Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۲) (1/3) | اشراق
Font size +/-

متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۲) (1/3)

(گذشتہ سے پیوستہ)

تمہید

میں نے اس مضمون کا عنوان ’’متنِ حدیث میں علما کے تصرفات‘‘ باندھا تھا۔ لفظ ’تصرف‘ کے معنی معاملہ کرنا، الٹنا پلٹنا، استعمال میں لانا وغیرہ کے آتے ہیں۔ دورِ تدوین سے آج تک حدیث کے ساتھ ہم نے جو کچھ کیا ہے، تصرف ہی اس کے بیان کے لیے ایک اچھا لفظ ہے، لیکن بعض لوگوں نے میرا پہلا مضمون پڑھ کر یہ تاثر بیان کیا ہے کہ اس لفظ میں ایک سختی ہے، وہ یہ کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شایدعلما نے جانتے بوجھتے ایسا کیا ہے۔لغوی اعتبار سے یہ لفظ نہ منفی ہے اور نہ مثبت۔ان مضامین میں میرا مقصد علما کی تنقیص نہیں ہے، نہ میں نے اسے اس قسم کے کسی منفی مقصد کے لیے لکھا ہے ۔ اس لیے میں نے اس مضمون کا عنوان تبدیل کردیا ہے، اور عنوان میں سے ’علما‘ کا لفظ نکال دیا ہے۔
میں نے اپنے مضمون کی پہلی قسط اور اس قسط میں بھی یہی بات عرض کی ہے کہ یہ تصرفات بیان و حکایت کا فطری تقاضا ہیں، راویوں اور علما نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیے۔ ’علما‘ کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا تھا کہ اس میں رواۃِ حدیث کے ساتھ ساتھ صوفیہ، محدثین ، فقہا، شارحین، مفسرین اور مصنفین سب شامل تھے، ان کے لیے علما ہی کی تعبیر سب سے زیادہ موزوں تھی۔بہرحال کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو زائل کرنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ میں اس کے عنوان میں تبدیلی کردوں۔ اب یہ مضمون اسی عنوان سے چھپے گا تاآنکہ اس میں کسی قسم کی کوئی خطا سامنے آجائے۔
اس سلسلے کے مضامین کے دو حصے ہیں: ایک تصرفات کے بیان کا اور دوسرا مسئلے کی توجیہ کا۔ واضح رہے کہ یہ دوسرا حصہ میرے ان مضامین کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ اس دوسرے حصے، یعنی توجیہ و توضیح کے لیے ان مضامین میں میرا اصول یہ ہے کہ اگر میں مختلف درجے کی احادیث سے اخذ و استفادہ کروں گا، تو اس میں کوئی بھی حدیث حسن یا حسن لغیرہ کے درجے سے نیچے کی نہ ہو، یعنی یہ کہ ان احادیث کو میں اس اصول پر لوں کہ کم ازکم صحیح تر احادیث میں ان مضامین کی تائید اور بنیاد موجود ہو، اوریہ بھی میری کوشش ہوگی کہ اسی حدیث سے استشہاد کروں جسے کسی نہ کسی محدث نے قابلِ احتجاج قرار دیا ہو، میں اپنی راے پر اس کو منحصر نہیں کروں گا۔ البتہ تصرفات کے بیان میں صحیح و ضعیف کا امتیاز میرے خیال میں ضروری نہیں ہے،اس لیے کہ یہ بھی تصرف ہی کی ایک صورت ہے۔اور اس لیے بھی کہ ان ضعیف حدیثوں کو حدیث کی حیثیت نہ بھی دیں، ایک تاریخی دستاویزی حیثیت تو انھیں حاصل ہے ہی، اس لیے تصرف کے تحت تو اسے لایا جاسکتا ہے ۔مزید یہ کہ ضعیف روایات کا وجود اور ان کو کتابوں میں لکھنا بذات خود ایک تصرف ہے،یعنی باوجود ضعفِ سند کے اسے کسی مجموعۂ حدیث میں درج کرناوغیرہ اقوال رسول پر ایک تصرف ہی تو ہے۔ اسی طرح اس میں بھی شبہ نہیں ہے کہ امت کا ایک بڑا طبقہ ضعیف احادیث سے اخذو استفادہ کرتا ہے۔۱؂ جس مضمون پر ’’اشراق‘‘ کے اداریے میں تبصرہ ہوا، اس میں بحمد اللہ ایک بھی روایت اس اصول سے ہٹی ہوئی نہیں ہے، جسے میں نے اوپر بیان کیا ہے ۔
اسی طرح بعض احباب نے کہا کہ تمھارا مضمون جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے خاصا مشکل تھا، ان کی آسانی کے لیے میں نے حسب ضرورت مشکل الفاظ کے انگریزی مترادف دے دیے ہیں۔

متن حدیث میں لفظی و معنوی ادراج

تجزۂ حدیث کے بعد اگلا اہم تصرف ادراج ہے ۔ ادراج سے ہماری مراد راوی کا عمداً یا سہواً کلام نبوی میں اپنی بات شامل کرنا ہے۔اس سے دو قسم کی چیزیں متنِ حدیث میں شامل ہوئی ہیں:
ایک الفاظ ،یعنی راوی نے اپنے یا کسی اور راوی کے الفاظ و جمل کو اس طر ح سے بیان کردیا کہ وہ حدیث کے متن کا حصہ قرار پا گئے ۔
دوسری راے ، اس کی دو صورتیں ہیں،
۱۔ ایک یہ کہ کسی صحابی یا راوی کی راے یا فتویٰ قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر حدیث کی حیثیت پاگیا، قطع نظر اس کے کہ یہ عمل عمداً ہوا ہو یا سہواً۔
۲۔ دوسرے یہ کہ احادیث کا معتد بہ حصہ روایت بالمعنیٰ۲؂ کے طریقے پر منتقل ہوا ہے،اور فقیہ (prudent) سے فقیہ آدمی بھی جب کسی بات کو سمجھ کردوسروں کواپنے لفظوں میں سناتا ہے، تو وہ دراصل متکلم کا نہیں، بلکہ اپنا فہم آگے بیان کررہا ہوتا ہے ۔۳؂
واضح رہے کہ یہ بھی روایت۴؂ کا فطری تقاضا ہے، کیونکہ محدثین کی جمعِ حدیث (compilation) سے پہلے، احادیث بطور ایک مکمل روایت کے کم سنائی جاتی تھیں،بلکہ وہ زیادہ تر اپنی راے یا عمل کے ثبوت کے لیے سنائی جاتی تھیں۔ اس نوعیت کی گفتگو میں الفاظِ حدیث کاحسب فہم بدل جانا ایک فطری معاملہ ہے ۔اس میں ضروری نہیں — جیسا کہ بعضے خیال کرتے ہیں — کہ راویوں کی نیت فتنہ کی ہو اور اس میں کوئی فساد پیدا کرناان کے پیش نظر ہو۔ انسان اپنی فطری و طبعی ضرورتوں کے تحت الفاظ اور کلام کے ساتھ ایسا کرتا ہی کرتا ہے۔ مثلاً بات سمجھاتے وقت اپنی طرف سے مثال دے دی یا اپنی بات کو تقویت دینے کے لیے قرآن کی آیت تلاوت کردی، جس سے سننے والا یہ گمان کربیٹھتا ہے کہ یہ بھی قولِ نبوی ہی ہے۔اس کی ایک عمدہ مثال مفسرین و مصنفین کے ہاں ملے گی۔ جب وہ کسی مضمون میں قرآن کی آیت سے استشہاد۵؂ کریں گے تووہ اپنے مضمون کے موقع و محل کی رعایت سے جو ترجمہ کریں گے، وہ اس ترجمے سے مختلف ہو گا ، جو انھوں کسی دوسرے مضمون یا اپنی تفسیر میں کیا ہو گا۔ ا ن تمام مصنفین کی نیت قرآن میں ردو بدل کی نہیں ہوتی، بلکہ موقع و محل کے لحاظ سے الفاظ کا انتخاب بدل جاتا ہے۔چنانچہ یہی امر اس وقت ہوتا تھا، جب صرف مسموع حدیث ۶؂ سے استشہاد کیا جاتا تھا۔ عہدِ اول میں متونِ حدیث مکتوب (written) حالت میں نہیں تھے کہ جن سے متن کے الفاظ کو جانچا جا سکتا۔ یہ سہولت حدیث کی کتابوں کے وجود میں آنے کے بعد حاصل ہوئی۔ اب یہ کتب اصلاً بالمعنیٰ روایت ہونے والی احادیث پر ہی مشتمل ہیں۔
الفاظ کی تبدیلی، مفہوم کا ابلاغ اور کسی مثال یا آیت سے استشہاد کے عمل سے بلاشبہ ایک راوی کا قول وفہم ہمیں فراہم ہو جاتا ہے، اور ایک قولِ رسول کے ساتھ مثال یا آیت کی اطلاع بھی ہمیں فراہم ہو جاتی ہے،جو بلاشبہ خود ایک قیمتی چیز ہے۔لیکن اس خوبی کے ساتھ جو خرابی پیدا ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ ایک امتی کا قول و فہم ارشادِ نبوی نہ ہونے کے باوجود ارشادِ نبوی کی حیثیت پا لیتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کے لیے یہ اتنی سنگین بات نہ ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت سنگین امر ہے ۔اس امر کی سنگینی کی وجہ ہی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف کسی قول کی نسبت۷؂ کو منع فرمایا تھا، ۸؂ اور اس عمل کی نہایت شدید الفاظ میں مذمت (condemnation) کی تھی، کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ ایسا ہونے سے میری بات کے ساتھ غیر نبی کی بات بھی دین قرار پاجائے گی۔اس میں شبہ نہیں ہے کہ صحابہ، ائمہ اور رواۃ۹؂ سمیت تمام امت اس قول کی مخاطب ہے کہ جس نے میری جانب کسی قول کی جھوٹی نسبت کی، اس نے دوزخ میں ٹھکانا بنا لیا۔کسی کو اس سے استثنا (exception) حاصل نہیں ہے۔ اب فرق صرف یہی ہے کہ اگر کچھ ایسا ہوا ہے تو سلف صالحین (pious ancestors) نے عمداً ایسا نہیں کیا، اور گناہ گار وہی ہے جس نے عمداً (intentionally) ایسا کیا ہو۔ اسی وجہ سے بعض محدثین روایت بالمعنیٰ کے قائل نہیں تھے، اور بہت سے لوگوں نے اس پر شرائط عائد کیں۔ ان کا کہنایہ تھا کہ روایت بالمعنیٰ روایت تو جائز ہے، مگر اس کے لیے راوی کو زبان و بیان اور حدیث کا صاحب علم ہونا چاہیے ۔۱۰؂

اس تصرف کے اثرات

احادیث میں روایات کے بالمعنیٰ منتقل ہونے کی وجہ سے مضامین میں ایسی تبدیلی آجاتی ہے، جو اس بات کو آفاقی (universally compatible) اور خطا سے پاک نہیں رہنے دیتی، حالاں کہ اللہ اور اس کے رسول نے آفاقی اور بے خطا بات کہی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر نبی خواہ وہ کتنا ہی جیدعالم کیوں نہ ہو معصوم عن الخطا نہیں ہے۔ اس لیے وہ نہ صرف فہم و بیان میں خطا کرسکتا ہے، بلکہ اپنے محدود علم اور اپنے عہد کے سانچوں (paradigms) کے لحاظ سے چیزوں کو دیکھتا۱۱؂ ہے۔ جب کہ رسول کا نہ علم محدود ہوتا ہے، اور نہ وہ دین بتاتے وقت زمانی سانچوں کا اسیر ہوتا ہے۔ ۱۲؂ وہ خالقِ ارض و سما سے پاتا اور بے کم و کاست اسے بیان کردیتا ہے۔اس اکیلے کی بات پوری امت کے تواتر پر بھاری ہوتی ہے، اس لیے کہ اس پر خدا کی ذات براہِ راست نگہبان رہتی ہے تاکہ خدا کا پیغام بے کم و کاست اس کے بندوں تک پہنچ جائے۔۱۳؂ یہ بات محتاجِ دلیل نہیں ہے کہ انبیاکے بعد کسی کو یہ مقام حاصل نہیں ہے۔
ادراج متن حدیث میں ہوا، علما نے جس کے پرکھنے کے اصول وغیرہ بنائے ہیں، جو علوم الحدیث کی کتابوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔۱۴؂ لہٰذا اب ہمیں دوہری محنت کرنا ہوگی۔ ہر ہر حدیث کے تمام طرق اکٹھے کرکے دیکھنا ہو گا کہ ان طرق میں ادراج کے کیا کیا امکانا ت ہیں تاکہ ہم اصل قولِ رسول تک پہنچ سکیں۔ اگر ہم ان اضافوں سے حدیث کو ممیز (distinguish) کر سکیں تو ان شاء اللہ نہ صرف بہت سے امور میں ہم ان اعتراضات سے نکل جائیں گے، جن کا آج حدیث کو سامنا ہے، بلکہ دین کو بے آمیز صورت بھی سامنے لا سکیں گے۔ آئیے مثالوں سے اسے سمجھتے ہیں۔

لفظی ادراج کی ایک مثال

عورتوں کو عقل و دین میں ناقص کہنے والی حدیث اس کی ایک سادہ ترین مثال ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں آنے والی حدیث کے الفاظ بالعموم یوں منتقل ہوئے ہیں۔ اضافہ شدہ الفاظ کو خط کشید کردیا گیا ہے:

عن أبي سعید الخدري، قال: خرج رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في أضحی أو فطر إلی المصلی، فمر علی النساء، فقال: ’’یا معشر النساء تصدقن فإني أریتکن أکثر أہل النار‘‘، فقلن: وبم یا رسول اللّٰہ؟ قال: ’’تکثرن اللعن، وتکفرن العشیر، ما رأیت من ناقصات عقل ودین أذہب للب الرجل الحازم من إحداکن‘‘، قلن: وما نقصان دیننا وعقلنا یا رسول اللّٰہ؟ قال: ’’ألیس شہادۃ المرأۃ مثل نصف شہادۃ الرجل‘‘، قلن: بلی، قال: ’’فذلک من نقصان عقلہا، ألیس إذا حاضت لم تصل ولم تصم‘‘، قلن: بلی، قال: ’’فذلک من نقصان دینہا‘‘.(بخاری، رقم ۳۰۴)

’’ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عید فطر پڑھانے کے لیے عیدگاہ کی طرف نکلے، تو آپ عورتوں کے پڑاؤ سے گزرے، آپ نے فرمایا: اے عورتو، اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ تم عورتیں زیادہ دوزخ میں جاؤ گی۔ عورتوں نے پوچھا: یارسول اللہ، ایسا کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو، اور شوہر اور عزیزوں کا کفران نعمت کرتی ہو۔ میں نے ناقصِ عقل ودین چیزوں میں سے تم عورتوں سے زیادہ تیز کوئی چیز نہیں دیکھی، جو صاحب حزم مردوں کی عقل ماؤف کردیتی ہو۔ تو انھوں نے کہا :اے رسول اللہ، عورت کے اس دین و عقل کے نقص سے کیا مراد ہے؟ توفرمایا: کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے آدھی نہیں ہے؟تو عورتوں نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، تو آپ نے فرمایا: یہ عورت کی کم عقلی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب وہ حیض سے ہوتی ہے، تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ روزے رکھ سکتی ہے؟ عورتوں نے کہا: ہاں، ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا :تو یہ ان کے دین کی کمی ہوئی۔‘‘

حدیث کی اس روایت کے مطابق ’عورتیں دین و عقل میں ناقص ہیں‘ والا جملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ لیکن دارمی کی سنن اور ابن حبان رحمہما اللہ کی صحیح کے مطابق یہ الفاظ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہیں۔ مثلاً ذیل کی روایت۱۵؂ دیکھیے، ہم نے ان مقامات کو خط کھینچ کر نمایاں کردیا ہے:

عن ابن مسعود، عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال للنساء: ’’تصدقن فإنکن أکثر أہل النار‘‘، قالت إمرأۃ، لیست من علیۃ النساء: بم، أو لم؟ قال: ’’إنکن تکثرن اللعن، وتکفرن العشیر‘‘.
قال عبد اللّٰہ: ما من ناقصات العقل والدین أغلب علی الرجال ذوي الأمر علی أمرہم من النساء ، قیل: وما نقصان عقلہا ودینہا؟، قال: أما نقصان عقلہا فإن شہادۃ إمرأتین بشہادۃ رجل، وأما نقصان دینہا فإنہ یأتي علی إحداہن کذا وکذا من یوم لا تصلي فیہ صلٰوۃ واحدۃ.(صحیح ابن حبان، رقم ۳۳۲۳) ۱۶؂

’’عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے گروہ سے فرمایا: اے عورتو، اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو،کیونکہ تم عورتیں زیادہ دوزخ میں جاؤ گی۔ ایک کم حیثیت عورت کھڑی ہوئی اور بولی: یارسول اللہ، ایسا کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو، اور شوہر اور عزیزوں کا کفران نعمت کرتی ہو۔
حضرت عبد اللہ نے کہا: ناقصِ عقل و دین چیز وں میں سے دنیا میں عورتوں سے زیادہ تیزکوئی نہیں ہے، جو صاحبِ عقل و راے مردوں پر غلبہ پا کر ان کے کاموں سے ان کو ہٹا دے۔ تو کہا گیا: عورت کے اس دین و عقل کے نقص سے کیا مراد ہے؟ تو حضرت عبداللہ نے کہا: عقل کے نقص سے مراد یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابرہوتی ہے۔ اور دین کے نقص سے مراد یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک پر بعض دن ایسے بھی آتے ہیں جن دنوں میں وہ ایک نماز بھی نہیں پڑھ سکتیں۔‘‘

شاید بعض راویوں نے اوپر کے متن کے ’قال عبد اللّٰہ‘ (حضرت عبد اللہ نے کہا) کو حکایت کے عام طریقے پر محض ’قال‘( کہا) کردیا ہو گا، جب کہ ان کی نیت میں اس کا فاعل حضرت عبد اللہ ہی ہوں گے۔ لیکن سننے والے راوی نے اس ’قال‘ کی ضمیرِ فاعل کا مرجع (referent) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرار دے دیا ہوگا ، اور اسی فہم کو آگے روایت کردیا گیا ۔ اب حضرت عبداللہ کا یہ جملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا حصہ بن کر قولِ رسول کا درجہ پا گیا ۔ کوئی آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ بات بھی تو ہو سکتی ہے کہ ابن حبان کی اس روایت میں ’قال عبد اللّٰہ‘ کا اضافہ غلط ہو۔ اس صورت میں بھی معاملہ وہی رہا، کیونکہ اگر پہلی روایت کو اصل مانیں تو دوسری میں تصرف ماننا پڑے گا، اور دوسری کو اصل مانیں تو پہلی میں تصرف ماننا پڑے گا۔ لفظی تصرف تو دونوں صورتوں میں وجود پذیر ہوا ہے۔ایک میں قول نبوی صحابی کا قول بنا اور دوسرے میں قولِ صحابی قول نبوی قرار پایا۔
ہمارے پاس اس بات کو ترجیح دینے میں کہ ’ناقصات عقل‘ والا جملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہے، کچھ اور شواہد اور دلائل بھی موجود ہیں۔
۱۔ مسند الحمیدی میں یہ حدیث یوں نقل ہوئی ہے، جس میں عورتوں کے اس سوال کا مخاطب بھی حضرت عبد اللہ ہی کو بنایا گیا ہے۔ جس سے مزید واضح ہو جاتا ہے کہ یہ الفاظ نبی اکرم کے نہیں ہیں:

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’تَصَدَّقْنَ یَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ فِإِنَّکُنَّ أَکْثَرُ أَہْلِ النَّارِ‘‘، فَقَامَتِ امْرَأَۃٌ لَیْسَتْ مِنْ عِلْیَۃِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ’’لِأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ‘‘.
ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: ’’مَا وُجِدَ مِنْ نَاقِصِ الْعَقْلِ وَالدِّیْنِ أَغْلَبَ لِلرِّجَالِ ذَوِي الرَّأْیِ عَلٰی أُمُوْرِہِمْ مِنَ النِّسَاءِ‘‘، قَالَ: فَقِیْلَ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ،۱۷؂ وَمَا نُقْصَانُ عَقْلِہَا وَدِیْنِہَا؟ قَالَ: ’’أَمَّا نُقْصَانُ عَقْلِہَا فَجَعَلَ اللّٰہُ شَہَادَۃَ امْرَأَتَیْنِ بِشَہَادَۃِ رَجُلٍ، وَأَمَّا نُقْصَانُ دِیْنِہَا فَإِنَّہَا تَمْکُثُ کَذَا یَوْمًا لَا تُصَلِّي لِلّٰہِ سَجْدَۃً‘‘.(مسند الحمیدی، رقم ۹۲)۱۸؂

’’عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے گروہ سے فرمایا: اے عورتو، اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو، خواہ اپنے زیورات ہی دینا پڑیں، کیونکہ تم عورتیں زیادہ دوزخ میں جاؤ گی۔ ایک کم حیثیت عورت کھڑی ہوئی اور بولی: یارسول اللہ، ایسا کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو، اور شوہر اور عزیزوں کا کفرانِ نعمت کرتی ہو۔
پھر حضرت عبد اللہ نے کہا: ناقصِ عقل ودین چیزوں میں سے دنیا میں عورتوں سے زیادہ تیزکوئی چیز نہیں ہے، جو صاحب عقل و راے مردوں پر غلبہ پا کر ان کے کاموں سے انھیں غافل کرسکتی ہو۔ تو کہا گیا: اے ابوعبد الرحمٰن: عورت کے اس دین و عقل کے نقص سے کیا مراد ہے؟ تو حضرت عبد اللہ نے کہا: عقل کے نقص سے مراد ایک مرد کی گواہی کے برابر دو عورتوں کی گواہی ہے۔ اور عورت کے دین کے نقص سے مراد یہ ہے کہ وہ بعض دنوں میں نماز کا ایک سجدہ بھی نہیں کرسکتی۔‘‘

۲۔ بعض روایات میں ’قال‘ عبد اللہ کے بجاے صرف ’قال‘ کے الفاظ رہ گئے ہیں، وہ بھی اس بات کا قرینہ ہیں کہ اب بولنے والا تبدیل ہوا ہے، وگرنہ ایک ہی آدمی کی بات میں دوبارہ ’قال‘ بلاوجہ نہیں آسکتا۔ اس ’قال‘ کو ذیل کی روایت میں خط کشیدہ کردیا گیا ہے:

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَوَعَظَہُمْ ثُمَّ قَالَ: ’’یَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ فَإِنَّکُنَّ أَکْثَرُ أَہْلِ النَّارِ‘‘، فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ: وَلِمَ ذَاکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ’’لِکَثْرَۃِ لَعْنِکُنَّ، یَعْنِیْ وَکُفْرِکُنَّ الْعَشِیْرَ‘‘. قَالَ: ’’وَمَا رَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِیْنٍ أَغْلَبَ لِذَوِي الْأَلْبَابِ، وَذَوِي الرَّأْيِ مِنْکُنَّ‘‘، قَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ: وَمَا نُقْصَانُ دِیْنِہَا وَعَقْلِہَا؟ قَالَ: ’’شَہَادَۃُ امْرَأَتَیْنِ مِنْکُنَّ بِشَہَادَۃِ رَجُلٍ، وَنُقْصَانُ دِیْنِکُنَّ، الحَیْضَۃُ، تَمْکُثُ إِحْدَاکُنَّ الثَّلاَثَ وَالْأَرْبَعَ لَا تُصَلِّی‘‘.(سنن الترمذی، رقم ۲۶۱۳)۱۹؂
’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا، انھیں نصیحتیں کیں، پھر فرمایا: اے عورتو، تم اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو، کیونکہ تم دوزخ میں زیادہ جاؤ گی۔عورتوں میں سے ایک بولی: ایسا کیوں ہے یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: تمھاری لعن طعن کی کثرت کی وجہ سے، یعنی شوہر اور اعزہ کی ناشکری کی وجہ سے۔ فرمایا: میں نے ناقصِ عقل و دین چیزوں میں سے تم سے زیادہ صاحب راے و دانش مردوں کی عقل پر چھانے والی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ ان میں سے ایک عورت نے کہا: دین اور عقل کے نقص سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: یہ کہ دو عورتیں گواہی میں ایک مرد کے برابر ہیں، (یہ عقل کی کمی ہوئی)اور دین کی کمی یہ ہے کہ حیض تم سب کو کم از کم تین چار دنوں تک نماز سے روکے رکھتا ہے۔‘‘

چنانچہ پہلے اور دوسرے نکتے کو ملا کربات بہت مضبوط ہو جاتی ہے کہ یہ اضافہ دراصل ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ہے، جسے بعد کے راویوں نے غلط طور پر نبی اکرم سے منسوب کردیا تھا۔
۳۔ بہت سی کتب میں یہ روایت بہت مختصر ہے۔ یعنی انھوں نے عبد اللہ بن مسعود کے کلام والا حصہ نقل نہیں کیا ہے۔ یہ بھی ایک تائیدی اشارہ ہے کہ یہ جملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہے، بلکہ عبداللہ ابن مسعود کا ہے، جو اصل روایت کا حصہ ہی نہیں تھا۔کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ دلیل نہیں ہے، لیکن اوپر کی صریح روایات کے بعد یہ بلاشبہ ایک قوی قرینہ بن جاتا ہے ۔اسی طرح یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس جواب کہ تم خاوند کی ناشکری کرتی ہو، کے بعد مزید سوالات بھی نہیں کیے گئے، بس عورتوں نے خیرات میں زیورات دینے شروع کردیے:

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلٰوۃَ یَوْمَ الْعِیْدِ، فَبَدَأَ بِالصَّلٰوۃَ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ، بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَۃٍ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَکِّءًا عَلٰی بِلاَلٍ، فَأَمَرَ بِتَقْوَی اللّٰہِ، وَحَثَّ عَلٰی طَاعَتِہِ، وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَہُمْ، ثُمَّ مَضٰی حَتّٰی أَتَی النِّسَاءَ، فَوَعَظَہُنَّ وَذَکَّرَہُنَّ، فَقَالَ: ’’تَصَدَّقْنَ، فَإِنَّ أَکْثَرَکُنَّ حَطَبُ جَہَنَّمَ‘‘، فَقَامَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ سِطَۃِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّیْنِ، فَقَالَتْ: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ’’لِأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الشَّکَاۃَ، وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ‘‘، قَالَ: فَجَعَلْنَ یَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِیِّہِنَّ، یُلْقِیْنَ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ مِنْ أَقْرِطَتِہِنَّ وَخَوَاتِمِہِنَّ.(مسلم، رقم۸۸۵)
’’جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک عید پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ نے نماز خطبے سے پہلے پڑھائی، جس کے لیے نہ اذان دی گئی اور نہ اقامت کہی گئی۔پھر آپ بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا، اللہ کی اطاعت پر ابھارا، لوگوں کو نصیحت کی ، اچھی باتوں کی یاددہانی کی، پھر آپ وہاں سے چل دیے اور عورتوں کی جگہ پر آئے، آپ نے انھیں بھی وعظ و نصیحت کی، اور فرمایا: اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو، کیونکہ تم میں سے اکثر دوزخ کا ایندھن بننے والی ہو۔ ایک سیاہ گالوں والی غریب طبقہ کی عورت کھڑی ہوئی اوربولی: کیوں یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا : اس لیے کہ تم شکایات بہت کرتی ہو، اور شوہروں اور اعزہ کی ناشکری کرتی ہو۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ پھر عورتیں اپنے زیورات راہِ خدا میں دینے لگیں اور وہ حضرت بلال کی چادر میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔‘‘

۴۔ میرے ایک سرسری استقصا سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ۲۳۵ ہجری سے پہلے وفات پانے والے محدثین کی کتب میں ان روایات میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بعد میں کہیں اضافہ ہوئے ہیں۔ مثلاً ابو داؤد طیالسی(متوفی ۲۰۴ ھ)۲۰؂ کی مسند، حمیدی (متوفی ۲۱۹ھ)۲۱؂ کی مسند، ابن الجعد (متوفی ۲۳۰ھ)۲۲؂ کی مسند، ابن ابی شیبہ (متوفی ۲۳۵ھ)۲۳؂ کی مصنف، وغیرہ میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں۔لگتا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ آہستہ آہستہ نبی اکرم سے نسبت پا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے سب سے پہلے یہ الفاظ سلمی۲۴؂ (متوفی ۲۳۸ھ) کی کتاب ’’ادب النساء‘‘ میں ملتے ہیں:

وأنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ’’أکثرن من الصدقۃ! فإنکن أکثر أہل النار!‘‘ فقالت إحداہن: ولم یا رسول اللّٰہ؟ قال: ’’إنکن أنکر الناس لنعمتہ! وإني لم أر ناقصات عقلٍ ودین وأصرف لقلوب الرجال ذوي الأحلام منکن!‘‘(۲۷۳)

۵۔ صحیح بخاری کی جو روایت (رقم ۳۰۴) ہم نے اوپربیان کی ہے، اس سے اور اس سے مماثل روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے عورتوں سے الگ سے بات کی، تو یقیناًوہاں سواے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور خواتین کے آپ کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ لیکن سنن ترمذی کی محولہ بالا اس حدیث (رقم ۲۶۱۳) اوردیگر مرد صحابہ سے مروی روایات میں یہ تاثرہوتا ہے کہ عورتوں اور مردوں سے اکٹھے خطاب کیا گیا۔ اس حدیث کو روایت کرنے والے تینوں مرد صحابہ اسے نبی اکرم سے براہ راست بیان کررہے ہیں۔اس لحاظ سے بخاری والی بات ماننے میں ترددپیش آتا ہے، اس لیے کہ اس روایت کو کسی نے حضرت بلال سے یا اپنی ازواج سے روایت نہیں کیا،بلکہ تینوں صحابہ نے براہ راست نبی اکرم سے بیان کیا ہے۔ ممکن ہے یہ بھی ایک تصرف ہو، اور بخاری کی بات ہی درست ہو۔ اگر بخاری کی بات درست ہے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ یا سیدنا بلال سے یا خواتین سے یہ روایت ہم تک پہنچی ہو گی۔دوسری صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ ابو سعید خدری، جابر بن عبد اللہ ، ابو ہریرہ، اور عبد اللہ ابن مسعود بھی خواتین کے پنڈال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔لگتا یہ ہے کہ یہ روایت اصلًا خانوادہ (family) ابن مسعود سے ہم تک پہنچی ہے۔ ان کی اہلیہ رضی اللہ عنہا، اس مجلس میں موجود تھیں۲۵؂ (بخاری، رقم ۱۴۶۶)، انھوں نے اپنے زیور کا صدقہ کرنا چاہا تھا۔ جس میں پھر وہ سوال اٹھا تھا کہ آیا وہ اپنے میاں اور یتیم بھتیجے جو انھوں نے پالنے کے لیے گود لیے ہیں، کیا ان پر خرچ کرسکتی ہیں؟
میرے استقصا کی حد تک حضرت زینب، یعنی زوجہ عبد اللہ ابن مسعود نے ناقصاتِ عقل والا جملہ نقل ہی نہیں کیا، جو براہ راست اس واقعہ کی شاہد تھیں۔ صحیح بخاری ومسلم کی مذکورہ بالا روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شایدنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ و خیرات پر ابھارنے کی یہ بات حضرت زینب ہی کو دیکھ کر شروع کی تھی، کیونکہ آپ صاحبِ ثروت خاتون تھیں۔اس لیے اگر وہ ناقصاتِ عقل والی بات کسی روایت میں نہیں بتاتیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بات نبی پاک نے کی ہی نہیں۔
۶۔ناقصاتِ عقل و دین کی توضیح والا جملہ سیاق و سباق سے میل نہیں کھاتا۔ جب عورت کی تخلیق ہی اس طرح سے ہوئی ہے کہ وہ عقل میں ناقص ہے۔ وہ اس پیدایشی نقص کے سبب سے مرد کی عقل پر اثرانداز ہوتی ہے تو اس کا تو قصور ہی نہ ہوا، اس لیے کہ اس کا یہ پیدایشی نقص اس کے لیے عذر ہے۔اسے ایک چیز کی سمجھ ہی نہیں ہے ، تو وہ مجرم کس طرح سے ہوئی۔جرم تو تب تھا کہ وہ مکمل عقل و شعور کی مالک ہونے کے بعد ایسا کرتی۔ اس لیے دوزخ میں عورتوں کے زیادہ ہونے کی وجہ ناقابل فہم ہے۔
یہ بات دین کے مسلمہ اصولوں اور قرآن و سنت کے قطعی نصوص (verses) کے بھی خلاف ہے کہ مکلف کم عقل ہو ،پھر بھی اسے سزا ملے۔۲۶؂ سب سے بڑا جرم جس پر ایک عورت مرد کو ابھار سکتی ہے، وہ زنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے عورتوں کو رجم بھی کیا ہے؟ قرآن مجید نے بھی ایک ہی سانس میں دونوں کو برابر قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ دونوں کے بارے میں کوئی نرمی اللہ کے دین میں نہیں ہے: ’اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ‘ (النور ۲۴: ۲)۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت جب وہ کسی مرد کی عقل پر حاوی ہوتی ہیں، تو ناقص عقل ہیں، لیکن جب سزا کا موقع آئے تو انھیں وہی سزا ملے ،جو کامل عقل والے کو ملتی ہے!! اس کا کوئی اثر سزا میں ظاہر نہ ہو ، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ قرآن کے اس بیان اور عورت کو رجم کرنے کے عملِ نبوی سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اسلام نے مرد و عورت کو عقل میں برابر مانا ہے، اگر عقل و دانش میں کم مانا ہوتا تو اسلام عورت کے ساتھ مختلف معاملہ کرتا، کیونکہ اس حدیث کے مطابق وہ عقل کی کمی کی وجہ سے معذور تھی۔
واضح رہے کہ غلام عورت کو زنا کی آدھی سزا دی گئی ہے، اس لیے کہ معاشرے میں اس کے مقام کی وجہ سے اسے اس درجہ کا احصان۲۷؂ وتحفظ حاصل نہیں تھا جو آزاد عورت کو حاصل تھا۔ لہٰذا اس کی سزا تو کم ہو گئی، لیکن ایک عورت جو خدا کی طرف سے تھی ہی ناقصِ عقل ، اسے بعض چیزیں سمجھ ہی نہیں آسکتیں تو اس کی سزا کم کیوں نہ ہوئی؟ حد یہ ہے کہ تمام جرائم میں عورت کو مرد کے برابر سزا دی گئی ہے۔ مثلاً چوری کی سزا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے فاطمہ نامی عورت کے ہاتھ بھی کاٹے ہیں۔ کیوں یہ بات اس وقت پیش نظر نہ رہی کہ وہ ناقص العقل ہے!
دین کے تمام احکام سے ثابت ہے کہ عورت مرد ہی کی طرح دین کی پوری پوری مکلف ہے۔ مثلاًدونوں ارتکابِ شرک پر دوزخ میں جائیں گے، اگر عورت کم عقل ہے تو اسے تو سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ شرک کیا ہے اور کیا نہیں ہے، پھر سزا کس بات کی؟ وغیرہ۔ لہٰذا حدیث کے متن پر یہ اضافہ دین کی باقی تمام تعلیمات کی نفی کرتا ہے۔جن کا مدارقطعی نصوص پر ہے۔ لہٰذا ادرست بات یہ ہے کہ ان کے زیادہ دوزخ میں جانے کا سبب یہی ہوناچاہیے کہ ان کو عقل و شعور تو پورا پورا ہے، لیکن اس کے ہوتے ہوئے وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ گناہ کرتی ہیں اور ان کی عقل پر حاوی ہو کر ان کو گناہوں پر ابھارتی ہیں۔
۶۔ جس نقص دین و عقل کی بات اس روایت میں کی گئی ہے، وہ نقص کہلانے کا موجب نہیں ہے۔ حیض کے دنوں میں نماز نہ پڑھنا اور گواہی کا آدھا ہونا،۲۸؂ کسی طرح نقص بمعنی خطا نہیں ہے۔ خود صانع فطرت نے جس چیز کو جیسا تخلیق کیا ہو، وہ نہ نقص ہے اور نہ دوش دیے جانے کا سبب۔
خود شریعت یا صانعِ فطرت نے جس چیز کو مقر ریا تخلیق کیا ہو، وہ نقص موجبِ سزا نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک گونگے آدمی کو اس بات پر کافرنہیں کہا جاسکتا کہ وہ تصدیق باللسان نہیں کرسکتا ۔عورتوں کے لیے دین ہی یہ ہے کہ وہ ان دنوں میں نماز نہ پڑھیں۔ ان کا ایسا کرنا ہی کامل اطاعتِ الٰہی ہے۔ وہ عورت تو ناقص دین ہے، جو طہرکے دنوں میں نماز نہ پڑھے۔ لیکن وہ عورت ناقص دین کیسے ہو سکتی ہے، جو خدا کے حکم ہی کی وجہ سے چند مخصوص دنوں میں نماز نہ پڑھے۔ لہٰذا یہ تبصرہ بھی برمحل نہیں ہے۔عقل و دین میں ناقص ہونا، رعایت کی وجہ تو ہوسکتا ہے، دوزخی ہونے کی وجہ نہیں ہو سکتا۔
۷۔ اسی طرح جن نقائص کا ذکر ہوا ہے، وہ کسی کی عقل کی کمی پر کیسے دلالت کرتا ہے ؟ کیا حیض میں نماز نہ پڑھنے سے عقل متاثر ہوتی ہے یا گواہی آدھی ہونے سے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی۲۹؂ کی گواہی کو دو آدمیوں کے برابر قرار دیا تھا، تو کیا (استغفراللہ ، صرف بات سمجھانے کے لیے عرض کررہا ہوں) باقی تمام صحابہ ابو بکر و عمر، بلکہ خلفاے راشدہ سمیت سب صحابہ نعوذ باللہ ان کے مقابلے میں ناقص العقل تھے؟ ابو بکر کی صدیقیت، عمر کی فاروقیت، عثمان کی حیا ، علی کی قضا، ابن مسعود کی قرآنیت، عبیدہ بن الجراح کی امانۃ الأمۃ، — رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ — وغیرہ ان دو گواہیوں والے ایک صحابی کے مقابلے میں کیا ٹھہریں گے! گواہی کے کم یا زیادہ ہونے کا کوئی تعلق عقل و بصیرت سے نہیں ہے۔ ساری امت جانتی ہے کہ ان دو گواہیوں والے صحابی حضرت خزیمہ کے مقابلے میں خلفاے راشدہ — رضوان اللہ علیہم اجمعین — کا مقام و مرتبہ زیادہ ہے، حالاں کہ ان سب کی گواہی خزیمہ کے مقابلے میں آدھی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید نے بھی گواہی کی بنیاد عقل کی کمی بیشی پر نہیں رکھی، بلکہ عدالت۳۰؂ اور بھول چوک (خطا وغیرہ)سے مبرا ہونے ۳۱؂ پر رکھی ہے تاکہ گواہی میں شبہات نہ رہیں۔ یہ دونوں امور ایسے ہیں کہ مرد و عورت برابر ہیں۔
________

* اس مضمون کی پہلی قسط ’’متن حدیث میں علما کے تصرفات‘‘ کے زیر عنوان جولائی ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہو چکی ہے۔

۱؂ مثلاً امام غزالی جیسے مؤثر ترین عالم کی مشہور کتاب ’’احیاء علوم الدین‘‘ ضعیف احادیث سے بھری پڑی ہے، دین و طریقت کے کئی اسباق اس کتاب میں ایسی ہی احادیث سے مستفاد (derived) ہیں، جن کا امت مسلمہ میں عام چلن ہے۔
۲؂ اس کے معنی یہ ہیں کہ نبی اکرم کی بات آپ ہی کے الفاظ میں بیان نہیں کی گئی، بلکہ آپ کے فرمان سے جو سمجھا گیا، اسے اپنے الفاظ میں یا قریب قریب نبی اکرم کے الفاظ ہی میں تھوڑے ردو بدل سے بیان کیا گیا۔جمہور نے اسے جائز سمجھا ہے:

رأی الجمہور علی أن الروایۃ بالمعنی جائزۃ وقد دلل ابن رجب علی جوازہا بأقوال بعض الصحابۃ والتابعین، وعلماء الحدیث المتقدمین، وبأن اللّٰہ یقص قصص القرون السالفۃ بغیر لغاتہا، وقد قید العلماء ہذا الجواز فاشترطوا فیمن یروي الحدیث بالمعنی أن یکون عارفًا بمواقع الألفاظ، بصیرًا بدلالاتہا، حتی لا یحیل الحلال حرامًا، أو یضع الدلیل في غیر مکانہ.(شرح علل الترمذی ۱/ ۱۱۶)
’’جمہور کی راے یہ ہے کہ روایت بالمعنیٰ جائز ہے، اور ابن رجب نے اس کے جواز پر دلائل بھی فراہم کیے ہیں، جن میں اقوال صحابہ و تابعین، متقدم محدثین اوراللہ تعالیٰ کا یہ عمل کہ قدیم اقوام کے قصص کو ان کے غیر زبان میں بیان کیا ہے۔ علما نے اس پر کچھ شرائط عائد کیے ہیں کہ اس طریقے سے روایت کرنے والا الفاظ کے مواقع استعمال سے واقف ہو، ان کی دلالتوں سے واقف ہو، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حلال کو حرام بنادے یا دلیل کو غلط جگہ رکھ دے۔‘‘

۳؂ ’وقد روٰی کثیر من الناس الحدیث بمعنی فہموہ منہ، فغیروا المعنی‘، ’’بہتوں نے حدیث کو بالمعنیٰ روایت کیا تو انھوں نے اسے سمجھا اور مفہوم بدل دیا‘‘ (شرح علل الترمذی، ابن رجب ۱/ ۱۱۶)
۴؂ To narrate or report۔
۵؂ To put forth a verse as an evidence۔
۶؂ جس کی عبارت تحریر میں آکر ابھی محفوظ نہ ہوئی ہو (unwritten)۔
۷؂ To attribute a statement to somebody۔
۸؂ ’من کذب علي متعمدًا، فلیتبوأ مقعدہ من النار‘، ’’جس نے عمداً میرے نام سے جھوٹی بات سنائی، تو وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانا بنا لے‘‘ (ابن ماجہ رقم ۳۰) ۔
۹؂ Narrators of hadiths۔
۱۰؂ علامہ ابن کثیر اپنی کتاب ’’اختصار علوم الحدیث‘‘ میں فرماتے ہیں:

وأما روایتہ الحدیث بالمعنی: فإن کان الراوي غیر عالم ولا عارف بما یحیل المعنی: فلا خلاف أنہ لا تجوز لہ روایتہ الحدیث بہذہ الصفۃ. وأما إذا کان عالمًا بذلک، بصیرًا بالألفاظ ومدلولاتہا، وبالمترادف من الألفاظ ونحو ذلک: فقد جوز ذلک جمہور الناس سلفًا وخلفًا وعلیہ العمل، کما ہو المشاہد في الأحادیث الصحاح وغیرہا، فإن الواقعۃ تکون واحدۃ، وتجيء بألفاظ متعددۃ، من وجوہ مختلفۃ متباینۃ. ولما کان ہذا قد یوقع في تغییر بعض الأحادیث، منع من الروایۃ بالمعنی طائفۃ آخرون من المحدثین والفقہاء الأصولیین، وشددوا في ذلک آکد التشدید. وکان ینبغي أن یکون ہذا ہو الواقع، ولکن لم یتفق ذلک.(اختصارعلوم الحدیث ۱۴۱)
’’جہاں تک روایت بالمعنیٰ کا تعلق ہے تو اگر راوی ان باتوں سے واقف و آگاہ نہ ہو، جو معنی میں تغیر کردیتی ہیں تواس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ اس وصف والی، یعنی بالمعنیٰ روایت جائز نہیں ہے۔ اور اگر وہ ان امور سے واقف ہو: الفاظ اور ان کے مدلول کی بصیرت کا حامل ہو، اور الفاظ کے مترادفات وغیرہ سے واقف ہو توجمہور نے سلف و خلف میں اسے جائز قرار دیا ہے، اور اسی پر عمل ہے، صحیح احادیث میں بھی یہی معاملہ نظر آتا ہے، چنانچہ (ہم دیکھتے ہیں کہ)ایک ہی واقعہ ہوتا ہے، جو مختلف الفاظ اور مختلف رنگ سے بیان ہورہا ہوتا ہے۔ چونکہ یہ (روایت بالمعنیٰ) حدیث میں تغیر کا باعث ہوتا ہے، اس لیے بعض محدثین اور اصولی فقہا نے روایت بالمعنیٰ کو ممنوع قرار دیاہے، اور بہت سختی برتی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا، لیکن اس پر اتفاق نہیں ہو سکا۔‘‘

۱۱؂ اسی طرح قرآن مجید اور حدیث کے فہم اور شرح و تفسیر میں بھی قدیم ذہنی سانچہ ایک کردار ادا کرتا رہا ہے۔ قرآن و حدیث کی بہت سی بحثیں اسی قدیم ذہنی سانچے کے تحت تشریح کے بعد آج، اپنی تمام تر علمی عظمت کے باوجود، پوری طرح قابلِ فہم نہیں رہیں۔ان کو از سر نوسمجھنا ہے، اللہ اور رسول کی تعلیمات وقت کے دائرے میں بند نہیں ہوتیں، لیکن یہ ہماری تشریحات ہیں جویہ نقص ان میں پیدا کردیتی ہیں۔(مثلاً زمین کا ساکن ہونا وغیرہ قرآن وحدیث میں کہیں بیان نہیں ہوا، مگر ہم اسے قرآن و حدیث ہی کی روشنی میں مانتے رہے ہیں)۔
۱۲؂ اسلام کی تعلیمات آفاقی، یعنی ہر عہد کے لیے ہیں۔لیکن یہ بات بھی واضح رہے کہ قرآن و حدیث کے بہت سے مقامات ایسے بھی ہیں جو عہد نبوی سے متعلق تھے۔ مثلاً قرآن مجید میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چار سے زیادہ شادیوں کی اجازت، سورۂ توبہ کی براء ت: چار ماہ کی مہلت اور اس کے بعد دارو گیر کا حکم، سورۂ توبہ کا عہد برائے مشرکین، سورۃ النصر کی فتح و نصرت کی بشارتیں، اور خاص آپ سے مخاطبت کی آیات وغیرہ عہد نبوی سے کاملاً متعلق ہیں۔آج کے لیے، مثلاً ہمیں اس کی ضرورت پیغمبر اسلام کی دعوت و انذار کے سمجھنے اور رسالت کے باب میں سنت الٰہی کے فہم کے لیے تو نہایت ضروری ہے، لیکن اس میں ہمارے لیے کوئی شریعت نہیں ہے۔ مثلاً اب کون ہے جس کو چار سے زیادہ شادیوں کی اجازت ہو، اور کون ہے، جسے چار ماہ کی مہلت کے بعد والی وارننگ دی جائے گی، اور یہ حکم کس کے لیے ہے کہ جب فتح مکہ ہو اور لوگ جوق درجوق دائرۂ اسلام میں داخل ہوں تو وہ تسبیح و استغفار کرے وغیرہ۔ ایسی چیزوں کے سوا قرآن کا باقی تمام تر حصہ اپنی تعلیمات کے اعتبار سے ابدی ہے اور ہرہر زمانے کے اہل ایمان اس کے مکلف ہیں۔حقیقت میں دیکھا جائے تو بادشاہِ کائنات کا حکم نامہ ہونے کی وجہ سے غیر مسلم بھی اس کے مکلف ہیں۔
ٹھیک ایسا ہی معاملہ احادیث کا ہے۔اس کے بہت سے متون دور نبوی سے متعلق ہیں، جیسے ’أمرت أن أقاتل الناس حتی یقول لا إلہ إلا اللّٰہ‘ یا جیسے منافقین کی بعض نشانیاں یا جیسے مغازی اورمشرکین عرب کے بارے میں آپ کے بیانات، جیسے صلح حدیبیہ کا معاہدہ اور قریش سے آپ کے مکالمات، بیعت رضوان میں آپ کے کلمات وغیرہ۔ اس طرح کی چیزوں کے سوا بہت سی چیزیں آج کے لیے بھی ہیں، پرانے زمانوں کے لیے بھی تھیں، جیسے خطبہ حجۃ الوداع کی تعلیمات وغیرہ۔اسی طرح یہ بات بھی واضح رہے کہ رسول کا اندازِ بیان اور استدلال اپنے پہلے مخاطبین کے لحاظ سے ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ انھی کی زبان میں کلام کرتا ہے وغیرہ۔
۱۳؂ الجن ۷۲: ۲۷۔۲۸۔
۱۴؂ مثلاً، دیکھیے المناوی کی شرح نخبۃ الفکر، الیواقیت والدرر، ناشر مکتبۃ الرشد، ۲/ ۴۰۳۔
۱۵؂ صحیح ابن حبان (متوفی ۳۵۴ھ) کے علاوہ مسند ابی یعلیٰ (متوفی ۳۰۷ھ) اور الإیمان للعدنی (متوفی ۲۴۳ھ)۔ مسند الحمیدی، رقم ۹۲ میں بھی ان الفاظ کی نسبت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے۔
۱۶؂ ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے، لیکن اس کے راویوں میں وائل بن مہانۃ کو بہت سے محدثین نے غیر ثقہ قرار دیا ہے، البتہ حاکم صاحب المستدرک اور ذہبی نے اسے شیخین کے درجے کا راوی قراردیا ہے، مستدرک حاکم کی روایت رقم۲۷۷۲، اور ۸۷۸۳۔ پر مستدرک کی تلخیص میں ذہبی نے تعلیق دی ہے کہ ’علی شرط البخاري ومسلم‘۔حالاں کہ ان روایتوں میں بھی وائل بن مہانۃ موجود ہے۔
۱۷؂ ابو عبد الرحمن، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
۱۸؂ ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت مسند حمیدی اور مسند الحارث میں آئی ہے ، البتہ اسی سند کے ساتھ یہ عبداللہ کے الفاظ کے بغیر مسند احمدمیں بھی آئی ہے۔ اس سلسلۂ سند کو ابن حبان، ذہبی اور حاکم صاحب مستدرک نے صحیح قرار دیا ہے ۔مسند احمد، رقم ۳۵۶۹ پر شیخ شعیب الارنؤوط نے اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ ویسے بھی صحیح ابن حبان (متوفی ۳۵۴ھ) کے علاوہ مسند ابی یعلیٰ (متوفی ۳۰۷ھ) اور الإیمان للعدنی (متوفی ۲۴۳ھ) سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے کہ یہ عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ ہی کے الفاظ ہیں، اور وہی ان کے مخاطب بھی بنے۔
۱۹؂ الالبانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے: صحیح، الإرواء (۱/ ۲۰۵)، الظلال (۹۵۶)۔ اس طرح کی روایت ابن مندہ کی الإیمان رقم۶۶۷میں بھی آئی ہے۔
۲۰؂ ابو داؤد سلیمان بن داؤد بن الجارود طیالسی بصری ۔
۲۱؂ ابو بکر عبد اللہ بن الزبیر بن عیسیٰ بن عبید اللہ قرشی حمیدی مکی۔
۲۲؂ علی بن الجَعْد بن عبیدجَوْہری بغدادی ۔
۲۳؂ ابو بکر بن ابی شیبہ، عبد اللہ بن محمد بن ابراہیم بن عثمان بن خواستی عبسی ۔
۲۴؂ ابو مروان عبد الملک بن حَبِیب بن حبیب بن سلیمان بن ہارون سلمی قرطبی۔
۲۵؂ مکمل حدیث یوں ہے: ’عَنْ زَیْنَبَ امْرَأَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ ۔ بِمِثْلِہِ سَوَاءً ۔ قَالَتْ: کُنْتُ فِي المَسْجِدِ، فَرَأَیْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ’’تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ‘‘ وَکَانَتْ زَیْنَبُ تُنْفِقُ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ، وَأَیْتَامٍ فِيْ حَجْرِہَا، قَالَ: فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللّٰہِ: سَلْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیَجْزِيْ عَنِّيْ أَنْ أُنْفِقَ عَلَیْکَ وَعَلٰی أَیْتَامٍ فِيْ حَجْرِيْ مِنَ الصَّدَقَۃِ؟ فَقَالَ: سَلِيْ أَنْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ امْرَأَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَی الْبَابِ، حَاجَتُہَا مِثْلُ حَاجَتِيْ، فَمَرَّ عَلَیْنَا بِلاَلٌ، فَقُلْنَا: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیَجْزِيْ عَنِّيْ أَنْ أُنْفِقَ عَلٰی زَوْجِي، وَأَیْتَامٍ لِيْ فِيْ حَجْرِي؟ وَقُلْنَا: لاَ تُخْبِرْ بِنَا، فَدَخَلَ فَسَأَلَہُ، فَقَالَ: مَنْ ہُمَا؟ قَالَ: زَیْنَبُ، قَالَ: ’’أَيُّ الزَّیَانِبِ؟‘‘ قَالَ: امْرَأَۃُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: ’’نَعَمْ، لَہَا أَجْرَانِ، أَجْرُ القَرَابَۃِ وَأَجْرُ الصَّدَقَۃِ‘ ‘‘۔
۲۶؂ مثلاً ’لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا‘ (البقرہ ۲: ۲۸۶)، اور ’رفع القلم عن ثلاثۃ: عن النائم حتی یستیقظ، وعن الصغیر حتی یکبر، وعن المجنون حتی یعقل أو یفیق‘ (سنن ابن ماجہ، رقم ۲۰۴۱) جیسے اصول یہ بتاتے ہیں کہ انسان کو اس کی عقل و ہمت اور قوت کے لحاظ سے مکلف بنایا گیا ہے، اور تین لوگوں پر شریعت کی کوئی گرفت نہیں، جن میں بچے،سوئے شخص اور مجنون کو شامل کیا گیا ہے، یہ وہ تینوں حالتیں ہیں جب آدمی عقل وشعور سے عاری ہوتا ہے۔ یہ شان دار اصول دینے والا دین ’’بے عقل عورتوں‘‘ کو حدو دو تعزیرات میں عقل کے نقص کے باوجود برابر کی سزا دے، اور مزید ظلم یہ ہو کہ دوزخ میں اس قدرتی نقص — جو اللہ نے ان میں رکھا ہے جس میں ان کا کوئی اختیار نہیں — کی وجہ سے زیادہ ڈالی جائیں۔
۲۷؂ Protection and inaccessibility، آزاد و غلام کے اس فرق کی وجہ غالباً یہ تھی کہ خاندانی ہونے یا معاشرے میں خاوند، والد ، چچا تایا کی موجودگی کی وجہ سے آزاد عورت کو معاشرے میں عزت کا مقام حاصل تھا، آزادعورت کے ساتھ ان سب لوگوں کی غیرت وابستہ ہوتی تھی، یہ غیرت جسے عرب ’حفیظۃ‘ کہتے تھے عورت کے تحفظ کی ضامن تھی، جب کہ لونڈیوں کے لیے ایسا نہیں تھا، نہ معاشرے میں ان کا آزاد عزیز موجود ہوتا نہ ان کے ساتھ کسی کی غیرت وابستہ ہوتی، اور نہ ان کو اس ضمن میں تحفظ حاصل ہوتا۔ لہٰذا وہ معاشرے سے حاصل حصانت کے بل پر کسی کو دست درازی سے روک نہ پاتی تھیں۔اسلام نے یہ تحفظ بعد میں ان غلام عورتوں کو بھی حکومت اورقانون سازی کے ذریعے سے فراہم کیا۔
۲۸؂ واضح رہے کہ استاذ گرامی کے نزدیک عورت کی گواہی کی صورت وہ نہیں ہے ،جو بالعموم مانی جاتی ہے۔تفصیل کے لیے استاذ گرامی کی میزان: قانون معیشت / تحریر و شہادت، دیکھی جاسکتی ہے۔
۲۹؂ ’خُزَیْمَۃ فہو بن ثابت ذو الشہادتین‘ ’’خزیمہ جو ثابت کے بیٹے ہیں،جن کی گواہی دو کے برابر ہے‘‘ (فتح الباری ۹/ ۱۵)۔
۳۰؂ ’وَاَشْہِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ‘، ’’اور اپنے لوگوں میں سے دو عادل لوگوں کو گواہ بناؤ‘‘ (الطلاق ۶۵: ۲)۔ اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ دو زیادہ سیانے لوگوں کو گواہ بناؤ۔
۳۱؂ اسی مقصد کے لیے دو اور چار کی تعداد مقرر کی، وگرنہ ایک مرد بھی کافی ہو سکتا تھا۔ عورتوں کے باب میں بھی دو کا مطالبہ اسی اصول پر ہوا ہے، یعنی شبہ زائل ہو۔ ارشاد ہے:

وَامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰہُمَا فَتُذَکِّرَ. (البقرہ ۲: ۲۸۲)
’’اور دو عورتیں، جن کو تم گواہی کے لیے پسند کرو تاکہ ایک گڑبڑا جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔‘‘

اسی مقصد کے لیے تحریر لکھنے کا حکم دیا کیونکہ: ’وَاَقْوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَاَدْنآی اَلَّا تَرْتَابُوْٓا‘، ’’وہ گواہی کو زیادہ صحیح رکھنے والی اور شکوک و شبہات سے زیادہ بچانے والی ہے‘‘۔ظاہر ہے تحریر کے سیانا اور عقل مند ہونے کا سوال ہی نہیں ہے۔

متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۲) (2/3)

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List