آپ نے جیسے ہی اُس کو دیکھا تو پھاڑ ڈالا اورآپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا: عائشہ، قیامت کے دن اللہ کے ہاں اُن لوگوں کو سخت ترین عذاب دیا جائے گا جو اللہ کی تخلیق کے مانند تخلیق کی کوشش کرتے ہیں۱۔ سیدہ کہتی ہیں کہ پھر ہم نے اُس پردے کو کاٹا اور اُس سے دو یا تین تکیے بنالیے۲۔

________

۱۔یعنی مورتوں کو حقیقی شخصیات کی طرح صاحب اختیار اور نافع وضار سمجھ کر بناتے اور اِس طرح گویا اللہ کی تخلیق کے مانند تخلیق کی کوشش کرتے ہیں۔
۲۔ اِس کے نتیجے میں، ظاہر ہے کہ تصویریں مسخ ہوگئیں اور اُن کے بارے میں کسی غلط تاثر کے پیدا ہونے کا اندیشہ نہیں رہا۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم ۲۱۰۷ سے لیا گیا ہے۔ اِس کی راوی بھی تنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ اسلوب کے کچھ فرق کے ساتھ اِس کے متابعات جن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں، وہ یہ ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم ۱۹۴۸۴۔ مسند حمیدی، رقم ۲۵۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۲۰۸۔ مسند اسحاق، رقم ۹۱۸، ۹۱۹، ۹۷۵۔ مسند احمد، رقم۲۴۰۸۱، ۲۴۵۳۶، ۲۴۵۵۶، ۲۴۵۶۳، ۲۵۶۳۱، ۲۵۸۳۹۔ صحیح بخاری، رقم ۵۹۵۴، ۶۱۰۹۔ صحیح مسلم، رقم ۲۱۰۷۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۵۶، ۵۳۵۷، ۵۳۶۳۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۹۳، ۹۶۹۴، ۹۶۹۵، ۹۷۰۵۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۴۴۰۹، ۴۴۶۹، ۴۵۲۴، ۴۷۲۳۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۴۷۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۹۱۷۰۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۴۵۵۶، ۱۴۵۵۷، ۱۴۵۵۸، ۱۴۵۷۳۔
۲۔ کئی طرق، مثلاً مسند احمد، رقم ۲۴۵۶۳ میں یہاں ’یُضَاہُونَ‘ کے بجاے ’یُشَبِّہُونَ‘ کا لفظ نقل ہوا ہے۔معنی کے اعتبار سے دونوں مترادف ہیں۔
۳۔صحیح بخاری، رقم ۶۱۰۹ میں یہاں یہ الفاظ ہیں: ’إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ القِیَامَۃِ الَّذِینَ یُصَوِّرُونَ ہٰذِہِ الصُّوَرَ‘ ’’قیامت کے دن جن لوگوں کوسخت ترین عذاب دیا جائے گا ، اُن میں وہ بھی ہیں جو اِس طرح کی تصویریں بناتے ہیں‘‘۔
۴۔ سیدہ کی یہ بات معمولی تفاوت کے ساتھ اِس باب کے کئی طرق میں نقل ہوئی ہے۔

—۱۲—

عَنْ عَاءِشَۃَ۱ أَنَّہَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَۃً فِیہَا تَصَاوِیرُ، فَلَمَّا رَآہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَی البَابِ، فَلَمْ یَدْخُلْہُ، فَعَرَفْتُ فِی وَجْہِہِ الکَرَاہِیَۃَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتُوبُ إِلَی اللّٰہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی وَإِلٰی رَسُولِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۲، مَاذَا أَذْنَبْتُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’مَا بَالُ ہٰذِہِ النُّمْرُقَۃِ؟‘‘ قُلْتُ: اشْتَرَیْتُہَا لَکَ لِتَقْعُدَ عَلَیْہَا وَتَوَسَّدَہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ أَصْحَابَ ہٰذِہِ الصُّوَرِ یَوْمَ القِیَامَۃِ یُعَذَّبُونَ، فَیُقَالُ لَہُمْ: أَحْیُوا مَا خَلَقْتُمْ۳‘‘، وَقَالَ: ’’إِنَّ البَیْتَ الَّذِيْ فِیہِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُہُ المَلاَءِکَۃُ‘‘.
سیدہ ہی سے مروی ہے کہ اُنھوں نے ایک تکیہ خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۱۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو دیکھا تو آپ دروازے ہی پرکھڑے ہوگئے، اندر داخل نہیں ہوئے اور میں نے آپ کے چہرے سے ناراضی محسوس کی ۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں اللہ اور اُس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تکیہ کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ کے لیے خریدا ہے کہ آپ اِس پر بیٹھیں اور اِس سے ٹیک لگائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: اِن تصویروں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔ اِن سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے بنایا ہے ، اِس کو زندہ کرو ۲ اور فرمایا کہ جس گھر میں اِس طرح کی تصویریں ہوں، اُس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۳۔

________

۱۔ یعنی تکیے کے لحاظ سے بنی ہوئی تھیں، کسی تصویر والے پردے کو اِس تکیے کے لیے کاٹا نہیں گیا تھا، جیسا کہ پچھلی روایت میں مذکور ہے۔
۲۔یہ، ظاہر ہے کہ اُن کی فضیحت کے لیے ہوگا، اِس لیے کہ وہ اُن کے بارے میں یہی عقیدہ رکھتے اور نافع وضار سمجھ کر اُن سے استعانت کرتے تھے۔
۳۔یہ مضمون جن روایتوں میں بیان ہوا ہے، اُن کی وضاحت ہم ’’فرشتے، تصاویر اور کتا‘‘ کے زیر عنوان اِسی کتاب میں کرچکے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن صحیح بخاری، رقم ۲۱۰۵ سے لیا گیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے الفاظ کے معمولی تفاوت اور اجمال وتفصیل کے کچھ فرق کے ساتھ اِس کے بقیہ طرق اِن مراجع میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: موطا مالک، رقم ۱۷۳۶۔ مسند احمد، رقم ۲۴۴۱۷، ۲۴۵۱۰، ۲۵۸۶۹، ۲۶۰۹۰۔ صحیح بخاری، رقم ۵۱۸۱، ۵۹۵۷، ۵۹۶۱، ۷۵۵۷۔ صحیح مسلم، رقم ۲۱۰۷۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۲۱۵۱۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۶۲۔ السنن الکبریٰ،نسائی، رقم ۹۷۰۴۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۴۴۳۸۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۱۴۹۸۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۴۵۔
۲۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۴۴۳۸ میں یہاں یہ الفاظ آئے ہیں: ’أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ سُخْطِ اللّٰہِ وَسُخْطِ رَسُولِہِ‘ ’’میں اِس بات سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں کہ میں اُس کو اور اُس کے رسول کو ناراض کروں‘‘۔
۳۔ آپ کا یہی ارشادکسی سیاق وسباق کے بغیرکم وبیش انھی الفاظ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہوا ہے۔ مثال کے طور پر السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۶۱ میں ہے: ’عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’إِنَّ أَصْحَابَ ہٰذِہِ الصُّوَرِ الَّذِینَ یَصْنَعُونَہَا یُعَذَّبُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، یُقَالُ لَہُمْ: أَحْیُوا مَا خَلَقْتُمْ‘‘‘ ’’ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِن تصویروں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔ اِن سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے بنایا ہے ، اِس کو زندہ کرو‘‘۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم ۱۹۴۹۰۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۲۱۰۔ مسند احمد، رقم ۴۴۷۵، ۴۷۰۷، ۵۱۶۸، ۵۷۶۷، ۶۰۸۴، ۶۲۶۲۔ صحیح بخاری، رقم ۵۹۵۱، ۷۵۵۸۔ صحیح مسلم، رقم ۲۱۰۸۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۷۰۲، ۹۷۰۳۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۱۲۰۴، ۶۰۲۱۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۴۵۶۶۔

—۱۳—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۱ ’’مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً، عُذِّبَ۲ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یَنْفُخَ فِیہَا الرُّوحَ، وَلَیْسَ بِنَافِخٍ فِیہَا‘‘.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی تصویر بنائی، اُسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اُس میں روح پھونکے ۱ اور وہ نہیں پھونک سکے گا۔

________

۱۔ یعنی جس طرح دنیا میں اُس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ گویا وہ کوئی ذی روح ہستی ہے جو اُس کی دعائیں سنتی اور اُس کے لیے نفع وضرر کا باعث بنتی ہے، اُسی طرح اب اُس کوذی روح بنا کر دکھائے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسنداحمد، رقم ۱۰۵۴۹ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس کے متابعات کے مراجع یہ ہیں: السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۶۰۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۹۹۔ شرح معانی الآثار، طحاوی، رقم ۶۹۴۴۔
۲۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۶۰ میں یہاں ’عُذِّبَ‘ ’’عذاب دیا جائے گا‘‘ کے بجاے ’کُلِّفَ‘ ’’مجبور کیا جائے گا‘‘ کا لفظ نقل ہوا ہے۔

—۱۴—

عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ:۱ کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ یُفْتِي النَّاسَ، لَا یُسْنِدُ إِلَی نَبِيِّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْءًا مِنْ فُتْیَاہُ حَتّٰی جَاءَ ہُ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: إِنِّيْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ، وَإِنِّيْ أُصَوِّرُ ہٰذِہِ التَّصَاوِیرَ، [فَمَا تَقُولُ فِیہَا؟۲]، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: ادْنُہْ ۔ إِمَّا مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاثًا ۔ فَدَنَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُولُ: ’’مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً فِي الدُّنْیَا، یُکَلَّفُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنْ یَّنْفُخَ فِیہِ الرُّوحَ، وَلَیْسَ بِنَافِخٍ [فِیہَا أَبَدًا۳]‘‘۴.
نضر بن انس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ اپنے کسی فتوے کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیے بغیر لوگوں کو دینی مسائل میں اپنی راے دے رہے تھے۔اتنے میں عراق کا ایک شخص اُن کے پاس آیا اور اُس نے کہا: میں عراق کا رہنے والا ہوں اور اِس طرح کی تصویریں بناتا ہوں ،۱ آپ اِن کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اُسے دو یا تین مرتبہ اپنے قریب ہونے کے لیے کہا۔جب وہ قریب ہوگیا تو اُس سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں کوئی تصویر بناتا ہے، اُسے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اُس میں روح پھونکے اور وہ اُس میں کبھی روح نہیں پھونک سکے گا۲۔

________

۱۔ یعنی اپنی بنائی ہوئی تصویریں دکھاکر کہا کہ اِس طرح کی تصویریں بناتا ہوں۔
۲۔ اِس کی وضاحت اوپر روایت ۱۳ کے تحت ہوچکی ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کے اِس ارشاد کا حوالہ یہاں، ظاہر ہے ، اِسی لیے دیا ہوگا کہ عراقی شخص نے جو تصویریں اُنھیں دکھائیں، وہ اُسی طرح کی ہوں گی جن کے ساتھ مشرکانہ عقائد وابستہ ہوں یا وابستہ کیے جاسکتے ہوں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن اصلاًمسند احمد، رقم ۲۱۶۲ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔ متن کے معمولی اختلاف کے ساتھ اِس کے متابعات اِن مراجع میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم ۱۹۴۹۱۔ مسند حمیدی، رقم ۵۴۱۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۲۱۳۔ مسند احمد، رقم ۱۸۶۶، ۳۲۷۲، ۳۳۸۳۔ مسند عبد بن حمید، رقم ۶۰۱۔ صحیح بخاری، رقم ۵۹۶۳، ۷۰۴۲۔ صحیح مسلم، رقم ۲۱۱۰۔ سنن ابی داود، رقم ۵۰۲۴۔ سنن ترمذی، رقم ۱۷۵۱۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۵۸، ۵۳۵۹۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۹۷، ۹۶۹۸۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۶۸۵، ۵۶۸۶۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۱۸۵۵، ۱۱۹۲۳، ۱۱۹۶۰، ۱۲۹۰۰۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۴۵۶۹، ۱۴۵۷۲۔
۲۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۹۷۔
۳۔جامع معمر بن راشد، رقم ۱۹۴۹۱۔
۴۔مسند احمد، رقم ۳۳۸۳ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے آپ کا یہ ارشاد اِس اسلوب میں نقل ہوا ہے: ’’’مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً، کُلِّفَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنْ یَّنْفُخَ فِیہَا، وَعُذِّبَ وَلَنْ یَّنْفُخَ فِیہَا‘‘‘ ’’جو شخص کوئی تصویر بناتا ہے، اُسے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اُس میں روح پھونکے اور اُسے عذاب دیا جائے گا۔ وہ اُس میں ہرگزروح نہیں پھونک سکے گا‘‘۔ مسند حمیدی، رقم ۵۴۱ میں یہ الفاظ ہیں: ’’’مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً عُذِّبَ وَکُلِّفَ أَنْ یَّنْفُخَ فِیہَا وَلَیْسَ بِفَاعِلٍ‘‘‘ ’’جو شخص کوئی تصویر بناتا ہے ، اُسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور مجبور کیا جائے گا کہ اُس میں روح پھونکے ، لیکن وہ ایسا نہیں کر پائے گا‘‘، جب کہ بعض طرق، مثلاًسنن ابی داود، رقم ۵۰۲۴ میں یہی مضمون اِن الفاظ میں روایت ہوا ہے: ’’’مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً عَذَّبَہُ اللّٰہُ بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، حَتّٰی یَنْفُخَ فِیہَا، وَلَیْسَ بِنَافِخٍ‘‘‘ ’’جو شخص کوئی تصویر بناتا ہے ،قیامت کے دن اُس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اُسے عذاب دے گا، یہاں تک کہ وہ اُس میں روح پھونکے اور وہ نہیں پھونک سکے گا‘‘۔

—۱۵—

عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ، قَالَ:۱ کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنِّيْ رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِیشَتِي مِنْ صَنْعَۃِ یَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ ہٰذِہِ التَّصَاوِیرَ؟ قَالَ: فَإِنِّي لَا أُحَدِّثُکَ إِلَّا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ، [سَمِعْتُہُ یَقُولُ۲]: ’’مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً، فَإِنَّ اللّٰہَ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی مُعَذِّبُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یَنْفُخَ فِیہَا الرُّوحَ، وَلَیْسَ بِنَافِخٍ فِیہَا أَبَدًا‘‘، قَالَ: فَرَبَا لَہَا الرَّجُلُ رَبْوَۃً شَدِیدَۃً، فَاصْفَرَّ وَجْہُہُ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَیْحَکَ، إِنْ أَبَیْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَیْکَ بِہٰذَا الشَّجَرِ وَکُلِّ شَيْءٍ لَیْسَ فِیہِ رُوحٌ.
سعید بن ابی حسن کی روایت ہے کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھاکہ ایک شخص نے اُن سے سوال کیا۔ اُس نے کہا: اے ابن عباس، میں اِس طرح کی تصویریں بناتا ہوں اور میرا ذریعۂ معاش میرے ہاتھ کی یہی صنعت ہے۔ ابن عباس نے جواب دیا کہ میں تم سے وہی بات کہوں گا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس نے کوئی تصویر بنائی، قیامت کے دن اللہ اُس کو عذاب میں مبتلا کرے گا اور نہیں چھوڑے گا، یہاں تک کہ وہ اُس میں روح پھونکے اور وہ کبھی اُس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔یہ سن کر اُس شخص کی حالت غیر ہوگئی،اُس کا سانس چڑھنے لگا اور اُس کے چہرے کا رنگ زرد پڑگیا۔ابن عباس نے یہ دیکھا تو فرمایا: تم پر افسوس، بندۂ خدا، اگر تمھارااِس کے بغیر گزارا نہیں تو اِس درخت کی تصویر بنالو یا کسی ایسی چیز کی بنالو جس میں روح نہ ہو۱۔

________

۱۔ پیچھے کے مباحث سے واضح ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بات اگر فرمائی ہے تو غالبًا اِسی لیے فرمائی ہے کہ مشرکانہ جذبات بالعموم ذی روح ہستیوں ہی سے وابستہ ہوتے ہیں۔اِس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں اور نہیں ہوسکتے کہ تصویر کی حرمت اُس کے ذی روح ہونے کی وجہ سے ہے۔روایت ۱ کے تحت ہم اِس کے دلائل کی تفصیل کرچکے ہیں۔
3
۱۔اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم ۳۳۹۴ سے لیا گیا ہے۔کم وبیش اِنھی الفاظ کے ساتھ اِس واقعے کے متابعات اِن مراجع میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: صحیح بخاری، رقم ۲۲۲۵۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۲۵۷۷۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۴۸۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۲۷۷۲، ۱۲۷۷۳۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۴۵۷۹۔
۲۔صحیح بخاری، رقم ۲۲۲۵۔

—۱۶—

عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ:۱ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: یَا أَبَا الْعَبَّاسِ، إِنِّيْ رَجُلٌ أُصَوِّرُ ہٰذِہِ الصُّوَرَ، وَأَصْنَعُ ہٰذِہِ الصُّوَرَ، فَأَفْتِنِي فِیہَا، قَالَ: ادْنُ مِنِّي، فَدَنَا مِنْہُ، فقَالَ: ادْنُ مِنِّي، فَدَنَا مِنْہُ حَتّٰی وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی رَأْسِہِ، قَالَ: أُنَبِّءُکَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ’’کُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ، یُجْعَلُ لَہُ بِکُلِّ صُورَۃٍ صَوَّرَہَا نَفْسٌ تُعَذِّبُہُ فِي جَہَنَّمَ‘‘، [وقَالَ:۲] فَإِنْ کُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا، فَاجْعَلِ۳ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَہُ.
اِنھی سعیدبن ابی حسن کا بیان ہے کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابو عباس، میں ایک مصور ہوں اور اِس طرح کی تصویریں بناتا ہوں، مجھے اِن کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ ابن عباس نے کہا: میرے قریب ہو جاؤ، وہ قریب ہوا تو کہا: اور قریب ہو جاؤ۔ وہ اور قریب ہوگیا، یہاں تک کہ اُنھوں نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:۱ میں تمھیں وہ بات بتاتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے کہ ہر تصویریں بنانے والا دوزخ میں جائے گا۲۔پھر اُس نے جتنی تصویریں بنائی ہوں گی، اتنے ہی اشخاص پیدا کیے جائیں گے جو اُس کو دوزخ میں عذاب دیں گے۔ اور فرمایا: سو تمھارا اگر اِس کے بغیر گزارا نہیں تو درخت کی تصویر بنالو یا کسی ایسی چیز کی جس میں روح نہ ہو۳۔

________

۱۔ یہ خاص شفقت کا انداز ہے جس سے مقصود یہ تھا کہ سائل وہ بات سننے کے لیے تیار ہوجائے جو اُس کے لیے گراں ہوسکتی ہے۔
۲۔ یعنی اُس طرح کی تصویریں بنانے والا جو کسی مشرکانہ عقیدے کے تحت بنائی جائیں، جیسا کہ پیچھے وضاحت ہوچکی ہے۔
۳۔ اِس لیے کہ اِس طرح کی چیزوں کے ساتھ مشرکانہ جذبات بالعموم وابستہ نہیں ہوتے۔تاہم کسی جگہ وابستہ ہوگئے ہوں تو اِن کی تصویروں کا حکم بھی وہی ہوگا جوابن عباس رضی اللہ عنہ نے اِس واقعے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بیان کیا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۲۸۱۰ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔کم وبیش اِنھی الفاظ کے ساتھ اِس واقعے کا متن صحیح مسلم، رقم ۲۱۱۰ میں بھی روایت ہوا ہے۔
۲۔صحیح مسلم، رقم ۲۱۱۰۔
۳۔صحیح مسلم، رقم ۲۱۱۰ میں یہاں ’فَاجْعَلْ‘ کے بجاے ’فَاصْنَعْ‘ کا لفظ نقل ہوا ہے۔معنی کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

—۱۷—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۱ ’’یَجْمَعُ اللّٰہُ النَّاسَ یَوْمَ القِیَامَۃِ فِيْ صَعِیدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ یَطَّلِعُ عَلَیْہِمْ رَبُّ العَالَمِینَ، فَیَقُولُ: أَلَا یَتْبَعُ کُلُّ إِنْسَانٍ مَا کَانُوا یَعْبُدُونَ؟ فَیُمَثَّلُ لِصَاحِبِ الصَّلِیبِ صَلِیبُہُ، وَلِصَاحِبِ التَّصَاوِیرِ تَصَاوِیرُہُ، وَلِصَاحِبِ النَّارِ نَارُہُ، فَیَتْبَعُونَ مَا کَانُوا یَعْبُدُونَ...‘‘.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک ہی میدان میں لوگوں کو جمع کرے گا۔پھر جہانوں کا پروردگاریکایک سامنے آکر فرمائے گا: کیا سب لوگ اپنے معبودوں کے پیچھے کھڑے نہیں ہوں گے؟چنانچہ صلیب پوجنے والوں کے لیے صلیب، مورتیں پوجنے والوں کے لیے مورتوں اور آگ کی پرستش کرنے والوں کے لیے آگ کو ممثل کردیا جائے گا اور وہ اپنے معبودوں کے پیچھے ہو جائیں گے۱۔

________

۱۔ یہ روایت اُسی مدعا کو مزید واضح کردیتی ہے جو ہم نے اوپر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے سمجھا ہے کہ تصویروں کی ممانعت جوکچھ بھی روایتوں میں بیان ہوئی ہے، وہ اُن کی عبادت اور اُن سے متعلق مشرکانہ جذبات ہی کی بنا پر ہوئی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن سنن ترمذی، رقم ۲۵۵۷ سے لیا گیا ہے ۔ اِس کے باقی طرق ابن خزیمہ،التوحید واثبات صفات الرب ، رقم ۱۲۳ اور ۲۵۱ میں اور ابن مندہ ، کتاب الایمان، رقم ۸۱۵ میں دیکھ لیے جاسکتے ہے۔

—۱۸—

عَنْ أَبِيْ سَعِیدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’... یَجْمَعُ اللّٰہُ النَّاسَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِيْ صَعِیدٍ وَاحِدٍ، قَالَ: فَیُقَالُ: مَنْ کَانَ یَعْبُدُ شَیْءًا فَلْیَتْبَعْہُ، قَالَ: فَیَتْبَعُ الَّذِینَ کَانُوا یَعْبُدُونَ الشَّمْسَ الشَّمْسَ فَیَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، وَیَتْبَعُ الَّذِینَ کَانُوا یَعْبُدُونَ الْقَمَرَ الْقَمَرَ فَیَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، وَیَتْبَعُ الَّذِینَ کَانُوا یَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ الْأَوْثَانَ، وَالَّذِینَ کَانُوا یَعْبُدُونَ الْأَصْنَامَ الْأَصْنَامَ فَیَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، قَالَ: وَکُلُّ مَنْ کَانَ یُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللّٰہِ حَتّٰی یَتَسَاقَطُونَ فِي النَّار...‘‘.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک ہی میدان میں لوگوں کو جمع کرے گا۔ آپ نے فرمایا: اِس کے بعداُن سے کہا جائے گا کہ ہر شخص اپنے معبود کے پیچھے چلے۔ فرمایا کہ پھر جو لوگ سورج کی پرستش کرتے تھے، وہ اُس کے پیچھے چلیں گے اور پے در پے جہنم میں جاگریں گے اور چاند کو پوجنے والے اُس کے پیچھے چلیں گے اور پے در پے دوزخ میں گرجائیں گے اور بتوں اور مورتوں کے پوجنے والے اُن کے پیچھے چل کر پے در پے جہنم میں جاپڑیں گے۔آپ نے فرمایا: خدا کے سوا ہر وہ چیز جس کی عبادت کی جاتی تھی، وہ اپنے پیرووں کو لے کر چلے گی، یہاں تک کہ وہ سب دوزخ میں گر جائیں گے۱۔

________

۱۔ یہ اُسی مضمون کی وضاحت ہے جو سورۂ انبیا (۲۱) کی آیت ۹۸ میں بیان ہوا ہے: ’(اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ اَنْتُمْ لَہَا وَارِدُوْنَ)‘ ’’تم اور تمھارے معبود جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے رہے ہو، اب جہنم کا ایندھن ہیں‘‘۔ بتوں اور مورتوں کی مذمت جس پہلو سے ہوئی ہے، وہ اِس روایت سے بھی واضح ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۱۱۱۲۷ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں۔اِس کے متابعات اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: مسند احمد، رقم ۱۱۱۲۷۔ السنۃ، ابن ابی عاصم، رقم ۶۳۴۔ التوحید و اثبات صفات الرب، ابن خزیمہ، رقم ۲۴۶۔

تصویر اور مصوری (3/3)

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List