Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

​مدعاے متکلم اور الفاظ کی اہمیت (1/2) | اشراق
Font size +/-

​مدعاے متکلم اور الفاظ کی اہمیت (1/2)

انسان کو تحریر۱؂ و تکلم،۲؂ دونوں میں بیان (speech) کی صلاحیت دی گئی ہے، وہ اسی طرح کی قوی اور واضح صلاحیت ہے جس طرح کی صلاحیت حساب (math) اور فلسفہ سازی کی ہے۔ بلکہ شاید ان سے بھی زیادہ قوی، اس لیے کہ انسان عامی و عارف اس صلاحیت سے اس قدر آراستہ ہیں کہ ان کی معاشرتی زندگی کا مدار ہی اسی صلاحیتِ بیان پر ہے۔ یہ قوتِ بیان دو رخ رکھتی ہے: سمع و تکلم۔متکلم اپنے مدعا کو الفاظ کا جامہ پہنا کر سامع کے حوالے کرتا ہے، اور سامع انھیں سن کر ان کے ساتھ جڑے معنی سے متکلم کے مدعا کو پالیتا ہے۔ قوتِ بیان میں متکلم سے سامع تک جو چیز پہنچتی ہے، وہ صرف الفاظ ہیں۔ یا زیادہ سے زیادہ چہرے اور ہاتھوں کے تاثرات و اشارات، لیکن یہ بیان کا ایک فی صد سے زیادہ حصہ نہیں ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو الفاظ وہ واحد اورمرکزی چیز ہے جو متکلم و سامع کے درمیان چڑی چھکے (badminton) کی چڑیا (shuttlecock) کی طرح گرداں رہتی ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ الفاظ — بہ حیثیت مفردات اور بہ حیثیت کلام — متکلم کے منشاو مراد تک پہنچنے کا واحد اور بنیادی ذریعہ ہیں۔ یعنی ہم الفاظ کے سوا کسی بھی اور چیز سے متکلم کے ذہن میں نہیں جھانک سکتے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔خاص طور سے اس وقت جب متکلم اب ہمارے پاس موجود نہ ہو کہ ہم دوبارہ اس سے پوچھ سکیں۔لیکن اگر دوبارہ پوچھیں گے بھی تو پھر بھی واسطہ الفاظ ہی سے پڑے گا۔
الفاظ جب متکلم کے مدعا کا واحد ذریعہ ہیں، تو آپ سے آپ ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ متکلم نے کیا الفاظ چنے ہیں۔متکلم نے جو کہنا چاہا ہے، اس کے واحد امین اس کے چنے ہوئے الفاظ ہیں۔اب مدعاے متکلم کو صحیح صحیح پانے کے لیے ضروری ہے کہ متکلم کے الفاظ ہی کوفہم مدعا کے لیے کل سرمایہ سمجھا جائے۔الفاظ کا چناؤ متکلم کا عمل ہے، اور اسی کا حق بھی، سامع اگر اس کے الفاظ کو بدلتا ہے، تو تحریف کرتا ہے۔حروف، کلمات، ان کی نحوی ترکیب، ان کی تقدیم و تاخیر، ان کا حقیقت و مجاز، سب متکلم کا چناؤ ہوتا ہے۔اس کے کاپی رائٹس اسی کے پاس ہیں۔کوئی ان میں تغیر و تبدل کا حق نہیں رکھتا،نہ انسانی تکلم میں اور نہ الٰہی کلام میں اور نہ معنی میں اور نہ کلمات میں۔ کیونکہ جیسے ہی یہ تغیر کیا جائے گا، وہ کلام متکلم کا کلام نہیں رہے گا۔مثلاً آپ کہیں کہ ’’میں مسلمان ہوں‘‘، اور میں کہوں کہ وہابی بھی مسلمان ہوتے ہیں، تو میں آپ کا جملہ یوں بنا دوں کہ ’’میں وہابی ہوں‘‘۔ یا جملے کے الفاظ میں تو تبدیلی نہ کروں، مگر اس کا مفہوم یہی طے کرلوں کہ آپ کے جملے کا مطلب ہے کہ ’’میں وہابی ہوں‘‘۔ تو یہ آپ کے الفاظ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اس لیے کہ ’’مسلمان‘‘ اس معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہابی لوگ ’مسلمان‘ لفظ کے معنی میں شامل ہیں۔۳؂ اسی طرح میں اس جملے کی ترتیب بدلنے کا حق نہیں رکھتا۔ مثلاً یہ کہ ’’میں مسلمان ہوں‘‘ کو تبدیل کرکے، ’’میں ہوں مسلمان‘‘ کردوں، خواہ آپ کی مراد بھی یہی ہو۔ الفاظ کی اس اہمیت کو ذرا تفصیل سے سمجھتے ہیں:

متکلم اور الفاظ کا رشتہ

جب بھی کوئی بولنے والا بولتا ہے، تو اپنی بات کے ابلاغ کے لیے اپنے حافظے میں موجود ہزاروں الفاظ میں سے چند کو منتخب کرتا ہے، اس لیے کہ اس کا یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ جو بات کہنا چاہتا ہے، وہ صرف انھی الفاظ ہی کے ذریعے سے سامع تک منتقل ہوگی۔ اس کا یہ اطمینان اپنے اور اہل زبان کے لسانی تعامل (lingual convention) کے بھروسے پر ہوتا ہے، جو زندگی میں تواترات کی طرح جاری وساری ہوتا ہے، اور اس کے لسانی حافظے کا حصہ ہوتا ہے۔ لسانی تعامل سے ہماری مراد یہ ہے کہ گرامر، الفاظ کے معنی، ان کا استعمال، ان کا مختلف مواقع پر مختلف مفہوم دینا، محاورہ، ضرب المثل، بلاغت کے ادوات کا عملی علم، اور ظواہر استعمال۴؂ وغیرہ کا واضح شعوراہل زبان کے ہاں بالتواتر ان کی زندگیوں میں موجود ہوتا ہے۔
پہلے ایک سادہ سی مثال دیکھتے ہیں۔ جب مہمان آتا ہے، تو ہم اس سے پوچھتے ہیں: ’’ٹھنڈا چلے گا یا گرم؟‘‘ یہاں ’ٹھنڈے‘ سے مراد ٹھنڈے مشروبات ہیں، اور ’گرم‘ سے مراد چائے ہے۔ یہ جملہ ہم اس اعتماد پر بولتے ہیں کہ مہمان ٹھنڈے گرم کے اس متواتر استعمال سے واقف ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی متواتر ہے کہ ’ٹھنڈا‘ اور ’گرم‘ الفاظ کایہ درج ذیل استعمال درست نہیں ہے۔ مثلاً میں آپ کے گھر آؤں اور آتے ہی کہوں:’’یار، گرم پلاؤ‘‘۔ اس جملے میں ’’گرم‘‘ کا استعمال ہمارے لسانی تعامل سے بنے ہمارے حافظے میں موجود اس کے لاتعداد استعمالات کے خلاف ہے۔لہٰذا یہاں وہ چائے پلانے کے معنی نہیں دے رہا۔ اگرچہ ذرا تامل سے ہم اس کے مدعا کو پا لیں گے۔
غالب کے ایک شعر میں مجھے کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ایک محاورے: ’’زلف کا اسیر ہونا‘‘ کو لیا اور اس کے مفہوم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ،اس کے ایک زاویے سے متضاد مفہوم ’’زلف کا مفتوح ہونا‘‘ کو اس محاورہ کی شکل دے ڈالی: ’’زلف کا سر ہونا‘‘ ۔ پھرلسانی تعامل سے باہر اورغیر متواتر ہوتے ہوئے بھی استعمال کردیا۔ اس سے غالباً مراد لی: ’معشوق کا مائل بہ کرم و وصال ہونا‘، یعنی عاشق کا زلف کی اسیری سے نکل آنااور معشوق کے دل کو جیت لینا۔ لسانی تعامل وتواتر سے ہٹنے کی وجہ سے شارحین اس کی مراد تک نہ پہنچ سکے۔ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ لسانی تعامل پوری طرح متکلم اور سامع کے ساتھ ہو۔تخلیق محاورہ کا یہ عمل درج ذیل شعر کے دوسرے مصرع میں ہوا ہے:

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

جب کہنے والا بول چکتا ہے، تو اس کا مدعا ہمارے سامنے بس انھی الفاظ سے کھلتا ہے، جو اس نے بولے ہوتے ہیں۔ ہم اس کے بولے ہوئے الفاظ کی جگہ اپنی پسند کے الفاظ نہیں لا سکتے۔نہ ان میں ہم اپنی پسند کے معنی ڈال سکتے ہیں۔ لہٰذا الفاظ بھی وہی جو بولے گئے اور معنی بھی وہی جو اہل زبان کے ہاں مستعمل ہوں، اور استعمال بھی وہی جو اہل زبان کے ہاں معلوم و مستعمل ہوں۔ جن کے پیش نظر متکلم نے کلام کیا ہے ۔مثلاً جب کوئی کہتا ہے کہ ’’مجھے پانی پلاؤ‘‘ تو ہم اسے عاقل و بالغ سمجھتے ہوئے یہی سمجھیں گے کہ وہ پینے کے لیے پانی مانگ رہا ہے۔ یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ وہ چائے مانگ رہا ہے، یا وہ ہاتھ دھونے کے لیے پانی مانگ رہا ہے۔ اب کوئی کہے کہ نہیں میں بتاتا ہوں کہ وہ پانی بول کرگرم پانی مرادلے رہا ہے تو ہم اس شارح سے معذرت کے سوا اور کچھ نہیں کہہ سکتے۔
تو یوں بولے گئے الفاظ ہی بولنے والے کے مدعا کو جاننے کا واحد ذریعہ ہیں۔ اس لیے متکلم کے مدعا کو پانے میں یہ نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس کے الفاظ کا چناؤ ناقص ہو یا غیر ناقص، دونوں صورتوں میں اس کے مدعا کے جاننے کا واحد اور پھر کہتا ہوں کہ واحدذریعہ بس اس کے ملفوظ الفاظ ہیں۔
یہی صورت قرآن کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عربی زبان کے لاکھوں الفاظ میں سے ان کا چناؤ کیا ہے۔ آخر کوئی وجہ ہے کہ اللہ علیم و حکیم نے صرف انھی الفاظ کو اپنی بات کہنے کے لیے چنا۔ مثلاً سورۂ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ کے بجاے ’الشکرُ لِلّٰہِ‘، یا ’للّٰہ الحمدُ‘ کیوں استعمال نہیں کیا؟ سورۂ فاتحہ ہی میں، ’مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘ (الآیۃ ۴) کے الفاظ پر مشتمل جملہ کیوں بنایا ہے، ’مالک یوم القیامۃ‘ کیوں نہیں کہا؟ ’اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ‘ (الآیۃ ۱) میں کم از کم قرآن کی حد تک اجنبی لفظ ’الْکَوْثَر‘ کیوں چنا؟ ’اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّہُدًی لِلْعٰلَمِینَ‘ (آل عمران۳: ۹۶) آیت میں ’بمکۃ‘ کے بجاے ’بِبَکَّۃَ‘ کیوں بولا گیا ہے اور ’وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ...‘ (الفتح ۴۸: ۲۴) میں ’مَکَّۃ‘ کے بجاے ’بکۃ‘ کیوں استعمال نہیں کیا گیا؟ زانی اور زانیہ کو سو کوڑے مارو میں ’’کنوارے زانی اور زانیہ‘‘ کے الفاظ کیوں نہیں بولے گئے؟ ظاہر ہے، جس بات کو ادا کرنا پیش نظر تھا، اس کے لیے مناسب ترین الفاظ یہی تھے۔ اب اگرہم ان کا خیال نہ کریں تو خدائی چناؤ کی توہین ہوگی۔ہماری مراد یہ ہے کہ متکلم کے الفاظ، اس کا چناؤ ہیں اور یہ چنیدہ الفاظ ہی وہ واحد ذریعہ ہیں جو ہمیں متکلم کے مدعا تک پہنچا سکتے ہیں۔

متکلم کی ذہنی لطافتیں اور الفاظ

اوپر کی مثالوں سے واضح ہے، متکلم کلام میں جب لفظ چن رہا ہوتا ہے تو وہ بعض لطیف پہلوؤں کا خیال بھی رکھ رہا ہوتا ہے۔ مثلاً ’بکۃ‘ اور ’مکۃ‘ کے استعمال کا فرق ۔واضح ہے کہ ’بکۃ‘ کا لفظ اپنے تاریخی حوالے کو ساتھ لے آئے گا، جب کہ ’مکۃ‘ کا لفظ عادت میں مستعمل ہونے کی وجہ سے تاریخی حوالے کو ساتھ نہیں لاتا۔ اب اگر کوئی ’بکۃ‘ کی جگہ ’مکۃ‘ بول دے ، تو اس کے خیال میں تو کوئی بڑی خرابی نہیں ہوئی، لیکن زبان جاننے والے جانتے ہیں کہ آیت کی ساری جان ہی نکل جائے گی۔ اس لیے متکلم کے لفظوں کے ساتھ بے اعتنائی یا ان کو خارج سے متعین کرنے کی سعی متکلم کی سخن گوئی پر حرف لانے کے مترادف ہے۔
لفظ میرے خیال میں متکلم کے منہ سے نکلتے ہی ،الفاظ وہی حرمت پالیتے ہیں جو ہر شخص کی جان، مال اور آبرو کو حاصل ہے، وہی اس کے الفاظ کو حاصل ہو جاتی ہے۔ان میں کسی طرح کی خیانت درست نہیں ہے۔

الفاظ اور زندگی کا رشتہ

الفاظ ، جیسا ہم نے پچھلے مضمون میں لکھا تھا ،اہل زبان کی زندگی میں موجود اشیا و تصورات (entities) کی علامتیں ہیں۔ ان اشیا و تصورات کے ساتھ ان کا تعلق صرف زبان جاننے والے ہی جانتے ہیں۔ اشیاو تصورات کا الفاظ سے یہ تعلق لفظوں کی آواز میں نہیں، بلکہ اہل زبان کی زندگی میں ان کے استعمالات سے بنے حافظے میں ہوتا ہے۔ لفظ ’پانی‘ کی آواز کس شے کی علامت ہے، یہ صرف اردو جاننے والے ہی جانتے ہیں۔ اگر لفظوں کی آواز۵؂ ہی میں یہ معنی ہوتے تو ہمیں کوئی زبان سیکھنے کی حاجت نہ رہتی۔ مثلاً آج کل ہمارے ملک میں چینی قوم جابجا نظر آتی ہے۔ لیکن مجال ہے ان کی زبان سے نکلنے والی آوازوں کے معنی ہم پا سکیں۔ لہٰذا، کلام کی — اپنے تمام اجزا سمیت — معنی آفرینی ہر زبان کے اہل زبان کی زندگی میں ہے۔
تو جیسا ہم نے پچھلے مضمون میں لکھا تھا کہ زبان زندگی کی گود میں پلتی بڑھتی ہے۔ اس میں الفاظ و معنی کا رشتہ اہل زبان کی اسی زندگی ہی میں طے ہوتا ہے۔تو گویا لفظ اپنے متکلم کے مدعا کا نمایندہ ہے، جسے وہ اپنے ہم زبانوں کے حوالے کردیتا ہے، جو اس زندگی میں جی رہے ہوتے ہیں جس نے اس زبان کو وجود بخشا ہوتا ہے۔ لہٰذا جیسے ہی وہ ان کی سماعتوں سے ٹکراتاہے، تو وہ اپنے ماحول سے بنے حافظے کی بنا پر اس کے مدعا کو پالیتے ہیں۔ مدعا تک پہنچنے کا دوسرا وسیلہ یہی زندگی اور ماحول ہے جس میں زبان اور اس کے اہل زبان جیتے ہیں۔اسی لیے یہ بات کہی جاتی ہے کہ جب کسی قوم میں پردیسی زبان آتی ہے تو اپنی تہذیب ساتھ لے کر آتی ہے۔
قرآن و حدیث کے مدعا تک پہنچنے کا بھی یہی واحد اور اصل راستہ ہے کہ اللہ و رسول کیا کہنا چاہتے ہیں۔ان سے آگاہی ان کے بولے گئے الفاظ ہی سے ہوسکتی ہے۔ وہ الفاظ اپنے زمانۂ نزول یا لمحۂ ورود میں زندگی میں کیسے مستعمل تھے، کیونکہ الفاظ اہل زبان کی زندگی میں پیوست ہوتے ہیں، الگ سے کسی جگہ نہیں پائے جاتے۔انھی کی زندگی میں ان کے مصداقات، استعمالات، اور متعلقات موجود ہوتے ہیں۔مثلاً ’جہیز‘ کا لفظ ہم باسیانِ پاک و ہند کے ذہن میں جو معنی رکھتا ہے، وہ پورا تصور سمجھانے کے بعد بھی غیروں کواس سے متعلق کیفیات سمجھا دینا مشکل ہو گا۔ ذیل کے دو جملے، جہیز کے معنی سے نہیں، بلکہ معاشرے میں جہیز سے جڑے واقعات و احساسات کے بغیر سمجھ نہیں آسکتے:
۱۔ اس کی بیٹی جہیز کی وجہ سے گھر بیٹھی ہوئی ہے۔
۲۔ بیٹی اتنے جہیز کے باوجود سسرالیوں میں عزت نہ پاسکی۔
آپ نے دیکھا کہ ان دونوں جملوں کو سمجھنے کے لیے لغت میں لکھے ہوئے جہیز کے یہ معنی کافی نہیں کہ ’’وہ سامان جو ماں باپ اپنی بیٹی کو شادی میں دیتے ہیں‘‘۔۶؂ جہیز کا شادی نہ ہونے سے کیا تعلق ہے، جہیز بہو کی عزت کا سبب کیوں ہے، یہ لغت میں لکھے اس معنی سے واضح نہیں ہے۔وہ ہمارا زندگی کا تجربہ ہے کہ جہیز کا لالچ غریب بچیوں کارشتہ ہونے میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اور سسرال میں اس بہو کی عزت کم ہوتی ہے جو جہیز کم لے کر آئے۔وہ دیورانیوں کے مقابلے میں بے عزت ہوتی رہتی ہے۔ مختصر یہ کہ لفظ کے معنی ومقدرات اور ان کا مجاز و حقیقت اور ان کاحذف و اظہار، ان کے نتائج و اقتضاء ات اسی زندگی کے تجربات میں پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ زبان کو جب معاشرے سے کاٹ لیتے ہیں تو وہ محض چیستان ہے، اور دور جدید کے تمام لغوی نظریات کے پیچھے یہ عنصر مشکل کا باعث بنا ہوا ہے کہ زبان شاید زندگی سے الگ کوئی عمل (phenomenon) ہے۔

لفظ اور نحوی بندھن

الفاظ بالعموم تین قسم کے مانے جاتے ہیں۔ شاید تمام زبانوں میں ایسا ہی ہو، یعنی اسم، فعل اور حرف۔۷؂ جب بولنے والا لفظ بولتا ہے تو وہ اگر اہل زبان کے مطابق اسے نحوی ترکیب دیتا ہے تو وہ کلام کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔لفظ کی معنی آفرینی میں یہ پہلی پابندی ہے، جو متکلم لگا دیتا ہے۔لفظ کئی نحوی کردار ادا کرتا ہے۔ مثلاً اسم کو دیکھیں، تو وہ جملے میں — مبتدا، خبر، فاعل ، مفعول، مجرور وغیرہ جیسے — کئی کردار ادا کرسکتا ہے۔ لیکن کلام کاحصہ بنتے ہی وہ ایک متعین نحوی کردار کا پابند ہو جاتا ہے۔ مثلاً ذیل میں خالد اور زاہد کو دیکھیے:

’’زاہد نے خالد کو مارا۔‘‘

اس جملے سے پہلے زاہد اور خالد کئی نحوی کردار ادا کرسکتے تھے، مگر اب زاہد ’مارنا‘ فعل کا فاعل ہے اور خالد اس کا مفعول بہ۔ جملے کے بعد ان سے یہ کردار چھینے نہیں جاسکتے۔ متکلم نے ان کو یہی کردار سونپا ہے۔جومتکلم کا دیا کردار ان سے چھینے گا، وہ بولنے والے کے الفاظ سے انحراف کرے گا۔ہمیں پسند ہو یا نہ ہو،لا محالہ، متکلم کے مطابق زاہد نے مارا ہے اور خالد نے مارکھائی ہے۔ لہٰذا مدعاے متکلم پانے کے لیے نہ صرف الفاظ، بلکہ ان کے نحوی محل کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جائے گی جتنی اس کے بولے گئے الفاظ کو۔ گویا ہر لفظ کا پہلا سیاق و سباق اس کا نحوی محل ہے۔سیاق و سباق سے ہماری مراد ’’پہرا‘‘ ہے۔ سیاق وسباق کے تمام اجزا ان پہرے داروں کا کردار ادا کرتے ہیں ، جو غیر متعلقہ افراد کو اندر آنے سے روکتے ہیں۔ اسی طرح کلام میں دیگر معانی کو درآنے سے روکنے کی پہرے داری سیاق و سباق کرتا ہے، تو پہلا پہرا نحوی ترکیب لگاتی ہے۔

لفظ اورموقع محل

زاہد اور خالد بھی بولنے اور سننے والوں کی زندگی کا حصہ ہیں۔ مارنے کا تصور بھی ان کی زندگیوں میں موجود ایک عام عمل ہے۔تو مثلاً اگر کسی لڑائی کا واقعہ تھا، زاہد بولنے والے آدمی کے دشمنوں کافرد تھا اور خالد بولنے والے کا ساتھی، تو اس جملے کے معنی ہوں گے کہ خالددشمن سے مار کھا کر آیا ہے۔یہ معنی بولے نہیں گئے مقدر تھے۔لیکن یہ مقدر زاہد،خالد اور بولنے والے کے احوال سے متعلق تھا۔اس لیے لفظوں کا دوسرا سیاق وسباق متکلم، مخاطب اور زیربحث امور اور افراد کی زندگیوں میں ہوتا ہے۔ جب ہم کلام کو اس کے اس ماحول سے کاٹ دیں گے تو وہ سادہ لغوی معنی تو دے گا۔ مدعا تک نہیں پہنچائے گا۔ موقع محل الفاظ اور جملے کے مدعا پر دوسرا پہرا ہے۔ یہ مدعا پانے کا وسیلہ بھی ہے، اور الفاظ کے معنی پر پابندی بھی لگاتا ہے۔مثلاً اوپر مثال میں خالد اور زاہد، دنیا کا ہر خالد اور زاہد نہیں، بلکہ متکلم کے دائرۂ معلومات کے دو افراد ہیں۔ان کو سمجھے بغیر مدعا عنقا رہے گا۔ یوں موقع محل، مخاطب اور متکلم کلام کو عموم سے نکال کر خصوص میں بند کرتے ہیں۔
ابھی تک ہم نے یہ جانا ہے کہ لفظ ، ماحول میں مستعمل معنی، نحوی محل اور بولنے اور سننے والوں کی زندگیوں سے جڑا ہوا ہے۔ان تینوں کے ملنے سے بامعنی کلام وجود پذیر ہوتا ہے۔ اگرچہ میرے نزدیک کلام کے اجزا اس سے زیادہ ہیں۔ لیکن، آج ہمارا موضوع چونکہ لفظ کی اہمیت ہے۔ اس لیے کلام پر زیادہ بات کرنے کے بجاے لفظ پر بات کریں گے۸؂۔

قاصد مدعا

ہر لفظ قاصد یا مرکب۹؂ مدعا ہے۔ اسی پرسوار ہو کر مدعا سامع تک پہنچتا ہے۔ جب لفظ کلام کا جزو بنتا ہے تو مذکورہ بالا تینوں اجزا کے باہمی تعاون سے مدعا کووجودملتا ہے۔ مثلاً گولی کا لفظ لیجیے: ہر اس گول چیز کے لیے بول لیا جاتا ہے، جو سائز میں بہت بڑی نہ ہو،دیسی لیموں کے سائز کی یا اس سے بھی چھوٹی: کنچا۱۰؂ (marble)، دوا کاحَبّ (tablet)، اور بُلٹ (bullet) وغیرہ کے لیے یہ اسم کے طور پر مستعمل ہے۔غرض یہ لفظ ان معانی کے انتقال کے لیے مرکَب ہے۔ گولی کا لفظ سنتے ہی، یہ دونوں تینوں معنی ذہن میں کلبلانے لگتے ہیں۔لفظ کا یہ عمل پتا دیتا ہے کہ وہ متکلم کے مدعا کا قاصد ہے۔ یہ قاصد متکلم کے ذہن کا براہ راست شاہد ہے، اس لیے کہ وہ اس کے ذہن سے سیدھا زبان پر جاری ہوا اور وہاں سے سامع تک پہنچا ہے ۔دوسری جانب سامع کے ذہن میں موجود گولی کے تصورات کو یہ قاصد بیداری میں لے آتا ہے۔گویا متکلم کے ذہن سے اٹھ کر سامع کے ذہن میں کھلبلی مچاتا ہے۔ یوں متکلم کے الفاظ ہی سامع کے ذہن کے متعلقہ حصوں کو چھیڑتے ، او ر اس سے متعلق ہوتے ہیں۔ لہٰذا متکلم کے مدعا کو پانے کے لیے اپنی نہیں، بلکہ متکلم کے قاصد کی بات سننی پڑے گی۔

لفظ قرینۂ صارفہ

قرینۂ صارفہ سے مراد یہ ہے کہ کلام میں ہر وہ چیز جو ہمیں لفظ یا جملوں کے ایک معنی سے ہٹا کر دوسرے معنی کی طرف لے جائے۔ لفظ نہ صرف متکلم کے مدعا کو دوسروں تک منتقل کرتا ہے، بلکہ کلام میں موجود ہر ہر لفظ دوسرے الفاظ کے معنی کے تعین کے لیے ایک قرینۂ صارفہ بھی بن جاتا ہے۔ لہٰذا ایک لفظ دوسرے الفاظ کی موجودگی میں متعدد احتمالات کو اپنے دامن سے جھاڑ کر ایک مفہوم تک محدود ہو جاتا ہے۔ذیل کے جملے میں ’گولی‘ کے لفظ پر غور کریں:

’’اس نے گولی کھائی۔‘‘

گولی، بچوں کے کھیلنے کا کنچا بھی ہو سکتی ہے، دوا کی بھی اور بندوق کی بھی۔ سیاق میں موجود ’کھائی‘ کا لفظ اس کو کنچے کی گولی مراد لینے میں مانع بن گیا ہے، یعنی جملے میں لفظ ’’کھائی‘‘ ایک قرینۂ صارفہ ہے۔ اردو محاورے میں بندوق کی گولی کھانا بھی درست ہے اور دوا کی گولی کھانا بھی۔اس لیے گولی کے اس جملے میں دو معنی ممکن ہیں۔ان دونوں معنی میں کھائی اور گولی دونوں ایک دوسرے کے لیے قرینۂ صارفہ ہیں ۔جس طرح ’کھائی‘ کا لفظ ’گولی‘ کے معنی کی تخصیص کررہا ہے۔ اسی طرح ’کھائی‘ کے معنی پر لفظِ ’گولی‘ بھی اثر انداز ہوگا۔ اگر گولی کو بندوق کی گولی لیا جائے تو کھانے کا مفہوم گولی لگنے، اور جسم میں گھس جانے کا ہو گا۔ لیکن اگر اسے دوا کی گولی ڈسپرین وغیرہ مرادلیں تو اس کے معنی نگلنے کے ہوں گے۔تو یوں ’گولی‘ کا لفظ ’کھائی‘ اور ’کھائی‘ کا لفظ ’گولی‘ کے معنی پر اثرانداز ہورہا ہے، اور ان میں معنی کو تبدیل اور متعین کررہا ہے۔
بظاہر یہ جملہ دونوں مفاہیم کو قبول کرپا رہا ہے۔ لیکن ذرا غور کریں کہ اس جملہ کہ

’’اس نے گولی کھائی‘‘۔

کا پہلا مفہوم ہمارے ذہن میں دوا کھانے ہی کا آتا ہے ۔ ظواہر استعمال کی بنیاد پر زبان کا عمومی ذوق یہ بتا رہاہے کہ ہم بندوق کی گولی والا جملہ یوں نہیں بولتے۔زبان کا یہ عمومی ذوق یہ چاہتا ہے کہ اسے اس جملے میں دواکے معنی میں لیا جائے۔وہ اس لیے کہ اس جملے میں فاعل کاگولی کھانے کا ارادہ پایا جاتاہے ، جو بندوق کی گولی کے لیے درست نہیں۔ یہ اسالیب واستعمال کا ذوق کہلائے گا۔یعنی اس بات کا شعور کہ بندوق کی گولی والا جملہ اپنی ساخت میں مختلف ہوتا ہے۔یہ پہچان اہل زبان کو تو ہوتی ہے، لیکن غیر اہل زبان اس میں غلطی کھا سکتے ہیں۔ بندوق کی گولی والا جملہ میرے خیال میں کچھ یوں ہونا چاہیے: ’’اسے گولی لگی‘‘۔ اگر ’کھائی ‘کو جملہ میں استعمال ہی کرنا ہے تو اس کے لیے ہم ’سینہ پر‘ یا ’پیٹھ پر‘ وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں۔ مثلاً: ’اس نے سینے پر گولی کھائی‘۔ اب میرے خیال میں اس جملے کہ ’اس نے گولی کھائی‘ میں ایک احتمال گولی کے مشترک المعنی ہونے کی وجہ سے تھا، وہ رفع ہو چکا ہے۔ ’گولی‘ کے ساتھ ’کھائی‘ کا استعمال اور اس کا اسلوبِ استعمال گولی کو دوا کے معنی میں لینے پر مجبور کرتا ہے۔
اس جملے میں ’سینے پر‘ کا اضافہ نے ’گولی‘ کا مفہوم دوسرے معنی میں واضح طور پر متعین کردیا ہے۔ باقی تمام احتمالات رفع ہو گئے ہیں۔ یہاں دیکھیے کہ جملے کے ہر لفظ نے ہر دوسرے لفظ کے لیے قرینۂ صارفہ کا کردار ادا کیا ہے۔یعنی یہ کہ ہر لفظ باقی الفاظ کے لیے ایک سیاق و سباق تخلیق کرتاہے ۔یہ تیسرا سیاق و سباق ہے، جو ہر لفظ نے ہر دوسرے لفظ کے لیے تشکیل کیا ہے۔اس طرح ہر لفظ دوسرے لفظ کا پہرے دار بن گیا ہے۔
اب مشترک المعنی لفظ اپنے ایک مقصود معنی کے سوا باقی تمام معانی کو ان سیاق ہاے کلام کی وجہ سے ترک کردیتا ہے۔ یوں کلام تعددِ معنی سے تاویل واحد کی طرف بڑھتا جاتاہے۔بالعموم احتمال وہاں پر ہوتا ہے، جہاں محل استعمال اوراسالیب کے ذوق کے بجاے لفظ کو تجرید میں دیکھا جائے۔مثلاً ’’اس نے گولی کھائی‘‘ سے جو اسلوب کا استدلال میں نے اوپر کیا ہے، اس سے کوئی اختلاف کرسکتا ہے کہ نہیں ’بندوق کی گولی‘ والا جملہ یوں بھی بولا جاسکتا ہے۔تو اب یہاں ہمارے پاس ایسا قرینۂ صارفہ نہیں ہے، جیسے ’سینہ پر‘ کا قرینہ ہے۔لیکن اسالیب کا قرینہ پوری قوت سے موجود ہے۔ ’ثَلٰثَۃَ قُرُوْٓءٍ‘ میں یہی ہوا ہے کہ یہاں ’سینہ پر‘کی طرح کا قرینۂ صارفہ موجود نہیں ہے۔لیکن یہاں ’وَلَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِہِنَّ‘ کا قرینہ واضح طور پر موجود تھا۔ لہٰذا، ’قُرُوْء‘ سے مراد وہی چیز لی جائے گی جس سے ’ارحام‘ کی حقیقت واضح ہو، وہ طہر سے نہیں حیض سے واضح ہوتی ہے۔ لیکن یہ قرینہ اس لیے کام نہیں آسکا تھا کہ احکامی آیات میں یہ دو الگ الگ حکم مانے گئے، اس لیے ایک دوسرے کے لیے قرینہ نہ بن سکے، حالاں کہ آیت میں بالکل ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یوں جڑے ہونا ہی قرائن صارفہ کو وجود پذیر کرتا ہے:

وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْٓءٍ وَلَا یَحِلُّ لَھُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَاخَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِھِنَّ.... (البقرہ۲: ۲۲۸)

مختصر یہ کہ ہر لفظ جملے میں دوسرے لفظوں کے لیے سیاق وسباق اور قرینۂ صارفہ ہے۔ یوں الفاظ جملے میں موجود لفظوں پر پابندیاں اور پہرے لگاتے جاتے ہیں، جس سے باقی معانی کے در آنے کے راستے بند ہوتے جاتے ہیں۔
اس زاویے سے لفظ کی اہمیت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔مثلاً لفظ پھینکنا، مارنا، اور گرانا اگر پتھر کے ساتھ بولے جائیں تو معنی میں کافی فرق رکھتے ہیں۔اس نے پتھر مارا، اس نے پتھر پھینکااور اس نے پتھر گرایا۔تینوں جملوں میں پتھر کے ساتھ ایک ہی کام نہیں ہوا، بلکہ ہر ایک عمل مختلف ہے۔ ’پتھر پھینکنے‘ میں ’مارنے‘ کا عنصر شامل نہیں، ’پتھر مارنے‘ میں ’پھینکنا‘ تو شامل ہے، مگر مجرد پھینکنا اس کا مفہوم نہیں ہے، بلکہ کسی شخص یا چیز کوپتھر کا ہدف بنایاجانا ضرور ی ہوگا۔ ’گرانا‘ ان دونوں سے مختلف ہے۔ سورۂ فیل میں ’تَرْمِیْہِمْ‘ کا جملہ آیا ہے۔ اس میں ’رمی‘ کا مفہوم وہی ہے جو پتھر پھینکنے اور مارنے کا ہے ۔ اس میں گرانے کا مفہوم یکسرنہیں ہے۔اب خارج سے مروی اخبار کی روشنی میں اس لفظ میں یہ مفہوم ڈالا گیا کہ پرندے یہ پتھر گراتے تھے۔اب ان مرویات کی خاطر ہم قرآن کے چنے لفظ کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ مرویات — جن میں روات کا فہم و خطا شامل ہے، — کواہمیت دیتے ہیں اور ’رمی‘ کے معنی گرانے کے کر دیتے ہیں۔ ترجمہ پھینکنا لکھا ہو گا، مگر مفہوم گرانے کے مراد لیا جائے گا۔مثلاً اگر میں نے ہاتھ میں پتھر پکڑا ہو، اور اسے میں پھینکے بغیر صرف ہاتھ کھول دوں تاکہ وہ پتھر گر جائے ،جیسے روایات میں چڑیاں کرتی تھیں، تو اس کے لیے ’رمی‘، پھینکنا یا مارنا کسی صورت درست نہیں ہے۔اس کے لیے چھوڑنا اور گرانا ہی درست اور فصیح ہے۔
ہندوستان کے ایک فاضل صاحب علم — اللہ ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے — نے، قرآن سے روایات کو مطابقت دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ چڑیاں پتھر چھوڑتی تھیں ، اور ہوا ان کے پتھروں کو اڑاتی ہوئی ’رمی‘ کا عمل بنا دیتی تھیں۔ اس نکتہ سنجی کو اللہ قبول فرمائے، کیونکہ قرآن سے مطابقت ایک محمود عمل ہے۔ہم اس تاویل کو بفرض محال مان بھی لیں تو سوال یہ پیدا ہوجائے گا کہ پھر ’رمی‘ کا فاعل پرندے ہوئے یا ہوائے تند؟ ہوا کو مانیں تو تب کلام قبول نہیں کرتا کیونکہ ’’ہوا‘‘ سیاق سباق میں موجود ہی نہیں ہے اور پرندوں کو مانیں تو ’رمی‘ قبول نہیں کرتا۔نا پاے ماندن نہ جائے رفتن۔
دوسرے یہ کہ روایات کا خون تو پھر بھی ہو گیا، جن روایتوں کے دفاع میں یہ تاویل کی گئی وہ — جزواً ہی سہی — رد تو ہوگئیں۔ مرویات میں بیان کردہ پتھر گرانے کے طریقے کے لیے زیادہ موزوں الفاظ: ’تسقط‘، ’ترسل‘ یا ’تمطر‘ ہوتے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ان روایات میں اسی طرح کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ’رمی‘ استعمال نہیں ہوا ۱۱؂ کیونکہ زبان کا تواتر راویوں پر غالب رہا۔ اس لیے کہ ’رمی‘ کا مفہوم اور عمل یکسر مختلف ہے۔ ’رمی‘ کے عمل کو زندگی کے اس عمل سے مجرد نہیں کیا جاسکتا، جس میں تیراورپتھرمارے جاتے اور تہمت دوسرے پرلگائی جاتی ہے۔۱۲؂ اس سے مقصود صرف یہ ہے کہ ہم اس آیت کا مفہوم جو بھی طے کریں ، اس میں خدا کے چنے لفظوں کو اصل اہمیت دیں، کیونکہ مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روایات کے لحاظ سے مناسب الفاظ چھوڑ کر یہی لفظ کیوں چنا؟
مدرسۂ فراہی کے اساطین، قرآن کے لفظوں کی اس شان کو باقی رکھنا چاہتے ہیں، کہ یہ الفاظ علیم و حکیم خدا کے چنے ہوئے ہیں، انھیں روایات کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔سورۂ فیل میں مثلاً اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ چنا ہی اس لیے تھا کہ روایات کی اصلاح ہو۔ لیکن ہم نے قرآن کو حاکم ماننے کے بجاے روایات کے الفاظ کو حاکم مان لیا۔ وہ الفاظ جو راویوں کے حفظ و عدالت کے مرہون ہوتے ہیں۔

________

۱؂ العلق۹۶: ۳۔۴۔ ’اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ. الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ‘۔
۲؂ الرحمن ۵۵: ۱۔۴۔ ’اَلرَّحْمٰنُ. عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ. خَلَقَ الْاِنْسَانَ. عَلَّمَہُ الْبَیَانَ‘۔
۳؂ ایسی ہی مثال ’الزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ‘ (النور ۲۴: ۲) والی آیت کی ہے۔ کہ زانی کنوارے زانی کے معنی میں نہیں آتا ، اگرچہ کنوارا زانی بھی زانی ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک کے ساتھ خاص کرنا کسی طرح لسانی سطح پر درست نہیں۔
۴؂ اس پر انشاء اللہ الگ سے لکھوں گا۔یہاں صرف اتنا جان لیجیے کہ الفاظ و جمل کا ایک روز مرہ کا استعمال ہوتا ہے، جن میں وہ خاص پہلو سے استعمال ہوتے ہیں۔جیسے ’’شرم کرو!‘‘ کا عمومی استعمال ڈانٹنے کا ہے، محض تلقینِ حیا کا نہیں۔ تلقین حیا کے معنی میں لانے کے لیے سیاق و سباق میں قرائن رکھنے پڑیں گے۔
۵؂ بولی میں لفظ صرف آواز ہے، تحریر میں اس کی رسم (یعنی لکھنے میں اس کی صورت)، دونوں کا معنی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب تک کہ اہل زبان اس کے معنی نہ بتائیں۔ البتہ اہل زبان اسے آواز اور رسم ہی سے پہچانتے ہیں۔ اسی وجہ سے تلفظ بدل جانے سے بعض اوقات معنی بدل جاتے ہیں۔ مثلاً خلق کے معنی خ کے پیش اور زبر سے بدل جاتے ہیں یہ ہم رسم ہیں، لیکن تلفظ اور معنی میں مختلف ہیں ۔بھیجا (دماغ) اور بھیجا (بھیجنا سے)قریب الصوت بھی ہیں اورہم رسم بھی، لیکن معنی بالکل جدا ہیں۔ یہ محض لسانی تعامل سے فیصلہ ہوگا کہ کہاں کیا بولا گیا ہے۔
۶؂ علمی اردو لغت ، از وارث سرہندی: ص۵۵۶۔
۷؂ حرف بھی الفاظ ہیں، نحویوں نے اسے بے معنی قرار دیا ہے کہ ان کے معنی اپنے محل سے واضح ہوتے ہیں۔ یہ درست بات نہیں ہے۔ یہ چیزوں کے احوال کے لیے بنائے گئے الفاظ ہیں۔ مثلاً پر، اوپر ہونے کی حالت کے لیے لفظ ہے، میں، اندر ہونے کی حالت کو بیان کرتا ہے۔جس طرح الفاظ کے معنی مشترک ہوتے ہیں، اسی طرح یہ بھی مشترک المعنی ہوتے ہیں۔ ان کے معنی کا تعدد اس لیے زیادہ ہے کہ یہ کسی بھی لفظ سے زیادہ مستعمل ہیں، ایک صورت یہ تھی کہ ان کی تعداد بڑھا دی جاتی اور دوسری یہ تھی کہ ان کے معنی زیادہ بڑھا دیے جائیں۔ یہی دوسرا راستہ زیادہ قرین فطرت تھا۔
۸؂ آگے ہم تشکیلِ موقع محل پر بھی بات کریں گے ، یہاں اس بحث کو مکمل نہ سمجھیں۔
۹؂ carrier۔
۱۰؂ کانچ کی گولیاں جس سے بچے کھیلتے ہیں۔
۱۱؂ ایک شعر میں انھوں نے ’رمی‘ کے لفظ کی پرندو ں کے لیے استعمال کی نشان دہی کی ہے (نقد فراہی، از رضی الاسلام ندوی، پہلا مضمون)، لیکن اس شعر میں فاعل کے تعین میں سہو ہوا ہے۔
۱۲؂ یہاں اگر پتھروں کا ہدف کنواں ہوتا، اور پتھر سنگ گل نہ ہوتے تو بلاشبہ وہ معنی پیدا ہوجاتے جب کسی کنویں کو پاٹنے کے لیے پتھر اس میں پھینکے جاتے ہیں۔کنویں میں یوں پتھر پھینکنے کے لیے بھی ’رمی‘ آجاتا ہے۔ لیکن یہ بھی پرندوں کے پنجوں میں سے گرانے کے مفہوم سے بہت بعید ہے۔بلکہ یہ اس انسانی عمل کے سراسر مشابہ ہوجاتا ہے، جب وہ دشمن کو بھگانے کے لیے پہاڑ سے بڑے بڑے پتھر لڑکھا دیتے ہیں۔

مدعاے متکلم اور الفاظ کی اہمیت (2/2)

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List