Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
لباس کی متکبرانہ وضع (2/2) | اشراق
Font size +/-

لباس کی متکبرانہ وضع (2/2)

لباس کی متکبرانہ وضع (1/2)

۹

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۱ ’’مَا أَسْفَلَ مِنَ الکَعْبَیْنِ۲ مِنَ الإِزَارِ فَفِي النَّارِ‘‘.۳

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تہ بند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہے، وہ دوزخ میں ہوگا۔۱

________

۱۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ تہ بند کو اِس طرح اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے ٹخنوں سے نیچے لٹکاتے ہیں ، اُن کا یہ عمل اُنھیں دوزخ میں لے جانے کا باعث بن جائے گا۔یہ اُسی طرح کا اسلوب ہے، جیسے کسی کو جوا کھیلتے دیکھ کر کہا جائے کہ تمھارا یہ جوا ایک دن جیل میں ہوگا ، یعنی اِس کی بنا پر تم جیل کی ہوا کھاؤ گے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے ۔اِس میں بڑائی ظاہر کرنے کی شرط اِس باب کی دوسری روایات اور حلال وحرام کے معاملے میں قرآن کے صریح نصوص کی روشنی میں عائد کی گئی ہے۔اِس طرح کی مجمل روایتوں کو سمجھنے کا صحیح اصول یہی ہے۔اِسے ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم۵۷۸۷سے لیا گیا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ سمرہ بن جُندب رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔اسالیب کے معمولی فرق کے ساتھ یہ جن مصادر میں دیکھ لی جا سکتی ہے، وہ یہ ہیں: مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۸۲۴۔مسند احمد، رقم۷۴۶۷، ۹۳۱۹، ۹۹۳۴، ۱۰۴۶۱، ۲۰۰۹۸، ۲۰۱۶۸۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۳۰، ۵۳۳۱۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۲۵، ۹۶۲۸، ۹۶۳۹۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۶۹۷۱۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۳۳۱۸۔

۲۔بعض طرق، مثلاً السنن الصغریٰ، نسائی، رقم میں۵۳۳۰میں یہاں ’مَا أَسْفَلَ مِنَ الکَعْبَیْنِ‘ کے بجاے اِسی مفہوم میں’مَا تَحْتَ الْکَعْبَیْنِ‘کے الفاظ بھی روایت ہوئے ہیں۔

۳۔ مسند احمد، رقم۱۰۴۶۱میں یہاں ’فَفِي النَّارِ‘ کے بجاے ’فَہُوَ فِي النَّارِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔

۱۰

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:۱ کَسَانِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُلَّۃً مِنْ حَرِیْرٍ مِنْ حُلَلِ السِّیَرَاءِ مِمَّا أَہْدٰی إِلَیْہِ فَیْرُوْزُ، فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ فَأَغْرَقَنِيْ عَرْضًا وَطُوْلاً، فَسَحَبْتُ، وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ، فَتَقَنَّعْتُ فِیہِ، ثُمَّ قَالَ: ’’یَا عَبْدَ اللّٰہِ، ارْفَعِ الْإِزَارَ، فَإِنَّ مَا مَسَّ التُّرَابَ إِلَی أَسْفَلِ الْکَعْبَیْنِ فِي النَّارِ‘‘.۲

ا بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دھاریوں والے کپڑوں میں سے ایک ریشمی جوڑا پہننے کے لیے دیا جو آپ کو فیروز ۱نے ہدیہ کیے تھے ۔میں نے آپ سے لے کر تہ بند باندھا تو لمبائی اور چوڑائی میں اُس نے مجھے اِس طرح ڈھانپ لیا کہ میں اُس کو گھسیٹنے لگا۔پھر چادر اوڑھی تو اُس میں چھپ کر رہ گیا ۔ آپ نے یہ دیکھا تو فرمایا:عبد اللہ، اپنا تہ بند اوپر اٹھاؤ، اِس لیے کہ اِس کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے کی طرف لٹکتا ہوا زمین کوچھوئے گا،۲ وہ دوزخ میں ہوگا۔

________

۱۔ یہ فیروز کون تھا؟ اِس کے بارے میں کوئی بات تعین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی۔تاہم خیال ہوتا ہے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ مراد ہوں گے۔

۲۔ یعنی متکبرانہ لٹکتا ہوا زمین کو چھوئے گا۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۷۱۴سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس کے علاوہ یہ واقعہ الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ جن مصادر میں وارد ہے، وہ یہ ہیں:مسند احمد، رقم۵۶۹۳، ۵۷۱۳، ۵۷۱۴، ۵۷۲۷، ۶۴۱۹۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۳۴۳۳۔

۲۔ اِس باب میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوسرا واقعہ بھی بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد میں اِس طرح نقل ہوا ہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ إِزَارٌ یَتَقَعْقَعُ، فَقَالَ: ’’مَنْ ہٰذَا؟‘‘ قُلْتُ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ. قَالَ: ’’إِنْ کُنْتَ عَبْدَ اللّٰہِ فَارْفَعْ إِزَارَکَ‘‘، فَرَفَعْتُ إِزَارِيْ إِلٰی نِصْفِ السَّاقَیْنِ، فَلَمْ تَزَلْ ’’إِزْرَتَہُ حَتّٰی مَاتَ‘‘.(رقم۶۲۶۳)

’’ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک نیا تہ بند پہن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا:یہ کون صاحب ہیں؟میں نے عرض کیا: عبد اللہ بن عمر۔ فرمایا: تم اگر اللہ کے بندے ہو تو اپنا تہ بند اوپر کرو۔ چنانچہ میں نے اپنا تہ بند آدھی پنڈلیوں تک اوپر کرلیا۔بیان کیا گیا ہے کہ مرتے دم تک اُن کا تہ بند پھر اِسی طرح رہا۔‘‘

صحیح مسلم، رقم۲۰۸۶میں اُنھی سے یہ واقعہ اِس طرح روایت ہوا ہے:’مَرَرْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِيْ إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ، فَقَالَ: ’’یَا عَبْدَ اللّٰہِ، ارْفَعْ إِزَارَکَ‘‘، فَرَفَعْتُہُ، ثُمَّ قَالَ: ’’زِدْ‘‘، فَزِدْتُ، فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاہَا بَعْدُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِلٰی أَیْنَ؟ فَقَالَ: أَنْصَافِ السَّاقَیْنِ‘ ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا۔ میرا تہ بند اُس وقت نیچے لٹکا ہوا تھا۔ آپ نے دیکھا تو فرمایا:عبد اللہ، اپنا تہ بند اوپر کرو۔چنانچہ میں نے اُس کو اوپر کر لیا۔ آپ نے پھرفرمایا: ذرا اور اوپر کرو۔ میں نے کچھ اور اوپر کیا۔ پھر میں تہ بند باندھنے کی صحیح جگہ کو سمجھنے کے لیے اُس کو اوپرکرتا رہا۔ اِسی اثنا میں لوگوں میں سے کسی نے پوچھا:کہاں تک اوپر کرنا چاہیے؟ اِس پر آپ نے فرمایا:آدھی پنڈلیوں تک‘‘۔

مسند احمد اور صحیح مسلم کے علاوہ یہ واقعہ الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ اِن مراجع میں بھی دیکھ لیا جاسکتا ہے:مستخرج ابی عوانہ، رقم ۸۶۰۱۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۴۳۴۰۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۳۳۳۱۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۳۳۱۶۔

۱۱

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’الْإِزَارُ إِلٰی نِصْفِ السَّاقِ‘‘، فَلَمَّا رَاٰی شِدَّۃَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ: ’’إِلَی الْکَعْبَیْنِ، لَا خَیْرَ فِیْمَا أَسْفَلَ مِنْ ذٰلِکَ‘‘.

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تہ بند آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے۱۔ پھر جب آپ نے دیکھا کہ یہ بات مسلمانوں پر گراں گزر رہی ہے تو فرمایا: ٹخنوں تک کرلو، لیکن اِس سے نیچے ہوا تو اِس میں کوئی خیر نہیں ہے۔

________

۱۔اِس لیے کہ یہیں تک رکھو گے تو اوباشوں اور متکبرین کی وضع سے دور رہو گے ۔کسی برائی سے روکنے کاصحیح طریقہ یہی ہے۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِسے ہی اختیار فرمایا، تاہم بعد میں واضح کردیا کہ اصلی مطلوب کیا ہے اور کہاں تک لازماً احتیاط کرنی چاہیے۔یہ بات بھی، ظاہر ہے کہ تہ بند ہی کے بارے میں کہی جاسکتی ہے، اِسے دوسرے کسی لباس سے متعلق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صرف تہ بند ہی ہے جسے اگر بہت اوپر نہ رکھا جائے تو لٹک کر وہ صورت پیدا کردیتا ہے جس سے روکنا مقصود ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۱۳۶۰۵سے لیا گیا ہے۔مسند احمد، رقم۱۳۶۹۲میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت الفاظ کے فرق کے ساتھ اِس طرح بھی نقل ہوئی ہے: ’’’الْإِزَارُ إِلٰی نِصْفِ السَّاقِ‘‘، فَشَقَّ عَلَیْہِمْ، فَقَالَ: ’’أَوْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ، وَلَا خَیْرَ فِيْ أَسْفَلَ مِنْ ذٰلِکَ‘‘‘ ’’تہ بند آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے۔ پھر جب آپ کا یہ حکم لوگوں کو کچھ گراں گزرا تو آپ نے فرمایا: یا پھرٹخنوں تک کرلو، لیکن اِس سے نیچے ہوا تو اِس میں کوئی خیر نہیں ہے‘‘۔

۱۲

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْقُوْبَ الجُہَنِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِیْدٍ: ہَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ شَیْءًا؟ قَالَ: نَعَمْ بِعِلْمٍ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ:۱ ’’إِزْرَۃُ الْمُؤْمِنِ۲ إِلٰی أَنْصَافِ سَاقَیْہِ، لَا جُنَاحَ عَلَیْہِ فِیمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْکَعْبَیْنِ، وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ ہُوَ فِي النَّارِ‘‘،۳ یَقُوْلُہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ.۴

عبد الرحمن بن یعقوب کا بیان ہے کہ میں نے ابو سعید سے پوچھاکہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہ بند کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ اُنھوں نے بتایا کہ ہاں، میں نے پورے علم کے ساتھ سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلیوں تک ہونا چاہیے ۔ پھر اِن کے اور ٹخنوں کے درمیان ہو تو اِس میں بھی کوئی حرج نہیں ، لیکن جو حصہ ٹخنوں سے نیچے گھسٹتا ہو۱، اُس کی جگہ دوزخ ہے۔ آپ یہ بات تین مرتبہ دہراتے رہے۔

________

۱۔ یعنی اُسی مقصد سے نیچے گھسٹتا ہو جو اِس طرح کی وضع سے متکبرین کے پیش نظر ہوتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۱۱۰۲۸سے لیا گیا ہے۔ یہ اور اِس سے پچھلی روایت کا مضمون اسلوب و تعبیر کے کچھ فرق کے ساتھ انس بن مالک رضی اللہ عنہ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ مسند احمد کی اِس روایت کے علاوہ اِن مصادر میں بھی دیکھ لی جاسکتی ہے: موطا مالک، رقم۷۰۳۔ احادیث اسماعیل بن جعفر، رقم ۳۰۵۔ مسند طیالسی، رقم۲۳۴۲۔مسند حمیدی، رقم ۷۵۴۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۸۲۱۔مسند احمد، رقم۱۱۰۱۰، ۱۱۲۵۶، ۱۱۳۹۷، ۱۱۴۸۷، ۱۱۹۲۵۔سنن ابن ماجہ، رقم ۳۵۷۳۔ سنن ابی داؤد، رقم۴۰۹۳۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۳۱، ۹۶۳۲، ۹۶۳۳، ۹۶۳۴۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۹۸۰۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۸۶۰۲، ۸۶۰۳، ۸۶۰۴، ۸۶۰۵، ۸۶۰۶۔صحیح ابن حبان، رقم۵۴۴۶، ۵۴۴۷، ۵۴۵۰۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۵۲۰۴۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۳۳۱۷۔ انس رضی اللہ عنہ سے اِس کے مراجع یہ ہیں:مسند احمد، رقم ۱۲۴۲۴، ۱۳۶۰۵، ۱۳۶۹۲۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس کے مصادر یہ ہیں: احادیث اسماعیل بن جعفر، رقم ۲۲۹۔مسند احمد، رقم۷۸۵۷، ۱۰۵۵۵۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۲۷، ۹۶۲۹، ۹۶۳۰۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۶۶۴۸۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۸۶۰۷، جب کہ ا بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۳۵اورالمعجم الاوسط، طبرانی، رقم۴۱۲میں نقل ہوئی ہے۔

۲۔بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۱۱۳۹۷میں یہاں ’الْمُؤْمِن‘ کے بجاے ’الْمُسْلِم‘کا لفظ آیا ہے۔

۳۔مسند احمد، رقم۷۸۵۷میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے آپ کا یہ ارشاد اِن الفاظ میں بھی روایت ہوا ہے: ’إِزْرَۃُ الْمُؤْمِنِ إِلٰی عَضَلَۃِ سَاقَیْہِ، ثُمَّ إِلَی نِصْفِ سَاقَیْہِ، ثُمَّ إِلَی کَعْبَیْہِ، فَمَا کَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذٰلِکَ فِي النَّارِ‘ ’’بندۂ مومن کا تہ بند پنڈلیوں کے گوشت والی جگہ تک ہونا چاہیے، پھر آدھی پنڈلیوں تک، یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر ٹخنوں تک۔لیکن اُس کا جتنا حصہ اِس سے نیچے ہے، وہ دوزخ میں ہوگا‘‘۔

اِس مضمون کے بعض طرق، مثلاً موطا مالک، رقم۷۰۳میں یہ اضافہ بھی روایت کے آخر میں نقل ہوا ہے:’لاَ یَنْظُرُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَی مَنْ جَرَّ إِزَارَہُ بَطَرًا‘ ’’قیامت کے دن اللہ ایسے شخص کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا جس نے تکبر سے اپنا تہ بند لٹکا کر گھسیٹا‘‘۔

۴۔ روایت کا یہی مضمون کئی طریقوں سے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔تاہم اسالیب مختلف ہیں۔ چنانچہ مسند حمیدی، رقم ۴۵۰میں ہے:’عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: أَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَسْفَلَ مِنْ عَضَلَۃِ سَاقِيْ أَوْ سَاقِہِ فَقَالَ: ہٰذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ فَإِنْ أَبَیْتَ فَأَسْفَلَ، فَإِنْ أَبَیْتَ فَأَسْفَلَ، فَإِنْ أَبَیْتَ فَلاَ حَقَّ لِلْإِزَارِ فِیْمَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ‘ ’’حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی یا غالباً اپنی پنڈلی کا گوشت والا حصہ پکڑ کر فرمایا:تہ بند کی جگہ یہاں تک ہے۔ اگر ٹھیک نہ لگے تو ذرا نیچے کرلو، پھر بھی موزوں نہ ہو تو اور نیچے کر لو،لیکن ٹخنوں سے نیچے تہ بند کا کوئی حق نہیں ہے‘‘۔

مسند حمیدی کے علاوہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت تعبیرات کے کچھ اختلاف کے ساتھ جن مراجع میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں:مسند طیالسی، رقم۴۲۶۔مسند ابن جعد، رقم۲۵۵۸۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۴۸۱۸۔مسند احمد، رقم۲۳۲۴۳، ۲۳۳۵۶، ۲۳۳۷۸، ۲۳۴۰۲۔سنن ابن ماجہ،رقم۳۵۷۲۔سنن ترمذی، رقم۱۷۸۳۔مسند بزار، رقم ۲۹۷۴۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۵۳۲۹۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۰۶، ۹۶۰۷، ۹۶۰۸، ۹۶۰۹، ۹۶۱۰۔صحیح ابن حبان، رقم۵۴۴۵، ۵۴۴۸، ۵۴۴۹۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۱۷۷۹، ۲۰۷۹۔

یہی واقعہ ایک طریق میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے اپنی نسبت سے بھی بیان کیا ہے۔ چنانچہ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۰۵میں ہے: ’عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: أَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَۃِ سَاقِيْ، فَقَالَ: ’’اتَّزِرْ إِلٰی ہَاہُنَا أَسْفَلَ مِنْ عَضَلَۃٍ، فَإِنْ أَبَیْتَ فَلاَ حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْکَعْبَیْنِ‘‘‘’’براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کا گوشت والا حصہ پکڑ کر فرمایا:اِس جگہ سے ذرا نیچے تک تہ بند کو لٹکا سکتے ہو۔ اگر یہ نہیں کرسکتے، تب بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ ٹخنوں پر تہ بند کا کوئی حق نہیں ہے‘‘۔

۱۳

إِنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ:۱ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ’’إِنَّ رَجُلاً۲ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ [فِي الْجَاہِلِیَّۃِ]۳ کَانَ [یَمْشِيْ فِيْ طَرِیْقٍ]۴ یَتَبَخْتَرُ۵ فِيْ حُلَّۃٍ لَہُ قَدْ أَعْجَبَتْہُ جُمَّتُہُ وَبُرْدَاہُ،۶ [قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَہُ]،۷ إِذْ خُسِفَ بِہِ الْأَرْضُ،۸ فَہُوَ یَتَجَلْجَلُ فِیْہَا حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ‘‘.۹

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ زمانۂ جاہلیت میں تمھارے اگلوں کا ایک شخص بہترین لباس میں اتراتا ہوا راستے پر چلا جا رہا تھا، اُس کے انداز سے ظاہر تھا کہ اُسے اپنے خوبصورت بالوں اور اپنی چادروں پر ناز ہے جو اُس نے اوڑھی ہوئی تھیں ، اپنا تہ بند اُس نے نیچے لٹکا رکھا تھا کہ اِسی اثنا میں اُس کو زمین میں دھنسا دیا گیا۔ اب وہ قیامت کے قائم ہونے تک اِسی طرح زمین میں دھنستا رہے گا۔۱

________

۱۔ قرآن میں اِسی طرح کا واقعہ بنی اسرائیل کے ایک متکبر قارون کے بارے میں بیان ہو اہے۔بائیبل میں تصریح ہے کہ اُس نے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی، یہاں تک کہ مباہلے کی نوبت آگئی اور اُسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سزا دی گئی۔اِس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ یہ بھی غالباً اِسی طرح کے کسی شخص کا ذکر ہے جس نے خدا کے کسی رسول کی طرف سے اتمام حجت کے باوجود اپنے اِس رویے پر اصرار کیا ہوگا، جس طرح کہ قوم لوط، قوم شعیب اور اِس طرح کی قوموں کے لوگوں نے اپنے بعض گناہوں پر کیااوراُس کے نتیجے میں خدا کے عذاب کا نشانہ بن گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں اِس کی مثال ابو لہب ہے جس کا انجام قرآن میں بھی مذکور ہے اور اُس کی تفصیلات روایتوں میں بھی دیکھ لی جاسکتی ہیں۔اِس طرح کے واقعات کو اِس پہلو سے دیکھنا اِس لیے ضروری ہے کہ دنیا میں اِس طریقے سے فوراً جزا وسزا کا ظہور اللہ تعالیٰ کا عام طریقہ نہیں ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن اصلاًمسند احمد، رقم۹۳۴۶سے لیا گیا ہے۔الفاظ کے اختلاف اور اجمال وتفصیل کے کچھ فرق کے ساتھ یہ واقعہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس کے مراجع یہ ہیں:جامع معمر بن راشد، رقم ۱۹۹۸۳۔ احادیث اسماعیل بن جعفر، رقم ۳۰۶۔ مسند ابن جعد، رقم۱۱۳۲۔ مسند اسحاق، رقم۸۰، ۸۱، ۸۲، ۵۰۰۔ مسند احمد، رقم۷۶۳۰، ۸۱۷۷، ۹۰۶۵، ۹۸۸۶، ۱۰۰۳۳، ۱۰۳۸۳، ۱۰۸۶۹۔ سنن دارمی،رقم۴۵۱۔صحیح بخاری،رقم۵۷۸۹۔صحیح مسلم،رقم۲۰۸۸۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۵۹۹۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۴۸۴۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۸۵۵۹، ۸۵۶۲، ۸۵۶۳، ۸۵۶۵، ۸۵۶۶، ۸۵۶۷، ۸۵۶۸، ۸۵۶۹۔صحیح ابن حبان، رقم۵۶۸۴۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۷۷۲۰۔

ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ اِن مصادر میں دیکھ لیا جاسکتا ہے: مسند احمد، رقم۵۳۴۰۔ صحیح بخاری، رقم ۳۴۸۵، ۵۷۹۰۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۲۶۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۵۹۸۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۸۵۷۱۔

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ جن مراجع میں نقل ہوا ہے، وہ یہ ہیں:مسند احمد، رقم۷۰۷۴۔ سنن ترمذی، رقم۲۴۹۱۔ مسند بزار، رقم۲۴۰۷، ۲۴۰۸۔

۲۔مسند اسحاق، رقم۵۰۰میں یہاں ’إِنَّ رَجُلاً‘’’ایک شخص ‘‘کے بجاے ’بَیْنَمَا شَابٌّ‘ ’’اِس اثنا میں کہ ایک نوجوان‘‘ کے الفاظ ہیں۔

۳۔یہ اضافہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ایک طریق، مسند بزار، رقم۲۴۰۷سے لیا گیا ہے۔

۴۔ احادیث اسماعیل بن جعفر، رقم۳۰۶۔

۵۔مسند اسحاق، رقم۵۰۰میں یہاں’یَتَبَخْتَرُ‘ ’’ناز کرتے ہوئے ‘‘کے بجاے ’مُخْتَالاً فَخُوْرًا‘ ’’غرور وفخر سے‘‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔

۶۔احادیث اسماعیل بن جعفر، رقم۳۰۶میں یہاں ’وَبُرْدَاہُ‘ ’’اور اپنی دونوں چادروں ‘‘کے بجاے ’وَرِدَاؤُہُ‘ ’’اور اپنی چادر‘‘ کے الفاظ ہیں۔

۷۔ جامع معمر بن راشد، رقم۱۹۹۸۳۔

۸۔مسند اسحاق، رقم۵۰۰میں یہاں’خُسِفَ بِہِ الْأَرْضُ‘’’ اُس کو زمین میں دھنسا دیا گیا‘‘کے بجاے ’ابْتَلَعَتْہُ الْأَرْضُ‘ ’’زمین اُس کو نگل گئی ‘‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔

۹۔روایت کے کئی طرق، مثلاً مسند احمد، رقم ۹۸۸۶ میں یہاں ’حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ‘ ’’قیامت کے قائم ہونے تک ‘‘کے بجاے ’إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘ ’’قیامت کے دن تک‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔

المصادر والمراجع

ابن أبي شیبۃ، أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.

ابن الجَعْد، علي بن الجَعْد بن عبید الجَوْہَري البغدادي (۱۴۱۰ھ/ ۱۹۹۰م). مسند ابن الجعد. ط۱. تحقیق: عامر أحمد حیدر. بیروت: مؤسسۃ نادر.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ).المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دارالمعرفۃ.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.

ابن راہویہ، إسحاق بن إبراہیم بن مخلد بن إبراہیم الحنظلي المروزي.(۱۴۱۲ھ/ ۱۹۹۱م). مسند إسحاق بن راہویہ. ط۱. تحقیق: د. عبد الغفور بن عبد الحق البلوشي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ الإیمان.

ابن عبد البر، أبو عمر یوسف بن عبد اللّٰہ القرطبي. (۱۴۱۲ھ ؍ ۱۹۹۲م). الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب. ط۱. تحقیق: علي محمد البجاوي. بیروت: دار الجیل.

ابن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.

أبو داود، سلیمان بن الأشعث، السِّجِسْتاني. (د.ت). سنن أبي داود. د.ط.تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.

أبو عوانۃ، الإسفراییني، یعقوب بن إسحاق النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.

أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. مسند أبي یعلٰی. ط۱. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.

أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

إسماعیل بن جعفر بن أبي کثیر، أبو إسحاق، الأنصاري، المدني. (۱۴۱۸ھ / ۱۹۹۸م). حدیث علی بن حجر السعدي عن إسماعیل بن جعفر المدني. ط۱. دراسۃ و تحقیق: عمر بن رفود بن رفید السّفیاني. الریاض: مکتبۃ الرشد للنشر.

البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.

البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م).

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء.

الترمذي، أبو عیسٰی، محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). سنن الترمذي. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض.مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.

الحاکم ، أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ/ ۱۹۹۰). المستدرک علی الصحیحین.ط۱. تحقیق: مصطفٰی عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

الحمیدي، أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر بن عیسٰی القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). مسند الحمیدي. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.

الدارمي، أبو محمد عبد اللّٰہ بن عبد الرحمٰن، التمیمي. (۱۴۱۲ھ/۲۰۰۰م). سنن الدارمي. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد الداراني الریاض: دار المغني للنشر والتوزیع.

الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ؍۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.

السیوطي، جلال الدین، عبد الرحمٰن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري.الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۴م). مسند الشامیین. ط۱. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). المعجم الصغیر. ط۱. تحقیق: محمد شکور محمود الحاج أمریر. بیروت: المکتب الإسلامي.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.

الطیالسي، أبو داود سلیمان بن داود البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). مسند أبي داود الطیالسي. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.

عبد الحمید بن حمید بن نصر الکَسّي، أبو محمد. (۱۴۰۸ھ/ ۱۹۸۸م). المنتخب من مسند عبد بن حمید. ط۱. تحقیق: صبحي البدري السامراءي، محمود محمد خلیل الصعیدي. القاہرۃ: مکتبۃ السنۃ.

القضاعي، أبو عبد اللّٰہ محمد بن سلامۃ بن جعفر.(۱۴۰۷ھ/ ۱۹۸۶م). مسند الشہاب. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مالک بن أنس بن مالک بن عامر، الأصبحي، المدني. (۱۴۲۵ھ / ۲۰۰۴م). الموطأ. ط۱. تحقیق: محمد مصطفٰی الأعظمي. أبو ظبي: مؤسسۃ زاید بن سلطان آل نہیان للأعمال الخیریۃ والإنسانیۃ.

مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

معمر بن أبي عمرو راشد، الأزدي، البصري. (۱۴۰۳ھ). الجامع. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. بیروت: توزیع المکتب الإسلامي.

النسائی، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

النووي، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List