Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

عرفان شہزاد Profile

عرفان شہزاد

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۴) (2/2) | اشراق
Font size +/-

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۴) (2/2)

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۴) (1/2)

دنیوی عذاب آنے کی مہلت میں فرق

ایک اشکال یہ ہے کہ رسولوں کی قوموں کو اتمام حجت کے بعد عذاب آنے سے پہلے دی جانے والی مہلت کی مدتوں میں فرق کیوں ہے۔ خصوصاً، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد ان کے منکرین پر دنیوی عذاب نازل ہونے میں ملنے والی نسبتاً طویل مہلت محل اشکال ہے۔
مہلت کے اس فرق کو یوں سمجھنا چاہیے کہ جس طرح انبیا کی تبلیغ و دعوت دین اور اتمام حجت کی مدت میں فرق ہے، اسی طرح اتمامِ حجت کے بعد مختلف رسولوں کی منکر اقوام پر عذاب آنے کی مہلت میں بھی فرق ہے۔ اس مہلت کے دوران تنبیہی عذاب آتے ہیں اور اس میں مزید کچھ لوگ ایمان بھی لے آتے ہیں، جیسے یونس علیہ السلام کی قوم کے ساتھ ہوا کہ پوری قوم مہلت کے عرصہ میں ایمان لے آئی۔ اس مہلت کا دورانیہ ہر قوم کے اپنے حالات کے لحاظ سے مختلف ہوا ہے اور ان حالات کا کامل علم خدا کے پاس ہے۔
نوح علیہ السلام نے ۹۵۰ سال تبلیغ کی، عیسیٰ علیہ السلام نے چند سال اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ۱۳ سال میں مکہ والوں پر حجت تمام کر دی، جب کہ باقی کے ۱۱ سال مدینہ کے ارد گرد یہود، اور عرب علاقوں کے نصاریٰ اور دیگر عرب قبائل پر اتمام حجت فرمایا۔ کسی بھی رسول کے اتمام حجت کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی۔ بے شمار سماجی ، ابلاغی، نفسیاتی مسائل اور عوامل کی وجہ سے یہ ممکن بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ کوئی ایک مدت مقرر کی جاتی۔ اسی طرح اتمام حجت کے نتیجے میں قوم کے مستحق عذاب ہو جانے کے بعد دنیوی عذاب آنے سے پہلے کی مہلت کی مدت بھی مقرر نہیں کی جا سکتی تھی۔ جہاں قوم نوح اور قوم لوط پر ان کے رسولوں کی ہجرت کے فوراً بعد عذاب اتر آیا، وہاں عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کی ہجرت کے ۳۵ یا ۴۰ سال کے بعد ۷۰ عیسوی میں بنی اسرائیل پر رومیوں کے ہاتھوں جلا وطنی اور محکومی کا حتمی عذابِ موعود نازل ہوا، جب کہ صالح علیہ السلام کی قوم کو تین دن کا الٹی میٹم دے کر عذاب نازل کر دیا گیا۔
اس دنیوی عذاب آنے کے دو لازمی شرائط ہیں: ایک یہ کہ رسول اور مومنین کفار سے علیحدہ ہو چکے ہوں جیسا کہ قیامت میں جنت اور جہنم کے فیصلے سے پہلے مومنین کو کفار سے علیحدہ کر دیا جائے گا:

لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَیَجْعَلَ الْخَبِیۡثَ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَہٗ فِیْ جَھَنَّمَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ.(الانفال ۸: ۳۷)
’’اس لیے کہ (اپنی جنت کے لیے) اللہ پاک سے ناپاک کو الگ کرے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر سب کا ڈھیر بنائے،پھر اِس ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے۔ (حقیقت یہ ہے کہ) یہی لوگ نامراد ہونے والے ہیں۔‘‘

بالکل یہی اصول دنیوی عذاب میں بھی اپنایا گیا۔ اسی وجہ سے دنیوی عذاب نازل ہونے سے پہلے رسول اور اس کے ساتھیوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ اپنی بستی سے نکل جائیں۔
دوسرا یہ کہ کفار میں کوئی ایسا نہ رہے جس کے ایمان لانے کی امید باقی ہو۔ یہ اصول نوح اور لوط علیہم السلام کے معاملے میں دیکھیے:

وَاُوْحِیَ اِلٰی نُوْحٍ اَنَّہٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ.(ہود ۱۱: ۳۶)
’’(پھر)نوح کو وحی کی گئی کہ تمھاری قوم کے لوگوں میں سے جو ایمان لا چکے، اب اُن کے سوا کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے۔ سو اِن کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو۔‘‘
قَالَ اِنَّ فِیْھَا لُوْطًا قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْھَا لَنُنَجِّیَنَّہٗ وَاَھْلَہٗٓ اِلَّا امْرَاَتَہٗ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ.(العنکبوت ۲۹: ۳۲)
’’ابراہیم نے کہا: اُس میں تو لوط بھی ہے۔ اُنھوں نے جواب دیا کہ اُس میں جو لوگ بھی ہیں، اُنھیں ہم خوب جانتے ہیں۔ (آپ مطمئن رہیے)، ہم لوط کو اور اُس کے سب گھر والوں کو ضروربچا لیں گے، اُس کی بیوی کے سوا۔ وہ (البتہ) پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہو گی۔‘‘

محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین پر عذاب آنے کے معاملے میں یہ ہوا کہ بہت سے مومنین ہجرت کرنے سے عاجز کر دیے گئے۔ مومنین اور کفار کی مکمل علیحدگی نہیں ہو پائی تھی، دوسرا یہ کہ ایسے لوگ ابھی موجود تھے جن کے ایمان لانے کی امید تھی۔ درج ذیل آیت دیکھیے:

مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ.(الانفال ۸: ۳۳)
’’اللہ (اُس وقت تو)اِن کو عذاب دینے والا نہیں تھا، جب کہ تم اِن کے درمیان موجود تھے اور نہ (اُس وقت) عذاب دینے والا ہو سکتا ہے، جب کہ یہ مغفرت چاہ رہے ہوں۔‘‘

اس آیت کی وضاحت میں جناب جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں:

’’قریش کے لیڈروں کی طرف سے پیہم مطالبۂ عذاب کے باوجود اللہ نے اُنھیں ڈھیل کیوں دی؟ یہ اِس سوال کا جواب دیا ہے۔ فرمایا کہ عذاب کے معاملے میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب تک اصلاح کی دعوت قبول کرکے خدا سے مغفرت چاہنے والے قوم کے اندر سے نکلتے رہتے ہیں اور جب تک پیغمبر اُن کے درمیان موجود ہوتا ہے، اُنھیں چھوڑ کر نکل نہیں جاتا، اللہ اتمام حجت کے باوجود اُن پر وہ فیصلہ کن عذاب نازل نہیں کرتا جو رسولوں کی قوموں پر نازل کیا جاتا ہے اور جس کا مطالبہ قریش کر رہے تھے۔ اِس میں، اگر غور کیجیے تو یہ دعوت بھی ہے کہ یہ لوگ اگر اب بھی اپنی روش بدلنے کے لیے تیار ہو جائیں اور خدا سے معافی مانگ لیں تو اِس عذاب سے بچ سکتے ہیں۔‘‘(البیان ۲/ ۲۸۷)
عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْھُمْ مَّوَدَّۃً وَاللّٰہُ قَدِیْرٌ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(الممتحنہ ۶۰: ۷)
’’(تم ایمان پر قائم رہے تو) بعید نہیں کہ اللہ تمھارے اور اُن لوگوں کے درمیان دوستی پیدا کر دے ، جن سے (آج) تم نے عداوت مول لی ہے۔ اللہ بڑی قدرت والا ہے، اور اللہ غفور و رحیم ہے۔‘‘

ظاہر ہے یہ دوستی ان دشمنان اسلام کے ایمان لانے کے بعد ہی ممکن تھی۔ اس لیے ان کفار میں سے بہت سے لوگوں کے ایمان لانے کی امید ابھی باقی تھی۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر متوقع جنگ بھی اللہ تعالیٰ نے نہیں ہونے دی تھی، کیونکہ مکہ میں ابھی مجبور مومنین، جن میں سے کچھ اپنے اعلانِ اسلام کے بعد کفار کے ہاتھوں سختیاں جھیل رہے تھے، اور کچھ ابھی تک اپنے ایمان کا اظہار نہیں کر پائے تھے، موجود تھے۔ اس لیے اس موقع پر جنگ کی صورت میں ان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ سورۃ الفتح میں اللہ نے فرمایا:

ھُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْھَدْیَ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہٗ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌٌ لَّمْ تَعْلَمُوْھُمْ اَنْ تَطَءُوْھُمْ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْھُمْ مَّعَرَّۃٌ م بِغَیْرِ عِلْمٍ لِیُدْخِلَ اللّٰہُ فِیْ رَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا. (۴۸: ۲۵)
’’یہ وہی ہیں جنھوں نے (خدا کے پیغمبر کا)انکار کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک دیا کہ وہیں کھڑے رہ جائیں اور اپنی جگہ پر نہ پہنچنے پائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر (مکہ میں اُس وقت) ایسے مومن مرد اور ایسی مومنہ عورتیں نہ ہوتیں جنھیں تم نہیں جانتے تھے کہ(حملہ کرتے تو) روند ڈالتے، پھر اِن کے باعث تم پر بے خبری میں الزام آ جاتا (تو ہم جنگ کی اجازت دے دیتے، لیکن ہم نے اِس لیے اجازت نہیں دی) کہ اللہ جس کو چاہے، (ایمان کی توفیق دے اور) اپنی رحمت میں داخل کرلے۔ (یہ حقیقت ہے کہ)اگر وہ لوگ الگ ہو گئے ہوتے تو ہم اُن کے منکرین کو دردناک عذاب سے دوچار کر دیتے۔‘‘

ان ہجرت نہ کرنے والوں میں کچھ تو مجبور تھے، جیسے حضرت ابو جندل وغیرہ، جب کہ کچھ کمزور ایمان والے بھی تھے، جو اپنی مقامی اور خاندانی وابستگیاں ترک کر کے ہجرت پر آمادہ نہ ہو سکے تھے۔ تاہم عذاب میں تاخیر مجبور اور معذور لوگوں کی وجہ سے ہوئی نہ کہ بلا عذر ہجرت نہ کرنے والوں کی وجہ سے۔ بلا عذر ہجرت نہ کرنے والوں کو بھی خدا کی طرف سے عذاب کا ہی سامنا کرنا پڑا:

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَا فَاُولٰٓئِکَ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ وَسَآءَ تْ مَصِیْرًا.(النساء ۴: ۹۷)
’’(اِس موقع پر بھی جو لوگ اُن بستیوں سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جہاں اُنھیں دین کے لیے ستایا جا رہا ہے، اُنھیں بتاؤ، اے پیغمبر کہ)جن لوگوں کی جان فرشتے اِس حال میں قبض کریں گے کہ (اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال کر) وہ اپنی جان پر ظلم کر رہے تھے، اُن سے وہ پوچھیں گے کہ یہ تم کس حال میں پڑے رہے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم تو اِس ملک میں بالکل بے بس تھے۔ فرشتے کہیں گے: کیا خدا کی زمین ایسی وسیع نہ تھی کہ تم اُس میں ہجرت کر جاتے۔ سو یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔‘‘

البتہ ان کفار میں سے جن پر اتمامِ حجت ہو چکا تھا، ان کے لیے مہلت کا وقت ختم ہو چکا تھا، ان پر عذاب عام سے پہلے ہی عذاب آ کر رہا۔ مثلاً ایسے کفار میں سے جو خود آگے بڑھ کر بدر کے میدان میں جنگ کرنے اٹھ آئے تھے، ان میں زیادہ تر وہی سرداران مارے گئے تھے جن کی مہلت اختتام پذیر ہو چکی تھی۔
ہم جانتے ہیں کہ رسول اپنی دعوت کی ابتدا اپنی قوم کے سرداروں سے ہی کرتا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی اپنی کتاب ’’دعوت دین اور اُس کا طریق کار‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’...حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے خود اپنے اُس خاندان کو دعوت دی جو قوم کی مذہبی پیشوائی کی مسند پر متمکن تھا ۔ پھر اُس بادشاہ کو دعوت دی جس کے ہاتھوں میں سیاسی اقتدار کی باگ تھی اور جو اپنے آپ کو لوگوں کی زندگی اور موت کا مالک سمجھے ہوئے بیٹھا تھا ... حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ سب سے پہلے فرعون کو مخاطب کریں ...حضرت مسیح علیہ السلام نے سب سے پہلے علماے یہود کو دعوت دی ۔اِسی طرح حضرات نوح علیہ السلام، ہود علیہ السلام، شعیب علیہ السلام، سب کی دعوتیں قرآن مجید میں مذکور ہیں۔ اِن میں سے ہر نبی نے سب سے پہلے اپنے وقت کے ارباب اقتدار اور متکبرین کوجھنجھوڑا اور اُن کے افکار و نظریات پر ضرب لگائی ۔سب سے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور آپ کو حکم ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔یہ لوگ عرب کی مذہبی اور پدرسرانہ (patriarchical) حکومت کے ارباب حل و عقد تھے اور اِس کے واسطہ سے سارے عرب کی اخلاقی اور سیاسی رہنمائی کر رہے تھے ۔‘‘ (۴۶۔۴۷)

ایک وقت تک ان سرداران کو سمجھانے اور ان کی طرف سے مایوسی کے بعد رسول کو دعوت عام کا حکم ملتا ہے۔ اس لیے سرداروں پر اتمامِ حجت بھی دوسروں سے پہلے ہو جاتا ہے اور ان کی مہلت بھی دوسروں سے پہلے ختم ہو سکتی ہے۔ اسی لیے دیکھا جائے تو جنگ بدر میں مارے جانے والے ۷۰ کفار میں تقریباً تمام ہی سردارانِ قریش تھے۔ اس بات کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ جن سرداران قریش پر اتمامِ حجت کے بعد مہلت ختم ہو گئی تھی اور وہ جنگ بدر میں بھی نہیں آئے تھے، وہ بھی آخری اجتماعی عذاب، جو صحابہ کی تلواروں سے آیا، سے پہلے ہی انفرادی عذاب کا شکار ہو کر مرے۔ مثلاً ابو لہب جنگ بدر میں شریک نہ ہونے کے باوجود اللہ کے دنیوی عذاب کا شکار ہو کر رہا۔ اسے عدسہ کی بیماری لاحق ہوئی۔ لوگ بدبو کی وجہ سے اس کے پاس نہ آتے تھے۔ سخت اذیت اور بے بسی کے ساتھ وہ مرا۔ پھر اس کی لاش کی بدبو کی وجہ سے کوئی اسے اٹھاتا نہ تھا۔ آخر شرم دلانے پر اس کے بیٹوں نے اس کے پاؤں میں رسی ڈال کر اس کو گھسیٹ کر ایک جگہ پھینکا اور اوپر پتھر ڈال دیے۔ یہی حال مکہ کے چند دیگر سرداران: عاص بن وائل، اسود بن مطلب، ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث اور حارث بن قیس کا ہوا۔
عام لوگ جو ان سرداروں کے کہنے پر جنگ بدر میں چلے آئے تھے اور ان پر ابھی اتمام حجت نہیں ہوا تھا، یا اتمام حجت ہو تو گیا تھا، لیکن ان کے ایمان لانے کا امکان تھا، اس لیے وہ مہلت کے عرصے میں تھے، وہ اس جنگ میں نہیں مارے گئے۔ تاہم، ان میں سے بھی اگر کوئی مارا گیا ہو تو سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ عصبیت کی جنگ لڑتا ہوا اپنی جارحیت کے نتیجے میں مارا گیا۔ وہ اگر اس جارحیت کا ارتکاب نہ کرتا تو مزید مہلت سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ اتمام حجت کا یہ مطلب نہیں کہ موعود عذاب سے پہلے کوئی جارحیت کرے تب بھی مارا نہ جائے یا اسے طبعی موت نہ آئے گی۔ ایسے مارے جانے یا مر جانے والے افراد کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔
جنگ بدر میں کفر کے سرداروں کی پیروی میں آنے والے یہ لوگ، جن پر اتمام حجت نہیں ہوا تھا، یا اتمام حجت ہو گیا تھا، لیکن اس کے بعد وہ مہلت کے عرصے میں تھے، ان میں سے اکثر واپس جانے میں کامیاب ہوگئے تھے، جب کہ ۷۰ افراد قیدی بنا لیے گئے اور وہ بھی بعد میں چھوڑ دیے گئے۔ یعنی ابھی ان پر حتمی عذاب کا وقت نہیں آیا تھا۔ اب ان میں جو زخمی ہوئے، جن کو ہزیمت کا مزہ چکھنا پڑا اور جو قید ہوئے، تو ان کے لیے یہ دنیوی عذاب کی چھوٹی قسمیں تھیں، جو تنبیہ کے لیے آتے ہیں اور حتمی دنیوی عذاب سے پہلے دیے جاتے ہیں، تاکہ ان لوگوں میں جو متنبہ ہو کر ایمان لانے والے ہیں، وہ ایمان لے آئیں۔
جنگ بدر میں قید ہونے والوں کے لیے ابھی مہلت ختم نہیں ہوئی تھی، اسی لیے ان سے کہا گیا کہ اللہ اور اس کا رسول تمھارا طرز عمل دیکھیں گے۔ چنانچہ ان میں سے کئی بعد میں مسلمان ہو گئے اور جو آخر تک نہیں ہوئے، ان میں سے بعض کے لیے وہی قتل کی سزا تجویز ہوئی، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے وقت اعلان فرمایا کہ یہ لوگ اگر کعبے کا غلاف پکڑ کر بھی پناہ مانگیں تو بھی ان کو معاف نہ کیا جائے۔

چند اعتراضات

i۔ ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ کفار مکہ پر عذاب مومنین کے ہاتھوں آیا اور بنی اسرائیل پر مشرک قوموں کے ہاتھوں، ایسا کیوں؟
معلوم ہونا چاہیے کہ خدا نے خود پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی کہ عذاب کی مستحق قوم کو سزا اگر انسانوں کے ہاتھوں سے دی جانی ہو تو وہ ذریت ابراہیم کے مومنین کی طرح کی کوئی منتخب قوم ہی ہو۔ سزا تو سزا ہے، کبھی مومنین کے ہاتھوں دی گئی، کبھی غیر مسلمین کے ہاتھوں اور کبھی قدرتی آفات کے ذریعے سے۔ سزا کی نوعیت اور سزا کے آلۂ کار کا تعین حالات پر منحصر ہے۔ رسول کے ساتھیوں کے ہاتھوں عذاب آنے کی شرائط پہلے مذکور ہو چکی ہیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو بھی اس کام کے لیے چنا گیا تھا، جیسا کہ پیش تر بتایا گیا۔
یہ بھی ملحوظ رہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ قدرتی آفات کے ذریعے آنے والے عذاب کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے، اسی طرح انسانوں کو جب وہ کسی پر عذاب مسلط کرنے کے لیے بطورِ آلۂ کار استعمال کرتا ہے، تو ان کو بھی اپنی طرف منسوب کرتا ہے، درج ذیل آیت دیکھیے، جس میں قدرتی طاقتوں کے ذریعے سے آنے والے عذاب کو خدا نے اپنی طرف منسوب کیا ہے:

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَکْبَرُوْا وَکَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ.(الاعراف ۷: ۱۳۳)
’’سو ہم نے اُن پر طوفان بھیجا، ٹڈیاں، جوئیں اور مینڈک چھوڑ دیے اور خون برسایا۔ یہ سب نشانیاں تھیں، (بنی اسرائیل کے صحیفوں میں) جن کی تفصیل کر دی گئی ہے۔ مگر وہ تکبر کرتے رہے اور (حقیقت یہ ہے کہ) وہ مجرم لوگ تھے۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اُن رومیوں کو بھی اپنے بندے کہا جن کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر تباہی، ذلت اور محکومی مسلط کی:

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا.(بنی اسرائیل ۱۷: ۵)
’’(لہٰذا دونوں مرتبہ سخت سزا پاؤ گے)۔ پھر (تم نے دیکھا کہ)جب اُن میں سے پہلی بار کے وعدے کا وقت آ جاتا ہے تو ہم تم پر اپنے ایسے بندے اٹھا کر مسلط کر دیتے ہیں جو نہایت زور آور تھے۔ سو وہ تمھارے گھروں کے اندر گھس پڑے اور وعدہ پورا ہوکے رہا۔‘‘

ii۔ ایک اور اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ قتال کی سزا اگر شرک کے جرم پر ہی آتی ہے تو چونکہ بنی اسرائیل مشرک نہیں تھے تو تاریخ میں ان پر قتال کی سزائیں بھی کیوں نافذ رہیں؟
اس پر عرض ہے کہ شرک پر محض قتال کی سزا نہیں، بلکہ استیصال کی سزا آتی ہے، جس کی ایک صورت قتال بھی ہے، دیگر صورتوں میں قدرتی آفات سے بھی استیصال کیا گیا ہے۔ قتل و قتال ایک سزا ہے، جو ضروری نہیں کہ صرف شرک کی سزا کے طور پر ہی ملے۔ اس سے کم تر جرائم پر بھی قتل کی سزا مل سکتی ہے۔ مثلاً، ناحق قتل کرنے کے جرم کی سزا میں قصاص کے طور پر بھی مجرم کو قتل ہی کیا جاتا ہے۔ اس لیے بنی اسرائیل پر قتال کا عذاب شرک سے کم تر گناہوں پر بھی آیا، لیکن ان کا استیصال نہیں کیا گیا۔ خدا کی طرف سے قتل کی سزا مسلط ہونے کی وجہ اگر شرک نہ ہو تو پوری قوم کا استیصال نہیں ہوتا، نیز شرک کرنے کی صورت میں بھی قتل کی سزا جب مسلط ہوتی ہے تو اس میں بھی متنبہ کر کے ایمان لانے والوں کے قتل سے بچنے کی گنجایش موجود ہوتی ہے، جیسا کہ سورۂ توبہ (۹) کی آیت ۵ میں بتایا گیا ہے:

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.
’’سو جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور (اِس مقصد کے لیے) اِن کو پکڑو، اِن کو گھیرو اور ہر گھات کی جگہ اِن کی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو۔ یقیناًاللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

iii۔ یہاں ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ بنی اسرائیل پر استیصال کا اگر عذاب اس لیے نہیں آیا تھا کہ ’’سب تو شرک میں مبتلا نہیں ہوتے تھے، بلکہ کچھ توحید پر قائم بھی رہتے تھے تو سوچیے کہ توحید پر قائم لوگ تو ہر معاشرے میں، یہاں تک کہ مشرکینِ عرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل فترت کے عہد میں بھی پائے جاتے تھے۔ پھر ان پر استیصال کا عذاب کیوں مسلط کر دیا گیا؟‘‘
اس پر عرض ہے کہ عرب معاشرے کے موحدین کوئی ایسا قابل لحاظ گروہ تو تھا نہیں کہ ان کے ساتھ کوئی مستقل جنگ ہوئی ہوتی تو یہ اعتراض کیا جاتا۔ یہ لوگ انفرادی طور پر کہیں کہیں پائے جاتے تھے۔ اتنا گمان البتہ کیا جا سکتا ہے کہ ان موحدین میں سے جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجاے اپنے قبیلے کا ساتھ دیتے ہوئے، جیسا کہ اس دور کا قبائلی نظام تقاضا کرتا تھا، مسلمانوں سے جنگ کی ہوگی، وہ عصبیت کی لڑائی لڑتے ہوئے مارے گئے ہوں گے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اتمام حجت کے قانون کا یہ مطلب نہیں کہ دنیوی عذاب سے پہلے کسی منکر کو کسی صورت موت نہیں آئے گی، یا کوئی جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہو تو اتمام حجت سے پہلے اس کو قتل نہ کیا جا سکے، محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے منکرین نے جو جنگی اقدامات کیے وہ جارحیت تھی جس پر ان کے ساتھ قتال کیا گیا اور وہ مارے بھی گئے۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ عرب کے ایسے موحدین یا تو وقت کے ساتھ مسلمان ہوتے گئے یا پھر جارحیت کے نتیجے میں عصبیت کی جنگ لڑتے ہوئے مارے گئے، یا منافقین کی طرح بظاہر مطیع ہو کر اپنی سرگرمیوں سے تائب ہو کر وقت گزار کر مر گئے۔
[باقی]

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List