Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Naeem Baloch Profile

Naeem Baloch

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
مغربی ذہن کی فکری تشکیل | اشراق
Font size +/-

مغربی ذہن کی فکری تشکیل

مصنف: رچرڈ ٹرناس
مترجم: نعیم احمد بلوچ

( گزشتہ سے پیوستہ)

(۲)

’’یہ کالم مشرق و مغرب کے علمی و فکری افکار کے انتخاب پر مشتمل ہے ۔زیر نظر تحریر Richard Tarnasکی شہرہ آفاق کتاب The Passion of the Western Mind کا اردو ترجمہ ہے جو بالاقساط پیش کیا جارہا ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔‘‘

امثال اور تصور ہی کی بحث کے ضمن میں افلاطون کے ہاں ایک موضوع یہ بھی ہے کہ وجود اور وجود پذیری میں کیا حد فاصل ہے ۔ تمام مظاہر (جن کا حسی طور پر ادراک کیا جاتا ہو)تحّولِ ماہیت کے ناقابل تکمیل مراحل میں ہوتے ہیں،کبھی یہ تبدیلی کے عمل سے گزر تے ہوئے ایک چیز بن رہے ہوتے ہیں اور کبھی دوسری اور کبھی تبدیل ہو کر ختم ہو جاتے ہیں ۔ ان کانفس کے ساتھ تعلق بھی بدلتا رہتا ہے ۔ اس دنیا میں کوئی چیز ’’ ہے‘‘ کے مقام پر نہیں بلکہ وہ ہر آن لمحہ تغیر میں ہوتی ہے اور کچھ کی کچھ بن رہی ہوتی ہے۔لیکن ایک چیز ایسی بھی ہے جو اپنا ایک ٹھوس اورحقیقی وجود رکھتی ہے اور جو’’ ہونے ‘‘اور’’ ہورہے ہونے‘‘ کی تمام کیفیات سے ماورا ہے ، ہماری مراد یقیناً ’’ تصور ‘‘ سے ہے جو اس دنیا کی واحد اور یکتا حقیقت ہے جو ناقابلِ تغیر ہے، جومظاہر کونمایاں کرتا ،متحرک کر کے ایک نظم میں پروتاہے۔اس دنیا کی کوئی بھی معین شے مخلوط طور پرایک طے شدہ شکل رکھتی ہے ۔جو چیزہمارے مشاہدے میں آتی ہے وہ دراصل مختلف اشکال کے نکتۂ اتصال پر واقع ہوتی ہے اور یہ اشکال اپنے اپنے ظرفِ زماں میں مختلف اشتراک اور مختلف درجۂ شدت کے ساتھ اپنا اظہار کر رہی ہوتی ہیں۔چنانچہ افلاطون کی دنیا اسی صورت میں متغیر ہوتی ہے جب ہر مظہری حقیقت مستقل طور پر ہونے اورنہ ہونے کی حالت میں ہوں اور اس صورت حال کوباہم تبدیل ہوتی فعالیت سے قابو کیا جارہا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقتِ اعلیٰ یعنی تصورات کی وہ دنیا جس میں حقائق قیام پذیر ہیں،وہ تخلیق کے عمل سے نہیں گزرتے ،وہ تو ناقابل تغیر ہیں ، دائمی ہیں ، اسی لیے تو وہ جامد ہیں ۔افلاطون کے نزدیک وجود اور وجود میں آنے کا باہمی تعلق اور رائے سے سچائی تک پہنچنے کے عمل کا باہمی تعلق، آپس میں براہ راست متوازی ہے۔ کیونکہ اشکال باقی رہتی ہیں ،جبکہ ان کا مادی اظہار وجود پذیر بھی ہوتا ہے اور فنا بھی، اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اشکال لازوال ہیں اور اسی اصول پر دیوتا بھی۔ اگرچہ ایک خاص شے، جو کسی خاص تصور کی تجسیم ہوتی ہے ، ختم ہوجاتی ہے،لیکن وہ تصور کسی اور شے کے روپ میں ڈھل جاتا ہے اور یوں تصور یاشکل کا وجود جاری وساری رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کی خوب صورتی ختم ہو جاتی ہے،لیکن خوب صورتی کا مثلِ اولیٰ ’’حسن ‘‘ باقی رہتا ہے ،جو وقت کی دست برد سے محفوظ اور کسی حسین کے بدصورت ہونے کے باوجود برقرار رہتا ہے۔ درخت اگتے ہیں اور اپنی عمر پوری کرنے کے بعد دوبارہ زمین میں سما جاتے ہیں لیکن ان کا مثلِ اولیٰ کسی بیج کی صورت میں باقی رہتا ہے اور دوسرے درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اسی طرح ایک نیک شخص بہک سکتا ہے اور برائی کا رستہ اختیار کر سکتا ہے لیکن اچھائی پھر بھی ختم نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کا مثل اولیٰ’’ نیکی ‘‘ نیکو کاروں کے ختم ہو جانے کے باوجود باقی رہتی ہے۔ یوں مثلِ اولیٰ اشکال میں ڈھلتے بھی رہتے اور بکھرتے بھی رہتے ہیں لیکن بایں ہمہ وہ جوہری اکائی کے طور پر بقا کے حامل ہیں ۔
افلاطون نے لفظ ’’Idea ‘‘یقینی طور آج کے مستعمل مفہوم سے مختلف معنوں میں استعمال کیا ہے ۔(یونانی میں اس مطلب ہے شکل ،نمونہ،لابدی خصوصیت یا کسی چیز کا جوہر)موجودہ دور میں’’ تصور‘‘ کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے یہ ہر فرد کے ذہن کی ذاتی اختراع ہے۔ (ان دونوں کا )تقابل کیا جائے تو افلاطون کے ہاں اس سے مراد انسانی شعور کے اندر ہی کی چیز نہیں بلکہ یہ اس کے باہر بھی ہوتی ہے ۔افلاطونی تصورات معروضی ہیں ۔ ان کی بنیاد انسانی سوچ پر استوار نہیں ہے بلکہ یہ کلی طور پر اپنے صحیح ہونے پر قائم ہیں۔ یہ کامل نقش ہیں جو کہ اشیا کی فطری ساخت کے اندر سرایت کیے ہوئے ہیں ۔ ایک افلاطونی تصور، جیسا کہ وہ تھا ،صرف انسانی سوچ ہی نہیں بلکہ یہ ایک آفاقی سوچ ہے ۔ ایک مثالی قائم بالذات شے ،جو اپنا اظہارانتہائی واضح طور پر ٹھوس اور قابل ادراک شکل میں کر سکتی ہے یا باطنی طورپرانسانی ذہن میں ایک سوچ کی حیثیت سے اجاگر ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ابتدائی شبیہ یا ماہیتی جوہر ہے جو مختلف طریقوں سے مختلف سطحوں پر وجودپذیرہو سکتاہے اور یہ بذاتِ خود حقیقت کی بنیاد ہے۔
چنانچہ معلوم ہوا کہ ’’تصورات ‘‘(Ideas) علمِ وجود اور نظریہ علمِ انسانی ،دونوں کے بنیادی عناصر میں سے ہیں۔وہ اشیا کے اساسی جوہر اور ان کے اندر کی حقیقت ہی کی تعمیر نہیں کرتے بلکہ یہ دیگر انسانی علوم تک رسائی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ایک پرندہ اپنے مثلِ اولیٰ کے تصور میں شرکت کی وجہ سے پرندہ ہے۔اور ایک انسانی ذہن پرندے کو اس لیے جان سکتا ہے کہ اس کے اندر پرندے کا تصور موجود ہوتا ہے ۔کسی شے کاسرخ رنگ اس لیے سرخ ہے کہ یہ مثلِ اولیٰ کے سرخ پن میں شریک ہے اوراس انسانی فہم کی اس وقت تصدیق ہوتی ہے جب ذہن اور تصور مشترک ٹھہرتے ہیں ۔ انسانی ذہن اور کائنات ،ایک ہی نظم کے مثل اولیٰ کے تحت منظم ہیں اور صرف اور صرف اسی وجہ سے اشیا کا حقیقی فہم انسانی ذہن کے لیے ممکن ہوتا ہے۔
افلاطون کے لیے مثل اولیٰ کا مثالی نمونہ ریاضی ہے۔ افلاطون ، فیثا غورث کے فلسفے سے خاص طور پر متاثر ہے اور اسی سے اتفاق کرتے ہوئے افلاطون یہ سمجھتا ہے کائنات اعداد کے ریاضیاتی امثال اور جیومیٹری کے مطابق منظم ہونی چاہیے۔ یہ امثال ناقابل بصارت ہیں ، صرف عقل کے لیے قابل فہم ہیں لیکن اس کے باوجود یہ خالص دیکھی جانے والی اشیا اور ان کے تخلیقی مراحل میں بنیادی عوامل کے طور پر دریافت کیے جا سکتے ہیں ۔ لیکن ایک دفعہ پھر ہمیں اس مسئلے سے واسطہ آن پڑا ہے کہ افلاطون اور فیثا غورث کے ریاضیاتی تصورات اپنی نوعیت ہی کے اعتبار سے موجودہ دور کے متداول تصورات سے اساسی طور پر مختلف ہیں۔ افلاطون کے نزدیک دائرہ، مثلث،اور اعداد نری مقداری و پیمایشی علامتیں نہیں، جو انسانی ذہن نے قدرتی مظاہر پر چسپاں کر دی ہیں اور نہ ہی یہ مظاہر میں ٹھوس موجودات کی بے رحم حقیقتوں کے طور پر میکانکی طور پر موجود ہوتے ہیں ۔ زیادہ قرین قیاس تو یہ ہے کہ یہ دیوتائی اور ناقابل مشاہدہ قائم بالذات اشیا ہیں جو ان مظاہر سے الگ اپنا وجود رکھتی ہیں جن کو خود انھوں نے منظم کیا ہو اور انسانی ذہن سے بھی ماورا ہیں جو ان کا ادراک کرتا ہے۔جبکہ ٹھوس مظاہر ناپائدار اور نامکمل ہوتے ہیں اور ریاضیاتی امثال ،جو ان مظاہر کو ترتیب دیتے ہیں، وہ کامل،ابدی اور اور ناقابلِ تغیر ہوتے ہیں ۔ چنانچہ افلاطون کا بنیادی عقیدہ کہ اس عارضی دنیا کی بے ترتیبی اور اوپری اضطراب کے پیچھے دراصل زیادہ گھمبیر اور وقت کے تنگنائے سے آزاد قائم بالذات اقدار کا ایک نظم وجود رکھتا ہے،دراصل ریاضی میں پایا جاتا ہے اور اس کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ یہ ایک مخصوص قسم کا ترسیمی مظاہرہ ( grafic demonstration ) ہے ۔اسی لیے افلاطون کے نزدیک فلسفے کے فہم کے لیے ریاضی میں ممارست انتہائی ضروری ہے اور ایک روایت کے مطابق افلاطون کے تعلیمی ادارے ’’اکیڈمی‘‘ کے اوپر یہ درج تھا: ’’جیومیٹری سے نابلد کا داخلہ ممنوع ہے ‘‘۔
درج بالاتفصیل سے ہم نے کوشش کی ہے کہ امثال کے حوالے سے افلاطون کا مدعا مناسب ترین الفاظ میں بیان ہو جائے ۔اس کے لیے اس کے مشہور مکالموں کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ ہماری مراد دی ریپبلک (the Republic ) ،سمپوزیم ( the Symposium) ،فے ڈو (the Phaedo) ، فیڈرس (the Phaedrus) اور ٹیمایوس(the Timaeus) ہے ۔اس میں اس کا’’ساتواں خط‘‘ بھی شامل ہے جو کہ اغلباً بہت حد تک بالکل اصلی ہے۔ اس سب کے باوجودکہ اس سے منسوب یادداشتوں اور مسودات میں ایسی غیر واضح اور بے ربط تحریریں بھی ملتی ہیں جن کی تاویل ابھی کی جانی باقی ہے۔کبھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ افلاطون خالص تصورات کو حسی مشاہدات پر اس قدر فضیلت دیتا ہے کہ تمام ٹھوس اشیا، ان ماورائی تصورات ہی کی ضمنیات ہیں۔کبھی یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان خلقی اشیا کی فطری نجابت کی فضیلت پرزور دے رہا ہے جن کو تقدّس اور ابدیت کا حامل سمجھا جاتا ہے ۔یہ امثال کس حد تک ماورائی(Transcendent )ہیں اور کس حد تک نفوذی(Immanent )اس کاتعین متعددحوالوں اور مکالموں کے مندرجات سے نہیں ہوتا ۔ البتہ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے ،کیانفوذی چیزیں عقلی چیزوں سے بالکل مختلف ہیں اور کیا عقلی چیزیں بھی محض ناقص نقالی ہیں یا نفوذی چیزوں میں عقلی چیزیں کسی نہ کسی پہلو سے شامل ہیں جبکہ عقلی اشیا لازمی طور پر امثال ہی کی قبیل سے تعلق رکھتی ہیں ۔ صحیح بات تو یہی معلوم ہوتی ہے کہ جیسے جیسے افلاطون کی سوچ میں پختگی آتی گئی ، اس کا رجحان اسی درجے میں ماورائی نظریے کی طرف راغب ہوا ہے۔
پارمینائیڈس(nides Parme )افلاطون کی اغلباًان سب سے آخری کتاب ہے جن کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے۔اس میں افلاطون نے امثال ہی حوالے سے اس کی نوعیت کی بابت اپنی ہی آرا کے خلاف اہم سوال اٹھائے ہیں ۔ وہ پوچھتا ہے کہ اس کی کتنی اقسام ہیں، ان کا آپس میں اور عقلی دنیا سے کیا تعلق ہے، شراکت ( Participation ) کا ٹھیک ٹھیک مطلب کیا ہے اور اس کا علم کیسے حاصل کیا جا سکتاہے؟ او ر ان سوالات کے جواب بظاہر ناقابل حل مشکلات اوربے ربطیوں کو جنم دیتے ہیں۔ ان سوالوں میں بعض کا تذکرہ افلاطون نے اپنے اوپر تنقید کرتے ہوئے منطقی مباحثوں کی تقریروں میں کیا ہے اور انھی سوالات نے بعد کے فلسفیوں کو امثال کے نظریہ پر اعتراض کی بنیاد فراہم کی ہے۔
اسی طرح ’’تھیے ٹیٹس‘‘( Theaetetus) میں افلاطون نے نوعیتِ علم کاتجزیہ غیر معمولی ذہانت سے کیا ہے لیکن اس کا کوئی ٹھوس نتیجہ نکالا ہے اور نہ ہی اس نے نظریہ امثال کو علم العلوم ( Epistemology ) کی مشکلات دور کرنے کے لیے پیش کیا ہے۔ سوفسٹ (Sophist ) میں وہ نظریہ امثال ہی کو حقیقت پر محمول نہیں سمجھتا بلکہ تبدیلی(Change) ،زندگی (Life)،روح(Soul )اور فہم(Understanding) کو بھی حقیقت گردانتا ہے۔ کہیں اس نے ریاضی کی ایک درمیانی شکل کی بھی نشان دہی کی ہے جو امثال اور عقلی شقوں کے درمیان کی چیز ہے ۔ کئی موقعوں پر اس نے امثال کو ایک سلسلۂ مراتب(Hierarchy)کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔ تاہم مختلف مکالمے مختلف سلسلہ ہائے مراتب کو پیش کرتے ہیں ۔ایک سلسلے میں اچھائی(the Good )،واحد(the One)،وجود(Existance)،سچائی(Truth) یا حسن ( Beauty) مختلف اعلیٰ مقامات پر براجمان نظر آتے ہیں۔ یہ سب بعض اوقات ایک ساتھ بھی ہیں اور بعض دفعہ اوپر تلے بھی۔ صاف بات یہی ہے کہ افلاطون نے نظریہ امثال کو ایک واضح ، کامل اور منظم شکل میں پیش نہیں کیا۔ تاہم اس سب کے باوجود ، اس کے اپنے اٹھائے ہوئے لا ینحل سوالات و اشکال کے علی الرغم ،یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ وہ نظریہ امثال ہی کو مبنی برحقیقت سمجھتا ہے او ر اس کے بغیر اس کے نزدیک انسانی علم اور اخلاقی عمل کی کوئی بنیاد تلاش نہیں کی جا سکتی۔ اور یہ اس نظریے پر کامل یقین ہی ہے جس نے افلاطونی روایت کے لیے بنیاد فراہم کی ہے۔
اس ساری بحث کا خلا صہ یہ ہے کہ افلاطونی نقطۂ نظر کے مطابق موجودات کی اسا س مثل اولیٰ کے امثال میں ہے، یہی اس ناقابل ادراک سانچے کی تعمیر کرتے ہیں جو تمام قابل ادراک اور محکم اشیا کو وجود میں ڈھالتے ہیں۔دنیا کی ساخت کا اصل علم حواس سے دریافت نہیں ہوتا بلکہ یہ عقل (Intellect ) ہی ہے جو اپنی اعلیٰ ترین کیفیت میں ان امثال تک براہ راست رسائی رکھتی ہے ،جو تمام حقائق پر حکومت کرتے ہیں۔تمام علوم میں امثال کا وجود نا گزیر اور لازمی ہے۔ اس احساس سے بالکل بر عکس یہ امثال اصل دنیا کے غیر حقیقی ،خود ساختہ اوہام اور خیالی استعارے ہیں ،اصل حقیقت یہی ہے کہ مثل اولیٰ کے حرم ہی میں حقیقت تخت ِ شاہی پر براجمان ہے اور اسی کے اشارۂ ابرو سے نظم زندگی رواں دواں ہے اور علم و آگہی کے سارے سوتے وہیں سے پھوٹتے ہیں ۔اس مقام پر آکر افلاطو ن ماورائی امثال کے براہ راست تجربے کو کسی بھی فلسفی کی پہلی منزل اور اصل مطمع نظر قرار دیتا ہے۔

اعیان اوردیوتا(Ideas and Gods)

افلاطون نے اپنی آخری کتاب ’’دی لاز‘‘ میں صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ تمام اشیا خداؤں سے بھری ہوئی ہیں ۔چنانچہ یہاں ہم یونانی فلسفے میں مثلِ اولیٰ کے تصور میں پائے جانے والے ایک خاص ابہام کا ضرور جائزہ لیں گے۔ یہ ابہام مجموعی طور پرپورے یونانی فلسفے کااحاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہماری مرادبنیادی اصولوں اور دیوتاؤں کے درمیان پایا جانے والا اساسی تعلق ہے۔
افلاطون بعض جگہ مثل اولیٰ کے تجریدی تصور پر زور دیتا ہے اور اس کے لیے اس نے ریاضیاتی تمثالات پیش کیں ہیں اور بعض جگہ وہ دیوتاؤں کی بز م سجائے مشہور اسطوری ہستیوں کے حوالے سے بات کرتا نظر آتا ہے ۔سقراطی طرز تخاطب کے حامل اپنے مکالموں میں افلاطون ،ہومر کے رزمیہ اسلوب کو اپناتے ہوئے ،مختلف فلسفیانہ اور تاریخی مباحث کو اسطوری شخصیات کی داستان گوئی کے لبادے میں پیش کرتا نظر آتا ہے۔
کٹیلی طنزاور مزاحیہ سنجیدگی کے اسلوب نے اس کی اسطوری داستانوں میں رنگ بھرے ہیں۔ یہ سارے اسالیب اس بات کا تعین کرنے میں مانع ہیں کہ افلاطون درحقیقت ہمیں کیا سمجھانا چاہتا ہے۔ اساطیری داستانوں کے معرکوں کے آغاز میں اس نے اکثر مبہم تفصیلات بیان کی ہیں۔ کبھی وہ ان واقعات کے متعلق یقین دلاتا ہے کہ ایسا ہی ہوا ہے اور کبھی وہ ان کے بارے ’’لاادری‘‘ کا رویہ رکھتا ہے۔ چنانچہ وہ ’’ امکانی واقعات ‘‘ کے الفاظ بھی استعمال کرتا ہے اور’’یہ بھی ہو سکتا ہے اور اس سے ملتی جلتی صورت حال بھی ‘‘ جیسے تبصرے بھی کرتا ہے۔ٍاسی لیے زیوس(Zeus )،اپالو(Apollo)،ہرا( Hera)،ایرس(Ares ) ،ایفروڈائٹ(Aphrodite) اور اس طرح کے دوسرے متعدد اسما ہر سیاق و سباق میں بہت ہی متنوع اور متضاد حیثیتوں کے حامل ہو سکتے ہیں ۔
ان کو حقیقی دیوتا بھی سمجھا جا سکتا ہے اور تمثیلی اشکال بھی،وہ داستانوں کے کردار بھی ہو سکتے ہیں اورنفسیاتی رویے بھی ۔ ہم انھیں تجربات کا مخصوص اظہار بھی کہہ سکتے ہیں اور فلسفیانہ اصول وضوابط بھی ۔کہیں وہ ماورائے مادہ تصور محسوس ہوتے ہیں تو کہیں شاعروں کی شعری آمد کا ذریعہ یا پھر کوئی الہامی ادراک ۔ انھیں ہم روایتی پرہیزگاری کے قابل تقلید نمونے بھی قرار دے سکتے ہیں اور نامعلوم ذوات بھی۔یہ خالقِ اعلیٰ کے لافانی اوتار بھی ہو سکتے ہیں اورمقدس ہستیاں بھی ۔یہ کائناتی نظم کی بنیاد بھی مانے جا سکتے ہیں یا پھر انھیں انسان کے مربی اور حکمران کے طور پربھی لیا جا سکتا ہے۔
افلاطون نے دیوتاؤں کو استعاروں کی زبان سے بھی بڑھ کر ایسے اسلوب میں بیان کیا ہے کہ ان میں سے کسی کی بھی کوئی متعین تعریف بیان نہیں کی جا سکتی۔ ایک مکالمے میں وہ کسی فرضی دنیا کے ایسے کردار میں نظر آئیں گے جس نے ناصحانہ انداز اختیار کیا ہوا ہے اور دوسری جگہ وہ واضح طور پر وجودی حقیقتیں معلوم ہوتے ہیں۔ اکثروبیشتر افلاطون نے مثل اولیٰ کی تجسیم کو مخصوص فلسفیانہ صورت حال کے لیے استعمال کیا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ افلاطون کے نزدیک مابعد الطبیعیاتی تجرید اس وقت مناسب نہیں جب اشیا کے مقدس جوہر کا دیوتائی تصور پیش نظر ہو۔
’’سیمپوزیم ‘‘ میں ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی خوب صورتی سے یہ دکھایاگیا ہے کہ ’’ایرس‘‘انسانی مرغوبات کی ایک نمایاں قوتِ متحرکہ ہے۔افلاطون کی شراب کی ان محفلوں میں، جب فلسفیانہ مباحث چھڑتے ہیں تو کئی شرکا اپنی خوب صورت منطقی تقریروں میں ایرس کا ذکر کرتے ہیں، جس میں وہ ایک پیچیدہ اورہمہ جہتی مثل اولیٰ قرارپاتی ہے جو مادی سطح پر جنسی جبلت کا اظہارہے لیکن اعلیٰ سطح پر افلاطون حسن وحکمت کے دانشوارانہ پہلووں میں کشش محسوس کرتا ہے۔ اور یہی جذبہ اس کے ہاں ابدیت کے روحانی عرفان کو حدِ کمال تک پہنچاتا ہے جو کہ تمام حسن کا اصل منبع سمجھا جاتا ہے۔ تاہم سارے مکالمے میں یہ بنیادی حقیقت مجسم اسطوری کرداروں کے ذریعے سے پیش کی جا تی ہے، جن میں ایرس(Aros)محبت کی دیوی ہے ۔اس کے ساتھ حسن کی حقیقت کو ایفروڈائٹ( Aphrodite)اور بہت سے دوسرے مبہم قسم کے دیوتاؤں کے ذریعے سے پیش کیا گیا ہے جس میں ڈایو نی سس(Dionysus ) کرونوس nos Kro)،آر فیئسOrpheus(موسیقی اورشاعری کا دیوتا)اور اپالوApollo (جنس کا دیوتا)شامل ہیں۔ اسی طرح ’’ٹیمے یس‘‘( Timaeus)میں تخلیق کائنات اور اس کی ساخت کے بارے میں اپنے نظریات پیش کرتا ہے تو وہاں بھی وہ کم و بیش انھی اسطور ی شخصیات کا ذریعہ استعمال کرتا ہے۔ مزید یہ کہ جب وہ روح کی منزل اور ساخت پر گفتگو کرتا ہے تو تب بھی یہی صورت حال نظر آتی ہے۔ہر دیوتا کے ساتھ کچھ خاص فضائل و خصائص مختص ہیں جیسا کہ Phaedusمیں ہے کہ ایک فلسفی، جو حکمت ودانائی کا متلاشی ہے ،اسے زیوس کا پیروکار کہا گیا ہے جبکہ ایک جنگجو، جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے جان قربان کرنے پر آمادہ ہے ،وہ ایرس کا خدمت گار ہے۔اکثر جگہوں پر اس بات کا بھی گمان ہو تا ہے کہ افلاطون کی اساطیری شخصیات محض فرضی قصے کہانیوں کے کردار ہیں۔مثال کے طور پر پروٹاگورس (Protagoras)میں ایک سوفسطائی استاد کا ذکر ہے جو قدیم اساطیر میں مذکور ایک شخص ’’پرومیتھیس ‘‘( Prometheus)کے ذریعے سے انسانیت کے ارتقاء کو بیان کرتا ہے۔پرومیتھیس جنت کی آگ چوری کرکے اسے انسانوں کے حوالے کرتا ہے جس سے انسانی معاشرہ آگ کے ساتھ کچھ دوسرے فنون سے بھی واقف ہوتا ہے۔یوں پرومیتھیس قدیم انسانی معاشرے میں پہلے عقل مند انسان کے طور پر سامنے آتا ہے۔ دیگر مقامات پربھی ‘ افلاطون اساطیری طرز فکر کا اسیر نظر آتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ فیلی بس(Philebus)میں وہ سقراط کو اس کے مخصوص جدلیاتی مباحث میں امثال کی اس دنیا کا ان الفاظ میں تجزیہ کرتے دکھاتا ہے : ’’جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، دیوتاؤں نے ایک نئے پرومیتھیس کے ذریعے سے انسان کو آگ اور روشنی کی شکل میں ایک آسمانی تحفہ دیا ہے ۔‘‘
اس قسم کا فلسفیانہ رنگ دے کر افلاطون نے صورت حال کو ایک منفرد سنگم پر پہنچا دیا ہے جہاں قدیم یونانی نفسیات میں ودیعت اسطوری تخیلات سے عقلیت پسندی کا ظہور ہو رہا ہے اور درحقیقت یہی نفسیات تمام قدیم مذاہب کی اصل ہے جس میں ہندی، مغربی ،رومی،غرض سب مذاہب شامل ہیں۔اور اس کی جڑیں بیس ہزار سال ق م سے لے کر حجری دور تک پھیلی ہوئی ہیں اور یہی وہ مذہبی نفسیات ہے جو اولمپین دور کی کثرت پرستی پر منتج ہوئی ہے۔ یہی کثرت پرستی یعنی مذہبِ شرک ،یونان کے کلاسیکی کلچر کے نمایندہ ڈرامے ،آرٹ ، شاعری اور سیاست کی اصل بنیاد ہے۔ قدیم اساطیر میں یونانی اساطیرنمایاں طور پر پیچیدہ ، بہت زیادہ مفصل اورمنظم ہیں۔ اسی لیے اس نے یونانی فلسفے کے ارتقا میں زرخیز بنیادیں فراہم کی ہیں۔ یونانی فلسفے میں یہ اساطیری رنگ بہت پرانا ہے اوراس کا سراغ بالکل ابتدائی دور میں بھی ملتا ہے اور افلاطون کے عروج میں بھی۔اساطیری داستانوں میں دیوی دیوتاؤں کا یہ عمل دخل محض لفاظی نہیں بلکہ یہ تصور افلاطون کے فکر میں پوری طرح سرایت کیے ہوئے ہے۔ اسی لیے یونانی ذہن کی تشکیل میں افلاطون کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ کلاسیکل اساطیری ادب کے ماہر جون فنلے کہتے ہیں : یونانی دیوتاؤں کا تصور اگرچہ اپنے معاشرے میں تغیر پذیر رہا ہے لیکن ان کے ہاں کا اجتماعی شعور یہی رہا ہے کہ ’’اتھنا ‘‘ (Athena)دیوتا دنیا کا دماغ ،’’اپالو‘‘(Apollo)منتشر اور غیر متوقع نور،’’ایفراڈائٹ‘‘ ( Aphrodite)جنسیات، ’’ڈایونیاس‘‘(Dionysus)طرب ونشاط،’’آرٹیمس‘‘(Artimus)دکھ اور کرب سے مکتی،’’ہیرا ‘‘(Hera )شادی اور بندھن اور ’’زیوس‘‘(Zeus )ان سب پر غالب دیوتا ہے۔ چنانچہ افلاطونی دیوتا قائم بالذات ہیں ۔ یوں اس کا نظریۂ امثال بڑا منفرد،روشن اور ابدی خصوصیات کا حامل ہے اوریہ انسان کو لاحق عارضی پن کے عارضے سے مبرا ہے ۔غرض یہ دیوتا زندگی کا راز اورجوہر ہیں اور کوئی بھی شخص دھیان گیان اور مراقبے کے ذریعے ان سے استفاد ہ کر سکتا ہے۔
افلاطون شاعروں کی اس بات پر اکثر معترض ہوتا ہے کہ انھوں نے دیوتاؤں کی تجسیم کی لیکن خود ہمیں وہ اپنی فلسفیانہ فکر کی تعلیم بھرپور اسطوری طرز پر دیتا نظر آتا ہے اور اس میں مذہبی رنگ بھی پوری طرح نمایاں ہے۔ باوجودیکہ افلاطون عقلی طرز استدلال کو بڑی اہمیت دیتا ہے ، باوجودیکہ سیاسی اصولوں کے بیان میں وہ آرٹ اورشاعرانہ اسالیب کے استعمال کا ناقد ہے،لیکن اس کے اپنے مکالموں کے متعدد مندرجات سے یہی بات مترشح ہوتی ہے پروازِ تخیل ہر میدان میں یکساں طور پر ضروری ہے ، چاہے یہ شاعری ہو یا مذہبی حقائق کابیان ۔ دنیا کی حقیقت جاننے کے لیے خالص منطق اور نرا تجریدی استدلال ناکافی ہے ۔ اس وقت جس خاص پہلو کو ہم نے موضوع بنایا ہے وہ ہے افلاطون کے وہ انمٹ اثرات جو اس نے عالم کی الجھی ہوئی اور غیر مستحکم یونانی تصویر پر ڈالے ہیں ۔
اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ افلاطون ایک صفحے پر امثال اور دوسرے میں دیوتاؤں پر تمثیلی استدلال سے گفتگو کرتا ہے۔ اس ابہام کو وہ بڑے کمزور طریقے سے حل کرتا ہے لیکن اس کے نتائج بڑے وزنی اور مستقل حیثیت کے حامل ہیں ۔یہ چیزیونانی فلسفے کے ایک اہم مسئلے کی نشان دہی کرتی ہے اور وہ ہے کہ اسطوری (myth)اور عقلی استدلال(reason ( میں کیا تعلق ہے؟



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List