Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

عرفان شہزاد Profile

عرفان شہزاد

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۱) | اشراق
Font size +/-

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۱)

ڈاکٹر عرفان شہزاد

تمہید و تعارف

عدل الٰہی کی فطری اساسات

ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا نے انسان کو عقل و ارادہ کی صلاحیتیں دے کر اس دنیا کے دار الامتحان میں بھیجا ہے اور ہمارے ایمان و عمل کی بنیاد پر خدا آخرت میں ہمارے اعمال کا حساب لے گا اور اپنے علم و عدل کی روشنی میں سزا و جزا کے فیصلے کرے گا۔

خدا نے ہمیں اپنا تعارف ایک عادل خدا کی حیثیت سے کرایا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ.(النساء ۴: ۴۰)

’’اللہ کسی کی ذرہ برابر حق تلفی نہ کرے گا۔‘‘

تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ.(آل عمران۳: ۱۰۸)

’’یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمھیں ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں، اور (اِس لیے سنا رہے ہیں کہ)اللہ نہیں چاہتا کہ وہ دنیا والوں پر کوئی ظلم کرے۔‘‘

فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰہُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ.(آل عمران۳: ۲۵)

’’لیکن کیا بنے گی اُس وقت جب اِن کو ہم ایک ایسے دن کی پیشی کے لیے اکٹھا کریں گے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں اور جس میں ہر شخص کی کمائی کا پورا بدلہ اُسے دے دیا جائے گا اور کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا۔‘‘

فطرتِ انسانی فطرت الٰہی کا پرتو ہے:

فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا.(الروم۳۰: ۳۰)

’’تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کرو، جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘

چنانچہ عدلِ الٰہی کے اساسات وہی ہیں جن کا شعور فطرتِ انسانی میں ودیعت کیا گیا ہے۔اگر انسان عدل سے فطری طورپر واقف نہ ہو تو عدل کے موضوع پر اس کے اور خدا کے درمیان کوئی مشترک بنیاد نہیں رہتی جس کی بنا پر اسے اس کی کوتاہیوں پر مورد الزام ٹھہرایا جا سکے۔ انسانی فطرت عدل سے واقف ہے، یہی وجہ ہے کہ خدا انسان کو اپنے افعال کا مبنی بر عدل ہونا باور کراتا ہے، ورنہ خدا اگر چاہتا تو اپنی کتاب میں اپنے فیصلوں کو محض اپنا منشا قرار دے سکتا تھا اور کسی کو پوچھنے کا حق بھی نہ ہوتا، لیکن خدا یہ بھی چاہتا تھا کہ اس کا بندہ اس کی عظمت اور قدرت کے آگے محض سرنگوں نہ ہو، بلکہ اس کی محبت سے سرشار بھی ہو۔ انسان کو عقل دے کر اس سے توقع کرنا کہ وہ خدا کے افعال اور فیصلوں کے بارے میں کوئی راے قائم نہ کرے، ممکن نہیں ہے۔ ضروری تھا کہ انسان، خدا کی ودیعت کردہ عقل و فطرت کے اساسات کے مطابق خدا کے فیصلوں اور ضوابط کا مبنی بر عدل ہونا سمجھ سکے تاکہ خدائے عادل سے محبت بھی کر سکے۔

ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ.(آل عمران ۳: ۱۸۲)

’’یہ اُسی کا بدلہ ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیجا تھا اور یہ کہ اللہ اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔‘‘

ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَاَہْلُہَا غٰفِلُوْنَ.(الانعام۶: ۱۳۱)

’’(ہم نے) یہ (پیغمبر)اِسی لیے (بھیجے تھے) کہ تمھارا پروردگار بستیوں کو اُن کے ظلم کی پاداش میں ہلاک کرنے والا نہیں ہے، جب کہ اُن کے باشندے (حقیقت سے) بے خبر ہوں۔‘‘

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ.(الانفال ۸: ۵۳)

’’یہ اِس وجہ سے ہوا کہ اللہ کسی نعمت کو جو اُس نے کسی قوم کو عطا کی ہو، اُس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ اپنے آپ میں تبدیلی نہ کریں۔ (نیز)اِس وجہ سے کہ اللہ سمیع و علیم ہے۔‘‘

دنیا کی محدودیت میں خدا کے عدلِ کامل کا کامل ظہور ممکن نہیں۔ بعض اوقات مجرم یہاں بچ جاتے ہیں اور معصوم کے ساتھ زیادتی ہو جاتی ہے۔ خدا کے عدل کا تقاضا تھا کہ دنیا کی آزمایش گاہ کے ادھورے انصاف کا فیصلہ کاملیت سے کیا جائے،ایسا صرف آخرت کی لامحدودیت ہی میں ممکن تھا، جس میں خدا کاعدل اپنی کامل صورت میں ظاہر ہوگا۔ تاہم، اس نے چاہا کہ آخرت کے عدل کا ایک نمونہ دنیا کے محدود امکانات میں بھی انسانوں کے سامنے لایا جائے تاکہ آخرت کے عدل اور سزا و جزا کا یقین بھی آ جائے اور اس کی تیاری کی طرف انسان سنجیدگی سے متوجہ بھی ہو سکے۔ یہ کام اس نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے ان کے مخاطبین پر اسی دنیا میں اتمامِ حجت کر کے انجام دیا۔ اس اجمال کی تفصیل آگے کے بیانات میں آتی ہے۔

اتمام حجت کی تین صورتیں

عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ خدا کی طرف سے جزا و سزا کے لیے ایمان ا ور اخلاق کے باب میں خدا کی طرف سے انسان پر اتمام حجت ہو تاکہ وہ خدا کے سامنے کوئی عذر پیش نہ کر سکے کہ اسے تو خبر ہی نہیں تھی۔ یعنی حق اس پر واضح ہو جائے اور اس کے پاس اپنی بے خبری اور ناسمجھی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔

اس دنیا میں انسان پر اتمام حجت ایک تو انسان کی عقل و فطرت اور انفس و آفاق کی گواہی کی صورت میں ہوتا ہے، یعنی وہ اپنی فطرت میں ایک خدا کا تصور گندھا ہوا پاتا ہے، اس کی عقل اس کائنات کے مشاہدے کے بعد اسی کی تصدیق پر خود کو مجبور پاتی ہے۔ذرہ ذرہ ایک خداکے ہونے کی نشانی بن کر اس طرح اس کے سامنے آتا ہے کہ عقل سلیم کے لیے توحید کے اقرار کے سوا کوئی انتخاب نہیں بچتا۔

اتمام حجت کی دوسری صورت میں خدا کا رسول براہ راست خداکی طرف سے وحی لے کر آتا ہے اور لوگوں کے سامنے حق کو آخری درجے میں واضح کر دیتا ہے کہ مخاطبین کے پاس انکار کے لیے کوئی معقول عذر نہیں رہتا۔یہ دنیا میں اتمام حجت کی کامل ترین صورت ہے۔

تیسری صورت میں اتمام حجت اسی وحی کے ذریعے سے بالواسطہ طور پرہوتا ہے، یعنی وحی کو مصحف میں پڑھ کر، اس میں موجود دلائل کی بنیاد پر اتمام حجت۔

وحی بھی اصل میں کرتی یہی ہے کہ انسان کو اس کے شعور میں موجود خدا کی فطری آگاہی اور انفس و آفاق میں موجود خدا کی نشانیوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ایک قدم آگے بڑھ کر وحی، آخرت کے وقوع کی یقین دہانی بھی کراتی ہے، جو عقل کے لیے ایک موہوم خیال ہوتا ہے، یوں ایمان کے مقدمے کو مزید موکد کر دیتی ہے۔ چنانچہ وحی کے ذریعے اتمام حجت ایک درجہ آگے بڑھ کر مکمل ہوتا ہے، اور جب رسول کے ذریعے سے براہ راست ہوتا ہے تو آخری درجے میں مکمل ہو جاتا ہے۔

اتمام حجت کے ان تینوں درجات میں کاملیت کے لحاظ سے فرق ہے۔عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ اتمام حجت کی ان تینوں اقسام کے مخاطبین کے معاملے میں جزا اور سزا میں بھی فرق ہونا چاہیے۔ یعنی جن لوگوں کو کسی رسول سے ایمان کی دعوت، براہ راست طور پر اپنے تمام دلائل، براہین اور معجزات وغیرہ کے ذریعے سے کامل طریقے سے ملی، ان کو رسول کی موجودگی میں خدا کی محسوس نشانیاں دیکھنے، سننے، سمجھنے اور اپنے شبہات اور اعتراضات کے جواب حاصل کرنے کا پورا موقع ملا ہو، انھوں نے نبی اور رسول کی پیشین گوئیوں کو پورا ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو، اور ان کے پاس انکار کے لیے کوئی عذر نہ رہ گیا ہو، ایسے لوگوں کا احتساب، یقیناًان لوگوں سے کڑا ہونا چاہیے جو وحی اور رسول سے مطلقًا بے خبر رہے اور ان سے ایمان کا تقاضا محض فطرت کی پکار اور کائنات کی گواہی پر لبیک کہنے تک محدود رہا، اور دوسرے وہ جنھیں محض رسول اور وحی کی خبر سن اور پڑھ کر اور دلائل کی بنیاد پر ایمان لانے کو کہا گیا، انھیں رسول کی صورت میں خدا کی قدرت کی زندہ نشانیوں کا مشاہدہ کر کے ایمان لانے کی کیفیت حاصل نہ ہو سکی۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت میں پائے جانے والے عدل کے ان بدیہی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے، خدا نے ان تینوں اقسام کے معاملات میں احتساب کا معاملہ مختلف رکھا ہے۔

وحی سے بے خبر، پہلی قسم کے لوگ،محض عقل و فطرت کی گواہی پر خدا پر اجمالی ایمان لانے کے مکلف ہیں، لیکن کیا یہ گواہی ایمان و اخلاق کے باب میں انسان کوخدا کے ہاں مواخذہ کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے کافی ہے؟ قرآن اس کا جواب اثبات میں دیتا ہے اور یہی قرین انصاف ہے:

وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ م بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَآٰی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَھِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غٰفِلِیْنَ اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْ م بَعْدِھِمْ اَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ. (الاعراف۷: ۱۷۲۔ ۱۷۳)

’’(اے پیغمبر، اِنھیں وہ وقت بھی یاد دلاؤ)، جب تمھارے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے اُن کی نسل کو نکالا اور اُنھیں خود اُن کے اوپر گواہ ٹھیرایا تھا۔ (اُس نے پوچھا تھا): کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ اُنھوں نے جواب دیا: ہاں، (آپ ہی ہمارے رب ہیں)، ہم اِس کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اِس لیے کیا کہ قیامت کے دن تم کہیں یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اِس بات سے بے خبر ہی رہے۔ یا اپنا یہ عذر پیش کرو کہ شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے پہلے سے کر رکھی تھی اور ہم بعد کو اُن کی اولاد ہوئے ہیں، پھر کیا آپ اِن غلط کاروں کے عمل کی پاداش میں ہمیں ہلاک کریں گے؟‘‘

جناب جاوید احمد غامدی، ’’البیان‘‘ میں آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’...جہاں تک توحید اور بدیہیات فطرت کا تعلق ہے، اُن کے بارے میں مجرد اِس اقرار کی بنا پر بنی آدم کا مواخذہ کیا جائے گا۔ اُن سے انحراف کے لیے کسی کا یہ عذر خدا کے ہاں مسموع نہیں ہو گا کہ اُسے کسی نبی کی دعوت نہیں پہنچی یا اُس نے یہ انحراف خارجی اثرات کے نتیجے میں اختیار کیا تھا اور اِس کے ذمہ دار اُس کے باپ دادا اور اُس کا ماحول ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ انسان کے باطن کی یہ شہادت ایسی قطعی ہے کہ ہر شخص مجرد اِس شہادت کی بنا پر اللہ کے حضور میں جواب دہ ہے۔‘‘ (۲/ ۲۴۲)

یہ عقل و فطرت کی طرف سے اتمام حجت ہے، اس پر مواخذہ آخرت میں ہوگا۔ یہی خدا کا بیان کردہ ضابطہ ہے۔

دوسرے وہ جن پر اتمام حجت بالواسطہ ہوا، یعنی جن پر وحی کی خبر سن کر اور وحی کو مصحف میں پڑھ کر اور دلائل کی روشنی میں اتمام حجت ہوا، ان کا احتساب بھی آخرت پر موقوف رکھا گیا ہے، خوب کاروں کو تو صلہ ملے گا ہی،البتہ ناسمجھی اور کوتاہیوں پر انھیں عذر خواہی کا موقع بھی ملے گا، یہ اعذار جس حد تک قابل قبول ہوں گے اتنی رعایت ملے گی، ورنہ ہر ایک کے احوال کے مطابق اس کی سزا ملے گی۔

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ. (الزلزال ۹۹: ۶۔۸)

’’اُس دن لوگ الگ الگ نکلیں گے، اِس لیے کہ اُن کے اعمال اُنھیں دکھائے جائیں۔ پھر جس نے ذرہ برابر بھلائی کی ہے، وہ بھی اُسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے، وہ بھی اُسے دیکھ لے گا۔‘‘

اس کے برعکس خدا کے رسول کی طرف سے براہ راست اتمام حجت کے نتیجے میں براہ راست منکرین اور مومنین کے احتساب کا معاملہ اتنا سخت کر دیا گیا کہ اسے آخرت پر بھی موقوف نہیں رکھا گیا، اسی دنیا میں ان کی عدالت لگا دی گئی، منکرین کی سزا اور مومنین کی جزا کا آغاز اسی دنیا سے کر دیا گیا:

لَہُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَقُّ وَمَا لَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ.(الرعد ۱۳: ۳۴)

’’اُن کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو اِس سے کہیں سخت ہے اور اُنھیں کوئی اللہ سے بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘

تاہم، یہ صرف ایک نمونہ تھا، سزا و جزا کا کامل ظہور بہرحال آخرت ہی ہے۔ چنانچہ رسول کے ان براہ راست منکرین کو دہری سزا کی وعیدیں سنائی گئیں:

فَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَاُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ.(آل عمران۳: ۵۶)

’’پھر یہی نہیں، اِن منکروں کو میں دنیا اور آخرت، دونوں میں سخت سزا دوں گا، اور وہ کوئی مددگار نہ پائیں گے۔‘‘

اس کے مقابلے میں رسول کے براہ راست مخاطبین میں سے اس پر ایمان لانے والوں اور اس کے لیے جان و مال قربان کرنے کا حوصلہ کر لینے والوں کے لیے بھی دہرے اجر کا فیصلہ سنایا گیا:

وَمَنْ یُّہَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْ م بَیْتِہِ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا.(النساء ۴: ۱۰۰)

’’(یہ لوگ گھروں سے نکلیں اور مطمئن رہیں کہ)جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں پناہ کے لیے بڑے ٹھکانے اور بڑی گنجایش پائے گا۔ اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اُس کے رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے، پھر اُسے موت آجائے تو اُس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہوگیا اور اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

انھیں آخرت کے اجر کے علاوہ دنیا میں عذاب سے نجات، مالی خوش حالی اور مناسب افرادی قوت کی صورت میں سیاسی غلبے کی بشارتیں سنائی گئیں۔ یعنی، ان کے لیے انعامات کا سلسلہ بھی دنیا ہی سے شروع کر دیا گیا، جس کا کامل ظہور قیامت میں ہوگا۔ مثلاً پہلے رسول، نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے ایمان لانے کی صورت میں مالی خوش حالی اور سیاسی طاقت کے حصول کا وعدہ فرمایا:

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُم مِّدْرَارًا وَّیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْہَارًا.(النوح۷۱: ۱۰۔۱۲)

’’اِس طرح کہ میں نے کہا: اپنے رب سے معافی مانگ لو۔ بے شک، وہ بڑا معاف کر دینے والا ہے۔ (اِس کے نتیجے میں)وہ تم پر چھاجوں مینہ برسائے گا۔ اور مال و اولاد سے تم کو برکت دے گا اور تمھارے لیے باغ اگائے گا اور تمھارے لیے نہریں بہا دے گا۔‘‘

اور آخری رسول، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم، بنی اسماعیل سے فتح و نصرت اور سیاسی غلبہ و استیلا کے وعدے کیے گئے:

وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ.(آل عمران ۳: ۱۳۹)

’’اور (جو نقصان تمھیں پہنچا ہے، اُس سے)بے حوصلہ نہ ہو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو غلبہ بالآخر تمھیں ہی حاصل ہو گا۔‘‘

لَنْ یَضُرُّوْکُمْ اِلَّآ اَذًی وَاِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ.(آل عمران۳: ۱۱۱)

’’یہ تمھیں کچھ اذیت دے سکتے ہیں، اِس کے سوا یہ تم کو ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اور (مطمئن رہو کہ)اگر یہ تم سے لڑیں گے تو لازماً پیٹھ دکھائیں گے۔ پھر اِن کو کہیں سے کوئی مدد نہ ملے گی۔‘‘

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِنْ م بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْءًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ.(النور۲۴: ۵۵)

’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور اُنھوں نے اچھے عمل کیے ہیں، اُن سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اُن کو وہ اِس سرزمین میں ضروراُسی طرح اقتدار عطا فرمائے گا، جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو اُس نے عطا فرمایا تھا اور اُن کے لیے اُن کے دین کو پوری طرح قائم کر دے گا جسے اُس نے اُن کے لیے پسند فرمایا ہے اور اُن کے اِس خوف کی حالت کے بعد اِسے ضرورامن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھیرائیں گے۔ اور جو اِس کے بعد بھی منکر ہوں تو وہی نافرمان ہیں۔‘‘

یہ دنیوی سزا و جزا دراصل قیامت کبریٰ کا ایک دنیوی نمونہ تھا، جسے ہم قیامت صغریٰ کہہ سکتے ہیں۔ احتساب کے علاوہ اس کا ایک مقصد یہ تھا کہ آخرت میں ہونے والے معاملے کی ایک جھلک دنیا والوں کو بھی دکھا دی جائے۔ اور پھر اس کا تذکرہ خدا کی کتاب میں محفوظ کر کے دنیا کو ایک زندہ خدا پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے، قیامت صغریٰ میں جزا و سزا کا یہ تذکرہ انذار بن کر حسی اور سماعی طور پر بھی لوگوں کے سامنے آ جائے، اور وہ اس سے عبرت حاصل کرتے رہیں۔

اس خاص ضابطۂ الٰہی کو مکتبِ فراہی میں ’قانون اتمام حجت‘ کا اصطلاحی نام دیا گیا ہے۔ یہ قانون، قرآن مجید کے صفحہ صفحہ پر رقم ہے۔اس کا ادراک قرآن مجید کے ہر عالم و مفسر کے ہاں موجود رہا ہے، لیکن اس کو ایک مکمل قانون کی شکل میں دریافت کرنے کا سہرا مولانا حمید الدین فراہی کے سر ہے۔ پھر اس کی توضیح مزید مولانا امین احسن اصلاحی کے ہاں، ان کی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ میں ملتی ہے۔ اس کے بعد جناب جاوید احمد غامدی کے ہاں یہ اپنی تمام جزئی تفصیلات اور اطلاقات کے ساتھ نمایاں صورت میں نظر آتا ہے۔ قرآن فہمی کے لیے اس قانون کا درست فہم بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔

مضمون کی غایت

زیرِ نظر مضمون، فکر فراہی کی طرف سے پیش کردہ قانونِ اتمامِ حجت کے بارے میں پیدا ہونے والے چند نمایاں سوالات، اشکالات اور اعتراضات کی روشنی میں، اس قانون کی تفصیلات اور اطلاقات سے بحث کرتا ہے۔

قانون اتمام حجت کے بارے میں چند باتیں پیشِ نظر رہنا ضروری ہیں:

i۔ قرآن مجید کی بیان کردہ اس حقیقت سے قرآن کا کوئی طالب علم انکار نہیں کر سکتا کہ خدا کے رسولوں کی طرف سے دعوتِ دین کے نتیجے میں ان کی قوموں کے منکرین پر ایک خاص وقت گزر جانے کے بعد اللہ کی طرف سے اسی دنیا میں عذاب دیا گیا، جب کہ رسولوں اور ان کے مومنین کو اس عذاب سے بچا لیا گیا۔ جس تسلسل اور یکسانیت سے یہ معاملہ مختلف رسولوں کی قوموں کو پیش آیا، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ضابطۂ الٰہی رہا ہے۔ عذاب آنے سے پہلے کی مہلت کا مقصد، پیغامِ حق کو اس کے پورے دلائل اور براہین سے قوم کے سامنے اس طرح رکھ دینا ہوتا ہے کہ قوم کے لیے انکار کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اس کو ’اتمامِ حجت‘ کا اصطلاحی عنوان دیا گیا ہے۔

درج ذیل آیات میں یہ قانون الٰہی اس طرح بیان ہوا ہے:

وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُہُمْ قُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ. (یونس۱۰: ۴۷)

’’(اُس کا قانون یہی ہے کہ) ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب اُن کا رسول آ جاتا ہے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔‘‘

اتمامِ حجت کے بعد، منکرینِ حق پر دنیا میں آنے والے یہ عذاب، آندھی، طوفان، سیلاب اور زلزلے وغیرہ کی قدرتی طاقتوں کے ذریعے سے بھی نازل ہوئے اور انسانی ہاتھوں کے ذریعے سے قتال اور محکومی کی صورت میں بھی۔ یہ دونوں صورتیں قرآن کے نصوص سے ظاہر ہیں۔

ii۔ رسول کے براہ راست مخاطبین میں سے اس پر ایمان لانے، اس کی پیروی کرنے اور استقامت کے ساتھ راہ حق کی تمام مشکلات کا سامنا کرنے کے اجر کے نتیجے میں مومنوں کو اسی دنیا میں عذاب سے نجات اور مالی خوش حالی اور مناسب افرادی قوت مہیا ہونے کی صورت میں سیاسی برتری کے وعدے کیے گئے۔ مثلاً:

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کَذٰلِکَ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ.(یونس۱۰: ۱۰۳)

’’(اِنھیں بتا دو کہ)پھر (جب وہ دن آجاتا ہے تو) ہم اپنے رسولوں کو بچا لیتے ہیں اور (اُن کو بھی) جو اُن پر ایمان لائے ہوں۔ اِسی طرح ہمارا ذمہ ہے، ہم اُن کو بچا لیں گے جو ایمان لے آئے ہیں۔‘‘

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِنْ م بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ.(النور۲۴: ۵۵)

’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور اُنھوں نے اچھے عمل کیے ہیں، اُن سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اُن کو وہ اِس سرزمین میں ضروراُسی طرح اقتدار عطا فرمائے گا، جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو اُس نے عطا فرمایا تھا اور اُن کے لیے اُن کے دین کو پوری طرح قائم کر دے گا جسے اُس نے اُن کے لیے پسند فرمایا ہے اور اُن کے اِس خوف کی حالت کے بعد اِسے ضرورامن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھیرائیں گے۔ اور جو اِس کے بعد بھی منکر ہوں تو وہی نافرمان ہیں۔‘‘

اسی طرح اس وقت ہجرت کرنے والوں کو دنیا ہی میں اچھے ٹھکانے کے وعدے کیے گئے:

وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا فِی اللّٰہِ مِنْ م بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّہُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ.(النحل۱۶: ۴۱)

’’جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہے، اِس کے بعد کہ اُن پر ظلم ڈھائے گئے، ہم اُن کو دنیا میں بھی لازماً اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو کہیں بڑھ کر ہے۔ اے کاش، یہ منکرین جانتے۔‘‘

iii۔ رسول کے بغیر دنیوی عدالت قائم نہیں ہو سکتی:

دنیا میں اس طرح قیامتِ صغریٰ برپا کرنا، جس میں حق و باطل کی بنیاد پر جزا و سزا کا فیصلہ سنایا جائے، یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب خدا کا نمایندہ، یعنی رسول موجود ہو، جو خدا کی طرف سے پورے اختیار اور قطعیت سے اس فیصلے کی آگاہی اپنی مخاطب قوم کو دے سکے۔ منکر قوموں پر ان کے انکار کے نتیجے میں آنے والی تباہی ان منکرین پر خدا کی حجت کے مکمل ہوئے بغیر آنا قرینِ انصاف نہیں۔ ضروری ہے کہ سزا سے پہلے فردِ جرم مکمل طور پر ثابت کر دی جائے۔ منکرین کو معلوم ہو کہ ان کو کس بات کی سزا مل رہی ہے اور ان کے پاس انکار کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے:

وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُہُمْ قُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ.(یونس ۱۰: ۴۷)

’’(اُس کا قانون یہی ہے کہ)ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب اُن کا رسول آ جاتا ہے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔‘‘

iv۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ معلوم تاریخ میں رسولوں کے انذار کے بغیر انکارِ حق کرنے والی قوموں پر اس قسم کے عذاب نہیں آئے، اور نہ اب اس قسم کا کوئی عذاب آتا ہے جس میں مخاطبین کو تنبیہ اور چیلنج کرنے کے بعد اور یہ بتا کر کہ عذاب کیوں آ رہا ہے، عذاب نازل ہوتا ہو۔ اس کی وجہ بھی قرآن نے بیان کر دی ہے کہ کسی قوم پر تب تک عذاب نہیں آتا جب تک ان میں کسی رسول کی بعثت کے ساتھ اتمامِ حجت نہ ہو جائے۔ اس قانون الٰہی کو درج ذیل آیت میں بیان کیا گیا ہے:

وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا. (بنی اسرائیل ۱۷: ۱۵)

’’ہم (کسی قوم کو)کبھی سزا نہیں دیتے، جب تک ایک رسول نہ بھیج دیں (کہ سزا سے پہلے وہ اُس پر حجت پوری کر دے)۔‘‘

مزید یہ کہ رسول کے مخاطب مومنین کے بعد، دیگر زمانوں کے مومنین کو ایمان لانے اور نیک عمل کرنے پر مالی خوش حالی اور سیاسی غلبہ لازمی طور پر نہیں ملتے۔(ذریت ابراہیم کا معاملہ البتہ خصوصی نوعیت کا ہے، جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔)

اسی طرح، رسول کے دور میں ہجرت کرنے پر کیے جانے والے وعدے دوسرے ادوار کے مسلمانوں کے لیے لازمی طور پر پورے نہیں ہوئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اب جن مسلمانوں کو دین کی وجہ سے ہجرت کرنی پڑ جاتی ہے، اکثر اوقات وہ بڑی کس مپرسی کے اوقات گزار کر دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔

v۔ قانون اتمام حجت شریعت کا قانون نہیں ہے۔ یہ خاص سنت الٰہیہ ہے، جس کا اطلاق خاص زمان و مکان میں محدود طور پر کیا گیا تھا۔ جس طرح رسولوں کا انتخاب، ذریت ابراہیم کا انتخاب اور ان کے ساتھ خصوصی معاملات کا تعلق خاص سنن الٰہیہ سے ہے، اسی طرح جزا و سزا کا یہ خصوصی قانون بھی شریعت سے الگ، خاص سنن الٰہیہ میں سے ہے۔

دین میں جبر کرنے کی نفی شریعت کا قانون ہے، جب کہ منکرین کو سزا و جزا خدا کی سنت ہے۔ رسولوں کے اتمام حجت کے نتیجے میں بس یہ ہوا کہ آخرت میں دی جانے والی سزا کو دنیا میں بھی ایک حد میں نافذ کیا گیا۔

vi۔ قیامت کبریٰ اور قیامت صغریٰ (جو رسول کے اتمام حجت کے بعد دنیا میں برپا کی جاتی ہے) کے سزا و جزا کے ضوابط یکساں ہیں۔ یہ بات دونوں جگہ خدا کے عدل کے یکساں معیارات سے عیاں ہے۔ (تفصیل آگے آتی ہے)

[باقی]

* مضمون کی تیاری میں، مولانا امین احسن اصلاحی کی ’’تدبر قرآن‘‘، جناب جاوید احمد غامدی کی کتب: ’’میزان‘‘ اور ’’البیان‘‘ اور اُن کے خطبات اور مولانا عمار خان ناصر کی کتاب ’’جہاد: ایک مطالعہ‘‘ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ برادر محترم جناب محمد حسن الیاس نے سورۃ النساء آیات ۱۶۳تا۱۶۵ کی تفہیم اور حضرت اسماعیل اور حضرت یونس علیہم السلام کے متعلق مذکور مباحث میں رہنمائی فرمائی۔ جزاہم اللہ۔ بہرحال، اس مضمون کی تمام تر ذمہ داری راقم کی ہے۔ یہ میرے اپنے فہم کی پیش کش ہے، جسے برائے افادہ و استفادہ پیش کیا جاتا ہے، تاکہ نقد وجرح کے عمل سے گزر کر مسئلہ کے فہم میں معاون ہو۔

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۲)

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List