Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Rizwan Ullah Profile

Rizwan Ullah

  rizwanullah_222[email protected]
Author's Bio
Visit Profile
تکفیر (4/4) | اشراق
Font size +/-

تکفیر (4/4)

تکفیر (3/4)

تکفیر کی ضرورت

غامدی صاحب کے نزدیک تکفیر ایک ناجائزامرہے ،اس لیے کہ اسے جائزقراردینے کے لیے کوئی دلیل چاہیے اوروہ دلیل، جیسا کہ پیچھے تفصیل گزری،موجودنہیں ہے۔اسی طرح وہ سمجھتے ہیں کہ تکفیرکی ہمیں کوئی ضرورت بھی نہیں ہے ،اس لیے کہ دین اسلام میں کوئی حکم ایسانہیں دیاگیاکہ جس پرعمل کرنا تکفیرپرموقوف ہو۔ان کے مقابلے میں جولوگ اس کے قائل ہیں،اُن کاکہنا ہے کہ دین میں کچھ ضرورتیں ضرور ایسی پائی جاتی ہیں جو ہم سے لوگوں کی تکفیر کا شدت سے تقاضاکرتی ہیں۔مثال کے طور پر، وہ کہتے ہیں:
۱۔ دین میں ارتدادکی سزا موت ہے اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پرلازم ہے کہ ہم ان سزاؤں کا نفاذ کریں۔ ظاہر ہے ،کسی شخص پراِس سزاکانفاذاُسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب اُس کے بارے میں یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ وہ اسلام کوچھوڑکر اب کافر ہوچکاہے۔
۲۔ مال وراثت اوراُس کی تقسیم،آئے روز پیش آنے والا ایک قضیہ ہے اور حدیث میں ہے کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے۔ ۲۹؂ سو اس حکم پرعمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم میّت کے مسلمان اور کافرہونے کے بارے میں کوئی نہ کوئی راے ضرورقائم کریں۔
۳۔ دین اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ مسلمان اورکافرکے درمیان میں حمایت ونصرت کاکوئی تعلق قائم نہیں ہو سکتا۔ ایک مسلمان ہی دوسرے مسلمان کا ولی ہوسکتا اورمسلمان ریاست ایک مسلمان ہی کے حقوق کی ضامن ہوسکتی ہے۔ چنانچہ ہم پریہ لازم ہوجاتا ہے کہ ولایت کے اس تعلق کی رعایت سے ہم اپنے معاشرے کے افرادکومسلمان اور کافر میں تقسیم کریں۔
۴۔ اسی طرح نکاح وطلاق کے معاملات ہیں کہ جن میں ہمارے لیے یہ جاننابے حدضروری ہوتاہے کہ کون مسلمان ہے اورکون کافر،اس لیے کہ کفرکی بنیادپربعض نکاح ہمارے لیے ممنوع قراردے دیے گئے ہیں۔یہی صورت حال نماز جنازہ اوردعاکی ہے کہ ہمیں کافروں کے لیے ان امورکااہتمام کرنے سے سختی سے روک دیا گیا ہے۔

دلائل کا تجزیہ

ہم ان دلائل کی حقیقت پراپنی گزارشات ذیل میں پیش کرتے ہیں:
۱۔ارتدادکے بارے میں ایک بات تویہ سامنے رہنی چاہیے کہ یہ اپنی ذات میں صریح کفرہے اورکسی کو مرتد قرار دینا اصل میں اُس کی تکفیرکردیناہے۔چنانچہ اگرتکفیرایک ناجائزامرہے جیساکہ اس پرسیرحاصل گفتگوہوچکی،توکسی شخص کواس معنی میں مرتدقراردے دیناکہ وہ اب کافر ہوچکاہے،یہ بھی آپ سے آپ ایک ناجائز امر ہے۔۳۰؂ دوسرے یہ کہ غامدی صاحب کے مطابق شریعت میں اِرتدادکی کوئی سزاسرے سے مقررہی نہیں ہے کہ اس کے لیے کسی کی تکفیرکرنے کی ضرورت پڑے۔ ارتداد، شرک اورکفرکی طرح خداکی جناب میں کیا جانے والا ایک جرم ہے اور کسی شخص پرمتعین طورپراس کااطلاق اوراس کی سزادینے کا حق بھی صرف اُسے حاصل ہے ،اورہم جانتے ہیں کہ اس حق کا استعمال وہ بالعموم آخرت کے دن پراٹھارکھتاہے۔جہاں تک قرآن کی اُن آیات کامعاملہ ہے جو ارتداد پراسی دنیا میں سزا دینے کی بات کرتی ہیں توغامدی صاحب کے نزدیک وہ آیتیں خداکی اُس سنت کابیان ہیں جس کے مطابق وہ اپنے اس حق کا استعمال گاہے گاہے اپنے رسولوں کوبھیج کر اس دنیا میں بھی کرتارہاہے۔چنانچہ کسی شخص کو مرتد قرار دینے کاکام نہ توشریعت کاکوئی مستقل حکم ہے نہ خداہم سے اس کا تقاضاہی کرتاہے کہ ہم اسے شرعی ضرورت کا نام دیں اور لوگوں کی تکفیرکرنے لگیں۔
۲۔ قرآن میں وراثت کاقانون بیان کرتے ہوئے بیان کیاگیا ہے کہ ’لَا تَدْرُوْنَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا، فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ‘۔۳۱؂ اس سے دوباتیں بالکل واضح ہوجاتی ہیں:اول یہ کہ وراثت کے مال میں یہ حصے خوداللہ نے مقرر کر دیے ہیں،دوم یہ کہ حصوں کی یہ تقسیم اُس نے اسلام اورکفرکی بنیاد پر نہیں،بلکہ میّت کے رشتوں میں پائی جانے والی منفعت کی بنیادپرکی ہے۔چنانچہ اس قانون کے بعد اب کسی مسلمان کویہ حق نہیں ہے کہ وہ اس کے مقابلے میں کوئی دوسراقانون وضع کرے یااس میں بیان کردہ حصوں میں کوئی کمی بیشی کرے یامنفعت کے علاوہ کسی اوربنیادپر ان حصوں کوساقط کردے۔اس ذیل میں جوحدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی جاتی ہے،غورکیا جائے تووہ بھی اسلام اورکفرکے بجاے منفعت کے اسی اصول پر مبنی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب رسول دعوت کے ایک خاص مرحلے میں اپنے منکرین سے اعلان براء ت کر تے ہیں تو اس کاایک لازمی تقاضا یہ بھی ہوتاہے کہ وہ اوراُسے ماننے والے ان منکرین سے معاشرتی طورپرقطع تعلق کرلیں۔یہ مقاطعہ بعض اوقات رحمی اور مصاہری رشتوں میں بھی واقع ہوجاتاہے جب ماں باپ ،بہن بھائی اور میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلیتا اوردوسرااپنے کفرہی پراڑارہ جاتاہے اورجس کاناگزیر نتیجہ یہ نکلتاہے کہ ان رشتوں میں پائی جانے والی منفعت یک سر ختم ہوکررہ جاتی ہے۔حالات کایہی تناظرتھاجس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاہے کہ اب مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکیں گے۔سو یہ حدیث وراثت کے قانون میں کسی استثناکوبیان نہیں کررہی کہ کوئی منفعت کے بجاے اسلام اور کفرکواصل قراردے اورپھر اس بنیادپرتکفیرکی ضرورت کا نکتہ پیداکرے ،بلکہ یہ اُس قانون میں بیان کردہ علت کے منفک ہونے پر اُس حکم کے ساقط ہوجانے کوبیان کر رہی ہے اوربس۔
۳۔ مسلمان ایک دوسرے کے حامی وناصر،یعنی ولی قراردیے گئے ہیں۔کسی مسلمان کے لیے ولایت کایہ حق دوطرح سے قائم ہوتا ہے: ایک اس طرح سے کہ وہ اسلام کومانتااور اپنے آپ کومسلمان کہلاتاہواوردوسرے اس طرح سے کہ وہ کسی مسلمان ریاست کے حدود اوراس کی عمل داری میں ایک مسلمان شہری کے طور پررہتاہو۔اب فرض کیجیے کہ وہ اپنے اسلام سے انکارکردیتااورغیرمسلم ہوجاتاہے توظاہر سی بات ہے کہ وہ پہلی قسم کے حق سے محروم ہو جائے گا اوراگر وہ مسلمان ہونے کے باوجودمسلمان ریاست کے حدودمیں نہیں آتااور اس کی عمل داری سے بالکل دور رہتا ہے تو وہ دوسری قسم کے حقوق سے محروم رہ جائے گا۔۳۲؂ پہلی صورت میں ہمارے لیے صرف یہ ضروری ہوتاہے کہ اُس کامسلمان ہونا معلوم کرلیاجائے اوردوسری میں یہ ضروری ہوتاہے کہ دیکھ لیاجائے کہ وہ مسلمان ریاست اوراس کی عملداری میں ایک مسلمان شہری کے طورپررہ رہاہے یانہیں۔ لیکن ان دونوں صورتوں میں ہمیں کہیں بھی یہ ضرورت لاحق نہیں ہوتی کہ ہم اُس شخص کوکافر قرار دیں،بلکہ اُس کاغیرمسلم اورغیرشہری ہوناہی ہمیں ہرطرح سے کفایت کرجاتاہے۔
۴۔ جہاں تک نکاح وغیرہ کے معاملات ہیں توان میں بھی کسی کی تکفیرکرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ قرآن حکیم میں اُن مرد وعورت سے نکاح کرناممنوع قراردیاگیاہے جومشرک ہوں۔۳۳؂ گویا نکاح کی ممانعت میں اصل عامل اسلام اور کفر نہیں، بلکہ شرک ہے۔اسلام اورکفرکے عامل نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے باوجودکہ اہل کتاب غیرمسلم اوراپنے کفرپرمصرتھے،اُن کی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اور شرک ہی کے اصل عامل ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ مسلمانوں کویہ اجازت اس لیے دی گئی کہ اُن عورتوں کاشرک بہرحال مشرکین جیسانہیں تھا کہ وہ شرک کو عقیدے کے طورپر نہیں ،بلکہ خطااورغلطی سے اپنائے ہوئے تھیں۔۳۴؂ سو نکاح کے وقت ہمارے لیے یہ جانناتوبے شک ضروری ہوتاہے کہ وہ مردوعورت کہیں شرک میں ملوث تو نہیں اوریہ سب اُن کے ظاہری احوال ہی سے جان لیاجاسکتاہے ،مگریہ جاننابالکل بھی ضروری نہیں ہوتاکہ وہ حقیقی طورپرکیاکافرہیں یانہیں۔
کسی کے لیے دعاے مغفرت کرنے اوراس کا جنازہ پڑھنے میں بھی ہمیں تکفیرکی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ دعا ہر اُس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جوخدا کی طرف انابت اوررجوع لائے اور جنازہ ہر اُس شخص کاہم پرحق ہے جواپنے آپ کو مسلمان کہلائے،قطع نظر اس سے کہ وہ حقیقت میں مسلمان ہے یانہیں ہے ۔البتہ، جوشخص اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتاوہ غیر مسلموں کے درجے میں چلا جاتااورآپ سے آپ اس حق سے محروم ہوجاتاہے اور ظاہر ہے اس بات کوجاننے کے لیے ہمیں کسی قدم پربھی تکفیرکرنے کی ضرورت نہیں آن پڑتی۔جن کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعاے مغفرت کرنے اوران کاجنازہ پڑھنے سے روک دیاگیاتھا،وہ اصل میں وہ لوگ تھے کہ جن کانفاق اور کفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل نافرمانی کی وجہ سے اب کھل کرسامنے آچکاتھا۔اورہم جانتے ہیں کہ پیغمبرکے بعدہم میں کوئی ایسانہیں کہ جس کی نافرمانی خداکے ہاں کفر اور نفاق کاعنوان قرار پاتی ہویااُسے خداکی طرف سے لوگوں کے کفرکی اطلاع مل جانے ہی کاکوئی امکان ہو۔

مسلم اور غیر مسلم

پچھلے مباحث میں ہم نے جاناکہ غامدی صاحب کے نزدیک کسی بھی شخص کو ،وہ مسلمان ہویاغیرمسلم ہو،اس معنی میں کافرقرار نہیں دیا جاسکتاکہ اُس نے حق بات کاجان بوجھ کرانکارکردیاہے۔اس مبحث میں اب ہم یہ جانتے ہیں کہ اگرکسی شخص کوکافر قرار نہیں دیا جاسکتا تو پھر جولوگ اسلام سے محروم ہیں یااُس سے دورہوگئے ہیں،اُن کی راے میں اُنھیں کیاکہاجائے گا؟اس لحاظ سے یہ بحث دو عنوانات میں تقسیم کی جاسکتی ہے:ایک غیرمسلم اوردوسرے مسلم۔

۱۔غیر مسلم

جوشخص اسلام کومانتاہے،قرآن میں اس کانام مسلم رکھاگیاہے۔سوال پیداہوتاہے کہ جوشخص اسے نہیں مانتا اور کسی اورمذہب کا ماننے والاہے یاوہ مذہب کا سرے سے انکاری ہے،اُسے ہم کیانام دیں؟کافرکانام توہرگزنہیں دے سکتے کہ اس کے بارے میں تکفیرکے شرائط کاپورا ہوجانا بالکل محال ہے۔البتہ،اس کے ظاہری احوال و اقرار کا لحاظ کرتے ہوئے ہم یہ ضرورکہہ سکتے ہیں کہ وہ اسلام کو ماننے والا نہیں ہے۔اسی بات کی تعبیرکے لیے ہم غیرمسلم کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔یہ کوئی خاص نام یاکوئی اصطلاح نہیں ہے اورنہ اسے کسی اِثباتی معنی کو اداکرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے، یہ مسلمانوں کے مقابلے میں محض تعارف کے لیے بولاجانے والاایک لفظ ہے۔کسی اورلفظ کے بجاے ’غیرمسلم‘ کالفظ ا س لیے زیادہ موزوں ہے کہ ہم اسے جس لفظِ ’مسلم‘ کے مقابلے میں استعمال کررہے ہیں وہ نہ تو مومن کے معنی میں ہے اور نہ فرماں بردارکے معنی میں ہے۔وگرنہ ہم پہلی صورت میں غیرمسلم کے بجاے ’کافر‘ اوردوسری صورت میں ’عاصی‘ اور ’قاسط‘ وغیرہ کے الفاظ کوترجیح دیتے۔ یہ اس لیے بھی زیادہ موزوں ہے کہ اس میں کسی کی ہتک یا طعن کاکوئی پہلو بھی نہیں پایا جاتا کہ لوگ،یہاں تک کہ غیرمسلم بھی اس پرمعترض ہوسکیں۔اس لیے کہ جولوگ اسلام کا اقرار نہ کریںیااسے صحیح دین ہی نہ سمجھیں،اُن کے بارے میں اگریہ کہا جائے کہ وہ اس دین کے پیرونہیں ہیں تواس میں آخر اعتراض کی کیابات ہوسکتی ہے؟ یہ ایساہی ہے جیسا کہ مثال کے طور پر، مسیحی حضرات ہمیں غیرمسیحی کہیں تو یہ ہمارے لیے کسی قسم کی گالی اوربدزبانی نہیں،بلکہ سراسر حقیقت کا بیان ہو گا۔
یہاں یہ بات بھی یادرہنی چاہیے کہ اس لفظ کوسندِجوازفراہم کرنے کے لیے بالکل بھی ضروری نہیں ہے کہ ہم نصوص میں اس کا کوئی حوالہ تلاش کریں۔اس لیے کہ کسی کونام دینے کے لیے نص کی قطعاًکوئی ضرورت نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ ہم دیگرمذاہب کے ماننے والوں کو مخصوص ناموں، حتیٰ کہ اُنھی کے تجویزکردہ ناموں،یعنی ہندو،سکھ اور بدھ وغیرہ سے بلاتے ہیں اوراس پرکبھی بھی نص کامطالبہ نہیں کرتے۔ چنانچہ اگر ہم کسی شخص کو ایک خاص مذہبی نام دے سکتے ہیں توغیرمسلم کانام بہ طریق اولیٰ دے سکتے ہیں کہ یہ اپنی حقیقت میں کچھ بھی نہیں،محض کسی ذات کے غیر کو بیان کردینا ہے۔اوراس طرح کے بیان کامعروف طریقہ یہی ہوتاہے کہ اُسے ’’غیر‘‘کے ساتھ ترکیب دے دیا جائے، جیسا کہ مثال کے طورپر، ہم اللہ کے سواتمام ہستیوں کو غیراللہ کانام دے دیتے ہیں۔تاہم قرآن نے ’وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا‘ ۳۵؂ کی آیت میں توخاص اسلام کے مقابلے میں یہی ترکیب ،یعنی ’’غیراسلام‘‘ بیان بھی کی ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے لفظ غیرمسلم کے لیے ایک حدتک نص کا دعویٰ بھی کیاجاسکتاہے ۔ایک اورطریقے سے دیکھاجائے تو یہ غیرمسلم کانام واضح طورپر خداہی کی طرف سے رکھاہوا معلوم ہوتاہے۔اس لیے کہ اسلام کو ماننے والوں کو ’ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ‘ ۳۶؂ کہہ کرمسلم کانام دینا،اس کامطلب ہی یہ ہے کہ جواسے نہ مانتاہو،وہ اپنے نام کے لحاظ سے غیرمسلم ہوگا۔مزیدیہ کہ ایک مقام پر فرمایا ہے کہ جوتمھیں سلام کہے اُسے یہ نہ کہو: ’لَسْتَ مُؤْمِنًا‘۳۷؂ کہ تم مسلمان نہیں ہو۔ غور کیا جائے تویہ ’لَسْتَ‘اصل میں’’ غیر‘‘ اور ’مُؤْمِنًا‘ اصل میں ’’مسلم‘‘ ہی ہے ۔

۲۔ مسلم

یہودیت اورمسیحیت کے پیرویہودی اورمسیح کہلاتے ہیں،اسی طرح ہروہ شخص جو اسلام کوقبول کرے اوراُس کااقرار کرے، اُسے مسلم کہا جاتا ہے۔۳۸؂ اس اقرار کے لیے شریعت میں کوئی خاص صورت مقررنہیں کی گئی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کی ایک سے زائدصورتیں واقعہ میں آئیں۔ مثلاً کسی شخص نے آکرسلام کردیا،اُس نے ’أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ وأشہد أن محمدًا رسول اللّٰہ‘ کہتے ہوئے توحید اوررسالت محمدی کی شہادت دے دی ،یااُس نے مسلمانوں کی اصل دعوت، یعنی ’لا إلٰہ إلا اللّٰہ‘ کا اظہار کر دیا، ان سب صورتوں کواُس کی طرف سے اسلام کااقرارسمجھاگیا۔اوریہ محض اُس کااقرارہی تھاجواُس کے مسلمان ہونے کے لیے کافی جاناگیا۔اس سے آگے بڑھ کرہمارے ہاں جو نماز اور زکوٰۃ کواس کی دو شرطوں کے طورپربیان کردیاجاتاہے،واضح ہو کہ وہ مسلمان قراردیے جانے کے نہیں، بلکہ اُن حقوق کوحاصل کرنے کے شرائط ہیں جن کامطالبہ کوئی مسلمان اپنے اسلام کی بنیاد پر کر سکتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ کے زمانے میں جب خداکی طرف سے عذاب کا فیصلہ سنادیاگیا اور اس سے بچنے کاحق صرف اُسے دیاگیاجواسلام کوقبول کرلے تواب ہراُس شخص سے جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے اور اس طرح خدائی عذاب سے بچنے کاحق مانگے،اُس سے نماز اور زکوٰۃ اداکرنے کا مطالبہ کیاگیا۔اسی طرح یہ دوشرطیں اُن مسلمانوں کے لیے بھی لازم قراردی جا سکتی ہیں جواسلامی ریاست سے مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنے حقوق کا تقاضاکریں۔
یہ بنیادی بات جان لینے کے بعداب ایک سوال پیداہوتاہے ۔وہ یہ کہ کوئی مسلم کیا اپنے اس نام سے کسی وقت محروم بھی کیا جا سکتا ہے؟ غامدی صاحب جس راے کے مؤید ہیں، وہ اس لحاظ سے نہایت مبنی برعقل ہے کہ اس کے مطابق یہ نام اُسے جس بنیادپر دیا گیا تھا، اُس بنیاد کے ڈھے جانے ہی پروہ اس سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ ۳۹؂ چنانچہ اُن کاکہناہے کہ جب تک وہ اپنے اس اقرار پرقائم رہے،ہم پرلازم ہے کہ ہم اُسے مسلم سمجھیں اورمسلم کہیں۔کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اِس اقرارکوماننے سے انکارکرے اوراُسے غیرمسلم قرار دے دے۔ یہ بات کہ یہ حق کسی کوحاصل نہیں ہے، اس کا ذکر قرآن میں اُس مقام پرہواہے جہاں مسلمانوں کوقتال کے بارے میں ہدایت دیتے ہوئے فرمایاہے: ’وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا‘ (جو شخص تمھیں سلام کرے ،اُسے یہ نہ کہاکروکہ تم مسلمان نہیں ہو)۔۴۰؂ وقتِ ملاقات سلام کرنا اِسلام کاایک شعاراوراس لحاظ سے اس دین کااِقرارکرنے کے مترادف تھا،چنانچہ مسلمانوں کواس بات سے روک دیاگیاکہ وہ اسے ماننے سے ہرگزانکارنہ کریں۔یہ انکار نتائج کے اعتبارسے کس قدرسنگین ہے،اس کااندازہ کئی احادیث سے بھی بہ خوبی ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک مرتبہ اسامہ بن زیدجہادکے سلسلہ میں ایک سریہ کے ساتھ گئے۔دشمن کے علاقے میں اُنھوں نے ایک شخص کو پکڑا تو اُس نے ’لا إلٰہ إلا اللّٰہ‘ پڑھ دیا۔یہ کلمہ اُس کی طرف سے اسلام کااقرار تھا،مگرانھوں نے اسے تسلیم نہیں کیااوراُس شخص کو قتل کر دیا۔ بعد میں یہ بات انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کی اوراپنی طرف سے ایک معقول عذربھی پیش کیا، مگرآپ نے اُن کے اس کام پراس قدرنکیرفرمائی کہ اُسامہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواہش کی کہ میں آج کے دن اسلام لایاہوتا کہ میرایہ جرم اسلام قبول کرنے کی وجہ سے معاف کردیا جاتا۔۴۱؂
یہاں پھرایک سوال پیداہوتاہے ۔وہ یہ کہ جوشخص اسلام کااقرارکررہاہو،اگراسلام کے خلاف عقیدے کا اظہار کرے اور اس کی روح کے منافی اعمال کامرتکب ہوتوکیاپھربھی اسے مسلم ہی کہاجائے گااوراس نام سے محروم نہیں کیا جائے گا؟ غامدی صاحب اس کا جواب ہاں میں دیتے ہیں اوراصرارکرتے ہیں کہ مسلمان کوبہرصورت،چاہے وہ غیراسلامی نظریات کاحامل اورصریح بداعمالی کاشکار ہو جائے، مسلمان ہی کہاجائے گا،اوران کی اس بات کے پیچھے چند ایک وجوہ بہ آسانی سمجھ لیے جاسکتے ہیں:
ایک یہ کہ کسی شخص کو ’مسلم‘ کالفظ نہ تواُس کے حقیقی ایمان کی وجہ سے دیاجاتاہے اورنہ اُس کی نیکی اورپرہیزگاری کی وجہ سے کہ اس میں کسی خرابی یاکمی کے درآنے پر اسے واپس لے لیاجائے۔یہ محض ایک نام ہے جوہراُس شخص کو شناخت کے طورپر دیاجاتاہے جواسلام کے دائرے میںآنے کا اقرار کرے۔اب ہوناتویہی چاہیے کہ ہرمسلمان اپنے اِس نام کی لاج رکھے اوراپنے عقیدہ وعمل میں حقیقی معنوں میں مسلمان بننے کی کوشش کرے،لیکن اگروہ اس طرح کامسلمان نہیں بن پاتاتوسادہ سی بات ہے کہ اس سے اس کے نام کی نفی نہیں ہو جاتی، الاّ یہ کہ وہ خود اس اقرار سے پیچھے ہٹ جائے اوراس کاانکارکردے۔
دوسرے یہ کہ مسلم کایہ نام اُسے ظاہری اورقانونی طورپرمسلمان قراردیتاہے، حقیقی طورپر نہیں کہ ہم اس سلسلے میں اُس کی گمراہیوں اوربداعمالیوں کوپیش کرنے لگیں۔قانون اورحقیقت میں پایاجانے والایہی فرق ہے کہ مسلمان معاشرے کے تمام افراد ایمان وعمل میں باہم مختلف ہونے کے باوجودایک جیسے نام ،یعنی مسلمان سے پکارے جاتے ہیں۔بلکہ منافقین کامعاملہ تواس فرق کی نہایت واضح مثال ہے۔یہ لوگ کفرونفاق کے سرغنہ تھے اوراسلام کے خلاف اپنی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے اس لائق نہیں تھے کہ انھیں مسلمان کہاجاتا، مگرہم دیکھتے ہیں کہ اس سب کے باوجودانھیں مسلمان کہاگیا۔ قرآن میں بھی انھیں عام طورپر اُنھی لفظوں، یعنی ’یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ سے خطاب کیا گیا کہ جن سے مومنین صالحین کوخطاب کیاجاتاتھا۔اورصرف یہی نہیں کہ انھیں مسلمان کانام دیاجاتا تھا،بلکہ انھیں مسلم معاشرے کاایک فرداورمسلمانوں کاساتھی بھی قراردیاجاتاتھا۔ان کے فتنہ پردازوں میں سے ایک شخص نے جب اللہ کے پیغمبرکے بارے میں نازیبا کلمات کہے اورکچھ جاں نثاروں نے اس کے قتل کی اجازت مانگی توآپ نے انکارکرتے ہوئے فرمایا: ’لا یتحدث الناس أن محمدًا یقتل أصحابہ‘ (ایسا نہ ہوکہ لوگ کہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی ساتھیوں کوقتل کرانے لگے ہیں)۔ ۴۲؂ غرض یہ کہ ہروہ شخص جواسلام کا اقرارکرتاہے ،قطع نظراس سے کہ اُس کے نظریات و عقائداوراعمال کس طرح کے ہیں،وہ مسلم ہے، اس لیے کہ ’مسلم‘ کایہ لفظ اُس کے لیے قانونی اورظاہری لحاظ سے بولا جارہاہے نہ کہ حقیقی لحاظ سے۔باقی جہاں تک کسی شخص کے حقیقی اسلام کاتعلق ہے تواس بارے میں فیصلہ عالم کا پروردگارہی سنا سکتاہے اوروہ آخرت میںیہ فیصلہ ضرورسنائے گا۔
تیسرے یہ کہ کسی مسلمان کے نظریات وعقائد جس قدربھی گمراہ کن ہو جائیں،وہ اُن کے لیے استدلال چونکہ اللہ و رسول کی ذات کوماخذمان کر کر رہا ہوتا ہے، اس لیے بھی لازم ہوتاہے کہ اُسے مسلم کہاجائے کہ اُس کایہ استدلال اصل میں دین اسلام کااقرارکرنے کے مترادف ہوتا ہے۔باقی جہاں تک ہدایت سے اُس کے اختلافات کاتعلق ہے تووہ تاویل کے اختلافات ہیں جو دنیامیں اُس وقت تک موجود رہیں گے جب تک انسان کی عقل اوراس کے ارادہ و اختیار پر کوئی روک نہ لگادی جائے۔ان کی بہت بڑی مثال قرآن وحدیث کے سمجھنے میں ہونے والے اختلافات ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک عالم کے نزدیک قرآن کا کوئی لفظ،جیساکہ ’وَیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ‘ کی آیت میں ’وَجْہ‘ کا لفظ اپنے حقیقی معنی میں آیاہے اوراس کامطلب ہے: خداکا چہرہ۔۴۳؂ دوسرے کے نزدیک یہ اپنے مجازی معنی میں آیاہے اور اس سے مراد خداکی ذات ہے۔ اسی طرح کا معاملہ ’ید‘، ’ساق‘، اور ’کرسی‘ وغیرہ کا مفہوم سمجھنے میں ہوا ہے اوراس نوعیت کے اختلافات بالعموم متکلمین کے درمیان میں واقع ہوتے ہیں۔ یہ اختلافات مفسرین کے ہاں بھی پائے جاتے ہیں۔مثلاً، ایک مفسرکے ہاں کوئی لفظ، جیسا کہ ’النَّاس‘ قرآن میں ہرمقام پر اپنی عمومیت کے ساتھ استعمال ہواہے اوراس کامطلب ہے ساری دنیاکے انسان۔دوسرے کے نزدیک یہ لفظ تخصیص میں بھی چلا جاتاہے اوراس وقت اس سے مرادکچھ مخصوص انسان ہوتے ہیں۔ فقہاکے درمیان میں پائے جانے والے اختلافات کابھی یہی معاملہ ہے۔ مثلاً کسی فقیہ کے نزدیک کوئی حکم، جیسا کہ ’وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ‘،کچھ مخصوص ہستیوں کے لیے خاص ہے اوربعض کی راے میں یہ مبنی برعلت ہے ،اس لیے ہرایک تک ممتد ہو گیا ہے۔۴۴؂ اصولیین کے ہاں بھی یہی صورت حال ہے۔ شرک وتوحید، عبادت اور بدعت جیسی بنیادی اصطلاحات کامفہوم طے کرنے میں بھی ان کے مابین اچھا خاصا اختلاف ہو جاتا ہے۔ غرض یہ کہ یہ سب حضرات جب آپس میں اختلاف کررہے ہوتے ہیں تواپنے موقف کی سند میں چونکہ اللہ ورسول کی بات نقل کررہے ہوتے ہیں،اس لیے ان کے تمام اختلافات، بہرحال تاویل کے دائرے میں رہتے ہیں۔۴۵؂ اورانھیں دائرۂ اسلام سے باہرنہیں جانے دیتے۔تاہم ،یہ بات صحیح ہے کہ مختلف الراے فریقین کے بارے میں یہ بالکل نہیں کہا جاسکتاکہ وہ دونوں حق پرہیں،ان میں کوئی ایک لازم ہے کہ غلطی پر ہو اور بعض صورتوں میں ہوسکتاہے کہ وہ صریح گمراہی میں بھی جا پڑاہو۔چنانچہ ضروری ہے کہ جوشخص جس بات کو غلط سمجھتاہو،وہ اُسے ضرورغلط کہے۔شرک وکفر اورفسق وضلالت جیسے گناہوں کوانھی ناموں سے بیان کرے اوراس سلسلے میں کسی مداہنت کوہرگزراہ نہ دے۔ان کی سنگینی کے بارے میں لوگوں کو متنبہ کرے اوران سے باز رہنے کی پرزور تلقین بھی کرے۔
مذکورہ بالاتینوں نکات اس بات کوبالکل واضح کردیتے ہیں کہ ہروہ شخص جواسلام کااقرارکرے ،وہ مسلمان ہے، اس لیے کہ ’مسلم‘ کا یہ لفظ اسے حقیقت کے اعتبارسے نہیں،بلکہ قانونی اعتبار سے اورمحض شناخت کے طورپر دیا گیا ہے جو اُس سے اُس وقت تک نہیں چھینا جاسکتاجب تک وہ اپنے اقرارپرقائم رہے اوراللہ ورسول کی بات سے استدلال کرتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ غامدی صاحب اس بات پر اصرارکرتے ہیں کہ بہت سے مشاہیر اسلام اپنے عقائد کی کجی اور ان میں درآنے والے شرک وکفرکے باوجودمسلمان ہیں اورکسی کوحق نہیں کہ وہ انھیں غیرمسلم قرار دے اورانھیں مسلمانوں کی جماعت سے الگ کردے۔ان کے الفاظ یہ ہیں:

’’اِس کے بعد اُن لوگوں کا معاملہ ہے جو مسلمان ہیں، اپنے مسلمان ہونے کا اقرار، بلکہ اُس پر اصرار کرتے ہیں، مگر کوئی ایسا عقیدہ یا عمل اختیار کر لیتے ہیں جو عام طور پر اسلام کی تعلیمات کے منافی سمجھا جاتا ہے یا کسی آیت یا حدیث کی کوئی ایسی تاویل اختیار کر لیتے ہیں جسے کوئی عالم یا علما یا دوسرے تمام مسلمان بالکل غلط سمجھتے ہیں، مثلاً امام غزالی اور شاہ ولی اللہ جیسے بزرگوں کا یہ عقیدہ کہ توحید کا منتہاے کمال وحدت الوجود ہے یا محی الدین ابن عربی کا یہ نظریہ کہ ختم نبوت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ نبوت کا مقام اور اُس کے کمالات ختم ہو گئے ہیں، بلکہ صرف یہ ہیں کہ اب جو نبی بھی ہو گا، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا پیرو ہو گا یا اہل تشیع کا یہ نقطۂ نظر کہ مسلمانوں کا حکمران بھی مامور من اللہ ہوتا ہے جسے امام کہا جاتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اِس منصب کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تقرر اِسی اصول کے مطابق خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے کر دیا گیا تھا جسے قبول نہیں کیا گیا یا علامہ اقبال جیسے جلیل القدر مفکر کی یہ راے کہ جنت اور دوزخ مقامات نہیں، بلکہ احوال ہیں۔
یہ اور اِس نوعیت کے تمام نظریات و عقائد غلط قرار دیے جا سکتے ہیں، اِنھیں ضلالت اور گمراہی بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن اِن کے حاملین چونکہ قرآن و حدیث ہی سے استدلال کر رہے ہوتے ہیں، اِس لیے اُنھیں غیرمسلم یا کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اِن نظریات و عقائد کے بارے میں خدا کا فیصلہ کیا ہے؟ اِس کے لیے قیامت کا انتظار کرنا چاہیے۔ دنیا میں اِن کے حاملین اپنے اقرار کے مطابق مسلمان ہیں، مسلمان سمجھے جائیں گے اور اُن کے ساتھ تمام معاملات اُسی طریقے سے ہو ں گے، جس طرح مسلمانوں کی جماعت کے ایک فرد کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ علما کا حق ہے کہ اُن کی غلطی اُن پر واضح کریں، اُنھیں صحیح بات کے قبول کرنے کی دعوت دیں، اُن کے نظریات و عقائد میں کوئی چیز شرک ہے تو اُسے شرک اور کفر ہے تو اُسے کفر کہیں اور لوگوں کو بھی اُس پر متنبہ کریں، مگر اُن کے متعلق یہ فیصلہ کہ وہ مسلمان نہیں رہے یا اُنھیں مسلمانوں کی جماعت سے الگ کر دینا چاہیے، اِس کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ اِس لیے کہ یہ حق خدا ہی دے سکتا تھا اور قرآن و حدیث سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ اُس نے یہ حق کسی کو نہیں دیا ہے۔‘‘۴۶؂

________

۲۹؂ بخاری، رقم ۶۷۶۴۔
۳۰؂ تاہم، جو شخص اسلام کو چھوڑدے اوراس کااظہاربھی کرے توہم اِس معنی میں اُسے مرتدضرورکہہ سکتے ہیں کہ وہ اب مسلمان نہیں رہا۔
۳۱؂ النساء۴: ۱۱۔ ’’تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون بہ لحاظ منفعت تم سے قریب ترہے۔یہ حصے اللہ نے مقررکردیے ہیں۔‘‘
۳۲؂ قرآن نے اسے صراحت سے بیان بھی کر دیا ہے (الانفال ۸: ۷۲)۔ حدیث میں منقول ابوبصیرکاواقعہ بھی اسی بات کی دلیل ہے (بخاری، رقم ۲۷۳۱)۔
۳۳؂ البقرہ ۲: ۲۲۱۔
۳۴؂ یہ اجازت مردوں کے بجاے اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ ہی کیوں مخصوص ہے ؟اس کی تفصیل بیان کرنے کایہ موقع نہیں۔
۳۵؂ آل عمران۳: ۸۵۔
۳۶؂ الحج ۲۲: ۷۸۔
۳۷؂ النساء۴: ۹۴۔
۳۸؂ جیسا کہ ’ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا‘ کی آیت میں یہ نام اُنھیں دیابھی گیا ہے( الحج ۲۲: ۷۸)۔
۳۹؂ یہ وہی بات ہے جسے عام طورپرعلمااس طرح بیان کرتے ہیں: ’ولا یخرج العبد من الإیمان إلا بجحود ما أدخلہ فیہ‘( شرح الطحاویہ ۱/ ۳۳۱)۔
۴۰؂ النساء ۴: ۹۴۔
۴۱؂ مسلم، رقم ۲۷۷۔
۴۲؂ بخاری، رقم ۴۹۰۵۔
۴۳؂ الرحمن ۵۵: ۲۷۔
۴۴؂ الاحزاب۳۳: ۳۳۔
۴۵؂ اس ذیل میں جوتاویل سائغ کی شرط لگائی جاتی ہے ،وہ بھی بے جاہے۔اس لیے کہ یہ ایک اضافی امرہے اورکس کی تاویل سائغ ہے اورکس کی غیرسائغ ،سوال پیدا ہوتاہے کہ اس بات کا فیصلہ ہردوفریق میں سے کون کرے گا؟
۴۶؂ جاوید احمد غامدی، مسلم اورغیرمسلم، ماہنامہ اشراق، اکتوبر ۲۰۱۵ء، صفحہ ۱۹۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List