Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

تکفیر (1/4) | اشراق
Font size +/-

تکفیر (1/4)

ہر مذہب اور اس کے ماننے والوں کے ہاں کچھ مخصوص اصطلاحات ہوتی ہیں۔دین اسلام میں اسی طرح کی ایک اصطلاح ’تکفیر‘ ہے جو مسلمانوں کے علم اور ان کی کلامی بحثوں میں شروع دورسے رائج رہی ہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ کوئی شخص جو اصلاً مسلمان نہیں ہے، یاکسی وجہ سے اب مسلمان نہیں رہا،اُسے باقاعدہ طورپرکافرقراردے دیا جائے۔ کسی کوکافرقراردینے کایہ کام چونکہ اپنی ذات میں نہایت پیچیدہ اور بہت سے مضمرات لیے ہوئے ہے ،اس لیے احتیاط پسندطبیعتیں بالعموم اس سے احترازہی کرتی رہی ہیں۔تاہم یہ بھی واقعہ ہے کہ علما کی ایک بڑی تعدادنے نہ صرف یہ کہ اسے روارکھا ،بلکہ اپنے ایمان واسلام کاایک ناگزیرتقاضابھی سمجھاہے۔ ان میں سے بعض کے ہاں یہ عافیت ضروررہی کہ انھوں نے اہل قبلہ کی تکفیرکونامناسب اورناجائزخیال کیا،مگران کی غالب اکثریت نے عقیدے سے انحراف اور ضروریات دین سے انکارکرنے پراُنھیں بھی کافرقراردے دیناجائزاوربے حدضروری جانا۔بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ ابتدائی دور میں وہ حضرات بھی ہوئے کہ جنھوں نے اس کی لَے اس حدتک بڑھادی کہ وہ محض کبائر کے ارتکاب پراس کااطلاق کردیاکرتے اور پھر یہاں تک چلے جاتے کہ علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما جیسے بزرگ صحابہ کوبھی کافر قرار دینے میں لمحہ بھر کی دیرنہ کرتے۔
تکفیرکے متعلق ان معروف آراکے مقابلے میں ایک راے وہ ہے جسے آج کے زمانے میں محترم جاویداحمدغامدی نے پیش کیاہے۔یہ راے اس لحاظ سے منفردہے کہ اس کے مطابق کسی مسلمان کی تکفیرکرناتوبہت دورکی بات ،کسی غیرمسلم کوکافرقراردینابھی جائزنہیں ہے۔ مزیدیہ کہ جوشخص اپنے آپ کومسلمان کہے ،اُسے غیرمسلم قراردینے کاحق بھی اب کسی فردیاگروہ ،حتیٰ کہ کسی ریاست کوبھی حاصل نہیں ہے۔موجودہ حالات کے تناظرمیں، جب کہ مسلم دنیا میں انتشار اور باہمی جنگ وجدل اپنے عروج پرہے اوراس سارے عمل میں تکفیرکامسئلہ کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے، ضرورت ہے کہ اس راے کابھی قدرے سنجیدگی سے مطالعہ کیاجائے۔علمی ذوق رکھنے والے حضرات اس کے مالہٗ وما علیہ پربحث کریں اوراس سلسلے میں دونوں ا طراف کے دلائل کا خالص علمی اندازمیں تجزیہ کریں۔سو ایسا ہوا بھی اور ایک سے زائد علماے کرام نے اس پر گراں قدر تنقیدات لکھیں اوراپنے موقف کو بہ حسن وخوبی بیان کیا۔ ہمارا خیال ہے کہ اگراس سلسلے میں چندامورکے بارے میں مزیدوضاحت کردی جائے تو صاحب راے کی بات کوٹھیک طرح سے سمجھنے اوراس کوقبول کرنے یا پھر اس پر تنقیدکرنے کی راہ مزید آسان ہوسکتی ہے۔باقی یہ بات توسب پرواضح ہے کہ دینی معاملات میں اصل معیارکسی راے کا قدیم یا جدید ہونا نہیں،بلکہ اُس کاصحیح اورغلط ہوناہی ہے۔
اس بات پرجناب غامدی اورکم وبیش سب علماکااتفاق ہے کہ اگرکوئی شخص اتمام حجت کے بعدحق بات کا انکار کر دے تواسے کافرقراردیاجاسکتاہے،اس لیے کہ یہ اتمام حجت اوراس کے بعدکفر،اصل میں یہی تکفیرکے دوبنیادی شرائط ہیں۔سوال پیدا ہوتاہے کہ شرائط میں اس قدراتفاق کے باوجود،اطلاق میں یہ جوہری فرق کیوں واقع ہو گیا ہے کہ علماتکفیرکے قائل اورکسی حدتک اس کے متمنی اوران کے مقابلے میں غامدی صاحب اس پرشدیدتنقیدکرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں؟اس سوال کاجواب پانے اوریہ دیکھنے کے لیے کہ فریقین کاموقف اوران کے دلائل کیاکچھ ہیں، ضروری ہے کہ اس بحث کوچندعنوانات کے تحت ذراتفصیل سے دیکھ لیا جائے۔جیساکہ :
۱۔اتمام حجت
۲۔کفر
۳۔تکفیرکے نتائج
۴۔تکفیرکاجواز
۵۔تکفیرکی ضرورت
۶۔مسلم اورغیرمسلم

اِتمام حجت

علماے قدیم ہوں یا جدید،یہ بات تقریباًسب کے ہاں طے شدہ ہے کہ کسی شخص کی تکفیرکے لیے پہلے اُس پر اتمام حجت کا ہوجانا ضروری ہے ۔غامدی صاحب بھی،جیساکہ پیچھے بیان ہوا،اس بارے میں یہی راے رکھتے ہیں۔ لیکن یہ اتمام حجت ہے کیااوریہ کس طرح سے واقع ہوتاہے،اس امرمیں ان کے درمیان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ علماکی عام طورپرراے یہ ہے کہ مخاطب تک دین کی بات کااِبلاغ کردیا جائے تواصل میں یہی اتمام حجت ہے۔ اب وہ مخاطب اُس بات کاانکارکردے تواُس کے اِس ظاہری انکارکی بنیادپربلاتردداُس کی تکفیرکی جاسکتی ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک اتمام حجت صرف ابلاغ کانام نہیں ہے۔اُن کی راے میں اول تویہی ضروری ہے کہ مخاطب تک دین کی بات کاابلاغ مکمل طورپر ہوچکاہو،مگراس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اُس پر اس بات کی تبیین بھی پوری طرح سے ہوچکی ہو۔ نیز،یہ تبیین اس قدرہوکہ خداکے سامنے پیش کرنے کے لیے اب اُس کے پاس کوئی عذر نہ رہ گیاہو۔یہ ابلاغ اورتبیین اپنی ذات میں کیاہیں،اورغامدی صاحب کے ہاں یہ دونوں اتمام حجت کے لیے لازم کیوں ہیں،مزیدیہ کہ یہ اتمام حجت کاذریعہ کس طرح سے بنتے ہیں،ان تمام باتوں کی تفصیل ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں:

۱۔اِبلاغ

اس سے مرادحق بات کا پہنچ جاناہے۔ خداکے ہاں اس چیزکوبڑی اہمیت حاصل ہے کہ حق بات لوگوں تک مکمل طور پر پہنچ چکی ہو۔اس لیے کہ دین کے سارے تقاضے اُسی صورت میں جائزقرارپاتے ہیں کہ جب ان کے بارے میں پہلے سے آگاہ کردیاگیا ہو۔کسی بے خبر آدمی سے یہ تقاضاکرناکہ وہ انھیں اپنے علم اورعمل میں لازماً اختیار کرے، نہایت ہی نامعقول اورناروابات ہے۔چنانچہ خداے برحق نے سب لوگوں تک حق بات کوپہنچانے کاپوراپوراانتظام کیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ دنیامیں اپنے پیغمبروں کو بھیجتاہے توابلاغ کے اس کام کواُن کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ یہ لوگ اسے اداکرتے ہیں یانہیں،یہ جاننے کے لیے وہ اُن کے آگے اور پیچھے پہرے لگادیتا ہے۔ ۱؂ بلکہ اگر کوئی پیغمبر، بہ فرض محال،اس کام کوبھرپورطریقے سے انجام نہیں دیتاتووہ اُس کے نزدیک گویا اپنے منصب کاحق ہی ادا نہیں کرتا۔۲؂ غرض یہ کہ ہدایت کے ابلاغ کی یہی اہمیت ہے کہ پروردگارکی طرف سے اس کے لیے بنیادی طور پر دو طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں:ایک داخلی اور دوسرے خارجی۔

داخلی انتظام

یہ انسان کے باطن میں کیاگیاہدایت کا انتظام ہے۔یعنی،دین کے بارے میں کچھ بنیادی حقیقتیں اس کی فطرت ہی میں ودیعت کردی گئی ہیں۔ مثال کے طورپر:
۱۔خداکی ربوبیت کاعلم شروع دن سے اس کی فطرت کاحصہ بنادیاگیا۔اس لیے کہ دین کی پوری عمارت خداہی کے وجودپرقائم ہوتی اوراُس کاانکاردرحقیقت دین کے بنیادی مقدمے کاانکارہوتاہے۔مزیدیہ کہ عالم ارواح میں تمام بنی آدم سے اس علم کاباقاعدہ اقرار بھی لیاگیا:

وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ م بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَلآی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَھِدْنَا.(الاعراف۷: ۱۷۲)
’’یادکرو ،جب تمھارے پروردگارنے بنی آدم کی پشتوں سے اُن کی نسل کونکالااوراُنھیں خوداُن کے اوپر گواہ ٹھیرایا تھا۔ اُس نے پوچھا تھا: کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ اُنھوں نے جواب دیا: ہاں،(آپ ہی ہمارے رب ہیں)، ہم اِس کی گواہی دیتے ہیں۔‘‘

۲۔اسے نیکی اوربدی میں امتیازکرنے کی فطرت دے کراس دنیامیں بھیجاگیا۔نیکی کے لیے محبت اوراس کی طرف میلان اوربدی سے نفرت اوراس سے گریزکی صالح فطرت بھی اسے دے دی گئی ۔مقصدیہ تھاکہ اسے اخلاقیات کے معاملے میں ایک واضح ہدایت میسرآسکے:

وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا، فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَ تَقْوٰھَا.(الشمس۹۱: ۷۔ ۸)
’’اورگواہی دیتاہے نفس اور جیسا اُسے سنوارا، پھر اُس کی بدی اور نیکی اُسے سجھا دی۔‘‘

خارجی انتظام

جس طرح انسان کے باطن میں کچھ ہدایات رکھ دی گئیں،اسی طرح اس کے خارج میں بھی اس کاباقاعدہ اہتمام کیاگیا۔مثال کے طورپر:
۱۔حضرت آدم علیہ السلام کویہ شرف عطاہواکہ اُنھوں نے براہ راست خداکی بات سنی اوراس طرح خدا کے ہونے کایہ خارجی علم اس پہلے انسان کوابتداہی میں حاصل ہوگیا۔ بعدازاںیہ اُن کی اولادمیں بھی متوارث ہوتا چلا گیا اور ان سب کی ہدایت کا ایک عظیم ذریعہ بن گیا:

قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنْبِئۡھُمْ م بِاَسْمَآءِ ھِمْ.(البقرہ۲: ۳۳)
’’ اللہ نے فرمایا: آدم اِن ہستیوں کے نام اِن فرشتوں کو بتاؤ۔‘‘

۲۔ پروردگارنے بہت ساری نشانیاں آفاق میں رکھ چھوڑیں۔یہ اپنے وجودسے اگراپنے خالق کاتقاضاکرتی ہیں توان میں جھلکتی ہوئی اُس کی بے پناہ ربوبیت اور قدرت، یوم حساب کی ایک واضح دلیل ٹھیرتی ہیں:

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ.(البقرہ۲: ۱۶۴)
’’اس میں شبہ نہیں کہ آسمان اورزمین کے بنانے میں، اورشب وروز کے بدل کرآنے میں ،اورلوگوں کے لیے دریامیں نفع کی چیزیں لے کرچلتی ہوئی کشتیوں میں، اور اس پانی میں جواللہ نے آسمان سے اتارا ہے، پھر اس سے زمین کواس کے مرجانے کے بعدزندہ کیا ہے اور اس میں ہرقسم کے جان دار پھیلائے ہیں — اور ہواؤں کے پھیرنے میں، اور آسمان وزمین کے درمیان حکم کے تابع بادلوں میں ،بہت سی نشانیاں ہیں ان کے لیے جواپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔‘‘

۳۔اُس نے مختلف زمانوں میں بہت سے انبیاکومبعوث کیاجواپنی ذات میں سراج منیر،یعنی ہدایت کے روشن مینارہوئے۔ انھوں نے اُس کی دی ہوئی سند کے ساتھ لوگوں کوہدایت دی اور فطرت اورآفاق میں موجود حقائق کی بے مثل تذکیرکی اور ان کی تفصیلات کواس قدرکھول کربیان کیاکہ اس سے زیادہ وضاحت کاتصورکرنابھی محال ہے:

وَجَعَلْنٰھُمْ اَئِمَّۃً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا.(الانبیاء ۲۱: ۷۳)
’’اورہم نے اُن کوامامت عطافرمائی کہ ہماری ہدایت کے مطابق(دنیاوالوں کی)رہنمائی کرتے تھے۔‘‘

۴۔ اس کے ساتھ بہت سے نبیوں کورسول بناکربھی بھیجاجنھوں نے دوسرے انبیاکی طرح آخرت کے بارے میں انذار کیا اور اچھے انجام کی خوش خبری سنائی۔ ان کے مقابلے میں جب انکاراورتکذیب کی روش اپنائی گئی تومزیدیہ ہوا کہ پروردگارعالم کی عدالت پوری شان سے اس زمین پربرپاہوگئی اوریوں رہتی دنیاتک کے لوگوں کے لیے آسمانی عدالت کی ایک محسوس دلیل قرارپائی:

وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ.(یونس۱۰: ۴۷)
’’ہرقوم کے لیے ایک رسول ہے۔پھرجب اُن کا رسول آجاتاہے تواُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیاجاتاہے اوراُن پر کوئی ظلم نہیں کیاجاتا۔‘‘

۵۔ان نبیوں اوررسولوں کے ساتھ خدانے بہت سی کتابیں اورصحیفے بھی اُتارے۔یہ حق وباطل کامعیار قرار پائے اوران کے ہوتے ہوئے اس معاملے میں ہدایت کے کسی اورانتظام کی ضرورت نہ رہ گئی:

وَ اَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ.(البقرہ ۲: ۲۱۳)
’’اور اللہ نے ان نبیوں کے ساتھ قول فیصل کی صورت میں اپنی کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے درمیان وہ اُن کے اختلافات کافیصلہ کردے‘‘

پروردگارکی طرف سے کیے گئے یہ ہدایت کے داخلی اورخارجی انتظامات ہیں۔ان کے بارے میں واضح رہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے غیرمتعلق اوراپنی ذات میں مستقل اوربے نیازنہیں ہیں،بلکہ ان کے درمیان میں ایک طرح کالزوم اورایک دوسرے پرمکمل انحصار پایا جاتا ہے۔انسان کااندرون جس بات کو محسوس کرتاہے،اُس کے بیرون میں پائی جانے والی ہدایت ہی اصل میں اس کا اولین محرک ہوتی ہے اورجب یہ باطنی احساس شدیدتر ہو جائے تویہی اس پر اپنی مہر تصدیق بھی ثبت کرتی ہے۔دوسری طرف سے دیکھا جائے تو اس کے بیرون میں موجود ہدایت اُس وقت تک نتیجہ خیزنہیں ہو سکتی جب تک کہ اندرون میں پائی جانے والی ہدایت اس کی تائید نہ کرتی ہو۔ یہ داخلی اورخارجی انتظامات اسی طرح ایک دوسرے کی تائیداورباہمی موافقت سے ابلاغ کے کام کوسرانجام دیتے اوریوں اتمام حجت کے پہلے جزکوآخری درجے میں پوراکردیتے ہیں ۔
یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ جس سے ناواقفیت اس باب میں اکثرلوگوں کے ہاں علمی مغالطوں کاسبب بن جاتی ہے۔وہ یہ کہ اس ہدایت کا انسان کے اندراوراُس کے گردوپیش میں موجودہونا،یہ ابلاغ نہیں ہے،اس لیے کہ یہ سب انتظامات اپنی اصل میں ہدایت کے محض ذرائع ہیں۔اس سے آگے بڑھ کر،اس ہدایت کا کانوں میں پڑ جانا یا اس کے آثارکانگاہوں کے سامنے آجانا،یہ بھی ابلاغ نہیں ہے، اس لیے کہ یہ سماعت وبصارت بھی اسے دل و دماغ تک پہنچانے کے بس ذریعے ہی ہیں۔اِبلاغ یہ ہے کہ ہدایت ان ذرائع سے کسی شخص تک اس طرح پہنچ جائے کہ ہم بلاتردد اُس کے بارے میںیہ کہہ سکیں کہ وہ اسے ’’جانتا‘‘ہے۔ ہم بارہادیکھتے ہیں کہ کسی شخص کے داخل میں دوسرے انسانوں کی طرح فطری ہدایت موجود ہوتی ہے اوروہ خارج سے اس کی بصارت اور اس کی سماعتوں سے بھی ٹکرارہی ہوتی ہے،مگروہ اس کے علم ا ورشعورتک بالکل نہیں پہنچ پاتی،اس لیے کہ وہ مثال کے طور پر، مجنون اوردیوانہ ہوتا ہے۔یادوسری صورت میں وہ دانا اوربیناتوہوتاہے اوراُس کے خارج میں خداکی اتاری ہوئی کتابیں اوراس کے بھیجے ہوئے پیغمبربھی موجود ہوتے ہیں ، مگر کسی قدرتی اورواقعی حجاب کی وجہ سے اُس تک ان چیزوں کاابلاغ ہی نہیں ہوپاتا کہ ہم اس کے بارے میں بھی یہ کہہ سکیں کہ وہ ان باتوں کو ’’جانتا‘‘ ہے۔۳؂

۲۔ تبیین

اس سے مرادحق بات کاواضح ہوجاناہے۔تبیین کایہ عمل کہ جسے دوسرے لفظوں میں وضوح بھی کہا جا سکتا ہے، اتمام حجت کادوسرا لازمی جزہے۔کسی شخص پراتمام حجت کے لیے ضروری ہے کہ اُس تک حق بات کانہ صرف یہ کہ ابلاغ ہوچکاہو،بلکہ وہ آخری درجے میں اس پر واضح بھی ہوچکی ہو۔یہ وضوح دوچیزوں میں ہوتاہے :ایک اُس بات کے مطلب اورمفہوم میں اوردوسرے اس کے حق اورسچ ہونے میں۔اگروہ شخص اُس بات کوابھی تک سمجھاہی نہیں یا وہ بات حق ہے اوراس کے مقابلے میں باقی سب کچھ باطل،یہ بات نہیں سمجھ سکاتواس کا مطلب یہی ہے کہ اس پر وضوح کاہوناابھی باقی ہے۔یہ اس لیے ضروری ہے کہ انسان دنیا میں ہونے والے امتحان میں اپنے علم اور سمجھ کی بنیاد پر مسؤل ٹھیرایاگیاہے۔چنانچہ جب تک وہ کسی چیزکو اچھی طرح سے سمجھ نہ لے، اس سے کوئی بازپرس ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔ خدا کی صفت عدل بھی اس طرح کے ظلم سے شدید اِبا کرتی ہے کہ وہ کسی شخص کوعلم دیے بغیر اُس کا مواخذہ کرے یاوہ بات کوابھی سمجھ نہ پایاہواوروہ پھربھی اُس کو سزا دے ڈالے۔اتمام حجت کے ذیل میں اس کی یہی حیثیت ہے کہ خدانے اس کا بہت زیادہ اہتمام کیا ہے۔مثال کے طورپر:
۱۔وہ اپنے پیغمبروں کوجس طرح ہدایت پہنچانے کاذمہ دارٹھیراتاہے ،اسی طرح ان سے یہ تقاضابھی کرتاہے کہ وہ اس کے متعلق ہرچیز لوگوں کے سامنے کھول کھول کربیان کردیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایاہے:

وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ.(النحل۱۶: ۴۴)
’’اوریہ یاددہانی ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، اس لیے کہ تم اِن لوگوں کے لیے اُس چیزکوکھول کر بیان کردوجواِن کی طرف نازل کی گئی ہے ۔‘‘

۲۔دعوت کے دوران میں لوگ سوال اٹھاتے ہیں توپروردگار عالم خود ان کے جوابات دیتااورہرطرح کے دلائل سے اپنی بات کو واضح کرتاہے:

کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ.(البقرہ۲: ۱۸۷)
’’اللہ اسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے لیے واضح کرتاہے تاکہ وہ تقویٰ اختیارکریں ۔‘‘

۳۔اس کی طرف سے نازل ہونے والی کتابیں بھی اسی تبیین ووضاحت کی حامل ہوتی ہیں۔چنانچہ آخری کتاب کاتعارف اس نے کئی جگہ کتاب مبین کے الفاظ سے کرایا بھی ہے:

الٓرٰ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ.(یوسف۱۲: ۱)
’’یہ سورہ ’اآر‘ ہے۔ یہ اُس کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنا مدعا پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔‘‘

۴۔یہاں تک کہ وہ اسی مقصدکے پیش نظرکسی دوسری زبان میں نہیں ،بلکہ لوگوں پراُنھی کی زبان میں اپناکلام نازل کرتاہے:

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ.(ابراہیم۱۴: ۴)
’’ہم نے جورسول بھی بھیجاہے،اُس کی قوم کی زبان میں بھیجاہے،اس لیے کہ وہ اُنھیں اچھی طرح کھول کر سمجھا دے۔‘‘

۵۔بلکہ وہ ہدایت کاابلاغ ہوجانے کے فوری بعداگرلوگوں کی پکڑنہیں کرتااورانھیں ایک خاص مدت تک کے لیے مہلت دیتاہے تو اس کی ایک وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ اسے اچھی طرح سے سمجھ لیں۔یہ مہلت حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کو تقریباً ساڑھے نوسوسال تک دی گئی:

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَلَبِثَ فِیْھِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا.(العنکبوت۲۹: ۱۴)
’’ہم نے نوح کواُس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تو وہ پچاس کم ایک ہزارسال اُن لوگوں میں رہا۔‘‘

یہ سب ہدایت کی تبیین اوراُس کی وضاحت کے لیے کیاگیااہتمام ہے۔اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے انسان کوکچھ مخصوص صلاحیتوں ،یعنی سماعت وبصارت اورعقل وفکرسے بھی نوازا گیا ہے۔۴؂ ان صلاحیتوں کافقدان یاان میں کوئی واقعی نقص نہ پایاجاتا ہواور آدمی نفسانی عوارض سے اپنے آپ کوبچاکررکھے تودین کی ہدایت جواپنی حقیقت اوراپنے بیان میں انتہادرجے کی سادگی لیے ہوئے ہے، اس کے سامنے بالکل واضح ہوجاتی ہے۔البتہ ،یہ بات بھی صحیح ہے کہ ہرایک کے لیے ہدایت کے مواقع اوراسے اخذکرنے والی صلاحیتیں چونکہ ایک جیسی نہیں ہوتیں ،اس لیے تبیین کایہ عمل بھی ہرکسی کے لیے ایک جیسانہیں ہوتا۔

خلاصۂ بحث

خلاصہ یہ ہے کہ تکفیر کے لیے جس اتمام حجت کی ضرورت ہے ،وہ اپنی حقیقت میں دوچیزوں سے مرکب ہے: ایک ابلاغ اور دوسرے تبیین۔ علما ے کرام جن جن دلائل کی بنیادپر ابلاغ کولازم قراردیتے ہیں ،کم وبیش وہی دلائل اتمام حجت کے دوسرے جز،یعنی ، تبیین کے حق میں بھی موجود ہیں۔اگرابلاغ کاہوناعقل وفطرت کاتقاضاہے اور اس دنیامیں برپا ہمارے امتحان کاایک لازمہ ہے تواس کی تبیین بھی انھی اصولوں پرواجب ٹھیرتی ہے ۔ابلاغ کے لیے خدانے بہت سے انتظامات کیے ہیں تواس کی وضاحت کے لیے بھی کچھ کم انتظام نہیں کیا اور ان دونوں کے بارے میں یہ خصوصی اہتمام خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں ہی اصل میں مقصودہیں کہ یہ سب اُس ذات کی طرف سے ہواہے جوکسی بھی طرح کی بے مقصدیت سے بالکل پاک ہے۔سو کوئی وجہ نہیں ہے کہ تکفیرکے عمل میں ان دونوں میں سے ایک کوشرط کے طورپرقبول کیاجائے اوردوسرے سے مطلق صرف نظرکرلیا جائے۔

کفر

’کفر‘عربی زبان کاایک لفظ ہے اورکئی مفاہیم کے لیے استعمال کیاجاتاہے۔علماکے ہاں تکفیرکی بحث میں عام طور پر اس کے ایک سے زائدمفاہیم کالحاظ رکھاجاتااوران تمام معنوں میں اس کاارتکاب کرنے والوں کوکافرقراردے دیا جاتا ہے۔ ان کے مقابلے میں غامدی صاحب اس کے ایک خاص معنی کوسامنے رکھتے ہیں۔وہ یہ کہ کوئی شخص اِتمام حجت کے بعدحق بات کاانکارکردے۔یعنی، بات اُس تک پہنچ جائے اورآخری درجے میں اُس پر واضح بھی ہوجائے اوروہ پھربھی اسے مان لینے سے انکاری رہے۔اُن کے نزدیک یہ اِنکارہی اصل میں وہ کفرہے کہ جس کی بنیادپرکوئی شخص کافرقرارپاتاہے۔نیز،وہ یہ شرط بھی لگاتے ہیں کہ اس انکارکے پیچھے ضد اور ہٹ دھرمی کے سواکچھ نہ ہو،اس لیے کہ کسی معقول عذرکی بنیادپرکیاجانے والاانکاراگرچہ صریح ہو،پھربھی ’کفر‘نہیں ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تواُن کے ہاں اتمام حجت کے بعدمحض انکارنہیں، اِس طرح کاانکارہے جوتکفیرکی دوسری لازمی شرط قرارپاتاہے۔اُن کی اِس بات کی وضاحت ہم دو عنوانات کے تحت دیکھ سکتے ہیں:ایک کفرکامطلب اوردوسرے اعذار۔

۱۔ کفر کا مطلب

’کفر‘کااصل مطلب چھپاناہے۔یہیں سے اس کے اندرکسی چیزکی ناشکری اوراُس کے انکارکامعنی پیداہوا۔ ہرزبان میں یہ ہوتا ہے کہ الفاظ اپنا معنی اپنے مقابل کی رعایت سے متعین کرتے ہیں،چنانچہ ’کفر‘کالفظ بھی جب شکرکے مقابلے میں آئے توہم جان لیتے ہیں کہ اس کا مطلب ناشکری ہے۔۵؂ اسی طرح جب یہ ایمان کے مقابلے میں آئے تواس کامطلب نہ ماننااورانکارکردیناہوتا ہے۔ سردست ہماری ساری بحث ’کفر‘کے اس دوسرے معنی تک محدودہے۔اس معنی میں اسے قرآن نے بہت سارے مقامات پراستعمال کیاہے۔ان تمام مقامات کااگردقت نظر سے مطالعہ کیاجائے تومعلوم ہوجاتاہے کہ اس کے پیش نظرتین طرح کے مفاہیم کو ادا کرناہے:
اول،اس کے لغوی مفہوم کواداکرنا۔جیساکہ بیان ہواہے:

اِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَکْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ.(ابراہیم۱۴: ۲۲)
’’تم نے جومجھے شریک ٹھیرایاتھا،میں نے اُس کا پہلے ہی انکارکردیاہے۔‘‘

یعنی، میں اس بات کوماننے سے انکارکرتاہوں۔
دوم،اس لفظ کوعام لغوی معنی سے اوپراُٹھاکراس سے ایک خاص طرح کامذہبی مفہوم اداکرنا۔جیساکہ ارشاد ہوا ہے:

لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ.(المائدہ۵: ۷۲)
’’اُن لوگوں نے بھی یقیناًکفر کیا ہے جنھوں نے کہا کہ خداتویہی مسیح ابن مریم ہے۔‘‘

یعنی، انھوں نے یہ شرک کرکے ایک مذہبی حقیقت کو ماننے سے انکارکردیاہے۔
سوئم،اسے مذہب کی ایک باقاعدہ اصطلاح بناکراستعمال کرنا۔اب اس کامطلب محض کسی دینی حقیقت کا انکار کر دینانہیں، بلکہ دین کی کسی بات کے واضح ہوجانے کے بعدجان بوجھ کراس کاانکارکردیناہوتاہے۔مثال کے طور پر فرمایاہے:

کَیْفَ یَھْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ وَشَھِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَآءَ ہُمُ الْبَیِّنٰتُ.(آل عمران۳: ۸۶)
’’اللہ اُن لوگوں کوہدایت کس طرح دے گاجوماننے کے بعد منکر ہوگئے،دراں حالیکہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور(ان کی سچائی پرگواہی کے لیے) اُن کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں بھی آچکی ہیں۔‘‘

یعنی، اُنھوں نے دل سے مان کرپھرجان بوجھتے ہوئے انکارکردیا۔
لفظِ ’کفر‘کے ان تینوں استعمالات کو جان لینے کے بعد بہ خوبی واضح ہوجاتاہے کہ پہلے دومعنوں میں کسی شخص کو کافر کہہ دینا، اصل میں اس لفظ کافقط لغوی استعمال ہے۔ اس طرح کے استعمال کویہ کہتے ہوئے جائزقراردیاجاتاہے کہ ہم کسی فعل کو ادا کرنے والے شخص کو عام بول چال میں اُس کافاعل ہی کہتے ہیں،جیسے مارنے والے کو ’ضَرَبَ‘ کی مناسبت سے ’ضَارِب‘ کہہ دیاجائے۔لیکن اس معاملے میں واضح رہے کہ یہاں فاعل کے اصول پر کسی کو کافر کہہ دیناہرگزجائزنہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی لفظ باقاعدہ اصطلاح بن جائے تواُسے بغیرکسی قرینے ۶؂ کے اُس کے اصطلاحی مفہوم سے ہٹ کردوسرے مفاہیم میں استعمال کرنا اب ممکن نہیں رہتا۔ مثال کے طورپر، ہم ’مسلم‘کی اصطلاح محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لانے والوں کے لیے بولتے ہیں۔ اسے اِطاعت گزار یاکسی بھی دینی حقیقت کا اقرارکرنے والوں کے لیے اب ہرگز نہیں بولا جا سکتا، الاّ یہ کہ کسی قرینے سے اس کی وضاحت کردی جائے۔ اسی طرح کا معاملہ لفظ ’بدعت‘ اوراس کے فاعل کابھی ہے ۔ اصطلاح بن جانے کے بعداب ہروہ شخص جوکسی بھی طرح کے نت نئے کام کرتاہو، اُسے بھی محض فاعل کے قیاسی اصول پرہم بدعتی نہیں کہہ سکتے۔تاہم، اس کے باوجود اگرکوئی شخص اول الذکردومعنوں میں اس کاارتکاب کرنے والوں کے لیے کافر ہی کے لفظ پر اصرار کرے تو یہ اپنے منہ سے بس ایک بات کہہ دیناہے،اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔البتہ، جب تیسرے معنی میں کسی کو کافر کہا جاتا ہے تواس کے بارے میں اول تویہ بات واضح رہے کہ اصل میں یہی تکفیرہے جواپنے ساتھ بہت سے مقدمات اور نتائج لیے ہوئے ہے ،اور اسی کے جوازمیں غامدی صاحب دیگرعلماے کرام سے اختلاف کرتے ہیں۔ دوم یہ کہ قرآن جب کسی شخص کی تکفیر کرتا ہے تووہ لفظِ ’کفر‘کواسی تیسرے معنی میں استعمال کررہاہوتاہے۔ ذیل کی یہ آیت ان دونوں باتوں کی صریح دلیل ہے:

فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖ فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ.(البقرہ ۲: ۸۹)
’’پھرجب وہ چیزان کے پاس آئی جسے خوب پہچانے ہوئے تھے تویہ اُس کے منکرہوگئے۔سواللہ کی لعنت ہے اِن کافروں پر۔‘‘

۲۔ اعذار

یہ علم وعقل اوراخلاق سے متعلق ہر نظام میں بنیادی مسلمات کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نہ تو کسی قادرِ مطلق ہستی کانام ہے اورنہ ہروقت اُس کی طبیعت اور حالات ہی ایک جیسے ہوتے ہیں کہ تعمیل حکم میں اُس کے سارے افرادسے ایک جیسا تقاضا کیا جائے۔ دینِ اسلام کی بھی ہربات میں ،وہ عقیدے کی ہویاعمل کی،ان اعذار کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔۷؂ دیگرعلماکے مقابلے میں غامدی صاحب کامعاملہ یہ ہے کہ وہ ان کی اِس حیثیت کا مسئلہ تکفیرمیں بھی پوراپورا لحاظ رکھتے اوراس بنیادپرہرکس وناکس کورعایت دینا ضروری سمجھتے ہیں۔اُن کے نزدیک اگر کوئی شخص حقیقی اوراصطلاحی معنی میں کفرکرے تواس سے بھی یہ لازم نہیں آتا کہ اُس کی تکفیرضرورہی کر دی جائے۔ اس لیے کہ اس بات کا امکان کبھی رد نہیں کیاجاسکتاکہ وہ اس کفر میں اپنے پاس کوئی عذررکھتاہوجوخداکے ہاں قابل مسموع اور قابل التفات ٹھیرے۔یہ اعذاربہت سے ہوسکتے ہیں اورحق بات کوسمجھنے ،اُس کااقراریااُس پرعمل کرنے کے دوران میں کسی بھی وقت لاحق ہوسکتے ہیں،ہم ان میں سے چندایک کوذیل میں بیان کیے دیتے ہیں:

۱۔ عدم استطاعت

ہربات مخاطب کی استطاعت کے مطابق اُس پرلازم کی جاتی ہے،اس لیے کہ یہی عدل اوریہی انصاف ہے۔ کسی لنگڑے شخص سے بھاگنے اورکسی اندھے شخص سے دیکھنے کامطالبہ کرنا، تکلیف مالایطاق ہے جو صریح طور پر ناروا اور ایک ناجائزامرہے۔دین کی بھی ہر بات میں مخاطب کی استطاعت کی رعایت ہوتی ہے۔جس شخص میں یہ استطاعت موجودنہ ہو،وہ کسی بات کامکلف ہی نہیں رہتاکہ خدا اس بارے میں اُس سے کوئی جواب دہی کرے۔ ارشاد ہوا ہے:

لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا.(البقرہ ۲: ۲۸۶)
’’اللہ کسی پراُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔‘‘

۲۔ خطا

غلطیوں سے درگذرکرناعین رحمت ہے۔والدین بچے کی غلطیوں سے اعراض کرتے ہیں جواُن کی محبت اور شفقت کی دلیل ہوتا ہے۔خدابھی بڑامہربان ہے اوراُس کی رحمت اُس کے غضب سے آگے بڑھ گئی ہے۔وہ اپنے بندوں کی غلطیوں پرکبھی اُن کامواخذہ نہیں کرتا۔اُس کے ہاں بس وہی گناہ قابل گرفت ہیں جو غلطی اوراتفاق سے نہیں، دل کے ارادے اورتعمدکے نتیجے میں واقع ہوں۔فرمایاہے:

وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِہٖ وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا.(الاحزاب۳۳: ۵)
’’تم سے جوغلطی اِس معاملے میں ہوئی ہے،اُس کے لیے تم پرکوئی گرفت نہیں،لیکن تمھارے دلوں نے جس بات کاارادہ کرلیا، (اُس پرضرور گرفت ہے)۔ اور اللہ بخشنے والاہے ،اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

۳۔ جبر و اکراہ

کسی شخص کواُس کام پرجواب دہ ٹھیراناجواس نے کسی جبراوراِکراہ کے تحت کیاہو،صریح ظلم اورحددرجے کی زیادتی ہے۔اللہ کی ذات اس طرح کے ہرظلم سے پاک ہے۔اُس کے ہاں پرسش اس عمل کی ہوتی ہے جوکسی مجبوری سے نہیں ،بلکہ آزادانہ مرضی سے کیاگیا ہو۔سواس نے بتادیاہے کہ اگردل میں ایمان موجودہو اورکسی مجبوری کے باعث کفرکرناپڑے تواس پرکوئی مواخذہ نہیں ہے:

مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنْ م بَعْدِ اِیْمَانِہٖٓ اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ م بِالْاِیْمَانِ وَ لٰکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْھِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ.(النحل۱۶: ۱۰۶)

’’جو اپنے ایمان لانے کے بعداللہ سے کفر کریں گے، اُنھیں اگر مجبور کیا گیا ہو اور اُن کا دل ایمان پر مطمئن ہو، (تب توکچھ مواخذہ نہیں)،مگر جوکفرکے لیے سینہ کھول دیں گے،اُن پراللہ کاغضب ہے اور انھیں بڑی سخت سزاہوگی۔‘‘

خلاصۂ بحث

غامدی صاحب کی راے کے مطابق کفراپنے ہرمعنی میں تکفیرکاموجب نہیں ہے،جیساکہ علماکاعمومی رجحان ہے۔کسی شخص کااِتمام حجت کے بعد جانتے بوجھتے ہوئے دین کی بات کاانکارکردینا،اصل میں یہی وہ کفرہے جو تکفیر کی بحث سے متعلق ہے۔وہ اس پریہ شرط بھی لگاتے ہیں کہ اس کفر کاارتکاب کرنے والے کے پاس اس معاملے میں کوئی عذربھی نہ ہوناچاہیے۔اس لیے کہ عین ممکن ہے کہ اُس شخص میں ہدایت کواخذ کرنے والی صلاحیتیں بالکل معدوم ہوں یا اُن میں کوئی واقعی خلل پایاجاتاہویااُس کے ماحول میں وہ تحریک ہی موجود نہ ہوکہ ہدایت اُس کے علم و شعور تک رسائی پاسکے ۔اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دل وجان سے ہدایت کوپانے کی جستجوکرے،مگراس میں کسی سنگین غلطی کاارتکاب کرے،حتیٰ کہ صریح کفر کا اظہار اوراُس کااقرارکربیٹھے۔اوریہ بھی ممکن ہے کہ وہ حق بات کو جان تو لے، مگرکسی جبرکے مانع ہوجانے کی وجہ سے اُس کاانکار کردے۔اب ظاہرہے کہ اس طرح کی تمام صورتوں میں وہ عدم استطاعت،خطااورجبرواکراہ کی وجہ سے جواب دہ ہی نہیں رہ جاتا،چہ جائیکہ کوئی اُس کی تکفیرکردے۔

________

۱؂ الجن ۷۲: ۲۸۔ ’’ وہ اُن کے آگے اورپیچھے پہرالگادیتاہے تاکہ معلوم رہے کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں، اور وہ اُن کے ماحول کوگھیر ے میں اوراُن کی ہرچیزکوگنتی میں رکھتا ہے‘‘۔
۲؂ المائدہ ۵: ۶۷۔’’اے پیغمبر،جوکچھ تمھارے پروردگارکی طرف سے تم پرنازل کیاگیاہے،وہ انھیں پہنچا دو اور (یاد رکھو کہ) اگر تم نے ایسا نہ کیا تواس کا پیغام نہیں پہنچایا‘‘۔
۳؂ ایساہوجانا،اس دنیامیں معمول کی بات ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین پرعذاب کافیصلہ ہونے جارہا تھا تواس مرحلے پر بھی فرمایاگیا کہ ان میں سے جو کوئی پناہ کاطالب ہو، اُسے پناہ دے کراللہ کی بات سنائی جائے،اس لیے کہ یہ اُس قوم کے افرادہیں جودین اورنبوت سے زیادہ واقف نہیں (التوبہ۹: ۶)۔
۴؂ ان صلاحیتوں کایہ واجبی حق بھی ہے کہ ہدایت کوپانے کے لیے انھیں لازماًاستعمال میں لایاجائے کہ ایسانہ کرناحقیقت میں ان کی ناقدری کرنا ہے (المومنون ۲۳: ۷۸)۔
بلکہ یہی وہ صلاحیتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے انسان جانوروں سے الگ ایک نوع قرارپاتااوراگراِن سے فائدہ نہ اٹھائے تو اُنھی کا ایک فردہو کر رہ جاتا ہے (الانفال ۸: ۲۲)۔
۵؂ جیساکہ اس آیت میں: ’وَاشْکُرُوْا لِیْ وَ لَا تَکْفُرُوْنِ‘ (البقرہ ۲: ۱۵۲)۔
۶؂ جیساکہ اس آیت میں’کافر‘چونکہ اصطلاحی معنی میں نہیں ہے،اس لیے’ ملاقات ‘کاقرینہ بھی اس کے ساتھ لایاگیاہے: ’وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّہِمْ لَکٰفِرُوْنَ‘، ’’بے شک ،لوگوں میں بہت سے ہیں جواپنے پروردگارسے ملاقات کے منکرہیں‘‘ (الروم ۳۰: ۸)۔
۷؂ ان اعذارکے بارے میںیہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ یہ کہیں باہرسے آکرحکم میں شامل نہیں ہوتے،بلکہ ایک عقلی اقتضا کے طورپراُس کی ابتداہی سے اس کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ضروری نہیں ہوتاکہ انھیں ہرحکم کے ساتھ الگ سے بیان بھی کیا جائے۔

____________

تکفیر (2/4)




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List