Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
میرا اور میرے خلفاے راشدین کا طریقہ | اشراق
Font size +/-

میرا اور میرے خلفاے راشدین کا طریقہ



تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ، قَالَ:۱ صَلَّی لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ [ذَاتَ یَوْمٍ]،۲ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَۃً بَلِیغَۃً، ذَرَفَتْ لَہَا الْأَعْیُنُ، وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوْبُ، قُلْنَا أَوْ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، کَأَنَّ ہٰذِہِ مَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ، فَأَوْصِنَا. قَالَ: [’’قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَاءِ لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا، لَا یَزِیْغُ عَنْہَا بَعْدِیْ إِلَّا ہَالِکٌ]،۳ أُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ [لِمَنْ وَلَّاہُ اللّٰہُ أَمْرَکُمْ]،۴ وَإِنْ کَانَ عَبْدًا حَبَشِیًّا [مُجَدَّعًا]،۵ [فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ کَالْجَمَلِ الْأَنِفِ، حَیْثُمَا قِیْدَ انْقَادَ]،۶ فَإِنَّہُ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ یَرٰی بَعْدِی اخْتِلَافًا کَثِیْرًا، فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ،۷ [تَمَسَّکُوْا بِہَا]،۸ وَعَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ، فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ، وَإِنَّ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ‘‘.
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ایسا موثر وعظ فرمایا کہ اُس سے آنکھیں بہ نکلیں اور دل کانپ اٹھے۔ ہم نے یا بیان کیا کہ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ، یہ تو گویا کسی رخصت ہونے والے کا وعظ ہے، لہٰذا ہمیں وصیت کیجیے۔آپ نے فرمایا: میں نے تم لوگوں کو ایسی روشن اور واضح ہدایت پر چھوڑا ہے کہ اُس کی رات بھی دن کی طرح ہے۔۱ اُس سے میرے بعدوہی انحراف کرے گا جس کے لیے ہلاکت مقدر ہوچکی ہو۔۲ میں تمھیں اللہ سے ڈرتے رہنے اور ہر اُس شخص کے ساتھ سمع وطاعت کا رویہ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں جسے اللہ تمھارا حکمران بنادے، اگرچہ وہ کوئی نک کٹا حبشی ہی کیوں نہ ہو،۳ اِس لیے کہ بندۂ مومن اُس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جس کی ناک مہار سے ایسی دُکھ رہی ہوکہ اُس کو جہاں کھینچ لے جائیں ، کھچتا چلا جائے۔ ۴ سو متنبہ رہو، تم میں سے جو بھی میرے بعد زندہ رہے گا ، بڑے اختلافات دیکھے گا۔۵ اُس وقت لازم ہے کہ تم وہی طریقہ اختیار کروجو دین شریعت پر عمل کے لیے میں نے اختیار کیا ہے ۶ اور جو میرے بعد میرے ہدایت یافتہ خلفاے راشدین اختیار کریں گے۔۷ تم اُس کو مضبوطی سے تھامنا اور دانتوں سے پکڑے رکھنااور دین میں جو نئی باتیں نکالی جائیں،۸ اُن سے خبردار رہنا، اِس لیے کہ اِس طرح کی ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

_____

۱۔یہ نہایت بلیغ تعبیر ہے۔مطلب یہ ہے کہ اُس کی جو چیزیں مجمل ہیں یا لوگوں کے اجتہاد پر چھوڑ دی گئی ہیں، وہ بھی مبہم نہیں، بلکہ ایسی واضح ہیں کہ اُس کے اصول ومبادی میں بصیرت رکھنے والے اُن کو بھی مہ وآفتاب کی طرح روشن دیکھتے ہیں۔
۲۔ یعنی خدا کے اُس قانون کے مطابق ہلاکت مقدر ہوچکی ہوجو اُس نے لوگوں کی ہدایت وضلالت کے لیے مقرر کر رکھا ہے اور جس کے مطابق ہدایت صرف اُنھی کو ملتی ہے جو ہر طرح کے تعصبات سے بالا تر ہوکر علم وعقل کی روشنی میں فیصلے کرتے اور ہدایت کے سچے طالب ہوتے ہیں۔
۳۔یہ اُسی حکم کی تاکید ہے جو قرآن مجید کی سورۂ نساء (۴) کی آیت ۵۹ میں ’اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
۴۔ بندۂ مومن کے لیے یہ مہار خدا کا حکم اور اُس کے پیغمبر کی یہ نصیحت ہے کہ اپنے حکمرانوں کے ساتھ سمع و طاعت کا رویہ اختیار کرو، چاہے تم تنگی میں ہو یا آسانی میں اور چاہے یہ رضا ورغبت کے ساتھ ہو یا بے دلی کے ساتھ،اور اِس کے باوجود کہ تم پر کسی کو ناحق ترجیح دی جائے۔ ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، رقم ۱۷۰۹۔
۵۔ چنانچہ یہی ہوااور یہ اختلافات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی سامنے آگئے۔اِن کی ابتدا اگرچہ سیاسی نوعیت کے بعض اختلافات سے ہوئی، مگر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ اِنھوں نے مذہبی اختلافات کی صورت اختیار کرلی اور اُن سب فرقوں کی پیدایش کا باعث بن گئے جنھیں اب ہم شیعہ سنی اور خوارج وغیرہ ناموں سے جانتے ہیں۔
۶۔ اصل میں لفظ ’سُنَّۃ‘ آیا ہے اور جس سیاق وسباق میں آیا ہے ، اُس سے واضح ہے کہ یہ یہاں بطور اصطلاح نہیں، بلکہ لغوی مفہوم میں استعمال ہوا ہے، یعنی وہ طریقہ اور طرز عمل جو برابر اختیار کیے رکھا جائے۔ یہاں اِس سے مراد وہ طرز عمل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حین حیات مسلمانوں کے اجتماعی معاملات سے متعلق دین وشریعت کی ہدایات پر عمل کے لیے اختیار فرمایا۔پھر یہی نہیں، اِس طرح کے معاملات میں اِس خوبی کے ساتھ اُن کی قیادت بھی فرمائی کہ اُن کی جمعیت میں کسی موقع پر کوئی انتشار پیدا نہیں ہونے دیا۔عبد اللہ بن ابی اور بعض دوسرے منافقین کی طرف سے اٹھائے جانے والے فتنوں، خاص کر واقعۂ افک کے موقع پر آپ کا طرز عمل اِس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
۷۔یعنی وہ لوگ اختیار کریں گے جو نظم اجتماعی کی اُس ذمہ داری کو ادا کرنے میں میرے جانشین بنیں گے جو اِس وقت میں نے اٹھا رکھی ہے۔اِس سے ، ظاہر ہے کہ وہ جلیل القدر صحابۂ کرام مراد ہوں گے جو آپ کے فوراً بعد اِس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے منتخب کیے گئے اور اجتماعی معاملات میں جن کا طرزعمل ٹھیک منہاج نبوت کے مطابق رہا۔ چنانچہ ’خلفاے راشدین‘ کی جو تعبیر اِس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمائی ہے، وہی اب اُن کا تعارف ہے اور ہرشخص جانتا ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں اِس سے کون لوگ مراد لیے جاتے ہیں۔اُن کا طرز عمل یہ تھا کہ اُن میں سے ہر ایک نے اپنے پیش رو کے ساتھ سمع وطاعت کا رویہ اختیارکیا اور اپنے زمانۂ حکومت میں دین کے محکمات کی اِس شان کے ساتھ حفاظت کی کہ ادنیٰ درجے میں بھی کوئی بدعت اُس میں راہ نہیں پاسکی ۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِس کا علم وحی کے ذریعے سے دیا گیا تھا۔ آپ نے اُن کے طرز عمل کی پیروی اختیار کرنے کی یہ ہدایت اِسی بنا پر فرمائی ہے۔چنانچہ دین وشریعت کو ہر طرح کی آمیزش سے پاک رکھنے اورنظم اجتماعی کے معاملات میں اُن پرعمل کے لیے آپ کا اور آپ کے خلفاے راشدین کا یہی طرزعمل اب قیامت تک مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔
۸۔ یعنی ایسی بات نکالی جائے جس کا کوئی ذکر قرآن وسنت میں نہ ہو یا ہو ، مگر اُس صورت میں اور اُن حدود وشرائط کے ساتھ نہ ہو جو بعد میں کوئی شخص اُس سے متعلق کردے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم ۱۷۱۴۴سے لیا گیا ہے۔ اِس واقعے کے راوی تنہا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ تعبیر کے معمولی فرق کے ساتھ اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم ۱۷۱۴۲، ۱۷۱۴۵، ۱۷۱۴۶، ۱۷۱۴۷۔ سنن دارمی، رقم ۹۶۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۴۲، ۴۳۔ سنن ابی داود، رقم ۴۶۰۷۔ سنن ترمذی، رقم ۲۶۷۶۔صحیح ابن حبان، رقم۵۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۶۶۔المعجم الکبیر،طبرانی، رقم۶۱۷، ۶۱۹، ۶۲۲، ۶۲۳۔ مسند شامیین، طبرانی، رقم ۴۳۷، ۶۹۷، ۷۸۶، ۱۳۷۹، ۲۰۱۷۔ مستدرک حاکم، رقم ۳۲۹، ۳۳۰، ۳۳۱، ۳۳۲۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۲۰۳۳۸۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم ۷۱۰۹، ۷۱۱۰۔
۲ ۔صحیح ابن حبان، رقم۵۔
۳ ۔ مسنداحمد، رقم ۱۷۱۴۲۔
۴ ۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم ۷۱۰۹۔
۵۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۔
۶۔ سنن ابن ماجہ، رقم۴۳۔
۷۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم۷۱۰۹میں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں: ’فَمَنْ أَدْرَکَ ذَاکَ مِنْکُمْ فَعَلَیْہِ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الْمَہْدِیِّیْنَ‘ ’’چنانچہ تم میں سے جو شخص وہ زمانہ پائے، اُس پر لازم ہے کہ وہی طریقہ اختیار کرے جو دین و شریعت پر عمل کے لیے میں نے اختیار کیا ہے اور جو میرے بعد میرے ہدایت یافتہ خلفاے راشدین اختیار کریں گے‘‘۔
۸۔ مسند احمد، رقم ۱۷۱۴۵۔

المصادر والمراجع

ابن حبان أبو حاتم محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/ ۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط ۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حبان أبو حاتم محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ). المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعی.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۴۱۵ھ). الإصابۃ في تمییز الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/ ۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن حجر أحمد بن علي العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د. م: دار البشائر الإسلامیۃ.
ابن عدي أبو أحمد الجرجاني. (۱۴۱۸ھ/ ۱۹۹۷م). الکامل في ضعفاء الرجال. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلي محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
ابن ماجہ أبو عبد اللّٰہ محمد القزوینی. (د. ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. د. م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.
أبو داود سلیمان بن الأشعث السِّجِسْتاني. (د.ت). سنن أبي داود. د.ط. تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.
أحمد بن محمد بن حنبل أبو عبد اللّٰہ الشیباني. (۱۴۲۱ھ/ ۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۴ھ/ ۲۰۰۳م). السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۳ھ/ ۲۰۰۳م). شعب الإیمان. ط۱. تحقیق: الدکتور عبد العلي عبد الحمید حامد. الریاض: مکتبۃ الرشد للنشر والتوزیع.
الترمذي أبو عیسٰی محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/ ۱۹۷۵م). سنن الترمذي. ط۲. تحقیق وتعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض. مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.
الحاکم أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ/ ۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین. ط۱. تحقیق: مصطفٰی عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.
الحمیدي، أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر بن عیسٰی القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). مسند الحمیدي. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.
الدارمي، أبو محمد عبد اللّٰہ بن عبد الرحمٰن، التمیمي. (۱۴۱۲ھ/ ۲۰۰۰م). سنن الدارمي. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد الداراني. الریاض: دار المغني للنشر والتوزیع.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/ ۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/ ۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ/ ۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ - مؤسسۃ علوم القرآن.
الذہبي شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۲ھ/ ۱۹۶۳م). میزان الاعتدال في نقد الرجال. ط۱. تحقیق: علي محمد البجاوي. بیروت: دار المعرفۃ للطباعۃ والنشر.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/ ۱۹۸۴م). مسند الشامیین. ط۱. تحقیق: حمدي بن عبدالمجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (د. ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.
الطبراني أبو القاسم سلیمان بن أحمد الشامي. (د. ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.
المزي أبو الحجاج یوسف بن عبد الرحمٰن القضاعي، الکلبي. (۱۴۰۰ھ/ ۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: دکتور بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List