Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
تصویر اور مصوری (3/3) | اشراق
Font size +/-

تصویر اور مصوری (3/3)

تصویر اور مصوری (2/3)

—۱۹—

عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ،۱ أَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی أَبِي طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِيِّ یَعُودُہُ. قَالَ: فَوَجَدَ عِنْدَہُ سَہْلَ بْنَ حُنَیْفٍ، فَدَعَا أَبُو طَلْحَۃَ إِنْسَانًا. فَنَزَعَ نَمَطًا مِنْ تَحْتِہِ. فَقَالَ لَہُ سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ: لِمَ تَنْزِعُہُ؟ قَالَ: لِأَنَّ فِیہِ تَصَاوِیرَ. وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہَا مَا قَدْ عَلِمْتَ. فَقَالَ سَہْلٌ: أَلَمْ یَقُلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِلاَّ مَا کَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ‘‘؟ قَالَ: بَلٰی، وَلَکِنَّہُ أَطْیَبُ لِنَفْسِي.
عتبہ بن مسعود کے پوتے اور عبد اللہ کے بیٹے عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے اُن کے ہاں گئے تو اُنھوں نے دیکھا کہ سہل بن حنیف اُن کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ پھر ہوا یہ کہ ابو طلحہ نے کسی شخص کو بلایا اور اُس نے اُن کے نیچے سے بچھونا کھینچ لیا۔ سہل بن حنیف نے پوچھا: کیوں کھینچتے ہو؟ ابو طلحہ نے جواب دیا: اِس لیے کہ اُس میں تصویریں بنی ہوئی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے، وہ تمھیں معلوم ہی ہے۔اِس پر سہل نے کہا: کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ سواے اُن کے جو کپڑوں میں نقش ہوں۱؟ ابو طلحہ نے کہا: ہاں، لیکن مجھے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے۲۔

________

۱۔ یہ معلوم ہے کہ کپڑے پہننے یا بچھا کر بیٹھنے کی چیز ہیں، لہٰذااُن میں منقوش تصویروں میں بھی وہ علت بالعموم باقی نہیں رہتی جس کی بنا پر اُنھیں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
۲۔یہ اُنھوں نے اپنا ذوق بیان کیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ اگرچہ حرج نہیں، لیکن مجھے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ اِس طرح کے بچھونوں پر بھی کوئی تصویر گھر میں نہ رکھوں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن موطا مالک، رقم ۷۷۸ سے لیا گیا ہے۔ عبید اللہ سے اِس کے متابعات جن مصادر میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم ۱۵۹۷۹۔ سنن ترمذی، رقم ۱۷۵۰۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۴۹۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۸۱۔ مسند رویانی، رقم ۹۸۷۔ المعجم الکبیر،طبرانی، رقم ۴۷۳۱۔
عبید اللہ ہی سے یہ واقعہ بعض طرق میں معلومات کے کچھ فرق کے ساتھ اِس طرح بھی روایت ہوا ہے: ’عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ حُنَیْفٍ نَعُودُ أَبَا طَلْحَۃَ فِي شَکْوَی فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ وَتَحْتَہُ بُسْطٌ فِیہَا صُوَرٌ، قَالَ: انْزِعُوا ہٰذَا مِنْ تَحْتِي، فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ: أَوَمَا سَمِعْتَ یَاأَبَا طَلْحَۃَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ نَہَی عَنِ الصُّوَرِ یَقُولُ: ’’إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ، أَوْ ثَوْبٌ فِیہِ رَقْمٌ‘‘، قَالَ: بَلٰی، وَلَکِنَّہُ أَطْیَبُ لِنَفْسِي أَنْ أَنْزِعَہُ مِنْ تَحْتِي‘ ’’عتبہ کے پوتے اور عبد اللہ کے بیٹے عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک موقع پرابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ علیل تھے۔چنانچہ میں اور عثمان بن حنیف عیادت کے لیے اُن کے ہاں گئے۔ہم اُن کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ اُن کے بچھونے میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ ابوطلحہ نے کہا: اِس کو میرے نیچے سے کھینچ لو۔ اِس پر عثمان نے اُن سے کہا: ابو طلحہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویروں سے منع کرتے ہوئے جو فرمایا تھا، کیا تم نے نہیں سنا تھا کہ سواے اُن کے جو کپڑوں میں نقش ہوں؟ ابو طلحہ نے کہا: ہاں، لیکن مجھے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ میں اِس کو نیچے سے کھینچ لوں‘‘ (السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۸۰)۔
الفاظ کے معمولی تفاوت کے ساتھ یہ واقعہ اِسی تفصیل کے ساتھ اِن مراجع میں بھی دیکھ لیا جاسکتا ہے: مسند ابی یعلیٰ، رقم ۱۴۴۰۔ شرح معانی الآثار، طحاوی، رقم ۶۹۳۳۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۴۷۳۲۔

—۲۰—

عَنْ عَاءِشَۃَ، قَالَتْ:۱ کُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَکَانَ یَأْتِینِي صَوَاحِبِي [فَیَلْعَبْنَ مَعِي۲]، فَکُنَّ إِذَا رَأَیْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْقَمِعْنَ۳ مِنْہُ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسَرِّبُہُنَّ إِلَيَّ۴ یَلْعَبْنَ مَعِي۵.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میری سہیلیاں بھی میرے ساتھ کھیلنے کے لیے آجاتی تھیں ۔ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتیں تو آپ سے چھپنے کی کوشش کرتی تھیں ، لیکن آپ اُنھیں میرے پاس بھیج دیتے تھے، پھر وہ میرے ساتھ کھیلتی رہتی تھیں ۱۔

________

۱۔ مطلب یہ ہے کہ گڑیاں بھی اگرچہ ذی ارواح کی بنائی جاتیں اور ایک طرح کے مجسموں ہی کی صورت میں ہوتی ہیں، لیکن آپ اُن پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تھے،جیسا کہ اگلی روایتوں میں تصریح ہے۔اوپر کی توضیحات سے واضح ہے کہ اُن پر اعتراض کی کوئی وجہ بھی نہیں ہوسکتی تھی، اِس لیے کہ اُن میں شرک کا کوئی شائبہ نہیں تھا اور نہ ہونے کا اندیشہ تھا۔سیدہ کے اِن کے ساتھ کھیلنے پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ دیہات کی زندگی سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ اِس طرح کی گڑیوں سے بڑی عمر کی لڑکیاں بھی بالعموم کھیلتی اور گھر در کے معاملات کواُن کے ساتھ کھیلتے ہوئے، بالکل اُسی طرح ممثل کرتی ہیں، جس طرح ہمارے اِس زمانے میں ڈراموں اور تماثیل میں کیا جاتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن اصلاًمسند احمد، رقم ۲۵۹۶۸ سے لیا گیا ہے۔ اِس کی راوی بھی تنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ متن کے معمولی اختلاف کے ساتھ اِس کے باقی طرق اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: مسند اسحاق، رقم ۷۸۳، ۷۸۴۔ مسند احمد، رقم ۲۴۲۹۸۔ صحیح بخاری، رقم ۶۱۳۰۔ صحیح مسلم، رقم ۲۴۴۰۔ سنن ابی داود، رقم ۴۹۳۱۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۸۸۹۷، ۸۸۹۸، ۸۹۰۰۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۴۲۶۱، ۴۲۶۲، ۴۲۶۳۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۶۳، ۵۸۶۵، ۵۸۶۶۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۲۷۹، ۲۸۰۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۲۰۹۸۱۔
۲۔ مسند احمد، رقم ۲۴۲۹۸۔
۳۔ بعض طرق، مثلاً صحیح بخاری، رقم ۶۱۳۰ میں یہاں ’یَنْقَمِعْنَ‘ کے بجاے ’یَتَقَمَّعْنَ‘ کا لفظ نقل ہوا ہے۔ معنی کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
۴۔ مسند احمد، رقم ۲۴۲۹۸ میں یہاں ’یُدْخِلُہُنَّ عَلَيَّ‘ کے الفاظ ہیں، جو کہ معنی کے اعتبار سے مترادف ہی ہیں۔
۵۔ سنن ابی داود، رقم ۴۹۳۱ میں یہ روایت اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے: ’عَنْ عَاءِشَۃَ، قَالَتْ: کُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فَرُبَّمَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي الْجَوَارِي، فَإِذَا دَخَلَ خَرَجْنَ، وَإِذَا خَرَجَ دَخَلْنَ‘ ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں: میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی۔ بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لے آتے اور میری پاس میری سہیلیاں بیٹھی ہوتی تھیں۔ چنانچہ جب آپ تشریف لاتے تو وہ باہر چلی جاتی تھیں اور جب آپ تشریف لے جاتے تو وہ پھر سے اندر آجاتی تھیں‘‘۔

—۲۱—

عَنْ عَاءِشَۃَ، قَالَتْ:۱ قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ أَوْ خَیْبَرَ، وَفِي سَہْوَتِہَا سِتْرٌ، فَہَبَّتْ رِیحٌ فَکَشَفَتْ نَاحِیَۃَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَاءِشَۃَ لُعَبٍ، فَقَالَ: ’’مَا ہٰذَا یَا عَاءِشَۃُ‘‘؟ قَالَتْ: بَنَاتِي، وَرَأَي بَیْنَہُنَّ فَرَسًا لَہُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ، فَقَالَ: ’’مَا ہٰذَا الَّذِي أَرَی وَسْطَہُنَّ‘‘؟ قَالَتْ: فَرَسٌ، قَالَ: ’’وَمَا ہٰذَا الَّذِي عَلَیْہِ‘‘؟ قَالَتْ: جَنَاحَانِ، قَالَ: ’’فَرَسٌ لَہُ جَنَاحَانِ‘‘؟ قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَیْمَانَ خَیْلًا لَہَا أَجْنِحَۃٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی رَأَیْتُ نَوَاجِذَہُ.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک یا خیبر سے لوٹ کر آئے ۔اُن کے گھر کے طاق میں پردہ پڑا تھا ۔ ہوا جو چلی تو اُس نے پردے کا ایک کونا اٹھادیا جس سے اُن کے کھیلنے کی گڑیاں سامنے دکھائی دینے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عائشہ، یہ کیا ہیں؟ اُنھوں نے کہا: میری گڑیاں ہیں۔آپ نے دیکھا، اُن کے درمیان ایک گھوڑا تھا، جس کے کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے۔آپ نے پوچھا: یہ میں اِن گڑیوں کے بیچ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ اُنھوں نے کہا: گھوڑا ہے۔ آپ نے پوچھا: یہ اِس کے اوپر کیا لگے ہیں؟ اُنھوں نے کہا: دو پر ہیں۔ آپ نے پوچھا: گھوڑا اور اُس کے دو پر؟ اُنھوں نے جواب دیا: آپ نے نہیں سنا، سلیمان علیہ السلام کے پاس پروں والے گھوڑے تھے؟ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر ہنس دیے، یہاں تک کہ میں نے آپ کی ڈاڑھیں کھلی ہوئی دیکھیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن اصلاً سنن ابی داود، رقم ۴۹۳۲ سے لیا گیا ہے۔اِس کی راوی تنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ اِس کے متابعات کے مراجع یہ ہیں: السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۸۹۰۱۔ النفقۃ علی العیال، ابن ابی الدنیا، رقم ۵۵۶۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۶۴۔ الآداب، بیہقی، رقم ۶۲۳۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۲۰۹۸۲۔

—۲۲—

عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ:۱ أَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَدَاۃَ عَاشُورَاءَ إِلٰی قُرَی الْأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِینَۃِ: ’’مَنْ کَانَ أَصْبَحَ صَاءِمًا فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ، وَمَنْ کَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْیَصُمْ بَقِیَّۃَ یَوْمِہِ ذٰلِکَ‘‘، قَالَتْ: فَکُنَّا [بَعْدَ ذٰلِکَ۲] نَصُومُہُ، وَنُصَوِّمُ صِبْیَانَنَا الصِّغَارَ، وَنَذْہَبُ بِہِمْ إِلَی الْمَسْجِدِ، وَنَجْعَلُ لَہُمُ اللُّعْبَۃَ مِنَ الْعِہْنِ، فَإِذَا بَکَی أَحَدُہُمْ عَلَی الطَّعَامِ أَعْطَیْنَاہَا إِیَّاہُ حَتّٰی یَکُونَ عِنْدَ الْإِفْطَارِ. وَعَنْہَا فِي بَعْضِ الرِّوَایَاتِ، قَالَتْ: [فَإِذَا سَأَلُونَا الطَّعَامَ، أَعْطَیْنَاہُمُ اللُّعْبَۃَ تُلْہِیہِمْ حَتّٰی یُتِمُّوا صَوْمَہُمْ]۳.
ربیع بنت معوذرضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورا کی صبح مدینہ کے گرد انصار کی بستیوں میں پیغام بھیجا کہ جس کی صبح روزے کے ساتھ ہوئی ہے، وہ اپنا روزہ پورا کرے اور جو روزے سے نہیں ہے، وہ باقی دن کا روزہ رکھ لے۔ ربیع کا بیان ہے کہ اِس کے بعد ہم خود بھی اِس دن کا روزہ رکھتے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے ۔ ہم اُن کو مسجد میں بھی ساتھ لے کرجاتے اور اُن کے لیے رنگی ہوئی اون کی گڑیاں بنالیتے تھے۔ پھر جب اُن میں سے کوئی کھانے کے لیے روتا تو اُن میں سے کوئی گڑیا اُسے دے دیتے،یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوجاتا تھا۔ بعض دوسری روایتوں میں ہے کہ ربیع نے بتایا: پھر جب وہ کھانا مانگتے تو ہم اُنھیں یہ گڑیاں دے دیتے کہ وہ اُن سے بہلے رہیں، یہاں تک کہ اپنا روزہ پورا کرلیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن اصلاًصحیح ابن حبان، رقم ۳۶۲۰ سے لیا گیا ہے۔ اِس کی راوی تنہا ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا ہیں۔ اِس کے متابعات جن مراجع میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں، وہ یہ ہیں: صحیح بخاری، رقم ۱۹۶۰۔ صحیح مسلم، رقم ۱۱۳۶۔ النفقۃ علی العیال، ابن ابی الدنیا، رقم ۳۰۵۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۲۹۷۰۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۷۰۰۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۸۴۰۸۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم ۳۴۹۹۔ معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم ۸۹۹۵۔
۲۔ صحیح مسلم، رقم ۱۱۳۶۔
۳۔ صحیح مسلم، رقم ۱۱۳۶۔

المصادر والمراجع

ابن أبي أسامۃ أبو محمد الحارث بن محمد بن داہر التمیمي البغدادي. (۱۴۱۳ھ/۱۹۹۲م). بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث. ط۱. تحقیق: د. حسین أحمد صالح الباکري. المدینۃ المنورۃ: مرکز خدمۃ السنۃ والسیرۃ النبویۃ.
ابن أبي الدنیا أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد البغدادي. (۱۴۱۰ھ/۱۹۹۰م). النفقۃ علی العیال. ط۱. تحقیق: د نجم عبد الرحمن خلف. الدمام: دار ابن القیم.
ابن أبي شیبۃ أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۹۹۷م). المسند. ط۱. تحقیق: عادل بن یوسف العزازي وأحمد بن فرید المزیدي. الریاض: دار الوطن.
ابن أبي شیبۃ أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.
ابن أبي عاصم أبو بکر أحمد بن عمرو الشیباني. (۱۴۱۱ھ/۱۹۹۱م). الآحاد والمثاني. ط۱. تحقیق: د. باسم فیصل أحمد الجوابرۃ. الریاض: دار الرایۃ.
ابن أبي عاصم أبو بکر أحمد بن عمرو الشیباني. (۱۴۰۰ھ). السنۃ. ط۱. تحقیق: محمد ناصر الدین الألباني. بیروت: المکتب الإسلامي.
ابن الجعد علي بن الجعد بن عبید الجَوْہَري البغدادي. (۱۴۱۰ھ/۱۹۹۰م). المسند. ط۱. تحقیق: عامر أحمد حیدر. بیروت: مؤسسۃ نادر.
ابن حبان أبو حاتم محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). الصحیح. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حبان أبو حاتم محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ). المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۴۱۹ھ). المطالب العالیۃ بزوائد المسانید الثمانیۃ. ط۱. تحقیق: (۱۷) رسالۃ علمیۃ قدمت لجامعۃ الإمام محمد بن سعود. تنسیق: د. سعد بن ناصر بن عبد العزیز الشثري. السعودیۃ: دار العاصمۃ.
ابن خزیمۃ أبو بکر محمد بن إسحاق النیسابوري. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۴م). کتاب التوحید وإثبات صفات الرب. ط۵. تحقیق: عبد العزیز بن إبراہیم الشہوان. الریاض: مکتبۃ الرشد.
ابن خزیمۃ أبو بکر محمد بن إسحاق النیسابوري. (د.ت). الصحیح. د.ط. تحقیق: د. محمد مصطفی الأعظمي. بیروت: المکتب الإسلامي.
ابن راہویہ إسحاق بن إبراہیم الحنظلي المروزي. (۱۴۱۲ھ/۱۹۹۱م). المسند. ط۱. تحقیق: د. عبد الغفور بن عبد الحق البلوشي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ الإیمان.
ابن ماجہ أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). السنن. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.
ابن المَلَک محمد بن عز الدین الرومي الکرماني الحنفي. (۱۴۳۳ھ/۲۰۱۲م). شرح مصابیح السنۃ للإمام البغوي. ط۱. تحقیق ودراسۃ: لجنۃ مختصۃ من المحققین بإشراف نور الدین طالب. د.ن: إدارۃ الثقافۃ الإسلامیۃ.
ابن مندہ أبو عبد اللّٰہ محمد بن إسحاق العبدي. (۱۴۰۶ھ). الإیمان. ط۲. تحقیق: د. علي بن محمد بن ناصر الفقیہي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
أبو داود سلیمان بن الأشعث السِّجِسْتاني. (د.ت). السنن. د.ط. تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.
أبو عوانۃ یعقوب بن إسحاق الإسفراییني النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). المستخرج. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.
أبو نعیم أحمد بن عبد اللّٰہ الأصبہاني. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). معرفۃ الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل بن یوسف العزازي. الریاض: دار الوطن للنشر.
أبو یعلي أحمد بن علي التمیمي الموصلي. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). المسند. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.
أحمد بن محمد بن حنبل أبو عبد اللّٰہ الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
البخاري محمد بن إسماعیل أبو عبد اللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.
البزار أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). المسند. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۰۸ھ/۱۹۸۸م). الآداب. ط۱. تعلیق: أبو عبد اللّٰہ السعید المندوہ. بیروت: مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۰ھ/۱۹۸۹م). السنن الصغری. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. کراتشي: جامعۃ الدراسات الإسلامیۃ.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م). السنن الکبری. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۳ھ/۲۰۰۳م). شعب الإیمان. ط۱. تحقیق: الدکتور عبد العلي عبد الحمید حامد. الریاض: مکتبۃ الرشد للنشر والتوزیع.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ/۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء .
الترمذي أبو عیسی محمد بن عیسی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). السنن. ط۲. تحقیق وتعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض. مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابي الحلبي.
تمام بن محمد أبو القاسم الرازي البجلي. (۱۴۱۲ھ). الفوائد. ط۱. تحقیق: حمدي عبد المجید السلفي. الریاض: مکتبۃ الرشد.
الحاکم أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ/۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین. ط۱. تحقیق: مصطفی عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
الحمیدي أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). المسند. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن سلیم أسد الداراني. دمشق: دار السقا.
الخطابي أبو سلیمان حمد بن محمد الخطاب البستي. (۱۳۵۱ھ/۱۹۳۲م). معالم السنن. ط۱. حلب: المطبعۃ العلمیۃ.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ/۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ - مؤسسۃ علوم القرآن.
الرُّویاني أبو بکر محمد بن ہارون. (۱۴۱۶ھ). المسند. ط۱. تحقیق: أیمن علي أبو یماني. القاہرۃ: مؤسسۃ قرطبۃ.
السیوطي جلال الدین عبد الرحمن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحق الحویني الأثري. الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). المعجم الصغیر. ط۱. تحقیق: محمد شکور محمود الحاج أمریر. بیروت: المکتب الإسلامي.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.
الطحاوي أبو جعفر أحمد بن محمد الأزدي المصري. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۴م). شرح معاني الآثار. ط.۱. تحقیق: محمد زہري النجار ومحمد سید جاد الحق. د.م: عالم الکتب.
الطیالسي أبو داود سلیمان بن داود البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). المسند. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.
الطیبي شرف الدین الحسین بن عبد اللّٰہ. (۱۴۱۷ھ/۱۹۹۷م). الکاشف عن حقائق السنن المعروف ب شرح الطیبي علی مشکاۃ المصابیح. ط۱. تحقیق: د. عبد الحمید ہنداوي. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ نزار مصطفی الباز.
عبد الحمید بن حمید بن نصر الکَسّي. (۱۴۰۸ھ/۱۹۸۸م). المنتخب من مسند عبد بن حمید. ط۱. تحقیق: صبحي البدري السامراءي، محمود محمد خلیل الصعیدي. القاہرۃ: مکتبۃ السنۃ.
العیني بدر الدین أبو محمد محمود بن أحمد الغیتابي الحنفي. (۱۴۲۰ھ/۱۹۹۹م). شرح سنن أبي داود. ط۱. تحقیق: أبو المنذر خالد بن إبراہیم المصري. الریاض: مکتبۃ الرشد.
العیني بدر الدین أبو محمد محمود بن أحمد الغیتابي الحنفي. د.ت. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
القاضي عیاض بن موسی أبو الفضل الیحصبي. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). إکمال المعلم بفوائد مسلم. ط۱. تحقیق: الدکتور یحیی إسماعیل. مصر: دار الوفاء للطباعۃ والنشر والتوزیع.
الکشمیري محمد أنور شاہ بن معظم شاہ الہندي ثم الدیوبندي. (۱۴۲۶ھ/۲۰۰۵م). فیض الباري علی صحیح البخاري. ط۱. تحقیق: محمد بدر عالم المیرتہي. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
مالک بن أنس بن مالک بن عامر الأصبحي المدني. (۱۴۲۵ھ/۲۰۰۴م). الموطا. ط۱. تحقیق: محمد مصطفی الأعظمي. أبو ظبي: مؤسسۃ زاید بن سلطان آل نہیان للأعمال الخیریۃ والإنسانیۃ.
مالک بن أنس بن مالک بن عامر الأصبحي المدني. (۱۴۱۲ھ). الموطا (روایۃ أبي مصعب الزہري). د.ط. تحقیق: بشار عواد معروف ومحمود خلیل. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم بن الحجاج النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
المُظہري الحسین بن محمود مظہر الدین الکوفي الشیرازي الحنفي. (۱۴۳۳ھ/ ۲۰۱۲م). المفاتیح في شرح المصابیح. ط۱. تحقیق ودراسۃ: لجنۃ مختصۃ من المحققین بإشراف نور الدین طالب. وزارۃ الأوقاف الکویتیۃ: دار النوادر، وہو من إصدارات إدارۃ الثقافۃ الإسلامیۃ.
معمر بن أبي عمرو راشد الأزدي البصري. (۱۴۰۳ھ). الجامع. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمن الأعظمي. بیروت:توزیع المکتب الإسلامي.
الملا القاري علي بن سلطان محمد أبو الحسن الہروي. (۱۴۲۲ھ/۲۰۰۲م). مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح. ط۱. بیروت: دار الفکر.
المناوي زین الدین محمد عبد الرؤوف بن تاج العارفین القاہري. (۱۴۰۸ھ/۱۹۸۸م). التیسیر بشرح الجامع الصغیر. ط۳. الریاض: مکتبۃ الإمام الشافعي.
المناوي زین الدین محمد عبد الرؤوف بن تاج العارفین القاہري. (۱۳۵۶ھ). فیض القدیر شرح الجامع الصغیر. ط۱. مصر: المکتبۃ التجاریۃ الکبری.
موسی شاہین لاشین. (۱۴۲۳ھ/۲۰۰۲م). فتح المنعم شرح صحیح مسلم. ط۱. د.م: دار الشروق.
النساءي أبو عبد الرحمن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغری. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي أبو عبد الرحمن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبری. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
النووي یحیی بن شرف أبو زکریا. (۱۴۲۸ھ/۲۰۰۷م). الإیجاز في شرح سنن أبي داود. ط۱. تقدیم وتعلیق وتخریج: أبو عبیدۃ مشہور بن حسن آل سلمان. عمان ۔ الأردن: الدار الأثریۃ.
النووي یحیی بن شرف أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

تصویر اور مصوری (1/3)

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List