Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Administrator Profile

Administrator

  [email protected]
Author's Bio
Humble slave of Allah!!!
Visit Profile
ماہنامہ ’’اشراق‘‘ ممبئی (انڈیا) کے ابتدائی شمارے کا اداریہ | اشراق
Font size +/-

ماہنامہ ’’اشراق‘‘ ممبئی (انڈیا) کے ابتدائی شمارے کا اداریہ

محمد ذکوان ندوی


قارئین محترم!
الحمدللہ، المورد، ہند (ممبئی) کی جانب سے شائع ہونے والے ماہ نامہ’ ’اشراق‘ ‘ کا پہلا شمارہ (نومبر ۲۰۱۷ء) شائع ہو چکا ہے۔ المورد ایک علمی، دعوتی اور تعلیمی ادارہ ہے۔اِ س کا مقصداسلام میں ہرگز کسی نئے گروہ اور کسی نئے ’مذہبی تحزب‘ کا اضافہ کرنا نہیں۔ المورد کا اولین ہدف ’تفقہ في الدین‘ کے عمل کو مطلوب نہج پر قائم کرنا ہے تاکہ امت کے درمیان فرقہ دارانہ تعصبات، گروہی عصبیت ، متشددانہ سرگرمی اور سیاست کی حریفانہ کش مکش سے الگ رہ کر، خالص قرآن و سنت کی اساس پر دین حق کی دعوت کا فروغ اور اُس کا اِحیا ممکن ہو سکے۔ چنانچہ اِس ادارے کا بنیادی مقصد ہے تمام ممکن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی علوم سے متعلق علمی اور تحقیقی کام، پرامن انداز میں وسیع پیمانے پر اُس کی نشر واشاعت اور اُس کے مطابق، لوگوں کی تعلیم وتربیت کا اہتمام۔

________

ادارہ المورد کے سرپرست معروف اسلامی اسکالر استاذ جاوید احمد غامدی ہیں۔راقم،استاذ کے تلامذہ ومستفیدین میں سے ہے۔استاذِ محترم نے میری کسی طلب اور درخواست کے بغیر اپنی صواب دید سے بہ طورِ خود راقم کوماہ نامہ اشراق، ہند کا مدیر مقرر کیا ہے۔جولائی ۲۰۱۷ء میں، جب کہ میں دبئی میں تھا، المورد ، ہندکی طرف سے ایک فون اور پھر ایک خط کے ذریعے سے مجھ کو اِ س فیصلے کی اطلاع دی گئی۔
تاہم میں نے المورد کے ذمے داروں سے کہا کہ ابھی میں اِس سلسلے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ استخارہ ومشورے کے بعد ہی شاید میں کوئی فیصلہ کر سکوں۔ اِسی حال میں وقت گزرتا گیا۔بالآخر، المورد ، ہند کے ایک رفیق نے اِ س سکوت کو توڑ کر مجھے اِس کے لیے رضامندہونے پرمجبور کردیا۔ انھوں نے کہا — ’اشراق‘، ہند کا پہلا شمارہ نومبر ۲۰۱۷ء میں شائع ہو گا۔آپ کو تین دن کے اندر اُس کا اداریہ لکھ کر دینا ہے!
تاہم مجھ جیسے آدمی کے لیے یہ خبر ایک دھماکے سے کم نہ تھی۔بالآخر میں نے کسی طرح اپنے آپ کو سنبھالا اور اپنی تمام تر نااہلی اور بے بضاعتی کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا اور علمی و دعوتی ارتقا کے جذبے کے تحت اِس ذمے داری کو اٹھانے کے لیے تیار ہوگیا۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، حدیث کے الفاظ میں، یہ سب کچھ کسی ’اِشرافِ نفس‘ کے بغیر پیش آیا تھا، اِس لیے مجھے یہ خدا کی طرف سے ہونے والا ایک معاملہ نظر آیا؛ چنانچہ استخارہ و مشورہ اورغوروفکر کے بعد اِس پر انشراح ہو گیا۔ مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ علمی اور دعوتی مصروفیت ہمارے لیے ’خیرکثیر‘ کا ذریعہ ثابت ہوگی۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ اِس کام کو قبول کرے، اِس میں برکت دے اور اِس کے لیے علم وعمل کی مطلوب صلاحیت سے بہرہ ورفرمائے۔مجھے یقین ہے کہ جس طرح خدا نے ہمارے لیے اِس کام کا انتخاب فرمایا ہے، اُسی طرح اپنے فضل و رحمت سے وہ ضرور ہمارے عجز کی تلافی کا سامان پیدا کرے گا، اور مطلوب صلاحیت اور توفیق کے دروازے بھی وہ ہمارے لیے پوری طرح کھول دے گا۔خداوند ذوالجلال کی ذات سے یہی امید اور یقین اِس عاجز کا واحد سرمایہ ہے:

شاہاں چہ عجب، گر بنوازند گدا را

________

اپنے فکری اور دعوتی پس منظر کی بنا پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ المورد سے اپنے تعلق کا کچھ تذکرہ بھییہاں شامل کر دیا جائے۔یہ اگر چہ علمی اور فکری سفر کی ایک طویل داستان ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ اُس کے بیان کا محل نہیں۔ تاہم اِسے مختصراً ذکرکردینے کا موقع شاید یہی ہے:

پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے، نہ رہے

میری پیدایش ۱۹۷۵ء میں مشرقی یوپی (ہند)کے ایک شہر بہرائچ میں ہوئی۔میں نے عربی تعلیم محسنِ علمی دارالعلوم ندوۃ العلما، لکھنؤ میں حاصل کی۔اِس تعلیمی پس منظر کے بغیر شاید دین کا طالب علم بننا میرے لیے کسی بھی طرح ممکن نہ تھا۔ خدا کا فضل ہے کہ تعلیم کے دوران مسلسل طورپر مجھ کو جن حضرات کی سرپرستی اور رہنمائی حاصل رہی، اُن میں مولانا ابوالحسن علی ندوی (وفات:۱۹۹۹ء)، ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی(وفات:۲۰۰۶ء)،مولانامحمد رابع حسنی ، مولانا واضح رشید ندوی اور ڈاکٹر سعیدالرحمان الاعظمی نمایاں طورپر قابلِ ذکر ہیں۔اِس موقع پر میرا دل اپنے تمام اساتذہ و محسنین کے لیے شکرو امتنان اور دعا و اعتراف کے جذبات سے لبریز ہے۔
اپنے طالب علمانہ ذوق کی بنا پر ابتدا ہی سے میں ایک متلاشی (seeker) انسان رہا ہوں۔ ’تراشیدم، پرستیدم، شکستم‘ کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد خالص ایک علمی اسکول کے طورپر فراہی اسکول سے میرا تعارف ہوا۔ فراہی اسکول امت کی علمی تاریخ میں اِس اصول پر کھڑا ہے کہ — لفظ سے معنی پر صحیح استدلال کیا جائے، یعنی ’’تدبرقرآن‘‘ کے باب میں، دوسرے معاون علوم کے علاوہ، بنیادی طورپر اولین حیثیت قرآن کے متن کو دی جائے اور اِ س کے لیے قرآن مجید کی زبان وبیان اور اُس کے اسلوب پر اِس طرح عبور حاصل کیا جائے کہ قرآن کے اصل مدعا تک پہنچنے میں ، کم از کم اُس کی زبان آدمی کی راہ میں حائل نہ ہوسکے۔
مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ اِس وقت جاوید احمد غامدی (مقیم ملائشیا) فراہی اسکول کے ایک ممتازعالم ہیں۔ چنانچہ میں نے اُن کی تقریروتحریرسے استفادہ شروع کردیا۔یہ سلسلہ جاری رہا۔بالآ خر ۲۰۱۴ء میں بذریعہ فون میری اُن سے براہِ راست گفتگو ہوئی۔ گفتگوکے دوران میں نے کہا کہ فہمِ قرآن کے باب میں،میں آپ سے استفادہ کرنا چاہتا ہوں۔انھوں نے انتہائی خندہ پیشانی کے ساتھ نہ صرف اِ س کی اجازت دی ، بلکہ فرمایا کہ: آپ کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں ہے۔آپ جس وقت چاہیں، میں اِس خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ اب تک کے اپنے مطالعے کے مطابق، قرآنیات کے باب میں، میں آپ کو فراہی اسکول کا سب سے بڑا عالم سمجھتا ہوں۔ میری بات سن کر استاذ نے کہا — اگر آپ پہلے ہی دن سے مجھ کو اِس مقام پر فائز کردیں گے تو آپ کا علمی ارتقا رک جائے گا۔بہتر ہوگا کہ آپ یہ طے کریں کہ ہم اور آپ، دونوں طالب علم ہیں۔کچھ ہم آپ سے سیکھیں گے اور کچھ آپ مجھ سے۔انھوں نے مزید کہا کہ علم ایک لامحدود چیز ہے۔اِس میں کبھی کسی شخص کو ’عقلِ کُل‘ کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ علم ایک لامتناہی سفر ہے۔ موت تک حصولِ علم کا یہ سفر مسلسل طورپر جاری رہتا ہے۔
استاذ جاوید احمد غامدی کے اِس علمی اپروچ نے مجھ کو گہرے طورپر متاثر کیا۔تاہم، بر سبیلِ تذکرہ، یہاں میں یہ عرض کروں گا کہ، اپنے مزاج کے مطابق، اُن کے علم سے زیادہ جس چیز نے مجھے متاثر کیا ، وہ اُن کا حسنِ طبیعت اور اُن کا حسنِ اخلاق ہے۔یہ بات میں اپنے براہِ راست ذاتی تجربات (جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں)کی بنا پر کہہ رہا ہوں: ولا أزکّي علی اللّٰہ أحدا۔
استاذجاوید احمد غامدی قرآن مجید کی زبان وبیان کے ایک جید عالم ہیں۔ اِس کے علاوہ، دیگر متعلق علوم (تفسیر، حدیث، فقہ، اصولِ دین وغیرہ) کے اصل مصادر پراُن کی عالمانہ اور ناقدانہ نظرہے۔امت کی علمی تاریخ میں وسیع المطالعہ افراد کی کمی نہیں رہی ہے۔تاہم خالص قرآن وسنت کی روشنی میں اصولِ دین پر عالمانہ تبحر بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔میرے علم کے مطابق،غالباً یہی وہ چیز ہے جس میں دین کا ایک سچا طالب علم اُن سے بہت کچھ استفادہ کر سکتا ہے۔ علمی ذوق رکھنے والا ایک شخص استاذ جاوید احمد غامدی کی تفسیر ’’البیان‘‘ (۵ مجلدات) اور اُن کی کتاب ’’میزان‘‘ کے تقابلی مطالعے کے ذریعے ، نیز ’’میزان‘‘ کے تدریسی خطبات (lectures) کو سن کر واضح طورپر مذکورہ حقیقت کو دریافت کرسکتا ہے۔
میرے علم کے مطابق، جاوید احمد غامدی غالباً وہ پہلے قابل ذکر عالم ہیں جنھوں نے صدیوں سے جاری اُس فرسودہ بحث کا علمی طورپرخاتمہ کردیا ہے جس میں یہ سوال کیا جاتا تھا کہ — دین کا ماخذ قرآن ہے یا حدیث؟ اِس کے بجاے دین کے اصول ومبادی کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ:

’’دین کا تنہا ماخذ اِس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذاتِ والا صفات ہے۔ یہ صرف اُنھی کی ہستی ہے جس سے قیامت تک بنی آدم کو اُن کے پروردگار کی ہدایت میسر آسکتی ہے، اور یہ صرف اُنھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر وتصویب سے وہ جس چیز کو ’دین ‘ قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے۔‘‘(میزان ۱۳)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین حق کا ’تنہا ماخذ‘ قرار دے دینا، اپنے آپ میں اِس غیر علمی سوال کو ختم کردیتا ہے کہ دین کا ماخذ قرآن ہے یا حدیث؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اِس قسم کی تفریقی ڈائکاٹمی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ دین کا ماخذ بلاشبہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ آپ ہی سے ہم کو قرآن ملا اور آپ ہی کے ارشادات کا ذخیرہ ہے جس کو بعد کے زمانے میں ’حدیث‘ کا نام دیا گیا۔
اِس ذخیرۂ حدیث کے متعلق اصولی بحث کرتے ہوئے استاذ لکھتے ہیں کہ:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر وتصویب کے اخبارِ آحاد جنھیں بالعموم ’’حدیث‘ ‘ کہا جاتا ہے، اِن کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ... دین سے متعلق جو چیزیں اِن (احادیث) میں آئی ہیں، وہ درحقیقت ’قرآن و سنت‘ میں محصور اِسی (اصل) دین کی تفہیم وتبیین اور اِس پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے۔‘‘ (میزان ۱۵)

اِن سطروں کے بعد حدیث کی اصولی اہمیت پر اِن الفاظ میں روشنی ڈالی گئی ہے:

’’البتہ اِس کی حجت ہر اُس شخص پر قائم ہوجاتی ہے جو اِس کی صحت پر مطمئن ہوجانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل یا تقریروتصویب کی حیثیت سے اِسے قبول کرلیتا ہے۔ اِس سے انحراف پھر اُس شخص کے لیے جائز نہیں رہتا، بلکہ ضروری ہوجاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اِس میں بیان کیاگیا ہے تو اُس کے سامنے سرتسلیم خم کردیا جائے۔‘‘ (۱۵)

استاذ جاوید احمد غامدی کی ایک قابلِ ذکر خصوصیت اُن کا اعتدال اورعالی ظرفی ہے۔اپنے طلبا کو نقد و آزادی کا جس طرح کھلا موقع وہ فراہم کرتے ہیں،المورد کا ہر طالب علم اُس کا گواہ ہے۔یہ ظاہرہ بلاشبہ ہماری ’مذہبی ‘ تاریخ کا ایک انتہائی قابلِ قدر باب ہے۔ المورد گلوبل کی طرف سے تحریری طورپر نقد کی اِسی آزادی کے ساتھ مجھ کو ’’اشراق‘‘ ہند کی ادارات کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ استاذِ محترم خود ہمیشہ اپنے آپ کو محض ایک طالب علم کہتے ہیں اور اپنے طلبا ومتعلقین کو بھی باربار اِسی بات کی تاکید و تلقین فرماتے ہیں۔
یہاں میں عرض کروں گا کہ جاوید احمد غامدی بلاشبہ معاصر دنیا میں اسلام کے ایک جید عالم ہیں اور اِسی کے ساتھ ایک انسان بھی، جس سے بہ ہر حال خطا وصواب، دونوں کا نہ صرف احتمال پایا جاتا ہے، بلکہ واقعات بتاتے ہیں کہ علمی میدان میں بار ہا اِس کا صدور بھی ہوا ہے۔ میرے علم کے مطابق،اُن کا مشن علم وعقل کی روشنی میں ’بتانِ جاہلیت‘ کو ڈھانا ہے، نہ کہ نئے عنوانات پر دوسرے کچھ’ بت ‘تراش لینا۔اِسی بنا پرمیں اپنے آپ کو استاذِ محترم کا صرف ایک تلمیذسمجھتا ہوں، نہ کہ پُراسرار معنوں میں اُن کا کوئی ’مرید‘۔میرے تجربے کے مطابق، اِ س قسم کی ’اِرادت ‘ کے لیے اُن کے یہاں کوئی جگہ نہیں۔وہ صرف علم دین کے ایک معلم ہیں، نہ کہ کوئی پُراسرار’ مرشد‘۔
ایک طالب علم کے لیے بلاشبہ ایک معلم اور رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کوئی ’اعتقادی‘ چیز نہیں، بلکہ وہ ایک فطری ضرورت ہے۔ تاہم ، جب اِسے اِس حد تک ’غیر مشروط اِسترشاد‘ کا درجہ دے دیا جائے کہ ’مرشد‘سے جزوی علمی اختلاف بھی ایک غیرمطلوب چیزقرارپائے ،تو بلاشبہ یہ معاملہ فطری ضرورت سے گزر کرایک قسم کی سنگین برائی کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔اِس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ ’ذہنی تعذیب‘ کے اِس ماحول میں نہ صرف آدمی کا علمی ارتقا رک جاتا ہے، بلکہ عملاًوہی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے جس کو’کہَنوت‘یا ’گروڈم‘ کہا جاتا ہے، اور بلاشبہ اسلام میں اِس قسم کے ’گروڈم ‘کے لیے کوئی جگہ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ منصبِ رسالت پر فائز ہونے کے باوجودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوداپنی نسبت سے، ’غیر مشروط مرشد‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے کے بجاے ، اپنے آپ کوصرف ایک ’معلم‘ (بُعِثتُ مُعلّماً)* قراردیا، یعنی عملاً وہی چیز جس کو مربی یا استاذ کہا جاتاہے۔مذکورہ حدیث سے ’عبارۃ النص‘ کے درجے میںیہ معلوم ہوتا ہے کہ ’استاذ’ یا ’معلم‘ کا لفظ ایک پیغمبرانہ لفظ ہے۔اِس کے برعکس، ’گرو‘اور’غیر مشروط مرشد‘ جیسے الفا ظ اِس معاملے میں ایک مبتدعانہ تعبیرکی حیثیت رکھتے ہیں، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اِس قسم کے مبتدعانہ تصورات کے ذریعے سے کبھی وہ مطلوب چیز پیدا نہیں کی جاسکتی جس کو ’اصلاح ‘یا تزکیۂ نفس کہا جاتا ہے۔

________

یہاں یہ واضح کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ فکرفراہی، خدانخواستہ، کوئی الگ’ مذہب‘ یا ’فرقہ‘ نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ فراہی مکتب فکر ایک علمی اسکول کا نام ہے۔یہ اسلاف کی اُس قدیم روایت کا تسلسل ہے جس میں دین کے ماخذ پر براہِ راست نظر اور دین پر زندہ غوروفکرکے بغیر کسی شخص کو ’عالم‘ کا مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔یہ علمی روایت ’اختلافِ راے کے باوجود احترام‘پر مبنی ہے۔علمی روایت کے مطابق،فراہی اسکول امت کے دوسرے گروہوں کے ساتھ تعاون اور اعتراف پر مبنی ہے۔
فراہی اسکول اور اُس سے وابستہ اہلِ علم نے حدیث پر بھی کام کیا ہے اور فہم سنت کے اصول ومبادی بھی متعین کیے ہیں۔تاہم اُن کا اصل امتیازی کام وہ ہے جو قرآن مجید کی نسبت سے انجام دیاگیا ہے۔بنیادی طورپراِس کام کے دو پہلو ہیں: ایک کا تعلق قرآن کے علمی پہلو سے ہے اور دوسرے کا تعلق قرآن کے فکری پہلو سے۔
علمی پہلو سے مراد قرآن کی تاریخ، اُس کی زبان وبیان اور اُس کی شرح وتفسیرہے۔یہ کام حمیدالدین فراہی (وفات: ۱۹۳۰ء) کی ’’مفردات القرآن‘‘، ’’اسالیب القرآن‘‘، ’’جمہرۃ البلاغہ‘‘، ’’مجموعہ تفاسیر‘‘ اور امین احسن اصلاحی (وفات: ۱۹۹۷ء) کی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ (۹ مجلدات) اور جاوید احمد غامدی (پیدایش:۱۹۵۱ء) کی تفسیر ’’البیان‘‘ (۵ مجلدات) کی صورت میں چھپ کر سامنے آچکا ہے۔واضح رہے کہ استاذ جاوید احمد غامدی کی تفسیر ’’البیان‘‘ دوسرے ائمۂ علم کے علاوہ، حمیدالدین فراہی اور اپنے استاذ امین احسن اصلاحی کے ’رشحاتِ فکر‘ سے اخذو استفادہ بھی ہے اور اُس پرعلمی نقد واضافہ بھی۔
فکری پہلو سے مراد اصلاًیہاں قرآن مجیدکو ’میزان اور فرقان‘ کی حیثیت سے پیش کرنا ہے، یعنی ایک ایسی کتاب جو حق وباطل میں امتیاز کے لیے میزانِ عدل اور قاطع برہان ہے۔ چنانچہ اب حق وباطل کے درمیان فرق معلوم کرنے کے لیے قرآن ہی کو کسوٹی اور معیار کا درجہ حاصل ہے۔جو بات اِس معیار پر کھری ثابت ہوگی، وہ کھری ہے اور جو بات اِس معیار پر کھری ثابت نہ ہوسکے، وہ یقیناًکھوٹی ہے ، وہ اِس قابل ہے کہ اُس کو رد کردیا جائے۔اِس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے استاذ جاوید احمد غامدی نے بجا طورپر لکھا ہے کہ:

’’دین میں ہر چیز کے ردوقبول کا فیصلہ اِس( قرآن) کی آیاتِ بینات ہی کی روشنی میں ہوگا۔ایمان وعقیدہ کی ہر بحث اِس سے شروع ہوگی اور اِسی پر ختم کردی جائے گی۔ہر وحی، ہر الہام، ہر اِلقا، ہر تحقیق اور ہر راے کو اِس کے تابع قرار دیا جائے گا اور اِس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بوحنیفہ و شافعی، بخاری ومسلم ، اشعری و ماتریدی اور جنید وشبلی، سب پر اِس کی حکومت قائم ہے اور اِس کے خلاف اِن میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جا سکتی۔‘‘ (میزان ۲۵)

اِس موضوع کی مزید تفصیل، خاص طورپر، امین احسن اصلاحی کی کتاب ’’مبادی تدبر قرآن‘‘ (صفحہ ۲۲۴، مطبوعہ البلاغ پبلی کیشنز، نئی دہلی) اور جاوید احمد غامدی کی کتاب ’’اصول ومبادی‘‘ (صفحہ ۶۵، مطبوعہ ’المورد‘، لاہور) میں دیکھی جاسکتی ہے۔

________

آخر میں، میں اپنے قارئین محترم سے عرض کروں گا کہ آپ روایتی معنوں میں صرف ہمارے ایک قاری (reader) نہیں، بلکہ عملاً آپ حضرات ہمارے لیے انتہائی قابلِ قدر علمی اور دعوتی رفقاکی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں نہ صرف امید، بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ اِحیاے علم ودعوت کے اِس مطلوب عمل میں آپ ہر طرح ہمارا تعاون فرمائیں گے۔تاہم میرے نزدیک ، آپ کا سب سے بڑا تعاون مادی تعاون (material support) نہیں، بلکہ علمی اور دعوتی تعاون ہے، یعنی قرآن وسنت کا سچا طالب علم بن کر اُس کے علمی اور عملی تقاضوں کو پورا کرنا، اُس کے احیا اور اس کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا۔ ہمارا اصل تعاون یہ نہیں ہے کہ آپ ہمارے مادی معاون بن جائیں، ہمارا اصل تعاون یہ ہے کہ آپ خود اپنے آپ کو مکمل طورپر اللہ اور اُس کے رسول کے حوالے کردیں۔ یہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا، یہی ہمارا مشن اور یہی قرآن کی دعوت ہے: ’یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ‘ (البقرہ ۲: ۲۰۸)۔
۲۵ ؍اکتوبر ۲۰۱۷ء
________
* سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ للألباني: ۳۵۹۳۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List