Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

عرفان شہزاد Profile

عرفان شہزاد

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۶) (2/2) | اشراق
Font size +/-

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۶) (2/2)

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۶) (1/2)

پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ جنگیں صحابہ نے تب تک جاری رکھیں جب تک وہ ان سرحدوں تک نہ پہنچ گئے جن تک پہنچنے کی بشارت ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملی تھیں جو حضرت عمر کے دور خلافت میں فتح ہو گئی تھیں۔ پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ دشمن کو مغلوب کر لینے اور ان سے زیادہ طاقت ور ہو جانے کے بعد اور ان کی طرف سے سازشوں اور شورشوں کے خطرے کے باوجود وہ ان مخصوص سرحدوں سے آگے بڑھنے کے لیے تیار نہ ہو رہے تھے اور وہ مقابلے کی بہتر پوزیشن میں بھی تھے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر نے اپنے آخری دور کی جنگیں بہ امر مجبوری لڑیں تاکہ دشمن کی کمر توڑی جا سکے اور وہ حملے کرنے بند کر دے۔ مولانا عمار خان ناصر ’’جہاد: ایک مطالعہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’قادسیہ، مدائن اور جلولاء کے معرکوں کے بعد ۱۶ ہجری میں جنوبی عراق کا علاقہ، جس کو عرب مورخین ’سواد‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، مسلمانوں کے قبضے میں آ چکا تھا۔ سعد بن ابی وقاص نے مزید پیش قدمی کی اجازت چاہی تو سیدنا عمر نے انھیں اس سے روک دیا۔
وکتبوا الی عمر بفتح جلولاء وبنزول القعقاع حلوان واستاذنوہ فی اتباعہم فابی وقال لوددت ان بین السواد وبین الجبل سدا لا یخلصون الینا ولا نخلص الیہم حسبنا من الریف السواد انی آثرت سلامۃ المسلمین علی الانفال.(تاریخ الامم والملوک ۴/ ۲۸)
’’انہوں نے سیدنا عمر کو خط لکھ کر جلولاء کے فتح ہونے کی خبر دی اور بتایا کہ قعقاع حلوان کے مقام پر مقیم ہیں۔ نیز انہوں نے دشمن کا پیچھا کرنے کی اجازت مانگی لیکن سیدنا عمر نے انکار کر دیا اور کہا کہ میری یہ خواہش ہے کہ سواد اور جبل کے علاقے کے درمیان کوئی ایسی رکاوٹ کھڑی ہو جائے جس کو عبور کر کے نہ وہ ہماری طرف آ سکیں اور نہ ہم ان کی طرف جا سکیں۔ ان شاداب خطوں میں سے ہمارے لیے سواد ہی کافی ہے۔ مجھے مال غنیمت کے مقابلے میں مسلمانوں کی سلامتی زیادہ عزیز ہے۔‘‘‘‘(۱۱۸)
’’طبری لکھتے ہیں:
وقد قال عمر حسبنا لاہل البصرۃ سوادہم والاہواز وددت ان بیننا وبین فارس جبلا من نار لایصلون الینا منہ ولا نصل الیہم کما قال لاہل الکوفۃ وددت ان بینہم وبین الجبل جبلا من نار لایصلون الینا منہ ولا نصل الیہم.(تاریخ الامم والملوک ۴/ ۷۹)
’’سیدنا عمر نے کہا: ہم اہل بصرہ کے لیے سواد اور اہواز کا علاقہ کافی ہے۔ کاش ہمارے اور فارس کے علاقے کے درمیان آگ کا کوئی پہاڑ ہوتا ۔ نہ وہ ہم تک پہنچ پاتے اور نہ ہم ان تک پہنچ پاتے۔ اسی طرح آپ نے اہل کوفہ کے بارے میں کہا تھا کہ کاش ان کے اور جبل کے علاقے کے مابین آگ کا کوئی پہاڑ ہوتا۔ نہ وہ اس طرف آ سکتے اور نہ ہم ادھر جا سکتے۔‘‘‘‘ (۱۲۱)
’’فارس کے علاقے میں عام لشکر کشی کی اجازت سیدنا عمر نے ۱۷ ہجری میں احنف بن قیس کی تجویز پر دی۔
یا امیر المومنین اخبرک انک نہیتنا عن الانسیاح فی البلاد وامرتنا بالاقتصار علی ما فی ایدینا وان ملک فارس حی بین اظہرہم وانہم لا یزالون یساجلوننا ما دام ملکہم فیہم ولم یجتمع ملکان فاتفقا حتی یخرج احدہما صاحبہ وقد رایت انا لم ناخذ شیئا بعد شئ الا بانبعاثہم وان ملکہم ہو الذی یبعثہم ولا یزال ہذا دابہم حتی تاذن لنا فلنسح فی بلادہم حتی نزیلہ عن فارس ونخرجہ من مملکتہ وعز امتہ فہنالک ینقطع رجاء اہل فارس ویضربون جاشا.(طبری،تاریخ الامم والملوک ۴/ ۸۹)
’’اے امیر المومنین! میں آپ کو اصل بات بتاتا ہوں۔ آپ نے ہمیں مملکت فارس میں دور تک گھسنے سے منع کر رکھا ہے اور ان علاقوں پر اکتفا کرنے کا حکم دیا ہے جو ہمارے قبضے میں ہیں، جبکہ اہل فارس کا بادشاہ زندہ سلامت ان کے مابین موجود ہے اور جب تک وہ رہے گا، اہل فارس ہمارے ساتھ آمادۂ پیکار رہیں گے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک سرزمین میں دو بادشاہ اتفاق سے رہیں۔ ان میں سے ایک کو لازماً دوسرے کو نکالنا پڑے گا۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں اہل فارس کی بغاوتوں ہی کے نتیجے میں ایک کے بعد دوسرے علاقے پر قبضہ کرنا پڑا ہے اور ان تمام بغاوتوں کا سرچشمہ ان کا بادشاہ ہے۔ ان کا وتیرہ یہی رہے گا جب تک کہ آپ ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم ان کی مملکت میں گھس کر ان کے بادشاہ کو وہاں سے ہٹا دیں اور اس کی سلطنت اور سربلندی کی جگہ سے اس کو نکال دیں۔ اس صورت میں اہل فارس کی امیدیں ٹوٹ جائیں گی اور وہ پرسکون ہو جائیں گے۔‘‘‘‘ (۱۲۳)

اسی طرح حضرت عمر ممکنہ شورشوں اور بغاوتوں کے باوجود مصر، افریقہ اور ہندوستان پر حملہ آور ہونے سے گریزاں رہے۔ نیز ترکوں اور اہل حبشہ سے بھی جنگ کرنے سے اجتناب برتتے رہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے لڑنے میں پہل کرنے سے منع فرمایا تھا۔ مولانا عمار خان ناصر لکھتے ہیں:

’’مذکورہ پالیسی کی پابندی کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت اور بے لچک رویہ سیدنا عمر کا تھا اور ان کی نسبت سے اس کی معنویت اس تناظر میں بالخصوص دو چند ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض پیش گوئیوں کی بنا پر وہ اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ ان کی وفات سے مسلمانوں کی قوت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور ان کی قوت وشدت اندر کا رخ کر کے مسلمانوں کے باہمی قتل وقتال کی شکل اختیار کر لے گی۔ ایک موقع پر انھوں نے فرمایا:
واللّٰہ لا یفتح بعدی بلد فیکون فیہ کبیر نیل بل عسی ان یکون کلا علی المسلمین.(ابو یوسف، الخراج، ص ۲۶)
’’بخدا، میرے بعد کوئی علاقہ ایسا فتح نہیں ہوگا جس سے مسلمانوں کو کوئی بڑا فائدہ حاصل ہو، بلکہ الٹا اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے بوجھ بن جائے۔‘‘
... رومی اور فارسی سلطنتوں کے خلاف جنگ کی اجازت حاصل ہونے کے باوجود وہ ان کے تمام علاقوں پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کے پیش نظر اصلاً صرف شام اور عراق کے علاقے تھے اور وہ ان سے آگے بڑھنا نہیں چاہتے تھے۔‘‘ (۱۳۶)

اس سے ہم یہ نتیجہ نکالنے میں خود کو حق بجانب محسوس کرتے ہیں کہ حضرت عمر کے وقت تک وہ تمام علاقے مسلمانوں کے زیر نگیں آ گئے تھے، جہاں اتمام حجت کے نتیجے میں محکومی کی سزا کا نفاذ اللہ اور رسول کا منشا تھا۔ اس کے بعد جو علاقے فتح ہوئے، وہ سیاسی معاملات ہیں، ان کا اتمام حجت سے کوئی تعلق نہیں۔ اتمام حجت وہاں تک کارفرما تھا جہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کا پیغام اور سرگذشت اتمام حجت پوری وضاحت اور براہین کی اطلاع کے ساتھ پہنچ گئے تھے، اور آپ نے ان علاقوں کے سربراہوں کو خطوط لکھ کر انھیں براہ راست مخاطب بنا کر معاملہ اور بھی واضح کر دیا۔

قانون اتمام حجت اور ارتداد کی سزا

ارتداد کی سزا کو بھی قانون اتمام حجت کے تناظر ہی میں سمجھا جانا چاہیے۔ ارتداد کی سزا کا تعلق عقیدے سے ہے، اور عقیدہ دل کا معاملہ ہے اور دل کی حالت پر اطلاع خدا کے سوا کسی کو نہیں اورخدا کی طرف سے اس دنیا میں اس کی اطلاع پانا رسول کے علاوہ کسی اور کے لیے ممکن نہیں ہے۔ عہد رسالت میں کفر و شرک کو خدا کی طرف سے اس دنیا میں اس لیے سزا ملی تھی کہ رسول کے ذریعے سے ان پر اتمام حجت ہوا تھا اور سزا یافتہ قوم کے پاس انکار کا کوئی عذر نہیں رہ گیا تھا، بعینہٖ یہی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان مرتدین پر بھی لاگو ہوا تھا جو رسول کے اتمام حجت کے بعد، ایمان لا کر دوبارہ کفر و شرک کا ارتکاب کر بیٹھے تھے، چنانچہ انھیں بھی کفر و شرک کی وہی سزا ملی جو اس وقت کے کفار و مشرکین کے لیے مقرر کی گئی تھی، یعنی موت۔ جس طرح عہد رسالت کے بعد کفر و شرک پر قتل و محکومی کی سزا کا اطلاق اور تعمیم درست نہیں، اسی طرح ارتداد پر بھی اس سزا کا عمومی نفاذ درست نہ ہوگا۔ رسول اللہ کا ارشاد ’مَنْ بَدَّلَ دِینَہُ فَاقْتُلُوْہُ‘ (جو اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو) بھی اسی تناظر میں درست معلوم ہوتا ہے۔
جس طرح آج یہ طے نہیں ہو سکتا کہ کس غیر مسلم پر اتمام حجت ہو گیا ہے یا نہیں، کون جان بوجھ کر منکر ہے اور کون نا سمجھی کی وجہ سے انکار کر رہا ہے،اسی طرح یہ معلوم کرنے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ مرتد ہونے والے کے پاس اسلام چھوڑ دینے کا کوئی عذر محض بہانہ ہے یا وہ واقعی اسے کوئی عقلی تقاضا سمجھ رہا ہے۔
موت کو ارتداد کی عام سزا قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مرتد اگر موت کی سزا کے ڈر سے بظاہر مسلمان بن کر رہنے لگے تو قانون و معاشرہ اسے قبول کر لے، لیکن اگر دیانت داری سے اپنے منحرف عقیدے کا اظہار کر دے تو قتل کی سزا کا مستحق قرار پائے، یعنی منافق مسلم قبول ہوگا اور کھلم کھلا منکر ناقابلِ قبول۔ ایک منافق مسلم ایک مسلم سماج کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے یا ایک علانیہ غیر مسلم؟ عقیدہ دل کا معاملہ ہے، اس پر کوئی قانونی پابندی لگانا عقل و فہم کی رو سے بھی کوئی معقول بات معلوم نہیں ہوتی۔ آج کے مرتدین یا متشککین سے صرف مکالمہ ہی ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر دور جدید کے فلسفوں اور اہل مذہب کی طرف سے مذہب کے نام پر شدید بد اخلاقی، انتہا پسندانہ رویوں اور الحادی افکار کے شافی جوابات دینے کی قابلیت کے فقدان کی وجہ سے یہ آنکھوں دیکھی حقیقت ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے دین کا تعارف ایسے ہی لوگ بن گئے ہیں اور دین سے ان کی رو گردانی کا سبب بھی۔ ایسے میں مذہب بے زار طبقے کو مرتد قرار دے کر ان کی موت کے فتاویٰ صادر کرنا نہ تو دین کا تقاضا ہے اور نہ دین کی کوئی خدمت، بلکہ دین کے نام پر مزید خرابی پیدا کرنے کا سبب ہے۔ البتہ ارتداد کو اگر منفی انداز کا پراپیگنڈا بنا لیا جائے یا دین کے معاملے میں تضحیک اور تحقیر کے رویے اپنا لیے جائیں تو اس صورت میں یہ معاملہ فساد فی الارض کے زمرے میں دیکھا جا سکتا ہے اور ایک مسلم حکومت اس کو اسی جرم کے تناظر میں برت سکتی ہے۔
یہاں یہ بھی واضح ہو جانا چاہیے کہ مذکورہ بالا حدیث رسول کے الفاظ (مَنْ بَدَّلَ دِینَہُ فَاقْتُلُوْہُ، جو اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو)میں، ’مَنْ‘، یعنی ’جو‘کے لفظ کے لفظاً مطلق ہونے سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے، یعنی یہ سمجھنا کہ قیامت تک جو بھی شخص اسلام سے منحرف ہو، وہ اس سزا کا مصداق ہے، محض زبان کے عام اور معروف فہم کی بنا پر بھی درست نہیں ہے۔ منطقیانہ اصولی مباحث سے قطع نظر، اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو کلام جب بھی صادرہوتا ہے تو چاہے وہ مطلق ہی کیوں نہ ہو، اپنے عقلی مقیدات مضمر طور پرساتھ رکھتا ہے جو بدیہی طور پر سمجھ آ جاتے ہیں۔ مثلاً اگر میں اپنے طلبہ سے یہ کہوں کہ جو طالب علم کل کلاس میں نہیں آئے گا، اسے جرمانہ ہوگا، لیکن ایک طالب علم کو کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے تو کیا یہ جرمانہ اس پر بھی لاگو ہوگا؟ یقیناً نہیں۔ لیکن یہ استثنا کیسے سمجھا گیا، جب کہ الفاظ میں کوئی استثنا نہیں؟ اسی طرح اس جملے میں ’’جو طالب علم‘‘ سے مراد صرف اس کلاس کے طلبہ مراد لینے میں بھی کوئی غلط فہمی نہیں ہوتی، یعنی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہاں ساری دنیا کے قیامت تک کے طلبہ مراد لیے جا سکتے ہیں، حالاں کہ الفاظ یہاں بھی عام ہیں۔ یہ کس بنا پر سمجھا گیا؟ زبان کے معروف فہم کے مطابق۔ گویا کلام محض منطقی اصولوں سے نہیں انسانی زبان کے معروف اسالیب اور فہم کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتدین کے قتل کا یہ حکم دیا تو آپ کے سامنے وہ لوگ موجود تھے جن پر آپ نے اتمام حجت کر دیا تھا اور ان کی موت کا اعلان خدا کر چکا تھا۔ چنانچہ مطلق ہونے کے باوجود آپ کے الفاظ تخصیص کے حامل سمجھے جائیں گے۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ ارتداد پر موت کی سزا کا یہ حکم ابدی تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عام قانون کا بیان فرما رہے تھے، زبان کے عام اور معروف فہم اور اسلام کے بنیادی اصول ’لا إکراہ في الدین‘ (دین میں کوئی جبر نہیں)کے خلاف ہوگا۔
مولانا مودودی نے ارتداد کے مسئلے کو بھی دین کے بارے میں اپنے خاص نقطۂ نظر، یعنی حاکمیت اسلام کے تناظر میں دیکھا ہے۔ آپ نے دین کو ریاست کے مترادف قرار دے کر ارتداد کو دین سے بغاوت اور سرکشی قرار دیا ہے کہ چونکہ بغاوت کی سزا ریاست کے قانون کے لحاظ سے بھی موت ہوتی ہے، اس لیے اسلام میں ارتداد کی سزا کا موت ہونا درست ہے۔
اس پر عرض ہے کہ ارتداد کو بغاوت سمجھنا ہی غلط ہے۔ ہم ریاست کی مثال ہی لیتے ہیں۔ ایک شخص اگر ریاست کے خلاف کھڑا ہو جائے تو یہ بغاوت ہے، لیکن اگر وہ اپنا ملک چھوڑ کر چلا جائے، مزید یہ کہ اپنی شہریت بھی ترک کر دے تو اسے باغی نہیں کہا جاتا۔ چنانچہ کوئی شخص اگر اسلام ترک کر دیتا ہے تو اس کو بغاوت نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم، ارتداد اگر اسلام کے خلاف منفی پراپیگنڈا، تضحیک و تحقیر کا ذریعہ بنا لیا گیا ہو تو وہ الگ جرم ہے۔ اسے فساد شمار کیا جا سکتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ مرتد ہونے والا دوسرے مسلمانوں کے لیے ارتداد کی دعوت بن جاتا ہے، اس لیے اس کا قتل کرنا درست ہے تو یہ بات بھی سماجی رویوں کے مطابق درست نہیں۔ کوئی مرتد اگر موت کے ڈر سے بھی اپنے ارتداد سے نہ پھرے، اپنے مزعومہ عقیدے یا نظریے پر جان دے دے، تو یہ الٹا اس کی استقامت کی دلیل بن جائے گی اور یہ دوسروں کے لیے اور بھی متاثر کن ہوگی۔

قانون اتمام حجت کی تعمیم کیوں نہیں ہو سکتی؟

سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح صحابہ نے اتمامِ حجت کے قانون کو جزیرۂ عرب سے باہر روم و ایران پر لاگو کیا، کیا ان کے بعد آنے والے عام مسلمانوں یا خود بنی اسمٰعیل کے لیے بھی اس قانون پر عمل کرتے ہوئے غیر مسلم ریاستوں کے خلاف اقدامی جنگ کوئی مذہبی فریضہ یا داعیہ قرار پاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اتمام حجت اپنی نوعیت میں خاص ہے، کیونکہ اس کے لیے رسول کی موجودگی میں اتمام حجت ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ اس قانون پر مرتب ہونے والے احکام بھی خاص تھے اور ان کا اطلاق بھی خاص تھا۔ ان کی عمومیت کی کوئی دلیل موجود نہیں، اس لیے اس قانون کی تعمیم نہیں ہو سکتی۔ اسی بنا پر عام مسلمان، بلکہ بنی اسمٰعیل بھی دین کے نام پر کسی دوسری ریاست کے خلاف اقدامی جہاد نہیں کر سکتے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت ہمارے لیے نمونۂ عمل کی ہے، یعنی دین کے وہ احکام جن کی نوعیت ابدی تھی، اس میں آپ کی سنت اور سیرت ہمارے لیے نمونۂ عمل ہیں۔ لیکن آپ کے ساتھ جو حالات بیتے، خدا نے جس طرح آپ کی خاص مدد فرمائی اور اپنے قانون کے مطابق غلبہ دیا، وہ ہمارے لیے سرگذشت کی حیثیت رکھتے ہیں، جس کا مقصد تذکیر اور انذار ہے، بالکل ایسے ہی جیسے دیگر رسولوں کی سرگذشت ہم قرآن میں پڑھتے ہیں، لیکن بعینہٖ اس پر عمل نہیں کر سکتے، لیکن اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔
اس بات کو یوں سمجھیے کہ جس طرح آپ کسی بڑی شخصیت کی سوانح کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ کو اس میں اپنی زندگی کے لیے رہنمائی اور بصیرت تو مل رہی ہوتی ہے، لیکن ان تمام باتوں پر بعینہٖ عمل کرنا نہیں ہوتا۔ اسی طرح قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرگذشت ہے۔ اس سرگذشت میں وہ ہدایات جو پیغمبروں اور ان کے ساتھیوں کو اپنے خاص حالات کے تحت ملیں، ان کا مقصد ہمارے لیے تنبیہ، تذکیر اور خدا کی نشانیوں کا سامان مہیا کرنا ہے، مثلاً کسی رسول اور اس کے ساتھیوں کی سرگذشت میں بیان کردہ حالات جیسے حالات پیش آ جائیں تو ہمیں ان جیسا رویہ اور عمل اپنانا چاہیے، ان سرگذشتوں سے عمومی احکامات کا صدور نہیں ہو رہا ہوتا۔ ہمیں ایک داستان سنائی گئی ہے، کوئی ضابطۂ عمل بیان نہیں کیا گیا۔
احکامات کی عمومیت اور خصوصیت ان کے سبب یا علت کے عام یا خاص ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مثلاً ایمان کی دعوت قبول کرنا اور خدا کی عبادت کے احکام اپنی نوعیت میں عمومیت کے حامل ہیں، کیونکہ خدا نے جن و انس کو اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ لیکن اتمام حجت کا قانون اور اس پر متفرع ہونے والے احکام کی تعمیم نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس کا سبب یا علت، یعنی رسول کی موجودگی میں اتمام حجت، خاص ہے، عام نہیں۔
دوسری بات یہ کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ عہد رسالت کے بعد انکارِ حق پر قائم منکر اقوام پر کوئی دنیوی عذاب نازل نہیں ہوا۔ ان پر بھی زوال اگر آیا ہے تو ویسے ہی جیسے کسی بھی قوم پر زوال کے عام اسباب کی بنا پر آتا ہے۔ آج کی بعض منکرین حق اقوام کو ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے علم و عقل کی بنیاد پر ترقی اور خوش حالی کی منزلوں پر منزلیں طے کرتی جاتی ہیں، اسی طرح، اب مومنین کے لیے بھی فتح و نصرت کے وعدے بھی اسی ضمانت، تیقن اور قوت کے ساتھ پورے نہیں ہوتے، جیسا کہ وہ صحابہ کے لیے پورے ہوئے تھے، مثلاً صحابہ سے کیے جانے والے یہ وعدے دیکھیے:

وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ.(آل عمران ۳: ۱۳۹)
’’اور (جو نقصان تمھیں پہنچا ہے، اُس سے)بے حوصلہ نہ ہو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو غلبہ بالآخر تمھیں ہی حاصل ہو گا۔‘‘
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ.(محمد ۴۷: ۷)
’’ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور (اِن دشمنوں کے مقابلے میں) تمھارے پاؤں جما دے گا۔‘‘

ہم جانتے ہیں کہ مسلم تاریخ میں بہت سی مسلم عسکری تحریکیں اٹھیں، لیکن وہ سب شکست و ناکامی سے دو چار ہوئیں۔ ان میں سے ہر تحریک، قرآن مجید میں بیان کردہ صحابہ کو دی جانے والی فتح و نصرت کی بشارتوں کو اپنے لیے بھی باور کرتی رہی، لیکن ان کو کامیابی نہیں ملی۔ ان میں سے بہت سی ایسی تحریکیں تھیں، جن کے اخلاص، تقویٰ، للٰہیت اور قربانیوں پر کوئی انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی، اس کے باوجود وہ ناکام ہوئیں۔ یہ سب یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرآن مجید کی بیان کردہ سرگذشتوں کا مطلب یہ نہیں تھا کہ قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے تناظر میں فتح و نصرت اور عذاب و عقاب کے وعدے اور وعیدیں قیامت تک کے مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کے لیے کوئی ضابطہ قرار پائے ہیں۔ قرآنی نصوص کا درست فہم اور تاریخی حقائق سب اس غلط فہمی کے ابطال میں ناقابل تردید برہان کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔

قانون اتمام حجت کو تسلیم نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟

اگر یہ سب ایسا نہیں، جیسا کہ قانون اتمام حجت کی روشنی میں ہم نے بیان کیا ہے تو قرآن مجید کے بہت سے احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی سیاسی اور جنگی حکمت عملی پر بہت سے سوال کھڑے ہو جاتے ہیں جن کا کوئی شافی جواب دینا ممکن نظر نہیں آتا۔ مثلاً:
i۔ تمام رسولوں کے منکرین اسی دنیا میں ختم کر دیے گئے۔ اس استیصال کو خدا نے اپنی سنت کہا ہے، اور کہا ہے کہ خدا کی یہ سنت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ پھر پورے قرآن میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کو اسی دنیوی عذاب سے بار بار ڈرایا گیا۔ پھر صحابہ سے کہا گیا کہ وہ عذاب تمھارے ہاتھوں سے نازل ہوگا۔ اب اگر صحابہ کی تلواروں سے آنے والا عذاب وہ عذاب نہیں تھا جو رسولوں کے منکرین پر اسی دنیا میں آتا تھا تو بتایا جائے کہ خدا کی یہ غیر متبدل سنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کے حق میں کیسے بدل گئی، وہ دنیوی عذاب ان منکرین پر کیوں نہ آیا؟
ii۔ اگر صحابہ کی تلواروں سے آنے والا عذاب وہی عذاب تھا جو رسولوں کے براہ راست منکرین حق پر آتا تھا تو یہ عذاب خاص سنن الٰہیہ میں سے تھا، تو جس طرح گذشتہ دنیوی عذاب اپنے زمان و مکان کے ساتھ مخصوص تھے، یہ عذاب بھی اپنے مکان و زمان کے ساتھ مخصوص ہونا چاہیے۔ لیکن اس عذاب کو بیان شریعت کس بنیاد پر سمجھ لیا گیا اور اس کی تعمیم کس دلیل سے کی گئی؟
iii۔ صحابہ کس بنیاد پر عرب کے مشرکین کو اسلام اور تلوار کے علاوہ کوئی اور انتخاب نہیں دیتے تھے، جب کہ قرآن مجید کہتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ جو ایمان لانا چاہے، لائے، جو کافر ہونا چاہے ہو جائے۔ ان کا حساب آخرت میں کیا جائے گا:

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا اَحَاطَ بِھِمْ سُرَادِقُھَا وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ بِئۡسَ الشَّرَابُ وَسَآءَ تْ مُرْتَفَقًا.(الکہف ۱۸: ۲۹)
’’اِن سے کہو، تمھارے پروردگار کی طرف سے یہی حق ہے۔ سو جس کا جی چاہے، ایمان لائے اور جس کا جی چاہے، انکار کر دے۔ ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کے سراپردے اُن کو اپنے گھیرے میں لے لیں گے۔ اگر وہ پانی کے لیے فریاد کریں گے تو اُن کی فریاد رسی اُس پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو گا۔ وہ چہروں کو بھون ڈالے گا۔ کیا ہی برا پانی ہو گا اور کیا ہی برا ٹھکانا!‘‘

iv۔ کیا وجہ ہے کہ اہل کتاب کو تو جارحیت سے باز آ جانے پر محکومی کے ساتھ جزیرۂ عرب میں رہنے کی اجازت دے دی گئی، لیکن مشرکین عرب کو یہ انتخاب نہیں دیا گیا، ان کے لیے جزیرۂ عرب میں رہنے کی صورت میں تلوار یا اسلام کے علاوہ تیسرا انتخاب کیوں نہ تھا؟
v۔ کیا وجہ ہے کہ ایک طرف قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتا ہے کہ آپ کو ان منکرین پر داروغہ نہیں بنایا گیا کہ ان سے منوا کر ہی چھوڑیں اور دوسری طرف کہتا ہے کہ ان کفار سے اس وقت تک برابر قتال کیے جاؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور نماز قائم کر کے اور زکوۃ ادا کر کے اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت نہ دے دیں؟
vi۔ کیا وجہ تھی کہ صحابہ اس وقت بھی جنگ سے واپس نہ ہوئے جب رومی و ایرانی سرداروں نے انھیں صلح کی پیش کش کی؟ جب کہ قرآن کہتا ہے کہ اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہوں تو ان سے صلح کر لو۔
vii۔ اگر صحابہ کی جنگ کشور کشائی یا مخالف جارح طاقتوں کی بیخ کنی کے لیے تھی تو وہ اس وقت جنگ سے کیوں رکنا چاہ رہے تھے جب جنگی تقاضوں اور جارحیت کے خاتمے کے لیے جنگ جاری رکھنا ضروری تھا، اس وقت وہ مخصوص سرحدوں تک محدود کیوں رہنا چاہ رہے تھے؟
viii۔ اگر صحابہ نے روم و ایران پر جنگی مہمات اتمامِ حجت کے قانون کے تحت نہیں کیں تو روم و ایران کے محکوموں پر وہی سزا کیوں نافذ کی گئی جو عرب کے اہل کتاب پر نافذ کی گئی؟
ix۔ قرآن مجید ایک جگہ کہتا ہے کہ کفار اگر صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کر لو، اور دوسری طرف کہتا ہے کہ کفار کے ساتھ تمام معاہدات ختم کر دو، بلکہ جنھوں نے معاہدات کے دوران کوئی خلاف ورزی نہیں کی، ان کے معاہدات کی مدت مکمل کرنے کے بعد ان سے آیندہ کے لیے کوئی معاہدہ بھی نہ کرو، اور پھر ان کے ساتھ بھی قتال کرو؟ اگر یہ کہا جائے کہ یہ مختلف حالتوں کے احکام ہیں۔ مسلمان اگر کمزور ہوں یا مسلمانوں کی سیاسی مصلحت کا تقاضا ہو تو صلح کر لی جائے، ورنہ اصل قتال ہی ہے، تو کیا وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کے ساتھ سن ۶ ہجری میں اس وقت صلح کی جب آپ سیاسی اور عسکری لحاظ سے ان سے طاقت ور ہو چکے تھے، اور اسی وجہ سے حضرت عمر سمیت دیگر مسلمانوں کو دب کر صلح کرنا کھِل رہا تھا۔
x۔ فقہا نے کس بنا پر یہ ضروری سمجھا ہے کہ دین و ایمان کی دعوت سے پہلے کسی قوم پر جنگ مسلط نہیں کی جا سکتی؟
فقہا نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی عسکری مہمات کے لیے، بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے بھی اقدامی جنگوں کا جواز اسی قانون کی تعمیم کی رو سے مہیا کرتے ہیں۔ یعنی جب فقہ میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ صحابہ نے روم و ایران کو پہلے دعوت اسلام دی، جس کے انکار پر ان پر جنگ مسلط کر دی گئی، اور صحابہ نے کفر یا شوکت کفر توڑنے کے لیے یہ اقدام کیا تو درحقیقت یہ اتمام حجت کے قانون ہی کا بیان ہے۔ بلکہ اسی بنیاد پر ایک عام مسلم ریاست کے لیے بھی اقدامی جنگ کا جواز مہیا کیا جاتا ہے۔ ابن رشد لکھتے ہیں:

فَأَمَّا شَرْطُ الْحَرْبِ فَہُوَ بُلُوْغُ الدَّعْوَۃِ بِاتِّفَاقٍ، أَعْنِي أَنَّہُ لَا یَجُوْزُ حِرَابَتُہُمْ حَتّٰی یَکُوْنُوْا قَدْ بَلَغَتْہُمُ الدَّعْوَۃُ، وَذٰلِکَ شَيْءٌ مُجْمَعٌ عَلَیْہِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ؛ لِقَوْلِہِ تَعَالٰی: (وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا) (الإسراء:۱۵).(بدایہ المجتھد، ۲/ ۱۴۹)
’’اس پر اتفاق ہے کہ جنگ کی شرط ابلاغِ دعوت ہے۔ یعنی یہ دعوت جب تک ان غیر مسلموں تک پہنچ نہ جائے ان سے جنگ کرنا جائز نہیں۔ اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے۔‘‘‘‘

قانون اتمام حجت کو بہ نظر غائر نہ دیکھنے کی وجہ سے یہ باور کرنا پڑتا ہے کہ دین اسلام کی محض خبر پہنچا دینے سے اتمام حجت ہو جاتا ہے اور ایک مسلم ریاست کو غیر مسلموں پر جنگ مسلط کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ اس تعبیر کی غیر معقولیت عیاں ہے اور بڑے خلجان کا باعث بھی ہے، لیکن اس ساری صورتِ حال کو ہمارے بیان کردہ قانون اتمام حجت کی روشنی میں سمجھا جائے تو تمام اشکالات حل ہو جاتے ہیں۔ ہم نے جن دلائل کی بنا پر قانون اتمام حجت بیان کیا ہے، اس کی رو سے ایسے تمام اقدامات کا جواز اور مصداق زمان و مکان کے مخصوص دائرے میں متعین ہو جاتا ہے اور یہ طے ہو جاتا ہے کہ اس قانون سے متعلق احکامات شرعی اور ابدی نوعیت کے نہیں تھے، البتہ اس سے حاصل ہونے والی عبرت عام اور ابدی ہے۔

حرف آخر

ان معروضات کی روشنی میں قانونِ اتمامِ حجت پر وارد کیے گئے اب تک کے تمام نمایاں اعتراضات اور اشکالات کے جوابات ہمارے فہم کے مطابق بہ خوبی حاصل ہو جاتے ہیں۔ تاہم انسانی علم و فہم خطا سے مبرا نہیں ۔ اہل علم سے گزارش ہے کہ راقم کے اس سارے بیان میں جو کمی، کوتاہی یا غلطی پائیں نشان دہی فرما کر ممنون فرمائیں۔ جزاکم اللہ۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List