Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Manzoor ul Hassan Profile

Manzoor ul Hassan

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
قومی تعمیر میں مذہبی قیادت کا کردار | اشراق
Font size +/-

قومی تعمیر میں مذہبی قیادت کا کردار

عرفان الٰہی کی وہ میراث جو ابراہیم و موسیٰ اور مسیح و محمد علیھم الصلوٰۃ والسلام نے چھوڑی ہے ،وہ علما کا سرمایۂ حیات ہے۔ چنانچہ انبیا کی نیابت میں اب یہ انھی کا منصب ہے کہ اپنے ہم قوموں کو جہنم کے عذاب سے خبردار کریں اور جنت کے انعام کی خوش خبری سنائیں؛ یہ انھی کا کام ہے کہ علوم دینیہ پر غور کریں اور ان کی روشنی میں زمانے کے لیے لائحۂ عمل تشکیل دیں؛ یہ انھی کا فریضہ ہے کہ دینی تعلیم کوہر آمیزش سے پاک کریں اور اسے دنیا کے قریے قریے تک پہنچائیں؛ اوریہ انھی کی ذمہ داری ہے کہ عامۂ امت کوانداز زندگی سکھائیں اور ان کی تعمیر و ترقی کے لیے صحیح راستوں کا تعین کریں۔ تاریخ گواہ ہے کہ علماے امت نے ان فرائض منصبی کو نہایت خوبی سے نبھایا ہے۔ یہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ، انھوں نے جنگلوں اور صحراؤں کی خاک چھانی ہے ، گھربار چھوڑے ہیں ، نعمتوں سے صرف نظر کیا ہے، تازیانے کھائے ہیں ، قید و بندکی صعوبتیں برداشت کی ہیں اور بسااوقات اپنی جانیں بھی راہ حق میں پیش کر دی ہیں۔بخاری و مسلم ، مالک و احمد، بو حنیفہ و شافعی ، غزالی و ابن تیمیہ نے دین و ملت کی جو خدمت کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ اس طائفۂ علماکے سرخیل تھے ۔ ان کے پیرووں نے عزم و استقامت اور حکمت و دانش کے ساتھ اقوام امت کی رہنمائی کی اور انھیں مدت تک جسد واحد میں پروئے رکھا۔ انھوں نے ارباب اقتدار کو ان کے فرائض سے منحرف نہیں ہونے دیا۔ عامتہ الناس کے اخلاق و کردار کو مجروح ہونے سے بچایا اور انھیں خوابوں میں جینے کے بجائے حقیقت پسندی کا درس دیا۔ اس رہنمائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان اخلاق و کردار، عدل وانصاف ،علم و ہنر اور نظم و ترتیب میں اوج کمال پر فائز ہوئے اور اسی بنا پر صدیوں تک عالم کی مسند اقتدار پر فائز رہے۔
امت جب زوال پزیر ہوئی توجہاں وہ حکمران رخصت ہو ئے جن کے عدل اجتماعی کوامتیں تسلیم کرتی تھیں، وہ سالار رخصت ہوئے جن کی ہیبت سے ظالم قومیں کانپ جاتی تھیں، وہ صناع رخصت ہو ئے جنھوں نے اشہب تمدن کو مہمیز کر دیا تھا ، وہ مدبر رخصت ہوئے جن کی دانش نے عمرانی علوم کے نئے دریچے کھول دیے تھے، وہ حکما رخصت ہوئے جن کے افکارنے اسرار حیات کو آشکارا کر دیا تھا ، وہاں وہ داعیان دین حق، وہ معلمین کتاب وسنت اور وہ قائدین ملت اسلامیہ بھی رخصت ہو گئے جو ان سب کے لیے قوت محرکہ کا کردار ادا کر رہے تھے اور جن کے وجود سے ان سب کا وجود قائم تھا۔ یہ علما دنیا سے اٹھے اور اس طرح اٹھے کہ امت کا وجود روح اسلام سے خالی ہو گیا اورطاغوت کے تن مردہ میں پھر سے جان پڑ گئی:

جہاں سے اس طرح اٹھے یہ اہل مے خانہ
کہ بحر و بر میں عزازیل نے جلائے چراغ
فلک کا نوحہ زمیں کے حدود میں پہنچا
کہ کھو دیا ہے ستاروں نے منزلوں کا سراغ

جو لوگ ان کے جانشین ہوئے انھوں نے علم وتحقیق اور اخلاق وتقویٰ کا بہرہ تو وافر جمع کر لیا،مگر قومی و اجتماعی امور میں امت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ ادا کرنے سے قاصر رہے۔ اس ضمن میں انھوں نے امت کو جودرس دیا، واقعہ یہ ہے کہ وہ امت کی تعمیر وترقی کے بجائے شکست و ریخت ہی کا باعث ہوا۔ اس موقع پر زمانہ ان سے یہ توقع کر رہا تھا کہ وہ وقت کی نبض پر ہاتھ رکھیں گے ، حکمت و دانش کو بروئے کار لائیں گے ، اسباب زوال کو متعین کرکے ا ن کے تدارک کی حکمت عملی ترتیب دیں گے اور پھر امت کو پوری ثابت قدمی کے ساتھ صحیح خطوط پر آگے بڑھائیں گے۔ مگر نہ زمانے کی نبض کو ٹٹولا گیا، نہ حکمت و دانش کو آزمایا گیا، نہ اسباب زوال کی تحقیق کی گئی اور نہ قومی ترقی کے لیے لائحۂ عمل مرتب کیا گیا ۔ اس کے برعکس اس جماعت علما کی کار گزاری کی تفصیل یہ ہے کہ ان میں سے کچھ زوال کی نوحہ خوانی سے قوم پر مایوسی طاری کر کے خاموش ہو گئے،کچھ کنارہ کش ہو کر خانقاہوں میں کھو گئے، مگر بیشتر نے امت میں آتش جذبات کوانگیخت کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہی جذبات پرورعلما اس دور زوال میں امت کی قیادت کے منصب پر فائز ہوئے اور آج تک یہ منصب انھی کے پاس ہے۔
گزشتہ دو تین صدیوں میں انھوں نے مسلمانوں کو جو رہنمائی فراہم کی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
انھوں نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ انھیں معاملات دنیا کو چشم خرد سے نہیں، بلکہ نگاہ جذبات سے دیکھنا چاہیے۔ ان پر اگر زوال آیا ہے تو اس کے اسباب ان کے اپنے ہاں جو ہیں سو ہیں، مگر اس کابڑا سبب ان کے دشمنوں کی ریشہ دوانیاں ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ دشمن اقوام کا قلع قمع کرنے کے لیے سر پر کفن باندھ کر اٹھ کھڑے ہوں اوراس وقت تک برسر پیکار رہیں ، جب تک وہ ان کی سیادت تسلیم نہیں کر لیتیں یا صفحۂ ہستی سے محو نہیں ہو جاتیں۔ اس جدوجہد میں اگر وہ خود دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو انھیں جان رکھنا چاہیے کہ محکومی کی زندگی سے شہادت کی موت بدرجہا بہتر ہے۔
یہ طرز عمل سکھایا ہے کہ کمزور کو طاقت ور کے جواب میں حکمت سے نہیں، بلکہ شدید رد عمل سے کام لینا چاہیے۔ حکمت سراسر بزدلی کی علامت ہے۔ اگر وہ ظلم سہتے جائیں گے تو اس کا سلسلہ دراز ہوتا جائے گا۔
یہ تعلیم دی ہے کہ انھیں اسباب و وسائل کی فکرنہیں کرنی چاہیے، بلکہ اللہ کی نصرت پر بھروسا کر کے اپنے حقوق کے لیے برسر جنگ ہو جانا چاہیے۔ اگر ان کا ایمان سلامت ہے تو پروردگار عالم لازماً اپنے فرشتوں سے ان کی مدد فرمائیں گے ۔یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ نے کئی مرتبہ پہلے بھی مختلف میدان ہائے کارزار میں ہزاروں اور لاکھوں کے مقابلے میں سیکڑوں مسلمانوں کوفتح عظیم سے ہم کنار کیا ہے۔
یہ سمجھایا ہے کہ ان کی بقا کایہ ناگزیر تقاضا ہے کہ جہاں وہ مقیم ہوں ، وہاں ان کے پاس لازماً سیاسی اقتدار ہونا چاہیے۔ وہ اقلیت میں ہوں تب بھی انھیں اس کے حصول کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ اگر پرامن طریقے سے یہ جدوجہد بارآور نہ ہو سکے توپرتشدد ہو کر اسے جاری رکھنا چاہیے۔
یہ باور کرایا ہے کہ دنیا پر حکمرانی نہ صرف ان کا استحقاق ہے ،بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فریضہ ہے۔ ہر مسلمان کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی استعداد کے لحاظ سے اس فرض کو بجا لائے۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک مسلمان کا مقصد حیات ہی دنیا پر اسلام کی حکومت کا قیام ہونا چاہیے۔
یہ بتایا ہے کہ وہ خداکے نزدیک دنیا کی سب سے مکرم قوم ہیں۔ اس لیے کہ وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں اور ان کی زبان پر کلمۂ طیبہ جاری ہے۔ اس بنا پر آخرت میں تو انھیں سرخ رو ہوناہی ہے، لیکن دنیا میں بھی وہ لائق فضیلت ہیں۔ چنانچہ اگر کسی وقت وہ اخلاقی اعتبار سے نہایت پست بھی ہو جائیں، تب بھی تعظیم و تکریم کے مستحق ہیں۔
یہ واضح کیا ہے کہ ان کی سیادت کی کلید جہاد و قتال ہے۔ جب تک وہ اس میدان میں سرگرم تھے تو دنیا پر غالب تھے اور جب سے انھوں نے اس میدان کو چھوڑا ہے، محکومی ان کا مقدر بن گئی ہے۔ چنانچہ اگر وہ اپنی عظمت رفتہ کو واپس لانا چاہتے تو انھیں جہادوقتال کے لیے مستعد ہونا ہو گا۔
اس تعلیم و تربیت کا خلاصہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ایک ہی درس ہے جو مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک کے علما کی زبانوں پر جاری ہے کہ مسلمانو ، تلوار اٹھاؤ اور دنیا سے برسر پیکار ہو جاؤ ، یہاں تک کہ دنیاکی مسند اقتدارپر قابض ہو جاؤیا آخرت کے مرتبۂ شہادت پر فائز ہو جاؤ۔
علما کی اس رہنمائی کواگر تاریخ کے اوراق میں دیکھا جائے تو چند مثالیں بہت نمایاں ہیں۔
سید احمد شہید (۱۷۸۶۔ ۱۸۳۱) ہیں جنھوں نے ہند میں سکھوں کی حکومت کے خاتمے اوراسلامی حکومت کے قیام کے لیے تحریک شروع کی۔جہاد کے نام پر چند سو سرفروشوں کوجمع کر کے سکھوں کی طاقت ور حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ ابتدا میں کچھ علاقے پرقبضہ بھی کر لیا، مگر بالآخر بالاکوٹ کے مقام پرسکھوں کی بیس ہزار فوج سے مقابلے میں اپنے تمام سرفروش ساتھیوں سمیت شہید ہو گئے۔
امام شامل (۱۷۹۷ ۔ ۱۸۷۱) ہیں جن کی قیادت میں داغستان کے مسلمانوں نے روسی استعمار کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی۔ یہ جنگ کم و بیش پچیس سال تک جاری رہی۔ جہاد اور آزادی کے نام پر ہزاروں مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کیں، مگر آخر کارناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
مہدی سوڈانی (۱۸۴۴ ۔ ۱۸۸۵) ہیں جو سوڈان کو مصر سے آزاد کرا کے انگریزوں کے خلاف برسر پیکار ہو گئے۔ اسی دوران میں ۱۸۸۵ میں ان کی وفات ہو گئی۔ ان کے جانشین زیادہ عرصہ انگریزوں کا مقابلہ نہ کر سکے ۔ ۱۸۹۹ میں انگریز سوڈان پر قابض ہو گئے۔انگریز سالار نے جذبۂ انتقام کے تحت سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہدی سوڈانی کی قبر اکھاڑ دی اور ان کی ہڈیاں تک جلا ڈالیں۔
مفتی اعظم امین الحسینی(۱۸۹۳ ۔ ۱۹۷۴) ہیں جنھوں نے فلسطین کی آزادی کے لیے انگریزوں اور یہودیوں کے خلاف بھر پور جدوجہد کی۔انگریزوں نے انھیں فلسطین سے جلا وطن کر دیا۔انھوں نے آخری دم تک فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جو بار آور نہ ہو سکی۔
حسن البنا (۱۹۰۶ ۔ ۱۹۴۹) ہیں جنھوں نے مصر میں اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد کے لیے ’’اخوان المسلمون ‘‘ کے نام سے تنظیم قائم کی اوررضا کار بھرتی کیے۔ اخوان کے رضا کاروں نے فلسطین کی جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لیا۔برطانیہ کے دباؤ پر مصری حکومت نے ’’اخوان المسلمون‘‘ پر پابندی عائد کر دی، ہزاروں کارکنوں کو قید کر لیا ۔ اسی ہنگامے میں حسن البنا کوشہید کر دیا گیا۔
سید قطب شہید (۱۹۰۶۔۱۹۶۶) ہیں جو مصر میں’’ اخوان المسلمون‘‘ ہی کے بڑے رہنماؤں میں سے تھے ۔ حکومت مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے ۱۵ سال قید بامشقت کی سزا ہوئی۔ اس دوران میں صدر جمال عبدالناصر نے انھیں وزارت تعلیم کی پیش کش کی ، مگر سید قطب نے انکار کر دیا۔ ۱۹۶۶ میں انھیں حکومت کے خلاف بغاوت کے جرم میں پھانسی دے دی گئی۔
محمد بن عبدالکریم ریفی (۱۸۸۲ ۔ ۱۹۶۳) ہیں جنھوں نے شمالی مراکش پر مسلط اسپین کی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ اسپین کی حکومت نے بغاوت فرو کرنے کے لیے انیس ہزار فوج بھیجی۔ عبدالکریم نے اسے زبردست شکست دے کر شمالی مراکش کو آزاد کرا لیا اور وہاں جمہوریہ ریف کے نام سے نئی حکومت قائم کی۔ اس سے فرانس کو خطرہ ہواجو مراکش کے باقی حصے پر قابض تھا۔ اس نے اسپین سے مل کر تقریباً تین لاکھ افواج پر مشتمل لشکر تیار کیا اور بہت مختصر مدت میں ریاست ریف پر قبضہ کر کے عبدالکریم کو ۲۱ سال کے لیے قید کر دیا۔
ملا عمر ہیں جنھوں نے افغانستان کے حالیہ زمانۂ طوائف الملوکی میں طالبان کے ذریعے سے بزور حکومت حاصل کی ۔ امریکی سپر پاور کے مطلوبہ افراد کو پناہ دے کرپورے دینی جذبے کے ساتھ امریکہ سے ٹکر لینے کا فیصلہ کیا۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ وہ حکومت سے محروم ہوئے، ہزاروں صالح مسلمان جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بموں کی تاخت سے افغانستان کھنڈر بن کر رہ گیا۔
یہی وہ خطوط ہیں جن پر جمال الدین افغانی، ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر، علامہ اقبال ، ابو الاعلیٰ مودودی، ابوالحسن علی ندوی، آیت اللہ خمینی، امیر شکیب ارسلان،مصطفے حسن سباعی،رشید رضا مصری اور ڈاکٹر حسن ترابی رحمھم اللہ جیسے جلیل القدر علما نے مسلمانوں کی تربیت کی۔یہ سب لوگ دین کے علم بردار تھے ،اسلام سے بے پناہ محبت رکھتے تھے، نیک نیت اور پاکیزہ صفت تھے اور دین و ملت کے بعض دوسرے پہلووں میں لافانی خدمات کے کارگزار تھے، مگراس سب کچھ کے باوجود قومی معاملات میں غلط رہنمائی کی وجہ سے امت کے وجود اجتماعی کے لیے ضرر رسانی کا باعث ہوئے۔
یہ رجال کار اگر جذباتی ہیجان اور مثالیت پسندی سے بالاتر رہتے اور حقیقت کی زمین پر کھڑے ہو کر امت کو درپیش مسائل کا جائزہ لیتے تو ان کا طرزعمل یقیناً مختلف ہوتا ۔ کاش ! وہ اس موقع پر مسلمانوں کو قوموں کے عروج وزوال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس غیر متبدل قانون سے رو شناس کراتے کہ:

’’اللہ اس انعام کو جو کسی قوم پر کرتا ہے، اس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ اس چیز کو نہ بدل ڈالے جس کا تعلق خود اس سے ہے۔ بے شک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ (الانفال۸: ۵۳)

’’ اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا ، جب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کر لے۔ ا ور جب اللہ کسی قوم پر آفت لانے کا ارادہ کر لے تو وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی اور ان کا اس کے مقابلے میں کوئی بھی مددگار نہیں بن سکتا۔ ‘‘ (الرعد۱۳: ۱۱ )

گویا قوموں کے عروج و زوال اور انعام و عقوبت کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس کا انعام قوم کے کردار اور صفات پر مبنی ہوتا ہے۔ جب تک کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے مقررہ کردار کی حامل اورمطلوبہ صفات سے متصف رہتی ہے تو وہ انعامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں، بصورت دیگروہ اس کے لیے زوال اور بربادی مقدر کر دیتے ہیں ۔

ریفرنڈم

صدر پاکستان جناب پرویز مشرف صاحب کے بارے میں یہ تین باتیں قومی سطح پر تسلیم کی جا چکی ہیں: ایک یہ کہ ملک و قوم کے بارے میں ان کے جذبات خیر خواہانہ ہیں، دوسرے یہ کہ بہتر انتظامی صلاحیتوں کے مالک ہیں اور تیسرے یہ کہ نازک حالات میں صحیح فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ان حقائق کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ ان کی سیاسی حیثیت تاحال محل بحث و نظر ہے۔ انھیں خود بھی اس مسئلے کا ادراک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے سیاسی استحکام کے لیے گزشتہ ڈھائی برسوں میں کئی اقدامات کیے ہیں ۔ ریفرنڈم بھی اسی نوعیت کا اقدام ہے۔ اس کے ذریعے سے انھوں نے اپنی حکومت کے لیے میں عوام کی تائید حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے عام لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے سوال موجود ہیں ۔ مثلاً یہ کہ کیا ریفرنڈم کا عمل شفاف ہو گا؟ اگر شفاف ہو گا تو کیا وہ عوام بھی رائے دہی کے لیے نکلیں گے جو ان کی حکومت کو ناجائز تصورکرتے ہیں؟ کیا وہ سابقہ ریفرنڈم کے تجربے کی بنا پر اسے ایک جعلی اقدام قرار دے کر گھر وں میں نہیں بیٹھے رہیں گے؟ ان سوالوں کے واضح جواب زبان حال سے معلوم ہو جائیں گے۔ اس لیے یہاں ہم ان سے تعرض کیے بغیر اس اقدام کے بارے میں محض اصولی نکات بیان کرنے پر اکتفا کریں گے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ کسی قومی و اجتماعی اقدام کے بارے میں اصولی رائے قائم کرتے ہوئے اسے تین پہلووں سے ضرور دیکھنا چاہیے:
اول یہ کہ کیااقدام قانونی لحاظ سے درست ہے؟
دوم یہ کہ کیا اس پر کوئی اخلاقی اعتراض تو نہیں ہوتا؟
سوم یہ کہ دین اس کے بارے میں کیا رہنمائی دیتا ہے؟
مذکورہ اقدام کو اگر قانونی لحاظ سے دیکھا جائے تواسے درست قرار دینا محال ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ آئین میں ریفرنڈم کی پوری گنجایش موجود ہے، مگر اس کی روح یہ ہر گز نہیں ہے کہ انتخابات کی ضرورت بھی اسی طریقے سے پوری کی جائے۔ اس ضمن میں آئین کے الفاظ یہ ہیں:

’’اگر صدر کسی بھی وقت، اپنی صواب دید پر یا وزیر اعظم کے مشورے پر یہ سمجھے کہ یہ مناسب ہے کہ قومی اہمیت کے کسی معاملے کو ریفرنڈم کے حوالے کیا جائے تو صدر اس معاملے کو ایک ایسے سوال کی شکل میں جس کا جواب یا تو ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں دیا جا سکتا ہو، ریفرنڈم کے حوالے کرنے کا حکم دے گا۔‘‘

اس شق پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کا مقصد اصلی حکومت کے انعقاد یا استحکام کے بارے میں رائے لینا نہیں ہے ، بلکہ کسی قومی اہمیت کے معاملے میں عوام کا نقطۂ نظر معلوم کرنا ہے۔ مثال کے طور پر افغان امریکا جنگ کے موقع پرحکومت اس سوال پر ریفرنڈم کرا سکتی تھی کہ کیا پاکستان کو امریکا کی حمایت کرنی چاہیے ؟ لیکن جہاں تک کسی فردکی حکومت کے قیام یا استحکام کا تعلق ہے تو اس مقصد کے لیے آئین میں انتخابات کا متعین اور واضح طریق کار موجود ہے۔
مزید برآں اگر بفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ آئین کے درج بالا الفاظ ریفرنڈم کے ذریعے سے حکومت کی تائید و توثیق کے حصول کو نہیں روکتے ، تب بھی یہ سوال بہرحال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنرل مشرف صاحب اس اختیار کے استعمال کا حق رکھتے ہیں؟ اس گنجایش کو کسی ایسے فرد کے لیے تو مانا جا سکتا ہے جو آئینی طریقے سے مناصب حکومت پر فائز ہوا ہو، مگر ایسے شخص کے لیے جس نے بزور آئینی حکومت ختم کر کے اپنا اقتدار قائم کیا ہو ، یہ استحقاق درست معلوم نہیں ہوتا۔
اخلاقی لحاظ سے بھی اس اقدام پر بعض اعتراضات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ’’ طریق انتخاب ‘‘ایک قسم کا دھوکا ہے، کیونکہ اس میں عوام کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی قومی مسئلے کو حل کر رہے ہیں یا اپنے سربراہ حکومت کا تقرر کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے سامنے نہ متبادل شخصیت ہوتی ہے، نہ متبادل جماعت ہوتی ہے اور نہ متبادل منشور۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے موقعوں پر ان کا جمہوری ذہن روبہ عمل ہی نہیں ہوتا ۔ دوسرے یہ کہ اس موقع پر عوام کے سامنے یہ صورت رکھی ہی نہیں گئی کہ اگر ان کی اکثریت عدم اعتماد کا اظہار کرتی ہے تو کیاجنرل صاحب خود کو اقتدار سے الگ کر لیں گے؟ تیسرے یہ کہ سرکاری میڈیا کے ذریعے سے جنرل صاحب کی تائید کے لیے جو ’’انتخابی مہم‘‘ چلائی جا رہی ہے، وہ عدل و انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
دینی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ اقدام ’امرہم شوریٰ بینھم ‘ کے قرآنی اصول کے منافی ہے ۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کا نظام ان کے باہمی مشورے پر مبنی ہوتا ہے ۔ گویامسلمانوں کا جب بھی کوئی اجتماعی نظام قائم ہو گا، اس میں اساسی اصول کی حیثیت اسی قاعدے کو حاصل ہو گی۔چنانچہ اس کی رو سے ریاست کی سطح پر ہونے والا فیصلہ مسلمانوں کے مشورے ہی سے ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں ان کے فیصلے کو حتمی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ اس بنا پر جنرل صاحب کا یہ اقدام بھی ان کے سابقہ سیاسی اقدامات کی طرح درست نہیں ہے ۔ انھیں اگر ریفرنڈم کرانا ہی تھا تو اس سوال پر کراتے کہ کیا عوام ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹سے پہلے کی سیاسی صورت حال میں واپس جانا چاہتے ہیں یا آئین کے مطابق نئے انتخابات کرانے کے خواہش مند ہیں؟ اس ملک کے عامۃ المسلمین کے باضابطہ نمائندوں نے بہت سوچ بچار کے بعد اپنے نظم سیاسی کو چلانے کا ایک طریقہ وضع کیا تھا جسے ہم ۱۹۷۳ کے آئین سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ بات بے خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ پوری قوم بالاتفاق اسی طرز سیاست کی حامی ہے ۔ یہ بات اگر صحیح ہے تو کسی فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ عوام کی رائے کے علی الرغم کوئی طرز سیاست وضع کرنے کی کوشش کرے ۔ اگر عوام کے تشکیل کردہ نظام میں خامیاں موجود ہیں تو ان کی اصلاح کی ذمہ داری بھی عوام ہی کے پاس ہونی چاہیے ۔ قرآن مجید کی اس صریح نص کا یہی تقاضا ہے۔
ان نکات کی بنا پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ریفرنڈم کا اقدام قانونی ، اخلاقی اوردینی لحاظ سے درست نہیں ہے۔
یہاں حرف آخر کے طور پراس استدلال کا جائزہ بھی مناسب ہو گا جو ریفرنڈم کے حق میں عام طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ استدلال یہ ہے کہ اگر جنرل مشرف صاحب سیاسی منظر سے ہٹتے ہیں تو وہی بد عنوان سیاست دان قوم پرپھر مسلط ہو جائیں گے جنھوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ ہمیں اس بات کا اعتراف ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کے دامن میں قوم و ملک کی خیر خواہی کا اثاثہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا گزشتہ پچاس سالوں میں بدعنوانی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ صرف سیاست دانوں ہی نے کیا ہے؟ کیا مقننہ، عدلیہ ، انتظامیہ اور فوج کے کارپرداز ان جرائم میں شریک نہیں رہے؟ اورکیا علما، اساتذہ، دانش ور، صحافی اور مذہبی رہنما ان سے بری الذمہ قرار دیے جا سکتے ہیں؟
اصلاح احوال کا طریقہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ سیاسی نظام کو اس کی فطری رفتار کے مطابق کسی مداخلت کے بغیر چلنے کا موقع دیا جائے۔ دنیا کی سیاسی تا ریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی نظام شکست و ریخت کے عمل سے گزرے بغیر استحکام نہیں حاصل کر سکتا۔ چنانچہ اس ملک کے لیے سب سے بڑی خیر خواہی اگر کچھ ہو سکتی ہے تو وہ یہی ہے کہ اس کے سیاسی عمل میں کوئی رخنہ اندازی نہ کی جائے۔ حکومتیں اگر روز بدلتی ہیں تو انھیں بدلنے دیا جائے،پارلیمنٹ اگر غلط قانون سازی کرتی ہے تو اسے کرنے دی جائے، سیاست دان اگر اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں تو ایسا ہونے دیا جائے۔ ان کی گوشمالی اور تقررو تنزل کا اختیار صرف اور صرف عوام کے پاس ہونا چاہیے۔ یہ عمل اگر پچیس تیس سال تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے تواسی صورت میں حقیقی اورمثبت سیاسی تبدیلی آ سکتی ہے۔

____________

 




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List