Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۲) (3/3) | اشراق
Font size +/-

متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۲) (3/3)

متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۲) (2/3)

ان کے جواب پر دوبارہ نظر ڈالیے: انھوں نے کہا کہ میں ان پر لعنت کیوں نہ کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی، اور جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ اس کا خط کشیدہ حصہ یہ بتا رہا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے استدلال کررہے ہیں، لیکن براہ راست حدیث پیش نہیں کر رہے تھے۔ ان کا اسلوب استدلال کا اسلوب ہے،روایتِ حدیث کا نہیں۔ان کو بس کہنا چاہیے تھا، مجھے دوش نہ دو، میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان ان لوگوں پر لعنت کرتے سنا ہے وغیرہ۔ان کا منشا یہ ہے کہ میری اس راے کہ یہ اوریہ لوگ عند اللہ ملعون ہیں، کی بنیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل پر ہے۔
ان کے جملے کو ایک دفعہ اور دیکھیں: انھوں نے کہا کہ میں ان پر لعنت کیوں نہ کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی، اور جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ جملہ کا آخری خط کشیدہ حصہ دل چسپ ہے، یہ ترجمہ ہے ان کے الفاظ: ’ومن ہو في کتاب اللّٰہ‘ کا۔اس جملے میں ’مَن ہو‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ان کی بات کا مطلب یہ ہے کہ میں جن لوگوں پر لعنت کررہا ہوں۔ ان کا ذکرقرآن مجید میں بھی ہے۔لیکن حدیث کا تمام ذخیرہ ان کے جواب کا وہ حصہ نقل نہیں کرتا، جس میں وہ یہ بتائیں کہ قرآن میں ان کا ذکر کہاں ہے؟ کسی راوی نے ان کی بات کو سمجھے بغیر ایک غیر متعلق آیت روایت میں بیان کردی ہے۔یہاں تو وہ آیت آنی چاہیے تھی، جو ان ملعون لوگوں کا ذکر کرتی جو ’وشم‘ اور ’وصال الشعر‘ کے مجرم ہوں، کیونکہ ان کے جملے میں ’من‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو انسانوں کے لیے بولا جاتا ہے، باتوں یا نظریات کے لیے نہیں، اور یہاں کوئی ایسا قرینہ بھی نہیں ہے کہ اسے مجازی معنی میں لیا جائے۔ اس سے تصرف در تصرف جو روایات میں ہوتا ہے، وہ بھی آپ پر واضح ہورہا ہوگا، کہ کس طرح الفاظ، آیات اور جملے کیا سے کیا ہوجاتے ہیں۔
اس روایت میں بیان کردہ آیت تو زیادہ سے زیادہ یہ بتارہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو ماننے کا حکم قرآن میں ہے۔یہ آیت تو اس کو پیش کی جانی چاہیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کا ماخذ نہ مانتا ہو۔ ویسے سچی بات ہے کہ یہ آیت یہ بھی نہیں بتاتی۔ اس کے لیے اس سے زیادہ صریح آیات قرآن مجید میں موجود ہیں، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذِ دین اور آپ کی اطاعت کا حکم دیتی ہیں۔لیکن بفرض محال یہ آیت یہ معنی دیتی بھی تو تب بھی پوری حدیث کے مضمون میں یہ آیت بے محل (misfit) ہے۔ انھوں نے یقیناًاس خاتون کو وہ آیت سنائی ہوگی جس میں خلق اللہ میں تبدیلی کرنے والوں کا ذکر ہو گا۔ وہی آیت جو ہم نے اوپر سورۃ النساء سے نقل کی ہے۔بس اسی آیت میں خلق اللہ میں تبدیلی کرنے والوں کا ذکر ہے۔لیکن راویوں سے یہ آیت فراموش ہو گئی ۔ کسی راوی نے اپنی طرف سے اس آیت کا یہاں پیوند لگا دیا ۔بعد میں یہ آیت موضوع سے متعلق نہ ہونے کے باجود ماخذِ دین پراستدلال کے لیے پیش کی جانے لگی۔بہرحال زیر بحث موضوع سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ عبد اللہ بن مسعود کی بات یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان لوگوں کو برا کہا ہے اور قرآن مجید نے بھی، اس لیے میں ان کو برا کہہ رہا ہوں، نہ کہ وہ قولِ رسول کی شرعی حیثیت منوانا چاہ رہے تھے۔
اس ادراجِ راے سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ ایک بات مستقل طور پر دین و شریعت کا حکم بن گئی کہ سواے چند تبدیلیوں کے جن میں سر کی حجامت، مونچھوں کی تراش اور ڈاڑھی کا خط وغیرہ شامل ہیں کے سوا، اب جسم انسانی پر ہرطرح کی تبدیلی حرام ہوگی اور وہ حرمت بھی کبیرہ گناہ کے برابر ہے، اس لیے کہ ان اعمال پر لعنت کی گئی ہے۔ جو قرآنی پس منظر میں شرک اورقرآن اور رسول کے انکارجیسے جرائم پر کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک امتی کی راے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ درج ذیل روایت پر نگاہ ڈالیں۔ اس میں ’وشم‘ کرنے والیوں کے بارے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہ الفاظ نقل کررہے ہیں، جو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہے۔اس حدیث میں لعنت اور خلق اللہ میں تبدیلی کا ذکر نہیں ہے ۔اگرچہ اس روایت میں بھی تصرف کا پورا امکان ہے ، مگر پھر بھی کسی قدریہ بات سامنے آتی ہے کہ حضرت عمر جیسے آدمی کے پوچھنے پر انھوں نے وہی بات کہی ہے جو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہوگی:

عن أبي ہُرَیْرَۃَ قال: أتی عُمَرُ بِامْرَأَۃٍ تَشِمُ، فَقَامَ فقال: أَنْشُدُکُمْ بِاللّٰہِ مَنْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فِي الْوَشْمِ، فقال أبو ہُرَیْرَۃَ: فَقُمْتُ فقلت: یا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، أنا سمعت، قال: ما سَمِعْتَ؟ قال: سمعت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ’’لَا تَشِمْنَ ولا تَسْتَوْشِمْنَ‘‘.(صحیح بخاری، رقم ۵۶۰۲)
’’ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا ، جو جلد پر نقش بناتی تھی، تو آپ اٹھے اور کہا کہ میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کون ہے جس نے ’وشم‘ کے بارے میں آپ کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ہو؟ ابوہریرہ نے کہا کہ میں کھڑا ہوا اور بولا کہ اے امیر المومنین، میں نے سنا تھا۔ حضرت عمر نے کہا: تم نے کیا سنا تھا؟ ابو ہریرہ نے کہا: میں نے نبی پاک کو کہتے سنا تھا، آپ فرما رہے تھے: نہ نقش جِلد پر بناؤ نہ بنواؤ۔‘‘

اسے ہم نے اصل روایت اس لیے قرار دیا ہے کہ اس میں سیدنا عمر کے مطالبہ پر سیدنا ابو ہریرہ نے وہی الفاظ بتائے ہیں جو انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے تھے۔ چنانچہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ صرف یہ ہیں کہ: ’لَا تَشِمْنَ ولا تَسْتَوْشِمْنَ‘ (نہ tattoo بناؤ اور نہ بنواؤ)۔
کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی لعنت والی روایت نقل ہوئی ہے:

عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي ۔ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ قالَ: ’’لَعَنَ اللّٰہُ الوَاصِلَۃَ والمُسْتَوْصِلَۃَ، والوَاشِمَۃَ والمُسْتَوشِمَۃَ.‘‘(بخاری، رقم ۷۲۳)

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابو ہریرہ نے یہ بات حضرت عمر سے کیوں نہیں کہی؟لگتا یہی ہے کہ بعد کے راویوں نے عبد اللہ ابن مسعود کے اثر میں یہ روایت میں تبدیلی کی ہے۔ اسی طرح سیدہ اسماء و عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی لعنت والی روایات نقل ہوئی ہیں:

عن أسماء بنت أبي بکر قالت: جاء ت إمرأۃ إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقالت: یا رسول اللّٰہ، إن لي إبنۃ عریسًا أصابتہا حصبۃ فتمرق شعرہا أفأصلہ؟ فقال: ’’لعن اللّٰہ الواصلۃ‘‘.(مسلم، رقم ۲۱۲۲)
’’اسماء بنت ابوبکر سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو اس نے پوچھا کہ اے رسول اللہ، میری بیٹی کی شادی ہے، لیکن اسے حصبہ کی بیماری ہوئی اور اس کے بال گر گئے ہیں، تو کیا میں مصنوعی بال اسے لگا دوں؟ آپ نے فرمایا: اللہ نے ایسا کرنے والی پر لعنت کی ہے۔‘‘

بخاری میں سیدہ عائشہ سے ایک ملتی جلتی روایت یوں آئی ہے:

عن عائشۃ أن امرأۃ من الأنصار زوجت إبنتہا فتمعط شعر رأسہا، فجاء ت إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فذکرت ذلک لہ، فقالت: إن زوجہا أمرني أن أصل في شعرہا فقال: ’’لا إنہ قد لعن الموصلات‘‘. (بخاری، رقم ۴۹۰۹)
’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی، تو کسی بیماری کی وجہ سے اس کے سر کے بال جھڑ گئے۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، اور یہ بات بتا کر بولی کہ میری بیٹی کے شوہر نے کہا ہے کہ میں اس کے بالوں میں دوسرے بال لگا دوں۔ آپ نے فرمایا: نہیں بال لگانے والیوں پرلعنت کی گئی ہے۔‘‘

واقعہ اور آخری جملہ دونوں روایتوں میں مختلف ہو گئے ہیں۔ مسلم میں شوہر کا ذکر نہیں ہے شادی ابھی ہونی ہے، اور بخاری میں شوہر کے مطالبے پر بال لگانے کا ذکر ہے اور شادی ہو چکی ہے۔ اسی طرح آخری جملہ کے الفاظ بھی بدل گئے ہیں، راویوں نے اپنے فہم کے مطابق ان میں تبدیلی کردی ہے۔ سیدہ اسماء کی روایت سے یہ کبیرہ گناہ بنتا ہے اور سیدہ عائشہ کے الفاظ سے ایسا نہیں ہوگا۔ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مضمون کی ایک روایت نقل ہوئی ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ’’لُعِنَتِ الْوَاصِلَۃُ، وَالْمُسْتَوْصِلَۃُ، وَالنَّامِصَۃُ، وَالْمُتَنَمِّصَۃُ، وَالْوَاشِمَۃُ، وَالْمُسْتَوْشِمَۃُ، مِنْ غَیْرِ دَاءٍ.‘‘(سنن ابی داؤد، رقم ۴۱۷۰)

دو روایتیں حضرت معاویہ سے یوں نقل ہوئی ہیں:

عَنْ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ’’أَیُّمَا امْرَأَۃٍ أَدْخَلَتْ فِيْ شَعَرِہَا مِنْ شَعَرِ غَیْرِہَا، فَإِنَّمَا تُدْخِلُہُ زُوْرًا.‘‘(مسند احمد، رقم ۱۶۹۲۷)

عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِیَۃُ بن أبِي سفیان الْمَدِینَۃَ آخِرَ قَدْمَۃٍ قَدِمَہَا فَخَطَبَنَا، فَأَخْرَجَ کُبَّۃً مِنْ شَعَرٍ فقَالَ: مَا کُنْتُ أَرٰی أَحَدًا یَفْعَلُ ہٰذَا غَیْرَ الْیَہُوْدِ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمَّاہُ زُوْرًا، یَعْنِی الْوِصَالَ فِي الشَّعَرِ.(بخاری، رقم ۲۲۹۴)

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں اگرچہ بات اللہ تعالیٰ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے نہیں کی گئی۔ لیکن اس سے مراد یقیناًیہی لی جاتی ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لعنت کی گئی ہے۔اس روایت نے ایک اور اضافہ کردیا ہے،وہ ’غیر داء‘ کا اضافہ ہے، یعنی جس نے یہ کام بلاوجہ کیے، ان پر لعنت کی گئی ہے، بیماری کی وجہ سے کرنے والے پر لعنت نہیں ہے۔لیکن یہ بات مذکورہ بالا تمام روایات کے خلاف ہے: عبداللہ بن مسعود صرف حسن کے لیے خلق اللہ میں تبدیلی پر لعنت کررہے ہیں ، سیدات اسماء اور عائشہ بیماری کے باوجود لعنت کا کہہ رہی ہیں ۔ ابوہریرہ مطلقاً ہر اس شخص پر لعنت کررہے ہیں جو ایسا کرے، بیماری میں یا بیماری کے بغیر، لیکن ابن عباس فرماتے ہیں کہ بیماری کی وجہ سے ایسا کرنے والوں پر لعنت نہیں ہے۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دو اور پہلوؤں کا اضافہ کیا ہے اور صریح الفاظ میں ایک کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے، وہ یہ کہ ایسا کرنا دھوکا (زُور) ہے۔ دوسرا اضافہ ان کا اپنے علم کی بنا پر ہے اور یہ ہے کہ ایسا صرف یہود کرتے تھے۔ہو سکتا ہے کہ یہود کا یہ عمل کسی دینی فتویٰ پر کیا جاتا ہو، تو اسے بدعت ہونے کی وجہ سے منع کیا گیا ہو۔اس عمل پر لعنت بھی ہو سکتی ہے ، اس لیے کہ افتراء علی اللہ بھی ایک اسی نوعیت کا جرم ہے، جس پر لعنت ہو سکتی ہے۔ بہرحال اوپر کی تفصیل کا مطلب یہ ہے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کیا تھا؟ وہ ہمیں مکمل الفاظ میں منتقل نہیں ہو سکا۔
حضرت معاویہ کی بات کسی حد تک اس ممانعت کو دینی معنی میں قابل فہم بنادیتی ہے کہ جس نے دھوکا دینے کے لیے مصنوعی بال سر میں لگائے، وہ خدا سے سزا پائے گا۔ مثلاً یہ کہ کسی بچی کے رشتے کے وقت حقیقت چھپا نے کے لیے مصنوعی بال لگا کر رشتہ دکھا یا جائے اور دلہا والوں کو دھوکے میں رکھا جائے کہ اس کے سرپر بال موجود ہیں ، حالاں کہ اس کے بال نہ ہوں تو یہ بلاشبہ گناہ کی بات ہے اور اس پر لعنت ملامت کی جاتی ہے۔ لیکن یہ علت باقی لعنت کیے گئے اعمال میں کام نہیں آتی۔اگر ان پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی لعنت کی ہے تو اس کی دینی معنی میں وجہیں بس دو ہی سمجھ میں آتی ہیں: ایک یہ کہ عرب ان حرکات کو دین کا حکم سمجھ کر کرتے ہوں ، اور دوسرے یہ کہ یہ مشرکانہ رسومات ہوں، تاریخی طور پر اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔ یہ لعنت غیر دینی معنی میں بھی ہو سکتی ہے۔اسے ہم تہذیبی معنی میں ناگوار کے مفہوم میں لے سکتے ہیں ۔ لیکن زیبایش سے خلق اللہ میں تبدیلی والی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہے۔وہ محض ایک بلند مرتبہ امتی کا فقہی فتویٰ ہے، جس کی مناط و علت کو ہم نے اوپر واضح کردیا ہے۔ جس کا اطمینا ن ہو، وہ اس پر عمل پیرا رہے، لیکن بطور نبی اکرم کے حکم کے نہیں، بلکہ صرف ایک امتی کے فتوے کی حیثیت سے ۔

دو ضمنی حاشیے

قرآن مجید میں خلق اللہ کے معنی

تین مقامات پر خلق اللہ کا مرکبِ اضافی قرآن مجید میں آیا ہے۔ سورۂ لقمان میں ہے:

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیْمٍ. ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ.(۳۱: ۱۰۔۱۱)

سورۂ روم میں ہے:

فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ.(۳۰: ۳۰)

اورسورۂ نساء میں یوں ہے، یہی آیت سیدنا ابن مسعود کے پیش نظر ہے:

وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ وَمَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا.(۴: ۱۱۹)

ان تینوں مقامات پر خلق اللہ میں خلق کی اضافت اللہ کی طرف ہوئی۔ یہ اضافت نسبت و ملکیت کے معنی میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس آیت میں خلق اللہ میں مصدرکی فاعل کی طرف اضافت ہوئی ہے، یعنی تخلیق کرنے والا اللہ ہے۔ یعنی جیسے کوئی مصور اپنی بنائی ہوئی تصویر کو یہ کہے کہ ’’یہ میری خلق (تخلیق)‘‘ ہے۔ اگر کوئی اوریہ دعویٰ کردے کہ تصویر تو میں نے بنائی ہے تو اس کو کہا جائے گا کہ یہ خلق اللہ میں تبدیلی ہے۔یعنی عمل خلق اور خالق میں نسبت کی تبدیلی ہے۔قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اسی نسبتِ خلق کی وجہ سے الٰہ یا رب ہے۔اگر اللہ تعالیٰ ہمارے خالق نہ ہوتے تو وہ اپنے آپ کو ہمارا الٰہ و رب نہ کہتے۔ سورۂ اعراف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رب ہونے کی دو دلیلیں دی ہیں:

اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّاٍم ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ م بِاَمْرِہٖ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ.(۷: ۵۴)۳۷؂
’’کچھ شک نہیں کہ تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر بیٹھا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے)۔ یہ اللہ رب العالمین بڑی برکت والا ہے۔‘‘

ان تینوں مقامات پر خلق ظاہری ڈھانچے اور شکل و صورت کے معنی میں مستعمل نہیں ہے۔ اس لیے یہ معنی لینا ہر گز ممکن نہیں کہ خلق اللہ میں تبدیلی کا مطلب ظاہری صورت میں تبدیلی ہے۔ اب ہم وہ آیت دیکھتے ہیں جس میں خلق اللہ کی تبدیلی کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے:

لَعَنَہُ اللّٰہُ وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا. وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُ مَنِّیَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰ مُرَنَّھُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ وَمَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا. (النساء ۴: ۱۱۸۔ ۱۱۹)

’’جس پر اللہ نے لعنت کی ہے، (وہ اللہ سے) کہنے لگا: میں تیرے بندوں سے (غیر اللہ کی نذر دلوا کر مال کا)ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔ اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا رہوں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور کہتا رہوں گا کہ وہ اللہ کی تخلیق کو بدلتے رہیں گے۔ — اور جس شخص نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا۔‘‘

کسی دیوتا کے لیے جانور کی نیاز دینے کے لیے مشرکین عرب کا یہ طریقہ تھا کہ جانوروں کے کان کاٹ دیتے ، یہ ایک نشانی ہوتی تھی کہ یہ جانور اب نیاز کا ہے، اسے کوئی نہ چھیڑتا تھا۔ اس آیت میں اسی رسم کی طرف اشارہ ہے۔ گویا جو کام اللہ کے لیے ہونا چاہیے تھا، وہ کام یہ لوگ جھوٹے دیوتاؤں کے لیے کرتے تھے۔ یہی عمل خلق اللہ میں تبدیلی ہے۔ یعنی جب ایک آدمی غیر اللہ کو نذرچڑھاتا ہے تو گویاوہ اپنے اس عمل سے یہ کہتا ہے کہ اس جانور کا خالق یہ دیوتا ہے۔اسی وجہ سے اس پر لعنت ہے ۔اس لیے کہ کسی جانور کی قربانی دینا یا بلی چڑھانا صرف اور صرف خالق حقیقی کا حق ہے۔ اسی کے کہنے پر جانور کی جان لینا جائز ہے ، اور اسی کے آگے اس کی نذر اور نیاز پیش کی جا سکتی ہے۔ سو یہ واضح رہنا چاہیے کہ اللہ کے سوا خلق کی نسبت کسی اورذات کی طرف کرنا یہ خلق اللہ میں تبدیلی ہے۔ سر اور ناک کے بال اور مونچھیں کاٹنا، ڈاڑھی کا خط بنانا،ناخن کاٹنا اور زیرناف اوربغلوں کے بال کاٹنا، ناک اور کان چھدوانا، بازو وغیرہ پر گدوانا، وگ وغیرہ بالوں میں جوڑنا کسی دینی، دنیوی ، طبعی ،سماجی یا طبی ضرورت سے ایسا کرنا ہر گز خلق اللہ میں تبدیلی نہیں۔ لیکن صرف ایک بال بھی کسی دیوتا کی خوش نودی کے لیے ، یااس کی نسبت سے کاٹنا ، لگانا یا رنگنا خلق اللہ میں تبدیلی ہے اور اس پر قرآن مجید میں لعنت کی گئی ہے۔خلق اللہ میں تبدیلی خالق و مخلوق میں نسبت کی تبدیلی ہے۔ سورۂ لقمان کی ذیل کی آیت میں خلق اللہ کی یہی وضاحت آئی ہے:

ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ. (۳۱: ۱۱)۔

لعنت کے معنی

بعض صحابہ نے ان چیزوں کے لیے ’لُعِنَ‘، ’لَعَنَ اللّٰہُ‘ اور ’لَعَنَ النبيُّ‘ کے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔ یہ الفاظ بلاشبہ بہت سخت معنی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ لیکن ہر جگہ ایسا نہیں ہے۔ کہیں کہیں یہ زبان کے ایک محاورے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جہاں اس کے معنی نہایت نرم ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ’’لسان العرب‘‘ میں اس کے معنی یوں بیان ہوئے ہیں:

لعَنہُ یلعَنہُ لَعْنًا طردہُ وأبعدہُ من الخیر وأخزاہُ وسبَّہ: لعنہ یلعنہ لعنًا.
(اس نے اس کو دھتکارا، خیر سے محرومی کی بددعادی، اسے رسوا کرنے والی بات کہی یا اسے گالی دی)۔

تو جب یہ الفاظ لوگوں کے لیے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فاعل کی نسبت سے آئیں تو اس کا مطلب صرف یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کام کو معاشرتی، سماجی یا تہذیبی معنی میں پسند نہیں کیا گیا۔ حلت و حرمت کا اس میں دخل نہ ہو۔
اسی طرح یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بعض اوقات ایک چھوٹے کام کے لیے ’لعنت‘ کا لفظ آجائے گا۔ تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لعنت اس عمل پر نہیں، بلکہ اس چیز پر کی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کام کیا جاتا ہے۔جیسے حدیثوں میں آتا ہے کہ آپ نے اس آدمی پر لعنت کی جو لوگوں کے حلقہ کے درمیان میں بیٹھتا ہے۔۳۸؂ ظاہر ہے حلقہ کے بیچ میں بیٹھنا ممنوع چیز نہیں ہے، بلکہ یہ بڑائی اور تکبر ہوتا ہے جس کی وجہ سے کوئی آدمی یوں لوگوں میں نمایاں ہو کر بیٹھتا ہے۔ واضح ہے کہ اس میں خودنمائی کے شکار متکبر آدمی پر لعنت کی گئی ہے، نہ کہ محض حلقہ کے وسط میں بیٹھنے والے پر۔ یہی معاملہ ٹخنوں سے تہ بند کے نیچے لٹکنے کا ہے۔ تہ بند کا لٹکنا گناہ نہیں، بلکہ تکبر سے ایسا کرنا گناہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان حدیثوں میں ’خیلاء‘ کے الفاظ آئے ہیں کہ تکبر سے تہ بند لٹکانا اور بعض میں ’إسبال‘کے الفاظ آئے ہیں، جس کے معنی ہی تکبر سے تہ بند لٹکانے کے ہیں وغیرہ۔ اسی معنی میں وہ جملہ ہے جو مصنوعی بال لگانے والی کے بارے میں آپ نے فرمایا ہے: ’لعن اللّٰہ الواصلۃ‘ (اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی کو دھتکارا ہے)۔ اس کی وجہ بال لگانا نہیں، بلکہ دھوکا دینا ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر واضح کرچکے ہیں کہ دھوکے کا ذکر خودنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے ہواہے۔اسی طرح اگر یہ اعمال مذہبی رسوم کی صورت اختیار کرچکے تھے تو اس صورت میں یہ بدعت اور افتراء علی اللہ کے زمرے میں آتے ہیں، جس پر قرآن میں وعید بہت سخت ہے، اس صورت میں لعنت اپنے سخت ترین مفہوم میں ہے۔ تیسرا امکان جیسا ہم نے عرض کیا کہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ اعمال اگر دیوتاؤں کو راضی کرنے کے لیے تھے، تو اس صورت میں شرک کا باعث تھے، اس لیے ان پر لعنت بھی اپنے سخت ترین مفہوم میں ہوگی۔
زیبایش کے لیے جو ایسا کرے، اس پر لعنت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب نہیں ہے۔آپ نے شادی پر بال لگانے کے موقع پر جو لعنت کی ہے، اس میں وہی پہلو آتا ہے جو حضرت معاویہ نے واضح کردیا ہے کہ وہ زور یا دھوکا ہے۔
اسی طرح اس بات کا پورا امکان ہے کہ دانت ترشوانے والیوں اور tattoo بنوانے والیوں پر لعنت محض کراہتِ ذوقی کے معنی میں ہو،یعنی اچھے نفیس الطبع لوگ ایسے عمل پسند نہیں کرتے۔ہم نے یہ سارے امکانات رکھ دیے ہیں، اس لیے کہ احادیث کے یہ متون حتمی طور پر صرف مصنوعی بال لگانے والیوں پر لعنت کی وجہ زور یا دھوکا بتاتے ہیں ۔ باقی اعمال کی لعنت کا سبب روایات سے واضح نہیں ہوتا۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے خلق اللہ میں تبدیلی کی علت کی تخریج کی تھی۔
[باقی]
________
۳۷؂ اس آیت مبارکہ میں لف ونشر مرتب ہے: ’خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ‘ اور ’اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ‘ کے مقابل میں ’اَلَا لَہُ الْخَلْقُ‘ اور ’الْاَمْر‘ بالترتیب اندا ز میں آئے ہیں۔
۳۸؂ واضح رہے کہ یہ حدیث امام ترمذی نے حسن صحیح قرار دی ہے، جبکہ البانی اور شیخ الارنؤط نے ضعیف قرار دی ہے۔ (دیکھیے سنن الترمذی، رقم ۲۷۵۳)۔ میں نے یہاں محض لسانی استدلال کے لیے اقتباس کی ہے کہ ہم کس طرح ایسے مجازی اسالیب میں ایسے جملے بول لیتے ہیں۔ کسی شرعی حکم کے استنباط کے لیے نقل نہیں کی۔ بعض شارحین نے اس شخص پر لعنت کی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ مجلس میں گفتگو کے دوران میں دوسروں کو دیکھنے وغیرہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List