Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Administrator Profile

Administrator

  [email protected]
Author's Bio
Humble slave of Allah!!!
Visit Profile
مسلمانوں پر ظلم اور دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری | اشراق
Font size +/-

مسلمانوں پر ظلم اور دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری


سوال: اس وقت مسلمانوں کی پچاس سے زائد ریاستیں ہیں۔ہر ریاست کی ترجیحات اور مفادات الگ الگ ہیں ۔ ایک ریاست کو دوسری ریاست سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔اس صورتِ حال میں کسی ریاست پر کوئی غیرمسلم ریاست بے جا طور پر حملہ کردے تو مسلم ریاستوں کے عوا م او ر ان کی حکومتیں کیا رویہ اختیار کریں؟
جواب: پہلے ہم اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اس صورت حال میں مسلم ریاستوں کے عوام کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے ۔ انھیں اس معاملے میںیہ اصولی بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ دین وشریعت کے اعتبار سے جہادوقتال مسلمانوں کی حکومت ہی کر سکتی ہے ۔ اگر اس معاملے میں حکومت غفلت یا بزدلی کا مظاہرہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ اس کی جواب دہ ہو گی ۔کسی موقع پر عوام یہ خیال کرتے ہوں کہ اب جہادکرنا ضروری ہے تو انھیں چاہیے کہ وہ اپنی حکومت کو اس پر آمادہ کریں۔ اگر حکومت اس پر قائل ہو جائے تو اس کی اجازت سے اس کے تحت جہاد کریں۔ ا س سے آگے بڑھ کر عوام کوئی اقدام کرنے کا حق رکھتے ہیں اور نہ اختیار ۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی حکومت کی اطاعت کرے۔ الا یہ کہ وہ کسی خلاف دین کام کا حکم دے دے ۔ البتہ اگر ان کی حکومت اجازت دے تو وہ ان مظلوم مسلمانوں کی اخلاقی اور مالی مدد کر سکتے ہیں ۔
جہاں تک اس ضمن میں حکومتوں کا معاملہ ہے تو اس بارے میں وہی بہتر رائے قائم کر سکتی ہیں ۔ اس لیے کہ یہ انھیں ہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جنگی سازوسامان کی نوعیت اور تعداد اور معاشی وسا ئل کی حقیقی صورتِ حال کیا ہے ۔اگر کوئی حکومت ان حقائق کو نظر انداز کر کے کسی ملک کے ساتھ جنگ چھیڑ دے تو بڑا امکان ہے کہ دوسرے ملک کے مظلوم مسلمانوں کا مسئلہ تو حل نہیں ہو گا، بلکہ جنگ چھیڑنے والے ملک کے مسلمان بھی مظلوم بن کر رہ جائیں گے ۔ مسلمانوں کی موجودہ ہر میدان میں پست حالت کے پیش نظر دین و دانش کی رو سے یہی اصولی بات کہی جا سکتی ہے کہ حکومتیں اس بات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں کہ کیا وہ اس قابل ہیں کہ جنگ کر کے مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے نجات دلاسکیں اور ظالم ملک کو سبق سکھاسکیں؟اگر اس کا جواب ہاں میں ملے تو ضرور جہاد کریں ۔ اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سورۂ انفال کی آیت ۶۵اور۶۶کی رو سے جہاد میں مسلمان نصرتِ خداوندی کی توقع اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب وہ دین پر پوری طرح عمل پیرا ہوں اور ان کی مادی قوت دشمن کی مادی قوت کے مقابلے میں ایک نسبت اور دو کی ہو ۔ مثال کے طور پر مدِمقابل کے پاس سوجہاز ہوں تو ویسے ہی پچاس جہاز مسلمانوں کے پاس ہونے چاہییں۔ مدمقابل کے پاس ایک ہزار ٹینک ہوں تو مسلمانوں کے پاس ویسے ہی پانچ سو ٹینک ہونے چاہییں ۔ بصورت دیگر مظلوم مسلمانوں کو سیاسی طریقے سے ظلم سے نجات دلانے کی کوشش کریں ۔یہاں یہ مسلمانوں کی حکومتوں کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ظلم و عدوان خواہ کیسی ہی سنگین صورت اختیار کرلے ، ان پر جہاد اسی وقت لازم ہو گا جب وہ مدمقابل کے مقابلے میں مذکورہ نسبت تناسب سے قوت کے حامل ہوں گے ۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی اس ضمن میں لکھتے ہیں :

’’ ....ظلم و عدوان کا وجود متحقق بھی ہو تو جہاد اس وقت تک فرض نہیں ہوتا ،جب تک دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کی حربی قوت ایک خاص حد تک نہ پہنچ جائے ۔ سابقین اولین کے ساتھ دوسرے لوگوں کی شمولیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی میں دو کے مقابلے میں ایک مقرر کر دی تھی ۔ بعد کے زمانوں میں یہ تو متصور نہیں ہو سکتا کہ یہ اس سے زیادہ ہو سکتی ہے ،لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جہاد و قتال کی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ اپنے اخلاقی وجود کو محکم رکھنے کی کوشش کریں ، بلکہ اپنی حربی قوت بھی اس درجے تک لازماً بڑھائیں جس کا حکم قرآن نے زمانۂ رسالت کے مسلمانوں کو اس وقت کی صورتِ حال کے لحاظ سے دیا تھا:

’’اور اِن کافروں کے لیے ، جس حد تک ممکن ہو، حربی قوت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو جس سے اللہ کے اور تمھارے ان دشمنوں پر تمھاری ہیبت رہے اور ان کے علاوہ اُن دوسروں پر بھی جنھیں تم نہیں جانتے ،(لیکن) اللہ انھیں جانتا ہے اور (جان رکھو کہ) اللہ کی اِس راہ میں تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے ،وہ تمھیں پورا مل جائے گا اور تمھارے ساتھ کوئی کمی نہ ہو گی۔‘‘(الانفال۸: ۰ ۶)

‘‘(میزان ۲۵۰۔۲۵۱)

_______

چیچنیا، فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ

سوال :اس وقت چیچنیاپر روس ظلم کر رہا ہے، فلسطین پر اسرائیل ظلم کر رہا ہے، کشمیر پر بھارت ظلم کر رہا ہے، وہاں کے مسلمان جان و مال کی قربا نی دے کر آزادی کی سعی و جہد کر رہے ہیں ، ان کی یہ سعی و جہد جہاد ہے یا دہشت گردی ؟
جواب: ہم آپ کے اس سوال کا جواب اصولی طور پر دیں گے تاکہ آپ اس جواب کی روشنی میں چیچنیا، کشمیراورفلسطین کے علاوہ دوسرے مقامات پر پائے جانے والے اس نوعیت کے مسائل کو بھی سمجھ سکیں اور یہ جان سکیں کہ مسلمان کہاں جہاد کر رہے ہیں اور کہاں جہادنہیں کر رہے۔ اسی طرح ہم اس بحث میں بھی نہیں پڑیں گے مسلمانوں کا کون سا عمل دہشت گردی ہے اور کون سا عمل دہشت گردی نہیں ہے ۔ دہشت گردی کوئی دینی اصطلاح نہیں ہے ۔ البتہ ہمارے جواب سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ مسلمانو ں کا کون سا عمل دین کے مطابق ہے اور کون سا عمل دین کے مطابق نہیں ہے۔ہمارا کام بس اتنی بات کی وضاحت کرنا ہے۔
سب سے پہلے تو یہ بنیادی بات ذہن میں اچھی طرح راسخ کر لیں ہے کہ جہاد وقتال مسلمانوں کی حکومت ہی کر سکتی ہے ۔ مسلمانوں کو اس اصول کی کسی صورت میں خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔ لہٰذا ا گر کسی مقام پر مسلمانوں پر ظلم ہوا وران کے اوپر غیر مسلموں کی حکومت ہوتو مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنا ایک قائد مقرر کریں اور اس کے تحت پر امن سیاسی طریقے سے اس ظلم کے خلاف جدوجہد کریں۔ دوسرے مسلم ممالک سے سیاسی مدد حاصل کریں۔ یا کسی آزاد علاقے میں اپنی حکومت قائم کریں اور پوری تیاری کے بعد ظالم حکومت کے خلاف جہاد کریں ۔ اگر یہ سب کچھ کرنا ممکن نہ ہو تووہاں مسلح جدوجہدکر کے اپنے آپ کو مزید مشکلات میں نہ ڈالیں اور سورہء اعراف کی آیت۸۷کی رو سے صبر سے کام لیں ۔
یہاں یہ بات بھی واضح کر دینا بے محل نہ ہوگاکہ اگر کسی جگہ مسلمان محکوم ہوں ، مگر انھیں اپنے دین و ایمان کے مطابق زندگی گزارنے کی پوری آزادی حاصل ہوتو انھیں سیاسی آزادی حاصل کرنے کا حق توحاصل ہے ، مگر دین ان پر اس کی کوشش لازم نہیں کرتا ۔سیدنا مسیح علیہ السلام کا اسو ہ ا س کی واضح دلیل ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانے میں فلسطین پر رومیوں کا جابرانہ تسلط قائم تھا۔ رومیوں نے باہر سے حملہ کر کے بنی اسرائیل کی آزادی چھین لی تھی ،مگر حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی قوم میں آزادی کی کوئی تحریک نہیں چلائی۔ انجیل (متیٰ باب ۲۲، ۱۵۔۲۲)میں ہے کہ ایک موقع پر بنی اسرائیل کے شرپسندافرادنے حکومت کے لوگوں کی موجودگی میںآپ علیہ السلام سے پوچھا کہ قیصر(حکمران) کوجزیہ دینا درست ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو اور جو خداکا ہے وہ خدا کو دو ۔
جہاں تک اس صورت حال کاتعلق ہے کہ کسی جگہ پر مسلمانوں کی اپنی حکومت ہو او ر کوئی دوسرا ملک ان پر ظلم کر رہا ہو تو پھر کیا کیا جائے ؟ اس صورت میں ان کی حکومت کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ جہاد کے ذریعے سے مسئلہ حل کرنے کے قابل ہے ؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہو اور دوسرے مسلم ممالک بھی اس پوزیشن میں نہ ہوں توجذباتیت کے بجائے عقل سے کام لے ، حقائق کے مطابق رائے قائم کرے، اپنے تنازع کے آئیڈیل حل کے بجائے ممکن حل کی طرف بڑھے ، کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی پر عمل کرے یا اس تنازع کو سرد خانے میں ڈال کر مخالف ملک کے ساتھ اپنے تعلقات نارمل کرنے کی کوشش کرے اور اپنی تمام تر توانائیوں کا رخ اپنی تعمیر کی طرف کر دے ۔ اپنے آپ کو ، اپنی قوم کواوراپنے ملک کو دینی ، اخلاقی، علمی ، سیاسی، معاشی غرض یہ کہ ہر پہلو سے مضبوط بنائے اورعوام اپنی حکومت کا ہر طرح ساتھ دیں، کیونکہ ایسے معاملات میں کمزوری ہی کے باعث ان پر کوئی ملک ظلم کرنے کی جرأت کر رہا ہوتا ہے ۔ اگر مسلمانوں نے شریعت ، حکمت اورحقیقت پر مبنی اس روش کو اختیار نہ کیا تواندیشہ ہے کہ ان پر ظلم کا سلسلہ جاری رہے گا اور ان کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا ۔

_______

 

جہاد: چند متفرق مسائل

سوال: آپ کا رسالہ ’’اشراق‘‘ اتفاقاً چند بار پڑھا۔آپ پر اور مولانا وحیدالدین صاحب پر مختلف مذہبی حضرات کی تنقید کو ایک طرف کر کے میں ذاتی طور پر یہ محسوس کرتاہوں کہ آپ کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں :
۱۔ (نہایت معذرت کے ساتھ) آپ کو مخصوص لابی سے فنڈ ملتا ہے جس کے ساتھ وفاداری نبھاتے ہوئے آپ دلائل کے ذریعے سے مسلمانوں کو ہر جرم میں قصور وار اوراغیار کو پرکشش بنا رہے ہیں تاکہ جذبۂ جہاد کا خاتمہ ہو سکے۔
۲۔آپ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کہ اندر وہ خامیاں ختم ہو جائیں جو ان کی شکست کا با عث بنتی ہیں ۔(اللہ کرے آپ کی سوچ ایسی ہو ) ۔
جناب محترم دوسری بات کی طرف آنا چاہوں گا ۔آپ جو دلائل دے رہے ہیں ، وہی دلائل سیکولر افراد اور اہل کفر کی زبان سے مسلمانوں کی مخالفت والے پلڑے میں ڈالے جاتے ہیں ۔ اس سے ترازو کا جھکاؤ کس طرف ہو گا؟ ممکن ہے آپ اصلاح چاہتے ہوں لیکن یقین کیجیے آپ کے دلائل مسلمانوں کے زخموں پر مرہم پٹی کے بجائے لال مرچ کے بیج کا کام دے رہے ہیں ۔آپ ضد میںآکرکبھی اتنے نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ دکھ ہوتا ہے۔ مفتی اعظم سعودی عرب اور امام کعبہ کہتے ہیں کہ کشمیری مظلوم ہیں ،ان کی ہر طرح سے مدد کریں اورجہاد کشمیر صحیح جہاد ہے ۔ مگر آپ نے اسے پرائیوٹ جہاد کا نام دے کر دشمنوں کو خوش کر دیا ۔اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے قیام کے وقت کوئی شرعی حکومت آرڈر دینے والی نہ تھی ۔ کیا اس وقت جن لوگوں نے قربانیاں دیں ، پرائیویٹ جہاد تھا؟ اس کی کوئی دینی حیثیت نہ تھی؟ خدارا یہ سرٹیفیکیٹ آپ نہ دیں،یہ اللہ تعالیٰ ہی دے گا جس کی خو ش نودی کے لیے لوگ جان ہتھیلی پر رکھتے ہیں ۔
جواب:آپ نے ہمارے کاموں کا جو پہلا مقصد متعین کیا ہے ، اسے پڑھ کر ہمیں افسوس تو ہوا ، مگر حیرت نہیں ہوئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری مذہبی دنیا میں عام آدمی تو درکنار علمااور پیشوابھی دوسرے لوگوں کے کام کی نوعیت کے بجائے ا ن کی نیت میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں،پھر ٹھوس شواہد حاصل کیے بغیر ، دوسرے سے وضاحت حاصل کیے بغیر، حتیٰ کہ دوسرے کے ساتھ معمولی قسم کا مکالمہ کیے بغیر منفی رائے قائم کرلیتے ہیں۔اگرچہ دین کی رو سے یہ رویہ بدگمانی کے ذیل میں آتا ہے ، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بہت سے گمانوں سے بچو ، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں اور ٹوہ میں نہ لگو ۔
مسلمان کو اپنے دوسرے بھائیوں سے حسن ظن رکھنا چاہیے ۔ اگر کسی سے کوئی ایسی بات صادر ہو جو بدگمانی پیدا کرنے والی ہو تووہ حتی الامکان اس کی اچھی توجیہہ کرنی چاہیے ، اگر اچھی توجیہہ نکل سکتی ہو۔اس کے منفی پہلو کواسی صورت میں اختیار کرنا جائز ہے جب اس کی کوئی اچھی توجیہہ نہ نکل سکے۔
مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں بدگمانی کی روش بہت عام ہے ۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ ہمارے ہاں مذہبی طبقات میں منافرت، دشمنی اور خوں ریزی کی ایک وجہ یہ روش بھی ہے ۔
بد گمانی کس قدر سنگین اخلاقی جرم ہے اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی کیا جاسکتا ہے ۔ ایک دفعہ ایک صحابی نے جنگ میں لڑتے ہوئے ایک غیر مسلم پر پوری طرح قابو پا لیا تو اس نے فوراً کلمہ پڑھ لیا،اس کے باوجودصحابی نے اسے قتل کر دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی سے دریافت فرمایا کہ جب اس نے کلمہ پڑھ لیا تھا تو اسے کیوں قتل کیا ؟ صحابی نے کہا کہ اس نے موت کے خوف سے کلمہ پڑھا تھا ۔ یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاچہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ آپ نے فرمایا :کیا تم نے اس کادل چیرکر دیکھ لیا تھا ۔
ہمارے کام کا مقصد یہی ہے کہ مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی خامیاں ختم ہوں ۔ وہ آخرت میں سرخرو ہوں اور دنیا میں بھی باوقار مقام حاصل کریں ۔ہمارے اس مقصد کے پیچھے رضاے الٰہی کے حصول کے سوا ہرگز کوئی محرک کا ر فرمانہیں ہے۔
ہم مسلمانوں پراس لیے تنقید کرتے ہیں کہ مسلمان ہمارا مسئلہ ہیں ،ہمیں ان کے ساتھ ہمدردی ہے ، ہم ا ن کی اصلاح چاہتے ہیں۔ اگرہم کبھی اغیار کی تحسین کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اغیار میں کچھ ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں جن سے ہم محروم ہیں ۔ایک مسلمان کسی معاملے میں جب مختلف اقوام کاتجزیہ کرتا ہے تو اسے حقائق کا کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہیے ۔ حتیٰ کہ دشمن قوم میں بھی جو خوبی دکھائی دے گی اس کا اعتراف کرنا ہمارے ایمان کا تقاضاہے ۔ سورۂ مائدہ میں ہے :

’’ایمان والو، عدل پر قائم رہنے والے بنو۔ اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے، اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس طرح نہ ابھارے کہ تم عدل سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے ۔‘‘(۵: ۸)

اسی طرح سورۂ نساء میں ہے :

’’ایمان والو ،انصاف پر قائم رہنے والے بنو ، اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے، اگرچہ اس کی زد خود تمھاری اپنی ذات ، تمھارے والدین اور تمھارے اقربا ہی پر پڑے ۔کوئی امیر ہو یا غریب ، اللہ ہی دونوں کے لیے احق ہے ۔اس لیے تم خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ اور اگر اسے بگاڑو گے یا اعراض کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے۔‘‘ (۴: ۱۳۵)

آپ معاشرتی معاملات میں قطار بنانے کے مسئلے ہی کو لیجیے ، ہم مسلمان نماز پڑھتے ہیں ، ایک پہلو سے دیکھیں تو نماز انسان کو ڈسپلن بھی سکھاتی ہے ،مگر ہم مسلمان نماز سے یہ سبق حاصل نہیں کرتے، ہم عملی زندگی میں انتہائی غیر منظم لوگ ہیں، بسوں میں سوار ہوتے وقت ، ڈاک خانے میں کوئی معاملہ کرتے وقت ،حتیٰ کہ بیت اللہ میں حجراسود کو بوسہ دیتے وقت کبھی قطار بنانا پسند نہیں کرتے ۔ جبکہ مغربی اقوام اس معاملے میں اس قدر ڈسپلن کامظاہرہ کرتی ہیں کہ ان کے بارے میں یہ لطیفہ بن گیا ہے کہ انگریز کہیں اکیلا بھی کھڑا ہو تو قطار بنا لیتا ہے ۔اس حوالے سے اگر ہم مسلمانوں پر تنقید کریں اور انھیں شرم دلانے کے لیے انگریزوں کی اس خوبی کا حوالہ دے دیں تو اس میں کیا حرج ہے۔یہ بھی اصلاح احوال کا ایک طریقہ ہے۔اس میں بھی درحقیقت قومی درد ہی پوشیدہ ہوتا ہے ۔
اغیار کے مسئلے کو ایک دوسرے پہلو سے بھی دیکھیے ۔یہ اغیار آخر کون ہیں ؟یہ سب آدم علیہ السلام ہی کی اولاد ہیں۔یہ ایک ہی خاندان کے افراد ہیں ۔ کچھ تعصبات کی وجہ سے یہ ایک دوسرے کے لیے غیر بن گئے ہیں ۔ یہ تمام ’’ غیر‘‘ ہم مسلمانوں کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ہم مسلما ن ہی انھیں حیات و کائنات کے حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں ۔ اپنی اس حیثیت اور اہمیت کے پیش نظرہمیں اپنے مفادات کی فہرست میں دعوتی مفاد کو سرفہرست رکھنا چاہیے ۔ دعوت کے کام کے لیے ضروری ہے کہ ایسی غیریت کی بے جا دیواروں کو ہم خود گرادیں ۔اس میں ہمارا ہی مفادپوشیدہ ہے ۔غیریت کا احساس کم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کی خوبیوں کا اعتراف کیا جائے ۔اس سے قربت پیدا ہو گی ، ملنے جلنے کا ماحول بنے گا اوراسی سے اپنی بات ان تک پہنچانے کا موقع پیدا ہو گا۔اگر ہم اپنے اور غیر مسلم اقوام کے مابین بے جا فاصلوں میں اضافہ ہی کرتے رہیں گے تو ان تک ا ن کی اس امانت کو کیسے پہنچائیں گے جواسلام کے نام سے ہمارے پاس موجودہے۔
مسلمانوں پر تنقید کرتے ہوئے ہم کبھی نازیبا الفاظ استعمال نہیں کرتے ، اگر آپ کہیں ایسے الفاظ یا ایسا اسلوب پائیں تو ازراہ کرم اس کی نشان دہی کریں ہم اس پر معذرت بھی کریں گے اور اپنی اصلاح بھی ۔لیکن اس معاملے میں آپ کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اپنے اوپر تنقید سن کر کوئی بھی انسان خوش نہیں ہوتا ۔ وہ تنقیدکو بالعموم منفی مفہوم میں لیتاہے ۔ وہ ناقد کو اپنا مخالف ، بلکہ دشمن خیال کرتا ہے ۔ حالانکہ تنقید ایک مثبت چیز ہے ۔ہاں نکتہ چینی منفی چیز ہے ۔ تنقید سے تو مسائل کے مخفی پہلو اجاگر ہوتے ہیں ، حقائق نکھرتے ہیں ،جس سے دوسرے کی اصلاح ہوتی ہے ۔ آپ تمام انبیاے کرام کے کام پر غور کریں، آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنی قوم پر کس قدر سخت تنقید کرتے تھے ۔سمجھ دار لوگ اس تنقید کو مثبت مفہوم میں لیتے تھے اور اپنی اصلاح کرتے تھے ، جبکہ دوسری قسم کے لوگ تنقید کو منفی مفہوم میں لیتے ، وہ تنقید سن کر غصے میںآجاتے ، نبی کی دشمنی پر اتر آتے اور یوں اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق قرار پاتے تھے۔
اب وحی و الہام کا دروازہ بند ہوچکا ہے ۔اہل علم اپنے دینی فہم کے مطابق بڑے خلوص کے ساتھ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں جو درست بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔ لہٰذاہر تنقید کو مثبت مفہوم میں لینا چاہیے ، ناقد پراخلاقی الزام عائد کرنے کے بجائے غیر جذباتی ہو کر اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرنی چا ہیے ، بات واضح نہ ہو تو اس کے ساتھ تہذیب اور دلیل کے ساتھ مکالمہ کرنا چاہیے ۔اس سے ایک توماحول میں تناؤپیدا نہیں ہو گا اوردوسرے یہ کہ فریقین میں سے کسی ایک کی غلط فہمی دور ہوجائے گی اور وہ درست رائے اختیار کر لے گا۔درست رائے ہی سے انسان درست رویہ اختیار کرتا ہے ۔ افراد کے درست رویوں ہی سے قومی سطح پر درست پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں جو قومی تعمیر میں غیر معمولی کردار اداکرتی ہیں۔
جہاں تک کشمیریوں کے مظلوم ہونے کی بات ہے ،اس سے کون انکار کرتا ہے ، اس دردناک حقیقت کا ہم نے کئی دفعہ اظہار کیا ہے۔ اسی پہلو سے ’’اشراق‘‘ میں استاذگرامی جناب جاوید احمد غامدی کی ’’وادی کشمیر‘‘ کے نام سے ایک نظم بھی شائع ہوچکی ہے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ کشمیریو ں پر نہ صرف یہ کہ غیر مسلم ظلم کر رہے ہیں ، بلکہ وہ مسلمانوں کے بھی ظلم کا شکار ہیں ۔ اور اس ظلم کا دائرہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے مسلمانوں تک پھیل چکا ہے۔ اگر آپ اس پہلو سے غور کریں تومعلوم ہو گا کہ مسلمانوں کی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ مسلمانوں کے مسلح گروہ بھارتی فوج کے خلاف کوئی کارروائی کر کے جنگلوں میں چھپ جاتے ہیں اور پھر بھارتی فوج پرامن کشمیریوں کی زندگی اجیرن کر دیتی ہے۔ نوجوان مسلمانوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے ، ان پر ظلم کیا جاتا ہے، بعض کو قتل کر دیا جاتا ہے اور عورتوں کی عصمت پامال کر دی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت اس پر یہ موقف اختیار کرتی ہے کہ ایسی مسلح کارروائیوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے ۔ادھر پاکستان میں بھی بعض مذہبی جماعتیں بڑے فخر کے ساتھ علانیہ ایسی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔وہ مذہبی جماعتیں ایسی کارروائیوں کوجہاد کانا م دیتی ہیں ۔ مگر دنیا تو اپنے اند از سے سوچتی ہے۔ اس کی نظر میں ایسی کارروائیاں سرحد پار دہشت گردی (Cross Border Terriorism) قرار پاتی ہیں۔اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے ۔ مسلمانوں کا تاثر خراب ہوتا ہے ۔ دنیا میں پاکستان اورمسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔پاکستان پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں جس سے حکومت پاکستان مالی مسائل کاشکار ہوتی ہے اور جن کا حل وہ عوام پر مزید ٹیکس لگا کر اور چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کر کے نکالتی ہے۔اس صورت حال سے مزید مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ پیدا ہو جاتا ہے ۔ کنٹرول لائن پرپاکستانی اور بھارتی افواج کے مابین جھڑپیں شروع ہو جاتی ہیں، جس سے آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب رہنے والے مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض تو زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کی فوجیں باربار ریڈالرٹ ہوتی ہیں۔ افواج کی نقل وحرکت ، اسلحے کی تیاری اور نئے اسلحے کی خریداری پر غیر معمولی سرمایہ خرچ کرنا پڑتا ہے ۔ بھارت چونکہ بہت بڑا ملک ہے اس لیے اس کے مقابلے میں ہمیں بہت بڑی فوج رکھنی پڑتی ہے ۔ ان تمام معاملات کے لیے بھی عوام ہی کا خون نچوڑا جاتا ہے ۔پھر کمزور قسم کے لوگ زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں جس سے شریف النفس افرادکی مصیبتوں میں اور اضافہ ہو جاتا ہے ۔
جہاں تک ان اہل علم کا تعلق کا ہے جو ’’پرائیویٹ جہاد‘‘کو شرعاً درست قرار دے رہے ہیں تو یہ ا ن کی رائے ہے۔ انھیں کسی بھی معاملے میں اپنی رائے قائم کر نے کا حق حاصل ہے ، مگر ہمیں ان کے ساتھ اتفاق نہیں ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انبیاورسل کے اسوہ سے بالکل واضح ہے کہ جہاد ہمیشہ علانیہ اور حکومت کے تحت ہوتا ہے ۔

____________

 




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List