Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Naeem Baloch Profile

Naeem Baloch

  naeem.baloch@hotmail.com
Author's Bio
Visit Profile
سید مختار علی شاہ کی یاد میں! | اشراق
Font size +/-

سید مختار علی شاہ کی یاد میں!


مسجد میں داخل ہوا تو چارپائی صحن میں رکھی تھی، چہرہ ڈھانپا ہوا تھا۔ انیس مفتی صاحب مجھے دیکھ کر لپکے۔ مغموم لہجے میں بولے:’’دوست کو دیکھو گے؟‘‘ اور وہ ان کے چہرے سے کفن ہٹانے لگے۔ان کا چہرہ اب سامنے تھا ۔ آنکھیں تاب نہ لا سکیں اور نم ناک ہو گئیں۔
مادر علمی ’’المورد‘‘ سے وابستگی ہوئی تھی تو ان سے تعارف ہوا۔ اکثر ان کو رفیع مفتی اور انیس مفتی کے ساتھ دیکھا تھا۔ وہ ان کے کلاس فیلو تھے ۔ وزیر آباد میں ایک ہی محلے میں ان کی رہایش تھی۔ ایک دوسرے کے انتہائی قریبی، لیکن مزاج تینوں کا ایک دوسرے سے قطعی مختلف ۔ صرف اخلاص اور دین سے محبت قدر مشترک تھی۔آغاز میں المورد کے دوستوں میں یہی وہ لوگ تھے جن کے ساتھ سب سے زیادہ اٹھنا بیٹھنا تھا۔ راہ و رسم بڑھی تو اپنی طبیعت کی سادگی اور بے تکلفی کے باعث بہت جلد وہ میرے قریبی دوستوں میں شامل ہو گئے۔ ان کو ہم پیار اور بے تکلفی میں صرف ’مختار صاحب ‘ کہتے تھے ، ڈاکٹرخالد ظہیر اور سید منظور الحسن کی طرح برسوں کے بعد انکشاف ہوا کہ وہ بھی ’سید‘ ہیں، اور اس بات کا بھی بہت عرصہ کے بعد علم ہوا کہ المورد کی پہلی کلاس میں ہماری شمولیت ان کی مہربانی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ ۱۹۸۳ء میں فورٹریس اسٹیڈیم لاہور میں جب ایک چھوٹی سے دکان میں عربی زبان کی تدریس کا آغاز ہوا تو اس میں دو کرسیاں کم پڑ گئیں۔ میرے اور محمد احسن تہامی کے لیے کرسیاں دستیاب نہیں تھیں۔ جگہ نہیں تھی، کرسیوں کے لیے پیسے نہیں تھے یا ہم دوسروں کی نسبت قدرے نئے آنے والوں میں سے تھے ، بہرکیف ہم اس کلاس سے محروم ہونے والے تھے، لیکن یہ مختار صاحب تھے جنھوں نے ہمارے حق میں آواز بلند کی اور یوں ہم دونوں اس اعزاز کے حامل ہوئے کہ المورد کے نام سے بننے والے اس ادارے کے اولین طالب علموں میں شمار ہوں۔ فورٹریس اسٹیڈیم میں یہ کلاس کچھ ماہ جاری رہنے کے بعد۱۹۸۳ ء میں گارڈن ٹاؤن کے ابوبکر بلاک کی ایک عمارت میں منتقل ہو گئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب استاد محترم جاوید احمد صاحب غامدی سلطان پورہ میں رہایش پذیر تھے۔ سبز رنگ کا ایک سیکنڈ ہینڈ سوزوکی کیری ڈبہ انھیں سلطان پورہ سے گارڈن ٹاؤن لاتا اور رات کو واپس چھوڑتا تھا۔ اس گاڑی میں برادرم طالب محسن بھی ہوتے، بعد میں اس قافلے میں ڈاکٹر خالد ظہیر صاحب بھی شامل ہو گئے۔ مختار صاحب اس کے ڈرائیور مقرر ہوئے۔ وہ گاڑی چلانا نہیں جانتے تھے، لیکن انھوں نے چند دنوں میں ڈرائیونگ سیکھ لی ۔ میری رہایش بھی ان دنوں قریب ہی تھی، اس لیے میں بھی اکثر ان کے ساتھ ہی جاتا تھا۔ اسی طرح اس کا انکشاف بھی ایک دن مختار صاحب ہی نے خود کیا کہ چند ماہ بعد ہی المورد کی عمارت کے کرایے کے لیے رقم کم پڑ گئی تھی۔ بعض اصحاب نے تعاون سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ تب مختار صاحب ان لوگوں میں شامل تھے جنھوں نے دوسرے احباب کے ساتھ مل کر چندہ اکٹھا کیا۔یہ ایڈونچر انھیں کئی دفعہ کرنا پڑا۔ انھی دنوں کی بات ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کے باوجودالمورد میں ایک خاص کلاس کا اہتمام تھا۔ پروگرام کے مطابق مختار صاحب صبح دس بجے کے قریب استاد محترم کو لینے آئے تو معلوم ہوا کہ وہ ان کے لیٹ آنے کی وجہ سے یا کسی اور سبب وہ المورد جا چکے ہیں۔ گاڑی میں اب میں اور مختار صاحب ہی تھے اور راستے میں ہم نے دوسرے احباب کو لینا تھا۔ مگر دو موریہ پل کے قریب گاڑی خراب ہو گئی۔ ہم گاڑی کو دھکا لگا کر قریبی ورکشاپ لے گئے۔ وہاں کوئی باقاعدہ مکینک موجود نہیں تھا۔ ایک شاگرد ٹائپ مکینک گاڑی کے ساتھ دل لگی کرتا رہا۔ صبح سے شام ہو گئی۔ موبائل فون کا زمانہ تو نہ تھا، لیکن ہم المورد میں اطلاع کر سکتے تھے ، مگر گاڑی ٹھیک کرانے کی فکر میں ہم اس کے بارے میں سوچ ہی نہ سکے ۔ یوں ہم اس افتاد کی اطلاع کسی کو نہ کر سکے۔ ادھر استاد محترم سمیت تمام لوگ پریشان تھے کہ مختار صاحب گاڑی سمیت کہاں غائب ہو گئے۔ ہم مغرب کی نماز کے قریب جب گارڈن ٹاؤن المورد پہنچے تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ انیس مفتی اور رفیع مفتی ،مختار صاحب پر بہت برسے۔ انھوں نے بتایا کہ ہمیں اسپتالوں سے لے کر مردہ خانے تک تلاش کیا جا چکا تھا۔اوراس تلاش میں خود غامدی صاحب شامل تھے ۔ مختار صاحب کا یہ کہنا بالکل درست تھا کہ لینڈ لائن فون ان دنوں بہت کم تھے اور چھٹی ہونے کی وجہ سے اس کا دستیاب ہونا بہت مشکل تھا۔ لیکن انھوں نے یہ انتہائی سخت ڈانٹ بڑی سعادت مندی سے برداشت کی۔ اس طرح کے متعدد واقعات یہ ثابت کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں صبر و تحمل کی خوبی خاص طور پر دے رکھی تھی۔
مختار صاحب المورد کی انتظامی مجلس کے ساتھ ایک عرصہ وابستہ رہے۔ ان کا شمار بلا مبالغہ ان لوگوں میں کیا جا سکتا ہے جنھوں نے ابتدائی زمانے میں وسائل کی کمی کے باعث المورد کے واش رومز سے لے کر اس کے فرشوں کی صفائی تک کا کام کیا ۔ غالباً رجم کے مسئلے کے باعث ادارہ جب مزیدوسائل کی کمی کا شکار ہوا تو ہماری کلاس اور لائبریری گارڈن ٹاؤن سے لارنس روڈکی ایک خستہ حال عمارت میں منتقل ہوگئی۔ ان دنوں مختار صاحب معاشی تگ و دو کے لیے کراچی منتقل ہو گئے۔یوں وہ المورد کی باقاعدہ تدریس سے الگ ہو گئے، لیکن اپنے طور پر قرآن فہمی کا سلسلہ جاری رکھا۔
مختار صاحب بنیادی طور پر ایک روایت پسند طالب علم تھے۔ وہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی سے بہت متاثر تھے۔ کراچی منتقل ہونے کے بعد وہ ادارے کے علمی سفر کے ساتھ ایک طالب علمانہ تعلق برقرار نہ رکھ سکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں مولانا مودودی کی فکر پر ہونے والی تنقید کا تجزیہ کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے جماعت اسلامی کی تحریکی سرگرمیوں میں شمولیت کو اپنے لیے زیادہ مناسب خیال کیا اور جماعت اسلامی کے باقاعدہ رکن اور اس کی مجلس شوریٰ میں شامل ہو گئے۔ وہ اپنے آخری ایام تک اس وابستگی کو بڑی خوبی کے ساتھ نبھاتے رہے۔اپنی کاروباری سرگرمیوں کے باوجود انھوں نے ’’تفہیم القرآن‘‘ سے اپنا تعلق جوڑے رکھا۔ قرآن مجید کی تدریس کے لیے باقاعدہ ایک حلقہ بھی قائم کیا جہاں ایک عرصہ انھوں نے درس قرآن بھی دیا۔
نصرت دین کے حوالے سے ان کا ایک خاص نقطۂ نظر تھا۔ وہ اس بات کو مناسب نہیں سمجھتے تھے کہ کمرشل ٹی وی کے ذریعے سے قرآن فہمی یا دینی موضوعات کی تفہیم کے پروگرام نشر کیے جائیں۔ ان کا موقف تھا کہ یہ حمیت دینکے خلاف ہے۔ اس سے تبلیغ دین کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ اس پر خوب بحث کرتے ۔ جب وہ دلائل سے قائل نہ کر پاتے تو بڑی محبت سے ضد کرتے اور وعدہ لیتے کہ آپ انھی طریقوں کو اختیار کریں گے جو انبیا علیہم السلام نے اختیار کیا تھا۔ جماعت اسلامی کے طرز سیاست کا دفاع یہ کہہ کر کرتے کہ مجھے ان کے اخلاص پر کوئی شبہ نہیں اور جب تک یہ اعتماد بر قرار ہے، میں ان سے تعاون کرتا رہوں گا ۔ سچی بات یہی ہے کہ دین سے محبت، دوستوں سے اخلاص اور خلق خدا سے ہمدردی کا یہ جذبہ مختار صاحب کا اصل سرمایہ تھا۔ یہ ان کی شخصیت کے قابل رشک اوصاف تھے۔
دل کی بیماری نے انھیں ہم سے مادی طور پر تو جدا کر دیا، لیکن وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور انھیں آخرت میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List