Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

تکفیر (2/4) | اشراق
Font size +/-

تکفیر (2/4)

تکفیر (1/4)

کفر کے نتائج

کسی شخص کی تکفیرکردینا،یہ محض اُسے برابھلاکہہ دینانہیں،بلکہ یہ اپنی ذات میں ایک نہایت پیچیدہ امر ہے۔جس طرح تکفیر کے کچھ مقدمات ہیں،جیساکہ تفصیل گزری،اسی طرح دنیااورآخرت میں مرتب ہونے والے اس کے کچھ سنگین نتائج بھی ہیں۔ان نتائج کو ماننا ہراُس شخص کے لیے ضروری ہے جو تکفیرکاارادہ کرے۔عام طورپردوسروں کی تکفیرتوکردی جاتی ہے،مگر اس کے تمام نتیجوں کونہ خودقبول کیا جاتا ہے اورنہ بعض مصلحتوں کے پیش نظر دوسروں کے سامنے اُن کے واقع ہوجانے کااظہار ہی کیاجاتا ہے۔غامدی صاحب کے ہاں تکفیر چونکہ مجردحالت میں نہیں،بلکہ اپنے تمام نتیجوں سمیت زیربحث آتی ہے،اس لیے وہ ہر اُس شخص کے اوپر،جسے کافرقراردے دیاگیا ہو،اُن کے اطلاق کوقبول کرتے اوراس کامطالبہ بھی کرتے ہیں۔ذیل میں ہم تکفیرکے چندنتائج کا ذکرکرتے ہیں کہ جنھیں تسلیم کرنا، مکفرین کے لیے بہرصورت لازم ہے:

۱۔ لعنت

’لعنت‘ کا لفظ رحمت کے مقابلے میں استعمال ہوتاہے۔جب کوئی شخص جان بوجھ کرحق بات کاانکارکردے اور اس کے بعد توبہ واستغفارکرنے کے بجاے اس پراصرارکیاکرے تووہ خداکے ہاں ملعون قرارپاتااوراُس کی رحمت سے بہت دورہوجاتاہے۔یہاں تک کہ وہ وقت آتاہے کہ فرشتے اورسب انسان ،خداکے اس فیصلے کی تائیدمیں اُس پر لعنت کی بددعائیں کرتے ہیں۔لہٰذا،جوشخص دوسروں کی تکفیر کرتا ہے،اُسے یہ بات ضرورماننی چاہیے کہ اب وہ اُن ’کافروں‘کے لیے نہ کبھی ہدایت کی دعا کرے گااورنہ کبھی خداسے اُن کے لیے رحمت ہی طلب کرے گا:

فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖ فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ.(البقرہ ۲: ۸۹)
’’پھرجب وہ چیزان کے پاس آئی جسے خوب پہچانے ہوئے تھے تویہ اُس کے منکرہوگئے۔سواللہ کی لعنت ہے اِن کافروں پر۔‘‘
کَیْفَ یَھْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ وَشَھِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَآءَ ہُمُ الْبَیِّنٰتُ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ. اُولٰٓءِکَ جَزَآؤُھُمْ اَنَّ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃَ اللّٰہِ وَالْمَآٰءِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ.(آل عمران۳: ۸۶۔۸۷)
’’اللہ اُن لوگوں کوہدایت کس طرح دے گاجوماننے کے بعد منکر ہوگئے،دراں حالیکہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور(ان کی سچائی پرگواہی کے لیے) اُن کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں بھی آچکی ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ اِس طرح کے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ یہی ہیں کہ جن کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ اور اُس کے فرشتوں اورتمام انسانوں کی لعنت ہے۔‘‘

۲۔ ختم قلوب

سمع وبصرکی صلاحیتیں اورہمارے دلوں کی حیات،یہ سب خداکی رحمت کے مرہون منت ہیں۔جن لوگوں پراُن کے مسلسل انکارکی وجہ سے اُس کی طرف سے لعنت کر دی جاتی ہے،اُن کی یہ صلاحیتیں کند اوراُن کے دل مکمل طور پر زنگ آلودہوجاتے ہیں۔ایک وقت آتا ہے کہ ہدایت کے ان ذرائع کی یہ حالت ہوجاتی ہے گویاکسی نے اُنھیں مہر بند کر دیا ہو۔ کفرکے اس نتیجے کواِصطلاح میں ’ختم قلوب‘ کہتے ہیں۔۸؂ یہ صورت حال اس بات کااعلان ہوتی ہے کہ اُنھیں لاکھ سمجھایاجائے،وہ ہرگزایمان نہ لائیں گے اور لازم ہے کہ اُن کی موت اسی کفرکے اوپر واقع ہو۔چنانچہ جوشخص دوسروں کی تکفیرکرتاہے،اُسے چاہیے کہ وہ اُن کی ہدایت کے اِمکان کواب مکمل طورپرردکرے اوردوسرے یہ کہ اُنھیں ہدایت کی امیدمیں کبھی دین کی دعوت نہ دے کہ اُن کی موت لازماًکفرپرہونے کی وجہ سے یہ ایک عبث کا کام ہوگا:

فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الْکٰفِرِیْنَ.(الاعراف۷: ۱۰۱)
’’سو،ایسانہیں ہواکہ یہ ایمان لاتے ،اِس لیے کہ پہلے جھٹلاتے رہے تھے۔اللہ کافروں کے دلوں پراسی طرح مہرلگادیتاہے۔‘‘
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ. خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ وَعَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ.(البقرہ ۲: ۶۔۷)
’’جن لوگوں نے کفرکافیصلہ کرلیاہے،اُن کے لیے برابر ہے، تم اُنھیں خبردارکرویانہ کرو،وہ نہ مانیں گے۔ اُن کے دلوں اورکانوں پراب اللہ نے مہرلگادی ہے اور اُن کی آنکھوں پرپردہ ہے۔‘‘

۳۔ ابدی جہنم

جولوگ اللہ سے بے پرواہوںیااُس کے سامنے سرکشی اختیارکریں،اُنھیں وہ ابدی جہنم کی وعید سناتا ہے۔ جو شخص جانتے بوجھتے ہوئے کفرکرتاہے ،وہ اصل میں بے پروائی اورسرکشی ہی کاجرم کرتاہے،چنانچہ وہ آخرت میں ابدی جہنم کی سزاکامستحق ٹھیرایاجاتاہے جس میں کوئی کمی ہوگی اورنہ ذراسی دیرکے لیے اُسے دم لینے کی مہلت ہی ملے گی۔ سو جوشخص دوسروں کی تکفیر کرتا ہے،اُسے یہ بھی مانناچاہیے کہ اُن ’’کافروں‘‘کے لیے قطعی طورپرجہنم کافیصلہ ہو چکا،۹؂ اورمزیدیہ کہ اُسے خداکے اس فیصلے کے خلاف اس سزامیں کسی تخفیف یااس سے نجات کی کوئی دعا،کسی صورت میں بھی نہ کرنی چاہیے:

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓءِکَ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَ الْمَآٰءِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ. خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لَایُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ.(البقرہ۲: ۱۶۱۔۱۶۲)
’’جواپنے انکارپرقائم رہے اورمرے تواِسی طرح منکر تھے، یقیناًوہی ہیں جن پراللہ اوراُس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ اُن کی سزامیں کمی کی جائے گی اورنہ اُنھیں کوئی مہلت ہی ملے گی۔‘‘

۴۔ دنیوی سزا

کفرکی سزاجس طرح آخرت میں دی جائے گی،اسی طرح اس دنیامیں بھی بعض اوقات اس کی سزادی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں اس کی بہت سی مثالیں موجودہیں۔علما جانتے ہیں کہ اس سزاکی تمہیدمیں ایمان والوں کوحکم دیا جاتا ہے کہ کفرکرنے والوں سے معاشرتی طور پرقطع تعلق کرلیا جائے۔ اُن سے پیاراورمحبت کے تمام رشتے کاٹ دیے جائیں۔ یہاں تک کہ اُن کے لیے مغفرت کی دعاکرنااوران کی میّتوں پرنماز پڑھنابھی چھوڑدیاجائے۔اس مقاطعہ کے بعداسے دوطرح سے نافذکیاجاتاہے۔ تندوتیزہواؤں ،طوفانوں اورسیلابوں کی صورت میں یا پھر رسولوں اوراُن پرایمان لانے والوں کے ہاتھوں قتل اور قتال کی صورت میں۔کفرکی پاداش میں دی جانے والی یہ دنیوی سزا، غامدی صاحب کے نزدیک توشریعت کابیان نہیں ہے ،بلکہ یہ خداکی سنت اوراُس کے رسولوں کے ساتھ خاص ایک قانون ہے۔لیکن جوحضرات اس قانون کے قائل نہیں ہیں،اُن کے لیے ضروری ہوجاتاہے کہ وہ دوسروں کو اگر کافر قرار دیں تواس کے نتیجے کے طورپر دو باتوں کو بھی ضرورتسلیم کریں:اول یہ کہ اُن سے مکمل طورپرقطع تعلق کریں اوراُن کے ساتھ کسی بھی قسم کے سماجی اورمعاشرتی روابط کوختم کردیں اوردوم یہ کہ اُن سب سے قتال ،بلکہ اُن میں سے بعض کوقتل کرنابھی لازم قراردے ڈالیں:

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْءٍ.(آل عمران ۳: ۲۸)
’’ایمان والے اب مسلمانوں کوچھوڑکراِن کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور (یاد رکھیں) جو یہ کریں گے، اُن کواللہ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔‘‘

وَلَا تُصَلِّ عَلآی اَحَدٍ مِّنْھُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ اِنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَھُمْ فٰسِقُوْنَ.(التوبہ ۹: ۸۴)

’’اورآیندہ ان میں سے جومرجائے،اُس (کے جنازے) پر کبھی نمازنہ پڑھنا اور نہ اُس کی قبر پر (دعا کے لیے کھڑے ہونا)، اِس لیے کہ اُنھوں نے اللہ اور اُس کے رسول کاانکارکیاہے اوراِس حال میں مرے ہیں کہ بد عہد تھے۔‘‘

وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اَنْ یُّصِیْبَکُمُ اللّٰہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِہٖٓ اَوْبِاَیْدِیْنَا.(التوبہ ۹: ۵۲)
’’اورہم تمھارے معاملے میں جس چیزکے منتظر ہیں، وہ یہ ہے کہ اللہ تم پراپنے ہاں سے عذاب بھیجے گا یا ہمارے ہاتھوں سے۔‘‘

تکفیر کا جواز

اِتمام حجت اورکفرسے کیامرادہے ،ہم نے دیکھا کہ اس میں غامدی صاحب اوردیگرعلماکے درمیان میں اختلاف پایاجاتاہے۔ہم نے یہ بھی دیکھاکہ تفصیلات میں اس قدراختلاف کے باوجود،ان سب میں اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ اگرکوئی شخص اتمام حجت کے بعدحق بات کا انکارکردے تواُسے بہرحا ل، کافر قرار دیا جا سکتا ہے۔ سوال پیداہوتاہے کہ غامدی صاحب جب اصول میں تکفیرکوجائزقرار دیتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ آج کسی فرد، یہاں تک کہ کسی گروہ کوبھی اس کاحق دینے کوتیارنہیں ہیں۔اس بات کوسمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اُن کے اِس عدمِ جواز کے موقف کا تفصیلی طورپرجائزہ لیں اوریہ بھی دیکھیں کہ جولوگ اس کے جوازکے قائل ہیں ،وہ اس سلسلے میں کیا کیا دلائل دیتے ہیں۔یہ ساری تفصیل دوعنوانات کے تحت دیکھ لی جاسکتی ہے:ایک عدمِ جواز اور دوسرے جواز۔

۱۔ عدمِ جواز

غامدی صاحب کے نزدیک تکفیراپنی ذات میں کوئی ممنوع اور ناجائز امرنہیں ہے۔قرآن کی بہت سی آیات اس بات پرشاہدہیں کہ منکرین حق کوباقاعدہ کافرقراردیاگیااوراس حوالے سے خصوصی احکام بھی نازل کیے گئے۔لیکن جن مقدمات اورشرائط کی بنیادپریہ سب کچھ ہوا،اُن کی راے میں آج اُن کے واقع ہوجانے کاکوئی اِمکان نہیں ہے۔ اس بات کواگرہم چندسوالات کی صورت دیں اوران کے بارے میں کوئی حتمی راے قائم کرسکیں تواُن کی راے میں بھی اب کسی کی تکفیرکردینابالکل جائزہوگا اوردوسری صورت میں یہ کام قطعی طور پر ناجائز ہوجائے گا۔پچھلے مباحث ہمارے سامنے رہیں تووہ چندسوالات یہ بنتے ہیں:
اول، کیا مخاطب تک حق بات مکمل طورپرپہنچ گئی ہے؟
دوم ،کیا وہ اُس کے سامنے بالکل واضح بھی ہوگئی ہے؟
سوئم ،کیا اُس نے جان بوجھ کراس کاانکارکیاہے اوراُس کے پاس کیااپنے اس انکارکے لیے کوئی عذربھی موجود نہیں ہے؟
چہارم،کیا ہم اس شخص کے لیے تکفیرکے تمام نتائج بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہیں؟
پہلے سوال کے جواب میں کسی بھی شخص کے متعلق ایک حدتک راے ضرورقائم کی جاسکتی ہے۔ہم یہ بات توجانتے ہیں کہ دوسرے انسانوں کی طرح اُسے بھی باطن میں کچھ ہدایات دی گئی ہیں۔جوصلاحیتیں اُسے حاصل ہیں،اُن کی واقفیت بہم پہنچانابھی کچھ مشکل کام نہیں۔اُس کے خارج میں موجودہدایت کااِبلاغ جاننے کے لیے بھی ہمیں صرف یہ کرناہے کہ اُس کے ماحول کااچھی طرح سے جائزہ لے لیں۔یہ دیکھ لیں کہ کیااُس کے اردگردیہ انتظامات پائے جاتے ہیں اوریہ بھی تحقیق کرلیں کہ اُن تک اُس کی رسائی کس قدرہے۔ ہدایت کو اُس نے ’’جان‘‘لیا ہے یا نہیں، اس چیزکومکمل طورپرجان لیناالبتہ مشکل کام ہے۔تاہم، یہ بھی ناممکن نہیں ہے۔ اُس کے ساتھ مکالمے کے نتیجے میں اسے بھی کسی حدتک جاناجاسکتا ہے۔غرض یہ کہ ان ساری معلومات کے بعداب ہم پورے اعتمادسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ بات مکمل طورپر اس تک پہنچ چکی ہے یانہیں۔
دوسرے سوال کاجواب اتناآسان نہیں ہے۔کس پربات مکمل طورپر واضح ہوگئی ہے اورکس پر نہیں؟ ظاہر ہے، اس بارے میں ہمارے پاس ظن اورگمان کے سواکچھ بھی نہیں۔ کسی شخص کاداناوبیناہونااوراُس تک حق بات کااِبلاغ ہو جانا یہ تو کسی حدتک جاناجاسکتا ہے، مگر اس بنیادپریہ بالکل نہیں کہاجاسکتاکہ وہ بات اُس پرکھل بھی گئی ہوگی ،اس لیے کہ یہ دونوں چیزیں وضوح کی کوئی لزومی دلیل نہیں ہیں۔ ہم بارہادیکھتے ہیں کہ اچھاخاصاسمجھ دارآدمی ہوتا ہے، مگر نفس کے داعیات اُس پرلاعلمی اورجہالت کے وہ دبیزپردے تان دیتے ہیں کہ وہ حق کوجانتے ہوئے بھی اُس کی تفہیم سے یک سر محروم رہ جاتاہے۔
جہاں تک تیسرے سوال کاتعلق ہے توہماے پاس بہ حیثیت انسان وہ استعدادہی نہیں ہے کہ ہم اس کاکوئی حتمی جواب دے سکیں۔ ہم میں سے کسی کے بس میں نہیں کہ وہ لوگوں کے باطن میں جھانک کر یہ فیصلہ سناسکے کہ حق بات کاجان بوجھ کرانکارکردیاگیا ہے۔ یہ صرف اور صرف پروردگارعالم کی شان ہے کہ وہ دلوں کے احوال سے واقف ہواوریہ جانتاہوکہ کس دل میں ایمان نے گھرکیاہے ،اورکس میں کفر آن گھساہے اوراس سب کے پیچھے کون سی نیتیں اور کیا کیا ارادے کار فرما ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے باپ کے کفرکی وجوہات اوراس کے محرکات بالکل نہ جان سکے اوراُسے محض ایک ابتدائی درجے کاگمراہ سمجھتے رہے۔ یہی وجہ ہوئی کہ اُس کے لیے دعاے مغفرت کا وعدہ کیااوراسے نبھایا بھی، حتیٰ کہ خداے علّام الغیوب نے خبردی کہ اُن کاباپ محض خطاکار نہیں، بلکہ اُس کا کھلادشمن ہے۔ اسی طرح کفرکاارتکاب کرنے والے کے پاس کوئی حقیقی عذرموجودہے یانہیں،اسے حتمی طورپرمعلوم کرلینابھی ممکن نہیں۔فلاں شخص ضرور صاحب استطاعت ہے،وہ غلطی سے نہیں،جان بوجھ کریہ کام کر رہاہے اوراس وقت اس پرکسی قسم کاکوئی جبربھی نہیں ہے،یہ سب معاملات، بہرصورت، سادہ نہیں ہوتے۔ انسانی نفسیات کی اتھاہ گہرائیاں اورباہرسے اثراندازہونے والے امور کاعظیم تنوع، انھیں اس قدر پیچیدہ بنادیتے ہیں کہ ان کاادراک کرلینا،انسان کی دسترس سے باہرہوجاتاہے۔
چوتھاسوال یہ تھاکہ اس کفرکے دنیوی اوراخروی نتیجوں کے بارے میں ہماری کیاراے ہے؟یعنی،کیاہم اس بات کوماننے اوراس کابرملااظہارکرنے کے لیے تیارہیں کہ مذکورہ شخص اب خداکے ہاں ملعون قرارپایاہے؟اُس کادل مہربندہوچکاہے؟اُسے ابدی جہنم کا مستحق قراردے دیاگیااوراُس سے براء ت کا اظہار کرنا اور اُس کے ساتھ تمام معاشرتی روابط کو توڑدینا،اب ہم پرلازم ہوگیاہے؟مزیدیہ کہ اُس کے لیے اب اس کے سواکوئی راستہ نہیں رہاکہ وہ اپنے کفرکی پاداش میں یاتوقتل کردیاجائے ۱۰؂ یا ہمیشہ کے لیے مغلوب اورزیردست بن کر رہے؟ اس سوال کا جواب دینااس لیے ضروری ہے کہ کفراوراس کے نتیجے،جیساکہ پیچھے تفصیل گزری،آپس میں لازم وملزوم ہیں۔جو کسی کی تکفیر کرناچاہے ،اُس پرلازم ہے کہ وہ ان سب کو بھی قبول کرے،وگرنہ اس کے جوازکی بات بالکل نہ کرے۔ سردست یہ بات بھی ہمارے سامنے رہنی چاہیے کہ ان نتائج کوماننایانہ مانناتوبہت دورکی بات،کیااس وقت مذکورہ شخص پران کااطلاق شروع ہوچکاہے؟ہمارے پاس غیب کی ان باتوں کو جاننے کا سرے سے کوئی ذریعہ ہی نہیں ہے۔ سواے اس ایک صورت کے کہ کوئی شخص خدابن جانے کی جسارت کرے یاکم سے کم اپنے اوپروحی کے اترنے کا دعویٰ کرے جو ہم جانتے ہیں کہ اب کسی طرح ممکن نہیں رہاکہ اس طرح کے تمام اِمکانات کا راستہ مستقل طور پر مسدود کر دیا گیا ہے۔
یہاں ایک بات کہی جاسکتی ہے۔وہ یہ کہ ہم دلوں کے احوال سے توواقف نہیں ،لیکن کسی شخص میں پائی جانے والی ظاہری علامتیں بہرحال اس کے دل کی حالت کا پتا دیتی ہیں۔ سوجس طرح ہم ظاہر کااعتبارکرتے ہوئے کسی شخص کو مسلمان کہہ دیتے ہیں،اسی طرح اُسے کافر بھی کہہ سکتے ہیں۔اس استدلال کے جواب میں چندباتیں پیش نظررہیں:
ایک یہ کہ ظاہری علامتوں سے دل کے احوال کوقطعی طورپرجان لینا،کسی صورت میں ممکن نہیں ہے۔ان سے زیادہ سے زیادہ ایک تاثر قائم کیا جاسکتاہے جواپنی ذات میں صحیح بھی ہوسکتاہے اوربالکل غلط بھی۔اورہم اس طرح کے تاثرات کے بارے میں یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ کسی فیصلۂ خداوندی کے متبادل ہرگز نہیں ہوسکتے۔دوسرے یہ کہ جب ہم کسی شخص کومسلمان کہتے ہیں تواس کامطلب بھی یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ ہم اُسے حقیقی معنی میں مسلمان کہہ رہے ہیں کہ اس مثال پرکسی دوسرے کوکافر قراردے ڈالیں۔حقیقی ایمان بھی دلوں کے احوال میں سے ہے اوراس کی بھی کسی کے پاس کوئی حتمی اطلاع نہیں۔ہاں،ظاہری طورپرکسی کومسلمان کہنااوراُس کے ساتھ کچھ دنیوی معاملات کرنا، یہ ایساہی ہے جیسے ہم کسی کوغیرمسلم کہیں اوراُس کے ساتھ کچھ دنیوی معاملات کریں۔لیکن اس پرقیاس کرتے ہوئے کسی کوکافرکہہ دینا،اس لیے جائزنہیں ہے کہ یہ معاملہ ظاہری اِنکارکاہے ہی نہیں ،بلکہ دل سے جان بوجھ کر انکار کر دینے کاہے اوراسے یقینی طورپرجان لینے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔۱۱؂

۲۔ جواز

جولوگ دوسروں کی تکفیرکرنے کے قائل ہیں،ان کی طرف سے عام طورپریہ دلائل بیان کیے جاتے ہیں:

۱۔ اِباحت

اُن کاکہناہے کہ قرآن وحدیث میں کہیں بھی تکفیرکی ممانعت واردنہیں ہوئی،اس لیے یہ اپنی اصل میں ایک جائز کام ہے ۔البتہ، عام لوگوں کے بجاے یہ صرف دین کے جیدعلماکا حق ہے اوراُنھیں بھی اس معاملے میں بہت زیادہ محتاط رہناچاہیے۔

۲۔ آیات

تکفیرکے جوازکی ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ قرآن کی بہت سی آیات اپنے منکرین کوکافرکانام دیتی ہیں، جیساکہ یہ آیت:

وَعَجِبُوْٓا اَنْ جَآءَ ھُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْھُمْ وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ.(ص ۳۸: ۴)
’’اِنھیں تعجب ہے کہ ان کے پاس ایک خبردارکرنے والا اِنھی میں سے آگیاہے اوراِن کافروں نے کہہ دیا کہ یہ ساحرہے،سخت جھوٹاہے۔‘‘

کئی آیتوں میں کچھ خاص اعمال کی بنیادپراُنھیں کافرقراردیا گیاہے۔اس کامطلب یہی ہے کہ آج بھی جن میں یہ اعمال پائے جائیں ،انھیں کافرکہاجاسکتاہے۔مثال کے طورپرذیل کی یہ آیت:

وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ.(المائدہ ۵: ۴۴)
’’اور جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں،وہی کافرہیں۔‘‘

بلکہ ایک آیت میں صرف تکفیرہی نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کواس بات کا باقاعدہ حکم دیاگیاہے کہ وہ منکرین کو کافر کہہ کر مخاطب کریں:

قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ.(الکافرون ۱۰۹: ۱)
’’تم اعلان کرو،(اے پیغمبر) کہ اے کافرو۔‘‘

۳۔ احادیث

کئی حدیثوں میں لوگوں کا ایمان ختم ہونے کی بات کی گئی ہے،جیسے یہ حدیث:

یمرقون من الدین مروق السہم من الرمیۃ.(مسلم، رقم ۲۴۵۵)
’’وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جس طرح تیراپنے ہدف کوچیرکرنکل جاتاہے۔‘‘

کئی احادیث میں قرآن ہی کی طرح مختلف گناہوں پرکفرکااطلاق کیاگیاہے اورظاہرہے،اس کامطلب بھی یہی ہے کہ جوکوئی ان کفریہ اعمال کاارتکاب کرے گا،وہ کافرقرارپاجائے گا،جیساکہ ذیل کی یہ حدیث:

سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر.(بخاری، رقم ۴۸)
’’مسلمان کوگالی دینافسق اوراُس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔‘‘

بعض احادیث وہ بھی ہیں جن میں لوگوں کے لیے ’کفر‘کے لفظ سے آگے بڑھ کر ’کافر‘ کا لفظ بھی استعمال کیا ہے، جیسا کہ یہ حدیث:

لا ترجعوا بعدي کفارًا یضرب بعضکم رقاب بعض.(بخاری، رقم ۱۲۱)
’’میرے بعد کافرنہ ہوجاناکہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔‘‘

اور یہ حدیث:

إذا قال الرجل لأخیہ یاکافر فقد باء بہ أحدہما.(بخاری، رقم ۶۱۰۳)
’’جب کوئی شخص اپنے بھائی کوکافرکہتاہے تو دونوں میں سے ایک پریہ لفظ چسپاں ہوکررہتاہے۔‘‘

ایک حدیث میں کچھ علامتوں کوبیان کیاگیاہے جن کی بنیادپرہم کسی کے دل میں پائے جانے والے کفر کافیصلہ کرسکتے ہیں:

اٰیۃ المنافق ثلاث: إذا حدث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا ائتمن خان.(مسلم، رقم ۲۱۱)
’’منافق کی تین علامتیں ہیں:جب بات کرے تو جھوٹ بولے،وعدہ کرے توخلاف ورزی کرے اور اُس کے پاس امانت رکھی جائی تواُس میں خیانت کرے۔‘‘

بعض احادیث میں کچھ اقدامات کاذکرہواہے جودوسروں کی تکفیر پرمنحصرہیں،جیسا کہ یہ حدیث:

من بدل دینہ فاقتلوہ.(بخاری، رقم ۳۰۱۷)
’’جواپنادین بدل لے، اُسے قتل کردو۔‘‘

ایک حدیث یہ ہے:

إلا أن تروا کفرًا بواحًا عندکم من اللّٰہ فیہ برہان.(مسلم، رقم ۴۷۷۱)
’’تم حکمرانوں سے اقتدارکے معاملے میں جھگڑا صرف اُس صورت میں کرسکتے ہوجب کوئی کھلا کفر اُن کی طرف سے دیکھواورتمھارے پاس اس معاملے میں اللہ کی واضح حجت موجودہو۔‘‘

۴۔ متفرق دلائل

۱۔ قرآن مجیدمیں بیان ہواہے کہ عالم ارواح میں خدا نے آدم علیہ السلام کی اولاد سے یہ عہدلیا:کیامیں تمھارا رب نہیں ہوں؟ سب نے اقرارکیا:ہاں،آپ ہی ہمارے رب ہیں۔یہ عہداس بات کی واضح دلیل ہے کہ خداکے وجود کے معاملے میں ہرانسان پراِتمام حجت ہوچکا ہے اوراس کے لیے علیحدہ سے کسی اہتمام کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ آج ملحدین اگرخداکاانکارکریں توکم سے کم اُنھیں اس عہد کی بنیاد پرکافر ضرور قراردیاجاسکتاہے۔
۲۔سیدناصدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ انھوں نے اپنے دورخلافت میں مرتدین سے قتال کیا۔ ظاہر ہے، کچھ لوگوں کو مرتد قراردے دینا،اصل میں اُن کی تکفیرکرناہی تھا۔اوراسی طرح کامعاملہ اُس وقت بھی ہواجب سیدناعلی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں خوارج سے قتال کیاگیا۔
۳۔ جو لوگ ہمیں کافرقراردیں ،اُنھیں محض اس وجہ سے کافرکہاجاسکتاہے کہ وہ ہم مسلمانوں کوکافر قراردے رہے ہیں۔اسی طرح جو لوگ اسلام کاانکارکریں اورخوداپنے آپ کوکافرکہیں ،اُنھیں کافرکہنابھی بالکل جائز ہونا چاہیے۔

جواز کے دلائل کا تجزیہ

علماے اسلاف ہوں یااخلاف،تکفیرکے جوازمیں کم وبیش یہی دلائل ہیں جوان کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ ذیل میں ہم ان سب کا مختصرساتجزیہ پیش کرتے ہیں:

۱۔ اِباحت

اباحت کے اس اِستدلال کودوطرح سے پیش کیاجاسکتاہے:ایک اس طرح سے کہ دوسرے بہت سے عام امور کی طرح یہ تکفیربھی اپنی ذات میں ایک جائز امرہے،اس لیے کہ دین میں اس کی ممانعت پرکوئی دلیل وارد نہیں ہوئی۔ دوسرے اس طرح سے کہ یہ تکفیراپنی ذات میں عام نہیں ،بلکہ دینی نوعیت رکھنے والاایک امر ہے،مگریہ اس لیے جائزہے کہ دین میں اس کی ممانعت پرکوئی دلیل واردنہیں ہوئی۔
پہلے اِستدلال کے جواب میں واضح ہو کہ تکفیرکسی شخص کا ذاتی معاملہ نہیں ہے کہ اس میں اباحت کے عمومی قاعدے سے استدلال کیا جاسکے ۔یہ دوسرے لوگوں سے براہ راست متعلق اور اُن کے بارے میں ایک فیصلہ سنا دینا ہے کہ جس کے نتیجے میں بہت سی شرعی حرمتیں اب قائم نہیں رہیں گی۔اگردوسروں کے متعلق فیصلے محض اِباحت کے اصول پر جائز قرار دیے جاسکتے ہیں توپھرچوری کے مقدمے میں بھی مثال کے طور پر، قاضی کے ساتھ ساتھ ہر غیر قاضی کو یہ حق دے دیناچاہیے کہ وہ اُٹھے، اپنی عدالت سجائے اورملزم کے ہاتھ کاٹ دینے کاحکم سنادے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر مقدمے میں ہمیشہ پہلے اس بات کوثابت کیاجاتاہے کہ عدالت کیااس کی سماعت کاحق بھی رکھتی ہے یا نہیں۔ سو تکفیر کی بحث میں بھی یہ لازم ہے کہ اِباحت کے عمومی قاعدے سے دلیل فراہم کرنے کے بجاے پہلے علما کے حقِ فیصلہ کو ثابت کیاجائے جو اُنھیں اس بات کا اختیار دیتا ہو کہ وہ لوگوں کے دلوں میں جھانک کراُن کے ایمان اور کفر کا فیصلہ سنا سکتے ہیں۔
دوسرے استدلال کے جواب میں ایک بنیادی اصول سامنے رہناچاہیے۔وہ یہ کہ دنیاکاہرکام اپنی اصل میں مباح اورجائزہے، یہاں تک کہ اُس کی حرمت پرکوئی شرعی دلیل قائم ہوجائے۔اس کے مقابلے میں دین کے نام سے کیاجانے والاہرکام اپنی ذات میں غیر مباح اورناجائزہے،سواے اِس ایک صورت کے کہ اُس کے حق میں کوئی شرعی دلیل قائم کردی جائے۔اگرتکفیرایک دینی امرہے تو اس کے لیے اِباحت کے اصول سے کسی بھی صورت میں استدلال نہیں کیاجاسکتا،بلکہ ضروری ہے کہ اسے اُس وقت تک عمل میں نہ لایاجائے جب تک کوئی شرعی دلیل اس کا تقاضا نہ کرے ۔بغیرشرعی دلیل کے کسی کام کودین قرار دے دینا،اصطلاح میں ’بدعت‘ کہلاتاہے جوخداکے ہاں نہ صرف یہ کہ ناقابل قبول ہے،بلکہ دین میں اضافہ کرنے کی وجہ سے قابل مواخذہ بھی ہے۔مزید یہ بات بھی یادرہے کہ تکفیردوسری بے ضرربدعات کے مقابلے میں اس لیے بھی دلیل کی زیادہ محتاج ہے کہ اس پربعض اوقات لوگوں کی زندگی اور موت بھی منحصر ہوجایاکرتی ہے۔

۲۔ آیات

اس میں شک نہیں کہ قرآن نے بہت سے مقامات پراپنے مخاطبین کے لیے ’’کافر‘‘کالفظ استعمال کیاہے۔یہ استعمال لفظ کے لغوی اعتبارسے بھی ہواہے اورخالص مذہبی اعتبارسے بھی۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بہت سے مقامات پراس لفظ کواصطلاحی معنی میں بھی برتا گیاہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تکفیر کے جوازکی بحث میں اس طرح کے اصطلاحی استعمالات بھی اِثبات مدعامیں بالکل بے فائدہ ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ غامدی صاحب کی راے میں تکفیر کی مطلق نفی نہیں کی گئی کہ اُن کے سامنے یہ آیتیں پڑھی جائیں،بلکہ وہ اس کے اصلاًجائزہونے کے قائل ہیں، جیسا کہ پیچھے بیان ہوا۔ اُن کے نزدیک خدااس بات کاپوراپوراحق رکھتاہے کہ وہ کسی شخص کوکافرقرار دے اور قرآن مجید کے مذکورہ مقامات میں اُس کے اِسی حق کااظہارہواہے۔سوال صرف یہ ہے کہ خداکی ذات کے سواکسی اورکوبھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ خداہی کی طرح لوگوں کوکافرقراردے سکے؟اگریہ حق کسی اورکو حاصل نہیں تو ان آیتوں میں محض ’کافر‘ کا لفظ دیکھ کراپنے لیے تکفیر کا استدلال کرنابالکل ایساہی ہوگا جیسے کوئی شخص خداکے حاکم،مالک اوربادشاہ ہونے کی حیثیت سے کیے گئے فیصلوں کی آیتیں پڑھے اور اس بنیاد پر اپنے آپ کوبھی ان فیصلوں کا مجاز سمجھناشروع کر دے۔
جن آیات میں بعض اعمال کی بنیادپرکافرکہاگیاہے،اُن پرغورکریں تومعلوم ہوتاہے کہ وہ دوطرح کی ہیں: ایک وہ ہیں کہ جن میں کفریہ اعمال پرکافرہوجانے کی مطلق بات کی گئی ہے،جیساکہ یہ آیت:

وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ.(المائدہ ۵: ۴۴)
’’اورجولوگ اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں ،وہی کافرہیں۔‘‘

اوردوسری وہ ہیں کہ جن میں کفریہ اعمال پرکچھ لوگوں کے کافرہوجانے کی بات ہوئی ہے۔جیساکہ یہ آیت:

اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَّیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا. اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّا وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّھِیْنًا.(النساء۴: ۱۵۰۔۱۵۱)
’’جولوگ اللہ اوراس کے رسولوں کے منکرہورہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اوراُس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اورکہتے ہیں کہ کسی کومانیں گے اور کسی کونہیں مانیں گے اورچاہتے ہیں کہ ایمان اور کفر کے بیچ میں کوئی راہ نکالیں،وہی پکے کافرہیں اورہم نے ان کافروں کے لیے رسواکردینے والاعذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

اول الذکرآیات کے بارے میں واضح ہوکہ وہ صرف یہ بیان کررہی ہیں کہ فلاں اورفلاں کام کفرہے ،اس لیے ان کا ارتکاب کرنے والا کافر۔یعنی،وہ صرف قانون کابیان کررہی ہیں، نہ کہ اُس کے اِطلاق کا۔چنانچہ ان سے استدلال کرتے ہوئے یہ ہرگز نہیں کہا جاسکتاکہ جو شخص بھی یہ کفر کرے گا،وہ لازماًکافرقرارپاجائے گا۔زیادہ سے زیادہ یہ کہاجاسکتاہے کہ ان کی بنیادپرہمیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ قرآن کے انداز میں اس بات کوہم ایک اصول اور قاعدے کی صورت میں بیان کر دیں۔ مثال کے طورپرہم یہ کہیں کہ جوشخص خداکی کتاب کے مطابق فیصلہ نہ کرے، وہ کافر ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر خاص زید اوربکر کے بارے میں یہ کہناکہ چونکہ اُنھوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا، اس لیے وہ کافر ہوگئے ہیں،یہ اپنے حدودسے صریحاًتجاوزہے اوراس کے لیے ان آیتوں میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔
جن آیتوں میں کفریہ اعمال پربعض لوگوں کے کافرہوجانے کی بات ہوئی ہے،وہ در اصل، اُنھی لوگوں کے بارے میں ہوچکے خدائی فیصلے ہیں۔ان سے یہ نتیجہ بالکل نہیں نکالاجاسکتاکہ کفرکرنے والے ہرشخص کواب اس طرح کے فیصلوں کی بنیاد پر کافرکہا جاسکتا ہے۔۱۲؂ جب عدالت میں کسی شخص کومجرم قراردے دیاجاتاہے تواُس کامطلب یہ ہرگز نہیں ہوتاکہ اب رہتی دنیاتک محض یہ فیصلہ ہرملزم کو مجرم بنادیاکرے گا۔بلکہ ضروری ہوتاہے کہ ہرمرتبہ نئے سرے سے عدالت قائم ہو، اُس کاحقِ سماعت بھی ثابت ہو، شہادتیں سنی اور دیکھی جائیں اور اُن کی روشنی میں کسی ملزم کو مجرم قراردے کر سزاسنائی جائے یاباعزت بری کردیاجائے۔لہٰذا،صحیح بات یہی ہے کہ ہم ان آیات کے اتباع میں اُنھی افراد اورگروہوں کوکافرکہیں جواِن میں مذکورہوئے۔اورایساکرتے ہوئے ہم اُن کی تکفیرنہیں کریں گے ،بلکہ اُن کے بارے میں سنائے جاچکے خدائی فیصلوں کی صرف حکایت اوراُس کااعلان ہی کریں گے۔
یہاں ایک سوال اٹھایاجاسکتاہے کہ یہ آیتیں،صحیح ہے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ مخصوص ہیں، مگرجن اوصاف کی وجہ سے اُنھیں کافر قرار دیا گیاہے،وہ اوصاف اگرکسی اورمیں بھی پائے جاتے ہوں توکیااُن پربھی اس کااطلاق نہیں ہو جانا چاہیے؟ اس کے جواب میں یہ اصول یادرہے کہ ہر آیت اپنے اندرپائی جانے والی علت کی بنیادپردوسروں تک ممتد ہوتی ہے۔یہاں علت اُن لوگوں کامحض انکارکرنانہیں،بلکہ جانتے بوجھتے ہوئے اوربغیرکسی عذر کے انکارکردینا ہے۔ اور ظاہرہے ، اس طرح کی کسی علت کی خبرہمیں ہوسکے،اس بات کاکوئی امکان ہی نہیں کہ ہم اس بنیاد پران آیتوں کے حکم کاکسی دوسرے شخص پراطلاق کرسکیں۔
باقی رہی وہ آیت کہ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاگیاہے کہ وہ لوگوں کوکافرکے لفظ سے خطاب کرتے ہوئے براء ت کا اظہار کریں تواس سے بھی تکفیرکے جوازپر استدلال کرناممکن نہیں ہے۔اول توآپ کواس بات کاحکم اللہ دے رہاہے جوحقیقت حال سے خوب واقف اورکسی کوبھی کافرقرار دینے کا پوراپوراحق رکھتاہے۔دوسرایہ کہ وہ خاص اُن لوگوں کے متعلق یہ حکم دے رہاہے کہ جن پراس کی طرف سے ختم قلوب ہو چکا اور یہ طے ہے کہ وہ اُس کے پیغمبرکی دعوت پرکبھی بھی ایمان نہ لائیں گے۔چنانچہ اگلی آیت میں فرمایاہے: ’وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ‘، ’’نہ تم کبھی (تنہا) اُس کی عبادت کروگے جس کی عبادت میں کرتاہوں‘‘ (الکافرون ۱۰۹: ۳)۔ سو اس آیت سے تکفیر کا جواز اُسی صورت میں پیدا کیا جا سکتا ہے جب مکفرخدائی صفات کاحامل ہو، اورجن لوگوں کی تکفیراُس کے پیش نظر ہے، اُن کے دلوں پرمہر ہو جانے سے اچھی طرح واقف بھی ہو چکا ہو۔

________

۸؂ کسی پر ختم قلوب کردیاجانا، یہ اُس پرظلم نہیں ہے،اس لیے کہ جولوگ اپنی صلاحیتوں کی ناقدری کریں اورجانوروں کی طرح زندگی گزارنے پرقانع ہوجائیں، اُنھیں ان نعمتوں سے محروم کردیناہی قرین انصاف ہے۔
۹؂ کچھ ’’احتیاط پسند‘‘حضرات دوسروں کے بارے میں جہنم کا فیصلہ سنانے سے اس لیے رک جاتے ہیں کہ ہوسکتاہے کہ اُن کے پاس خداکے حضورپیش کرنے کے لیے کوئی عذرہو،مگرطرفہ تماشاہے کہ یہی حضرات جب دوسروں کی تکفیر کرتے ہیں تواس طرح کے تمام عذرات سے بالکل صرف نظرکرجاتے ہیں۔
۱۰؂ قدماکے ہاں کسی شخص کاکافرہوجانا،کم وبیش اس کے واجب القتل ہوجانے کے مترادف ہے۔یہاں تک کہ بعض حضرات تارکِ نمازکوبھی کافر قراردے کراُس کے قتل کے قائل ہوگئے ہیں۔البتہ، اس بات میں اختلاف ہوجاتاہے کہ اُسے دونمازیں چھوڑنے پر قتل کیاجائے یادو سے کم اورزیادہ نمازوں پر۔
۱۱؂ یہاں یہ خلط مبحث نہیں ہوناچاہیے کہ اگر قرائن سے یہ معلوم ہوسکتاہے کہ قتل جان بوجھ کرہواہے توکفرکیوں معلوم نہیں ہو سکتا؟ اس لیے کہ تکفیرمیں نیت اور ارادے کاعلم ہوناضروری ہوتاہے جو بالکل محال ہے۔حتیٰ کہ قتل میں بھی قرائن صرف یہ بتاتے ہیں کہ یہ کام غلطی سے نہیں ،ارادۃً ہواہے۔یہ نہیں بتاتے کہ اس کے پیچھے ارادہ کیاتھا۔
۱۲؂ شروع زمانے میں جب یہ روش چل پڑی کہ اس طرح کی آیتوں کودوسرے لوگوں پربھی چسپاں کیاجانے لگاتوابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس پرسخت نکیرفرمائی (بخاری، ص۱۴۵۴)۔

____________

تکفیر (3/4)




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List