Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

قرآن میں تقویتِ دلالت کا اضافی اہتمام (2/2) | اشراق
Font size +/-

قرآن میں تقویتِ دلالت کا اضافی اہتمام (2/2)

قرآن میں تقویتِ دلالت کا اضافی اہتمام (1/2)

سیاق وسباق کی تشکیل

یہ رد احتمالات کا ایک اور ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو قیامت تک کے لیے معنی آفرین بنائے رکھنے کے لیے سیاق کلام نہایت عمدگی سے ترتیب دیا ہے۔ اس میں لفظی سیاق،مضمون کا سیاق،مخاطب اور متکلم اور شان نزول کے سیاق کو بھی کلام کے اندرپرودیا گیا (woven) ہے۔ یہ محض دعویٰ نہیں ہے، اسے ہمارے مدرسے کے جلیل القدر مفسرین نے اپنی تفسیروں میں ثابت کردیا ۸؂ ہے۔ ذیل کی آیت میں جمعِ قرآن کا یہ لازمی نتیجہ ہے۔ اللہ حکیم و حمید کا فرمان ہے:

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ. فَاِذَا قَرَاْنٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ. ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ.(القیامہ ۷۵: ۱۷۔۱۹)
’’اس کا جمع کرنا اور قراء ت کرنا، سب ہماری ذمہ داری ہے۔ اس لیے جب ہم اس کی قراء ت کریں تو اس کی اس قراء ت کی پیروی کرو۔ پھر ہمارے ہی ذمے ہے کہ ہم اس کی وضاحت کر دیں۔‘‘

سیاق و سبا ق دو طرح کا ہوتا ہے: ایک عبارت کا اور دوسرا تاریخی۔ عبارت کے سیاق و سباق کا مطلب تو یہ ہے کہ کلام کے اندر جو مضمون یا الفاظ ہیں ، وہ ایک سیاق و سباق بنارہے ہوتے ہیں، قدما اسے قرائن مقالیہ کا نام دیتے تھے۔ تاریخی سیاق و سباق سے ہماری مراد نزول قرآن کے وقت کی صورت حال ہے۔ ’’شان نزول‘‘ اور ’’قرائن حالیہ‘‘ کے الفاظ میں بھی انھی کو مراد لیا جاتا ہے۔قرآن مجید کمال قدرت کے ساتھ دونوں کو کلام میں اس طرح بُن دیتا ہے کہ موقع محل، مخاطب وغیرہ سب واضح ہو جاتے ہیں۔اس کے لیے ہمارے پچھلے مضمون میں سورۂ احزاب کی مثال کو دیکھا جا سکتا ہے۔
قرآن مجید جستہ جستہ اترا ہے۔ لیکن بعد میں اسے جبریل امین کی راہنمائی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف ترتیب دے کر امت کو دیاہے۔اسے ترتیب توقیفی کہا جاتا ہے۔قرآن جس طرح اترا تھا، اگر ویسے ہی جمع کردیا جاتا — آیات سورتوں میں نہ ڈھلتیں ، اور نہ سورتوں کی کوئی ترتیب قائم کی جاتی — تو بلاشبہ سیاق و سباق تشکیل نہ پاتا۔ پھر یہ اسی طرح کی کتاب ہوتی جس طرح آج کل اقوال زریں (Quotations) کی کتابیں ہوتی ہیں۔ لیکن قرآن کا معاملہ ایسا نہیں ہے، بلکہ اپنی اس ترتیب کی وجہ سے آیات کا سیاق وسباق بنتا ہے، جسے صحابہ اور عموماً مفسرین نے فہم قرآن میں ملحوظ رکھا ہے۔ یہ سیاق و سباق احتمالات کو رد کرنے میں بہت قوی کردار ادا کرتا ہے۔
اسے پہلے ایک آسان مثال سے سمجھتے ہیں۔ ذیل کی آیت سے کوئی لاخیراً یہ مطلب نکال سکتا ہے کہ قرآن کے اختتام کے وقت اللہ تعالیٰ نے ’فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ‘ (الماعون ۱۰۷: ۴) کے الفاظ میں نماز پڑھنے سے روک دیا ہے کہ نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے۔ ایسی بات تبھی ممکن ہے کہ اس آیت کو اس کے سیاق و سباق سے کاٹ لیا جائے۔ سیاق و سباق سے واضح ہے کہ ریاکاراور غفلت شعار نمازیوں کو وعید ہے۔ہر آیت اپنے مقام پر نگینے میں جڑے موتیوں کی طرح ہے۔ اگر اسے وہاں سے نکال لیں تو معنی تو وہ پھر بھی دے گی ،لیکن کبھی اپنے اصل معنی سے محروم ہو جائے گی جیسا ہم نے ’فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ‘ کے بارے میں ابھی دیکھا، اور کبھی حسن معنی سے۔
ذیل میں ایک اورمثال سے بات واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔سورۂ کوثردیکھیے:

اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ. فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ. اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ.(۱۰۸: ۱۔۳)
’’ہم نے تمھیں خیر کثیر عطا کیا، اس لیے اپنے رب کی نمازپڑھو اور اس کے لیے قربانی کرو، بلاشبہ تیرا دشمن ہلاک ہو گا۔‘‘

سب سے پہلے سورہ کی داخلی باتوں کو سمجھنے کے لیے اسے اپنے مقام سے اگر الگ کرلیتے ہیں۔یہ عرف قرآن سے واضح ہے کہ ’اَعْطَیْنٰکَ‘ کے ’کافِ‘ خطاب سے مرادنبی آخر الزمان ہیں۔ آپ کویہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے آپ کو ’الکوثر‘ عطا کیا۔اس کے بعد فرمایا کہ آپ نماز پڑھیں اور قربانی دیں۔آگے بڑھیے ، تو اچانک آپ کے دشمنوں کے ابتر ہونے کی وعید اور خبر سنائی گئی ہے۔
اب ان تین چیزوں پر غور کریں کہ یہ تینوں چیزیں ’الکوثر‘ سے کیا تعلق رکھتی ہیں۔ اس تعلق پر غور کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ’اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ‘ کے فوراً بعد ’فاء‘ سے عطف کرکے یہ باتیں کہی گئی ہیں۔ عربی جاننے والے جانتے ہیں کہ ’فاء‘ سے عطف پچھلی بات سے کسی نہ کسی پہلو سے متعلق ہوتا ہے۔ بات کو سمجھنے کے لیے اردو کی ایک مثال پر غور کریں۔ کوئی اپنے بیٹے کو ایک چیز بھیجے اور اسے خط میں لکھے:

’’میں تمھیں ایک بہت مفید چیز بھیج رہا ہو، توتم وقت پر اٹھنااوروقت پر اسکول جانا ،سکول کا چوکیدار تمھیں نہیں روکے گا۔‘‘

اب دیکھیے، ’تو‘ کے بعد کے جملے بتارہے ہیں کہ اس ’مفید چیز‘ کا تعلق ’وقت‘ سے ہے۔ ان جملوں سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ ’مفید چیز‘ وقت معلوم کرنے کی سہولت فراہم کرے گی،یعنی گھڑی بھیجی گئی ہے ۔ جس کی مدد سے وقت پر اٹھنا اور اسکول جانا ممکن ہو گا توچوکیدار کے روکنے کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ تو خط کے ان تین جملوں سے ہمیں ساری کہانی سمجھ میں آگئی۔
ٹھیک ایسے ہی جملے سورۂ کوثر کے ہیں۔ ان میں بھی جو چیز عطا کی گئی بربناے مصلحت اس کا نام نہیں لیا گیا۔ اس کا ذکر بس ’الکوثر‘ کے وصف سے کیا ہے۔ ’کوثر‘ دراصل وہ چیز یا شخص ہے جس سے بے پناہ فیض ملتا ہو، اسی لیے بہت سخی شخص کو ’کوثر‘ کہتے ہیں۔ اوپر گھڑی والے جملے کی طرح ’کوثر‘ عطا کرنے کے بعد دو حکم دیے گئے ہیں کہ نماز پڑھنا اور قربانی دینا۔ اب انسانی ذہن فوراً اس طرف جائے گا کہ وہ کون سی فیض رساں چیز ہے جس کے ملنے کے بعد نماز اور قربانی ہوگی۔قرآن کے مخاطب قریش، یعنی آلِ ابراہیم جانتے ہیں کہ بیت اللہ ہی وہ جگہ ہے جس میں یہ دونوں کام کیے جاتے ہیں۔ تیسری آیت یہ بتاتی ہے کہ اس قربانی اور نماز سے متعلق ’الکوثر‘ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے بھی کوئی معاملہ ہے۔یہ سورہ مکی ہے ، اور ہمیں معلوم ہے کہ مکہ اور مدینہ کے بھی کئی سال تک بیت اللہ کفار مکہ کے قبضے میں رہا۔اب اللہ تعالیٰ اس دور میں کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تمھیں بیت اللہ عطا کیا، جب آپ کو مل جائے تو نماز ادا کیجیے گا اور قربانی نذر کیجیے گا، رہا یہ دشمن ، جس کے قبضے میں بیت اللہ ہے، اب وہ اس پر کنٹرول نہیں رکھ سکے گا، اس لیے کہ اس کی جڑ کٹ جائے گی۔
یوں سورہ کے الفاظ و جمل نے ہمیں بتادیا کہ یہ سورہ کس صورت حال میں اتری، یعنی اس سورہ کی شانِ نزول کیا ہے، اس وقت دشمن کی کیا حالت تھی، کعبہ کن کے قبضے میں تھا، اور کعبے کے ساتھ جو دو عبادات۹؂ جڑی تھیں، ان کے کرنے سے مسلمان رکے ہوئے تھے۔اس موقع محل سے ہم پر یہ بات مزید کھلی کہ ’اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ‘ کے الفاظ بشارت اور وعدے کے تھے، فوری دے دینے کے معنی میں نہیں تھے۔ تو اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن مجید چند جملوں پر مشتمل سورت میں بھی کس شان کے ساتھ موقع محل کومصور کرکے سامنے رکھ دیتا ہے۔اب یہ سورت جن سورتوں کے درمیان رکھی گئی ہے، انھوں نے بھی ایک موقع محل تشکیل کیا ہے۔ یہاں مضمون میں اس کی توضیح طوالت کا باعث ہوگی۔ استاذ گرامی کی ’’البیان‘‘ میں اسے دیکھا جاسکتا ہے۔مختصراً صرف اس کے بعد کی تین سورتوں کے مضامین کے اشاروں سے موقع محل بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ موقع محل کی ایک ہلکی سی تصویر سامنے آجائے۔
سورۂ کوثر کے بعد کی صرف تین سورتیں دیکھیں تو وہ سورۂ کافرون، سورۂ نصر اور سورۂ لہب ہیں، سورۂ کافرون دشمن پر اتمام حجت کے بعدان کی تکفیر کو بیان کرتی ہے۔ سورۂ نصرخدا کی مدد اور فتحِ مکہ، یعنی حصولِ کعبہ کا پتا دیتی ہے۔ جب کہ سورۂ لہب ،ابولہب اور کفارکے دیگر لیڈروں کی ہلاکت کی خبر دیتی ہے۔چنانچہ اس سیاق و سباق سے یہ بات واضح ہوگئی ہو گی کہ جو تعلق سورۂ نصر اور سورۂ لہب کا ہے وہی تعلق ’اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ‘ اور ’اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ‘ کا ہے۔ یعنی فتح مکہ اہل مکہ کے سرداروں کی ہلاکت پر منتج ہوگی۔
اس طرح قرآنی اسلوب میں تاریخی سیاق و سباق ، شانِ نزول یا قرائن حالیہ متن میں ملفوف ہو کر آجاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ قرآن مجید قرائن حالیہ کو بھی قرائن مقالیہ کا حصہ بنا دیتا ہے۔۱۰؂ یہ سیاق و سباق کی دوہری تہری تہیں بناتا ہے:
۱۔ جملے کا سیاق،
۲۔ پورے پیرا گراف کا سیاق،
۳۔ سورتوں کا باہمی سیاق،
اس سہ گونا سیاق وسباق کو ترتیب توقیفی میں قائم کرکے وہ کام کیا گیاہے، جو ہماری گفتگوؤں میں ہماراماحول سرانجام دیتا ہے۔قرآن نے اس ترتیب سے یہی کام لیا ہے کہ وہ اس وقت کی صورت حال کو کلام میں پرو دیتا ہے تاکہ قاری معنی سے چوکنے نہ پائے۔

تصریف آیات

ادواتِ ابلاغ میں اگلی چیز یہ ہے کہ ایک بات کو مختلف الفاظ اور مختلف سیاق و سباق میں بار بار دہرادیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَلَقَدْ صَرَّفْنٰہُ بَیْنَہُمْ لِیَذَّکَّرُوْا فَاَبآی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوْرًا.(الفرقان ۲۵: ۵۰)
’’ہم نے اس (قرآن) کو ان کے درمیان طرح طرح سے بیان کیا ہے تاکہ یہ یاددہانی حاصل کریں، مگر اکثر لوگ ناشکری کیے بغیر نہیں رہتے۔‘‘

تصریف کے بہت سے فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ بات کو بار باردہرانا، مضمون کو واضح اور ازبر کرنے میں مدد دیتا ہے۔مختلف اسالیب اور سیاق وسباق میں دہرانے سے بات کئی پہلوؤں سے واضح ہو جاتی ہے، اسی بات کو اوپر آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
دوسرے یہ کہ ہم اپنی افتادِ طبع، ذوقِ فکر، تہذیبی اقدار اور معلومات کے اسیر ہوتے ہیں ۔قرآن کے اولین مخاطب اگرچہ ایک ہی تہذیب کے افراد تھے۔ لیکن افتادِ طبع اور ذوقِ فکر اور معلومات کا فرق فہم اور حصول علم میں فرق پیدا کر دیتا تھا۔ لہٰذاہر ذوق طبع کے لیے مختلف انداز میں بات سمجھانا پڑتی ہے۔ اگرذوقِ طبیعت کی وجہ سے کسی آیت کے فہم میں ناکامی ہوتو دوسرا مقام ہماری مدد کرتا ہے۔
یہ تصرف کئی پہلوؤں سے ردّ احتمالات میں مدد گار ہے۔مثلاً قرآن مجید نے بسا اوقات ، الفاظ تک کو یوں استعمال کردیا ہے کہ ایک مقام دوسرے مقام کے لیے لغات بن جاتا ہے۔قرآن نے اپنے ان مضامین کو اس قدر دہرایا ہے کہ وہ قاری کے لیے جانے پہچانے مضامین بن جاتے ہیں ، جس سے وہ دوسرے مقامات میں غلطی کھا جانے سے بچ جاتا ہے۔قرآن کبھی ایک مضمون کو مختلف الفاظ میں بیان کردیتا ہے اور کبھی الفاظ وہی رکھتا ہے، مگر سیاق و سباق بدل دیتا ہے، وغیرہ ۔ان تصریفات سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جب ایک طرح کے الفاظ میں بات سمجھ نہ آئے تو الفاظ بدل کر rephrase کر دیا جاتا ہے اور جب ایک سیاق وسباق سے بات سمجھ نہ آئے تو دوسرے سیاق و سباق میں بات سمجھ آجاتی ہے۔ اس سے یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر نئے سیاق و سباق میں اسی بات کا ایک نیا پہلو واضح ہوتا ہے ۔یوں تصریفات مضامین کا گھیراؤ کرتے ہیں، اور ہمیں بھٹکنے سے بچا لیتے ہیں۔
یہ اسلوب ایک کائناتی حقیقت کی طرح ہے۔ خدا کی تخلیق کا ڈیزائن ایسا ہے کہ ایک چیز ایک ہی جگہ اور ایک ہی صورت میں نہیں پائی جاتی۔مثلاً نمک کو لیجیے ، وہ صرف نمک کی کانوں ہی میں نہیں پایا جاتا، بلکہ وہ سبزیوں، گوشت، پھلوں کئی صورتوں میں پایا جاتا ہے۔ ہندوؤں نے گوشت کھانا چھوڑا تو انھیں پروٹین دالوں اور سبزیوں سے ملتی رہی ہے۔ٹھیک یہی ڈیزائن قرآن کا ہے۔ایک حکمت ایک ہی جگہ نہیں، بلکہ مختلف پیراے میں، مختلف لطافتوں کے ساتھ مختلف مقامات پر ملے گی۔جس نے نہ صرف مختلف الذہن لوگوں کی فطرتِ فہم کو سیراب کرنے کا سامان کیا ہے، بلکہ اس سے آیات ایک دوسری کی تفسیر میں بھی مددگار بن گئی ہیں۔جو ہمارے لیے قرآن کا معروف تشکیل کرتیں اور ذریعہ حجت و استشہاد بنتی ہیں۔
قرآن میں تصریف میں کبھی بعینہٖ وہی الفاظ دہرائے جاتے ہیں ، کبھی صرف سیاق و سباق بدلا جاتاہے۔ اس کی سب سے عمدہ مثالیں صفات الٰہی ہیں۔ مثلاًصفتِ رحمت ہی کو پورے قرآن میں نکال کر دیکھ لیجیے ہر مقام پر رحمت کے نئے پہلو سامنے آتے جائیں گے۔ لفظی تصریف کی ایک آسان فہم مثال سورۂ بقرہ کی دوسری آیت میں ’لَا رَیْبَ فِیْہِ‘ کی ہے۔ یہاں مفسرین کو تردد پیش آیا کہ یہ کس معنی میں ہے۔یعنی کتاب کا مضمون ’لَا رَیْبَ فِیْہِ‘ والاہے یا اس کا کتاب الٰہی ہونا ؟

ذٰلِکَ ا لْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ.(البقرہ ۲: ۲)
’’یہ وہی کتاب ہے، اس میں کچھ شک نہیں۔ متقین کے لیے ہدایت ہے۔‘‘

لیکن یہ تردد دوسرے مقام پر دور کردیا گیا ہے ۔ وہاں اسی طرح کے سیاق و سباق میں ’لَا رَیْبَ فِیْہِ‘ کو دہرایا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ سجدہ میں اس بات کو لفظوں میں بیان کردیا گیا ہے ’لَا رَیْبَ فِیْہِ‘ سے کیا مراد ہے:

الٓمّٓ. تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْہِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ. اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ بَلْ ھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ.(السجدہ ۳۲: ۱۔۳)
’’یہ ’الم‘ ہے، اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے بہ اہتمام نزول میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ آیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے! نہیں ایسا نہیں ہے یہ تو تمھارے رب کی طرف سے اترا حق ہے تاکہ تم ایک ایسی قوم کو آگاہ کرو، جن کے پاس تم سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا تاکہ یہ ہدایت پائیں۔‘‘

یہ مثال ایسی ہے کہ اس میں ’لَا رَیْبَ فِیْہِ‘ جیسے معمولی سے مرکب کو سمجھایا گیا ہے۔جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تصریف سے اورکیا کیا واضح ہو سکتا ہے۔ مضمون کی تصریف کی مثال بھی انھی آیتوں میں موجود ہے۔ ’لَا رَیْبَ فِیْہِ‘ سے یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔لیکن یہ شبہ کس نوعیت کا ہے، وہ البقرہ کی آیت سے معلوم نہیں ہورہا تھا۔ سورۂ سجدہ کی مذکورہ بالا آیت ۳ سے یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ لوگ اسے افترا کہہ رہے تھے۔اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ آیا یہ مضمون سورۂ بقرہ میں بھی پیش نظر ہے؟ تو اگرچہ یہاں البقرہ کے آغاز میں اس مضمون کے کوئی شواہد نہیں ہیں ، لیکن ۲۳ ویں آیت سے واضح ہے کہ وہاں بھی یہ پہلو پیش نظر تھا: ’اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا شُھَدَآءَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ‘ (البقرہ ۲: ۲۳)۔ ’فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ‘ ظاہر ہے افترا کے جواب میں۱۱؂ ہی آیا ہے کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ انسانی کلام ہے، اور یہ صاحب خود لکھ کر پیش فرما رہے ہیں ، تواپنے اس الزام میں اگر سچے ہو تو اس جیسا کلام لے آؤ۔ سو واضح ہوا کہ وہ مضمون جو السجدہ کی پہلی آیت میں کھول دیا گیا ہے، وہ البقرہ کی دوسری آیت میں مضمر تھا، جسے ۲۳ ویں آیت میں کھولا گیا ہے ۔ اس تصریف سے معلوم ہوا کہ البقرہ کی دوسری آیت کے جملے: ’ذٰلِکَ ا لْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ‘ کا ایک پہلو آیت ۲۳ میں زیر بحث آیا ہے۔ ان آیتوں میں تصریف کے اور شواہد بھی ہیں۔ لیکن ان کا ذکر طوالت کا باعث ہو گا ۔

عدم تضاد

یہ ادواتِ ابلاغ کا اگلا عنصر ہے۔اسے بھی قرآن نے بیان کردیا ہے:

وَلَوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِاللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا.(النساء ۴: ۸۲)
’’اور کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں وہ بڑا اختلاف پاتے۔‘‘

یہ آیت ایک طرف اس کتاب کے الٰہی ہونے کا استدلال ہے تو دوسری طرف یہ قرآن کا ایک ابلاغی وصف بھی ہے۔اس اصول کی وجہ سے سارے کا سارا قرآن اپنی ہر ہر آیت کے لیے شاہد و نگران ہے۔اب اگر کوئی آدمی کسی آیت کی ایسی تفسیر کرے جو کسی دوسری آیت سے ٹکر اتی ہو ، تووہ تفسیر قبول نہیں کی جائے گی۔یوں پورا قرآن دلالت کے لیے غایت درجہ معاون ہے۔ہم انسانوں کے کلام میں ایسا نہیں ہوسکتا۔ حد یہ ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں لکھی گئی ہماری کتابوں میں بھی تضادپایا جاتا ہے۔

تبیین الٰہی

مدعاے قرآنی کو دو ٹوک کرنے کے لیے یہ اگلا بندو بست ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ تھا کہ نزولِ قرآن کے دوران میں قرآن سے متعلق جو بھی سوالات پیدا ہوں گے، اس کی بہ قدر حکمت وضرورت تبیین کر دی جائے گی۔ سورۂ قیامہ آیت جمعِ قرآن ہم نے اوپر قراء ت کی بحث میں پیش کی ہے، اس میں یہ وعدہ تھا کہ ’ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ‘ (۷۵: ۱۹)، یعنی جمع کرنے اور قراء ت کرانے کے بعد اگلی ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس کی توضیح بھی کر دیں گے۔ چنانچہ قرآن میں بہت سے سوالات خواہ وہ پوچھے گئے ہوں یا ذہنوں میں ابھرے ہوں، ان کا جواب دیا گیا ہے۔ ان جوابات کو قرآن میں جگہ جگہ کچھ الفاظ سے نمایا ں کردیا ہے تاکہ ان توضیحی آیات کی نشان دہی ہو جائے۔ مثلاً ان آیات میں ’وَیَسْءَلُوْنَکَ‘ (البقرہ۲:۲ ۲۲)، ’وَیَسْتَفْتُوْنَکَ‘ (النساء ۴: ۱۲۷) یا ’کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ‘ (البقرہ ۲: ۲۴۲) وغیرہ جیسے الفاظ سے نشان دہی کی گئی ہے کہ یہ آیاتِ تبیین ہیں۔ اس طرح کی آیات میں یا تو کسی فروعی مسئلے کا جواب دیا گیا ہے،جس سے مجمل آیات کی توضیح کی گئی ہے۔ اس عمل سے بھی تردد و احتمال کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
ان توضیحی آیات کو پڑھ کر اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ یہ اصلاً فہم آیات میں احتمالات کے رد کے لیے نہیں اتریں۔ بلکہ واضح اور دو ٹوک بات سے کچھ فروعی مسائل پیدا ہوئے،بس ان کا جواب دیا گیا ہے۔جس سے یہ اندازہ لگانا بھی آسان ہو جاتا ہے کہ یہ توضیحات دراصل فہمِ متن سے زیادہ فقہی معاملات سے متعلق تھے۔ابلاغِ مدعا کا سرے سے کوئی معاملہ قرآن کے سوالات میں زیر بحث ہی نہیں آیا۔جواس بات کا ثبوت ہے کہ اولین سامعین کو فہم مدعا میں کوئی اشکال پیش نہیں آیا تھا۔یعنی ان کے لیے قرآن دو ٹوک اور بالکل واضح تھا۔

محکم اور مفصل آیات

یہ دوہرا اسلوب قرآن کو دلالت میں واضح تر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا یا ہے۔قرآن مجید میں دو طرح سے بات کی گئی ہے: محکم اور مفصل۔ یعنی کچھ آیات ایجاز کے اسلوب میں ہیں اور کچھ تفصیل و توضیح کے اسلوب میں۔ اس بات کو سورۂ ہود کی پہلی آیت یوں بیان کرتی ہے :

کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ.(۱۱: ۱)
’’یہ کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں، پھر خداے حکیم و خبیر کی طرف سے اُن کی تفصیل کی گئی ہے۔‘‘

یہ کلام کو دلالت میں محکم کرنے کانہایت عمدہ حل ہے۔ اجمال کی خوبی یہ ہے کہ ایک جملے میں جہانِ معنی پرودیتے ہیں۔ ایسا کلام یک جنبشِ لب پوری بات سامنے رکھ دیتا ہے۔ایسے جملوں کو حدیث میں جوامع الکلم کہا گیا ہے۔ یہ کوزے میں دریا کی بندش ہے۔زیرک اور حکیم آدمی کے لیے یہ کلام خزینے سے کم نہیں ہوتا۔قرآن نے اس اسلوب کو بہت برتا ہے۔
تفصیلی کلام بات کو بسیط بنانے کا نام ہے۔اس میں اجمال کے پردے ہٹا کر بات لفظوں میں بیان کردی جاتی ہے۔اس تفصیل سے وہ لوگ بھی بات کو سمجھ جاتے ہیں، جو جوامع الکلم میں مدعا پانے میں کمزور ہوتے ہیں۔اسی طرح قومی اور علاقائی مزاج اور تربیت بھی اس میں کردار ادا کرتی ہے۔ یہ فرق ہمیں مشرکین مکہ اور یہودِ مدینہ میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔مکی کلام زیادہ تر پہلی صنف کے تحت آتا ہے، جب کہ مدنی کلام تفصیلی کلام کی صنف کے تحت۔
قرآن مجید یوں نہایت حسن و خوبی کے ساتھ دونوں اسالیب کو اختیار کرتا ہے۔اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ سورۂ عصر میں پہلا جملہ یہ کہتا ہے کہ ’’زمانہ گواہ ہے کہ انسان خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے‘‘۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس زمانے سے کیا مراد ہے: آخرت یا دنیا؟اگر آخرت مراد ہے تو دلیل کیسے بنے گی، دوسرے یہ کہ یہ کہنا کہ — زمانہ گواہ ہے کہ لوگ آخرت میں کامیاب ہوں گے — موزوں نہیں ہے؟اگر دنیا مراد ہے تو زمانہ کی گواہی تو اس کے برعکس معلوم ہورہی ہے کہ اہل ایمان بھی کامیاب ہوتے ہیں اور کفار بھی۔ تو پھر آیت کا مطلب کیا ہوا؟اس کی تفصیل قرآن مجید میں بہت سی جگہوں پر کی گئی ہے۔جس سے بات واضح ہو جاتی ہے۔ مثلاً سورۂ ہود کی ذیل کی آیت دیکھیے:

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ. وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ.(۱۱: ۶۶۔۶۷)
’’جب ہمارا (عذاب کا) فیصلہ آ گیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ایمان لائے تھے، انھیں بھی ان کے ساتھ اپنی رحمت کی بنا پر بچا لیااوراس دن کی رسوائی سے بھی بچا لیا ، بے شک تیرا پروردگار قوی و عزیز ہے۔‘‘

پورے قرآن مجید میں اس طرح کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں ۔ تمام مقامات کو پڑھ کر واضح ہوتا ہے کہ رسول کے زمانے میں کافروں پر جو عذاب آتا ہے، اس میں مومنین کو بچا لیا جاتا ہے اور کفار کو عذاب سے مٹا دیا جاتا ہے۔ یہاں بھی ان الفاظ پر توجہ دیں: ’نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ ہم نے صالح اور اہل ایمان کو بچا لیا۔ یوں ’والعصر‘ میں کون سا زمانہ مراد ہے اور صرف اہل ایمان کب بچائے جاتے اور صرف کفار کب ہلاک کیے جاتے ہیں، واضح ہو جاتا ہے۔ اوپرسیاق و سباق کی سرخی کے تحت بھی ایک مثال اس کی گزری ہے، سورۂ کوثرمحکم سورہ ہے اور سورۂ نصر اور سورۂ لہب اسی مضمون کی تفصیل کرتی ہیں۔ اجمال و تفصیل کا یہ تعلق بھی تعیینِ مدعا اور فہم کلام کے لیے ابلاغی ادوات میں سے نہایت موثر ہے۔
یہ نو کے قریب امور ہیں، جو قرآن مجید کو ابلاغ مدعا کے معاملے میں عام کلاموں سے ممتاز کرتے ہیں۔یہ فہرست مکمل نہیں ہے۔
خلاصۂ بحث یہ ہے کہ ہر بولنے والا، الفاظ کی دلالت، کلام کی بنت، زبان کے تواتر، سیاق و سباق کی بندش سے کلام کو ابلاغ مدعا میں بلیغ بنتا ہے۔لیکن قرآن صرف یہی چیزیں استعمال نہیں کرتا، بلکہ وہ ان پر ان مذکورہ بالا چیزوں کا مزید اضافہ کرتے ہوئے اسے ’بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ‘ ۱۲؂ (البقرہ ۲: ۱۸۵) بنادیتا ہے ۔وہ اپنے مدعا کو اس قدر واضح کردیتاہے کہ ارشاد ہوتا ہے کہ اب رسول کے بعد اس حق کے انکار کی کوئی دلیل و حجت باقی نہیں رہی(النساء ۴: ۱۶۵)۔ اسی بنا پر قرآن یہ کہنے میں حق بہ جانب ہے کہ اس کی آیات سے غلط معنی مراد نہیں لیے جاسکتے، بلکہ قرآن میں عمومی کلام والے قرائن اور اس الٰہی اہتمام کے ساتھ جس کا ہم نے ذکر کیا، کلام کو چاروں طرف سے ابلاغ کے ادوات سے لیس کردیا گیا ہے کہ اب اگر اس کے کلام کو پارہ پارہ کرکے نہ پڑھا جائے، اور ’یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِہِ‘ ۱۳؂ نہ کیا جائے تو ناحق تاویل اس کی آیاتِ بینات قبول نہیں کریں گی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَّا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ م بَیْنِ یََدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ.(فصلت ۴۱: ۴۲)
’’اس میں باطل کا ورود نہ آگے سے ہو سکتا ہے اور نہ پیچھے سے ، یہ دانا اور خوبیوں والے کی اتاری ہوئی کتاب ہے۔ ‘‘

یعنی یوں تو ہر کلام میں یہ خوبی ہے کہ وہ غلط تاویل کو روکتا ہے، لیکن خداے حکیم و حمید کی ان صفات کا مظہر اس کتاب کا رنگ کچھ اور ہی ہے۔و ہ اس معاملے میں اتنی دو ٹوک ہے کہ وہ باطل کو اگل دیتی ہے۔بقولِ شاعر

این کتابے نیست چیزے دیگر است ۱۴؂

________

۸؂ دیکھیے ’’تدبر قرآن‘‘ اور’’البیان‘‘۔
۹؂ یہ دونوں عبادات حج وعمرہ کے لیے کنایہ بھی ہیں۔جیسے تسبیح و حمد کے الفاظ نمازِ پنج گانہ کے لیے، متعدد مقامات پر، قرآن مجید میں استعمال ہوئے ہیں۔
۱۰؂ واضح رہے کہ سیاق و سباق یا قرائن مقالیہ ہی کی وجہ سے کلام کے عام و خاص ہونے کا فیصلہ ہوتاہے۔
۱۱؂ اس بات کی تصریف اس آیت میں ہوئی ہے: ’اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ‘ (یونس ۱۰: ۳۸)۔
۱۲؂ ہدایت کی دوٹوک آیات اور معیارِ حق وباطل۔
۱۳؂ کلام کو اس کے موقع محل سے ہٹا دینا۔
۱۴؂ یہ کوئی کتاب نہیں ، کوئی اور ہی چیز ہے۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List