Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

نوح اور ابراہیم: نقدِ احباب کا جائزہ (2/2) | اشراق
Font size +/-

نوح اور ابراہیم: نقدِ احباب کا جائزہ (2/2)

نوح اور ابراہیم: نقدِ احباب کا جائزہ (1/2)

۲۔ قرآن کا اصلاحِ تورات کا طریقہ

ہمارے دوست نے ایک دل چسپ استدلال اختیار کیا ہے۔ میں نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ قرآن مجید یہ انکشاف کررہا ہے، اور یوں وہ اہل کتاب کی غلطی بتا رہا ہے کہ ابراہیم اولاد نوح علیہما السلام نہیں ہیں۔ان صاحب کا کہنا ہے کہ قرآن یوں نہ انکشاف کرتا ہے اور نہ بائیبل کی تصحیح کرتا ہے۔ آئیے، پہلے ان کا استدلال انھی کے الفاظ میں سن لیں، پھر ہم اس کا جائزہ لیں گے:

’’اس سے پہلے کہ ہم اصل حقیقت کوقرآن میں سے واضح کریں،ہم چاہتے ہیں کہ قرآن کے اُس اندازکوواضح کر دیں جو تورات کے بیان کی اصلاح یااُس کی تردیدکرتے ہوئے وہ عام طور پر اپنایا کرتا ہے۔ مثلاً ہم جانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تورات کابیان یہ ہے کہ اُنھوں نے معجزہ دکھاتے ہوئے جب اپناہاتھ باہر نکالا تو وہ کوڑھ سے برف کے مانند سفید تھا۔ ۱۲؂ قرآن نے جب یہ واقعہ بیان کیا توبڑے ہی واضح اندازمیںیہ کہتے ہوئے اس کی اصلاح کی: ’تَخْرُجْ بَیۡضَآءَ مِنْ غَیۡرِ سُوْٓءٍ‘،۱۳؂ یعنی یہ ہاتھ بغیرکسی بیماری کے سفیدہوتاتھا۔اسی طرح تورات میں بیان ہواہے کہ خداوندنے چھ دن میں زمین وآسمان کی تخلیق کی اورساتویں دن آرام کیا۔۱۴؂ قرآن نے یہ کہتے ہوئے بڑی صراحت سے اس کی تردید کی: ’وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ‘ ۱۵؂ کہ ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی۔ بلکہ اگر کوئی غلطی بہت زیادہ سنگین ہواورلوگوں میں اس کا عام رواج بھی ہوچکاہواور قرآن کواس کے جواب میں واقعی کوئی انکشاف کرناہو تواس کے لیے وہ محض اشارے کنایے میں اورمحض ضمیروں کی دلالت سے بات نہیں کرتا، بلکہ انکشاف ہی کے طریقے سے اسے بیان کرتا ہے ۔ مثال کے طورپر، یہود سیدنا مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے کا دعویٰ کرتے تھے، انجیلوں میں بھی یہی کچھ نقل کردیاگیاتھا، اوراسے کم وبیش ہر مسیحی فرقے میں مان لیاگیا ، یہاں تک کہ نزول قرآن کے وقت اسے گویاایک مسلمہ کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی؛اس پرقرآن نے اصل حقیقت کاانکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے اور دیکھ لیاجاسکتاہے کہ کتنے زوردارطریقے سے بتایا ہے: ’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘ (اُنھوں نے نہ اُس کوقتل کیااورنہ اُسے صلیب دی،بلکہ معاملہ اُن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا)، یعنی پہلے اُن کی بات کی ہر دو پہلو سے تردید کی اورپھران کوجہاں سے غلطی لگی تھی ،اس بنیاد کی بھی وضاحت کی، بلکہ پھر سے دہرا کر اصل بات کو موکد کیا: ’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام ‘۱۶؂ کہ اِنھوں نے ہرگزاُس کوقتل نہیں کیا ۔غرض یہ ہے کہ تورات کے بیان کی تردید کرتے ہوئے قرآن کواگریہ بتاناہوتاکہ وہ نوح کے بجاے کسی اورکی اولاد ہیں تووہ اپنے معروف طریقے کے مطابق ہی بتاتا، نہ کہ اس طرح بتاتا کہ اسے جاننے کے لیے بڑے باریک اورمنطقی استدلال کی ضرورت آن پڑتی۔‘‘(ماہنامہ ’’اشراق‘‘ نومبر ۲۰۱۸ء ، ۵۵)

یہ سارا پیرا گراف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے عمل سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ بائیبل کی اصلاح کے ضمن میں جتنے حوالے قرآن سے بطور مثال دیے گئے ہیں، وہ سب کے سب کنایے ہی ہیں۔ مثلاً، ان میں سے کس آیت میں کہا گیا ہے کہ میں اہل تورات کی غلطی بتا رہا ہوں؟کہیں بھی نہیں ۔بس کہیں ایک جملہ اضافہ کردیا، تو کہیں دو۔ یہاں بھی قرآن مجید نے دو مقامات پر ’ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ‘ کا جملہ بڑھا دیا ہے، ایک مقام پر ’مِنْ شِیْعَتِہٖ‘ بڑھا دیا ہے۔ ایک مقام پر ضمیر کی گواہی دی ہے ۔اگر اب بھی یہ محض باریک منطقی استدلال ہی ہے تو مجھے نہیں معلوم کہ پھر ’مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ‘ اور ’مِنْ غَیۡرِ سُوْٓءٍ‘ اور مذکورہ بالا دونوں جملوں: ’ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ‘ اور ’مِنْ شِیْعَتِہٖ‘ میں وہ کیا فرق ہے کہ ایک جملہ واضح بات قرار پاتا ہے اور دوسرا محض اشارہ ۔ خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا کہیے!
رہا صلیبِ عیسیٰ کا معاملہ تو وہ قرآن کے قانون رسالت کی نفی کرنے والا واقعہ ہے، اس لیے اس کے لیے واضح تر الفاظ آگئے ہیں۔ابراہیم کا ذریت نوح ہونا، اتنا ہی اہم ہو گا جتناساتویں دن آرام کرنا۔ اسی لیے ساتویں دن آرام کی تردید کے لیے ایک جملہ: ’مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ‘ کفایت کرگیا ، اور حضرت ابراہیم کے لیے تین مقامات پر تصریح کفایت کرگئی۔حضرت موسیٰ کے ید بیضا کے لیے بھی ’مِنْ غَیۡرِ سُوْٓءٍ‘ کا غیر محسوس سا اضافہ کفایت کرگیا ۔ لہٰذا قرآن کا معروف اسلوب تو و ہی ہوا جو اس نے تین باتوں کی تردید کے لیے اختیار کیا، حضرت عیسیٰ والا معاملہ معروف اسلوب سے ہٹ کر ہے،اس لیے اسے مثال نہیں بنایا جاسکتا، بلکہ مجھے لگ رہا ہے کہ ابراہیم کا نوح علیہما السلام سے تعلق کا معاملہ بھی معروف اسلوب سے ہٹ کر ہے، اس لیے کہ اس کے لیے دو مقامات پر واضح الفاظ، اور ایک جگہ پر ضمائر سے اشارات ہیں۔اتنی اہمیت تو صلیبِ عیسیٰ کے معاملہ کو بھی نہیں ملی۔جس کے لیے ایک ہی مقام پر تصریح پر انحصار کیا ہے۔
۳۔ میں نے اپنے مضمون میں یہ بات بھی عرض کی تھی کہ حضرتِ نوح کے اہل کے لیے کشتی میں سوار ہونے کے لیے اہل میں سے ہونا کافی تھا۔ ہمارے دوست نے ذیل کی آیت کی بنیاد پر آلِ نوح کے لیے ایمان کی شرط لازم قرار دی ہے۔ الفاظ کی حد تک یہاں تعین کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔یا کم از کم ہمارے ناقد نے بیان نہیں کی ہے۔ غالباً قانونِ رسالت کا ایک عمومی ضابطہ ان کے پیش نظر ہے، میں اس کا قائل ہوں، اور اس کا بھی قائل ہوں کہ کلام میں ایسے ضوابط کا ذکر کیے بغیر بھی کلام میں یہ خود بخود موجود ہوتے ہیں ۔ لیکن کیایہ قاعدہ یہاں اس آیت میں بھی ہے، میں اس کا قائل نہیں ہوں۔ آیت پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ یہاں لفظوں میں کوئی قرینہ ایمان کی طرف اشارہ نہیں کرتا، بلکہ ’وَمَنْ اٰمَنَ‘ کا عطف ایما ن کے بجاے رشتہ داروں کی طرف دلالت کرتا ہے ۔آیت یہ ہے:

حَتّٰٓی اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَفَارَالتَّنُّوْرُ قُلْنَا احْمِلْ فِیْھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَھْلَکَ۱۷؂ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلٌ.(ہود ۱۱: ۴۰)
’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ پہنچا اور طوفان ابل پڑا تو ہم نے کہا:ہر قسم کے جانوروں میں سے نر و مادہ، ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو اور اپنے گھر والوں کو بھی (اِس کشتی میں سوار کرا لو)، سواے اُن کے جن کے بارے میں حکم صادر ہو چکا ہے، اور اُن کو بھی جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے۔‘‘

لہٰذا ، میرے خیال میں یہاں ایمان کے بجاے اہل میں سے ہونے کی شرط کا قرینہ موجود ہے۔وہ یہ کہ ’اَھۡلَکَ‘ پر اہل ایمان کا عطف ہوا ہے۔ ۱۸؂ دوسرے یہ کہ میری راے کے حق میں دیگر قرآنی نصوص موجود ہیں۔ جو ایمان کے بجاے اہل خانہ ہونے پر واضح تر لفظوں میں دلالت کر رہی ہیں۔ مثلاً ذیل کی آیت میں دیکھیے کہ بیٹے کو ’مِنْ اَھۡلِی‘ کہا گیا۔ بیٹا جو کہ ہوتا ہی اہل میں سے ہے، اسے ’مِنْ اَھۡلِی‘ کیوں کر کہا جائے گا؟ صرف اسی لیے کہ حضرت نوح اس بات کو بطور دلیل پیش کررہے تھے کہ اہل میں سے ہونا شرطِ نجات تھا اور یہ خداکے ہاں بھی تسلیم شدہ شرط تھی۔ اگر ایمان شرطِ نجات ہوتی تو جملہ یوں ہوتا ’إِنَّ ابْنِی مِنْ المؤمنین‘، کہ میرا بیٹا صاحب ایمان ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ بیٹے کو ’مِنْ اَہۡلِی‘ کہہ کر اس شرط کو ’وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ‘ کے الفاظ میں وعدۂ الٰہی قرار دیا گیا ہے۔دل جمعی کے لیے آیت پر نگاہ ڈال لیجیے:

وَنَادٰی نُوْحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَھْلِیْ وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاَنْتَ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ. قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ فَلَا تَسْئَلْنِ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ.(ہود ۱۱: ۴۵۔ ۴۶)
’’نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا کہ پروردگار، میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے اور اِس میں شبہ نہیں کہ تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب منصفوں سے بڑھ کرمنصفانہ فیصلہ کرنے والا ہے۔ فرمایا: اے نوح، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ فعلِ نابکار ہے۔۱۹؂ سو مجھ سے اُس چیز کے بارے میں سوال نہ کرو جس کا تجھے کچھ علم نہیں ہے۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جذبات سے مغلوب ہو جانے والوں میں سے نہ بنو۔‘‘

دوسرے یہ کہ اگر اللہ کے نزدیک بھی ایمان ہی شرط نجات تھی، تو اللہ ’اِنَّ ابْنِی مِنْ اَھۡلِی‘ کو رد کرتے اور کہتے کہ وہ اہل میں سے تو ہے، مگر اہل ایمان میں سے نہیں ۔ اللہ نے تو وہ جواب دیا ہے جس سے میرے فہم کی تصدیق ہوتی ہے کہ اہل نوح کو نجات کا وعدہ تھا، لیکن بیٹے کو اس لیے نہیں بچایا گیا کہ وہ اہل ہی میں سے نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں: ’اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ اَھۡلِکَ‘، اس لیے قرآن کے الفاظ واضح طور پر یہ بیان کررہے ہیں کہ ان کے اہل خانہ کو بچایا گیا تھا، جس میں اہل خانہ ہونا ہی شرطِ نجات تھی۔
اگر اہل ایمان ہی کو بچانا مقصود تھا، تو اس دراز گوئی کی ضرورت ہی کیا تھی کہ اہل خانہ کا ذکر الگ سے کیا گیا اور اہل ایمان کا الگ سے۔بس سادہ بات کہہ دی جاتی کہ ان ان جانوروں کو بھی سوار کرلو، اور اہل ایمان کو بھی۔ اس تفصیل کی ضرورت سمجھ نہیں آتی۔ سواے اس کے جو بات ہم عرض کررہے ہیں، وہ پیش نظر ہو۔
یہاں از راہ اطمینان کچھ مزید باتوں کی طرف اشارہ مفید رہے گا۔ایک یہ کہ بنی اسرائیل کا مصر سے اخراج اور فرعون کے ساتھ غرق ہونے سے نجات بشرط ایمان نہیں تھی، بلکہ صرف اسرائیلی ہونے کی بنا پر تھی۔ ان کے ایمان کی حالت تو قدم قدم پر خروج از مصر سے پہلے اور بعد میں واضح ہی تھی، جس کے چیدہ چیدہ پہلو سورۂ بقرہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ سلسلۂ رسالت و نبوت میں نوح علیہ السلام ہی کے بعد۲۰؂ سے ذریت انبیا کو ایک اہمیت رہی ہے۔ حضرت نوح برگزیدگی پاتے ہیں، لیکن اس ذاتی برگزیدگی کا صلہ یہ ملتا ہے کہ ان کی اولاد میں آمد انبیا کا وعدہ بھی شامل ہو جاتا ہے۔۲۱؂ انبیا کے اہلِ بیت کو عموماً ایک اہمیت رہی ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کو بھی ایک اہمیت حاصل رہی ہے۔ سورۂ تحریم اور سورۂ احزاب میں اس اہمیت کو بھانپا جاسکتا ہے۔
حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کے معاملے میں کوئی وجہ ہے کہ اہل کا ذکر بطور خاص ہوا ہے۔حضرت نوح سے متعلق آیات اوپر آچکی ہیں ، ان کا دوبارہ حوالہ باعث طوالت ہوگا۔ البتہ حضرت لوط سے متعلق چند آیات پیش ہیں:

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ اِنَّ مَوْعِدَھُمُ الصُّبْحُ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ.(ہود ۱۱: ۸۱)
’’فرشتوں نے کہا: اے لوط، ہم تمھارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں۔ (مطمئن رہو)، یہ تمھارے قریب بھی نہیں آسکیں گے۔ سو اپنے اہل و عیال کو لے کر کچھ رات رہے نکل جاؤاور تم میں سے کوئی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ تمھاری بیوی نہیں، اِس لیے کہ اُس پر وہی کچھ گزرنے والا ہے جو اِن لوگوں پر گزرنا ہے۔ اِن (پر عذاب) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ (تم پریشان کیوں ہوتے ہو)؟ کیا صبح قریب نہیں ہے!‘‘ (ترجمہ از البیان)

دیکھ لیجیے ، خاندان کی بات ہوئی ہے اور خاندان میں سے جیسے حضرت نوح کے بیٹے کو خارج سمجھا گیا، یہاں حضرت لوط کی بیو ی کو خارج از اہل بیت سمجھا گیا:

قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ. اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ اِنَّا لَمُنَجُّوْھُمْ اَجْمَعِیْنَ. اِلَّا امْرَاَتَہٗ قَدَّرْنَآ اِنَّھَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ.(الحجر ۱۵: ۵۸۔ ۶۰)
’’فرشتوں نے جواب دیا: ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ صرف لوط کے گھر والے مستثنیٰ ہیں۔ اُن سب کو ہم لازماً بچا لیں گے۔ اُس کی بیوی کے سوا۔ ہم نے ٹھیرا لیا ہے کہ وہ اُنھی میں ہو گی جو پیچھے رہ جائیں گے۔‘‘ (ترجمہ از البیان)

اس مضمون کی آیتوں ۲۲؂ میں دیکھ لیجیے کہ آل لوط کے بچائے جانے کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے لفظوں کا یہ چناؤ خاص پہلو رکھتا ہے، جو تحقیق طلب ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ عذاب کے موقع پر بچانے کے لیے ایمان کے بجاے ’اہل‘ کا ذکر کیا گیا ہے ؟ان دونوں انبیاے عظام کی دعائیں بھی کچھ اسی مضمون کی ہیں،۲۳؂ جس سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ان کے اہل خانہ کو دعوت کے کسی خاص مرحلے پر یہ اہمیت حاصل ہوئی ہو۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں نصاریٰ کے خلاف مباہلے میں اہل خانہ کی ہلاکت و نجات معیار و دلیل قرار پائی تھی، ویسے ہی ان دونوں کی پوری دعوت ہی شاید مباہلہ نما بن گئی تھی، جن میں اہل خانہ کا بچایا جانا ان کے حق پر ہونے کی دلیل تھا۔ چنانچہ اسی مباہلہ نما صورت حال کے باوصف ان دونوں کے اہل خانہ کو ہر صورت بچایا گیا۔
۴۔ ’’اشراق‘‘ نومبر ۲۰۱۸ء میں طبع شدہ اس مضمون میں ایک دل چسپ تضاد بھی اسی بحث میں آپ کو ملے گا۔ مضمون کے پہلے حصے میں میری بات کو تسلیم کرلیا گیا، اور دوسرے حصے میں اسی آیت سے دوسرے معنی پر استشہاد کیا گیا ہے:

حَتّٰٓی اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَفَارَالتَّنُّوْرُ قُلْنَا احْمِلْ فِیْھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلٌ. (ہود ۱۱: ۴۰)
’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ پہنچا اور طوفان ابل پڑا تو ہم نے کہا:ہر قسم کے جانوروں میں سے نر و مادہ، ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو اور اپنے گھر والوں کو بھی (اِس کشتی میں سوار کرا لو)، سواے اُن کے جن کے بارے میں حکم صادر ہو چکا ہے، اور اُن کو بھی جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے۔‘‘(ترجمہ از البیان)

اس آیت کے بارے میں میری بات کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا گیا کہ(خط کشیدہ الفاظ نگاہ میں رہیں):

’’دیکھ لیاجاسکتاہے کہ یہاں ’وَمَنْ اٰمَنَ‘ کو ’اَھْلَکَ‘ پرعطف کیاگیاہے۔ یہ مغایرت کا تقاضا کرتا اور یوں بڑی خوبی سے اس بات کو بیان کردیتا ہے کہ نوح کو اپنے اہل کے علاوہ کچھ اورمومنین کوبھی سوارکرنے کاحکم ہواتھا۔‘‘(ماہنامہ ’’اشراق‘‘ نومبر ۲۰۱۸ء ، ۴۷)

لیکن آگے چل کر اس بات کو فراموش کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’دو مقامات پر ’اَھْلَکَ‘ کالفظ استعمال ہواہے،مگران دونوں مقامات پر وہ اپنے عموم کے بجاے تخصیص میں ہوا ہے۔ یعنی،اس لفظ سے مراد تمام اہل وعیال سرے سے ہے ہی نہیں کہ اس سے کوئی شخص اہل ہونے کونجات کی وجہ قراردے۔مذکورہ بالاآیت میں اس تخصیص کی دلیل اس لفظ کو استعمال کرنے کا موقع اور اس پرعطف ہونے والے ’وَمَنْ اٰمَنَ‘ کے الفاظ ہیں۔‘‘ (ماہنامہ ’’اشراق‘‘ نومبر ۲۰۱۸ء ، ۵۰)

نہ جانے وہ کون سی منطق ہے، جس سے ایک ہی لفظ ایک ہی آیت میں نقیضین کے لیے دلیل بن رہا ہو ۔یعنی ایک طرف یہ اہل وعیال سے مغایرت بن رہا ہو اور دوسری طرف وہ ان کے لیے ایمان کے لحاظ سے تخصیص کا باعث بھی ہو۔مغایرت اور یہاں پیش نظر تخصیص ایک ساتھ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ مثلاً یہ جملہ دیکھیے کہ:

بیٹا اپنے بچوں کو اورپاکستانی بچوں کو لیتے آنا۔

’پاکستانی بچوں کو لیتے آنا‘ سے یہ تخصیص کیسے ہوگی کہ ’’اپنے بچے‘‘ بھی پاکستانی ہوں۔
۵۔ اس ضمن میں، یعنی ’’اہل کو محض اہل ہونے کی بنا پر کشتی میں سوار کرنے‘‘ کی میری راے کے رد میں ایک اور دلیل دی گئی ہے کہ:

’’دوسرے اس پرآنے والا ’اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ‘ کا استثنا ہے جس نے واضح طورپر بتادیاہے کہ سوار ہونے کے اس حکم میں اہل سے آپ کے تمام اہل نہیں، بلکہ وہ خاص اہل مرادہیں جن کے بارے میں خداکے عذاب کافیصلہ صادرنہیں ہوچکا۔بلکہ دوسری جگہ پراِس استثنا کے بعدآنے والے ’وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا۲۴؂ ‘ کے الفاظ نے توسلبی طریقے سے بھی اس تخصیص کو نمایاں کر دیا ہے۔‘‘ (ماہنامہ ’’اشراق‘‘ نومبر ۲۰۱۸ء ، ۵۰)

اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ‘ کے الفاظ بلاشبہ تخصیص کررہے ہیں ۔ لیکن تخصیص کا جو پہلو یہاں بیان ہوا ہے: ’’جن کے بارے میں خدا کے عذاب کا فیصلہ صادر نہیں ہو چکا‘‘، اس کے تعین کی کوئی وجہ کلام میں موجود نہیں ہے ۔ اگر بفرض محال میں اسے مان بھی لوں تو میں یہ کہوں گا کہ ہاں ابن نوح کے بارے میں یہ فیصلہ صادر ہو چکا تھا، اس لیے اس کے سوا باقی اہل خانہ سوار کرلیے گئے۔لیکن یہ فیصلہ اس کے بارے میں کیوں صادر ہوا، اس کی ایمان کے علاوہ وجوہ بھی ہو سکتی ہیں۔کلام میں کوئی وجہ ایمان سے تخصیص کی موجود نہیں ہے۔ ’اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ‘ اس جملے کا جس طرح مصداق ’’کافر ہونا‘‘ ہو سکتا ہے، اسی طرح ’’غیر اہل ہونا‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔مراد یہ ہے کہ جو اہل ہونے کے معیار پر پورا نہیں اترے گا ، اسے سوار نہیں کیا جائے گا ۔
رہا ’وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا‘ کا معاملہ تو مجھے اس سے بھی اتفاق نہیں ہے کہ یہ جملہ تخصیص کے محل میں ہے۔یہ جملہ محض تنبیہ و تاکید کاہے کہ جب ظالم غرق ہوں تو اس وقت آپ ظالموں کی ہم دردی میں مجھ سے بات نہیں کریں گے۔ حضرت نوح کا ہلاک ہونے والا بیٹا یقیناًاہل میں سے نہ ہونے کے ساتھ ساتھ اہل ایمان میں سے بھی نہیں تھا،ورنہ دو میں سے کسی شرط کے پورا ہونے پر بچا لیا جاتا۔ لہٰذا، بیٹے سمیت ہلاک ہونے والے سب کے سب ظالم تھے، انھی کے بارے میں بات ہو رہی ہے کہ ’وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا‘، ’’تم ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات بھی نہ کرنا‘‘۔ پچھلے کلام کے لیے اس میں تخصیص نام کی کوئی چیز اشارہ کی حد تک بھی موجود نہیں ہے۔ میری بات تو تب رد ہوتی کہ ہلاک ہونے والا بیٹا ظالموں میں سے نہ ہوتا، اور یہ جملہ بولا گیا ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ظالم بھی تھا اور بے نسب بھی۔
اور اگر تخصیص کے محل میں مان بھی لیں تو تب بھی یہ جملہ کشتی کے سوار وں کی تخصیص نہیں کرتا۔کشتی والوں کا بیانِ استثنا ’اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْھُمْ‘ پر ختم ہو جاتا ہے۔ ’وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا‘ والا جملہ صرف یہ بتا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے سب ظالم ہی ہوں گے۔یہ نہیں کہتا کہ بچنے والے ظالم نہیں ہوں گے۔ اگر جملہ یوں ہوتا کہ: ’اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ‘، تو یقیناً تخصیص قائم ہو جاتی۔ یہاں تو جو جملہ —— یعنی ’اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْھُمْ‘ —— ان کے استثنا کے لیے آرہا ہے، وہ ایمان و کفر کی کسی چیز کا حامل نہیں ہے۔
۶۔حضرت نوح کی بیوی کے خائن ہونے کے معنی کیا ہیں؟ میرے لیے یہ نہایت تکلیف دہ امر ہے کہ میں ان اولوالعزم اور جلیل القدر رسولوں کے بارے میں اس موضوع پر زور قلم صرف کروں۔ لیکن چونکہ یہاں استدلال درست استوار نہیں کیا گیا ہے، اس لیے اس کا تجزیہ ضروری ہے ۔ یہاں صاحب مضمون نے زیادہ تر استدلال کے بجاے اپنے مزعومات کو پیش کیا ہے۔ان سب کا ایک اصولی اور مختصر جواب تو یہ ہے کہ جب اللہ نے اسے خائن کہا ہے تو میرا تو اس میں قصور نہیں ہے۔وہ مزعومات جو معترض نے پیش کیے ہیں، کچھ ایسے ہیں: مثلاً یہ کہ حضرت نوح کو اللہ نے کیوں نہیں بتایا کہ ان کی بیوی بد چلن ہے، وہ عذاب تک ان کی بیوی کیوں رہی وغیرہ۔محض خود ساختہ باتیں ہیں۔ ۲۵؂ خود جس معنی میں انھوں نے زوجۂ نوح کو خائن مانا ہے، یہ سب سوالات اس لحاظ سے بھی پیدا ہوجائیں گے۔ کہیں ان کی شدت کم اورکہیں زیادہ ہو جائے گی۔البتہ ہمارے دوست نے یہ جو کہا ہے، اسے ضرور سمجھ لینا چاہیے کہ :

’’جہاں تک خیانت کاتعلق ہے، تویہ بات واضح رہنی چاہیے کہ محض یہ لفظ اُن کی عورت پراتنابڑاالزام لگادینے کے لیے ہرگزصریح نہیں ہے۔عربی زبان میں یہ لفظ اصل میں امانت کے مقابلے میں آتااورامین بنادینے کے بعد کسی شخص پرجواعتمادپیداہوتاہے ،اُس کے مجروح ہوجانے پراستعمال کیا جاتا ہے۔ ... بدچلنی توکسی صورت نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ اس دعوے کے لیے جس درجے کاقرینہ چاہیے ،وہ اشارے کی حدتک بھی کہیں کلام میں موجودنہیں ہے۔‘‘(ماہنامہ ’’اشراق‘‘ نومبر ۲۰۱۸ء ، ۵۲)

عمومی مستعمل معنی کے لیے قرائن فراہم کرنے کا مطالبہ غیر علمی تقاضا ہے۔ مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ ’’تھوڑی سی پیتا ہوں‘‘۔ تو اس میں شراب نوشی کے لیے قرینہ کا مطالبہ نہایت تعجب کی بات ہوگی۔عربی زبان کا یہ اسلوب واضح ہے کہ جب بھی کہا جائے کہ ’خانت بعلہا‘ (اس نے شوہر سے خیانت کی)، اور یہ نہ بتایا جائے کہ خیانت کس معاملے۲۶؂ میں کی تو مراد صرف بدچلنی ہی ہوگی۔ جیسے ہماری اردو میں بے وفائی کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور انگریزی میںcheat her husband کا۔ آیت دیکھیے: ’... امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰھُمَا...‘ (التحریم ۶۶: ۱۰)، اس میں کسی اور معاملے کا ذکر نہیں ہے۔بس شوہروں کے ساتھ خیانت کا ذکر ہے۔ جب سیدہ عائشہ پر نازیبا تہمت لگی، تو اس واقعہ کی روایات میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ کے بارے میں جو جملہ نبی کریم کو کہا، اس کے الفاظ یہ تھے: ’الَّتِي خَانَتْکَ، وَفَضَحَتْنِي‘ ۲۷؂ (المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۶۳۸۹)۔ اسی طرح بری بیوی کے اوصاف بتاتے ہوئے ایک حدیث کے الفاظ ہیں: ’وَامْرَأَۃٌ غَابَ زَوْجُہَا وَقَدْ کَفَاہَا مُؤْنَۃَ الدُّنْیَا فَخَانَتْہُ بَعْدَہُ‘ ۲۸؂ (ابن حبان، رقم ۴۵۵۹)۔ عباسی دور کے ایک شاعر ابن رومی کا شعر ہے:

خانت بہ أمُّہ أباہُ        فعینُہ عینُہا الخَؤونُ۲۹؂

مختصر یہ کہ یہ اسلوب واضح اور دو ٹوک ہے۔آج بھی عربوں کے ہاں اس کے لیے باقاعدہ ایک اصطلاح: ’الخیانۃ الزوجیۃ‘ استعمال ہوتی ہے۔ اس کے معنی ہی یہ ہوتے ہیں کہ میاں یا بیوی کا کسی غیر مردو عورت سے تعلق رکھ کر اپنے جوڑے سے خیانت کرنا۔حقیقت یہ ہے کہ دوسرے معنی لینے کے لیے یہاں قرائن کی ضرورت ہے۔اگر قرینے ہی کے پہلو سے بات کریں تو خیانت کی شوہر یا بیوی کی طرف نسبت ہی اس کا دو ٹوک قرینہ ہے، جسے یہاں ’فَخَانَتَاہُمَا‘ کے الفاظ سے بتایا گیا ہے۔خیانت کرنے والی دو عورتیں ہیں جنھوں نے اپنے شوہروں کے نکاح میں ہوتے ہوئے خیانت کی۔ نکاح کا قرینہ فراہم کرنے کے لیے ’تَحْتَ عَبْدَیْنِ‘ کے الفاظ آئے ہیں، وگرنہ کلام میں ان الفاظ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
۷۔ اس زیر بحث مضمون میں ، امانت کا ایک عجیب پہلو بھی بیان ہوا ہے کہ نوح اور لوط علیہما السلام کو بڑی امید تھی کہ ان کی بیویاں حق کو قبول کرتے ہوئے اپنے شوہروں کی مؤید و معاون بنیں گی، لیکن انھوں نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی (اشراق ۵۳)۔ اگریہی امانت ہے تو پھر اسی سورہ میں اسی آیت کے فوراً بعد فرعون کی بیوی کا ذکر آیا ہے ۔ ان کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جو شوہر کی مؤید و معاون ہونے کے بجاے موسیٰ علیہ السلام کے دین پر آگئی تھیں۔ اگر پہلی چیز شوہر کی خیانت ہے تو دوسری کیوں نہیں؟ ہے نہ طرفہ تماشا!

وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ.(التحریم ۶۶: ۱۱)
’’اللہ ماننے والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے، جب اُس نے دعا کی: پروردگار، میرے لیے جنت میں اپنے ہاں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اُس کے عمل سے نجات دے اور اِس ظالم قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘

۸۔ حضرت نوح کا بیٹا انھی کی صلب سے تھا، کو ثابت کرتے ہوئے ہمارے دوست نے ایک اور دلیل دی ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’خداے علام نے کسی اور کی زبان سے نہیں، بلکہ اپنی طرف سے تبصرہ کرتے ہوئے اسے نوح کا بیٹا قرار دیا ہے۔ فرمایا ہے: ’...وَنَادٰی نُوْحُ نِ ابْنَہٗ‘ (ہود ۱۱: ۴۲)‘‘۔ یہ استدلال درست نہیں۔ واضح رہے کہ ’’اپنی طرف سے تبصرہ کرنے‘‘۳۰؂ اور ’’حکایت کرنے‘‘ میں بہت فرق ہوتا ہے۔مندرجہ بالا جملے میں اللہ کا تبصرہ تو کہیں نہیں ہے، البتہ، جو حضرت نوح نے کیا، اللہ تعالیٰ اسے حکایت کررہے ہیں۔ حضرت نوح نے اپنے بیٹے ہی کو پکارا تھا۔وہ اللہ کی اطلاع سے پہلے اسے اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے۔تو صحیح بات یہ ہے کہ یہ اللہ کا تبصرہ ہر گز نہیں ہے، محض حکایتِ ماجرا ہے۔ اس سے یہ دلیل ہر گز نہیں نکالی جاسکتی،جو ہمارے دوست نے برآمد کرنے کی کوشش کی ہے۔
ہاں، اس صورت میں کوئی یہ کہہ سکتا تھا کہ اللہ نے اس کی تردید نہیں کی، تو اس لیے اس کے حقیقت ہونے کا امکان ہے۔ لیکن قسمت سے یہاں اس کی تردید بھی کلام میں موجود ہے۔ حضرت نوح کے اپنے بیٹے کو پکارنے کی حکایت بیالیسویں ۳۱؂ آیت میں ہے اور چھیالیسویں آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی تردید آگئی ہے۔ اس مقام پر نگاہ ڈال لیجیے۔ ہم طوالت سے بچنے کے لیے صرف تردید والی چھیالیسویں آیت ہی اقتباس کررہے ہیں:

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَاِلحٍ فَلَا تَسْئَلْنِ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ.(ہود ۱۱: ۴۶)
’’فرمایا: اے نوح، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ نہایت نابکار ہے۔ سو مجھ سے اُس چیز کے بارے میں سوال نہ کرو جس کا تجھے کچھ علم نہیں ہے۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جذبات سے مغلوب ہو جانے والوں میں سے نہ بنو۔‘‘ (ترجمہ از البیان)

اس پر آخری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حکایتِ ماجرا کی مجبوری ہے کہ اس ناخلف کو حضرت نوح کا بیٹا کہہ کر ہی ذکر کیا جائے گا، اس لیے کہ اسے بیٹا کہے بغیر حکایت ممکن ہی نہیں ہے۔ جو بات کہنا پیش نظر ہے، اس کے لیے اسے ’بیٹا‘ کے لفظ کا حوالہ دیا جانا ضروری ہے۔ میں اپنے پورے مضمون میں اس کے باوجود کہ اسے نوح علیہ السلام کا بیٹا نہیں مانتا ، مگر لکھنا یہی پڑا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے حقیقت کے خلاف ہونے کے باوجود لکھنا یہی پڑے گا کہ بقول نصاریٰ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ وہ واقعہ جو ان آیات میں بیان ہوا ہے، وہ اسے بیٹا کہے بغیر بیان کرنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ واقعہ جب وقوع پذیر ہورہا تھا تو حضرت نوح اس سے بیٹے ہی کی طرح معاملات کررہے تھے۔ ایک موٹی سی مثال دیکھیں: اگر پہلے ’وَنَادٰی نُوحُنِ ابْنَہٗ‘ حکایت نہ کیا جائے تو حضرت نوح کا یہ جملہ آیا حکایت کیا جاسکے گا کہ ’یّٰبُنَیَّ ارْکَبْ مَعَنَا‘؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔
حکایت اور تبصرہ کے فرق کو نہ سمجھنے ہی کی وجہ سے لوگ قرآن پر اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کا مصنف یہ مانتا ہے کہ زمین پر ہی سورج کے غروب ہونے کی ایک جگہ ہے، وہاں سیاہ کیچڑ کا ایک چشمہ ہے ،اور واقعتا سورج روزانہ اس چشمہ میں جا ڈوبتا ہے۔قرآن کا یہ مقام یوں ہے:

حَتّٰٓی اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَھَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِءَۃٍ....(الکہف ۱۸: ۸۶)
’’یہاں تک کہ جب ذوالقرنین سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچا تو اُس نے سورج کو دیکھا کہ ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوب رہا ہے...۔‘‘ (ترجمہ از البیان)

کیا خیال ہے، اسے بھی اللہ کا تبصرہ نہ سمجھ لیا جائے، اور مان لیا جائے کہ واقعی سورج زمین پرہی کسی جگہ غروب ہوتا ہے اور واقعتا وہاں سیاہ کیچڑ کا ایک چشمہ ہے جس میں وہ ہر شام کو ڈوبتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ ماننا ممکن نہیں ہے ، حالاں کہ اس کی تردید بھی نہیں آئی، اس لیے ضروری ہے کہ حکایت اور تبصرۂ الٰہی میں فرق ملحوظ رکھا جائے، وگرنہ کئی مسائل پیدا ہو جائیں گے۔
یہ ہمارے اس عزیزدوست کا نقد تھا جس نے حال ہی میں قرآن کے گہرے مطالعے کا کام بڑی جاں فشانی سے مکمل کیا ہے، ’بارک اللّٰہ فیہ‘۔ لہٰذا ، توقع یہی ہے کہ قرآن کے تمام مقامات جو اس موضوع پر پیش کیے جاسکتے تھے، سامنے آگئے ہوں گے۔اپنے دوست کی اس گراں قدر خدمت پر ان کا تہ دل سے شکرگزار ہوں۔ اس نقد کے جائزے کے بعد اب میں مزیدتسلی کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ قرآن کے واضح بیانات کے مطابق بنی اسرائیل حضرت نوح علیہ السلام کی نہیں، بلکہ ان کے کسی ساتھی کی نسل سے ہیں۔ لہٰذا، حضرت ابراہیم حضرت نوح کے خانوادے سے نہیں، بلکہ نوح علیہما السلام کے ساتھی ’عَبْدًا شَکْوْرًا‘ کی اولاد سے ہیں۔ دنیا میں حضرتِ نوح ہی کی نہیں، کئی اور نسلیں بھی آباد ہیں، اور یہ کہ حضرت نوح کا بیٹا، ان کے اہل خانہ میں سے نہیں تھا۔ والعلم عند اللّٰہ۔

________

۱۲؂ کتاب خروج ۴: ۶۔
۱۳؂ طٰہٰ۲۰: ۲۲۔
۱۴؂ خروج ۲۰: ۱۱۔
۱۵؂ ق ۵۰: ۳۸۔
۱۶؂ النساء ۴: ۱۵۷۔
۱۷؂ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ آپ کے اہل خانہ کے لیے ایمان کی شرط نہیں تھی۔
۱۸؂ واضح ہے کہ یہاں یہ اسلوب اختیار نہیں کیا گیا، جو حضرت شعیب کے بارے میں اس آیت میں ہے: ’وَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ‘ (ہود ۱۱: ۹۴)۔
۱۹؂ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ تحریم کی دسویں آیت۔
۲۰؂ ان سے پہلے کی معلومات میسر نہیں ہیں، ہوسکتا ہے پہلے بھی ایسا رہا ہو۔
۲۱؂ مثلاً دیکھیے: ’وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰھِیْمَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِھِمَا النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ فَمِنْھُمْ مُّھْتَدٍ وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ‘ (الحدید ۵۷: ۲۶)۔ قرآن میں سورۂ انعام (۶) کی آیات ۸۴ تا ۸۷ والا مقام بہت دل نواز ہے۔ آیت ۸۴ میں ’وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ‘ا ور ۸۶، ۸۷ میں ’وَاِسْمٰعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَیُوْنُسَ وَ لُوْطًا وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰلَمِیْنَ. وَمِنْ اٰبَآئِھِمْ وَذُرِّیّٰتِھِمْ وَاِخْوَانِھِمْ وَاجْتَبَیْنٰھُمْ‘ پر خاص طور سے نگاہ ڈالیے۔ حضرت ابراہیم کو امامت پر سرفراز کیا جاتا ہے، تو وہ ذریت میں اس کے اجرا کا مطالبہ کرتے ہیں (البقرہ ۲: ۱۲۴)۔ سورۂ عنکبوت (۲۹) میں ابراہیم علیہ السلام کے بارے ہی میں آیا ہے: ’وَوَھَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ وَاٰتَیْنٰہُ اَجْرَہٗ فِی الدُّنْیَا وَاِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ‘ (۲۷)۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ اولاد، آبا اور اخوان وغیرہ میں چناؤ میرٹ پر ہی ہوا کرتاتھا۔
۲۲؂ اسی مضمون کی ایک آیت یہ ہے: ’کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ م بِالنُّذُرِ. اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ نَجَّیْنٰھُمْ بِسَحَرٍ‘، ’’قوم لوط نے بھی تنبیہ کو جھٹلا دیا۔ ہم نے اُن پر پتھر برسانے والی ہوا مسلط کر دی۔ صرف لوط کے گھر والے اُس سے محفوظ رہے۔ ہم نے خاص اپنی عنایت سے اُن کو صبح دم نکال دیا۔‘‘ (القمر ۵۴: ۳۳۔ ۳۴۔ ترجمہ از البیان)۔
۲۳؂ نوح و لوط علیہما السلام کی یہ دعائیں ذیل میں ہیں۔
حضرت نوح کی دعا:

وَنُوْحًا اِذْ نَادٰی مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَنَجَّیْنٰہُ وَاَھْلَہٗ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ.(الانبیاء ۲۱: ۷۶)
’’یاد کرو، اِن سب لوگوں سے پہلے جب نوح نے پکارا تو ہم نے اُس کی دعا قبول کی اور اُسے اور اُس کے اہل کو بڑی مصیبت سے نجات بخشی ۔‘‘

حضرت لوط کی دعا:

رَبِّ نَجِّنِیْ وَاَھْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ. فَنَجَّیْنٰہُ وَ اَھْلَہٗٓ اَجْمَعِیْنَ. اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ.(الشعراء ۲۶: ۱۶۹۔ ۱۷۱)
’’(تب لوط نے دعا کی): میرے پروردگار، تو مجھے اور میرے گھر والوں کو اُس عمل کے انجام سے نجات عطا فرما جو یہ کر رہے ہیں۔ سو ہم نے اُسے اور اُس کے سب گھر والوں کو نجات دی۔ ایک بڑھیا کے سوا جو پیچھے رہنے والوں میں رہ گئی۔‘‘ (ترجمہ از البیان)۔

ان دونوں دعاؤں میں اہل ایمان کی نہیں اہل خانہ کی نجات طلب کی گئی ہے۔اس پہلو کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن ان کے اہل کا اس اہتمام سے ذکر کیوں کرتا ہے۔
۲۴؂ پورا جملہ یوں ہے: ’... فَاسْلُکْ فِیْھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْھُمْ وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْنَ‘ (المومنون ۲۳: ۲۷)۔
۲۵؂ مثلاً اسی بات کودیکھیں کہ وہ عذاب تک ان کی بیوی کیوں رہی؟ غیر ضروری سوال ہے؟ کہاں آیا ہے کہ وہ عذاب تک ساتھ ہی تھی، پھر کیسے معلوم ہوا کہ وہ دائمی خائن تھی ؟ اور پھر کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے ان کو نہیں بتایا تھا، اور یہ کیسے معلوم ہوا کہ بتانے کے بعد بیٹے کے نسب پر لازماً سوال اٹھے گا۔ لہٰذا، اس طرح کی باتیں محض مزعومہ تصورات پر قائم ہیں۔ ان کی اس بحث میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جتنے سوال اٹھائے گئے ہیں، سب کی نوعیت ایسی ہی ہے۔ اگر استدلال کی کوئی قوت ان میں ہوتی تو میں ضرور جواب دیتا۔
۲۶؂ مثلاً ’خانت بعلہا في العہد‘ (اس نے عہد میں شوہر سے خیانت کی)۔
۲۷؂ ’’جس نے آپ سے خیانت کی ہے اور مجھے رسوا کیا ہے۔‘‘ (میں صرف لسانی حوالے کے لیے لکھ رہا ہوں، صحتِ واقعہ زیربحث نہیں)۔
۲۸؂ ’’جس کا شوہر مفقود ہو جائے، اس حال میں کہ ضروریات زندگی جمع کرگیا ہو تو وہ اس کے پیچھے اس سے خیانت کرے۔‘‘
۲۹؂ ’’یہ ، جس کی ماں نے اس کے حمل پر اس کے باپ سے خیانت کی، اب اس کی آنکھیں وہی ماں کی خیانت بھری آنکھیں ہیں‘‘۔(نوٹ یہ بہت بعد کا شعر ہے، اس لیے یہ صرف تائیدی طور پر پیش کررہا ہوں۔)
۳۰؂ یہ تعبیر صریح نہیں، لیکن مجانست کے اسلوب پر اسی کو اختیار کررہا ہوں۔
۳۱؂ یہ آیت یوں ہے:

...وَنَادٰی نُوْحُنِ ابْنَہٗ وَکَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْکَبْ مَّعَنَا وَلَا تَکُنْ مَّعَ الْکٰفِرِیْنَ.(ہود ۱۱: ۴۲)
’’...اور نوح نے اپنے بیٹے کو آواز دی، جو (کچھ فاصلے پر اُس سے)الگ تھا، بیٹا: ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ اور اِن منکروں کے ساتھ نہ رہو۔‘‘ (ترجمہ از البیان)

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List