Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Administrator Profile

Administrator

  [email protected]
Author's Bio
Humble slave of Allah!!!
Visit Profile
قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۳) (1/2) | اشراق
Font size +/-

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۳) (1/2)

(گذشتہ سے پیوستہ)

ڈاکٹر عرفان شہزاد

نمایاں اعتراضات کا جائزہ دنیوی عذاب نافذ کرنے کے دو طریقے

رسولوں کے اتمام حجت کے بعد منکرین رسول پر دنیوی عذاب برپا کر نے کے لیے دو مختلف صورتیں اختیار کی گئیں: ایک قدرتی طاقتوں جیسے ہوا، زلزلہ وغیرہ کے ذریعے سے عذاب نازل کیا گیا اور دوسرے انسانی ہاتھوں کے ذریعے سے یہ عذاب مسلط کیا گیا۔ ایسا کیوں کیا گیا؟ اس کی وجوہات درج ذیل معلوم ہوتی ہیں:
i۔ قدرتی طاقتوں کے ذریعے سے عذاب انھی رسولوں کی قوموں پر آیا، جن رسولوں کو اپنے پیروکاروں کی اتنی افرادی قوت میسر نہ آ سکی کہ وہ اپنی قوم کے منکرین کا استیصال ان کے ذریعے سے کر سکتے، جیسے نوح، صالح، شعیب علیہم السلام، ان کی قوموں کے منکرین پر یہ عذاب آندھی، طوفان سیلاب، زلزلہ وغیرہ کی صورت میں آیا۔
ii۔ یا اگر کسی رسول کو افرادی قوت میسر تو آ گئی، لیکن کوئی دار الہجرت میسر نہ آ سکا جہاں وہ اپنا آزاد نظم اجتماعی قائم کر پاتا جو موثر جنگی اقدامات کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام، جنھوں نے بنی اسرائیل کی وافر افرادی قوت دست یاب ہونے کے باوجود فرعون کے خلاف مسلح کارروائی نہیں کی، نہ اس کی کوئی جدوجہد ہی شروع کی۔ چنانچہ فرعون اور اس کی قوم بھی قدرتی طاقتوں کی مدد سے ہی تباہ کیے گئے۔
iii۔ تاہم، جب رسول کو مناسب افرادی قوت حاصل ہو جائے اور اسے دار الہجرت بھی میسر آ جائے، جہاں ان کا آزاد نظم اجتماعی قائم ہو جائے، تو منکرین پر ،اتمام حجت کے بعد، عذاب نازل کرنے کی ذمہ داری رسول کے ساتھیوں کو منتقل ہو جاتی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی صورت پیش آئی۔ صحراے سینا میں جب بنی اسرائیل کا آزاد نظم قائم ہو گیا تو ان کے نہ چاہنے کے باوجود، ان کو اپنے قرب و جوار میں بسنے والی دیگرمنکر قوموں کے خلاف مسلح جہاد کا حکم دیا گیا اور اس حکم کی خلاف ورزی پر ان کے لیے ۴۰ سال کی ذلت اور صحرا گردی کی سزا مقدر کر دی گئی۔ (دیکھیے: المائدہ ۵: ۲۰۔۲۶)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اصطلاحی معنی میں رسول تھے اور آپ کی قوم کو بھی اس دنیوی سزا و جزا کے ضابطۂ الٰہی سے کوئی استثنا نہیں تھا۔ پورے قرآن مجید میں بار بار آپ کی قوم کو اس دنیوی عذاب سے خبردار کیا گیا تھا۔ مثلاً، سورۂ قمر میں ہی دیکھیے کہ گذشتہ رسولوں کی قوموں پر ان کے انکار کے بعد آنے والے دنیوی عذاب کی سرگذشت ایک ایک کر کے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کو مخاطب کر کے فرمایا:

اَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓءِکُمْ اَمْ لَکُمْ بَرَآءَ ۃٌ فِی الزُّبُرِ.(۵۴: ۴۳)
’’(قریش کے لوگو، پھر)تمھارے یہ منکرین کیا اُن سے کچھ بہتر ہیں یا صحیفوں میں تمھارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے بعد مدینہ میں اپنے پیروکاروں کے ساتھ ایک آزاد نظم اجتماعی قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور آپ کو مومنین کی قابل لحاظ تعداد بھی میسر آگئی ، چنانچہ اتمام حجت کے بعد آنے والے عذاب کا ان مومنین کے ہاتھوں برپا ہونے کا اعلان قرآن مجید میں صاف لفظوں میں کر دیا گیا:

ھُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ.(الانفال ۸: ۶۲)
’’تو اللہ تمھارے لیے کافی ہے۔ وہی ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی۔‘‘
قُلْ ھَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اَنْ یُّصِیْبَکُمُ اللّٰہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِہٖٓ اَوْبِاَیْدِیْنَا فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ.(التوبہ ۹: ۵۲)

’’ان سے کہہ دو کہ تم ہمارے معاملے میں جس چیز کے منتظر ہو، وہ اِس کے سوا کیا ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے۔ لیکن ہم تمھارے معاملے میں جس چیز کے منتظر ہیں، وہ یہ ہے کہ اللہ تم پر اپنے ہاں سے عذاب بھیجے گا یا ہمارے ہاتھوں سے۔ سو انتظار کرو، ہم بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہیں۔‘‘
قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِھِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ.(التوبہ ۹: ۱۴)
’’ان سے لڑو، اللہ تمھارے ہاتھوں سے اُن کو سزا دے گا اور اُنھیں ذلیل و خوار کرے گا اور تمھیں اُن پر غلبہ عطا فرمائے گا اور مومنوں کے ایک گروہ کے کلیجے (اِس سے)ٹھنڈے کرے گا۔‘‘

اس سارے معاملے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بھی افرادی اور عسکری لحاظ سے دشمن کے مقابلے میں جب کبھی کمزور پڑے تو فرشتوں اور ہوا کی قدرتی طاقتوں سے ان کی غیبی مدد کی گئی۔ جنگ بدراور جنگ احزاب میں یہی صورتیں پیش آئیں؛ لیکن جب مسلمان، افرادی اور عسکری لحاظ سے طاقت ور ہوگئے تو پھر غیبی مدد اس طرح نازل نہیں ہوئی، سارا کام مسلمانوں کے زور بازو سے لیا گیا، جیسا کہ جنگ احد اور حنین میں پیش آیا۔
یہ بات طے ہو جانی چاہیے کہ بنیادی مسئلے میں اختلاف نہیں ہے۔ رسولوں کی دعوت کے بعد ان کی قوم کے منکرین پر اسی دنیا میں ایک خاص مدت کے بعدآخری سزا کے طور پر عذاب آیا ہے۔ جس کی دو صورتیں ہیں: ایک قدرتی آفات کے ذریعے سے اور دوسرے رسول کے ساتھیوں کے ہاتھوں سے؛ نیز، یہ کہ اب اس طرح یہ عذاب نہیں آتا اور وجہ معلوم ہے کہ اب کوئی رسول اتمام حجت کرنے نہیں آتا:

وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا.(بنی اسرائیل ۱۷: ۱۵)
’’ہم (کسی قوم کو) کبھی سزا نہیں دیتے، جب تک ایک رسول نہ بھیج دیں (کہ سزا سے پہلے وہ اُس پر حجت پوری کر دے)۔‘‘

صحابہ کے ہاتھوں دنیوی عذاب کی دو صورتیں

اتمام حجت کے بعد صحابہ کے ہاتھوں اس دنیوی عذاب کی دو صورتیں مقرر کی گئیں:
i۔ استیصال، یعنی منکرین کا مکمل خاتمہ ،یہ سزا مشرکین کے لیے مقرر کی گئی۔
ii۔ محکومی کی خصوصی سزا،یہ سزا منکرین اہل کتاب کے لیے مقرر کی گئی۔
مشرکین کے ساتھ قتال کا آخری حکم یہ دیا گیا:

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(التوبہ ۹: ۵)
’’(بڑے حج کے دن)اِس (اعلان براء ت)کے بعد جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور (اِس مقصد کے لیے)اِن کو پکڑو، اِن کو گھیرو اور ہر گھات کی جگہ اِن کی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو۔ یقیناًاللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

اور اہل کتاب کو محکوم بنا لینے کا حکم نازل ہوا، جزیہ اس محکومی کی علامت کے طور پر نافذ کیا گیا:

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍوَّھُمْ صٰغِرُوْنَ.(التوبہ ۹: ۲۹)
’’(اِن مشرکوں کے علاوہ)اُن اہل کتاب سے بھی لڑو جو نہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ اور اُس کے رسول کے حرام ٹھیرائے ہوئے کو حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں، (اُن سے لڑو)، یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور ماتحت بن کر رہیں۔‘‘

یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس زمانے میں جزیہ، محکومی اور ذلت کی علامت ہی سمجھا جاتا تھا، نہ کہ حفاظت کی ضمانت کا ٹیکس۔ اور اسی مفہوم کو قران نے ’صٰغِرُوْنَ‘ یعنی ’’ماتحت بن کر‘‘ کے لفظ سے بیان کیا ہے۔ مولانا عمار خان ناصر اپنی کتاب ’’جہاد: ایک مطالعہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مفتوح علاقوں کے غیر مسلموں پر عائد کیے جانے والے اس مالی فریضے کے ساتھ ذلت، رسوائی اور محکومی کا تصور لازمی طور پر وابستہ تھا اور مفتوحین پر اس کا نفاذ سزا اور عقوبت کے پہلو سے کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر جواد علی اپنی کتاب ’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘‘ میں اس کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
والجزیۃ من الالفاظ المستعملۃ عند الجاہلیین کذلک بدلیل ورودہا فی القرآن الکریم وقد خصصت فی الاسلام بما یوخذ من اہل الذمۃ علی رقابہم وقد کان الجاہلیون یاخذون الجزیۃ من المغلوبین وکانت عندہم الضریبۃ التی توخذ عن رؤوس المغلوبین یدفعونہا الی الغالب فدفعتہا القبائل المغلوبۃ للقبائل الغالبۃ علی اساس الرؤوس.(المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ۵/۳۰۶)
’’جزیہ ان الفاظ میں سے ہے جو زمانۂ جاہلیت میں بھی بعینہٖ اسی طرح استعمال ہوتا تھا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ لفظ قرآن مجید میں آیاہے۔ اسلام میں یہ لفظ خاص طور پر اس رقم کے لیے بولا جاتا ہے جو اہل ذمہ سے اشخاص کے لحاظ سے وصول کی جاتی ہے۔ اہل جاہلیت مغلوب ہو جانے والوں سے جزیہ وصول کیا کرتے تھے اور ان کے نزدیک اس کا تصور ایک ایسے ٹیکس کا تھا جو مغلوب گروہ کے افراد غالب گروہ کو ادا کرتے ہیں۔ مغلوب قبائل افراد کی تعداد کے لحاظ سے غالب قبائل کو جزیہ ادا کیا کرتے تھے۔‘‘(۸۴)

بنی اسرائیل کو استیصال کی سزا کیوں نہ ملی؟

اللہ تعالیٰ کے دوخصوصی قوانین ہیں: ایک قانون اتمام حجت اور دوسرا ذریت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ خدا کا خصوصی قانون۔ یہ قوانین ایک دوسرے سے متعلق بھی ہو جاتے ہیں۔ ان کے اپنے اپنے اطلاقات ہیں۔ ان کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے، ورنہ خلط مبحث ہو جاتا ہے۔

ذریت ابراہیم کے ساتھ خدا کا خاص عہد

اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے اظہار اور تبلیغ کے لیے منصبِ رسالت و نبوت کا انتظام کیا ہے۔ اس منصب کے لیے وہ صرف افراد ہی کو بطور نبی و رسول نہیں چنتا، بلکہ اقوام کو بھی اس کے لیے منتخب کرتا ہے:

اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَآٰءِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ.(الحج ۲۲: ۷۵)
’’اللہ فرشتوں میں سے بھی (اپنے) پیغام بر چنتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ (اِس سے وہ خدائی میں شریک کیوں ہو جائیں گے)؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ (خود)سمیع و بصیر ہے۔‘‘

اسی اصو ل کے تحت ذریت ابراہیم کو چنا گیا:

اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفآی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰھِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ.(آل عمران ۳: ۳۳)

’’اللہ نے آدم اور نوح کو ، اور ابراہیم اور عمران کی ذریت کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اُن کی ہدایت کے لیے) منتخب فرمایا ۔‘‘

پہلے مرحلے میں ذریت ابراہیم کی ایک شاخ، بنی اسحق یا بنی اسرائیل کواس منصب کے لیے چنا گیا اور دوسرے مرحلے میں بنی اسمٰعیل کو۔
اس منصب کی تعیناتی کو میثاق یا عہد کہا گیا ہے۔ بنی اسرائیل سے اس عہد کا تذکرہ قرآن میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے:

یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَھْدِیْٓ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ.(البقرہ ۲: ۴۰)
’’اے بنی اسرائیل، میری اُس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی تھی اور میرے عہد کو پورا کرو ، میں تمھارے عہد کو پورا کروں گا، اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔‘‘
وَلَا تَشْتَرُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰہِ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ.(النحل ۱۶: ۹۵)
’’تم اللہ کے عہد کو تھوڑی قیمت کے عوض نہ بیچو۔ (خدا کے بندو)، اگر تم جانو تو جو کچھ خدا کے پاس ہے، وہی تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘

پھر بنی اسمٰعیل سے اس عہد کا ذکر اس آیت میں ہے:

وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ھُوَ اجْتَبٰکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ.(الحج ۲۲: ۷۸)
’’اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو جیسا کہ اِس جدو جہد کا حق ہے ۔ اُسی نے تم کو (اِس ذمہ داری کے لیے) منتخب کیا ہے اور دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ۔ تمھارے باپ ابراہیم کا طریقہ تمھارے لیے پسند فرمایا ہے۔ اُسی نے تمھارا نام مسلمان رکھا تھا، اِس سے پہلے بھی اور اِس (آخری بعثت کے دور) میں بھی۔ اِس لیے (منتخب کیا ہے)کہ رسول تم پر گواہی دے اور دنیا کے باقی لوگوں پر تم (اِس دین کی) گواہی دینے والے بنو ۔‘‘

رسولوں اور ذریت ابراہیم کے اس منصب کو منصبِ شہادت (گواہی) کا اصطلاحی نام دیا گیا ہے۔ یعنی جو منصبِ شہادت رسول کو انفرادی حیثیت میں دیا گیا ہے، وہی ذریت ابراہیم کو بحیثیت قوم دیا گیا ہے:

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّاعَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ.(البقرہ ۲: ۱۴۳)
’’اور (جس طرح مسجد حرام کو تمھارا قبلہ ٹھیرایا ہے)، اِسی طرح ہم نے تمھیں بھی ایک درمیان کی جماعت بنا دیا ہے تاکہ تم دنیا کے سب لوگوں پر (حق کی) شہادت دینے والے بنو اور اللہ کا رسول تم پر یہ شہادت دے ۔ اور اِس سے پہلے جس قبلے پر تم تھے ، اُسے تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے ٹھیرایا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک بھاری بات تھی، مگر اُن کے لیے نہیں ، جنھیں اللہ ہدایت سے بہرہ یاب کرے۔ اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ (اِس طرح کی آزمایش سے وہ) تمھارے ایمان کو ضائع کرنا چاہے ۔اللہ تو لوگوں کے لیے بڑا مہربان ہے ، سراسر رحمت ہے۔‘‘

مذکورہ بالا آیت میں بنی اسمٰعیل اسی منصب کی وجہ سے شہدا، یعنی گواہ قرار دیے گئے ہیں۔ اسی نسبت سے بنی اسرائیل کو بھی شہدا کہا گیا ہے:

قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَھَا عِوَجًا وَّاَنْتُمْ شُھَدَآءُ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ.(آل عمران ۳: ۹۹)
’’اِن سے پوچھو، اے اہل کتاب، تم اُن لوگوں کو اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہوجو ایمان لائے ہیں؟ تم اِس میں عیب ڈھونڈتے ہو، دراں حالیکہ تم اِس کے گواہ بنائے گئے ہو؟ (اِس پر غور کرو) اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اُس سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘

منصب رسالت یا منصب شہادت کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ منصب کسی رسول کودیا گیا ہو یا قوم کو، اس کی ذمہ داری پورے کرنے پر دنیا اور آخرت، دونوں جگہ انعام دیے جانے اوراس میں کوتاہی کرنے پر دنیا اور آخرت، دونوں جگہ سزادیے جانے کا قانون بیان کیا گیا ہے۔ انفرادی حیثیت میں بھی یہ قانون بیان کیا گیا ہے اور منصب شہادت پر فائزقوم کے لیے اجتماعی حیثیت سے بھی۔اس قانون کا بیان رسول کی انفرادی حیثیت میں دیکھیے:

وَاِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَہٗ وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْکَ خَلِیْلًا وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنٰکَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَیْھِمْ شَیْءًا قَلِیْلًا اِذًا لَّاَذَقْنٰکَ ضِعْفَ الْحَیٰوۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا.(بنی اسرائیل ۱۷: ۷۳۔۷۵)
’’(اے پیغمبر)، قریب تھا کہ یہ اُس چیز سے ہٹا کر تم کو فتنے میں ڈال دیں جو ہم نے تمھاری طرف وحی کی ہے تاکہ اِس (قرآن) کے سوا تم کوئی دوسری بات ہم پر افترا کر کے پیش کرو۔ اگر تم ایسا کرتے تو یہ ضرور تمھیں اپنا دوست بنا لیتے۔اور اگر ہم نے تمھیں مضبوط نہ رکھا ہوتا تو بعید نہیں تھا کہ تم بھی اِن کی طرف کچھ جھک پڑو۔اگر ایسا ہوتا تو ہم تمھیں زندگی اور موت، دونوں کا دہرا عذاب چکھاتے، پھر تم ہمارے مقابلے میں اپنا کوئی مددگار نہ پاتے۔‘‘
وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰی وَلَءِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ.(البقرہ ۲: ۱۲۰)
’’یہ یہود و نصاریٰ تم سے ہر گز راضی نہ ہوں گے ، جب تک اِن کا مذہب اختیار نہ کر لو۔ (لہٰذا)کہہ دو کہ اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے، اور (جان لو کہ ) اگر تم اُس علم کے بعد جو تمھارے پاس آ چکا ہے، اِن کی خواہشوں پرچلے تو اللہ کے مقابلے میں تمھارا کوئی دوست اور کوئی مدد گار نہ ہو گا۔‘‘
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ فَمَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حٰجِزِیْنَ.(الحاقہ ۶۹: ۴۴۔۴۷)
’’(ہمارا)یہ (پیغمبر)اگر اپنی طرف سے کوئی بات ہم پر بنا لاتا۔ تو ہم اِس کو قوی ہاتھ سے پکڑ لیتے۔ پھر اِس کی رگ گردن کاٹ دیتے۔پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اِس کام سے روک نہ سکتا۔‘‘

چونکہ رسولوں سے ایسی کوئی کوتاہی عموماً نہیں ہوئی، سوائے چند فروگذاشتوں کے، جن پر تنبیہات کی گئیں، اس لیے ان میں سے کسی کوسزا کا سامنا نہیں کرنا پڑا، سوائے حضرت یونس علیہ السلام کے، جن سے ایک کوتاہی ہوئی کہ وہ اپنی قوم پر اتمام حجت کے نتیجے میں آنے والے عذاب کے اعلان کے بعد اس بستی سے خدا کا حکم ملنے سے پہلے ہی نکل آئے۔ رسول، خدا کے حکم کے بغیر بستی نہیں چھوڑ سکتا، یہ اصول تھا جس کی خلاف ورزی ان سے ہو گئی، اس پر انھیں فوراً سزا ملی، وہ کئی دن مچھلی کے پیٹ میں محصور رہے۔ پھر اپنی کوتاہی پر انھوں نے خدا سے معافی طلب کی تو دوبارہ رب کی رضا اور سرفرازی سے بہرہ یاب ہو گئے۔
دوسرا پہلو اس منصب کی خصوصیت کا یہ ہے کہ رسولوں سے یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنے دشمنوں پر لازماً غالب آ کر رہیں گے:

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ.(المجادلہ ۵۸: ۲۱)
’’اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑے زور والا اور بڑا زبردست ہے۔‘‘

یعنی منصب رسالت و نبوت ایسا منصب ہے جس پر ادنیٰ کوتاہی پر بھی تنبیہ و سزا فوراً ملتی ہے۔ اور اس منصب کی درست ادائیگی پر اسی دنیا میں غلبہ و سرفرازی عطا ہوتی ہے۔ یہ جزا و سزا کے عام قانون کے برعکس ہے۔ عام قانون میں اسی دنیا میں سزا اور جزا کا ملنا لازمی نہیں ہے، ان کے فیصلے کے لیے آخرت کا دن مقرر کیا گیا ہے۔
اب یہی معاملہ بحیثیت قوم ذریت ابراہیم، یعنی بنی اسرائیل اور بنی اسمٰعیل سے کیا گیا۔ منصب نبوت کے لیے چنے جانے کے بعد ان کی کوتاہیوں پر ان کو سزا اسی دنیا میں دی گئی اور ایمان و عمل کا مطلوبہ معیار پورا کرنے پر اسی دنیا میں دولت مندی، سرفرازی کے وعدے کیے گئے۔
یہاں یہ بھی ملحوظ رہے کہ رسول کے غلبے کا مطلب سیاسی غلبہ نہیں، اس کے مخالفین کا استیصال ہی اس کا غلبہ ہے۔ لیکن منصب شہادت پر فائز اقوام کا غلبہ البتہ سیاسی غلبے کی صورت اختیار کر گیا۔ اس کی تفصیل آگے آتی ہے۔
مذاہب کی معلوم تاریخ میں صرف ذریت ابراہیم ہے جس کو اس منصب کے لیے چنا گیا اور تاقیامت ان کا یہ منصب برقرار ہے۔ان دونوں عروج و زوال کی تاریخ کو اس قانون کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
قرآن مجید میں بنی اسرائیل کے لیے اس قانون کا بیان یہ ہے:

وَلَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ مِنْھُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ.(المائدہ ۵: ۶۶)
’’اور اگر (اپنی اجتماعی حیثیت میں) تورات و انجیل پر اور اُس چیز پر قائم ہو جاتے جو اِن کے پروردگار کی طرف سے اِن پر اتاری گئی ہے تو اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے رزق پاتے۔ (اِس میں شبہ نہیں کہ) اِن میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو راستی پر قائم ہے، لیکن اِن میں زیادہ وہی ہیں جن کے اعمال بہت برے ہیں۔‘‘

بائیبل میں اس کی مزید تصریح مل جاتی ہے۔ کتاب استثنا میں خدا کا یہ وعدہ اِس طرح بیان ہوا ہے:

’’اور اگر تو خداوند اپنے خدا کی بات کو جان فشانی سے مان کر اُس کے اُن سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں، احتیاط سے عمل کرے تو خداوند تیرا خدا دنیا کی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کرے گا۔ اور اگر تو خداوند اپنے خدا کی بات سنے تو یہ سب برکتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو ملیں گی۔ شہر میں بھی تو مبارک ہو گا اور کھیت میں بھی مبارک ہو گا ... خداوند تیرے دشمنوں کو جو تجھ پر حملہ کریں، تیرے روبرو شکست دلائے گا۔ وہ تیرے مقابلے کو تو ایک ہی راستے سے آئیں گے، پر سات سات راستوں سے ہو کر ترے آگے سے بھاگیں گے ... اور دنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے، تجھ سے ڈر جائیں گی ... اور خداوند تجھ کو دُم نہیں، بلکہ سر ٹھیرائے گا اور تو پست نہیں، بلکہ سرفراز ہی رہے گا ... لیکن اگر تو ایسا نہ کرے کہ خداوند اپنے خدا کی بات سن کر اُس کے سب احکام اور آئین پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں، احتیاط سے عمل کرے تو یہ سب لعنتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو لگیں گی۔ شہر میں بھی تو لعنتی ہو گا اور کھیت میں بھی لعنتی ہو گا ... خداوند تجھ کو تیرے دشمنوں کے آگے شکست دلائے گا۔ تو اُن کے مقابلے کے لیے تو ایک ہی راستے سے جائے گا اور اُن کے سامنے سے سات سات راستوں سے ہو کر بھاگے گا اور دنیا کی تمام سلطنتوں میں تو مارا مارا پھرے گا۔‘‘(۱:۲۵۔۲۸)

بنی اسرائیل نے جب خود کو منصب شہادت کا اہل ثابت کیا تو طالوت، داؤد اور سلیمان علیہم السلام کے ادوار میں زبردست سلطنتیں قائم کیں، جس کا رعب و دبدبہ ارد گرد کی ریاستوں پرچھایا ہوا تھا۔ قرآن مجید میں ملکۂ سبا اور سلیمان علیہ السلام کا قصہ اسی دور کی ایک داستان ہے۔ بائیبل میں اس کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس جب کبھی بنی اسرائیل نے ایمان و عمل میں کوتاہیاں برتیں، انھیں ان کے جرم کی نوعیت کے مطابق مختلف سزائیں بھی دی گئیں۔ کبھی بابل کے بادشاہ بنو کد نضر کے ہاتھوں ذلت و رسوائی کا منہ دیکھا تو کبھی رومیوں کے ہاتھوں تباہ ہوئے۔ درمیان میں انھیں مہلت کے وقفے بھی ملتے رہے۔ ان کی اس حالت کا تسلسل ہمارے دور تک چلا آیا ہے۔
اس سارے معاملے کی ایک خارجی دلیل بھی ہے۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کا عمومی تکوینی قانون یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار کوئی قوم عروج کے بعد زوال آشنا ہو جائے تو پھر کبھی ویسا عروج نہیں پاتی۔ قدیم دور میں یونان اور روم، اور جدید دور میں برطانیہ اور روس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن اس عمومی کلیہ سے بالکل برعکس، بنی اسرائیل دنیا کی واحد قوم ہے، جس نے اپنی دو ہزار سالہ تاریخ میں عروج و زوال کے کئی ادوار دیکھے۔ یہ وہ محسوس نشانِ حق ہے جو خدا نے ذریت ابراہیم کے ذریعے سے دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔
دنیوی نعمت و نکبت کے اسی قانون کا اعلان بنی اسمٰعیل سے بھی کیا گیا، ملاحظہ کیجیے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ.(آل عمران ۳: ۱۴۹)
’’ایمان والو، اگر اِن منکروں کی بات مانو گے تو یہ تمھیں الٹا پھیر کر رہیں گے اور تم نامراد ہو جاؤ گے۔‘‘
اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللّٰہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمْ وَاِنْ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْ م بَعْدِہٖ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ.(آل عمران ۳: ۱۶۰)
’’(ایمان والو)، اگر اللہ تمھاری مدد پر ہو تو کوئی تم پر غلبہ نہیں پاسکتا اور وہ تمھیں چھوڑ دے تو اُس کے بعد کون ہے جو تمھاری مدد کرے گا؟ اور اِیمان والوں کو تو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔‘‘
اسی اصول پرجنگ احد اور حنین میں کوتاہی برتنے پر انھیں فوراً سزا بھی ملی،اور تنبیہ ہوتے ہی حالات فوراً ہی ان کے حق میں پلٹ بھی گئے۔ یہ کوتاہی اگرچہ ہر فرد سے صادرنہیں ہوئی تھی، لیکن اجتماعی معاملات میں خدا مجموعی رویے پر فیصلہ صادر کرتا ہے:
اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰٓی اَحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْٓ اُخْرٰکُمْ فَاَثَابَکُمْ غَمًّام بِغَمٍّ لِّکَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَ لَا مَآ اَصَابَکُمْ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ.(آل عمران ۳: ۱۵۳)
’’یاد کرو، جب تم بھاگے جا رہے تھے اور کسی کو مڑ کر دیکھ بھی نہیں رہے تھے اور اللہ کا پیغمبر (تمھارے پیچھے)تمھارے ہی لوگوں کی ایک دوسری جماعت میں تمھیں پکار رہا تھا(جو اُس کے ساتھ کھڑی تھی )تو اللہ نے تم کو غم پر غم پہنچایا، اِس لیے کہ (اِس امتحان سے گزرنے کے بعد آیندہ)کسی چیز کے ہاتھ سے جانے اور کسی مصیبت کے آنے پر تم رنجیدہ خاطر نہ ہو، اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے باخبر ہے۔‘‘
لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْءًا وَّضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ.(التوبہ ۹: ۲۵)
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے بہت سے موقعوں پر تمھاری مدد کی ہے۔ ابھی حنین کے دن بھی، جب تم اپنی کثرت پر اترا رہے تھے۔ پھر وہ کثرت تمھارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی۔ پھر تم پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔‘‘

ایمان و عمل کے مطلوبہ معیار پر پوار اترنے پران کے لیے دنیوی غلبہ و سرفرازی کا اعلان کیا گیا:

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا وَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَھَا وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیْرَۃً تَاْخُذُوْنَھَا فَعَجَّلَ لَکُمْ ھٰذِہٖ وَکَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْکُمْ وَلِتَکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَیَھْدِیَکُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا وَّاُخْرٰی لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰہُ بِھَا وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا وَلَوْ قٰتَلَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا.(الفتح ۴۸: ۱۸۔۲۳)
’’(تمھیں خوش خبری ہو کہ) اللہ ایمان والوں سے راضی ہو گیا، جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے،اُس وقت اللہ نے جان لیا جو کچھ اُن کے دلوں میں تھا تو اُس نے اُن پر طمانیت اتار دی اور اُن کو ایسی فتح عطا فرما دی جو عنقریب ظاہر ہونے والی ہے۔ اور بہت سی غنیمتیں بھی، جن کو وہ حاصل کریں گے۔ اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔ (ایمان والو)، اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ تم سے کیا ہے جو تم حاصل کرو گے۔ سو یہ (پہلی فتح کے) غنائم تو اُس نے فوری طور پر تمھیں عطا کر دیے ہیں اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے ہیں کہ یہ موجب طمانیت ہو اور ایمان والوں کے لیے (خدا کی نصرت کی) ایک نشانی بن جائے اور وہ تم کو سیدھی راہ کی ہدایت بخشے۔ اِس کے علاوہ ایک فتح اور بھی ہے جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے، مگر اللہ نے اُس کا احاطہ کر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ منکرین (جن سے تم معاہدہ کرکے آئے ہو)، اگر (اِس موقع پر) تم سے جنگ کرتے تو ضرور پیٹھ پھیرتے، پھر (اپنے لیے) کوئی حامی اور کوئی مددگار نہ پاتے۔ یہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی سنت ہے جو پہلے سے چلی آ رہی ہے اور اللہ کی سنت میں تم کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔‘‘
وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ.(آل عمران ۳: ۱۳۹)
’’اور (جو نقصان تمھیں پہنچا ہے، اُس سے)بے حوصلہ نہ ہو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو غلبہ بالآخر تمھیں ہی حاصل ہو گا۔‘‘
لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ اَذًی وَاِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ.(آل عمران ۳: ۱۱۱)
’’یہ تمھیں کچھ اذیت دے سکتے ہیں، اِس کے سوا یہ تم کو ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اور (مطمئن رہو کہ)اگر یہ تم سے لڑیں گے تو لازماً پیٹھ دکھائیں گے۔ پھر اِن کو کہیں سے کوئی مدد نہ ملے گی۔‘‘
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْءًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ.(النور ۲۴: ۵۵)
’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور اُنھوں نے اچھے عمل کیے ہیں، اُن سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اُن کو وہ اِس سرزمین میں ضروراُسی طرح اقتدار عطا فرمائے گا، جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو اُس نے عطا فرمایا تھا اور اُن کے لیے اُن کے دین کو پوری طرح قائم کر دے گا جسے اُس نے اُن کے لیے پسند فرمایا ہے اور اُن کے اِس خوف کی حالت کے بعد اِسے ضرورامن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھیرائیں گے۔ اور جو اِس کے بعد بھی منکر ہوں تو وہی نافرمان ہیں۔‘‘

بنی اسرائیل سے اس خاص عہد الٰہی کے ظاہری نتائج و شواہد

ان کے جرائم میں انبیا اور رسولوں کا انکار و قتل اور بعض اوقات کھلا شرک کرنا شامل تھا۔ اس پر ان کو ذلت و رسوائی، جلا وطنی اور محکومی سے لے کر قتل و قتال تک سب عذاب سہنے پڑے:

وَلَوْ لَآ اَنْ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَھُمْ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابُُ النَّارِ.(الحشر ۵۹: ۳)
’’اور اگر اللہ نے اُن کے لیے (اِسی طرح)جگہ جگہ سے اجڑنے کی سزا نہ لکھ دی ہوتی تو وہ اُنھیں دنیا ہی میں عذاب دے ڈالتا اور قیامت میں تو اُن کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔‘‘

مختلف ادوار میں مختلف جرائم پر ان کو درج ذیل سزائیں ملیں:
i۔ مثلاً، دریا کے کنارے بسنے والے ان میں سے کچھ لوگوں نے جب شریعت کے ایک حکم، یعنی سبت کے دن کی مسلسل خلاف ورزی، کی تو انھیں بندر اور خنزیر بنا دیا گیا:

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْامِنْکُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِءِیْنَ.(البقرہ ۲: ۶۵)
’’اور تم اُنھیں بھی جانتے ہی ہو جنھوں نے تمھارے لوگوں میں سے سبت کی بے حرمتی کی تو ہم نے اُن سے کہا: جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ۔‘‘

ii۔ خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرنے پر یہ سزا ملی:

وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ مِنْ م بَقْلِھَا وَ قِثَّآءِ ھَا وَ فُوْمِھَا وَ عَدَسِھَا وَ بَصَلِھَا قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ ھُوَ اَدْنٰی بِالَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ اِھْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَکُمْ مَّا سَاَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَبَآءُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِےّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ.(البقرہ ۲: ۶۱)
’’اور یاد کرو ، جب تم نے کہا :اے موسیٰ، ہم ایک ہی کھانے پر ہرگز صبر نہ کریں گے۔ سو ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو کہ یہ سبزی ،ککڑی ،لہسن، مسور اور پیاز جو زمین اگاتی ہے ،وہ اِن چیزوں میں سے ہمارے لیے نکال کر لائے ۔ اُس نے کہا: تم ایک بہتر چیز کو کم تر چیزوں سے بدلنا چاہتے ہو؟ (اچھا تو جاؤ)، کسی مصر ہی میں جا رہو۔ اِس لیے کہ یہ جو کچھ تم مانگتے ہو ،وہاں تم کو مل جائے گا ۔ (وہ یہی کرتے رہے)اور اُن پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کا غضب کما لائے۔ یہ اِس وجہ سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیتوں کو نہیں مانتے تھے اور اُس کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ یہ اِس وجہ سے ہوا کہ اُنھوں نے نافرمانی کی اور (وہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی) کسی حد پر نہ رہتے تھے۔‘‘

iii۔ جہاد کے حکم سے منہ پھیرنے پر یہ سزا ملی:

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا وَّاٰتٰکُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ قَالُوْا یٰمُوْسٰٰٓی اِنَّ فِیْھَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ وَاِنَّا لَنْ نَّدْخُلَھَا حَتّٰی یَخْرُجُوْا مِنْھَا فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْھِمُ الْبَابَ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَھَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْھَا فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ اِلَّا نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ قاَلَ فَاِنَّھَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْھِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً یَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ.(المائدہ ۵: ۲۰۔۲۶)

’’(اپنے جرائم کی پاداش سے ڈرو، اے اہل کتاب)، اور یاد کرو وہ واقعہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: میری قوم کے لوگو، اپنے اوپر اللہ کی اِس نعمت کا خیال کرو کہ اُس نے تم میں نبی بنائے اور تمھیں بادشاہ ٹھیرایا ہے اور تمھیں وہ کچھ دے دیا ہے جو دنیا والوں میں سے اُس نے کسی کو نہیں دیا ہے۔ میری قوم کے لوگو، (اِس کے لیے)اُس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھ پر الٹے نہ پھرو، ورنہ نامراد ہو جاؤ گے۔ اُنھوں نے جواب دیا: موسیٰ، اُس میں بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں، ہم اُس میں ہرگز داخل نہ ہوں گے، جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں، اگر وہ نکل جائیں تو ہم یقیناًداخل ہو جائیں گے۔ ان ڈرنے والوں میں دو شخص، البتہ ایسے تھے جن پر خدا کی عنایت تھی، اُنھوں نے کہا: تم (اِس شہر کے)لوگوں پر چڑھائی کر کے اِس کے دروازے میں گھس جاؤ، جب تم اُس میں گھس جاؤ گے تو تمھی غالب رہو گے اور اللہ ہی پر بھروسا کرو، اگر تم اُس کے ماننے والے ہو۔ لیکن اُنھوں نے پھر یہی کہا کہ موسیٰ، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اُس میں کبھی داخل نہ ہوں گے، اِس لیے تم اور تمھارا پروردگار، دونوں جاؤ اور لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اِس پر موسیٰ نے دعا کی: پروردگار، میری ذات اور میرے بھائی کے سوا کسی پر میرا کوئی اختیار نہیں ہے، لہٰذا تو ہمیں اور اِن نافرمان لوگوں کو الگ الگ کر دے۔ فرمایا: یہی بات ہے تو یہ سرزمین چالیس برسوں کے لیے اِن پر حرام ہے، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے، اِس لیے (اب) اِن نافرمانوں پر افسوس نہ کرو۔‘‘

iv۔ انبیا کے قتل پر یہ ذلت و رسوائی کی سزا ملی:

ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآءُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الْمَسْکَنَۃُ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَآءَ بِغَیْرِحَقٍّ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ.(آل عمران ۳: ۱۱۲)

’’اِنھیں جہاں دیکھیے، اِن پر ذلت کی مار ہے، الّا یہ کہ اللہ کی رسی تھام لیں اور اُن لوگوں کی رسی تھام لیں (جنھوں نے اللہ کی رسی تھام لی ہے)۔یہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں اور اِن پر پست ہمتی تھوپ دی گئی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کی آیتوں کے منکر رہے ہیں اور اُس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں، اِس لیے کہ اِنھوں نے نافرمانی کی اور یہ ہمیشہ حد سے بڑھتے رہے ہیں۔‘‘

چنانچہ مسیح علیہ السلام اور بعد ازاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار اور مخالفت پر انھیں ذلت و محکومی کی سزا اسی ضابطے کے تحت ملی۔ مسیح کے انکار و مخالفت کی پاداش میں اسیری اور مسیح کے متبعین کے تحت تاقیامت محکومی کی سزا لکھ دی گئی۔ قتل و قتال اس محکومی کی سزا کا اابتدائیہ ہوتا تھا:

اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ فَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَاُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ.(آل عمران ۳: ۵۵۔۵۶)
’’اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور (تیرے) اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے ۔ سو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ پھر یہی نہیں، اِن منکروں کو میں دنیا اور آخرت، دونوں میں سخت سزا دوں گا، اور وہ کوئی مددگار نہ پائیں گے۔‘‘

چنانچہ، مسیح علیہ السلام کے رخصت ہو جانے کے بعد رومی حکومت نے مسلسل ان کے ساتھ ذلت آمیز، اور ظالمانہ سلوک روا رکھا، جس کی انتہا ۷۰ عیسوی میں رومی شہنشاہ، طیطاؤس (Titus) کے یروشلم پر حملے کی صورت میں ہوئی، جس میں یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، اور یہ منکرین ذلت آمیز زندگی گزار کر مرے۔
پھریہی سزا انھیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اور ان کے ساتھ قتال کے جرم کے نتیجے میں جزیرۂ عرب میں دی گئی:

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ.(التوبہ ۹: ۲۹)

’’(اِن مشرکوں کے علاوہ) اُن اہل کتاب سے بھی لڑو جو نہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ اور اُس کے رسول کے حرام ٹھیرائے ہوئے کو حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں، (اُن سے لڑو)، یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور ماتحت بن کر رہیں۔‘‘

v۔ شرک کرنے پر ان کے مشرکین کو قتل کی وہی سزا دی گئی جو دیگر مشرک اقوام کو بھی ملی تھی، جن پر رسولوں کے ذریعے سے اتمام حجت ہوتا ہے۔ مثلاً جب انھوں نے بچھڑے کی پوجا کی تو شرک کے مرتکبین کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا:

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْٓا اِلٰی بَارِءِکُمْ فَاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ عِنْدَ بَارِءِکُمْْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ.(البقرہ ۲: ۵۴)
’’اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: میری قوم کے لوگو ،تم نے یہ بچھڑا بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے ، اِس لیے اب اپنے خالق کی طرف لوٹو اور (اِس کے لیے)اپنے اِن لوگوں کو (اپنے ہاتھوں سے)قتل کرو۔ یہ تمھارے لیے تمھارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر ہے۔ (چنانچہ تم نے یہ کیا)تو اُس نے تمھاری توبہ قبول فرمائی۔ بے شک، وہی بڑا معاف کرنے والا ہے ،اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

مولانا عمار خان ناصر لکھتے ہیں:

’’اسی قانون کے تحت موسوی شریعت میں مشرکانہ اعمال ورسوم میں ملوث ہونے والوں کے لیے موت کی سزا مقرر کی گئی تھی۔ تورات میں ہے:
’’پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا تو بنی اسرائیل سے یہ بھی کہہ دے کہ بنی اسرائیل میں سے یا ان پردیسیوں میں سے جو اسرائیلیوں کے درمیان بود وباش کرتے ہیں، جو کوئی شخص اپنی اولاد میں سے کسی کو مولک کی نذر کرے، وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ اہل ملک اسے سنگسار کریں۔‘‘ (احبار ۲۰: ۱، ۲) (جہاد: ایک مطالعہ ۳۹)

____________

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۳) (2/2)



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List