Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

عرفان شہزاد Profile

عرفان شہزاد

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۵) (2/2) | اشراق
Font size +/-

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۵) (2/2)

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۵) (1/2)

یہاں پہلی آیت کا حکم دہرایا گیا ہے۔ پہلا حکم چار ماہ کی مہلت ان معاہد مشرکین کو دیتا ہے جن تک یہ پیغام پہنچانا ممکن تھا، یعنی مسلمانوں کے قریب کے علاقے میں رہنے والے مشرکین۔ آیت ۳ میں دیا جانے والاحکم اب جزیرۂ عرب کے تمام مشرکین کے لیے تھا، اسی لیے اس کے لیے ایام حج کا انتظار کیا گیا تاکہ جب سارے جزیرۂ عرب سے لوگ یا ان کے نمایندے مسجد حرام میں اکٹھا ہو جائیں تو یہ اعلان سن کر اپنے بارے میں فیصلہ کر لیں کہ انھوں نے اسلام قبول کرنا ہے، ملک چھوڑ جانا ہے یا پھر مسلمانوں کے ساتھ جنگ کر کے اپنی زندگی یا موت کا فیصلہ کرناہے۔
آیت ۱ اور ۳ میں بیان کردہ الفاظ کی عمومیت میں تمام معاہدات شامل ہو سکتے تھے، چاہے وہ معینہ مدت کے لیے کیے گئے ہوں یا غیر معینہ مدت کے لیے، نیز وہ معاہدات بھی جن کی خلاف ورزی کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو۔ لیکن آگے آیت ۴میں کچھ معاہدات کا استثنا بیان کر دیا گیا:

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْکُمْ شَیْءًا وَّلَمْ یُظَاھِرُوْا عَلَیْکُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْٓا اِلَیْھِمْ عَھْدَھُمْ اِلٰی مُدَّتِھِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ.(التوبہ ۹: ۴)
’’وہ مشرکین، البتہ (اِس اعلان براء ت سے) مستثنیٰ ہیں جن سے تم نے معاہدہ کیا، پھر اُس کو پورا کرنے میں اُنھوں نے تمھارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی ہے۔ سو اُن کا معاہدہ اُن کی مدت تک پورا کرو، اِس لیے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو (بد عہدی سے)بچنے والے ہوں۔‘‘

یہاں ان معاہدات کو پورا کرنے کا کہا گیا ہے جن میں دو باتیں پائی جائیں: ایک یہ کہ ان کی خلاف ورزی نہ کی گئی ہو، اور دوسرا یہ کہ وہ معینہ مدت کے لیے کیے گئے ہوں۔ جناب غامدی صاحب کے مطابق آیت ۱ اور ۳ اور آیت ۴ میں بیان کردہ معاہدات میں فرق صرف معینہ مدت اور غیر معینہ مدت کے معاہدات کا ہے۔ آیت ۴ میں کلام معینہ معاہدات کے لیے آیا ہے، ان معاہدات کے پورا کرنے کے لیے البتہ مزید شرط یہ عائد کی گئی ہے کہ ان کی خلاف ورزی بھی نہ کی گئی ہو؛ جب کہ معاہدے کی خلاف ورزی پر تو حکم پہلے سے موجود تھا۔ سورۂ انفال میں کہا گیا تھا کہ محض خلاف ورزی ہی نہیں، بلکہ خلاف ورزی کے قوی اندیشے کی صورت میں خلاف ورزی سے پہلے ہی معاہدہ ختم کیا جا سکتا ہے:

وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْم اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَآءٍ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ.(الانفال ۸: ۵۸)
’’(تم لوگ، البتہ ہر حال میں عہد کی پابندی کرو) اور اگر کسی قوم سے بد عہدی کا اندیشہ ہو تو اُن کا عہد اُسی طرح برابری کے ساتھ اُن کے آگے پھینک دو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بد عہدوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

چنانچہ سورۂ توبہ کی زیر بحث آیت میں کلام، معینہ مدت کے معاہدات کے بارے میں فیصلہ دینے کے لیے آیا ہے، جب کہ پہلی آیت غیر معینہ مدت کے معاہدات کے اختتام کا اعلان کرتی ہے۔
دوسری راے یہ ہے کہ آیت ۴ میں بیان کردہ معاہدات کے استثنا سے وہ معاہدات مراد ہیں جن کی خلاف ورزی کی گئی ہو، چاہے وہ معینہ مدت کے لیے ہوں یا غیر معینہ مدت کے لیے۔ اس راے پر ایک اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاہدات اگر صرف نقض عہد ہی کی بنا پر ختم کیے گئے تھے تو ایسے معاہدات کا کیا حکم ہوگا جو غیر معینہ مدت کے لیے ہوں اور اس کی خلاف ورزی بھی نہ کی گئی ہو؟ کیا وہ ہمیشہ چلتے رہتے؟ اگر ایسا ہوتا تو جزیرۂ عرب کے مشرکین پر اہل ایمان کی تلواروں سے آنے والے عذاب سے انھیں ہمیشہ کے لیے استثنا مل جاتا اور ایسا خدا کی سکیم میں ہونا درست نہ ہوتا۔ خدا کی سنت یہی چلی آ رہی ہے کہ رسول کے اتمام حجت کے بعد آنے والے دنیوی عذاب سے کوئی مشرک بچ نہیں سکتا۔ دوسرا یہ کہ خدا نے جزیرۂ عرب کو اسلام کے لیے خالص سرزمین بنانا تھا اور اس کے لیے شرک اور مشرکین کا استیصال ہونا ضروری تھا، یہ استثنا اس مقصود خداوندی کو بھی پورا نہ ہونے دیتا۔ اہل کتاب کو ، البتہ، استثنا حاصل تھا جس پر ہم مفصل بحث کر چکے ہیں۔
ہمارے نزدیک غامدی صاحب کی راے درست ہے۔اس کے حق میں ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ آیت ۱ اور ۳ میں غیر معینہ معاہدات ختم کرنا مراد لینے سے ہی یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مشرکین کو مہلت دی جائے۔ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر مفسدین کو مہلت دے کر حملہ کرنے کو قانون کے طور پر بیان کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی، ایسوں پر تو فوراً حملہ کرنے کا جواز موجود تھا۔ یہ مہلت غیر معینہ معاہدات ختم کرنے کے بعد مشرکین کو سوچنے اور آخری فیصلہ کرنے کے لیے دیے جانا ہی درست معلوم ہوتا ہے کہ اب انھوں نے اسلام قبول کرنا ہے یا صحابہ کی تلواروں کی صورت میں آنے والے عذاب الٰہی کا سامنا کرنے کا حوصلہ کرناہے۔
غرض یہ کہ سورۂ توبہ کی آیت ۱ میں بیان کردہ معاہدات سے غیر معینہ مدت کے معاہدات، جن کی خلاف ورزی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، ہی مراد لیے جانا درست معلوم ہوتا ہے۔
معاملہ اگر صرف جارحیت کا ہوتا تو قرآن مجید میں یہ کہا جاتا ہے کہ جب یہ منکرین اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں، مطیع ہو کر رہنا قبول کر لیں، جیسا کہ اہل کتاب نے قبول کر لیا تھا، تو ان کو چھوڑ دو۔ لیکن غور کیجیے آیت یہ بیان کر رہی ہے کہ ان مشرکین کی گلو خلاصی کی ایک ہی صورت تھی کہ وہ اسلام قبول کریں اور اس کے ثبوت کے لیے نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی بھی کریں، تب ہی جان چھوٹے گی:

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُاالزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(التوبہ ۹: ۵)
’’(بڑے حج کے دن)اِس(اعلان)کے بعد جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور (اِس مقصد کے لیے)اِن کو پکڑو، اِن کو گھیرو اور ہر گھات کی جگہ اِن کی تاک میں بیٹھو۔پھراگر یہ توبہ کر لیں اور نمازکا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو۔ یقیناًاللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

دوسری طرف جن مشرکین کے ساتھ معینہ مدت کے معاہدات تھے، ان کے لیے حکم تھا کہ معاہدات اپنی مدت تک پورے کیے جائیں اور اب ان کے ساتھ نئے معاہدات نہ کیے جائیں:

کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ.(التوبہ ۹: ۷)
’’اللہ اور اُس کے رسول کے ہاں اِن مشرکوں سے کوئی عہد کس طرح باقی رہ سکتا ہے؟ ہاں جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے پاس (حدیبیہ میں)عہد کیا تھا، سو جب تک وہ تمھارے ساتھ سیدھے رہیں، تم بھی اُن کے ساتھ سیدھے رہو، اِس لیے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو (بد عہدی سے)بچنے والے ہوں۔‘‘

یعنی کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا، اگر انھوں نے جزیرۂ عرب میں رہنا ہے تو اسلام قبول کر کے رہنا ہوگا۔
بعض لوگوں نے اسی سورہ کی آیت ۶ سے مشرکین کے لیے امن سے زندہ رہنے کی گنجایش سمجھی ہے ۔ آیت ملاحظہ کیجیے:

وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ.(التوبہ ۹: ۶)

’’اور اگر (اِس داروگیر کے موقع پر) اِن مشرکوں میں سے کوئی شخص تم سے امان چاہے (کہ وہ تمھاری دعوت سننا چاہتا ہے)تو اُس کو امان دے دو، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اُس کو اُس کے مامن تک پہنچا دو۔ یہ اِس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو (خدا کی باتوں کو) نہیں جانتے۔‘‘

یہ آیت مشرکین کے کسی گروہ کے لیے نہیں، بلکہ انفرادی حیثیت میں مشرکین کے پناہ کے معاملے کی بات کر رہی ہے، یعنی مشرکین کا کوئی فرد جو مسلمانوں کے علاقے میں آیا ہو یا گزر رہا ہو، نہ کہ وہ جن پر اعلان کے بعد حملہ کرنا پیش نظر تھا۔ اسی لیے تو کہا جا رہا ہے کہ مسلمان اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دیں کہ وہ مسلمانوں کے زیر نگیں علاقے میں آیاہے۔ اس پر ابن کثیر کا نوٹ دیکھیے:

وَالْغَرَضُ أَنَّ مَنْ قَدِمَ مِنْ دَارِ الْحَرْبِ إِلٰی دَارِ الْإِسْلَامِ فِي أَدَاءِ رِسَالَۃٍ أَوْ تِجَارَۃٍ، أَوْ طَلَبِ صُلْحٍ أَوْ مُہَادَنَۃٍ أَوْ حَمْلِ جِزْیَۃٍ، أَوْ نَحْوِ ذٰلِکَ مِنَ الْأَسْبَابِ، فَطَلَبَ مِنَ الْإِمَامِ أَوْ نَاءِبِہِ أَمَانًا، أُعْطِيَ أَمَانًا مَا دَامَ مُتَرَدِّدًا فِي دَارِ الْإِسْلَامِ، وَحَتّٰی یَرْجِعَ إِلٰی مَأْمَنِہِ وَوَطَنِہ. (تفسیر القرآن العظیم ۴/ ۱۱۴)
’’غرض یہ ہے کہ جو دار الحرب سے دار الاسلام میں کوئی پیغام، تجارت یا صلح کی طلب یا جزیہ وغیرہ لے کر آئے، اور امام یا اس کے نائب سے امان طلب کرے تو اسے امان دے دی جائے گی، جب تک وہ دار الاسلام میں عارضی طور پر رہے جب تک کہ وہ اپنی امن کی جگہ یا اپنے وطن پہنچ جائے۔‘‘

نیزیہ بھی ہدایت دی گئی کہ اسے قرآن سنا کر مزید اتمام حجت کر دیا جائے کہ ممکن ہے کوئی کسر باقی رہ گئی ہو۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اتمام حجت قومی سطح پر ہوتا ہے اور اس کے انجام کا فیصلہ بھی قومی سطح پر کیا جاتا ہے۔ فرد کی سطح پر البتہ کسر باقی رہ جانے کا ا مکان رہتا ہے اور ایسے افراد کا معاملہ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا گیا، اللہ کے سپرد ہے۔
بعض حضرات نے سورۂ توبہ کی آیات ۷ تا ۱۰ میں مذکور آمادۂ جنگ مشرکین سے سورۂ توبہ کی ابتدائی آیات میں مذکور مشرکین کو ایک ہی سمجھ کر سب کو جارح قرار دے دیا ہے۔آیات ملاحظہ کیجیے:

کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ. کَیْفَ وَاِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّۃً یُرْضُوْنَکُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ وَتَاْبٰی قُلُوْبُھُمْ وَاَکْثَرُھُمْ فٰسِقُوْنَ. اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖ اِنَّھُمْ سَآءَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ. لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّاوَّلَا ذِمَّۃً وَاُولٰءِٓکَ ھُمُ الْمُعْتَدُوْنَ.(التوبہ ۹: ۷۔۱۰)

’’اللہ اور اُس کے رسول کے ہاں اِن مشرکوں سے کوئی عہد کس طرح باقی رہ سکتا ہے؟ ہاں جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے پاس (حدیبیہ میں)عہد کیا تھا، سو جب تک وہ تمھارے ساتھ سیدھے رہیں، تم بھی اُن کے ساتھ سیدھے رہو، اِس لیے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو (بد عہدی سے)بچنے والے ہوں۔ کس طرح باقی رہ سکتا ہے، جب کہ حال یہ ہے کہ اگر وہ تم پر کہیں غلبہ پا لیں تو نہ تمھارے بارے میں کسی قرابت کا لحاظ کریں، نہ کسی عہد کا۔ اپنے منہ کی باتوں سے وہ تمھیں راضی کرنا چاہتے ہیں، مگر اُن کے دل انکار کر رہے ہیں اور اُن میں سے اکثر بدعہد ہیں۔ اللہ کی آیتوں کے عوض میں اُنھوں نے تھوڑی قیمت قبول کر لی، پھر اُس کی راہ سے رک گئے ہیں۔ یقیناًبہت برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔ کسی مسلمان کے معاملے میں نہ اُنھیں کسی قرابت کا لحاظ ہے، نہ عہد کا اور وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔‘‘

غور کیجیے تو آیات ۷ تا ۱۰ میں جن آمادۂ جنگ مشرکین کا ذکر ہے، ان سے مراد صرف قریش مکہ ہیں۔ اس پر دلیل وہ اس معاہدے کا ذکر ہے جو مسجد حرام کے پاس ان مشرکین سے کیا گیا۔ مسجد حرام کے پاس ایک ہی معاہدہ ہوا تھا، یعنی صلح حدیبیہ، اس لیے آیت ۸ میں مشرکین سے مراد مکہ کے مشرکین ہی قرار پاتے ہیں جن سے معینہ مدت کا معاہدہ تھا۔ ان کے علاوہ دیگر مشرکین جن سے غیر معینہ مدت کے معاہدات تھے، ان کا حکم اس سورہ کی ابتدائی آیات میں بیان ہوا ہے۔
غورطلب بات یہ ہے آیت ۱۱ میں قریش کے ان جارح مشرکین کے لیے بھی اپنی گلو خلاصی کی وہی شرط، یعنی اسلام قبول کرنا ہی بیان ہوا ہے، نہ کہ محض جارحیت سے توبہ، بلکہ پوری بات دہرائی گئی ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے بھی تیار ہو جائیں تب ہی ان کی جان بچ سکتی ہے:

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ.(التوبہ ۹: ۱۱)
’’سو اگر توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی ہیں۔ ہم اُن لوگوں کے لیے اپنی آیتوں کی تفصیل کیے دے رہے ہیں جو جاننا چاہتے ہوں۔‘‘

جب کہ اہل کتاب کو ان کی جارحیت سے باز آ جانے کی بنا پر محکوم بنا کر ان پر جزیہ عائد کرنے کی سزا دی گئی:

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ.(التوبہ ۹: ۲۹)
’’(اِن مشرکوں کے علاوہ)اُن اہل کتاب سے بھی لڑو جو نہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ اور اُس کے رسول کے حرام ٹھیرائے ہوئے کو حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں، (اُن سے لڑو)، یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور ماتحت بن کر رہیں۔‘‘

اگر اہل کتاب کو ان کی جارحیت سے باز آجانے کی شرط پر محکوم بنا کر چھوڑ دیا گیا، تو یہی سزا مشرکین عرب کے لیے بھی تجویز کی جا سکتی تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، یہ اس لیے کہ صریح شرک جو بلا تاویل ہو، اس کی سزا رسول کے اتمام حجت کے بعد قتل ہی تجویز کی گئی ہے۔
ابن کثیر لکھتے ہیں:

وَتَضْطَرُّوْہُمْ إِلَی الْقَتْلِ أَوِ الْإِسْلَامِ؛ وَلِہَذٰا قَالَ: ’’فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘.(تفسیر القرآن العظیم ۴/ ۱۱۱)
’’اور تم ان مشرکین کو زبردستی قتل یا اسلام کے لیے مجبور کرو گے، اسی لیے خدا نے فرمایا: ’فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘۔‘‘

تفسیر کبیر میں ہے:

احْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَہُ اللَّہ بِہٰذِہِ الْآیَۃِ عَلٰی أَنَّ تَارِکَ الصَّلَاۃِ یُقْتَلُ، قَالَ: لِأَنَّہُ تَعَالٰی أَبَاحَ دِمَاءَ الْکُفَّارِ مُطْلَقًا بِجَمِیعِ الطُّرُقِ، ثُمَّ حَرَّمَہَا عِنْدَ مَجْمُوعِ ہَذِہِ الثَّلَاثَۃِ، وَہِيَ: التَّوْبَۃُ عَنِ الْکُفْرِ، وَإِقَامَۃُ الصَّلَاۃِ وَإِیتَاءُ الزکاۃ، فعند ما لَمْ یُوْجَدُ ہَذَا الْمَجْمُوْعُ، وَجَبَ أَنْ یَّبْقٰی إِبَاحَۃُ الدَّمِ عَلَی الْأَصْلِ. (مفاتیح الغیب ۱۵/ ۵۲۸)
’’اسی آیت سے امام شافعی نے استدلال کیا ہے کہ تارک نماز کو قتل کیا جائے گا، انھوں نے کہا کہ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے خون کو مطلقاً ہر طریقے سے حلال کر دیا اور پھر تین چیزوں کے مجموعے کے ساتھ حرام کیا، اور وہ ہیں: کفر سے توبہ، نماز کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی۔ تو پھر جس کافر کے ہاں ان تینوں کا مجموعہ نہ ہو، واجب ہے کہ اصلًا اس کے خون کا حلال ہونا باقی رہے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی اسی تناظر میں ہے:

أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّہِ، فَإِذَا شَہِدُوْا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّہِ، وَاسْتَقْبَلُوْا قِبْلَتَنَا، وَأَکَلُوْا ذَبِیْحَتَنَا، وَصَلُّوْا صَلَاتَنَا، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَاؤُہُمْ وَأَمْوَالُہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا. (رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ فِي صَحِیحِہِ وَأَہْلُ السُّنَنِ إِلَّا ابْنَ مَاجَہْ)
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال جاری رکھوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، ہمارے قبلے کی طرف منہ کریں، ہمارا ذبیحہ کھائیں، ہماری نماز پڑھیں، تب ہم پر ان کا خون اور ان کے اموال حرام ہوں گے، سوائے یہ کہ ان پر کوئی حق قائم ہو جائے۔‘‘

مکرر عرض ہے کہ آیات مذکورہ میں یہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ اگر مشرکین مطیع ہو کر رہنا چاہیں تو امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں، بلکہ کہا جا رہا ہے کہ وہ صرف اسلام قبول کر کے ہی زندہ چھوڑے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جزیرۂ عرب کے قبائل نے جبراً اسلام قبول کیا تھا، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد ہی وہ اسلام سے پھر گئے تھے، اور صحابہ کو دوبارہ تلوار کے زور سے انھیں مطیع اور مسلم بنانا پڑا تھا۔ ان تاریخی نظائر کو مولانا عمار خان ناصر نے اپنی کتاب ’’جہاد: ایکمطالعہ‘‘ میں اکٹھاکر دیا ہے۔ مولانا عمار خان ناصر ’’مسند الشامیین‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’لما مات النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشایع الناس وتحزبوا فقامت تلک الناصیۃ فقاتلوا الناس حتی ردوا الناس الی کلمۃ الاسلام وحتی قالوا لا الٰہ الا اللّٰہ وان نبیکم حق.(مسند الشامیین، رقم ۱۶۶۱)
’’جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو لوگ (اسلام کو چھوڑ کر) مختلف گروہوں اور دھڑوں میں بٹ گئے ، چنانچہ آپ کے ساتھیوں کا گروہ اٹھا اور اس نے لوگوں کے ساتھ قتال کیا یہاں تک کہ انھیں کلمہ اسلام کی طرف واپس لوٹا دیا اور منکرین کو یہ اقرار کرنا پڑا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ تمھارا نبی برحق ہے۔‘‘
اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ تمام قبائل اپنی رضامندی اور اختیار سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے تھے تو اتنے وسیع پیمانے پر ان کے دین سے مرتد ہو جانے یا مرکز اسلام کی اطاعت قبول کرنے سے انکار کا رویہ کسی طرح بھی قابل فہم نہیں رہتا۔ ‘‘(۴۹)
’’سیدنا ابوبکر نے ایک موقع پر فرمایا:
ان اللّٰہ بعث محمدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم بہذا الدین فجاہد علیہ حتی دخل الناس فیہ طوعا وکرہا.(ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/ ۵۲۶)
’’اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دین دے کر بھیجا، چنانچہ آپ نے اس کے لیے جہاد کیا یہاں تک کہ لوگ خواہی نخواہی اس میں داخل ہو گئے۔‘‘ ‘‘(۵۲)
’’رومی فوج کے سالار جرجہ سے گفتگو کرتے ہوئے خالد بن ولید نے کہا:
انا قبلنا ہذا الامر عنوۃ.(البدایہ والنہایہ ۷/ ۱۳)
’’ہم نے اس دین کو اپنی مرضی کے برعکس قبول کیا تھا۔‘‘ ‘‘(۵۴)
’’نصاریٰ بنوتغلب سے معاہدہ کے موقع پر انھوں (حضرت عمر) نے فرمایا:
ان من اسلم منہم فلہ ما للمسلمین وعلیہ ما علیہم ومن ابی فعلیہ الجزاء وانما الاجبار من العرب علی من کان فی جزیرۃ العرب. (طبری، تاریخ الامم والملوک ۴/ ۴۰)
’’ان میں سے جو اسلام لے آئیں گے، ان کے حقوق وفرائض مسلمانوں کے برابر ہوں گے۔ اور جو انکار کریں گے، ان پر جزیہ لازم ہوگا۔ ہم اسلام قبول کرنے پر صرف ان اہل عرب کو مجبور کریں گے جو جزیرۃ العرب کی حدود میں رہتے ہوں۔‘‘ (۵۵)

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ظاہری اسلام کو گوارا کر لیا گیا تھا۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ پہلے سے موجود منافقین کے وجود کو بھی کیوں گوارا کر لیا گیا اور کوئی دنیوی سزا باوجود عذاب کی دھمکی کے ان پر کیوں نہیں آئی۔ ان منافقین کو خدا اور رسول کی طرف سے عذاب و سزا کی جو دھمکیاں دی گئی تھیں، وہ ان کی معاندانہ سازشی کارروائیوں کے جاری رہنے کی صورت میں دی گئی تھیں۔ اسلام کے سیاسی غلبے نے انھیں مجبور کر دیا تھا کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں، اب محض دل کی کیفیت پر ان پر قتال کا عذاب مسلط نہیں کیا گیا جیسا کہ مشرکین اور اہل کتاب پر مسلط کیا گیا جو کھلم کھلا انکار، یعنی کفر پر بہ ضد تھے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بلا ضرورت قتال سے بچا جائے۔ یہ لوگ بہ ظاہر ملت اسلامیہ کا ہی حصہ معلوم ہوتے تھے۔ پھر یہ کہ مجموعی حالات کے اثر سے ممکن تھا کہ ایسے لوگوں کے دل میں ایمان حقیقتاً اتر ہی جائے، کیونکہ ان کا اصل مذہب عصبیت تھا، یعنی اپنے قوم و قبیلے کا طور طریقہ ہی ان کا مذہب تھا، جب ان کی قوم اور قبیلے ہی مسلمان ہو گئے تو عصبیت کی خاطر ہی سہی، یہ پکے مسلمان بن سکتے تھے، اور ہم جانتے ہیں کہ پھر ایسا ہی ہوا۔ یہی مرتد ہو جانے والے قبائل تھے، جو از سر نو اسلام میں شامل ہونے کے بعد، خلافت اسلامیہ کے جھنڈے تلے جہاد کرتے رہے اور اس کی تقویت کا باعث بنے۔ اور کچھ نہیں تو ایسے لوگوں کی اولادوں کے مسلمان ہونے کا تو قوی امکان موجود تھا۔ آخرت کا معاملہ البتہ الگ ہے جہاں خدا کی عدالت پورے علم کی روشنی میں ایسے لوگوں کا فیصلہ کرے گی۔
خلاصہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کو قرآن مجید میں گذشتہ اقوام پر آنے والے عذاب کی داستانیں سنا کر بار بار یہ کہا جا رہا تھا کہ تمھاری ضد اور انکار کی بنا پر تم پر بھی دنیا ہی میں عذاب آ جائے گا۔ پھر صحابہ کوبتا دیاگیاکہ یہ عذاب ان کے ہاتھوں سے دیا جائے گا۔اب جب وہ عذاب صحابہ کی تلواروں سے آ گیا تو یہ سمجھنا کہ یہ جہاد صرف جارحین کے خلاف تھا، نص قرآنی اس کی تائید کرتی ہے، نہ قرآنی نظائر، اور نہ ابتداے اسلام کی تاریخ عرب سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔قتال و محکومی کی ان سزاؤں کے بارے میں قرآن کی ان صریح نصوص کی کوئی اور اطمینان بخش تاویل ہماری نظر میں ممکن نہیں۔
فقہا کا ایک طبقہ اس کا قائل رہا ہے کہ مسلم حکومت، بشرطِ طاقت، انھی اصولوں کے مطابق تمام دنیا پر اسلام نافذ کرے۔ وہ ہر زمانے کے مشرکین کے سامنے اسلام کی دعوت رکھے، اور اسے قبول نہ کرنے پر انھیں قتل کر دے، جب کہ اہل کتاب کے انکار کی صورت میں انھیں محکوم بنا کر ان پر جزیہ عائد کر دے۔ اسی بنا پر ہندوستان کے متشرع بادشاہان محمد تغلق، التمش وغیرہ کو اس وقت کے فقہا نے ہندوستان کے ہندوؤں کو ’شریعت‘ کے مطابق قتل کرنے پر اصرار کیا تھا، لیکن ان بادشاہوں نے عملی مجبوریوں کا بہانہ بنا کر اس انتہائی اقدام سے گریز کیا۔
دیگر فقہا کے مطابق قتل کی سزا، محکومی کی سزا سے موقوف ہو چکی ہے۔ اب دنیا بھر کے غیر مسلموں کو بہ صورت طاقت محکوم بنایا جائے گا، چاہے وہ مشرک ہوں یا اہل کتاب۔ دیگر کچھ فقہا، جن میں احناف شامل ہیں، نے یہ رعایت البتہ دی کہ غیر مسلم سے قتال صرف جارحیت کی صورت میں کیا جائے گا، اور حکومت قائم ہو جانے کے بعد ان پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔
غور کیجیے تو فقہا کے یہ بیانیے درحقیقت اتمام حجت اور اس کی نتیجے میں دی جانے والی سزاؤں کا نفاذ جزیرۂ عرب سے باہر دیگر اقوام تک پھیلا رہے ہیں، فقہا کے یہ مواقف اتمام حجت کے قانون ہی سے پھوٹے ہیں، لیکن فرق یہ ہے کہ وہ اس قانون کو عام سمجھ لیتے ہیں اور ہم سنت الٰہی کی روشنی میں اسے مخصوص وقت اور جگہ تک محدود سمجھتے ہیں۔ اسی بنا پر فقہا ایسی جنگ کو ناجائز قرار دیتے ہیں جس سے پہلے دعوت نہ دی گئی ہو۔ گویا فقہا کے نزدیک غیر مسلم اقوام کو محض اسلام کی خبر پہنچانے اور ایک آدھ بار دعوت دینے سے اتمام حجت ہو جاتا ہے جس کے بعد ان کے قتل یا محکومی کا اختیار اسلامی حکومت کو حاصل ہو جاتا ہے۔یہی وہ غلط فہمی ہے جو رسولوں سے متعلق قانون اتمام حجت کو اس کے درست تناظر میں نہ سمجھنے سے پیدا ہوئی ۔سورۂ توبہ میں بیان کردہ قتال کا عذاب جو منکرین رسالت پر آیا، وہ درحقیقت، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتمام حجت کے بعد اس لیے آیا کہ خدا کے علم کے مطابق کفار محض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کر رہے تھے، اور ایسوں کا مٹ جانا طے تھا۔ اب یہ حکم لگانا کہ کون دل سے انکار کر رہا ہے اور کون نہیں مسلمانوں کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے، اس لیے غیر مسلموں کو اس بنا پر مٹا ڈالنا یا محکوم بنا لینا بھی ان کے دائرۂ عمل سے تجاوزہے۔ تعبیر کی اس غلطی نے وہ تمام مسلم عسکری تنظیمیں پیدا کیں جو صدیوں سے ’جہاد‘ کے ذریعے سے دنیا میں اسلام نافذ کر کے قتال اور محکومی کی سزائیں غیر مسلموں پر نافذ کرنے کی خواہش میں دنیا کے امن اور اسلام کے تاثر، دونوں کو برباد کر رہی ہیں۔
[باقی]

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List