Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Manzoor ul Hassan Profile

Manzoor ul Hassan

  manzoorhsyed@hotmail.com
Author's Bio
Visit Profile
تصویر اور آرایش سے اجتناب — ایک روایت کا مطالعہ | اشراق
Font size +/-

تصویر اور آرایش سے اجتناب — ایک روایت کا مطالعہ



صحیح مسلم کی روایت، رقم ۲۱۰۷کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ہمارے ہاں(گھر کے دروازے پر) ایک پردہ (لٹکا ہوا) تھا جس پر پرندے کی تصویر تھی۔ گھر میں داخل ہونے والا کوئی شخص جب داخل ہوتاتو اس (پردے)کو اپنے سامنے پاتا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب گھر میں تشریف لاتے تو آپ کی نظر اس پر پڑتی)۔ پھر (ایک موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اس (پردے ) کو (یہاں سے) ہٹا دو ، میں جب بھی گھر داخل ہوتے ہوئے اسے دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے ... (سیدہ فرماتی ہیں کہ )رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے (ہٹانے ہی کا حکم دیا) پھاڑ دینے کا حکم نہیں دیا۔
اس روایت کو بعض اوقات تصویر کی ممانعت اور زیب و زینت کی چیزوں سے اجتناب کے لیے بطور استدلال پیش کیا جاتا ہے۔ہمارے نزدیک یہ استدلال محل نظر ہے۔ جہاں تک تصویر کا تعلق ہے تو اس روایت سے ممانعت کے بجاے اباحت کا تاثر نمایاں ہوتا ہے۔ روایت کے حسب ذیل پہلو اس بات کی دلیل ہیں:
اولاً، تصویر اگر ناجائز ہوتی تویہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے ہاں معلوم و معروف ہوتی اور کوئی شخص بیت النبی پر تصویر والا پردہ لٹکانے کی جسارت نہ کرتا۔
ثانیاً ، اگر ایسا ہو بھی جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی نظر ہی میں پردہ اتروا دیتے اور اس میں سے ایک سے زائد بار گزرنا گوارا نہ کرتے۔
ثالثاً ، آپ اپنے حکم کو پردہ اتارنے تک ہی محدود نہ رکھتے، بلکہ اسے قطع بھی کرا دیتے تاکہ تصویر باقی نہ رہے۔
اس توضیح سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر کو ممنوع یا غیرمباح قرار نہیں دیا اور نہ اسے کسی حرام شے سے وابستہ کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس تصویر والے پردے کو دنیا سے متعلق کر کے تصویر کی اباحت کی تصدیق فرما دی ہے۔
یہاں یہ واضح رہے کہ پردے پر تصویرکا نقش درحقیقت اس کے مزین ہونے کی علامت ہے۔ عربوں کے ہاں گھروں کی آرایش وزیبایش کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ لوگ انسانوں اور حیوانوں کی تصویروں والے منقش پارچہ جات کو دیواروں،طاقوں اور دروازوں پر آویزاں کرتے تھے۔ ’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘‘ میں ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں :

’’بعض اہل مکہ اور حجاز کے دوسرے تمام علاقوں کے لوگ اپنے گھروں میں تصویریں اور مجسمے رکھتے تھے ... اور ایک گروہ درزیوں اور بافندوں کا تھا جو پردوں اور ملبوسات کو منقش کرنے کے لیے ان پر انسانوں اور جانوروں کی تصویریں بنایا کرتا تھا ... زمانۂ جاہلیت کے لوگ اپنے گھروں کی آرایش تصویروں سے اور ایسے کپڑوں سے کرتے تھے جن پر تصویریں بنی ہوتی تھیں۔ اسی طرح وہ تصویروں والے پردے استعمال کرتے تھے۔‘‘(۸ /۸۳، ۸۸)

اس تناظر میں یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ’’ اس پردے کو دیکھنے سے مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے‘‘، تصویر سے نہیں، بلکہ زیب و زینت اور تزیین و آرایش سے متعلق ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سرتاسر من جملۂ مباحات ہیں اور الہامی شریعتوں نے انھیں کبھی ممنوع قرار نہیں دیا، مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسالیب جب حد اعتدال سے متجاوز ہو جائیں تو یہی مباحات نمود و نمایش اور فخر و استکبار کا مظہر بن جاتے اور انسان کو آخرت سے غافل کرکے دنیا پرستی کی طرف راغب کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی ان میں مستغرق ہونے اور انھیں اوڑھنا بچھونابنا لینے کو ناپسند کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے رغبات دنیا کو اصلاً جائز قرار دیا، انھیں اوڑھنا بچھونا بنا لینے کو ناپسند کیا اور اپنے طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنی ذات کی حد تک ان سے بالعموم گریز ہی کا رویہ اختیار کیا۔ اپنے اہل خانہ کو بھی آپ نے اسی رویے کی تلقین کی ۔ چنانچہ اسی طرح کے ایک منقش پردے کوجب آپ نے اپنی صاحب زادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر لٹکے ہوئے دیکھا تو اسے ناپسند فرمایا اور کسی ضرورت مندکو دے دینے کا حکم دیا:

’’ابن عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک روز) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تک آئے،مگر گھر میں داخل نہیں ہوئے (اور واپس تشریف لے گئے۔ سیدہ کو یہ معلوم ہوا ) تو جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انھوں نے ان سے اس کا ذکر کیا۔ سیدنا علی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کا سبب) معلوم کیا۔ آپ نے فرمایا:میں نے اس کے دروازے پر منقش پردہ دیکھا تھا۔ پھر فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق۔ پھر سیدنا علی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انھیں یہ بات بیان کی ۔ انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں جو چاہتے ہیں، مجھے حکم دیں۔( سیدہ کی یہ گزارش جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو) آپ نے فرمایا : اسے فلاں گھر والوں کے پاس بھجوا دو، وہ ضرورت مند ہیں۔‘‘ (بخاری، رقم ۲۶۱۳)

مسلم کی مذکورہ روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کا سبب اگر طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کو تصورنہ کیا جائے تو آرایش و زیبایش سے آپ کا ابا کرنا دینی عمل قرار پاتااور اس اعتبار سے لائق اتباع اسوۂ حسنہ کے زمرے میں شامل ہوتا ہے۔ زیب و زینت سے گریز کو دینی عمل تصور کرنا چونکہ قرآنی نصوص، بعض دیگر انبیا کے طرزعمل اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض دوسرے اعمال سے متعارض ہے، اس وجہ سے قرین قیاس یہی ہے کہ منقش پردے کو اتار دینے کا حکم ایک اعتبار سے آپ کی ذاتی پسند و ناپسند کا مظہر اور ایک پہلو سے آپ کی منصبی ذمہ داریوں میں یکسوئی کا آئینہ دار ہے۔
اس تنقیح سے ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ گریز آپ کے طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کے تناظر میں ہے تو پھر سیدنا مسیح اور سیدنا یحییٰ علیہما السلام کے دنیا کی لذتوں سے اس کنارہ کشی کے کیا معنی ہیں جس کا حوالہ خود قرآن مجید نے دیا ہے؟
ہمارے نزدیک اس کا سبب بھی ان انبیا کی منصبی ذمہ داریاں ہی ہیں۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی سورۂ آل عمران کی آیت ۳۹ کی تفسیر میں اسی پہلو کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’اِس کنارہ کشی کی وجہ یہ تھی کہ یحییٰ و مسیح، دو نوں بنی اسرائیل پر عذاب سے پہلے آخری اتمام حجت کے لیے آئے تھے۔ وہ اُس بستی میں گھر کیا بناتے جو سیلاب کی زد میں تھی اور اُس درخت کی بہار کیا دیکھتے جس کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا تھا۔ ایک ایک دروازے پر دستک دے کر لوگوں کو آنے والے طوفان سے خبردار کرنے والے اپنا گھر بسانے اور اپنا کھیت اگانے میں لگ جاتے تو اپنے فرض سے کوتاہی کے مرتکب قرار پاتے۔ چنانچہ دونوں نے تجردو انقطاع کا طریقہ اختیار کیا، قوت لایموت پر اکتفا کی، درویشوں کا لباس پہنا اور زمین و آسمان ہی کو چھت اور بچھونا بنا کر زندگی بسر کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ نصاریٰ کی بد قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اِن جلیل القدر پیغمبروں کی اِس منصبی ذمہ داری کو سمجھنے کے بجاے اُنھوں نے اِسے رہبانیت کا رنگ دیا اور پھر اِسی کو دین کا اصلی مطالبہ قرار دے کر رہبانیت کا ایک پورا نظام کھڑا کر دیا۔ ہمارے ہاں بھی صوفیوں نے پیغمبروں کی زندگی میں اِسی طرح کی بعض چیزوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے اجنبی تصورات دین میں داخل کر دیے ہیں اور اب گذشتہ کئی صدیوں سے علما کو بھی اُن سے متاثر کرلینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ‘‘(البیان ۱/ ۳۴۶)

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List