Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
تصاویر اور نماز میں خلل | اشراق
Font size +/-

تصاویر اور نماز میں خلل

تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

—۱—

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ:۱ کَانَ قِرَامٌ لِعَاءِشَۃَ قَدْ سَتَرَتْ بِہِ جَانِبَ بَیْتِہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’أَمِیْطِيْ قِرَامَکِ ہٰذَا عَنِّيْ، فَإِنَّہُ لَا تَزَالُ تَصَاوِیْرُہُ تَعْرِضُ لِيْ فِيْ صَلَاتِيْ‘‘.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک سرخ رنگ کا پردہ تھا جسے اُنھوں نے اپنے گھر کے ایک کونے میں لٹکا رکھا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو دیکھا تو فرمایا: اپنا یہ پردہ میرے آگے سے ہٹادو، اِس لیے کہ اِس کی تصویریں نماز میں برابر میرے سامنے آتی رہتی ہیں۔۱

________

۱۔ یہی واقعہ آگے خود سیدہ کی زبان سے بھی بیان ہوا ہے۔ اِس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خدا کے پیغمبر اُس کی عبادت کے معاملے میں کس قدر حساس ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اُس میں ادنیٰ خلل بھی گوارا نہیں کرتے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن مسند احمد، رقم ۱۴۰۲۲ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اِس کے متابعات جن مراجع میں دیکھ لیے جا سکتے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم ۱۲۵۳۱۔ صحیح بخاری، رقم ۳۷۴، ۵۹۵۹۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۱۴۷۶۔

—۲—

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ:۱ کَانَ فِيْ بَیْتِيْ ثَوْبٌ فِیْہِ تَصَاوِیْرُ، فَجَعَلْتُہُ إِلٰی سَہْوَۃٍ فِي الْبَیْتِ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّيْ إِلَیْہِ [فَکَرِہَہُ۲]، ثُمَّ قَالَ: ’’یَا عَائِشَۃُ، أَخِّرِیْہِ عَنِّيْ، فَنَزَعْتُہُ، فَجَعَلْتُہُ وَسَائِدَ‘‘۳.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے، اُنھوں نے بیان فرمایا: میرے گھر میں ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، سو میں نے اُس کو گھر میں ایک روشن دان کی طرف لٹکادیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُسی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔آپ نے دیکھا تو اِسے پسند نہیں کیا، پھر فرمایا: عائشہ، اِس کو میرے آگے سے ہٹادو۔چنانچہ میں نے اُس کو ہٹادیا اور اُس کے تکیے بنا لیے۔۱

________

۱۔ اِس سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کو ہٹادینے کی جو ہدایت فرمائی تو اِس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپ گھر میں تصویر کے وجود کو علی الاطلاق ناجائز سمجھتے تھے یا خاص اُس پردے کی تصویروں میں دینی لحاظ سے کوئی خرابی تھی ، بلکہ اِس کی وجہ محض آپ کا یہ احساس تھا کہ پردے کی تصویریں نماز کے دوران میں آپ کی توجہ میں خلل پیدا کر رہی ہیں۔ چنانچہ یہی سبب ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُنھیں وہاں سے ہٹاکر اُن سے تکیے بنالیے اور وہ اُسی طرح آپ کے گھر میں موجود رہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن اصلاً السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۸۳۹ سے لیا گیا ہے۔ اِس کی راوی تنہا عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ اِس کے متابعات اسلوب کے کچھ تفاوت کے ساتھ اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: مسندطیالسی، رقم ۱۵۲۶۔ مسنداسحاق، رقم ۹۷۳، ۹۷۴۔ مسند احمد، رقم ۲۵۳۹۲۔ سنن دارمی، رقم ۲۷۰۴۔ صحیح مسلم، رقم ۲۱۰۷۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۹۲۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۷۶۱، ۵۳۵۴۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم ۸۴۴۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۱۴۹۹،۱۵۰۰۔
۲۔ مسند اسحاق، رقم ۹۷۳۔
۳۔ بعض طرق، مثلاً مسند اسحاق، رقم ۹۷۳ میں یہاں ’فَجَعَلْنَا مِنْہُ وَسَاءِدَ‘ ’’چنانچہ ہم نے اُس سے کچھ تکیے بنا لیے‘‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔

المصادر والمراجع

ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/ ۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.
ابن خزیمۃ أبو بکر محمد بن إسحاق النیسابوري. (د.ت). صحیح ابن خزیمۃ. د.ط. تحقیق: د. محمد مصطفٰی الأعظمي. بیروت: المکتب الإسلامي.
أبو عوانۃ یعقوب بن إسحاق الإسفراییني النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/ ۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.
أحمد بن حنبل أبو عبد اللّٰہ الشیباني. (۱۴۲۱ھ/ ۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
إسحاق بن راہویہ الحنظلي المروزي. (۱۴۱۲ھ/ ۱۹۹۱م). مسند إسحاق بن راہویہ. ط۱. تحقیق: د. عبد الغفور بن عبد الحق البلوشي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ الإیمان.
البخاري محمد بن إسماعیل أبو عبد اللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.
الدارمي أبو محمد عبد اللّٰہ بن عبد الرحمٰن التمیمي. (۱۴۱۲ھ/ ۲۰۰۰م). سنن الدارمي. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد الداراني. الریاض: دار المغني للنشر والتوزیع.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/ ۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
الطیالسي أبو داود سلیمان بن داود البصري. (۱۴۱۹ھ/ ۱۹۹۹م). مسند أبي داود الطیالسي. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.
مسلم بن الحجاج النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النسائي أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/ ۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النسائي أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/ ۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
النووي أبو زکریا یحیٰی بن شرف. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List