Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

متفرق مضامین | اشراق
Font size +/-

متفرق مضامین


اسباب اور کھجور

قرآن مجید کی سورۂ مریم میں حضرت مریم علیہا السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے جس میں انھیں ایک فرشتہ، بن باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خوش خبری دیتا ہے۔قرآن کے مطابق جب حضرت عیسیٰ کی پیدایش کا وقت قریب آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ سیدہ مریم کو ہدایت کرتا ہے کہ کھجور کے تنے کو ہلائیں تو تازہ کھجوریں نیچے گر جائیں گی جنھیں کھاکر وہ اس مشکل وقت کو کاٹیں۔کھجوروں کے متعلق جدید تحقیق سے اب یہ معلوم ہوچکا ہے کہ یہ حمل اور پیدایش کی تکلیف کو کم کردیتی ہیں۔ اس نے یقیناًحضرت مریم کو بھی آسانی اور فائدہ دیا ہوگا۔
یہ واقعہ کئی پہلوؤں سے سبق آموز ہے۔ مگر ہماری قوم کے لیے جو اسباب سے زیادہ دم اور تعویذوں پر بھروسا کرتی ہے، ایک اہم سبق موجود ہے۔اس واقعے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ کے پیدایش کے لیے تو فرشتے کو بھیج دیا، لیکن پیدایش کی تکلیف ہلکی کرنے کے لیے فرشتے نے کوئی معجزہ کرنے کے بجاے عالم اسباب کی ایک چیز کی طرف رہنمائی کردی۔اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اسباب مقرر کردیے ہیں، وہاں وہ معجزات نہیں کرتے۔ وہاں اصل کام یہ ہوتا ہے کہ اسباب کو دریافت کرکے ان کو استعمال کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ معجزات نبیوں اور رسولوں کے ساتھ ہوا کرتے ہیں۔ عام لوگوں کو اسباب تلاش کرنا چاہییں اور ان کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنا چاہیے۔جب ہم یہ کریں گے، اللہ کی مدد آئے گی۔ ایک نازک لڑکی نہ ہاتھ سے کھجور کے تنے کو ہلاسکتی ہے، نہ اس طرح درخت سے کھجور گرائی جاسکتی ہے، مگر جب انسان اسباب اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ مدد کرتے ہیں۔ انسان اسباب کے درخت کو ہاتھ سے ہلانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر ہر ’’درخت‘‘ اللہ کے حکم سے اپنی ’’کھجور ‘‘ گرادیتا ہے۔ یہی اس واقعہ کا اہم ترین سبق ہے۔

________

شوق اور خوف

قرآن مجید کی سورۂ طٰہٰ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بڑی تفصیل سے بیان ہواہے۔اس سورت کی آیت ۱۷ میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ سے پوچھتے ہیں کہ موسیٰ، یہ تمھارے ہاتھ میں کیا ہے؟ اس کا جو جواب اس جگہ نقل ہوا، اس میں بڑی بصیرت ہے۔
سیدنا موسیٰ نے کہا کہ یہ میرا عصا ہے۔ اس پرمیں ٹیک لگاتا ہوں، بکریوں کے لیے درختوں سے پتے جھاڑتا ہوں اور اس سے میرے دوسرے کام بھی ہوتے ہیں۔ سوال کا اصل جواب تو وہی تھا جو انھوں نے پہلے جملے میں دے دیا کہ یہ میرا عصا ہے،مگر سوال کی نوعیت سے ان کو اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ان پر خصوصی عنایت ہوئی ہے۔ آسمان و زمین کا مالک کسی بندے سے براہ راست بات کرے اور وہ بھی ایک ذاتی سوال کی شکل میں۔ چنانچہ انھوں نے یہ بتانے کے بعد کہ میرے ہاتھ میں عصا ہے، بہ صد شوق تفصیل سے یہ بتانا شروع کیا کہ اس عصا سے وہ کیا کیا کام لیتے ہیں۔
چنانچہ انھوں نے یہ بتایا کہ وہ اس عصاپر ٹیک لگاتے ہیں۔ یہ بتایاکہ وہ اس سے بکریوں کے لیے پتے جھاڑتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد آنے والا تیسرا جملہ یہ بتارہا ہے کہ پچھلی دو باتیں کہتے ہوئے ان کو احساس ہوا کہ شوق اپنی جگہ لیکن یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ وہ کس ہستی سے بات کررہے ہیں۔ ان کا مخاطب وہ عالم ا لغیب ہے جس سے کوئی شے پوشیدہ نہیں۔ چنانچہ خدا کی عظمت کا یہ احساس جیسے ہی تازہ ہوا انھوں نے اپنے کلام کو مختصر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے میرے اور بھی کئی کام ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے انسان کو جو تعلق ہونا چاہیے، وہ بہ یک وقت شوق اور خوف کے جذبات کا امتزاج ہونا چاہیے۔خدا کی ہستی کا یہ شوق اوراس کی عظمت کا یہ احساس ایک سینے میں کس طرح جمع ہوتا ہے، حضرت موسیٰ کا یہ کلام اس کی بہترین مثال ہے اور ہر اس شخص کے لیے بہترین نمونہ ہے جو اپنے رب سے ملاقات کا خواہش مند ہو۔

________

شکر اور صبر

حضرت ایوب علیہ السلام ایک جلیل القدر پیغمبر تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ مال و دولت سے نواز رکھا تھا۔ان کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں، جب کہ سات ہزار بھیڑیں، تین ہزار اونٹ، ایک ہزار بیل اور پانچ سو گدھے باربرداری کے لیے ان کے پاس تھے۔ان کے زمانے میں ان جیسا مال و دولت والاکوئی اور نہ تھا۔
ان نعمتوں کے باوجود حضرت ایوب بڑے نیک ، پرہیز گار اور شکر گزار شخص تھے۔ اس پر شیطان نے اپنے ایجنٹوں، یعنی حسد میں مبتلا انسانوں کے ذریعے سے یہ وسوسہ انگیزی پھیلانا شروع کردی کہ ان کے پاس اتنا مال ہے، تب ہی یہ شکر گزار ہیں۔ مصیبت زدہ ہوتے تو خدا ہی کے منکر ہوجاتے ۔
یہ وہ وقت تھا جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے یہ فیصلہ ہوا کہ اس عظیم پیغمبر کے ذریعے سے دنیا کو ایک نمونہ دکھایا جائے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کو یہ بتائے کہ شکر گزارہونے کے لیے نعمت ایمان ہونا ہی کافی ہے۔ چنانچہ ایک ایک کرکے ان پر مصائب آنا شروع ہوئے۔ پہلے مال مویشی گئے۔ پھر اولاد ان کی آنکھوں کے سامنے مرگئی، مگر اس عظیم ہستی کی زبان پرسجدے کی حالت میں ایک ہی جملہ تھا: رب نے دیا اور رب نے لیا۔رب کا نام مبارک ہو۔
مگر بات یہیں پر نہیں رکی۔ اب معاملہ ان کی صحت وعافیت کا آگیا۔پورے جسم پر پھوڑے نکل آئے، مگر وہ پیکر وفا اسی طرح صبر و شکر کرتا رہا۔ جب درد حد سے بڑھتا تواللہ سے فریاد کرتے کہ مولا شیطان نے مجھے اذیت اور تکلیف میں مبتلا کررکھا ہے۔ جب ضبط جواب دینے لگتا تو اللہ کی بارگاہ میں التجا کرتے کہ میں سخت تکلیف میں ہوں اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
قرآن مجید میں ان کی یہی دو دعائیں نقل ہوئی ہیں۔ ان میں نہ شکوہ ہے، نہ شکایت۔کوئی بے صبرا پن ہے، نہ اللہ پر کوئی الزام۔ تسلیم و رضا کا عالم یہ ہے کہ ان دعاؤں میں کہیں شفا اور مصائب سے نکلنے کی درخواست تک نہیں کی، مگر دو پہلوؤں سے معرفت کا کمال کردیا ہے: پہلی دعا میں یہ کہہ کر خدا کی غیرت کو پکارا ہے کہ تیرے دوست کو تیرے دشمن نے تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی غیرت مند اس پر خاموش نہیں رہ سکتا کہ اس کے دوست کو کوئی تکلیف دے، کجا یہ کہ تکلیف دینے والا خود اس کا بھی دشمن ہو۔
دوسری دعا میں یہ کہہ کر خدا کی رحمت کو پکارا ہے کہ تیرا دوست تکلیف میں ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔کوئی رحیم اس پر کیسے خاموش رہ سکتا ہے کہ اس کا دوست تکلیف میں ہو اور وہ کچھ نہ کرے۔چنانچہ اللہ کی رحمت اور غیرت کو جوش آیا اور نہ صرف ان کی ساری تکالیف دور کردی گئیں، بلکہ جتنی اولاد مری تھی، اتنی ہی دوبارہ پیدا کردی گئی۔ جو مال مویشی گیا تھا ، اس کو دوگنا کرکے لوٹا دیا گیا۔اس کے بعد بھی وہ مزید ایک سوچالیس برس جیے اور اپنی چوتھی پشت تک کو دیکھا۔
تاہم یہ سارا معاملہ دنیا کے سامنے ایک نمونہ قائم کرنے کے لیے ہوا تھا، اس لیے مصائب کے آغاز سے اختتام تک تیرہ برس لگے۔ ایک پوری نسل ان کو بدترین مشکلات میں شکر گزاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھ کر جوان ہوگئی۔ پھر پہلے بائیبل اور پھر قرآن مجید میں اس واقعہ کو محفوظ کرکے تاقیامت دنیا کے سامنے یہ نمونہ رکھ دیا گیا کہ کوئی شخص ایوب علیہ السلام سے زیادہ دکھی نہیں ہوسکتا، مگر اس کے باوجود بھی ایمان کی قوت سے شکر کرنا ممکن ہوتا ہے۔
اس واقعے کا آخری سبق یہ ہے کہ ان کی آزمایش کے تیرہ برس گزرگئے۔اور ان کی نعمت والی طویل زندگی کے ایک سو چالیس برس بھی گزر گئے، مگر مصائب کا صبر اور نعمتوں پر شکر ہمیشہ کے لیے باقی رہ گیا۔جب جنت قائم ہوگی تو ایسے صابر وشاکر لوگوں کو وہ جزا ملے گی جو کبھی ختم نہ ہوگی۔نہ ایوب علیہ السلام کے لیے، نہ کسی اور صابر و شاکر شخص کے لیے۔

________

کردار کی عظمت

قرآن مجید کی سورۂ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان کو بہترین قصہ کہا گیا ہے۔ اس میں ایک طرف ایک عظیم پیغمبر ہے جو سیرت و کردار کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہے اور دوسری طرف رب مہربان ہے جس سے بڑھ کر قدردان کوئی ہستی نہیں ہو سکتی۔ اس قصے میں حضرت یوسف کی اعلیٰ سیرت و کردار کے متعددپہلو نمایاں کیے گئے ہیں۔ان میں سے بعض اتنے لطیف ہیں کہ ان کا ادراک کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ہم ایسی ہی ایک مثال قارئین کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں جس کی طرف قرآن مجید نے کمال خوب صورتی سے اشارہ کیا ہے۔
حضرت یوسف کے اس قصے میں ایک جگہ یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت یوسف کے بھائی اس وقت ان کے پاس غلہ لینے کے لیے آئے، جب ہر جگہ قحط پڑا ہوا تھا۔مگر مصر میں حضرت یوسف کے حسن انتظام کی بنا پرغلے کی کوئی کمی نہ تھی، بلکہ وہ دوسرے علاقے کے لوگوں کو بھی غلہ دے رہے تھے۔حضرت یوسف کے بھائیوں کے تصور میں بھی نہ تھا کہ جس بھائی کو انھوں نے کنویں میں پھینکا تھا، وہ اب مصر کا بادشاہ بن چکا ہے۔ان بھائیوں میں حضرت یوسف کے سگے بھائی بن یامین بھی تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے دیگر بھائیوں کو تو اپنی اصلیت سے مطلع نہیں کیا تھا، مگر بن یامین کو اپنے بارے میں بتادیا تھا۔
بھائی غلہ لے کر جانے لگے تو انھوں نے بن یامین کے سامان میں اپناپانی پینے کا پیالہ رکھوادیا۔اللہ کی قدرت سے یہ ہوا کہ عین قافلے کی روانگی کے وقت ایک شاہی پیمانہ بھی غائب ہوگیا۔ چنانچہ ہر طرف اس کی تلاش شروع ہو گئی۔ قافلے کو روک کر اس کی بھی تلاشی لی گئی۔ شاہی پیمانہ تو نہ ملا، مگر بن یامین کے سامان سے حضرت یوسف کا پیالہ برآمد ہو گیا۔ کسی کو ان دونوں کے تعلق کا علم تو تھا نہیں، اس لیے نتیجہ یہ نکالا گیا کہ بن یامین نے یہ پیالہ چوری کیا ہے۔
اس پر ان کے بھائیوں نے فوراً یہ الزام لگادیا کہ بن یامین نے چوری کی ہے تواس کی وجہ یہی ہے کہ اس کا بڑا بھائی یوسف بھی چور ہی تھا۔اس بے ہودہ اور جھوٹے الزام پر قرآن مجید نے حضرت یوسف کی یہ بات نقل کی ہے کہ انھوں نے اپنے دل میں یہ کہا کہ تم بدترین لوگ ہو، مگر انھوں نے اپنے ان جذبات کا اظہار ان لوگوں سے نہیں کیا۔
ایک طالب علم کے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ قرآن مجید نے ان کے دل میں آنے والے اس خیال کو کیوں نقل کر دیا ہے۔ چاہے ایک غلط بات کے ردعمل میں سہی، مگر اس سے بظاہر حضرت یوسف کا غصہ سامنے آتا ہے جو اس پورے قصے کی روح سے کچھ مناسبت نہیں رکھتا نہ بظاہر اس بلندکرداری سے جس کا اظہار حضرت یوسف نے ہر قدم پر کیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید نے ان کے دل کی یہ کیفیت نقل کرکے ان کے کردار کی عظمت کو ایک مختلف پہلو سے متعارف کرایا ہے۔
حضرت یوسف کوئی عام آدمی نہیں تھے، مصر کے مختار کل تھے۔ وہ چاہتے تو اپنے بھائیوں کی اس بے ہودہ بات پر ناراض ہوکر ان سب کا سر قلم کرادیتے۔چاہتے تو ان کو زندان میں ڈلوادیتے۔ کچھ اور نہیں تو ان کو غلہ دینے ہی سے انکار کر دیتے، مگر نہ صرف انھوں نے ان کے پرانے جرائم پر ان کو کوئی سزا نہیں دی، بلکہ عین اس وقت جب وہ ان کے دربار میں کھڑے ہوکر ان پر بہتان لگارہے تھے جس پر ان کو فطری طور پر شدید غصہ بھی آیا جس کا اظہار ان کے اس جملے سے ہورہا ہے جو انھوں نے اپنے دل میں کہا، مگر انھوں نے اپنے جذبات پر قابو رکھا۔ ان کے بہتان پر ان کو کسی قسم کی سزا نہیں دی، نہ ان کو غلے سے محروم کیا۔
یہ کردار کی وہ عظمت ہے جسے سامنے لانے کے لیے قرآن مجید نے ان کے بھائیوں کا یہ بہتان اور ان کے دل میں آنے والے اس خیال کو قرآن میں بیان کردیا۔صبر و تحمل کا یہی وہ رویہ ہے جو کسی انسان کو اعلیٰ انسان بناتا ہے اور اس کے کردار کو عظیم بناتا ہے۔

________

نبی کی رحمت نبی کی معرفت

قرآن مجید کی سورۂ مائدہ میں یہ بیان ہوا ہے کہ روز قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کی امت، یعنی مسیحیوں کے شرک کے متعلق یہ پوچھا جائے گا کہ کیا حضرت عیسیٰ نے ان سے کہا تھا کہ وہ ان کو اور ان کی والدہ کو اللہ کے ساتھ معبود بنا لیں۔ اس کے جواب میں حضرت عیسیٰ صاف صاف کہہ دیں گے کہ انھوں نے ساری زندگی توحید خالص ہی کی دعوت دی تھی۔ یوں گویا حضرت عیسیٰ کی یہ گواہی مسیحی حضرات کے خلاف پوری حجت قائم کردے گی کہ ان کا شرک کرنا اور حضرت عیسیٰ سے مدد و استعانت کا تعلق رکھنا ان کی اپنی گمراہی تھی۔
حضرت عیسیٰ اپنی اس گواہی کے بعد ایک اضافی جملہ اور فرماتے ہیں جو بڑا ہی معنی خیز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پروردگار، تو اگر میری امت کے ان مسیحیوں کو عذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں۔ اور اگر تو ان کو معاف کردے تو، تو زبردست بادشاہ بھی ہے اور بڑاحکیم بھی ہے۔
یہ جملہ بہ یک وقت ایک نبی کی رحمت اوراس کی معرفت کا بڑا خوب صورت بیان ہے۔ نبی اپنی امت کے لیے ایک باپ کی طرح شفیق ہوتا ہے۔اولاد کیسی بھی، ہو باپ بہرحال باپ ہوتا ہے۔ خاص کر جب وہ مشکل میں آجائے تو انسان اپنی اولاد کو بچانے کی کوشش کرتا ہے، جب کہ یہاں یہ حال تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی گواہی نے مسیحیوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی تھی۔اس کے بعد ان کی نجات کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہا تھا۔
چنانچہ رحم کی ایک آخری درخواست کے طور پر حضرت عیسیٰ نے بڑے کمال طریقے سے اللہ کی رحمت اور قدرت کو اپیل کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ عذاب کے مستحق تو ہوچکے ہیں،اب آپ انھیں اگر عذاب دیں گے تو میں بیچ میں بولنے والا کون ہوں۔ میرے لیے تو یہ بس امتی ہیں، مگر آپ کے تو بندے ہیں۔اور رب کو اپنے بندوں سے سب سے بڑھ کر محبت ہوتی ہے۔لیکن اگر آپ ان کو معاف کردیں تو آپ زبردست بادشاہ ہیں۔ آپ سے کون پوچھ سکتا ہے کہ آپ نے کسی کو کیوں معاف کردیا۔اور بات کسی حکمت ہی کی ہے تو سب سے بڑھ کر آپ حکیم ہیں۔ کوئی نہ کوئی راستہ آپ ان کے لیے ڈھونڈ سکتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ نے انتہائی اجمال کے ساتھ اور تمام تر آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی امت کو بچانے کے لیے یہ آخری الفاظ ادا کیے ہیں جو بلاشبہ معرفت کے الفاظ ہیں۔انھوں نے کوئی سفارش نہیں کی کہ کسی مشرک کی سفارش کا الزام ان پر آجائے، مگر سفارش کے لیے جوممکنہ طور پر موثر ترین اپیل خدا کی رحمت اور قدرت کی بارگاہ میں کی جاسکتی ہے، وہ کی ہے۔
تاہم یہ واضح رہے کہ اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت کردی ہے کہ اُس روز صرف صدق و سچائی ہی انسان کو نفع دے گی۔یہی سچائی جنت کے بدلے کا انسان کو حق دار بنادے گی، اس لیے کوئی جھوٹا اور خاص کر شرک کا جھوٹ بولنے والا اس روز کسی بھلائی کی توقع نہ رکھے۔ان کے لیے جنت کی کوئی امید نہیں ہے۔ باقی آسمان و زمین اور ا ن میں موجود ہر چیز کی بادشاہی اور ملکیت اللہ کی ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں کو جنت میں تو نہیں بھیجا جاسکتا۔ باقی جو فیصلہ اللہ تعالیٰ لیناچاہیں، وہ لے سکتے ہیں۔ سورۂ انعام (۶: ۱۲۸)، سورۂ ہود (۱۱: ۱۰۷) اور بعض دیگر مقامات کے اشارات سے یہ بات واضح ہے کہ وہ فیصلہ غالباً یہ ہوگا کہ ایک انتہائی طویل مدت گزرنے کے بعد ایسے مجرموں کو جہنم سمیت فنا کردیا جائے گا۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی انتہائی رحمت کا ظہور ہوگااور ساتھ میں اس حقیقت کا اظہار بھی کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے اصلاً نیک لوگوں کی تلاش کے لیے بنائی تھی۔دنیا کا یہ کارخانہ جنتی کردار کے لوگوں کی پروڈکشن کے لیے لگایا گیا ہے۔ اہل جہنم اس عمل کا بائی پروڈکٹ ہیں۔چنانچہ محسوس ہوتا ہے کہ آخر کار اس بے کار بائی پروڈکٹ کو ہمیشہ کے لیے مٹادیا جائے گا۔

________

سورۂ ص کے دوکردار

قرآن مجید کی سورۂ ص (۳۸) میں حضرت داؤد علیہ السلام کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ ان کے پاس دو لوگ دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے اور ایک مقدمہ پیش کیا۔ان میں سے ایک شخص کے پاس ننانوے دنبیاں تھیں اور دوسرے کے پاس فقط ایک۔ جس کے پاس ننانوے دنبیاں تھیں، اس نے دوسرے کو اپنی باتوں سے دبالیا اور اس سے یہ مطالبہ کیا کہ اپنی اکلوتی دنبی بھی اس کے حوالے کردے۔حضرت داؤد نے بلاتامل اس شخص کو غلطی کا مرتکب ٹھیرایا جس نے دوسرے کی اکلوتی دنبی بھی مانگ لی تھی۔ مگر یہ کہتے ہوئے انھیں اندازہ ہوگیا کہ اس واقعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کی توجہ کسی ایسے معاملے کی طرف مبذول کرائی ہے جہاں وہ درست جگہ پر نہیں رہے تھے۔ چنانچہ وہ فوراً متنبہ ہوئے اور اللہ سے درگذر کی درخواست کی اور سجدہ ریز ہوکر اس کے حضور رجوع کیا۔
عام طور پر سارے مفسرین اور قارئین اس قصے کے حوالے سے جس چیز میں سب سے زیادہ دل چسپی لیتے ہیں، وہ یہ کہ حضرت داؤدکا وہ کیا معاملہ تھا جس کی طرف ان کی توجہ اس طرح مبذول کرائی گئی ہے، حالاں کہ اس واقعے کو بیان کرنے کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ حضرت داؤدکے کسی کمزورمعاملے کو لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ سیاق کلام تو یہ بتارہا ہے کہ یہ واقعہ حضرت داؤد کی عظمت کا غیر معمولی بیان ہے جسے کفار مکہ کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اس واقعے میں اللہ تعالیٰ کے التفات کا یہ عالم ہے کہ آیت ۱۷، جہاں سے حضرت داؤد کا تذکرہ شروع ہوا ہے، یہ کہہ کر ان کا ذکر کیا گیا ہے کہ اے نبی، جو کچھ یہ (کفار) کہتے ہیں، اس پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو۔
قرآن مجید کے ادا شناس جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو اپنا بندہ کہہ کراس کا ذکر کرتے ہیں تو یہ قرب کا سب سے اعلیٰ مقام ہوتا ہے۔صرف یہی نہیں، بلکہ اس کے بعد ان کی اس تسبیح کا ذکر ہے جس کاساتھ دینے کے لیے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخرکردیا گیا تھا۔ پھر ان کی عظیم سلطنت ، اس کو چلانے کے لیے دی گئی حکمت اور معاملات کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ گویا یہ بتایا گیا ہے کہ وہ کیا عظیم روحانی اور مادی سلطنت تھی جس کے وہ بادشاہ تھے۔
اس کے بعد اس واقعے کا ذکر ہے جو شروع میں بیان ہوا۔اور اس سے بتانا یہ مقصود ہے کہ ایک طرف یہ عظیم بادشاہ ہے جس نے دوسروں کی غلطی میں اپنی کمزوری کو ڈھونڈ لیا۔ جس نے براہ راست توجہ دلانے سے قبل ہی خدا کی عظمت کے آگے خود کو ڈھیر کردیا۔ جس نے رعایا کے دو عام افراد کے جھگڑے میں خدا کا پیغام ڈھونڈ لیا۔ دوسری طرف مکہ کے یہ سرکش سردار ہیں جن کا ذکر اس واقعے سے پہلے ہوا ہے۔ان کے پاس خدا کا رسول آگیا ہے۔ خدا کا پیغام آگیا ہے۔ ان کو براہ راست نصیحت کی جارہی ہے۔ ان کے بدترین جرائم پر خوف ناک عذاب کی تنبیہ کی جارہی ہے۔ مگر حال یہ ہے کہ یہ لوگ ہٹ دھرمی اور تکبر کا شکار ہیں۔ ماننے کے بجاے شک میں پڑے ہیں۔ رسول کے سامنے سر جھکانے کے بجاے اسے جادوگر اور جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔
چنانچہ ایک رویہ ان کفار کا ہے اور دوسرا رویہ حضرت داؤد کا ہے۔ پہلے رویے پر عذاب کی وعید ہے۔ بدر کے روز حسب وعدہ یہ عذاب آیا اور ان کو ہلاک کر دیا گیا، جب کہ حضرت داؤد پر جو انعامات کیے گئے ، اس کا ذکر گزر چکا ہے کہ وہ کیسی عظیم روحانی اور مادی سلطنت کے حکمران تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہاں دوکرداروں کا بیان ہے جو اس دنیا میں ہمیشہ رہے ہیں: ایک کردار وہ ہے جن کو براہ راست نصیحت کردی جائے،ان کے جرائم پر کھل کر تنقید کردی جائے،اللہ کی سخت پکڑ سے ڈرایا جائے، تب بھی ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوسری طرف وہ کردار ہوتا ہے جو تنبیہ سے پہلے اپنی اصلاح کرلیتا ہے۔ جو دوسرے کے معاملات میں اپنے لیے نصیحت کا پہلو ڈھونڈ لیتا ہے۔ جوغلطی کا خیال بھی دل میں آنے پر نادم ہوجاتا ہے۔ سورۂ ص کی یہ آیات بتاتی ہیں کہ پہلی قسم کے کرداروں کا انجام بدترین عذاب ہے۔ اور دوسری قسم کے کرداروں کو دنیا میں بھی بھلائی ملتی ہے اور آخرت میں بھی بہترین بدلہ ان کا منتظر ہے۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List