Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Administrator Profile

Administrator

  [email protected]
Author's Bio
Humble slave of Allah!!!
Visit Profile
قیامت کا الارم | اشراق
Font size +/-

قیامت کا الارم

2 جولائی 2009 کو دہلی ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ دیا۔اِس فیصلے کے مطابق، بالرضا ہم جنسی (homosexuality) کو قانونی جواز دیا گیا ہے۔ اِس سے پہلے ہم جنسی کا فعل ایک مجرمانہ فعل تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس فعل کو ڈی کرمنلائز (decriminalize)کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ناز فاؤنڈیشن کے مرافعہ پر دیا گیا۔ ناز فاؤنڈیشن کی ایک ذمے دار خاتون انجلی گو پالن نے کہا:

Now it seems we are in 21st century as the rights of homosexuals have been recognised by the court. This is very progresseive judgment which recognizes the right to equality of homosexuals.
(The Hindustan Times, New Delhi, July 3, 2009,p. 15)

اِس واقعے کی رپورٹ میڈیا میں تفصیل کے ساتھ آئی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز میں یہ رپورٹ حسب ذیل عنوان کے تحت چھپی ہے ہم جنسی ایک جائز فعل ہے:
It’s okay to be gay
یہ صرف انڈیا کی عدالت کے فیصلے کی بات نہیں۔ آج ہم جنسی کا یہ عمل پوری دنیا میں پھیل چکا ہے، حتیٰ کہ امریکہ کے صدر براک اوباما نے کھلے طور پر اس کی تائید کی ہے۔ اس عمل کا رواج پہلے بھی دنیا میں تھا، لیکن اب اس کو عمومی طور پر قانونی جواز (legal justification) کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ بے حد سنگین بات ہے۔ یہ خالقِ کائنات کے غضب (wrath) کو دعوت دینے کے ہم معنی ہے۔ حضرت مسیح کے ظہور سے پہلے ایک قوم پائی جاتی تھی جس کا مسکن اُس علاقے میں تھا، جہاں اب بحر مردار (Dead Sea)واقع ہے۔ اُس قوم میں ہم جنسی کا فعل عام ہو گیا۔ پیغمبر لوط نے اُن کو انتباہ دیا اور اُنھیں اِس فعل سے باز رہنے کو کہا، لیکن ان کی سرکشی اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ وہ علی الاعلان ہم جنسی کا فعل کرنے لگے۔ تاریخ میں غالباً قومِ لوط پہلی قوم ہے جس نے ہم جنسی کے فعل کو اختیار کیا۔ وہ کھلے طور پر اِس فعل کا ارتکاب کرنے لگے۔ یہ قوم دریائے اردن کے کنارے جنوبی شام کے علاقے میں آباد تھی۔ اِس علاقے کے دو بڑے شہر سدوم اور عمورہ تھے۔ یہ علاقہ اُس زمانہ میں خوب سر سبز و شاداب تھا۔ اِس قوم کی خوش حالی کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خدا کی شاکر بننے کے بجائے عیش پرست اور سرکش بن گئی۔ اُس وقت خدا کے پیغمبر لوط ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے۔ قرآن کے مطابق، انھوں نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

’’کیا تم کھلی ہوئی بے حیائی کا کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو، تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو‘‘(الاعراف:۸۰-۸۱)

حضرت لوط کی مسلسل نصیحتوں کے باوجود قومِ لوط نے اپنی بری روش کو نہیں چھوڑا، حتی کہ وہ لوگ حضرت لوط اور آپ کے ساتھیوں کو اِس علاقے سے نکال دینے پر آمادہ ہو گئے، اُس وقت اللہ تعالیٰ نے اُن کو سخت عذاب کے ذریعے ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ اِس کے بعد یہ ہوا کہ ایک دن کچھ فرشتے خوب صورت نوجوانوں کی صورت میں حضرت لوط کے گھر آئے۔ اُن کو دیکھ کر قوم کے لوگ برے ارادے کے تحت وہاں پہنچے۔ حضرت لوط اُنھیں دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ نوجوانوں نے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں، وہ ہمارے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، ہم اس لیے آئے ہیں کہ ان کی بستیوں کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیں۔
چنانچہ اس کے بعد اُن پر ایک نہایت شدید زلزلہ آیا۔ یہ زلزلہ آگ اور پتھر کی بارش کی صورت میں تھا، جس نے اِس خطۂ ارض کو بالکل تلپٹ کر دیا۔ حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر پوری قوم ہمیشہ کے لیے تباہ کر دی گئی۔ اِن لوگوں کی تعداد تقریباً چار لاکھ تھی۔ مورخین کے بیان کے مطابق، یہ واقعہ 2061قبل مسیح میں پیش آیا۔ یہ علاقہ پہلے ایک سر سبز علاقہ تھا، لیکن آج وہ بحرِ مُردار (Dead Sea)کی صورت میں قدیم تباہی کی ایک زندہ یاد گار بنا ہوا ہے۔قومِ لوط کا ذکر قرآن مجید میں صرف ایک گزری ہوئی تاریخ کے واقعے کے طور پر نہیں ہے، بلکہ وہ خدا کی طرف سے ایک سنگین الارم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی گروہ کھلے طور پر ہم جنسی کے فعل میں مبتلا ہو جائے اور نصیحت و فہمائش کے باوجود اس سے باز نہ آئے تو ایسا گروہ خالقِ کائنات کے غضب (wrath)کا مستحق بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو صرف نارمل قسم کی عدالتی سزا نہیں دی جاتی، بلکہ اُن پر خدائی عذاب آتا ہے، وہ زمین سے مٹا دیے جاتے ہیں، تاکہ خدا کی عدالت میں انھیں مواخذہ کے لیے کھڑا کیا جا سکے۔
موجودہ زمانے میں قومِ لوط کا فعل مزید اضافہ کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ پہلے یہ فعل صرف ایک اخلاقی برائی کے طور پر کیا جاتا تھا۔ اب اس کو نظریاتی طور پر ایک مبرَّر برائی (idealogically justified evil) کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس کو بلا روک ٹوک ساری دنیا میں پھیلا رہے ہیں۔
یہ صورتِ حال بے حد سنگین ہے۔ یہ اِس بات کی ایک یقینی علامت ہے کہ اب قیامت کا وقت بہت قریب آ چکا ہے۔ قومِ لوط کو اِس فعل پر ایک محدود علاقے میں تباہ کیا گیا تھا۔ اب بہ ظاہر یہ تباہی پورے کرۂ ارض کی نسبت سے پیش آنے والی ہے۔ قرآن میں جس چیز کو قیامت (Doomsday)کہا گیا ہے، وہ اُسی واقعہ کا زیادہ بڑا اظہار ہے جو قومِ لوط کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر پیش آیا تھا۔ اب بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب ساری دنیا پر آنے والا ہے، اِسی آنے والے دن کا نام قیامت ہے۔ 2061 قبل مسیح میں قومِ لوط پر جو عذاب آیا، وہ گویا کہ ایک چھوٹی قیامت تھی، اب بہ ظاہر وہ وقت آ گیا ہے جب کہ بڑی قیامت ظاہر ہو اور انسان عالمی سطح پر اُس تباہی کا سامنا کرے جس کا سامنا قومِ لوط کو علاقائی طور پر پیش آیا تھا۔

 



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List