Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

نوح اور ابراہیم: نقدِ احباب کا جائزہ (1/2) | اشراق
Font size +/-

نوح اور ابراہیم: نقدِ احباب کا جائزہ (1/2)

’’ابراہیم ذریت نوح نہیں، قرآن کا ایک انکشاف‘‘ کے موضوع پر میرا ایک مضمون ستمبر ۲۰۱۸ء کے ’’اشراق‘‘ میں طبع ہوا تھا، جس پر اہل علم احباب کی طرف سے سوالات و تبصرے زبانی و تحریری (مطبوعہ ’’اشراق‘‘ شمارہ نومبر ۲۰۱۸ء) صورت میں موصول ہوئے۔ جس سے مجھ پر واضح ہوا کہ میرے استدلال کے بعض پہلو تشنۂ توضیح ہیں، اور بعض آیات کا محل بھی توضیح طلب ہے ۔اس مقصد سے یہ توضیحی مضمون پیش خدمت ہے۔ اس کے پہلے حصہ میں اپنے مدعا کو نئی ترتیب سے پیش کیا ہے اور دوسرے حصہ میں نقدِ احباب کا جائزہ لیا ہے۔

توضیح استدلال

پہلے میں اپنے استدلال کو نئی ترتیب سے بیان کروں گا، اس لیے کہ میرے طبع شدہ مضمون کی بُنت میں درج ذیل ترتیب ممکن نہیں تھی۔ میرا استدلال ان نکات پر مشتمل تھا:
۱۔ قرآن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح اور ان کی اولاد کے علاوہ لوگ بھی کشتی میں سوار تھے۔ یہ اتنا واضح ہے کہ اس کا انکار ممکن نہیں۔ اتنی بات مجھ پر نقد کرنے والوں نے بھی تسلیم کی ہے (’’اشراق‘‘ صفحہ ۴۸ اور ۵۴)۔ یہ بات اس آیت سے معلوم ہوتی ہے:

حَتّٰٓی اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَفَارَالتَّنُّوْرُ قُلْنَا احْمِلْ فِیْھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَھْلَکَ ۱؂ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلٌ.(ہود ۱۱: ۴۰)
’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ پہنچا اور طوفان ابل پڑا تو ہم نے کہا:ہر قسم کے جانوروں میں سے نر و مادہ، ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو اور اپنے گھر والوں کو بھی (اِس کشتی میں سوار کرا لو)، سواے اُن کے جن کے بارے میں حکم صادر ہو چکا ہے، اور اُن کو بھی (سوار کرا لو) جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے۔‘‘(ترجمہ از البیان)

وَاَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ‘اور ’وَمَنْ اٰمَنَ‘ میں ’وَمَنْ اٰمَنَ‘ کا عطف ’اَھْلَکَ‘ سے مغایرت کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لیے انھیں ’اَھْلَکَ‘ سے الگ مراد لینا ہوگا، یعنی اہل خانہ کے علاوہ بھی لوگ کشتی پر سوار تھے۔
اس آیت میں حضرت نوح کے اہل خانہ کے علاوہ جن اہل ایمان کا ذکر ہوا ہے، بعض آیات سے ان کا تعارف بہ زبان کفار بھی ہوتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کے اہل بیت کے علاوہ بھی لوگ ایمان لائے تھے اور حضرت نوح ان کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ انھی لوگوں کو مذکورہ بالا آیات کے مطابق کشتی نوح میں سوار کیا گیا تھا:

قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الْاَرْذَلُوْنَ. قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ. اِنْ حِسَابُھُمْ اِلَّا عَلٰی رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَ. وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَ.(الشعراء ۲۶: ۱۱۱۔۱۱۴)
’’اُنھوں نے جواب دیا: کیا ہم تمھیں مان لیں، دراں حالیکہ تمھاری پیروی تو رذیلوں نے اختیار کر رکھی ہے۔ نوح نے کہا: مجھے کیا معلوم جو وہ کرتے رہے ہیں؟ ان کا حساب تو میرے رب کے ذمے ہے، اگر تم سمجھنا چاہو۔ (وہ مجھ پر ایمان لائے ہیں) اور (تمھاری خوشنودی کے لیے) میں اِن اہل ایمان کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔‘‘ (ترجمہ از البیان)

رسولوں کی قوموں پر جب ہلاکت کا عذاب آتا ہے تومعلوم ومعروف بات ہے کہ تمام اہل ایمان کو بچایا جاتا ہے۔ لہٰذا، لاز م ہے کہ ان اہل ایمان کو بھی کشتی نوح میں جگہ ملی ہوگی۔
۲۔ جب قرآن سے ثابت ہے کہ کشتی میں اولادِ نوح کے علاوہ بھی لوگ تھے، تو جب کہا جائے کہ ’’یہ نوح کے ہم سوار کی اولاد ہے‘‘ تو اس سے مذکورہ شخص کے اولاد نوح میں سے ہونے کی نفی ہو جاتی ہے۔ ہاں، اگرصرف نوح اور ان کی اولاد ہی کشتی میں ہو تو پھر اس کی نفی نہیں ہوتی، لیکن اس صورت میں پھر یہ جملہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یوں کیوں کہا گیا: ’یہ نوح کے ہم سوار کی اولاد ہے‘۔ تب یہ اسلوب غیر ضروری ہوگا، کیونکہ جب نوح کے خانوادہ کے علاوہ کوئی ہے ہی نہیں تو پھر اس گھماؤ پھراؤ کے طریقے پر بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔وہ آیت یوں ہے:

وَاٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنٰہُ ھُدًی لِّبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَکِیْلًا. ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوْرًا. (بنی اسرائیل ۱۷: ۲۔۳)
’’ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اُس کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا، اِس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ بناؤ۔ اے اُس شخص کے بیٹو، جسے ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر) سوار کیا تھا۔ جو (ہمارا) شکر گزار بندہ تھا۔‘‘

یہاں سوال یہ ہے کہ اگر بنی اسرائیل اولادِ نوح میں سے تھے تو قرآن مجید نے ’ذریۃَ نوحٍ‘ کہنے کے بجاے ’ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ‘ ۲؂ کا گھما پھرا کر بات کرنے کا اسلوب کیوں اختیار کیا ہے؟ میرا کہنا یہ ہے کہ اس جملے کی یہ ساخت واضح کرتی ہے کہ یہ بتانا پیش نظر ہے کہ بنی اسرائیل اولاد نوح میں سے نہیں ہیں۔میرے استدلال کو ایک سادہ مثال سے سمجھتے ہیں:

’’ہم نے نحوم کوشام میں بسایا، اس کے تین بیٹے، بہوئیں اور کچھ اہل ایمان بھی اس کے ساتھ بسائے۔ پھر ایک ہزار سال کے بعدافرایم پیدا ہوا، یہ نحوم کے ساتھ بسائے گئے شخص کی نسل سے ہے۔‘‘

اس مثال میں زبان کی صریح دلالت یہی کہتی ہے کہ افرایم، نحوم کی نسل سے نہیں ہے۔ اگرچہ یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک امکان ہے کہ وہ نحوم کے کسی بیٹے کی اولاد ہو،کیونکہ نحوم کے ساتھ بسائے جانے کی صفت پر وہ بھی پورا اترتا ہے۔ بلاشبہ، منطقی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے، لیکن لسانی طور پر یہ درست نہیں ہے، کیونکہ اگر افرایم، نحوم کی نسل سے ہے تو پھر وہ وجہ متعین ہونی چاہیے جس کی وجہ سے یہ پیچ دار اسلوب: ’’یہ نحوم کے ساتھ بسائے گئے شخص کی نسل سے ہے‘‘ اختیار کیا گیا۔ قرآن کی ابانت یہ تقاضا کرتی ہے کہ یا سیدھا سیدھا یہ کہا جائے کہ ’ذریۃ نوحٍ‘ یا یہ کہاجائے کہ ’ذریۃَ ابنِ نوحٍ‘۔ لہٰذا جو بنی اسرائیل کو آل نوح مانتے ہیں، انھیں اس اسلوب کے اختیار کرنے کی وجہ بتانی ہوگی کہ سیدھا جملہ کہنے کے بجاے ’ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ‘ کا پیچ دار اسلوب کیوں اختیار کیا گیا؟ جب کہ قرآن مجید کا خود اپنا بیان ہے کہ اس میں کوئی اینچ پینچ یا کجی نہیں ہے، ’’بلکہ جو کچھ فرمایا ہے، فصیح و بلیغ زبان میں اور نہایت سادہ اور دل پذیر اسلوب میں فرمایا ہے‘‘ (البیان: تفسیر سورۂ زمر ۳۹: ۲۸) اگر یہ جملہ اولاد نوح ہی کے بیان کاہے تو —— نعوذ باللہ —— مجھے قرآن کا یہ جملہ پہیلیوں کے اسلوب کی یاددلاتا ہے۔۳؂
۳۔ ابراہیم علیہ السلام سے متعلق قرآن مجید کے تمام مقامات میں کہیں بھی ان کی نوح علیہ السلام سے نسلی نسبت —— بہ الفاظ تو دور کی بات —— کنایۃً بھی بیان نہیں ہوئی۔ بلکہ جن مقامات پر اس کے بیان کا امکان تھا، وہاں بھی کلام میں، الفاظ و ضمائر سے واضح کیا گیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کا نوح علیہ السلام سے نسلی تعلق نہیں ہے۔ وہ الفاظ و ضمائر کے مقامات ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں:
ا: ابراہیم علیہ السلام کو ’من ذریۃ نوح‘ کے بجاے ’مِنْ شِیْعَتِہٖ‘ کہنا:

سَلٰمٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ. اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ. اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ. ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ. وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرٰھِیْمَ.(الصافات ۳۷: ۷۹۔ ۸۳)
’’نوح پر سلامتی ہے تمام دنیا والوں میں۔ ہم خوبی سے عمل کرنے والوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ پھر ہم نے اوروں کو غرق کر دیا۔ یقیناً اُسی کے گروہ میں سے ابراہیم بھی تھا۔‘‘(ترجمہ از البیان)

حالاں کہ ’ذریت‘ کا لفظ بولنے میں نہ آہنگ و ذوق کے لیے گرانی تھی اور نہ فصاحت و بلاغت میں۔ پھر اسی سلسلۂ آیات میں آگے اسحق و ابراہیم علیہما السلام کی اولاد کا ذکر لفظ ’ذریت‘ ہی سے ہوا ہے: ’وَبٰرَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰٓی اِسْحٰقَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِھِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ‘ (الصافات ۳۷: ۱۱۳)۔ لہٰذا اس کے سوا کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ ابراہیم حضرت نوح کی ذریت میں سے نہیں تھے، اسی لیے ’مِنْ شِیْعَتِہٖ‘ کے الفاظ چنے گئے ہیں۔
ب: ذیل کی آیات میں اسم ضمیر کے استعمال سے اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ لہٰذا، اگر داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف اور موسیٰ و ہاورن نسلاً خاندان نوح علیہم السلام میں سے ہیں تو خط کشیدہ مقام پر ’مِنْ ذُرِّیَّتِہٖ‘ کے بجاے ’من ذریتہما‘ کیوں نہیں ہے؟

وَوَھَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ کُلًّا ھَدَیْنَا وَنُوْحًا ھَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ۴؂ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَھٰرُوْنَ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ.(الانعام ۶: ۸۴)
’’(پھر یہی نہیں)، ہم نے ابراہیم کو اسحق اور یعقوب عنایت فرمائے۔ اُن میں سے ہر ایک کو ہم نے ہدایت بخشی۔ اِس سے پہلے یہی ہدایت ہم نے نوح کو بخشی تھی اور اس کی ذریت میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ ہم نیکوکاروں کو اِسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔‘‘ (ترجمہ از البیان)

ج: نوح علیہ السلام کے علاوہ سوار لوگوں کی اولاد میں نبی ہونے کی بشارت۔ اگر یہ کہا جاتا کہ نبوت صرف اولاد نوح کے لیے خاص ہے تو پھر مذکورہ بالا آیات سے پیدا ہونے والے تناقض کو فراموش کرتے ہوئے ماننا پڑتا کہ بنی اسرائیل اولاد نوح میں سے ہی مانے جائیں،کیونکہ اگر اولاد نوح کے علاوہ کسی میں نبی نہ آئے ہوتے تو ثابت ہو جاتا کہ ابراہیم اولاد نوح ہی میں سے تھے ۔لیکن ذیل کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت خاندان نوح علیہ السلام کے علاوہ کشتی میں سوار بعض خانوادوں کو بھی ملی ہے۔ آیت کریمہ یوں ہے:

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّۃِ اٰدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ وَّمِنْ ذُرِّیَّۃِ اِبْرٰھِیۡمَ وَاِسْرَآءِ یۡلَ وَمِمَّنْ ھَدَیۡنَا وَاجْتَبَیۡنَا اِذَا تُتْلٰی عَلَیۡھِمْ اٰیٰتُ الرَّ حْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُکِیًّا.(مریم ۱۹: ۵۸)
’’یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پیغمبروں میں سے اپنا فضل فرمایا، آدم کی اولاد میں سے اور اُن کی نسل سے جسے ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر)سوار کیا تھا، اور ابراہیم اور اسرائیل کی نسل سے اور اُن لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا تھا۔ اُن کو جب خداے رحمن کی آیتیں سنائی جاتی تھیں تو سجدے میں گر پڑتے اور روتے جاتے تھے۔‘‘(ترجمہ از البیان)

یہ آیت بھی دیکھیے، ’وَعَلٰٓی اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَکَ‘ میں بقا و برکات نسل نوح کے علاوہ کے لیے مذکور ہیں :

قِیْلَ یٰنُوْحُ اھْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَکٰتٍ عَلَیْکَ وَعَلٰٓی اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَکَ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُھُمْ ثُمَّ یَمَسُّھُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ.(ہود ۱۱: ۴۸)
’’ارشاد ہوا: اے نوح، اتر جاؤ، ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اور برکتوں کے ساتھ، تم پر بھی اور اُن امتوں پر بھی جو اُن سے ظہور میں آئیں گی جو تمھارے ساتھ ہیں۔ اور کچھ ایسی امتیں بھی ہیں جنھیں ہم آگے بہرہ مند کریں گے، پھر (ان میں رسول آئیں گے، اگر وہ ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں گے تو)۵؂ اُن کو بھی ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب پکڑ لے گا۔‘‘

ان آیات سے معلوم ہوا کہ نوح علیہ السلام کے خانوادے کے علاوہ نسلیں بھی دنیا میں موجود ہیں، اور ان میں نبوت بھی جاری ہوئی۔ توان سے یہ تردد زائل ہو گیا ہوگا کہ ان کے خاندان کے باہر نبوت نہیں ہو سکتی۔
۴۔ ذیل کی آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ذریت نوح کا ذکر علی الاطلاق نہیں کرنا چاہتے۔ اگر انعام یافتگان اور انبیا صرف اولاد نوح میں سے تھے تو ’ذریۃ آدم‘ ہی کی طرح ’ذریۃ نوح‘ کہنا کافی تھا:

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّۃِ اٰدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ وَّمِنْ ذُرِّیَّۃِ اِبْرٰھِیۡمَ وَاِسْرَآءِ یۡلَ وَمِمَّنْ ھَدَیۡنَا وَاجْتَبَیۡنَا اِذَا تُتْلٰی عَلَیۡھِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُکِیًّا.(مریم ۱۹: ۵۸)
’’یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پیغمبروں میں سے اپنا فضل فرمایا، آدم کی اولاد میں سے اور اُس شخص کی نسل سے جسے ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر)سوار کیا تھا، اور ابراہیم اور اسرائیل کی نسل سے اور اُن لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا تھا۔ اُن کو جب خداے رحمن کی آیتیں سنائی جاتی تھیں تو سجدے میں گر پڑتے اور روتے جاتے تھے۔‘‘

اس آیت میں خط کشیدہ الفاظ کو دیکھیے کہ آدم، ابراہیم اور اسرائیل علیہم السلام کے ساتھ براہ راست ’ذریت‘ کا لفظ آیا ہے، لیکن حضرت نوح کے ساتھ نہیں آیا۔ حضرتِ نوح کے لیے وہی پیچیدہ ۶؂ اسلوب: ’وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ‘ آیا ہے۔ لہٰذا یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ یہاں بھی اولاد نوح کے ساتھ کچھ اور کا ذکر بھی پیش نظر ہے ۔ اگر کشتی میں بس انھی کی اولاد سوار تھی یا کم از کم نبوت ہی ان کی اولاد میں محدود ہوتی تو ’ومن ذریۃ نوح‘ کہنا کافی تھا۔یہاں بھی اسلوب وہی ہے جو اوپر سورۂ بنی اسرائیل میں اختیار کیا گیا ہے۔سورۂ مریم اور سورۂ بنی اسرائیل کے اس موازنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت نوح کے کسی ساتھی کا معاملہ حضرت نوح کی طرح کاہے، وگرنہ مطلقاً حضرتِ نوح کا ذکر ہونا موزوں تھا۔
۵۔ ذیل کی آیت کی وجہ سے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ خود قرآن سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ذریت نوح ہی دنیا میں باقی رہی، باقی سب ہلاک ہو گئے اور وہ آیت یہ ہے:

وَلَقَدْ نَادٰنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ. وَنَجَّیْنٰہُ وَاَھْلَہٗ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ. وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰقِیْنَ.(الصافات ۳۷: ۷۵۔ ۷۷)
’’نوح نے ہم سے فریاد کی تھی۔ پھر (دیکھو کہ) ہم کیا خوب فریاد سننے والے ہیں! ہم نے اُس کو اور اُس کے اہل وعیال کو بہت بڑی مصیبت سے بچا لیا۔ اور ہم نے ٹھیرایا کہ اس کے بچے تولازماً بچیں گے ۔‘‘

ہمارے خیال میں ’ہُمُ الْبٰقِیْنَ‘ میں حصر کا اسلوب نہیں، بلکہ تاکید کاہے۔ لیکن یہ حصر کا اسلوب بھی لیا جائے تو اس بات کو مستلزم نہیں کہ نوح علیہ السلام کی اولاد کے سوا سب لوگ مارے گئے، بلکہ یہ اپنے موقع ومحل کے لحاظ سے صرف ان کے دشمنوں کے مقابل میں بولاگیا ہے، جوآپ کو ماردینے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔۷؂ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ نوح کو ستانے والوں کے مقابلے میں نوح علیہ السلام کے اہل خانہ ہی تو تھے جو بچائے گئے۔ یعنی یہ جملہ اسی معنی میں آیا ہے جس معنی میں سورۂ بقرہ کا یہ جملہ: ’اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ‘ (۲: ۱۲) ہے۔ وہاں یہ مطلب نہیں ہے کہ پوری دنیا میں بس وہ منافقین ہی ’مُفْسِدُوْنَ‘ تھے، اور کوئی مفسد نہیں تھا، بلکہ مراد یہ تھی کہ صحابہ نہیں، بلکہ یہ منافقین ہی مفسد ہیں۔ ٹھیک اس آیت کا مطلب بھی یہ ہے کہ دشمنانِ نوح نہیں، بلکہ ذریتِ نوح کے افرادہی بچائے گئے۔ اس آیت میں باقی اہل ایمان کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے، یہ صرف اولاد نوح کے بارے ہی میں ہے، اس لیے کہ یہ اہل ایمان کے مقابل میں نہیں، بلکہ کفار کے مقابل میں بولا گیا ہے۔
اگر اہل ایمان نہیں بچائے گئے تو یہ بات قانون رسالت کے عمومی اصول —— کہ عذاب کے وقت تمام اہل ایمان کو بچایا جاتا ہے —— کے خلاف ہوجائے گی ۔اوپر دونوں باتیں واضح ہیں: ایک یہ کہ اہل خانہ کے علاوہ لوگ ایمان لائے تھے، اور دوسرے یہ کہ کشتی میں اہل خانہ کے علاوہ اہل ایمان سوار کیے گئے تھے۔ یعنی وہ —— قانونِ رسالت کے عین مطابق —— ہلاک نہیں کیے گئے۔ اس لیے مندرجہ بالا آیت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہو گا کہ خانوادۂ نوح کے سوا کوئی بچا ہی نہیں۔ قرآن کی صریح نص موجود ہے کہ غیر خاندان کے اہل ایمان کو کشتی میں سوار کرکے بچایا گیا تھا۔
لہٰذا اس استدلال سے لازماً ثابت ہو جاتا ہے کہ:
۱۔ دنیا میں اولادِ نوح کے علاوہ اقوام و ملل بھی موجود ہیں۔
۲۔ کشتی میں نوح علیہ السلام ان کے بہو بیٹے، اور دیگر اہل ایمان سوار ہوئے اور قانون رسالت کے تحت عذاب سے بچا رکھے گئے۔بعد میں ان سب پر برکات ہوئیں، ان سب سے امتیں پیدا ہوئیں، اور ان میں سے بعض میں —— اولاد نوح سمیت —— نبوت بھی جاری ہوئی ۔
۳۔ بنی اسرائیل اولاد نوح نہیں، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ ابراہیم ، جو اسرائیل (حضرت یعقوب) کے سگے دادا ہیں، وہ بھی اولاد نوح علیہم السلام سے نہیں ہیں۔

نقدِ احباب کا جائزہ

یہ میرا استدلال تھا،جسے نئی ترتیب اور مزید توضیح کے ساتھ اوپر دہرادیا ہے۔اب ان اعتراضات و سوالات کا جائزہ لیتے ہیں، جو میرے احباب کی طرف سے پیش کیے گئے ہیں۔ان میں سے کوئی بیان، اعتراض یا سوال ایسا سامنے نہیں کہ جس سے میری راے کی غلطی ثابت ہوئی ہو۔ذیل میں ایک ایک نکتے کولے کر اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
۱۔ حضرت ابراہیم کے اولاد نوح میں سے ہونے کے ثبوت میں یہ آیت پیش کی گئی ہے:

اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفآی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰھِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ. ذُرِّیَّۃًم بَعْضُھَا مِنْ م بَعْضٍ.(آل عمران ۳: ۳۳۔ ۳۴)
’’ اِ س میں شبہ نہیں کہ اللہ نے آدم اور نوح کو، اور ابراہیم اور عمران کے خاندان کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اُن کی رہنمائی کے لیے) منتخب فرمایا۔ یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں۔...‘‘ (ترجمہ انھی دوست کا ہے)

اس آیت سے ہمارے مضمون کے خلاف جو استدلال کیا گیا ہے، وہ ذیل میں ہمارے دوست ہی کے الفاظ میں یوں ہے:

’’ ’’ایک دوسرے کی اولاد ہیں‘‘، اس جملے کا یہ مطلب، ظاہر ہے کہ نہیں لیا جاسکتا کہ ان میں سے ہر کوئی ایک دوسرے کا باپ بھی ہے اور اولاد بھی، بلکہ اس کا ایک ہی مطلب بنتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ سب لوگ ایک ترتیب سے ایک دوسرے کی اولاد ہیں، ۸؂ یعنی نوح آدم کی اولاد ہیں، آل ابراہیم نوح کی اور آل عمران ابراہیم کی۔‘‘ (ماہنامہ ’’اشراق‘‘ نومبر ۲۰۱۸ء ، ۵۶)

یہ ساری بات ہر گز درست نہیں ہے کہ ’بَعْضُھَا مِنْ م بَعْضٍ‘ میں ترتیب کا مفہوم ہوتا ہے۔ نہ اس مرکب میں یہ مفہوم عموماً ہوتا ہے ،اور نہ یہاں کلام میں اس مفہوم کے ادخال کے لیے کوئی قرینہ یا گنجایش موجود ہے۔اگر ان کی مراد یہ ہے کہ ’بَعْضُھَا مِنْ م بَعْضٍ‘ کے مرکب میں ترتیب اس کا لازمی حصہ ہے تو یہ بے بنیادبات ہے۔ مثلاً ذیل کی آیت دیکھیے: ’اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُھُمْ مِّنْ م بَعْضٍ‘ (التوبہ ۹: ۶۷) کیا ہم اس کا ترجمہ یوں کر سکتے ہیں کہ ’’منافق مرد اور منافق عورتیں، بالترتیب ایک دوسرے سے ہیں‘‘؟ یقیناً نہیں ۔اس لیے یہ استدلال بداہۃً غلط ہے۔ قرآن میں یہ اسلوب چار پانچ جگہوں پر آیا ہے کہیں بھی ترتیب کا مفہوم ان میں داخل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا اصل مفہوم بلا ترتیب ایک دوسرے سے ہونا ہے۔
بَعْضُھَا مِنْ م بَعْضٍ‘ کا مطلب بیانِ ماخذ ہوتا ہے، یہ بھی درست نہیں۔عربی مبین اس سے اِبا کرتی ہے کہ یہاں بیانِ ماخذ کے معنی میں اس مرکب کو لیا جائے۔ پہلی بات یہ کہ ’بَعْضُھَا مِنْ م بَعْضٍ‘، ایک دوسرے سے ہونے کا مفہوم رکھتا ہے۔ اس میں دونوں اطراف میں سے ہونے کا مفہوم لازم ہے، اس دو طرفہ نسبت کے مفہوم سے اسے جدا نہیں کیا جاسکتا، جیسا ہمارے دوست نے کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ مرکب دراصل اس معنی میں بیانِ ماخذ کے لیے آتا ہی نہیں، جس معنی میں ہمارے ساتھی نے لے لیا ہے، بلکہ یہ دراصل مماثلت اور برابری وغیرہ کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی طرفین میں یکسانیت، برابری ، ہم مشربی اور عدم تفاوت پر دلالت کرتا ہے۔اس میں آیا ہوا ’مِنْ‘ وہی مفہوم رکھتا ہے، جیسا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایتوں میں آتا ہے کہ ’حسین مني وأنا من حسین‘ (مسند احمد، رقم ۱۷۱۱۱)۔ یعنی حسین اور میں مماثل ہیں۔ یہی مفہوم ’بَعْضُھَا مِنْ م بَعْضٍ‘ کا ہوتا ہے۔ ’أنا من حسین‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں حسین کی اولاد ہوں، اور نہ ’حسین مني‘ میں یہ مراد ہے۔یعنی یہی جملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر صدیق کے لیے بھی بول سکتے تھے۔قرآن میں تقریباً تمام مقامات پر یہ اسلوب اسی معنی میں آیا ہے: مثلاً سورۂ توبہ کی مذکورہ بالا آیات کے ساتھ یہ آیت بھی دیکھیے: ’...اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی بَعْضُکُمْ مِّنْ م بَعْضٍ‘ (آل عمران ۳: ۱۹۵)۔ ۹؂ لہٰذا اس جملے کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ وہ صرف ایک طرف سے بالترتیب پہلے لوگوں کی اولاد ہیں۔اس کا مطلب صرف اور صرف یہی ہے کہ پہلے والے بعد والوں میں سے ہیں اور بعد والے پہلے والوں میں سے۔اس دو طرفہ نسبت کی نفی ہر گز نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا ہمارے دوست نے جو ترجمہ کیا ہے، وہ لسانی نہیں محض منطقی ہے۔ زبان کو اس کے منطقی نہیں لسانی مفاہیم اور مبین معنی میں لینا ہی اصل الاصول ہے ۔
ذریۃ‘ کا لفظ شاید اس غلطی کا سبب بنا ہوگا۔ ’ذریۃ‘ کا لفظ صرف ’’آل اولاد‘‘ کے معنی میں نہیں آتا، بلکہ ’’لوگوں‘‘، یعنی ’’بنی نوع آدم‘‘ کے معنی میں بھی آجاتا ہے۔اس معنی میں یہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے:

وَاٰیَۃٌ لَّھُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ.(یٰسٓ ۳۶: ۴۱)
’’اور اِن کے لیے ایک بہت بڑی نشانی یہ بھی ہے کہ اِنھی کی ذریت (لوگوں)۱۰؂ کو ہم نے بھری ہوئی کشتیوں میں اٹھا رکھا ہے۔‘‘

ہمارے خیال میں آل عمران کی زیر بحث آیت میں بھی یہ اسی معنی میں آیا ہے،اس لیے اس تکلف کی ضرورت ہی نہیں کہ ’بَعْضُھَا مِنْ م بَعْضٍ‘ کو اس کے عام مفہوم سے ہٹایا جائے۔
ہمارے معترض دوست نے سیاق و سباق کا خیال بھی نہیں رکھا۔ یہ موقع و محل سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی عدم الوہیت پر استدلال کا ہے۔بتایا جارہا ہے کہ آل ابراہیم اور آل عمران، دونوں کے گھرانے ابناے آدم پر مشتمل ہیں۔یہ سب لوگ انسان ہیں، جو ایک جیسے ہیں۔لہٰذا آل عمران میں ظاہر ہونے والے ابن مریم بھی ان جیسے انسان ہی ہیں۔یہ ایک دوسرے سے ہیں، ان میں سے کوئی بھی الوہی نہیں ہے۔اسی لیے اس آیت میں آل عمران کے ذکرکے فوراً بعد عیسیٰ علیہ السلام کی نیک طینت نانی کا ’امْرَاَتُ عِمْرٰنَ‘ کے الفاظ میں ذکر کر کے اس استدلال کو محکم کیا گیا ہے۔ یعنی آدم و نوح اور آل ابراہیم جیسی ہی ایک آل سے حضرت عیسیٰ منتخب کیے گئے۔ جو ایک نیک بی بی کی نذر سے ملنے والی بیٹی مریم کے بطن سے تھے۔
لسانی ذوق کا تقاضا ہے کہ ’ذریۃ‘ کا لفظ اگر اولاد یا نسل کے معنی میں لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ آل ابراہیم اور آل عمران کا بدل مانا جائے، نوح اور آدم کانہیں۔ اس لیے کہ ان کے لیے ’ذریت‘ کا لفظ بطور بدل درست نہیں، کیونکہ ذریت کے معنی آل، اولاد اور نسل کے ہیں۔مثلاً ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ:

ہم نے آدم اور نوح کو چنا، یعنی اولادکو چنا جو ایک دوسرے سے تھی۔

یہاں دیکھ لیجیے ’اولاد‘ کا لفظ نوح و آدم دونوں کے لیے درست بدل نہیں ہے۔ واضح ہے کہ یہاں ذریت —— بمعنی اولاد —— صرف آل کا بدل ہوسکتا ہے۔ لیکن فرض کرلیجیے کہ توسعاً استعمال ہوا ہو تو تب بھی حضرت آدم کویہ ہرگز شامل نہیں کرتا، اس لیے کہ وہ کسی معنی میں بھی ذریت نہیں تھے۔۱۱؂ اس لیے مزعومہ ترتیب کا دعویٰ غلط ہوجاتا ہے۔ لہٰذا،ہماری راے میں ذریت کو اگر اولاد اور نسل کے معنی میں لیا جائے تو صرف آخری دو خاندانوں کا بدل ہے۔ یعنی آل ابراہیم اور آل عمران۔ شاید یہی وجہ ہے کہ زمخشری نے اسے صرف انھی دو کا بدل مانا ہے۔لکھتے ہیں:

وذُرِّیَّۃً بدل من آل إبراہیم وآل عمران بَعْضُہَا مِنْ م بَعْضٍ یعني أنّ الآلین ذرّیۃ واحدۃ متسلسلۃ بعضہا متشعب من بعض.(الکشاف ۱/ ۳۵۴)
’’اور ذریت بدل ہے، آل ابراہیم و آل عمران سے، ’بَعْضُہَا مِنْ م بَعْضٍ‘ کا یہاں مطلب یہ ہے کہ دونوں خانوادے ایک نسلِ متسلسل ہیں، یہ ایک دوسرے کے شعوب ہیں۔‘‘

لہٰذا سیاق و سباق سے واضح ہے کہ آیت کے معنی بس یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ آل ابراہیم اور آل عمران کے فرزند ہیں، اور انھی کے جیسے ہیں۔ یہاں ’ذُرِّیَّۃً بَعْضُہَا مِنْ م بَعْضٍ‘ یہ بتانے آیا ہی نہیں ہے کہ یہ ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں،بلکہ یہ بتانے آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیا و رسل بنی آدم ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کا یہ واحد مقام ہے جہاں آل عمران کے ’اصْطَفٰٓی‘، اور عمران کی بیوی کا ذکر ہوا ہے۔پورا قرآن اس مضمون سے خالی ہے۔لہٰذا اس جملے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ بالترتیب نسلوں کا ذکر ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آدم و نوح کو چنا، آل ابراہیم و آل عمران کو چنا ۔حضرت عیسیٰ اسی آخری خانوادہ کے چشم و چراغ ہیں۔ لہٰذا خدا کیسے ہوئے؟ اور ابن اللہ کیسے ہوئے؟
دوسرے یہ کہ مذکورہ بالاآیات میں ’ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ‘ اور ’مِنْ شِیْعَتِہٖ‘ والی آیات صریح ہیں، جب کہ یہاں محض اشارہ سا ہے، اس لیے اشارہ کو صراحت کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔

________

۱؂ اس آیت سے معلوم ہورہا ہے کہ آپ کے اہل خانہ کو اہل خانہ ہونے کی بنا پر کشتی کے سواروں میں شامل کیا گیا۔
۲؂ سورۂ بنی اسرائیل کی مذکورہ بالا آیت ’ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ‘ میں آیا ہوا ’مَنْ‘ جمع کے معنی میں نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ ذریت سے اضافت ا س میں مانع ہے۔
۳؂ واضح رہے کہ یہ اس وقت پیچیدہ نہیں رہتا، جب اسے اس معنی میں لیا جائے، جو میں نے بیان کیے ہیں۔ اس صورت میں اس اسلوب کے اختیار کرنے کی وجہ بھی واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت نوح کے اس ہم سفر کا نام چونکہ ہم نہیں جانتے، اس لیے ان کا تعارف ان الفاظ میں کرایا گیا ہے۔
۴؂ اس ضمیر کا یوں لانا، صاف واضح کررہا ہے کہ قرآن اپنے پڑھنے والوں کو متنبہ کرنا چاہتا ہے کہ یہ انبیا حضرت نوح علیہم السلام کی نسل سے نہیں ہیں۔
۵؂ یہ حذف ہم نے اس آیت کی وجہ سے کھولا ہے:... ’وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا‘ (بنی اسرائیل ۱۷: ۱۵)۔ باقی ترجمہ استاذی الجلیل کی تفسیر ’’البیان‘‘ سے ہے۔
۶؂ دیکھیے حاشیہ ۳۔
۷؂ ’قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰنُوْحُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۱۱۶)۔
۸؂ اس جملے میں ’’ترتیب‘‘ اور پھر ’’ایک دوسرے کی اولاد‘‘ جمع نقیضین کی نہایت صریح مثال ہے۔
۹؂ ہمارے دوست کے بتائے ہوئے اصول پر اس کا ترجمہ یوں ہونا چاہیے: عورت بالترتیب مذکر سے ہے۔ ظاہر ہے، یہ مرکب ترتیب اورصرف ایک طرف سے ہونے کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے آتا ہی نہیں۔
۱۰؂ ’لوگوں‘ ترجمہ ہے ’ذُرِّیَّتَہُمْ‘ کا ۔ا ستاذی الجلیل، اس آیت میں موجود لفظ ’ذریت‘ پر نوٹ لکھتے ہوئے رقم فرما ہیں:

’’یعنی اِن کے ابناے نوع کو۔ اِس سے بنی آدم مراد ہیں۔‘‘

۱۱؂ سواے اس کے کہ ذریت کوکسی غیر معروف معنی میں لیا جائے۔ جیسے بعض لوگوں نے ’آبا‘ کے معنی میں لیا ہے۔

____________

نوح اور ابراہیم: نقدِ احباب کا جائزہ (2/2)




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List