Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

تقدیر کا اثر | اشراق
Font size +/-

تقدیر کا اثر

(مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث :۸۲)

عن ابن مسعود رضی اﷲ عنہ قال : حدثنا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم و ھو الصادق المصدوق : إن خلق أحدکم یجمع فی بطن أمہ أربعین یوماً نطفۃً ۔ ثم یکون علقۃً مثل ذلک ۔ ثم یکون مضغۃً مثل ذلک ، ثم یبعث إلیہ ملکاً بأربع کلمات : فیُکتَب عملہ ، وأجلہ ، و رزقہ ، و شقی و سعید ۔ ثم ینفخ فیہ الروح ۔ فوالذی لا إلہ غیرہ ، إن أحدکم یعمل بعمل أھل الجنۃ حتی ما یکون بینہ و بینھا إلا ذراع ، فیسبق علیہ الکتاب ، فیعمل بعمل أھل النار فیدخلھا ۔ و إن أحدکم لیعمل بعمل أھل النار حتی ما یکون بینہ و بینھا إلا ذراع ، فیسبق علیہ الکتاب ، فیعمل بعمل أہل الجنۃ فیدخلھا ۔
’’حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سچے ہیں اور جن کی تصدیق کی گئی ہے، فرمایا : تم میں سے ہر ایک کے وجود کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس روز تک نطفے کی حالت میں رکھا جاتا ہے ۔ پھر اسی طرح علقہ کی حالت میں ۔ پھر اسی طرح مضغہ کی حالت میں۔ پھر اللہ تعالیٰ چار باتیں دے کر ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں ۔ چنانچہ وہ اس کے اعمال ، زندگی ، رزق اور شقاوت و سعادت لکھ دیتا ہے ۔ پھر وہ اس میں روح پھونکتا ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، معاملہ یہ ہے کہ تم میں سے ایک شخص اہلِ جنت والے اعمال کرتا ہے ،یہاں تک کہ اس کے اورجنت کے بیچ ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر لکھا اس پر غالب آتا ہے، چنانچہ وہ اہلِ جہنم والے اعمال اختیار کر لیتا ہے، نتیجۃً جہنم میں جا پہنچتا ہے ۔ اور تم میں سے ایک شخص اہلِ جہنم والے اعمال کرتا ہے ،یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے بیچ ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر لکھا اس پر غالب آتا ہے، چنانچہ وہ اہل جنت والے اعمال اختیار کر لیتا ہے ، نتیجۃً جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘

لغوی مباحث

الصادق و المصدوق: لفظی مطلب ہے سچ بولنے والا اور جسے سچا قرار دیا گیا ہو ۔ یہاں اس سے وہ سچامراد ہے جواپنی اس بات میں بھی سچا ہو جسے وہ پیش کر رہا ہو۔
نطفۃ: مادہ منویہ ۔ یہاں رحمِ مادر میں قرار پکڑنے کے بعد کی پہلی حالت ہے۔
مضغۃ: گوشت کا لوتھڑا ۔ یہ علقہ کے بعد کا مرحلہ ہے۔
علقۃ: خون کی پھٹکی ، چھوٹا جان دار کیڑا۔
شقی و سعید: ظاہر ہے ا ن کا عطف رزق وغیرہ پر درست نہیں ۔ اس صورت میں ’شقی و سعید‘ کے بجائے ’شقاوت و سعادت‘کے الفاظ ہونے چاہییں۔ ’شقی وسعید‘کی صورت میں یہ مبتداے محذوف کی خبر ہیں ۔
الکتاب: کتابِ تقدیر یعنی لوحِ محفوظ۔

متون

اس روایت کے متون میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے ۔ کچھ الفاظ کی کمی بیشی یا جملوں کے فرق کے ساتھ ایک ہی روایت تمام کتب میں درج ہوئی ہے۔ مثلاً ایک روایت میں پہلے جملے میں ’نطفۃ‘ نہیں ہے ۔ایک روایت میںیہی جملہ ’إن النطفۃ تکون فی الرحم أربعین یوماً‘ کے الفاظ میں ہے ۔بعض روایات میں ’إن خلق أحدکم‘ کی جگہ ’إن احدکم‘ کے الفاظ بھی ہیں ۔کسی روایت میں ’بأربع کلمات‘ کے بجائے ’فیؤمربأربع کلمات فیقول اکتب عملہ ۔۔۔‘ کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے ۔ایک روایت میں ’رزق‘ کا ذکر نہیں ہے ۔کچھ روایات میں نفخِ روح کا ذکر نہیں ہے۔ بعض روایات میں ’ذراعا‘ کے بارے میں ’أو ذراعین أو باع‘ (دونوں ہاتھوں کے پھیلانے کے برابر لمبائی) کہہ کر شک ظاہر کیا گیا ہے۔ایک روایت میں ’فیسبق علیہ الکتاب‘ کے بجائے ’فیغلب یا ثم یدرکہ الکتاب الذی سبق علیہ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ بعض روایات میں ’فیعمل بعمل اھل النار‘ کی جگہ ’فیختم لہ بعمل اھل النار‘ کے الفاظ میں تقدیر کے اثر انداز ہونے کو بیان کیا گیا ہے ۔اس روایت کے آخر میں ’یدخلھا‘ ہے ۔ ایک روایت میں اس جملہ کی جگہ ’قبل أن یموت‘ کے الفاظ نے لے لی ہے۔
ایک روایت میں تخلیق کے مراحل کو ان الفاظ میں تعبیر کیا گیا ہے:

إن النطفۃ تستقر فی الرحم أربعین لیلۃ ،ثم تنحدر دما ۔ ثم تکون علقۃ۔ ثم تکون مضغۃ ۔ ثم یبعث إلیہ ملکا ۔ فیکتب رزقہ و خلقہ و شقی أو سعید۔
’’نطفہ چالیس راتیں رحم میں برقرار رہتا ہے، پھر خون میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پھر علقہ بن جاتا ہے۔ پھر مضغہ ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں ۔ وہ اس کارزق اس کی تخلیق اور اس کی بدنصیبی اور خوش نصیبی لکھ دیتا ہے۔‘‘

نووی نے اس روایت کی شرح کرتے ہوئے تصریح کی ہے کہ بعض روایات میں نطفے کے لیے چالیس کے بجائے بیالیس راتوں کے گزرنے کا ذکر ہے ۔ بعض میں چالیس اور کچھ راتوں کا بیان ہے ۔ بعض روایات میں یہ تصریح ہے کہ پہلے چالیس بیالیس دن گزرنے پر فرشتہ آتاہے اور صورت گری کرتا ہے ۔

معنی

اس روایت کے دو حصے ہیں ۔ ایک حصہ تخلیق کے مراحل سے متعلق ہے اور دوسرا تقدیر سے متعلق ۔پہلے حصے میں ایک اضافے کے ساتھ وہی مراحل بیان ہوئے ہیں جو قرآنِ مجید میں بیان ہوئے ہیں ۔ وہ اضافہ یہ ہے کہ روایت میں یہ مراحل وقت کی توضیح کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، جبکہ قرآنِ مجید میں یہ مضمون وقت کی تعیین کے بغیر بیان ہوا ہے ۔ بظاہر اس تعیین کے ماننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، الاّیہ کہ اسے تقریباً چالیس دن کے معنی میں لیا جائے ۔اور یہ بات اس روایت کے دوسرے متون سے بھی واضح ہوتی ہے کہ کسی روایت میں بیالیس کسی میں تینتالیس اور کسی میں پینتالیس کے الفاظ بھی آئے ہیں اور یہ دن کسی مرحلے میں کچھ کم بھی ہو سکتے ہیں ۔
اسی طرح نفخِ روح کا ذکر بھی قرآنِ مجید میں ہوا ہے ۔ اور اس میں بھی یہ روایت جس تخصیص کو بیان کرتی ہے، قرآنِ مجید میں کوئی بات اس کے منافی نہیں ہے، بلکہ دونوں میں مناسبت ہی ہے۔
تقدیر کے معاملے میں اس روایت میں دو الگ الگ باتیں بیان ہوئی ہیں ۔ زندگی ، موت ،رزق وغیرہ، لاریب تقدیر کا موضوع ہیں اور اس میں کوئی اشکال بھی نہیں ہے۔ شقی اور سعید یا اعمال کے الفاظ آخرت سے بھی متعلق ہیں ۔ آخرت کا معاملہ سرتاسر انسان کی آزادی اور اختیار سے متعلق ہے۔ لہٰذا اس کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ ان امور کا لکھا جانا اللہ تعالیٰ کے مستقبل کے علم کے تحت ہے۔ یہ امور اسی طرح لکھے گئے ہیں کہ انسان اپنی مکمل آزادی کو استعمال کرتے ہوئے فلاں فلاں نیکیاں یا بدیاں اختیار کرے گا، اور اس طرح شقی یا سعید بن جائے گا۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ ایمان کو برائیوں کے غلبے کی صورت میں مایوس ہونے سے روکا ہے اور اس امکان کی طرف متوجہ کیا ہے کہ زندگی کے ہوتے ہوئے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے کا موقع موجود ہے ۔ اس حدیث میں گنہ گاروں کو ترغیب دلائی گئی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اہلِ جہنم سے نکل کر اہلِ جنت کے زمرے میں شامل ہو جائیں ، اور نیکیوں کے غلبے کی صورت میں بے پروا ہونے سے روکا ہے، اور واضح کیا ہے کہ زندگی کے ہوتے ہوئے یہ ممکن ہے کہ ایک آدمی جنتی ہونے کا مستحق ہو، لیکن وہ شیطان کے بہلاوے میں آئے اور اپنی راہ کھوٹی کر لے ، اور پھر برائیوں میں اس طرح غلطان ہو کہ جہنم میں جا پڑے۔ لہٰذا نیک لوگوں کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ اپنے بارے میں برائیوں کے حوالے سے ہمیشہ ٖچوکنا رہیں۔

کتابیات

بخار ی ، کتاب بدء الخلق ، باب ۶ ۔کتاب احادیث الانبیاء ، باب ۱،کتاب القدر ، باب ۱ ۔سنن ترمذی ، کتاب القدر ، باب ۴ ۔ سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ ، باب ۱۷۔ سنن ابن ماجہ ، کتاب المقدمہ ، باب ۱۰۔ مسند احمد ، مسند عبداللہ بن مسعود۔ صحیح ابن حبان ، ج ۱۴ ، ص ۴۷۔ الجامع لمعمر بن راشد ، ج ۱۱ ، ص ۱۲۳ ۔ مسند البز ا ز ،ج ۵ ، ص ۱۷۰ ۔ مسند الطیالسی ، ج ۱ ،ص ۳۸ ۔ مسند ابن الجعد ، ج ۱ ، ص ۳۷۹ ۔ المعجم الکبیر ، ج ۹ ، ص ۱۷۸ ۔ ج۱۰، ص۱۹۵ ۔

____________

 




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List