Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Administrator Profile

Administrator

  [email protected]
Author's Bio
Humble slave of Allah!!!
Visit Profile
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور علومِ نبوت (1) | اشراق
Font size +/-

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور علومِ نبوت (1)


ماہ نامہ ’’فکر و نظر‘‘ ، اسلام آباد کا شمارہ نمبر ۳ ، جلد ۳۳ ، جنوری تا مارچ ۱۹۹۶ میرے سامنے ہے ، جس کے صفحات ۷۵ تا ۹۱ پر معروف محقق ، عالمِ دین اور جامعہ اسلامیہ ،بہاول پور کے ایک سابق استاد کا ایک مضمون درج ہے ، جسے ماہ نامہ ’’البلاغ‘‘ ، کراچی کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے ۔ مضمون کا عنوان ہے : ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علومِ نبوی‘‘ ۔ مولانا صاحب اپنے مضمون میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’مدینہ نبوی میں عقدِ مؤاخات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مؤاخات (یعنی آپ کے بھائی بننے ) کا شرف حاصل ہوا۔ ‘‘ ۱ ؂
مولانا صاحب نے اپنی اس بات کا کوئی حوالہ نہیں دیا ، آئیے میں آپ کو اس کی حقیقت بتا دوں ۔ امام حاکم اور امام ترمذی فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے مابین عہد مؤاخات کرا لیا تو علی رضی اللہ عنہ آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے آئے اور فرمایا: ’آخی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین اصحابہ فجاء علی تدمع عیناہ فقال : یا رسول اللہ آخیت بین اصحابک و لم تواخ بینی و بین احدٍ ، فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: انت اخی فی الدنیا والاخرۃ ۲؂ ۔‘ (آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان مؤاخات تو کر لیا اور کسی کو میرا بھائی نہیں ٹھیرایا، اس پر آپ نے فرمایا : تو دنیا اور آخرت میں میرا ہی بھائی ہے ۔ )
مواخات کی یہ روایت من گھڑت ہے ، اس کا مرکزی راوی جمیع بن عمیر ہے، جس کے بارے میں امام ابنِ حبان لکھتے ہیں : رافضی تھا اور من گھڑت روایات بنایا کرتا تھا : کان رافضیاً یضع الحدیث ۳؂ ۔ ا مام ابنِ نمیر فرماتے ہیں : ’کان من اکذب الناس ۴ ؂ ‘۔( بہت بڑا جھوٹا تھا ۔)
امام بخاری فرماتے ہیں : ’فیہ نظر ۵؂ ‘ (اس میں شدید کمزوری ہے ۔ )حافظ ذہبی نے زیرِ بحث روایت کو اس راوی کے جھوٹا ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے ۶؂ ۔
اس قسم کی ایک اور روایت دوسری سند کے ساتھ امام حاکم نے نقل کی ہے ۔ ۷؂ لیکن اس میں جمیع کے ساتھ ایک اور ضعیف راوی اسحاق بن بشر الکاھلی موجود ہے جس کے متعلق حافظ ذہبی فرماتے ہیں : ھالک ۔ ۸ ؂
اس قسم کی ایک روایت امام طبرانی کی المجعم الاوسط کے حوالہ سے حافظ ابنِ حجر نے بھی نقل کی ہے جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : قم فانت اخی ۔ ۹؂
حافظ ابنِ حجر کی یہی روایت المعجم الاوسط ۸:۴۳۵ (۷۸۹۰) پر موجود ہے لیکن اس میں ’’قم فانت اخی‘‘ کے الفاظ موجود نہیں ہیں ۔
امام ابنِ تیمیہ فرماتے ہیں : ’اماحدیث المواخاہ فباطل موضوع ، فان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لم یواخ احدا، ولاآخی بین المھاجرین بعضھم من بعض ، ولا بین الانصار بعضھم من بعض ، و لکن آخی بین المھاجرین والانصار ۔۱۰؂ ‘ ( مؤاخات کی روایت باطل اور موضوعی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤاخات میں کسی کو اپنا بھائی نہیں بنایا ، آپ نے مہاجرین کو آپس میں اور انصار کو آپس میں بھائی بھائی نہیں بنایا بلکہ مہاجرین اور انصار کے درمیان مؤاخات قائم کی )
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں :
’’ابنِ سعد کی کتاب الطبقات الکبری ۱۱؂ میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات (بھائی چارگی) کا تعلق قائم کیا ۔ ۱۲؂
اس سلسلے میں مولانا ندوی آگے لکھتے ہیں کہ :
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مواخات خود اپنی ذات سے قائم کی اس سلسلہ میں بہت سی احادیث نقل کی گئی ہیں جس میں چند احادیث کی اسناد ضعیف ہیں اور بعض احادیث کے متن میں کمزوری ہے ۔ ۱۳؂
محترم مقالہ نگار صاحب آگے لکھتے ہیں :
’’سنہ ۹ ہجری میں آیہء برات ء کی تبلیغ کا شرف آپ ہی کے حصہ میں آیا اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرماتے ہوئے کہ ’ لا یبلغہ الا انا او رجل منی‘ (اس کی تبلیغ یا تو میں کر سکتا ہوں یا میرے خاندان کا کوئی فرد ۔ ) اس حکم کی تبلیغ کی ذمہ داری آپ ہی کے سپرد کی ۔‘‘ ۱۴ ؂
جہاں تک آیہء برات ء کی تبلیغ کا تعلق ہے وہ سو فی صد درست ہے اور صحیح روایات سے ثابت ہے ۔ مجھے ’ لا یبلغہ الا انا اورجل منی‘ کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے ۔ جہاں تک میں نے جستجو کی ہے تو یہ روایت مجھے درجِ ذیل صحابہء کرام سے مرفوعاً مل گئی ہے :
۱۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ : آپ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم ببراء ۃ مع ابی بکر رضی اللہ عنہ ثم دعاہ فقال : لا ینبغی لا حدٍ ان یبلغ ھذا الا رجل من اھلی ، فدعا علیا فاعطاہ ایاہ ۔ ۱۵ ؂
امام ترمذی اس کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : یہ روایت غریب ہے ، اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کا مرکزی راوی سماک بن حرب امام مزی کی تصریح کے مطابق مضطرب الحدیث تھا ۔ ۱۶ ؂ امام ابنِ حبان فرماتے ہیں : یحظءُی کثیرا۔ ۱۷ ؂ یعنی : کثرت سے خطا کا شکار ہوا کرتا تھا ۔ حافظ ابنِ حجر لکھتے ہیں : اس کا حافظہ متغیر ہو گیا تھا اور تلقین (لقمہ) قبول کیا کرتا تھا ۔ ۱۸ ؂
حافظ ابنِ کثیر فرماتے ہیں : اس کی سند ضعیف اور متن میں نکارت ہے ۔ ۱۹ ؂
مسند احمد (۱:۱۵) کی سند میں سماک کے ساتھ محمد بن جابر بن سیار الحنفی ابو عبد اللہ الیمامی سحیمینامی راوی بھی موجود ہے ۔۲۰؂ امام احمد کے سامنے اس راوی کی ایک روایت بیان کی گئی تو انھوں نے فرمایا : ابنِ جابر اور اس کی روایت کوئی شے نہیں ۔ اس کی روایت شدید منکر ہوتی ہے ۔ ۲۱؂ یہ بھی فرمایا : اس سے وہی شخص روایت کرے گا جو اس سے خراب تر ہو ۔ ۲۲؂ امام ابوحاتم فرماتے ہیں : آخری عمر میں اس کی کتابیں ضائع ہو چکی تھیں ، حافظہ خراب ہو گیا تھا اور تلقین قبول کیا کرتا تھا ۔ ۲۳؂
۲۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ : آپ کی روایت امام نسائی کی السنن الکبری ۵:۱۲۹ (۸۴۶۳) کتاب خصائص علی رضی اللہ عنہ میں موجود ہے ۔ لیکن اس کی سند میں درجِ ذیل خامیاں موجود ہیں :
(۱)اس کا ایک راوی موسیٰ بن طارق ابو قرۃ ہے جو اگرچہ ثقہ توتھا لیکن اکثر و بیشتر غریب (ضعیف) روایات بیان کرتا تھا ۔ ۲۴ ؂
(۲) اس کا ایک راوی ابنِ جریج ہے جس کا نام عبد الملک بن عبد العزیز ہے ۔ اکثر محدثین نے اس کو ثقہ کہا ہے لیکن امام امالک بن انس فرماتے ہیں : ابنِ جریج حاطب اللیل تھا ۔ ۲۵ ؂ اور اس کمزوری کے ساتھ ساتھ اس نے متعہ کے ستر نکاح کیے تھے ۔ ۲۶ ؂ اس سے معلوم ہوا کہ متعہ باز شیعی تھے ۔
۳۔ اس کا ایک راوی ابو زبیر المکی ہے جس کا نام محمد بن مسلم بن تدرس تھا ، جو سچا تو تھا لیکن مدلس تھا ۔ ۲۷ ؂ اور یہ روایت معنعن ہے ،یعنی یہ راوی اسے عن ، عن کہہ کر بیان کرتا ہے اور اصولِ حدیث کا مشہور قاعدہ ہے کہ مدلس راوی کی معنعن روایت مردود ہوتی ہے ۔ ۲۸؂
سیدنا حبشی بن جنادۃ الکوفی رضی اللہ عنہ : ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : علی منی وانا منہ ولایودی عنی الا انا اوعلی ۔
ان کی روایت مسند احمد ۴:۱۶۴ ؛ جامع الترمذی (۳۷۱۹) کتاب المناقب (۵۰) باب (۲۱)، سنن انسائی الکبری۵:۱۲۸(۸۴۵۹) کتاب الخصائص باب (۲۴)؛ امام ابوعاصم کی کتاب السنتہ۲:۵۸۹ (۱۳۲۰) اور امام طبرانی کی المعجم الکبیر ۴:۱۶(۳۵۱۱) میں موجود ہے ۔ لیکن :
(۱) ان سب کا مرکزی راوی ابو اسحاق السبیعی ہے جس کا نام عمر وبن عبد اللہ ہے جوکثرت کے ساتھ تدلیس کیا کرتا تھا۔ ۲۹؂ؔ اور اس کی یہ روایت معنعن ہے پس اصولِ حدیث کی روسے یہ روایت ناقابلِ احتجاج ٹھیری۔
محدث مغیرہ اسی راوی کے بارے میں فرمایا کرتے تھے : اس ہی نے اہلِ کوفہ کی روایات کو ناکارہ اور ناقابلِ استدلال بنایا ۔ ۳۰؂
(۲) مسند احمد اور سنن نسائی کی اسناد میں ابو اسحاق کا شاگرد اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق موجود ہے جس نے ابو اسحاق سے اس زمانے میں حدیث کی روایت کی ہے جب کہ ابو اسحاق کا حافظہ متغیر ہو گیا تھا اور اختلاط کا شکار ہوا تھا ۔۳۱؂ پس روایت نادرست ہوئی ۔
(۳) ترمذی کی سند میں اسماعیل بن موسیٰ الغزاری نامی راوی ہے جو صحابہء کرام رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کرتا تھا اور اسی کے سبب محدثین اس پر شدید نکیر کیا کرتے تھے ۔ ۳۲؂
(۴) طبرانی کی روایت میں ایک کمزوری تو یہ ہے کہ :
اس کے اکثر راویوں کا کتب اسماء رجال میں کوئی اتا پتا نہیں کہ ثقہ تھے یا غیر ثقہ ۔
دوسری خرابی یہ ہے کہ اس کا راوی اسماعیل بن موسیٰ السیدی راففی تھا۔ ۳۳؂ ایک اور راوی یحییٰ بن عبد الحمید الحمانی ہے ۔ امام یحییٰ بن معین اسے ثقہ کہتے ہیں لیکن امام احمد اس کے بارے میں فرماتے ہیں : ظاہر باہر جھوٹ بولتا تھا ۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں : متعصب شیعہ تھا اور کہا کرتا تھ اکہ معاویہ رضی اللہ عنہ اسلامی ملت میں داخل نہیں ہیں ۔ ۳۴؂ اعاذنا اللہ منہ ۔
۴۔ سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ۔ ان کی رویت کو امام نسائی نے السنن الکبریٰ ۵:۱۲۹(۸۴۶۲) میں اور امام ابو عاصم نے کتاب السنتہ ۲: ۶۰۹ (۱۳۸۴) میں نقل کیا ہے اور دونوں میں درجِ ذیل اسنادی کمزوریاں موجود ہیں :
(۱) ایک راوی فطربن خلیفہ قرشی مخزومی ابوبکر کوفی حناط ہے جو ثقہ تو تھا لیکن تھوڑا تھوڑا شیعہ تھا ۔ ۳۵؂ حافظ ابن حجر بھی اسے شیعہ بتاتے ہیں ۔ ۳۶؂
(۲) ایک راوی عبد اللہ بن شریک غالی شیعہ تھا ۔ ۳۷؂ امام جو زجانی فرماتے ہیں : ’کذاب ‘ (بہت بڑا جھوٹا) تھا ۔ ۳۸؂
(۳) ایک راوی عبد اللہ بن رقیم الکتانی الکوفی مجہول ہے ۔ ۳۹؂
۵۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ۔ ان کی روایت امام ابنِ جریر کی تفسیر ۶:۳۰۷ ، فقرہ (۱۶۳۸۹)؛ امام طبرانی کی المعجم الکبیر ۱۱: ۳۱۶ (۱۲۱۲۷) اور حافظ ابنِ عدی کی الکامل فی ضعفاء الرجال ۴:۲۳۹ میں موجود ہے جس میں درجِ ذیل اسنادی خامیاں موجود ہیں :
(۱)مرکزی راوی سلیمان بن قرم سئیُ الحفظ تھا اورشیعہ تھا ۔ ۴۰؂ شیعیت میں افراط کا شکار تھا ۔ ۴۱؂ اور امام ابن حبان کی تصریح کے مطابق غالی رافضی تھا اور احادیث و روایات قلب (ہیر پھیر) کیا کرتا تھا ۔ ۴۲؂
(۲) ایک راوی الاعمش ہے جس کا اصلی نام سلیمان بن مہران ہے جو مدلس ۴۳؂ اور شیعہ تھا ۔ ۴۴؂ جب کہ یہ روایت معنعن ہے ۔ اور مدلس کی معنعن روایات نامقبول ہوئی ہے ۔
(۳) الحکم بن عتیبہ جو مقسم بن بجرہ کا شاگرد ہے ۔ ۴۵؂ ثقہ تو تھا ، لیکن مدلس تھا ۴۶؂ اور یہ روایت معنعن ہے۔
۶۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ : ان کی روایت امام نسائی کی السنن الکبریٰ ۵:۱۲۸۔۱۲۹ (۸۶۴۱) میں موجود ہے۔ لیکن اس کی سند میں بھی درجِ ذیل دو خرابیاں ہیں :
(۱) اس کا راوی ابو اسحاق السبیعی ہے جس کا نام عمرو بن عبد اللہ ہے ، کثرت کے ساتھ تدلیس کیا کرتا تھا ۔ ۴۷؂ اس کی یہ روایت معنعن ہے ، جب کہ اصولِ حدیث کا قاعدہ ہے کہ مدلس کی معنعن روایت مردود ہوتی ہے۔
(۲) ایک راوی یونس بن ابی اسحاق السبیعی ہے ۔ اس راوی کے متعلق امام ابوبکر اشرم فرماتے ہیں : اس کی اپنے والد سے روایت کردہ حدیث ضعیف ہوتی ہے ۔ ۴۸؂
امام احمد اس کی روایت کو مضطرب جانتے ہیں ۔ ۴۹ ؂
امام ابو حاتم فرماتے ہیں : سچا ہونے کے باوجود اس کی روایت ناقابلِ احتجاج و استدلال ہے ۔ ۵۰ ؂
امام ساجی فرماتے ہیں: سچا تو تھا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر فوقیت کا قائل تھا ۔ ۵۱؂
(جاری)

_______


۱ ؂ ماہ نامہ ’’فکر و نظر‘‘ اسلام آباد ، شمارہ ۳ ،جلد ۳۳ ، صفحہ ۷۶، فضیلت (۱) ۔ یہ روایت ماہ نامہ ’’الحق‘‘، اکوڑہ خٹک کے شمارہ (۱) جلد (۳۶) صفحہ (۹) مطابق اکتوبر ۲۰۰۰ م میں ابنِ ہشام کی روایت سے بیان کی گئی جو ان کی سیرت ۲: ۵۰۴۔۵۰۵ میں محمد بن اسحاق کا نام لے کر منتقل کیا گیا ہے ، محمد بن اسحاق کہتے ہیں : ہمیں یہ بات پہنچی ہے۔ اب یہ روایت کس نے بیان کی ہے ؟ اس کا نام و نشان تک معلوم نہیں ۔ پس اصولِ حدیث کے رو سے یہ روایت سخت کمزور ہے ۔
۲ ؂ ترمذی (۳۷۲۰) کتاب المناقب (۵۰) ، باب (۲۱) ۔ المستدرک ۳: ۱۴۔
۳ ؂ المجروحین ۱: ۲۱۸ ۔
۴ ؂ نفس مصدر ۔
۵ ؂ التاریخ الکبیر ۲: ۲۴۲ ۔
۶ ؂ میزان الاعتدال ۱ : ۴۲۱ ، ترجمہ ۱۵۵۲ ۔
۷؂ المستدرک ۳: ۱۴ ۔
۸ ؂ تلخیص المستدرک ۳: ۱۴ ۔
۹؂ فتح الباری ، کتاب فضائل الصحابہ۷: ۶۲ ۔
۱۰ ؂ منہاہ السنتہ النبویہ ۲: ۱۹۹ ۔
۱۱؂ الطبقات الکبریٰ ۳: ۲۳ ۔ لیکن اس کی سند میں محمد بن عمر الواقدی موجود ہے جو وسیع علم رکھنے کے باوجود متروک ہے ۔
(التقریب :۳۱۳)
۱۲ ؂ المرتضی ص : ۶۲۔
۱۳؂ المرتضی ص : ۶۲۔ ۶۳ ۔ ان میں سے ایک کمزور روایت بلاذری کی انسابالاشراف ۱ : ۳۱۸ میں بلاسند مذکور ہے۔ جسے مولامحمد امجد صاحب تھانوی ریسرچ اسکالر ، کراچی یونیورسٹی نے اپنے مضمون ’’اسلامی نظام اور مؤاخات‘‘ کے تحت نقل کیا ہے ۔
۱۴؂ ماہ نامہ فکر و نظر ص : ۷۷، پیرا : ۱۳ ۔
۱۵؂ جامع ترمذی (۳۰۹۰) ۵: ۲۵۶ ، کتاب تفسیر القرآن(۴۸) باب (۱۰)؛ السنن الکبری للنسائی ۵: ۱۲۸ (۸۴۶۰) کتاب الخصائص؛ مسند احمد ۱: ۱۵۱؛ ۳: ۲۱۲؛ مصنف ابن ابی شیبہ (۱۲۱۸۴) ۱۲ : ۸۵ ۔
۱۶؂ تہذیب الکمال۱۲ : ۱۱۹ ۔
۱۷ ؂ الثقات لابن حبان ۴: ۳۳۹ ۔
۱۸؂ تقریب التہذیب ص : ۱۳۷ ۔
۱۹ ؂ البدایتہ والنھایہ ۵: ۴۶ ۔
۲۰ ؂ مجمع الزوائد ۷ : ۲۹ ۔
۲۱؂ العلل و معرفتہ الرجال۱: ۳۷۴ ، رقم النص : ۷۱۶ ۔
۲۲؂ نفس مصدر۱ : ۳۷۴، ۳۸۹، رقم النص : ۷۱۹؛۷۷۰ ۔
۲۳؂ الجرح والتعدیل ۷ : ۲۱۹، ترجمہ : ۱۲۱۵ ۔
۲۴؂ تقریب التھذیب ص : ۲۵۱ ۔
۲۵ ؂ تاریخِ بغداد ۱۰ : ۴۰۴ ۔
۲۶؂ میزان الاعتدال ۲ : ۶۵۹ ۔
۲۷؂ تقریب التہذیب ص : ۳۱۸ ۔
۲۸؂ اختصار علوم الحدیث ص : ۶۳، نوع : ۱۲ ۔
۲۹؂ تعریف اہل التقدیس ص : ۱۰۱ ، ترجمہ : ۹۱ (۲۵) ۔
۳۰ ؂ میزان الاعتدال ۳: ۲۷۰ ۔
۳۱؂ تہذیب الکمال ۲ : ۵۱۹ ۔
۳۲ ؂ الکامل فی الضعفاء : ۱: ۲۵۸ ۔ ۹ ۲۵ ۔
۳۳؂ تقریب التہذیب ص : ۳۵ ۔
۳۴؂ میزان الاعتدال ۴ : ۳۹۲ ۔
۳۵؂ الثقات از عجلی ص : ۳۸۵ ، ترجمہ ۱۳۶۰ ۔
۳۶؂ تقریب التہذیب ص : ۲۷۷ ۔
۳۷؂ الضعفاء الکبیر از عقیلی ۲ : ۲۶۶، ترجمہ : ۸۲۲؛ المجروحین از ابنِ حبان ۲ : ۲۶ ۔
۳۸؂ احوال الرجال ص : ۴۹، ترجمہ ۲۵ ۔
۳۹؂ تقریب التہذیب ص : ۱۷۳ ۔
۴۰ ؂ تقریب التہذیب ص : ۱۳۵ ۔
۴۱؂ الضعفاء الکبیر ۲: ۱۳۷ ؛ الکامل فی ضعفاء الرجال ۴:۲۴۰؛ تہذیب الکمال ۱۲: ۵۳ ۔
۴۲ ؂ المجروحین ۱ : ۳۳۲ ۔
۴۳؂ تعریف اھل التقدیس ص : ۶۷؛ ترجمہ : ۵۵ ۔
۴۴ ؂ الثقات از عجلی ص : ۲۰۵ ۔
۴۵؂ تہذیب الکمال ۲۸: ۴۶۲ ۔
۴۶؂ تقریب التہذیب ص : ۸۰ ۔
۴۷؂ تعریف اہل التقدیس ص : ۱۰۱، ترجمہ : ۹۱ (۲۵) ۔
۴۸؂ تہذیب الکمال ۳۲: ۴۹۱ ۔
۴۹؂ العلل و معرفتہ الرجال ۲ : ۵۱ ۔
۵۰ ؂ الجرح والتعدیل ۹ : ۲۴۴۔ ترجمہ : ۱۰۲۴ ۔
۵۱؂ تہذیب التہذیب ۱۱ : ۳۸۰ ۔

____________

 




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List