Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Administrator Profile

Administrator

  webmaster@javedahmadghamidi.com
Author's Bio
Humble slave of Allah!!!
Visit Profile
مدیر ’’البرہان‘‘ کی خدمت میں | اشراق
Font size +/-

مدیر ’’البرہان‘‘ کی خدمت میں

ڈاکٹر محمد غطریف شہبازندوی

گذشتہ سال فاضل گرامی جناب ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے آ پ کے مجلہ ’’البرہان‘‘ کے کئی شمارے عنایت کیے تھے جو سب ایک ہی نشست میں پڑھ گیا۔ اکثر مباحث بڑے معلوماتی وفکر انگیز تھے۔ بعض مضامین پر لکھنے کا داعیہ بھی ہوا، مگر مختلف مصروفیات حائل ہوگئیں۔ ابھی حال میں محترم ندوی صاحب نے ۵ شمارے بشمول مارچ ۲۰۱۶ء کے خصوصی نمبرکے پھر عنایت فرمائے او ران کو بھی پہلی فرصت میں پڑھ ڈالا۔ اسلامی تعلیم سے متعلق آپ کی ایک کتاب بھی مطالعہ میں آئی تھی۔ اسلامی تعلیم کی تدوین جدید اور خاص مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم سے متعلق راقم نے بھی بہت کچھ لکھا ہے؛ بڑے بڑے مدارس کا دورہ بھی کیا۔ ان کے علما و ارباب حل وعقد سے باتیں بھی ہوئیں۔ بعض کے انٹرویو لیے اور مستقل سوچتا اورلکھتارہتا ہوں۔ آپ ایک اہم فکری و عملی محاذپر لگے ہوئے اور اب آپ کے قارئین کا ایک حلقۂ فکر بھی بن گیاہے۔ مدارس کے نظام تعلیم میں اصلاحات کی بات کو ایک صدی ہوچکی ہے۔ میرا ناقص خیال یہ ہے کہ اب تقاضا نظری مباحث کے بجاے عملی اقدام کا ہے۔ آپ آگے بڑھ کر ایک نیانظام تعلیم ترتیب دیں اورخود ایک ماڈل مدرسہ قائم کریں جہاں دینی و دنیا وی ثنویت کو مٹاکراس نئے نصاب کے مطابق تعلیم دی جائے۔ اس کے بہتر نتائج دیکھ کر ہوسکتا ہے کہ ملت اس طرف متوجہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا تجربہ یہ ہے کہ علما اور اہل مدارس کوچند چیزیں اصلاحات سے روکتی ہیں:
۱۔ اکابر و اسلاف کی تقدیس کا رویہ۔ یہ حضرات سمجھتے ہیں کہ اکابر واسلاف نے جو کتابیں (کتنی ہی فرسودہ سہی) مقرر کردی ہیں، ان میں برکت ہے ان کو نہ پڑھائیں گے اور ان کے طریقہ سے ہٹیں گے تو دین وایمان کو خطرہ پیش آجائے گا۔ ان کو موجودہ صورت حال سے نکالنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ بالجبرمدارس کے نظام میں تبدیلیاں لادی جائیں جیساکہ جامعہ الازہرمیں ہواہے۔مگرایساکرے گاکون، یہ بھی سوال ہے، کیونکہ حکومت خود بھی صالح نہیں تو اس کے ذریعے سے صالح تعلیمی انقلاب کیسے آسکتاہے؟
۲۔ دوسرا بڑا سبب روزی روٹی، اپنا حلقۂ اثراور جماعتی اساس کھوجانے کا خطرہ ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ فی زمانہ یہ مدارس اسلامیہ مسلکی فرقہ واریت شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی،حنفی ، سلفی وجماعتی (جماعت اسلامی) کا سرچشمہ بنے ہوئے ہیں۔یہ سارے تعصبات مدارس او ران کے منہج سے ہی طلبا، علما اور عوام میں پھیلتے ہیں۔ کوئی ایک آدھ استثنا ہو تو ہو، مگر عمومی کیفیت یہی ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء اس صورت حال کے خلاف ایک بڑا محاذ بن کر سامنے آیا تھا اور الحمد للہ وہاں مسلکیت کے جراثیم اب بھی نہیں ہیں، مگرحضرت مولانا علی میاں اوران کے جانشینوں نے اس کوجس تبلیغی رخ پر ڈال دیا ہے، اس وجہ سے ندوہ سے بھی کسی بڑے خیر کی توقع ہم کو نہیں ہے۔
۳۔اہل مدارس ہمیشہ یہ عذرلنگ پیش کرتے ہیں کہ نیانصاب کہاں سے آئے گا،اورپھراس کوپڑھائے گا کون، اس لیے کہ موجودعلماتواسی روایتی درس نظامی سے ہی مانوس ہیں ،بس اسی کوپڑھاسکتے ہیں۔ غرض اس محاذ پرعملی اقدام کا سوچیں۔ ایک اسلامی یونیورسٹی/ کالج/ماڈل مدرسہ کا قیام آپ کا حلقہ کرے توبہت مناسب ہوگا۔اس سلسلہ میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے مدارس اسلامیہ کے لیے جوبرج کورس تشکیل دیا ہے، اس کاتجربہ خاصامفیدثابت ہو رہا ہے، اس سے بھی فائدہ اٹھایاجاسکتاہے۔
آپ کے موقر مجلہ میں مغرب، مغربی تہذیب، مغربی علوم پر تنقید و تبصرہ بھی اکثرہوتاہے۔ ان میں بعض اوقات کام کی چیزیں بھی ہوتی ہیں، مجھے آپ کے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں کہ آپ نے مغربی تہذیب کونہیں پڑھاہوگا۔ مگر علماے کرام کے بارے میں یہ خوش گمانی نہیں کہ وہ مغربی تہذیب کی الف ب سے بھی واقف ہوں گے۔ جس عالم کو دیکھیے اپنی تقریر و تحریر کی ابتدا مغرب کو (اس کو جانے بغیر) لعن طعن سے کرتاہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ میں نے آج تک ایسا کوئی عالم نہیں دیکھا جسے امریکا، برطانیہ، کینیا وغیرہ میں امامت،مؤذنی، اسلامی مرکز میں کام وغیرہ کی کوئی پیش کش ہوئی اور اس نے ٹھکرا دی ہو اور ہندوستان یا پاکستان میں دین کی خدمت کو ترجیح دی ہو۔ علما کے پرے کے پرے ہیں جو ہر سال مغربی ممالک میں تراویح سنانے، جلسوں اورکانفرنسوں میں شرکت کرنے جاتے ہیں، وہاں اعتکاف وغیرہ کرتے ہیں۔ہمیں اس پرکوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن آپ مغرب میں قیام سے متعلق ان سے فتویٰ پوچھیے تووہ کہیں گے کہ فقہ کی رو سے مغرب دارالحرب ہے اور دارالحرب میں مسلمانوں کا مستقل قیام جائز نہیں۔ آپ کے ایک مقالہ نگارسیدخالدجامعی توہینِ رسالت کے ضمن میں غامدی صاحب کے موقف کے تعاقب میں لکھتے ہیں کہ ’’دیارکفرمیں مستقل قیام کوشریعت نے اجماع سے حرام قراردیاہے ،شیخ حسن بصری تولکھتے ہیں کہ ایسامسلمان واپس آئے تواسے قتل کردیاجائے‘‘۔ جامعی صاحب نے حسن بصری کا قول توبالکل غلط پس منظرمیں نقل کیاہے ،لیکن میں جامعی صاحب سے پوچھناچاہوں گاکہ آپ جس اجماع کی با ت کررہے ہیں، آپ کے علما مسلسل اس کوتوڑنے کے مرتکب ہورہے ہیں، اس کے خلاف کیوں قلمی جہادآپ نہیں فرماتے ؟

مغربی تہذیب کے مطالعہ کی ریت قائم کیجیے

مغربی تہذیب اور اس کے بطن سے پیدا شدہ جمہوریت و سیکولرزم سراپا شرنہیں ہیں۔ یہ ہمارا دعویٰ ہے جو چیز سراپا شر ہو، اس کو غلبہ دینا سنۃ اللہ کے خلاف ہے۔ان کا شرہونااضافی ہے ،مثال کے طورپر انڈیاکے مسلمان (ہر طبقۂ فکر کے) نہ صرف جمہوریت و سیکولرزم کی حمایت کرتے ہیں،بلکہ مسلمان ہی عملاً ان کے محافظ بنے ہوئے ہیں، کیونکہ یہاں کی جارح ہندواکثریت کوجمہوریت وسیکولرزم سے کوئی فائدہ نہیں ۔ الٹانقصان ہے اوریہاں ہندتوکے عفریت کوجمہوریت وسیکولرازم کے ہتھیارسے ہی ہم روک پاتے ہیں۔ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے،یہاں تک کہ حکومت الٰہیہ کے علم برداربھی یہاں جمہوریت وسیکولرزم کی حمایت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں پاتے۔ مسلم اکثریتی ممالک کی بات دیگرہے ۔ حدیث میں آیاہے کہ اللہ تعالیٰ دین کا کام کفرسے بھی لیتاہے۔ ہمارے خیال میں ہندمیں جمہوریت وسیکولرازم کوآج اسی کفرکے معنی میں لیاجاسکتاہے ۔اس لیے جمہوریت کے حق میں جناب محمدرشیدصاحب کی دلیلوں میں معقولیت ہے ۔اس کی کامیابی کی مثال میں موجودہ ترکی کوبھی پیش کیاجاسکتاہے ۔
یقیناًمغربی تہذیب کی اساس عقل کو خدا مان لینا اوروحی کو نہ ماننا ہے۔اوراس سے جو کلچرپیدا ہوا ہے، اس میں عریانیت، بے باکی،اخلاقی بے راہ روی جیسی شدید درجہ کی برائیاں ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ خوبیاں ایسی ہیں جن کی وجہ سے اس کا عروج بھی ہے۔ مثلاً احترام انسان، فرد کی آزادی ہے( اس میں غلو ہے)۔ اظہار خیال کی مکمل آزادی(اس میں بھی مبالغہ ہے)، یاد رہے اظہار کی آزادی اسلام میں بھی ہے، مگر (مسلمانوں میں نہیں) موجودہ مسلم معاشرہ فرد کا گلا گھونٹ دیتاہے۔ اس کی آزادی فکر و نظر پر پہرے بٹھاتا ہے۔ اس لیے آج کا مسلم ذہنی بحران کا شکار ہے اور کسی بھی طرح کی تخلیقیت سے محروم ہے۔ اپنے اکابر اور مزعومہ مقدسین میں ہی اٹکا ہے۔ ان سے چھٹکارا ملے تو کچھ دنیا میں تخلیقی کرنے کی سوچے ۔ فقہ قدیم جس کے پاس جدید دور کے مسائل کا حل نہیں، مسلم ذہن و دماغ پر پیر تسمہ پاکی طرح مسلط ہے۔ اس سے چھٹکارا پائے بغیر آپ کیا مغربی تہذیب کا مقابلہ کریں گے۔ مغرب میں Rule of Lawہے۔ ایمانداری ہے، ہمارے ہاں موقع پاتے ہی ہر شخص کرپشن کی دلدل میں پھنسنے کے لیے تیار رہتاہے۔ ان کے ہاتھ عموماً ایسا نہیں ہے۔ یہ تو ظاہری پہلو ہیں۔ ہم نے مغرب کو پڑھا ہی نہیں ہے۔ اقبال نے پڑھا تھا اور بڑے تیکھے تبصرے مغربی تہذیب پربھی کیے ہیں۔ مگر اسی اقبال نے یہ بھی تو کہا تھا:

قوتِ مغرب نہ ازچنگ و رباب        نے ز از رقص زنان بے حجاب
قوتِ مغرب از علم و فن است        ازہمیں آتش چراغش روشن است

علم و فن پر جیسی توجہ وہاں ہے اورجیسی ریسرچ وتحقیق وہ کراتے ہیں۔تحقیق پر جو محنت مغربی اسکالر کرتے ہیں، کیا ہمارے ہاں اس کا عشر عشیر بھی پایا جاتاہے۔ مستشرقین کو گالیاں دیتے ہمارے علما تھکتے نہیں، مگر کون سا عالم دین ہے جس نے اے جے وسینک کی طرح ’’مسند احمد‘‘ جیسے ذخیرۂ حدیث کاایک ایک لفظ پڑھاہو، پھر کتب حدیث کا انڈیکس (مفتاح کنوز السنۃ) تیار کیا ہو؟ پاکستان کے بارے میں خوش گماں ہوں، مگر اپنے ہاں میں دیکھتا ہوں کہ مدارس کے عالم دین، محدث وفقیہ ہوں یا یونیورسٹی کے دانش ور۔ ان کے نام سے بڑی بڑی کتابیں منظر عام پر آتی ہیں۔ ان کی شہرت ہوتی ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک لفظ بھی ان کا لکھا ہوا نہیں ہوتا، سب شاگردوں اور ریسرچ اسکالروں کی محنت ہوتی ہے جن کو یہ حضرات اپنے نام سے چھپوانے اور ان کی اشاعت کرنے میں ذرا بھی نہیں شرماتے اور پھر بھی محدث و فقہ یا بڑے اسلامی اسکالر اور دانش ور کہلاتے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ (اس بیان کو مبالغہ پرمحمول نہیں سمجھیں ایسے حضرات کو نام بہ نام جانتا ہوں)۔ اس لیے جس طرح کی تنقیدیں مغرب پر آپ حضرات کررہے ہیں، ان بے بنیاد تنقیدوں سے کوئی کام نہیں چلے گا۔ اس کے مقابلہ میں مغرب کے مطالعہ کی ریت قائم کریں۔ کوئی ایسا سینٹر اور مرکز ہو یا جہاں اس کا تحقیقی، گہر اور معروضی مطالعہ کرایاجائے ۔ محترم پروفیسر نجات اللہ صدیقی سے کئی بار راقم نے بالمشافہ پوچھا کہ کیا اسلامی دنیا میں کہیں بھی کوئی ایسا سینٹر قائم ہے۔ انھوں نے نفی میں جواب دیا۔ فرمایا: ایران میں انقلاب کے بعد ایک کوشش ہوئی تھی، مگر وہ بھی جلد ہی دم توڑ گئی۔ مغرب کو کوسنے کاٹنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا۔الٹاہمارے لوگوں اور علما کا دماغ خراب ہوتا ہے۔ پھر سید خالدجامعی اور نادر عقیل انصاری اوردین محمد جوہراورپروفیسرطارق بٹ جیسے دانش ورفکر قرآنی کے علم برداروں پر حملے کرتے ہیں۔ مغرب کو لعن طعن کرتے ہیں۔ اور اپنی تحریروں میں علمی مغالطوں سے کام لیتے ہیں،حقائق سے وہ کھلواڑ کرتے ہیں کہ الامان والحفیظ۔ یہ دانش وری ہے تو دانش فروشی کیا ہے؟

مولانا فراہی اور مولانا اصلاحی کے ناقدین کی بارگاہ میں

تیسری چیز جس پر مجھے کچھ عرض کرنا ہے، وہ ہے مولانا امین احسن اصلاحی اورمولاناحمیدالدین فراہی پر آپ کے مجلہ میں ہونے والا بے محل اورغیرعلمی نقد۔میرے سامنے مولانا صلاح الدین یوسف اور پروفیسر طارق بٹ کے مضامین ہیں۔ بٹ صاحب نے مآخذدین پر مولانا اصلاحی کی تنقید کا مخدوش ہونا لکھا ہے اورثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ دونوں حضرات حدیث کو ماخد دین نہیں سمجھتے، لیکن حقیقت یہ نہیں ہے ۔اگر ایسا ہو تو ہمیں بتایا جائے، لیکن ان کے اپنے الفاظ میں ہو، آپ کے استنباط کی شکل میں نہ ہو۔ جہاں تک ہمارا مطالعہ ہے، محترم جاوید احمدغامدی اور مولانا عمار احمد خاں ناصر نے بھی کوئی بات نہیں لکھی کہ اس پر انکارِحدیث کا اطلاق کیاجاسکے۔ نادر عقیل اور طارق بٹ اورمولاناصلاح الدین یوسف اور دوسرے مہربان ناحق اور زبردستی غامدی صاحب اورمولانااصلاحی کو منکر حدیث قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔حالانکہ غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کی ابتدا ہی ان الفاظ سے کی ہے کہ ’’دین کا تنہاماخذاس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والاصفات ہے‘‘ (میزان ۱۳)۔ اتنی صراحت کے باوجودبھی یہ محترم ناقدین ان کومنکرحدیث قراردیتے ہیں!!حافظ صلاح الدین یوسف صاحب تومولانا اصلاحی کی تکفیر پر آمادہ ہیں۔ صلاح الدین یوسف صاحب اہل حدیث کے بڑے علما میں سے شمار ہوتے ہیں۔ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ مولانا مودودی پر ان کا نقد جان دار ہے، مگر جو زبان وہ مولانا اصلاحی کے لیے استعمال کررہے ہیں، وہ ان کے شایان شان نہیں۔ہم مؤدبانہ عرض کریں گے کہ حضرت، آ پ کا فرقہ بھی بہت سے دیوبندی حنفی علما کے تکفیری فتووں کی زد میں ہے۔ پہلے آپ اپنا ہی دفاع فرما لیں، دوسروں پر بعد میں سنگ باری کریں۔ اجماع وجمہور کی دہائی دینا آپ کو زیب نہیں دیتا ۔تقلیدِائمۂ اربعہ ،طلاق ثلاثہ ،رکعات تراویح کے سلسلہ میں تو آپ کے مسلک پر خودخرقِ اجماع کا الزام ہے، اس الزام کو تو رفع کرلیں۔ رہی آپ کی اور آپ کے فرقہ کی قرآن دانی جس کے لیے آپ نے چند ناموں کا حوالہ دیاہے، ان میں ایک توخودآپ ہی شامل ہیں،یہ توتواضع علمی اورانکساری نہ ہوئی علمی غرور ہوا۔ سعودی عرب سے چھپنے والی جس تفسیر کا آپ نے حوالہ دیا ہے، اس کا احوال ذرا ندوۃ العلماء کے استاد مولانا برہان الدین سنبھلی اور محمد امام الدین رام نگری سے پوچھیے۔ ان حضرات کا دعویٰ ہے کہ وہ ترجمہ و تفسیر پورا ’’بیان القرآن‘‘ مولانا تھانوی سے ماخوذ و سرقہ ہے۔ اس سلسلہ میں ایک طویل مضمون ’’ترجمان الاسلام‘‘ بنار س (انڈیا) میں ’’چہ دلاور است دزدے بکف چراغ دارد‘‘ کے عنوان سے چھپ چکا ہے!!خدا کے ہاں غامدی صاحب کو بھی جانا ہے اور ان کرم فرماؤں کو بھی۔
خیریہ جملہ معترضہ تھا، سردست جناب جاوید احمد غامدی اور حدیث کے بارے میں ان کاموقف زیر بحث نہیں۔ زیر بحث ہے مولانا فراہی اور مولانااصلاحی کا موقف۔ ’’تفسیر نظام القران‘‘ (اردو ترجمہ اصلاحی)، ’’تدبر حدیث‘‘، ’’دروس موطا‘‘، ان تینوں میں مولانا اصلاحی نے کھل کر اپنا اور اپنے استا دکا موقف حدیث کے بارے میں بتادیا ہے کہ وہ امت سے الگ کوئی موقف نہیں رکھتے۔پھران کی صراحتوں کے باوجودان کوکیوں انکارحدیث کا مجرم ٹھیرایا جا رہا ہے۔
پروفیسرطارق بٹ سوال کرتے ہیں کہ مآخذدین پر مولانااصلاحی کی تنقیدکا مخدوش ہونابعض لوگوں کوکیوں سمجھ میں نہیں آتا؟
اس کا جواب انھوں نے خودیہ دیاہے کہ مولانااصلاحی مغربی فکروتہذیب سے شعوری یالاشعوری طورپر مرعوب اور خصوصاً مستشرقین کی حدیث وسنت کے بارے میں آرا سے متاثرہوگئے تھے۔یادرہے کہ مغربی فکرسے مرعوبیت پر خود مولانا اصلاحی کا جان دارنقدحال ہی میں ’’اشراق‘‘ میں شائع ہوا تھا، موصوف اسے ملاحظہ فرما لیں اور اپنی تصحیح کر لیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ مولانااصلاحی نے مآخذدین پر تنقیدنہیں کی ہے ۔بٹ صاحب آپ خلط مبحث کررہے ہیں۔ مولانافراہی اورمولانااصلاحی، دونوں نے تفسیرقرآن کے مآخذپرگفتگوکرتے ہوئے تفسیری روایات اورشان نزول کی احادیث پر تنقیدکی ہے ۔دونوں میں جوفرق ہے، وہ ظاہرہے ۔آپ کومعلوم نہیں کہ تفسیری روایات پر نقدکے سلسلہ میں سلف کے ہاں اس سے بھی زیادہ سخت راے پائی جاتی ہے جس کے سبب مولانافراہی اورمولانااصلاحی پروفیسربٹ صاحب کے نزدیک مطعون قرارپائے ۔یہ دونوں حضرات اس سلسلہ میں بے حد محتاط ہیں، اس لیے کہ تفسیری روایات اورخاص کر شان نزول کی روایات اکثر وبیش تر ضعیف و موضوع ہیں،اسی لیے تفسیری روایات کے بارے میں بعض ائمۂ سلف کا موقف اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ امام احمد بن حنبل ، مسند احمد جیسے بڑے ذخیرۂ حدیث کے جامع اہل سنت کے عظیم اماموں میں سے ایک ہیں، لیکن وہ تفسیری روایات کے بارے میں فرماتے ہیں: ’ثلاثۃ لا أصل لھا: التفسیر والملاحم والفتن‘۔ علامہ ابن حجرنے ا ن کا یہ قول بایں الفاظ نقل کیا ہے:

قال الإامام أحمد: ثلاثۃ کتب لیس لھا أصول، وہي المغازي والتفسیر والملاحم. قال الحافظ ابن حجر: ینبغي أن یضاف إلیہا الفضائل، فھذہ أودیۃ الأحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ، إذکانت العمدۃ في المغازي علی مثل الواقدي، وفي التفسیرعلی مثل مقاتل الکلبي وفي الملاحم علی الإسرائیلات، وأما الفضائل فلا تحصی کم وضع الرافضۃ في فضائل أہل البیت وعارضہم جھلۃ أہل السنۃ بفضائل معاویۃ، بدؤا بفضل الشیخین وقد أغناہما اللّٰہ وأعلی مرتبتہما عنہا.(لسان المیزان ۱/ ۱۳)

یعنی تین چیزیں ایسی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں: تفسیر،مغازی اور ملاحم۔ حافظ ابن حجراس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں فضائل کا اوراضافہ کرلیاجائے۔ یہ چاروں ضعیف وموضوع حدیثوں کے میدان ہیں۔آگے حافظ رحمہ اللہ اس کی تشریح کرتے ہیں۔
امام احمدکے اس قول کی تائیدمحدث خطیب بغدادی نے بھی کی اوراس کی توضیح بھی۔ جیساکہ ملاعلی القاری نے ’’الاسرار المرفوعۃ‘‘ میں صفحہ ۳۹۹ میں لکھا ہے۔ امام ابن تیمیہ نے اس نقد کی شدت کو کم کرتے ہوئے اس کی توجیہ کی: ’أي لا أصل لھا‘ (ابن تیمیہ، مقدمہ فی التفسیر)۔ سردست ملاحم و فتن پر بحث کو کسی دوسرے موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ تفسیری روایات کا معاملہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح و متصل مرفوع احادیث گنتی کی ہیں جو اس باب میں وارد ہیں اور وہ ہر مسلمان کے لیے علی الراس والعین ہیں اور ہونی ہی چاہییں۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ تفسیری روایات اور شان نزول کی روایات کا بڑا حصہ اقوال صحابہ اور تابعین و تبع تابعین کے اقوال و قیاسات پر مبنی ہے، اور ایک وافرحصہ اسرائیلیات کا ہے ۔ انھی کو مجموع ہاے حدیث کی کتاب التفسیر میں جگہ دی گئی۔ ان میں وہ اقوال و قیاسات جو صحیح احادیث اور قرآنی بیانات کے مطابق ہوں گے، قبول کیے جائیں اور جو ان کے خلاف ہوں گے، لغت عرب، نظم قرآن جن کو قبول کرنے سے ابا کرتا ہو گا، وہ مردود ہوں گے۔ اب بہت ساری شان نزول کی روایتیں ایسی ہیں جو قرآن کو بازیچۂ اطفال بنا دیتی ہیں۔ مثلاً بعض روایات بتاتی ہیں کہ قرآن کی مکمل آیت نہیں آیت کا فلاں فقرہ فلاں موقع پر نازل ہوااور فلاں فقرہ فلاں موقع پر، یہاں تک کہ بعض وہ آیات بھی جن میں ’و‘ عاطفہ یافاے عاطفہ آیا ہے۔ اس طرح ایک ہی آیت کی قطع وبرید ہوجاتی ہے۔ آیات کا نظم ڈھتا اور جملوں کی نشست بگڑتی ہے۔ اس طرح کی بے ہودگی انسانی کلام میں آپ برداشت نہیں کرتے، اللہ رب العٰلمین کے کلام میں برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ بھی ان راویوں کی ثقاہت کو بچانے کے لیے جن کی روایات کی داخلی شہادت ہے کہ قرآن سے حد درجہ بے خبر تھے۔ واللہ، قرآن ایسی روایات سے بری ہے اوران کا محتاج بھی نہیں۔ یہ مبحث کسی مراسلہ یا مضمون کا متحمل نہیں طوالت چاہتا ہے اور ایک کتاب میں ہی تفصیل سے اس کو بیان کیا جاسکتا ہے۔ تفسیری روایات کے تحقیقی مطالعہ پرمشتمل ایک کتاب پر راقم خاک سار کام کررہا ہے۔
مولانافراہی واصلاحی کا یہ موقف ہر گز ہرگز بھی مستشرقین کی تحقیقات اور ان کے طریقہ سے مرعوبیت کا نتیجہ نہیں۔ یاد رہے کہ میرے والد ماجد علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی، قدیم طرز کے علما میں تھے۔ دارالعلوم دیوبند سے فارغ، حدیث میں مولانا حسین احمد مدنی کے شاگرد، موطا، مسند احمد اور بخاری کے شارح، ۴۰ سال ہند کے بڑے مدارس میں بخاری کا درس دیا۔ مگر تفسیری روایات کے سلسلہ میں ان کا موقف مولانا فراہی واصلاحی سے بھی زیادہ سخت ہے۔ وہ سرسید اسکول کے سخت ناقد تھے۔ مولانا مودودی کے سخت ناقد تھے، مگر ان کی زندگی بھر کی تحقیقات کا نچوڑ یہ ہے کہ شان نزول کی روایتیں عموماً اور دیگر تفسیری روایتیں فہم قرآنی میں سب سے بڑی حارج ہیں (مرفوع و متصل روایتوں کے استثنا کے ساتھ)۔
یاد رہے کہ ہم مولانا فراہی و اصلاحی کے غالی مداح نہیں، نہ ان کی ہر بات کو من و عن تسلیم کرتے ہیں۔ اپنی کتاب ’’عالم اسلام کے چند مشاہیر‘‘ میں ہم نے لکھا ہے: ’’ان کی ہربات اورتحقیق سے اتفاق کرناضروری نہیں مسئلۂ رجم اور اس ضمن میں بعض صحابہ وصحابیات کی شان میں ان کے قلم نے لغزش کی ہے۔‘‘ (ص:۱۴۹، مطبوعہ فاؤنڈیشن فار اسلامک اسٹڈیز، نئی دہلی )
رجم کے سلسلہ کی روایات پر نقد کرتے ہوئے حضرت ماعز رضی اللہ عنہ اور حضرت غامدیہ کے بارے میں مولانااصلاحی کا تبصرہ درست نہیں ، مگر اس میں وہ معذور سمجھے جائیں گے، اس لیے کہ اس مقام پر وہ مؤول ہیں اور تاویل اہل سنت و الجماعت کے نزدیک ایک عذر مقبول ہے۔میراطارق بٹ صاحب سے سوال ہے کہ وہ مذکورہ بالاوضاحتوں کی روشنی میں مولانافراہی واصلاحی کے نقدکی صحیح نوعیت کا ادراک کیوں نہیں کرسکے ؟
اپریل ۲۰۱۶ء کے شمارہ میں طارق بٹ صاحب نے بلاجواز مولاناعمار احمد خاں ناصر پرجارحانہ نقدکیاہے جویہ بتاتا ہے کہ موصوف علمی نقد کے آداب اور اصولوں سے ناواقف ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’جب غازی ممتاز قادری (شہید) نے گستاخِ رسول سلمان تاثیر کو کیفر کردار تک پہنچایا تو عمار صاحب نے مغربی قوتوں، ملعونہ آسیہ مسیح اور سلمان تاثیر کی حمایت میں کتاب لکھی‘‘۔ بٹ صاحب نے پتا نہیں اس کتاب کودیکھابھی ہے یانہیں بس سنی سنائی اڑارہے ہیں۔سنیے !جس کتاب کوآپ مطعون کررہے ہیں، اس کتاب کا نام ’’براہین‘‘ ہے۔ اوراس میں مسئلہ کا صرف اصولی جائزہ لیا گیا ہے، نہ مغربی قوتوں کی حمایت ہے نہ آسیہ مسیح اورسلمان تاثیرکی !آپ اتنابڑاجھوٹ بول رہے ہیں بغیرکسی دلیل کے ؟اپنے اس دعوے کی دلیل میں اس کتاب سے کوئی ایک جملہ کوئی ایک لائن تونقل کرتے ؟
مزیدلکھتے ہیں: ’’پھر جب غامدی صاحب پر استخفاف و انکارحدیث کا الزام لگا تو عمار ناصر صاحب نے اس الزام کا توڑ کرنے اور غامدی صاحب کو سچاثابت کرنے کے لیے اب ’’فقہاء احناف اورفہم حدیث ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے‘‘۔ حضرت بٹ صاحب الزام کا کوئی سرپیرتوہو!کتاب اہل علم کے سامنے ہے ۔اس پر کئی اہل علم کے تبصرے بھی راقم نے پڑھے ہیں۔کسی نے اس دورکی کوڑی کا ذکرنہیں کیاجوبٹ صاحب لائے ہیں۔نقدکا شوق ہے خوب شوق سے کیجیے، مگردلائل کے ساتھ، ورنہ آپ کا نقدتاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بنے گا۔آپ حضرا ت کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ جس شخص پر نقدکرناہے، اس کی تحریروں کا خودسے ایک مفہوم متعین کرتے ہیں،پھراس پر چاندماری کرنے لگتے ہیں۔آپ کے پاس بہترآپشن یہ ہے کہ جاویداحمدغامدی کی اورعمارناصرصاحب کی تحریروں سے وہ ٹکڑے اوروہ جملے آپ نقل کرتے جوآپ کے نزدیک قابل اعتراض ہیں، پھران پر آپ نقد کرتے۔ یہ توسِرے سے کوئی نقدہی نہیں ہواکہ کسی کتاب یامضمون کا اپنے جی سے خودہی مفہوم یا مقصد متعین کیا، پھر اس پر حملہ کرنے لگ گئے۔ یہی تومستشرقین اوران کے ذلہ رباکیاکرتے ہیں!!اس طرح کی بے دلیل تنقیدوں سے غامدی اورعمارناصرصاحب کا کچھ نہیں بگڑے گا، الٹے آپ کی علمی ثقاہت داؤں پر لگے گی ۔
سہ ماہی ’’جی‘ ‘کاوہ شمارہ بھی راقم نے پڑھاجس میں جناب جاویداحمدغامدی پر کئی تنقیدی مقالے شائع کیے گئے ہیں۔اس میں ایک طویل مضمون نادرعقیل انصاری صاحب کا ہے۔اصولی بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی نقدسے بری نہیں ہے۔ بقول امام دارالہجرت امام مالک: ’کل یؤخذ من قولہ ویرد الاصاحب ہذا القبر، وأشار الی قبر النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘)، لیکن نقدعلمی بنیادوں پر ہوناچاہیے۔ نادر عقیل انصاری صاحب، محترم غامدی صاحب کو بھی بلا دلیل منکر حدیث لکھ رہے ہیں اور ظلم یہ کررہے ہیں کہ مولانا فراہی وشبلی کو بھی سرسید کا پیرواور جدیدیت کا علم بردار بتا رہے ہیں۔ شبلی و فراہی کی تصانیف کیا چھپی ہوئی نہیں ہیں؟ کیا وہ الماریوں میں بند ہیں؟۔ موصوف اس دریدہ دہنی کے لیے ان دونوں حضرات کی تحریروں سے صرف ایک لائن لکھ کر اپنا مدعا ثابت کردیں تو جانیں۔ فراہی جیسے متبحر عالم، قرآن میں ڈوبے رہنے والے ایک نابغۂ روزگار کوبھلا جدیدیت سے کیا واسطہ! علامہ تقی الدین ہلالی المراکشی عربیت کے بلند پایہ عالم اور مسلکاً سخت متصلب سلفی تھے، لیکن فراہی کے علم ورع اور عربیت کے نہایت مداح، ’’تفسیر نظا م القرآن‘‘ عربی کا مقدمہ مولانا فراہی نے ان کو پڑھنے کے لیے دیا۔ اسے پڑھ کر علامہ موصوف رونے لگے۔ فراہی کا مرتبہ حافظ صلاح الدین یوسف جیسے روایت پرست کیا جانیں، ان کا رتبہ امام الہند ابوالکلام آزاد سے پوچھیے جو کہتے تھے کہ مولانا حمید الدین فراہی کی صحبت میں بیٹھنے والے کو یہ فیصلہ کرنا محال ہوتا ہے کہ ان کا علم زیادہ ہے یا تقویٰ!

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List