Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Sajid Hameed Profile

Sajid Hameed

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۳) (1/2) | اشراق
Font size +/-

متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۳) (1/2)

(گذشتہ سے پیوستہ)

انضمام المتون

ایک حدیث کے متن کا دوسرے متن میں ضم کرنا یا پیوند لگانا تیسرا تصرف ہے، جو حدیث کے ساتھ برتا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دو مختلف احادیث کے متون یا جملوں کو ملا کر ایک نئی حدیث بنا لی جاتی ہے۔اس میں دونوں جملے یا متن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوسکتے ہیں، مگران کے پیوندسے جو نئی بات بنتی ہے، وہ ہر گز ہر گز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہوتی۔ پہلے ہم ایک سادہ جملے سے اس بات کو سمجھتے ہیں، پھر احادیث کی مثالوں سے سمجھیں گے۔
ایک محقق کسی موقع پر کہے:
(بات نمبر ۱): ’’اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ خداے حقیقی کے سوا میں کسی خداکو نہیں مانتا۔ یہ خداؤں کو ماننے والے سب جھوٹے ہیں۔‘‘
یہی محقق کسی دوسرے موقع پر کہے:
(بات نمبر۲): ’’ملحدین کی اتنی بات درست ہے کہ خداؤں کا وہ تصور جو انسانوں نے اپنے اپنے تہذیبی شعور کے ساتھ تخلیق کیا ہے، وہ کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔‘‘
کوئی اخباری رپورٹراس محقق کی دونوں باتوں میں سے ٹکڑے لے کر پیوند لگا کرایک اور بات بنائے، اور کہے:
(بات نمبر۳ جو دونوں کا مجموعہ ہے) ’’ملحدین کی اتنی بات درست ہے کہ خداؤں کا وہ تصور جو انسانوں نے اپنے اپنے تہذیبی شعور کے ساتھ تخلیق کیا ہے، وہ کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہے۔ (میں کسی خداکو نہیں مانتا، یہ خداؤں کو ماننے والے سب جھوٹے ہیں)۔‘‘
بلاشبہ، پہلی دونوں باتیں اسی آدمی کی تھیں، لیکن اب یہ تیسری پیوند شدہ عبارت اس آدمی کی ہرگز نہیں ہے، اگرچہ اجزا اسی کے کلام سے لیے گئے ہیں ۔ اس انضمامِ عبارت کے پیوند کو ہم نے بریکٹوں میں (...) کے نشان سے نمایاں کردیا ہے۔آپ اس پیوند کا نتیجہ دیکھ سکتے ہیں کہ کتنا سنگین ہو سکتا ہے۔ اوپر کی مثال میں واضح ہے کہ ایک موحد اور مومن آدمی ملحد بن گیا ہے۔ ذیل میں ایسی ہی مثالیں احادیث سے پیش کی جاتی ہیں۔جن میں خود دوسری حدیثوں میں حلال اور جائز رکھا گیا معاملہ ان حدیثوں میں حرام ہو گیا ہے۔

پہلی مثال

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی یہ روایت دیکھیے:

...عبد اللّٰہ بن عمر فقال: أتَی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ضیف، فقال لبلال: ’’ائتنا بطعام‘‘، فذہب بلال فأبْدل صاعین من تمرٍ بصاع من تمر جیّد، وکان تمرہم دُوناً، فأَعجبَ النبيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم التمرُ، فقال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’من أین ہذا التمر؟‘‘، فأخبرہ أنہ أبدل صاعاً بصاعین، فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’رُدَّ علینا تمرنا‘‘. (مسند احمد، رقم۴۷۲۸)
’’عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم کے پاس ایک مہمان آیا، تو آپ نے حضرت بلال سے فرمایا: کھانے کو کچھ لاؤ، تو حضرت بلال گئے اور انھوں نے دو صاع کھجورکو ایک صاع کھجورسے تبادلہ میں لیا، یوں کہ ان کی کھجورگھٹیا تھی۔ (اچھی قسم کی کھجور دیکھ کر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حیران ہوئے، تو آپ نے حضرت بلال سے دریافت فرمایا: یہ (عمدہ) کھجور کہاں سے آئی ہے؟ تو انھوں نے آپ کو بتایا کہ (اپنی ردی کھجور دے کر)یہ ایک صاع دو صاع کے بدلے خریدی ہے۔تو آپ نے فرمایا: اپنی کھجور واپس لے کر آؤ۔‘‘

یہ ایک سادہ واقعہ ہے، جس میں آپ نے حضرت بلال کے سودے کو پسند نہیں فرمایا، اور کہا کہ جاؤ اپنی کھجوریں واپس لے آؤ۔ لیکن فقہاے محدثین نے ایک دوسری روایت سے ایک ٹکڑا کاٹ کر اس میں درج کردیا۔یہ اضافہ سہواً معلوم نہیں ہوتا، جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہوگا، ایک فقہی الجھن کو دور کرنے کے لیے یہ اضافہ کیا گیا۔ پیوند شدہ روایت یوں ہے:

أن أَبَا سَعِیْدٍ، یَقُوْلُ: جَاءَ بِلَالٌ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’مِنْ أَیْنَ ہٰذَا‘‘؟ فَقَالَ بِلَالٌ: تَمْرٌ کَانَ عِنْدَنَا رَدِيْءٌ، فَبِعْتُ مِنْہُ صَاعَیْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ عِنْدَ ذٰلِکَ: ’’أَوَّہْ عَیْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ، وَلٰکِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ التَّمْرَ فَبِعْہُ بِبَیْعٍ آخَرَ، ثُمَّ اشْتَرِ بِہِ‘‘.(مسلم، رقم ۱۵۹۴۔ بخاری، رقم ۱۰۸۰)
’’ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت بلال برنی ۱؂ کھجوریں لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہاں سے آئی ہیں؟ حضرت بلال نے عرض کی: ہمارے پاس جوگھٹیا کھجوریں تھیں، وہ میں نے دو صاع دے کر ایک صاع یہ برنی کھجورخریدلی ہے، کہ نبی پاک کھائیں گے آپ نے فرمایا: اوہو یہی تو سود ہے آیندہ ایسا مت کرنا، البتہ جب بھی ایسا کرنا ہو، تو کھجورکو کسی اور چیز کے عوض بیچو، پھر اس چیز سے دوسری قسم کی کھجورخرید ا کرو۔‘‘

اس روایت میں خط کشیدہ حصہ پیوند شدہ ہے۔دونوں متون کے موازنے سے آپ یہ سمجھ سکیں گے کہ انضمام کہاں اور کیا ہوا ہے:

غیر پیوند شدہ متن

...عبد اللّٰہ بن عمر فقال: أتَی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ضیف، فقال لبلال: ’’ائتنا بطعام‘‘، فذہب بلال فأبْدل صاعین من تمرٍ بصاع من تمر جیّد، وکان تمرہم دُوناً، فأَعجبَ النبيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم التمرُ، فقال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’من أین ہذا التمر؟‘‘، فأخبرہ أنہ أبدل صاعاً بصاعین، فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’رُدَّ علینا تمرنا‘‘.(مسند احمد، رقم۴۷۲۸)

پیوند شدہ متن

أن أَبَا سَعِیْدٍ، یَقُوْلُ: جَاءَ بِلَالٌ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’مِنْ أَیْنَ ہٰذَا؟‘‘ فَقَالَ بِلاَلٌ: تَمْرٌ کَانَ عِنْدَنَا رَدِيءٌ، فَبِعْتُ مِنْہُ صَاعَیْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ عِنْدَ ذٰلِکَ: ’’أَوَّہْ (عَیْنُ الرِّبَا) (لَا تَفْعَلْ، وَلٰکِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ التَّمْرَ فَبِعْہُ بِبَیْعٍ آخَرَ، ثُمَّ اشْتَرِ بِہِ)‘‘.(مسلم، رقم ۱۵۹۴۔ بخاری، رقم ۱۰۸۰)

اگرچہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس متن میں پہلے متن کے مقابلے میں بہت کچھ مختلف ہے، لیکن ہمارا موضوع اس وقت متون کا ضم ہے، اس لیے اسی پر محدود رہیں گے۔ ا س متن میں دوجملے دو سری دو روایتوں سے لائے گئے ہیں۔ جن احادیث سے یہ ٹکڑے کاٹے گئے ہیں، وہ ذیل میں ہیں:

یُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ، وَأَبَا سَعِیْدٍ، حَدَّثَاہُ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيِّ الْأَنْصَارِيَّ، فَاسْتَعْمَلَہُ عَلٰی خَیْبَرَ، فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِیْبٍ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’أَکُلُّ تَمْرِ خَیْبَرَ ہٰکَذَا؟‘‘ قَالَ: لَا وَاللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَیْنِ مِنَ الْجَمْعِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’لَا تَفْعَلُوْا، وَلٰکِنْ مِثْلاً بِمِثْلٍ، أَوْ بِیْعُوْا ہٰذَا وَاشْتَرُوْا بِثَمَنِہِ مِنْ ہٰذَا، وَکَذٰلِکَ الْمِیْزَانُ‘‘.(مسلم، رقم ۱۳۹۵)
’’ابو ہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ آپ نے بنوعدی انصاری کے ایک آدمی کوخیبر کا والی مقرر کیا، تو وہ جنیب ۲؂ قسم کی کھجورلے کر آیا، تو آپ نے اس سے پوچھا کہ آیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ اس نے عرض کیا: نہیں یارسول اللہ، ہم ملی جلی کھجوردے کر دو صاع کے بدلے ایک صاع جنیب خرید لیتے ہیں، آپ نے فرمایا: یوں نہ کیا کرو، جب اس ملی جلی کھجورکا سودا کرو، تو اسے پہلے بیچو، اور پھر اس کی قیمت سے اچھی کھجور خریدو، ایسے ہی صحیح سودا ہوگا۔‘‘

اس روایت کا خط کشیدہ جملہ سامنے رکھیے۔ لیکن سیدنابلال والی مذکورہ حدیث میں یہ جملہ ملانے سے بھی بات واضح نہیں ہوئی تو اس میں عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ملتے جلتے فتوے سے ایک اور جملہ مستعار لیا گیا۔ وہ فتویٰ کچھ یوں ہے:

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ النَّدَبِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الصَّرْفِ الدِّرْہَمِ بِالدِّرْہَمَیْنِ فَقَالَ: عَیْنُ الرِّبَا، عَیْنُ الرِّبَا، فَلَا تَقْرَبْہُ، ہَلْ سَمِعْتَ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’خُذُو الْمِثْلَ بِالْمِثْلِ‘‘.(مسند ابی داؤد الطیالسی، رقم ۱۹۷۲۔ المعجم الکبیر للطبرانی، رقم ۱۴۰۶۸)
’’بشر بن حرب ندبی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر سے ایک درہم کے بدلے دو درہم کی صرف ۳؂ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ تو عین سود ہے، عین سود ہے، اس کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ تم نے سنا ہے نا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ سونا مثل بمثل ہو تو تب ٹھیک ہے۔‘‘

اس روایت کے خط کشیدہ الفاظ کو بھی سامنے رکھیں اورحضرت بلال کی وہی روایت دوبارہ دیکھیں ۔ میں نے انضمام شدہ الفاظ کو نمایاں کردیا ہے اور جہاں جہاں پیوندلگائے گئے ہیں، وہاں دونوں جانب (...) کا نشان بھی لگا دیا ہے، سہولت کے پیش نظر نیچے دوبارہ لکھتا ہوں:

أن أَبَا سَعِیْدٍ، یَقُوْلُ: جَاءَ بِلاَلٌ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’مِنْ أَیْنَ ہٰذَا؟‘‘ فَقَالَ بِلاَلٌ: تَمْرٌ کَانَ عِنْدَنَا رَدِيْءٌ، فَبِعْتُ مِنْہُ صَاعَیْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ عِنْدَ ذٰلِکَ: ’’أَوَّہْ (عَیْنُ الرِّبَا) (لَا تَفْعَلْ، وَلٰکِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ التَّمْرَ فَبِعْہُ بِبَیْعٍ آخَرَ، ثُمَّ اشْتَرِ بِہِ)‘.(مسلم، رقم ۱۵۹۴۔ بخاری، رقم ۱۰۸۰)
’’ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت بلال برنی۴؂ کھجوریں لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہاں سے آئی ہیں؟ حضرت بلال نے عرض کی: ہمارے پاس جوگھٹیا کھجوریں تھیں، وہ میں نے دو صاع دے کر ایک صاع یہ برنی کھجورخریدلی ہے، کہ نبی پاک کھائیں گے، آپ نے فرمایا: اوہو (یہی تو سود ہے) آیندہ (ایسا مت کرنا، البتہ جب بھی ایسا کرنا ہو، تو کھجورکو کسی اور چیز کے عوض بیچو، پھر اس چیز سے دوسری قسم کی کھجور خریدا کرو)۔‘‘

اس روایت کو پڑھنے والا ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ کس طرح ایک فقہی عمل سے یہ حدیث وجود میں آئی ہے۔ عمدہ کھجور گھٹیا کھجور کے بدلے خریدی گئی، یہ سودا اپنی ذات میں کوئی شرعی خرابی نہیں رکھتا تھا۔سوائے اس کے کہ سیدنا بلال نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر یہ خرید وفروخت کی تھی۔ آپ نے اس سودے کو کسی وجہ سے منسوخ کرنے کو کہا، مگر محدثین نے اپنے فہم سے تین روایتوں میں پیوند کاری کی اور ایک نیا متن وجود پذیر کردیا۔ رہا یہ سوال کہ آپ نے یہ سودا منسوخ کیوں کیا، تو اس کی بے شمار وجہیں ہوسکتی ہیں، مگر چونکہ بیان نہیں ہوئیں، اس لیے ہم صرف بات کو سمجھنے کی غرض سے ایک عام سی وجہ بیان کرتے ہیں۔ آپ کے ایک غلام نے خریدوفروخت کا سودا کیا، آقا نے اس سودے کو پسند نہیں کیا۔ لہٰذا اسے لوٹانے کا کہہ دیا، اس لیے کہ حضرت بلال نے پوچھے بغیر سودا کیا تھا۔ یہ وجہ بھی کافی تھی، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ مثلاً آپ کا خیال رہا ہو کہ دوصاع کھجور سے دو وقت کا کھانا بن جائے گا یا مہمان کچھ زیادہ متوقع تھے جس سے ایک صاع کھجور سے مہمان نوازی ممکن نہیں تھی وغیرہ۔حضرت بلال نے اس طرح کی کسی وجہ کو سامنے رکھے بغیر سودا کیا ہو گا، آپ نے اسے منسوخ کرنے کا کہہ دیا ہوگا۔ اس حدیث پر اس روشنی میں دوبارہ نظر ڈال لیجیے، اور دیکھیں کہ اس منسوخیِ بیع میں حرمت کی کوئی وجہ نظر آتی ہے؟ چونکہ مسند احمد فقہ کی کتاب نہیں ہے، انھوں نے یہ روایت جیسے ان تک پہنچی درجِ کتاب کردی ہے:

...عبد اللّٰہ بن عمر فقال: أتَی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ضیف. فقال لبلال: ’’ائتنا بطعام‘‘، فذہب بلال فأبْدل صاعین من تمرٍ بصاع من تمر جیّد، وکان تمرہم دُوناً، فأَعجبَ النبيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم التمرُ، فقال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’من أین ہذا التمر؟‘‘، فأخبرہ أنہ أبدل صاعاً بصاعین، فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’رُدَّ علینا تمرنا‘‘.(مسند احمد، رقم۴۷۲۸)
’’عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم کے پاس ایک مہمان آیا، تو آپ نے حضرت بلال سے فرمایا: کھانے کو کچھ لاؤ، تو حضرت بلال گئے اور انھوں نے دو صاع کھجورکو ایک صاع کھجورسے تبادلہ میں لیا، یوں کہ ان کی کھجورگٹھیا تھی۔ (بڑھیا کھجوردیکھ کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حیران ہوئے، تو آپ نے حضرت بلال سے دریافت فرمایا: یہ (بڑھیا) کھجور کہاں سے آئی ہے؟ تو انھوں نے آپ کو بتایا کہ (اپنی ردی کھجور دے کر)یہ ایک صاع دو صاع کے بدلے میں خریدی ہے۔تو آپ نے فرمایا: اپنی کھجوریں واپس لے کر آؤ۔‘‘

دیکھ لیجیے سودا محض منسوخ کیا جارہا ہے، حلت وحرمت کی کوئی بات بیان میں نہیں آئی ہے۔ لیکن محدثین سودے کو کسی ایسی وجہ سے منسوخ ہونا ضروری سمجھ رہے تھے کہ جس کا تعلق حلال وحرام سے ہو، جب ایسی علت حضرت بلال کے قصے میں نہیں ملی تو اسے عاملِ خیبر کی روایت سے حاصل کیا گیا۔ اس علت کی تخریج بلا وجہ نہیں تھی، بلکہ وہ علی العلم کی گئی تھی۔یہ علم البتہ اسی طرح کی پیوند شدہ یا نامکمل متون والی دوسری روایتوں کی وجہ سے وجود میں آیا تھا۔پیوند لگاتے وقت لازم تھا کہ کچھ احتیاط برتی جاتی، کاش کوئی علامات مقرر کر لی جاتیں تاکہ یہ معلوم ہو جاتا کہ یہ متن پیوند شدہ ہے، اصلی نہیں ہے، کیونکہ جب ہم حدیث کی کتاب میں کوئی روایت پڑھتے ہیں، تو اسے حدیث، یعنی قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہیں، اس لیے ان کتب میں پیوند شدہ روایات درج نہیں ہونی چاہیے تھیں۔ یہ علت جن روایات کی وجہ سے تخریج ہوئی، وہ ذیل میں پیش خدمت ہیں، یہ روایات پیوند لگانے کی دوسری مثال بھی ہیں، اور حضرت بلال والی روایت میں پیوند لگانے کی فقہی علت بھی فراہم کرتی ہیں ۔
پیوند شدہ روایات کے پیش کرنے سے پہلے یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ا س روایت میں یہ اضافہ تو اور بھی ناقابل فہم ہو گیا ہے کہ نقد معاملے میں پہلے ایک قسم کی کھجور کسی اور چیز کے بدلے خریدو، اور پھر اس چیزسے دوسری قسم کی کھجور خریدو۔ اس سے نفس حقیقت میں کیا فرق پڑے گا؟ نقد میں سود تو ہوتا نہیں، البتہ غرر اور ضرر ہو سکتا ہے۔ والئ خیبر کو جو بات آپ نے کہی، وہ تو بہت واضح ہے کہ ایک ہی نسل کی کھجور میں جمع و جنیب کے سودے میں ضرر غرر ہو سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے یہ احتیاط آپ نے سکھا دی۔لیکن اس کو سود کہنا کسی طرح ممکن نہیں ہے ۔ اس لیے کہ سیدنا بلال اور والی خیبرنے نقد معاملہ کیا ہے۔اور خود صحیح اور عقل و فطرت کے عین مطابق حدیث میں ’لَا رِباً إِلَّا فِي النَّسِیئَۃِ‘ (بخاری، رقم ۲۱۷۸ ۔ ۲۱۷۹) یا ’لاَ رِباً فِیْمَا کَانَ یَداً بِیَدٍ‘ میں جس حقیقت کو جس حصر کے اسلوب میں بیان کیا گیا ہے، ’عین الربا‘ کا یہ اضافہ ان اصولی روایات کے متصادم ہے، یعنی سود نقد سودے میں نہیں ہوتا، سود صرف ادھار میں ہوتا ہے۔حضرت بلال کے قصے میں یہ اضافہ اس شان دار واضح اصولی روایت سے ٹکراتا ہے، اس لیے بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اب ان روایتوں کی طرف آتے ہیں جن کی وجہ سے یہ اضافہ کیا گیا، اور وہ خود بھی پیوند شدہ ہیں۔

متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۳) (2/2)

_____
۱؂ ایک عمدہ قسم کی کھجور جو جسامت میں ذرا گولائی والی اور زردی مائل رنگ کی ہوتی ہے۔
۲؂ بڑی اور گاڑھے (thick) گودے والی کھجور، دوسری راے کے مطابق وہ کھجور جو ایک ہی قسم یا ایک ہی کوالٹی کی چن چن کر الگ کرلی گئی ہو۔یہی دوسری راے ہی صحیح لگتی ہے، اس لیے کہ عرب کھجوروں کے نام ان کے ساتھ معاملے کے لحاظ سے بھی رکھ لیتے ہیں جیسے تمرٌ جَنِيٌ، یعنی وہ کھجور جسے درخت سے چنا گیا ہو،خواہ اس پر چڑھ کر یا اسے ہلا کر۔
۳؂ ایسی خرید وفروخت جس میں ایک ہی چیزکی بڑھیا قسم دے کر گھٹیا قسم خریدی جائے یا بالعکس۔
۴؂ ایک عمدہ قسم کی کھجور جو جسامت میں ذرا گولائی والی ہوتی ہے، اور زردی مائل رنگ کی ہوتی ہے۔

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List