Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Shahid Raza Profile

Shahid Raza

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
نظم اجتماعی اور اطاعت امیر | اشراق
Font size +/-

نظم اجتماعی اور اطاعت امیر



سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ أَحَبَّ أَنْ یُّزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَیُدْخَلَ الْجَنَّۃَ فَلْتَأْتِہِ مَنِیَّتُہُ وَہُوَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلْیَأْتِ إِلَی النَّاسِ الَّذِيْ یُحِبُّ أَنْ یُّؤْتٰی إِلَیْہِ وَمَنْ بَایَعَ إِِمَامًا فَأَعْطَاہُ صَفْقَۃَ یَدِہِ وَثَمَرَۃَ قَلْبِہِ فَلْیُطِعْہُ إِنِ اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ آخَرُ یُنَازِعُہُ فَاضْرِبُوْا عُنُقَ الْآخَرِ.(مسلم، رقم۱۸۴۴)
’’جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے جہنم سے نجات دی جائے اور جنت میں داخل کیا جائے، اس کو اللہ تعالیٰ اور یوم آخر پر ایمان کی حالت میں فوت ہونا چاہیے اور اس کو لوگوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرنا چاہیے، جس طرح کا وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ سلوک کیا جائے۔جو شخص کسی حکمران کی بیعت کرے —  اپنے ہاتھ (اس کے ہاتھ پر) رکھتے ہوئے، اور خلوص دل سے اس کی بیعت کرتے ہوئے — اسے چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے، اس کی اطاعت کرے۔پھر کوئی دوسرا شخص آئے اور اس سے حکومت چھیننے کی کوشش کرے، تو اس کی گردن مار دو۔‘‘

اوپر مذکور روایت میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو روز قیامت میں فلاح و کامیابی کا خواہاں ہے، اس کو چاہیے کہ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے عقیدے پر ثابت قدم رہے اور دیگر انسانوں کے ساتھ بہ احسن طریق پیش آئے۔ نیز نظم اجتماعی اور اطاعت امیر کی اہمیت بیان کی گئی ہے کہ اجتماعی طور پر، ہر فرد کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ مسلم امرا کا اطاعت گزار رہنا چاہیے۔ اس سے مستثنیٰ صرف یہ صورت ہے کہ وہ اگر معصیت کا حکم دیں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: 

علی المرء المسلم السمع والطاعۃ فیما أحب و کرہ إلا أن یؤمر بمعصیۃ، فإن أمر بمعصیۃ فلاسمع و لا طاعۃ. (مسلم، رقم۱۸۳۹)

’’مسلمان پر لازم ہے کہ خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند، وہ ہر حال میں اپنے حکمران کی بات سنے اور مانے، سواے اس کے کہ اسے کسی معصیت کا حکم دیا جائے۔ پھر اگر اسے معصیت کا حکم دیا گیا ہے تو وہ نہ سنے گا اور نہ مانے گا۔‘‘

مزید براں، جب مسلم ریاست کسی ایک حکمران کے ماتحت متحد ہو اور کوئی دوسرا شخص غیر آئینی ذرائع سے اس سے حکومت چھیننے کے لیے اس کا تختہ الٹ دینے اور اپنا تسلط جمانے کی کوشش کرے، جس کے نتیجے میں اس ریاست کے مسلمان باشندے مختلف فریقوں میں تقسیم ہو جائیں، تو اس طرح کا شخص فتنہ اور فساد فی الارض پھیلانے کا مجرم ہے۔ ریاست کے خلاف فتنہ انگیزی اور غیر آئینی ذرائع سے حکومت پر تسلط جمانے کے لیے اس کی نمایندہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش بھی فساد فی الارض کا بیج بونے کی ایک واضح دلیل ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق، یہ شخص سزاے موت کا مستحق ہے۔یہ روایت قرآن مجید کے حکم کے عین مطابق ہے، جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ جو لوگ فساد فی الارض پھیلانے کے جرم کا ارتکاب کریں، ان کو عبرت ناک طریقے سے موت کی سزا دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ.(المائدہ ۵: ۳۳)
’’جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں گے اور زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، ان کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیںیا انھیں علاقہ بدر کر دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے ایک بڑا عذاب ہے۔‘‘

آیت میں ’فسادفی الارض‘ کی وضاحت کرتے ہوئے جناب جاوید احمد غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’اللہ کا رسول دنیا میں موجود ہو اور لوگ اُس کی حکومت میں اُس کے کسی حکم یا فیصلے کے خلاف سرکشی اختیار کرلیں تو یہ اللہ و رسول سے لڑائی ہے۔ اِسی طرح زمین میں فساد پیدا کرنے کی تعبیر ہے۔ یہ اُس صورت حال کے لیے آتی ہے ، جب کوئی شخص یا گروہ قانون سے بغاوت کر کے لوگوں کی جان و مال، آبرو اور عقل وراے کے خلاف برسر جنگ ہوجائے۔ چنانچہ قتل دہشت گردی، زنا زنا بالجبر اور چوری ڈاکا بن جائے یا لوگ بدکاری کو پیشہ بنالیں یا کھلم کھلا اوباشی پر اتر آئیں یا اپنی آوارہ منشی، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت و آبرو کے لیے خطرہ بن جائیں یا نظم ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوںیا اغوا، تخریب، ترہیب اور اِس طرح کے دوسرے سنگین جرائم سے حکومت کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کردیں تو وہ اِسی فساد فی الارض کے مجرم ہوں گے۔‘‘(البیان ۱/ ۶۲۵)

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List