Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Dr. Waseem Mufti Profile

Dr. Waseem Mufti

  waseemmufti@javeahmadghamidi.com
Author's Bio
Visit Profile
مختار علی شاہ: یادیں اور تاثرات | اشراق
Font size +/-

مختار علی شاہ: یادیں اور تاثرات


جاویں گے ایسے کہ کھوج بھی پایا نہ جائے گا۔ ایک ہفتہ قبل مجھے کلینک پر مختار صاحب کا فون آیا ، موبائل فون پر آواز ٹوٹ رہی تھی۔میں نے انھیں پی ٹی سی ایل نمبر پر فون کرنے کو کہا۔پندرہ منٹ کے بعد انھوں نے دوبارہ رابطہ کیا اور قرآن مجید کے نحوی مسائل پر کچھ استفسارات کیے۔دوران گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ مجھے دل کی شدید تکلیف ہے ۔ اسی بیماری دل نے آخر ان کا کام تمام کیا،ایک ہفتہ پورا بھی نہ گزرا تھا کہ ان کی وفات کی خبر آ گئی۔
مختار شاہ صاحب اکثرمجھے فون کرتے رہتے ۔قرآن مجید ان کی گفتگو کا محور ہوتا ، صرف و نحواورگرامر میں انھیں خصوصی دل چسپی تھی ۔اپنے غور و فکر میں وہ مجھے شامل کرنا ضروری سمجھتے تھے۔میں فون کرنے اور سننے میں بہت سست ہوں ۔کئی بار ان کی بات سمجھ نہ پاتا ، عام طورپر مریضوں میں الجھا ہوتا یا کہیں راستے میں ہوتا۔میں نے انھیں کئی بار کہا، میں ’’المورد‘‘ باقاعدگی سے جاتا ہوں ۔کچھ دیر کے لیے وہاں آجایا کریں ،تسلی سے بات ہو جائے گی اور آپ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہو جائے گا، لیکن وہ آمادہ نہ ہوئے۔
مختار علی شاہ میرے شہر وزیرآباد کے رہنے والے تھے، میرے تایا زاد محمد رفیع مفتی کے ہم جماعت تھے۔میں رفیع صاحب کے بہت قریب تھا ۔عمر کے تفاوت کے باوجود مجھے ان کے دوستوں کی خبر رہتی تھی۔چھوٹا ہونے کی وجہ سے مجھے اس زمانے کی کوئی خاص بات یاد نہیں۔ذہن میں اتنا تاثر ضرور ہے کہ رفیع صاحب اپنے دوستوں سے الجھتے رہتے تھے۔ ان کے دوست ان کی تنقیدات پر خاموش رہتے یا خفیف سا رد عمل دیتے۔میری عمرچودہ برس تھی جب میرے ایک عزیز ،محمد رفیع مفتی اور مختار علی شاہ کے ہم جماعت محمد محمود احمد نے’انجمن امداد غریباں وزیر آباد‘ بنائی۔ انھوں نے مجھے خود کہہ کر انجمن میں شامل کیا۔ انجمن کا دفتر مختار علی شاہ کے گھر کے پاس تھا۔مجھے اس کی کارگزاری کی کوئی خبر نہ ہوتی تھی، تاہم کارروائی کے آغاز سے قبل تلاوت قرآن کے لیے مجھے کھڑا کر دیا جاتا۔مختار علی شاہ ’انجمن امداد غریباں‘ میں شامل تھے ،اس وقت میرا ان سے تعارف نہ ہوا تھا۔بعد میں لاہور میں ایک ملاقات میں انھوں نے بتایاکہ محمد محمود احمد سے ان کا اختلاف ہوا جو جھگڑے کی شکل اختیار کر گیااور انھوں نے ’انجمن امداد غریباں‘ چھوڑ دی۔ محمود صاحب چندہ لینے میں احتیاط نہ برتتے تھے اور ہر قماش کے شخص سے رقم لے کر غربا کو تھما دیتے تھے۔ ۱۹۷۳ء میں ہم وزیرآباد چھوڑکر لاہور منتقل ہو گئے۔اس کے بعد کسی تقریب میں وزیرآباد جانا ہوا تو میں رفیع صاحب کے بتائے کسی کام کے لیے مختار صاحب کے گھر گیا۔ صبح کا وقت تھا، مختارصاحب نے پراٹھوں اور دہی سے تواضع کی۔
لاہور میں ایک عرصہ تک مختارشاہ سے کوئی رابطہ نہ ہوا۔ اتنا معلوم تھا کہ وہ سیشن کورٹ میں ملازم ہیں اور اچھرہ میں مقیم ہیں۔ان کی اپنی زبانی وہ دن ان کے لیے بڑے کڑے تھے۔کئی بار کھانا بھی میسر نہ ہوتاتھا۔ان سے میرا زیادہ میل جول اس وقت ہوا جب وہ رفیع صاحب کے توسط سے استاذ جاوید احمد غامدی سے متعارف ہو چکے تھے۔یہ ۱۹۷۸ء کا سن تھا۔میری ان سے جب بھی ملاقات ہوتی،رفیع مفتی ساتھ ہوتے۔ ۶؍ فروری ۱۹۸۳ء کو استاذ غامدی نے فورٹریس اسٹیڈیم کے ایک کمرے میں عربی کی کلاسیں شروع کیں تو مختار علی شاہ اس میں شامل تھے۔میں ان دنوں علامہ اقبال میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھا،اس کلاس میں شریک نہ ہو سکا۔
فورٹریس اسٹیڈیم کی کلاسیں بعد میں ایک باقاعدہ ادارے ’’المورد‘‘ کی شکل اختیارکرگئیں۔استاذ جاوید احمد غامدی کے گھر سلطان پورہ میں کئی مجالس(meetings) ہوئیں اور ’’المورد‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ ’’المورد‘‘ کے ارکان تاسیسی کا پہلا اجتماع ۷؍ مئی ۱۹۸۳ء (۲۳؍ رجب ۱۴۰۳ھ)کو میجر سعید نواز مرحوم کے گھر ہوا۔قرارداد تاسیسی اور دستور پر حسب ذیل ارکان نے دستخط کیے۔ آفتاب احمد شمسی مرحوم، ڈاکٹر خالد ظہیر، سعید نوازمرحوم ، مختار علی مرحوم،ڈاکٹر منیر احمد اور نعیم رفیع۔ اگلے روز ۸؍ مئی کو ملک محمد عاشق کے گھر بقیہ دو ارکان تاسیسی ملک محمد عاشق اورمیاں محمد رفیع نے دستخط ثبت کیے۔ اس مجموعۂ ارکان کو’الموردکی مجلس تنفیذی‘ (Al-Mawrid Executive Council) کا نام دے کر میجر سعید نواز مرحوم کو صدر مقرر کیا گیا۔ جون ۱۹۸۳ء (شعبان ۱۴۰۳ھ) میں ابوبکر بلاک گارڈن ٹاؤن میں ایک گھر کرایہ پر لیا گیااور ۳؍ جولائی ۱۹۸۳ء (۲۰؍ رمضان ۱۴۰۳ھ) کو ’دانش گاہ معارف اسلامی المورد ‘نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ مختار علی شاہ بڑے جوش و جذبہ سے ’’المورد‘‘ میں شامل ہوئے ۔ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ وہ ویگن چلاتے ، جاوید صاحب اور طلبا کو سلطان پورہ اور اسلامیہ پارک سے گارڈن ٹاؤن لاتے اور واپس چھوڑتے۔ ’’المورد‘‘ کے کئی امور ان کے سپرد تھے۔ ان کا انہماک دیدنی تھا۔ان دنوں انھوں نے ’’المورد‘‘ کے باتھ روم اور ٹائلٹ بھی صاف کیے۔میں انھی کی سفارش سے عارضی طور پر ریلوے کیرن اسپتال میں کام کر رہا تھا۔ وہ باقاعدگی سے میرے پاس آتے۔ ’’المورد‘‘ کی کتابیں ان کے پاس ہوتیں اور وہ پچھلا سبق دہراتے ۔میڈیکل وارڈ کی مصروفیات کی وجہ سے میں کم توجہ دے پاتا، لیکن وہ اپنی دھن کے پکے تھے۔ میں جب تک ریلوے کیرن میں رہا ، وہ آتے رہے۔
۲۱؍ مارچ ۱۹۸۶ء کو’مجلس تنفیذی للمورد‘کا اجلاس ابوبکر بلاک گارڈن ٹاؤن میں ہواجس میں میجر سعید نواز مرحوم، ڈاکٹر خالد ظہیر،ڈاکٹر منیر احمد اور مختار علی مرحوم نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں تدریس اور تصنیف وتالیف کے ساتھ نشر و اشاعت کا شعبہ قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔احادیث نبویہ کی تنقیح و ترتیب، سیرت رسالت مآب اور تاریخ اسلامی کا جائزہ لینے کے ساتھ فقہ اسلامی کی تدوین نو کو مطمح نظر قرار دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے لاہور اور بڑے شہروں میں سہ روزہ، ہفتہ واراور ششماہی اجتماعات کا فیصلہ کیا گیا۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۸۶ء کے اجلاس میں دستور میں کچھ ترامیم پیش کی گئیں۔مختار صاحب اس اجلاس میں حاضر تھے ،۵؍ اکتوبر ۱۹۸۶ء کے اجلاس میں وہ نہ آئے، تاہم ۲؍ نومبر ۱۹۸۶ء کی میٹنگ میں موجود تھے۔ اسی زمانے (۲۹؍ جون ۱۹۸۹ء) میں ’الانصار المسلمون‘کا قیام عمل میں آیا۔تب تک مختار شاہ کو ’’المورد‘‘ سے کچھ اختلافات ہو چکے تھے۔وہ تلاش روزگار میں کراچی چلے گئے، وہاں ان کا ’’المورد‘‘ کراچی سے رابطہ رہا اور وہ اس کے اجتماعات میں شریک ہوتے رہے۔ کراچی میں پہلا اجلاس ۸ تا ۱۰؍ اپریل ۱۹۸۷ء کو ہوا۔’المجلس التنفیذی للمورد‘ (Al-Mawrid Executive Council) کے 51-K ماڈل ٹاؤن لاہورمیں ہونے والے اجلاسوں میں مختار علی شاہ کراچی سے آتے رہے، تاہم ان کی حاضری باقاعدہ نہ رہی اور ان کی دل چسپی کم ہوتی گئی۔کچھ وہ کھچے کھچے رہے کچھ ہم کھچے کھچے، اس کش مکش میں ٹوٹ گیا رشتہ چاہ کا۔اگست ۲۰۰۶ء کی میٹنگ آخری میٹنگ تھی جس میں مختار صاحب آئے ۔ جون ۲۰۰۷ء کے اجلاس میں انھیں دعوت نہ دی گئی او ر مجلس تنفیذی سے ان کا نام خارج کر کے رکنیت ختم کر دی گئی۔
’’المورد‘‘ سے فارغ ہونے کے بعد قرآن مجید کے مطالعہ میں مشغول ہو گئے۔انھوں نے خودبھی بڑی محنت سے قرآن پڑھا اور اپنے قریبی ساتھیوں کی تعلیم کے لیے دروس کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ان کی وفات تک یہ سلسلہ جاری تھا۔
مختار علی شاہ اپنی فطرت میں سادہ اور بھولے تھے۔ریلوے کیرن اسپتال آکر عربی پڑھنا ان کے بھول پن کا ثبوت تھا۔اس طرح کے اشخاص واقعی مخلص ہوتے ہیں، تاہم اگر ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جائے تو رد عمل بھی سخت دیتے ہیں۔زندگی کے مسائل سے الجھتے الجھتے اور ہر طرح کے لوگوں سے تعامل کرتے کرتے مختار علی شاہ کو گفتگو کا سلیقہ آ گیا تھا ۔انھیں معلوم تھا ،دل کی بات کب بتانی ہے اورکب اپنے اختلاف کو چھپانا ہے۔ایک مجلس میں میں، محمد رفیع مفتی اور مختار علی شاہ حاضر تھے۔ ایک ایسی مہم کی تجویز سامنے آئی جس سے ہم تینوں کو اختلاف تھا۔رفیع صاحب نے کھل کر اپنے اختلاف کا اظہار کیا۔میں نے غیر متعلق ہوتے ہوئے بھی ایک دھواں دھار تقریر جھاڑ دی۔مختار صاحب کی باری آئی تو انھوں نے کسی شور و شغب کے بغیر اطمینان اور سکون سے کہا: اگر مجھے فلاں ذمہ داری دی گئی تو میں نبھاؤں گا۔انھیں علم تھا کہ یہ تجویز سرے چڑھنے والی نہیں، اس لیے بحث میں الجھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
میں ہر سال قرآن اکیڈیمی ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں نماز تراویح ادا کرتا ہوں۔جس وقت عام مسجدوں میں نمازہو رہی ہوتی ہے،میں کلینک میں ہوتا ہوں۔یہاں سے فارغ ہونے کے بعد قرآن اکیڈیمی جاتا ہوں اور چند رکعات پڑھ کر لوٹ آتا ہوں۔مختار شاہ کراچی میں تھے ،تب بھی لاہور آنے پر قرآن اکیڈیمی ضرور آتے اور ان سے ملاقات ہوتی۔کئی برسوں سے وہ لاہور میں تھے۔ہرسال رمضان میں نظر آتے اور مکمل تراویح و ترجمہ قرآن سن کر لوٹتے۔ میں اپنی نام نہاد مصروفیات کی وجہ سے انھیں وقت نہ دیتا ، دور سے دیکھ کر آجاتا۔چائے کا وقفہ ہوتا تو ان کا گپ شپ کرنے کو دل چاہتا، لیکن میں ہاتھ ملا کر رخصت ہو لیتا۔امسال بھی مختار علی شاہ نے پوری تراویح پڑھیں اور ترجمہ سنا، لیکن میرا non social rather anti social رویہ غالب رہا اور میں ایک دو بار سے زیادہ ملاقات نہ کر پایا۔
مختار علی شاہ کی کچھ باتیں عجیب بھی تھیں۔انھوں نے شناختی کارڈ بنواتے وقت اپنے والد سے بڑی بحث کی کہ ان کے نام کے ساتھ سید نہ لکھوایا جائے ۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی پربھی انھیں اعتراض تھا کہ اپنے نام کے ساتھ سید کیوں لکھتے ہیں۔اس کے باوجود سب احباب انھیں مختار شاہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔میں نے ابوشعیب صفدر علی مرحوم کے منہ سے پہلی بار مختار شاہ سنا تو معلوم ہوا کہ وہ سید ہیں۔ایک بار میں نے پوچھا: آپ نہیں، لیکن آپ کے بیٹے تو اپنے نام کے ساتھ سید اور شاہ لکھتے ہیں تو جواب د یا: وہ تو سید ہیں نا۔ ڈاڑھی کے بارے میں مختار علی شاہ کو بڑا اشکال تھا۔ایک دفعہ مولانا امین احسن اصلاحی نے بڑے زور دار طریقے سے کہا کہ ڈاڑھی انبیا کا فیشن ہے، ضرور رکھنی چاہیے۔تب مختار صاحب نے ڈاڑھی رکھ لی، لیکن زیادہ عرصہ اس کے ساتھ نباہ نہ کر سکے۔
مختار علی شاہ دنیا سے رخصت ہو کر اپنے رب کے حضور پہنچ چکے ہیں۔ان پر اﷲ کی کروڑوں رحمتیں ہوں۔مجھے دکھ ہے کہ ان کے جنازے میں شامل نہ ہوسکا۔اس وقت میں بچوں کو اسکول سے لانے میں مشغول تھا۔اگلے روز ان کے گھر افسوس کرنے گیا تو گلیوں گلیوں گھومتا واپس آ گیا۔میں جب بھی ان کے گھر جاتا ،انھیں موبائل پر فون کر کے رستہ سمجھتا۔اس بار مجھے کوئی راستہ بتانے والا ہی نہ تھا۔آہ!اب کون فون کر کے قرآن مجید کے نحوی مسائل پر بات کرے گا۔اگلے برس تک زندہ رہا تو اکیلے ہی تراویح پڑھ کر آ جاؤں گا،مختار علی شاہ کی صورت نظر نہ آئے گی۔ میری محدود دنیا اجڑ گئی۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List