Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Dr Mohammad Ghitreef Shahbaz Nadvi Profile

Dr Mohammad Ghitreef Shahbaz Nadvi

  [email protected]
Author's Bio
Visit Profile
کیا جاوید احمد غامدی امت مسلمہ کی اکثریت کی تکفیر کرتے ہیں؟ | اشراق
Font size +/-

کیا جاوید احمد غامدی امت مسلمہ کی اکثریت کی تکفیر کرتے ہیں؟

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی*

[’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

[نادرعقیل انصاری کے کھوٹے فتوے کا تجزیہ]

فی زمانہ امت مسلمہ جن شدیدداخلی مشکلات سے دوچارہے، ان میں تکفیرکے فتنہ نے بڑارول اداکیاہے۔بات تلخ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں،مسلکوں،مشربوں اورجماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف تکفیر و تفسیق کابے محابااوربے مہاراستعمال کیاہے اورآج بھی اس میں کوئی کمی بعض اہل افتااوراہل مدارس کی روش کو دیکھتے ہوئے کہناپڑرہاہے کہ نہیں آ رہی ہے۔ اس کی دسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں، لیکن سردست اس کوکسی دوسرے موقع کے لیے اٹھارکھتے ہیں۔ فتنۂ تکفیرمیں سب سے زیادہ استعمال موجودہ رائج مذہبی بیانیہ کا ہوتا ہے۔ جو مسئلہ کو تکفیر تک محدودنہیں رکھتا، بلکہ باقاعدہ دہشت گردی اورقتل وقتال کی طرف لے جاتاہے (دیکھیے: ڈاکٹرعرفان شہزاد، جہادی بیانیہ کی تشکیل میں روایتی مذہبی فکرکا کردار، الشریعہ، مئی ۲۰۱۷ء)۔
اسی داخلی صورت حال کی تبدیلی کے پیش نظرکچھ عرصہ پہلے جناب جاویداحمدغامدی نے اپناایک مذہبی بیانیہ پیش کیا جس میں انھوں نے فتنۂ تکفیر پر بھی اظہارخیال کیاکہ ہم کودوسروں کی گم راہی پر متنبہ کرنے اوران پر تنقیدکرنے کا تو حق ہے، مگران کی تکفیرکا نہیں ۔غامدی صاحب کاموقف عصرحاضرکے تناظرمیں بالکل درست اورمطابقِ حق تھا۔ لیکن وہ اس مسئلہ کوکسی فقہی تناظرمیں نہیں لے رہے تھے، مگر ان کے ناقدین نے عموماًاس چیز کونظراندازکرتے ہوئے اس کو لے کرتکفیرکے جوازوعدم جوازکی بحث چھیڑدی جوبالکل غیرمتعلق تھی۔لیکن بات یہیں رکی نہیں، ناقدینِ غامدی کے سالارطائفہ جناب نادرعقیل انصاری نے جوابی پلٹ وار کیا، جس میں، افسوس کہ وہ علمی متانت وسنجیدگی کوبھی کھو بیٹھے اورہزیان گوئی پر اترآئے ۔چنانچہ وہ یہ دورکی کوڑی لے کرآئے کہ جناب جاویداحمدغامدی توخودامت مسلمہ کی اکثریت کی تکفیرکرتے ہیں۔
محترم انصاری صاحب لکھتے ہیں:

’’ایک مسئلہ یہ کہ خود جاوید احمد غامدی صاحب نے امت کے سواد اعظم کی تکفیر کی ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے جب امت کے عظیم قائدین، علماء، صوفیاء ، اور مجتہدین و مجددین سے اپنا اختلاف بیان کیا تو یہ ان کا حق تھا۔ لیکن وہ یہاں نہیں رکے۔ انہوں نے فقط یہ نہیں کہا کہ میں ان کی دینی تعبیرات سے اختلاف رکھتا ہوں، یہ نہیں کہا کہ یہ میری اجتہادی رائے ہے، یہ نہیں کہا کہ صوفیاء کی رائے میں صحت، اور میری رائے میں خطا کا احتمال ہے! اس کے بجائے وہ متشددانہ انتہاپسندی کی آخری حدوں پر پہنچ گئے اور انہیں دینِ اسلام کے دائرے ہی سے نکال دیا۔ لکھتے ہیں: ’’[تصوف] اُس دین کے اصول و مبادی سے بالکل مختلف ایک متوازی دین ہے، جس کی دعوت قرآن مجید نے بنی آدم کو دی ہے۔‘‘ (برھان، صفحہ:۱۸۱)۔’’اس باب میں قران مجید کی اس صراط مستقیم سے انحراف کے بعد، جس میں نہ ممکن کے لیے وجود کا اثبات کوئی شرک ہے، اور نہ موجود یا مشہود صرف اللہ ہی کو قرار دینا توحید کا کوئی مرتبہ ہے، اہل تصوف نے جو راہ اختیار کی ہے، یہ سب اسی کے احوال و مقامات ہیں۔‘‘ (برھان، ۱۸۸)۔’’اپنشد، برہم سوتر، گیتا، اور فصوص الحکم کو اس دین میں وہی حیثیت حاصل ہے جو نبیوں کے دین میں تورات، زبور، انجیل، اور قرآن [مجید] کو حاصل ہے.‘‘ (برھان، ۱۹۲)۔صوفیاء کرام نے ’’حریم نبوت میں نقب‘‘ لگائی ہے (برھان، ۱۹۹)۔ ’’ایک پوری شریعت ہے جو خدا کی شریعت سے آگے اور قرآن و سنت سے باہر، بلکہ ان کے مقاصد کے بالکل خلاف ان اہلِ تصوف نے طریقت کے نام سے رائج کرنے کی کوشش کی ہے.‘‘ (برھان، ۲۰۹)۔’’اسلام کے مقابلے میں تصوف ایک عالمگیر ضلالت ہے۔‘‘ (برھان، ۱۹۲)

ہم اس سلسلہ میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتے ہیں:
پہلی بات یہ کہ جناب انصاری صاحب نے محترم غامدی صاحب کی عبارتوں کے ٹکڑے ان کی کتابوں سے کانٹ چھانٹ کر نقل کیے ہیں۔کوئی بھی فقرہ اپنے سیاق وسباق کے ساتھ پورے معنی دیتا ہے، اس لیے انصاف کی بات تو تب ہوتی جب آپ پوری عبارتیں نقل کرتے ۔ان فقروں میں غامدی صاحب نے تصوف پر شدیدتنقیدفرمائی ہے اوراس تنقید میں وہ بالکل حق بجانب ہیں اورصرف غامدی صاحب ہی نے نہیں،بلکہ کئی اوراہل علم، بلکہ ائمۂ کرام نے بھی تصوف پر شدید تنقیدکی جس کوہم آگے نقل کریں گے ۔غامدی صاحب کے ان فقروں کوآپ باربار پڑھیں ذرا بھی خیال نہیں گزرے گاکہ یہ باتیں کہنے والااہل تصوف کی تکفیر کر رہا ہے، زیادہ سے زیادہ کہاجاسکتاہے کہ ان کا اندازبیان ذرا سخت ہوگیاہے، مگرجناب انصاری صاحب زورزبردستی ان سے تکفیرکا مطلب کشید کرتے ہیں۔دیکھیے کس طرح، فرماتے ہیں:

’’جو ان اوصاف کا حامل ہو وہ دائرہ دین سے خارج ہوتا ہے۔ یہی تکفیر ہے۔ بلکہ یہ تکفیر سے اشدّ ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ یہی قبول کیا جائے گا۔ اس کے مقابل، اس سے مختلف، اور اس کے متوازی ادیان بھی موجود ہیں جیسے یہودیت، عیسائیت، ہندومت، وغیرہ۔ لیکن اسلام کا دعویٰ ہے کہ فقط وہی حق ہے، باقی ادیان باطل ہیں، اور مآل کار ان کے پیروکار آخرت میں فلاح نہ پا سکیں گے‘‘۔ ... صراطِ مستقیم ایک ہی ہے، اور وہ دینِ اسلام ہے۔اب اگر صوفیاء نے اس صراط مستقیم کو چھوڑ دیا ہے، تو وہ کافر ٹھہرے۔ جب غامدی صاحب ائمۃ المسلمین (ائمۃ المسلمین کونہیں صوفیاکو،معروف ائمہ میں کوئی بھی صوفی نہیں تھا(غ) کو اسلام کے متوازی دین کا پیروکار بتاتے ہیں، تو اس کا مطلب تکفیر کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔صوفیائے کرام کے بارے میں جاوید غامدی صاحب کا یہ فتویٰ تکفیر کے عام فتاویٰ کے مقابلے میں شدید تر ہے۔کسی مسلمان فرد یا گروہ کی تکفیر ایک بات ہے، اور تقریباً پوری امت مسلمہ کی تکفیر اس سے کہیں زیادہ شنیع کام ہے۔‘‘(انصاری صاحب کایہ مضمون دلیل ڈاٹ کام پر موجودہے )

اس پوری عبارت میں انصاری صاحب غامدی صاحب کے منہ میں اپنی باتیں ڈال رہے ہیں۔ صوفیا کو کافر آپ بنا رہے ہیں، مجرم غامدی صاحب کوٹھیرارہے ہیں!پھریہ کہ صوفیاپوری امت مسلمہ کس منطق کی روسے قرارپاگئے؟ بریں عقل و دانش بباید گریست۔
لیکن ذراٹھیریے، ہم آپ کے صغریٰ کبریٰ کا نتیجہ آپ کے سامنے کچھ سوالوں کی شکل میں رکھ رہے ہیں۔
غامدی صاحب اصولاًتکفیرکے قائل نہیں، وہ کہتے ہیں کہ گم راہ فرقوں،جماعتوںیااشخاص کی گم راہی کی وضاحت کر دیجیے، آپ کا کام ختم ۔آپ اپنی ذمہ داری سے بری، اب معاملہ ان کے اوراللہ کے مابین ہوگا۔تصوف اوراہل تصوف کے بارے میں غامدی صاحب کے ارشادات اسی قسم کے ہیں،وہ ان کوعلی وجہ البصیرۃ گم راہ سمجھتے ہیں اوراس کے دلائل دیتے ہیں۔آپ کوان کے دلائل سے اتفاق نہیں ہے توآپ اپنے دلائل دے دیجیے اوربس۔یہی کام اہل علم ہمیشہ کرتے رہے ہیں اوران کے اس نقدکوکسی نے بھی تکفیرشمارنہیں کیا۔ذراغورکیجیے کہ آپ نے جوصغریٰ کبریٰ مرتب کیا ہے، اس کی زدکہاں کہاں پڑے گی ۔سنیے:
مفسرین کی بڑی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ انسان اللہ کا خلیفہ ہے، لیکن امام ابن تیمیہ کونہ صرف اس سے اختلاف ہے، بلکہ وہ کہتے ہیں: ’من جعل لہ خلیفۃ فہو مشرک بہ‘ (مجموع الفتاویٰ ۲/ ۵۵۲)۔ اب آپ کے صغریٰ کبریٰ کومان لیاجائے تواس کامطلب یہ ہواکہ ابن تیمیہ بیش تر مفسرین کی تکفیرکرتے ہیں کہ وہ توصاف صاف شرک کا لفظ استعمال کررہے ہیں، غامدی صاحب نے ’شرک‘ یا ’کفر‘ کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا!
محدثین کرا م نے اہل کلام پر شدیدتنقیدکی ہے ،ان کی کتابیں پڑھنے سے منع کیا ہے، ان کے کلام کوکفریات سے مملو بتایا ہے۔ مثلاً امام احمدبن حنبل ،وکیع بن الجراح،یزیدبن ہروان اورامام مزنی کے مطابق خلق قرآن کا دعویٰ کرنے والا کافر ہے، امام بخاری نے تویہاں تک کہاکہ یہودیوں،عیسائیوں اورمجوسیوں میں سے ’’جہمیہ‘‘ جیسا کافر اجہل میں کسی کو نہیں پاتا، امام احمدکہتے ہیں: ’لا تجالسوا أہل الکلام‘، ’’اہل کلام کے ساتھ نہ بیٹھا کرو‘‘ (عبدالرحمن ابن الجوزی مناقب الامام احمدبن حنبل ۲۱۰)۔
اوراہل کلام میں اہل سنت کی جلیل القدرشخصیات اورائمہ شامل ہیں توکیایہ ماناجائے کہ محدثین متکلمین کی تکفیرکرتے ہیں؟
متکلمینِ اسلام اشعری، ابو منصور ماتریدی، امام غزالی اوررازی نے اہل اعتزال کومبتدع ،گم راہ اوراہل ضلال قراردیاہے توکیااس کومعتزلہ کی تکفیر(آپ کے صغریٰ کبریٰ کے مطابق )تسلیم کیاجائے ؟
وجودی متصوفین اوران کے امام محی الدین ابن عربی،صدرالدین قونوی اوران کے متبعین کی ابن تیمیہ اتنے شدید الفاظ میں تنقیدومذمت کرتے ہیں کہ غامدی صاحب کے الفاظ بالکل ہلکے معلوم ہوتے ہیں،صدررومی کے مسلک کا ذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں: ’ہو أبعد عن الشریعۃ والإسلام‘، ’’وہ شریعت اوراسلام سے بہت دور ہے‘‘۔ ابن عربی کے ایک دوسرے شاگردتلمسانی کے بارے میں لکھا ہے: ’وأما الفاجر التلمساني فہو أخبث القوم وأعمقہم في الکفر‘، ’’فاجر تلمسانی توصوفیا میں سب سے خبیث اور کفر میں سب سے گہرا اترا ہوا ہے‘‘ ۱؂ تو کیا اس کو ابن عربی اوران کے شاگردوں کی تکفیرسمجھاجائے ؟
نمازدین کی بنیاداوراس کا اہم ستون ہے ،یہ دین کی جامع عبادت ہے ۔قرون مشہودلہابالخیرمیں یہ تصورہی نہیں ہو سکتا تھاکہ کوئی مسلمان نمازچھوڑبھی سکتاہے ۔اس کی اہمیت وعظمت کے بارے میں متعدداحادیث واردہوئی ہیں مثلاً: ’الصلاۃ عماد الدین من أقامہا فقد أقام الدین ومن ہدمھا ہدم الدین‘، ’’نمازدین کا ستون ہے، جس نے اس کوقائم رکھا، اس نے دین کوقائم رکھااورجس نے اس کو ڈھا دیا، اس نے دین کو ہی ڈھا دیا‘‘، اور فرمایا: ’لا تترک صلاۃ ممکتوبہ متعمدًا فمن ترکہا متعمدًا فقد برئت منہ الذمۃ‘، ’’فرض نمازجان بوجھ کر نہ چھوڑ دینا کہ جس نے اس کوجان بوجھ کر چھوڑ دیا، اس سے اللہ کا ذمہ اٹھ گیا‘‘۔ ۲؂ ’بین العبد وبین الکفر ترک الصلاۃ‘، ’’بندہ اور کفر کے بیچ نمازکاترک ہے کہ جس نے نماز ترک کر دی اس نے کفر کر دیا‘‘(ابوداؤد، رقم ۴۶۷۸)۔
آج امت مسلمہ کی اکثریت نمازکی تارک ہے، اب کوئی شخص یہ احادیث بے نمازی مسلمانوں کے سامنے پیش کرے توکیااُس کوکہاجائے گاکہ اس نے ان مسلمانوں کی تکفیرکردی ؟(ہدم دین اورمتوازی دین بنالیناایک ہی درجہ کی چیزہیں)۔
شیخ احمدسرہندی مجددالف ثانی خودصوفیاے کبارمیں سے ہیں، مگر وحدت الوجود کے شدیدناقدوہ ابن عربی سے ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ہم کوفتوحات مدنیہ نے ’’فتوحات مکیہ‘‘ سے اورنصوص (شریعت) نے ’’فصوص‘‘ (الحکم) سے بے نیازکردیاہے ‘‘ان کے (ابن عربی کے)اکثرکشفی علوم جواہل سنت کے علوم سے اختلاف رکھتے ہیں،صحت سے دورہیں ،ان کی پیروی یاتووہ کرے گاجس کا دل بیمارہے یامقلد محض‘‘۔۳؂ کیا اس کوبھی ابن عربی اورمتصوفین کی تکفیرکہیں گے ؟
دورکیوں جائیے، خوداقبال ایرانی ومجوسی تصوف کے شدیدناقدرہے ہیں۔ سنیے، کیافرماتے ہیں:
وکیل امرتسرمیں ’’اسرارخودی اورتصوف‘‘ کے عنوان سے (۱۵ جنوری ۱۹۶۱ء) ایک مضمون اقبال نے لکھااس میں وہ لکھتے ہیں: شیخ محی الدین ابن عربی کا مسئلہ قدمِ ارواح،وحدۃ الوجودیامسئلہ تنزلات ستتہ یادیگرمسائل جن میں بعض کا ذکر عبدالکریم جیلی نے اپنی کتاب ’’انسان کامل ‘‘میں کیاہے ۔مذکورہ تینوں مسائل میرے نزدیک مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، مسئلہ قدمِ ارواح افلاطونی ہے، بوعلی سینا اور ابو نصر فارابی دونوں اس کے قائل تھے، چنانچہ امام غزالی نے اس وجہ سے دونوں کی تکفیرکی — تنزلات ستہ افلاطونیت جدیدکے بانی پلوٹائنس کا تجویز کردہ ہے — میرا مذہب یہ ہے کہ خداتعالیٰ نظام عالم میں جاری و ساری نہیں (یہ قدیم ہندوفلسفہ کا جزہے،غ)بلکہ نظام عالم کا خالق ہے اوراس کی ربوبیت کی وجہ سے یہ نظام قائم ہے، جب وہ چاہے گااس کا خاتمہ ہوجائے گا — رونا اس بات کا ہے کہ یہ مسئلہ اسلامی لٹریچرکا ایک غیرمنفک عنصربن گیاہے اوراس کے ذمہ دارزیادہ ترصوفی شاعر ہیں۔ جو پست اخلاق اس فلسفیانہ اصول سے بطور نتیجہ پیداہوتے ہیں ان کا بہترین گواہ فارسی زبان کا لٹریچر ہے‘‘۔ اقبال وحدۃ الوجود کو ہندو فلسفہ سے ماخوذ قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’مسئلہ اناکی تحقیق وتدقیق میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی ذہنی تاریخ میں ایک عجیب وغریب مماثلت پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ جس نکتۂ خیال سے سری شنکرنے گیتا کی تفسیر کی اسی نکتۂ خیال سے شیخ محی الدین ابن عربی اندلسی نے قرآن کی تفسیرکی جس نے مسلمانوں کے ذہن ودماغ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔‘‘ (دیباچہ مثنوی اسرار خودی بحوالہ ترجمان دارالعلوم دیوبند ص ۳۵، اپریل۔ جون ۲۰۱۶ء نئی دہلی)۔
اتناہی نہیں اقبال مولاناسیدسلیمان ندوی کواپنے خط میں لکھتے ہیں کہ :

’’اس میں ذراشک نہیں کہ تصو ف کا وجودہی سرزمین اسلام میں ایک اجنبی پوداہے ،جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے۔ آپ کو خیر القرون والی حدیث یادہوگی ،اس میں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میری امت میں تین قرنوں کے بعد سمن (ویظہر فیہا السمن) کا ظہور ہو گا ۔۔۔ سمن سے مراد رہبانیت ہے‘‘۔ (اقبال نامہ ،حصہ اول ص۷۸،۷۹(مؤرخہ ۱۲ نومبر ۱۹۱۶ء)

محترم جاویداحمدغامدی صاحب جب تصوف کوایک متوازی دین کہتے ہیں توکیایہ دوسرے لفظوں میں اقبال کی ترجمانی نہیں ؟
اقبال یہیں نہیں رکتے، بلکہ تصوف کو(ایرانی وعجمی )کوجھوٹاقراردیتے ہیں۔فرماتے ہیں:

’’شریعت سے اعراض کا رجحان اسی جھوٹے تصوف کا براہ راست نتیجہ ہے جوعجمی دل ودماغ کی پی داوارہے حالانکہ شریعت ہی اسلامی معاشرہ کومنظم ومرتب رکھنے کا واحدذریعہ ہے‘‘۔ (مقالات اقبال (اردوترجمہ)، مرتبہ: سید عبدالواحد معینی، آئینۂ ادب لاہور ۱۹۸۸ء، ص۳۰۰)

اقبال تویہاں تک گئے ہیں کہ کہتے ہیں:

’’بعض صوفیاء کی نسبت تاریخی شہادت بھی اس امرکی موجودہے کہ وہ قرمطی تحریک سے تعلق رکھتے تھے۔‘‘(خطوط اقبال ص۱۱۵بحوالہ ترجمان دارالعلوم دیوبند ص ۳۵، اپریل۔ جون ۲۰۱۶ء نئی دہلی)

ملا اور ملائیت سے بھی اقبال بے زارتھے۔ کہتے ہیں:

دینِ کافر فکر و تدبیر و جہاد          دینِ ملا فی سبیل اللہ فساد

لفظ ’فساد‘پر غورکریں اوراللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد یاد کریں: ’وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ‘ (اللہ تعالیٰ فسادکوپسندنہیں کرتا) (البقرہ۲: ۲۰۵)، ’ان اللّٰہ لا یحب المفسدین‘ وغیرہ مختلف آیات کریمہ۔
اقبال مسلمانوں کومخاطب کرکے کہتے ہیں:

وہ زمانہ میں معزز تھے مسلماں ہو کر          اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

کیاترکِ قرآں کفرسے کم ہے؟اگرآپ میں جرأت ہے توپھرآپ کہیے کہ اقبال نے بھی امت مسلمہ کی تکفیرکی !!
مولانامودودی نے تصوف کو’’چنیابیگم ‘‘کہا(ملاحظہ ہو، تجدیدواحیاء دین )۔
حضرت انصاری صاحب مشتے نمونہ ازخر وارے، یہ مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ بھی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔اب آپ فرمائیے کہ ہم نے جوسوال کیے ہیں، کیاآپ ان کا جواب اثبا ت میں دیتے ہیں، یعنی آپ ان تنقیدوں کوتکفیرکے مترادف مانتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہم آپ کے لیے یہی عرض کرسکتے ہیں:

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں          مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

اوراگرایسانہیں ہے اورہرگزنہیں ہے توآپ اپنے بنے ہوئے جال میں پھنس گئے ۔آپ ایسی بندگلی میں پھنسے ہیں کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ۔
ا ب جہاں تک نفس تصوف پرتنقیدکی بات ہے تواس سلسلہ میں بھی کچھ معروضات پیش کرنا مناسب ہیں۔
تصوف کی اصطلاح سے قرآن وحدیث کے صفحات خالی ہیں۔قرآن تزکیہ کا ذکرکرتاہے اورحدیث میں ’احسان‘ کا لفظ آیاہے۔قرون اولیٰ میں تصوف سے مراداخلاص فی العمل لیا جاتا تھا، جو دین میں مطلوب ہے، لیکن بعدمیں تصوف فلسفہ بن گیا۔تزکیہ واحسان ،صالحین کی صحبت اورذکراللہ کی اہمیت سے کس کوانکارہوسکتاہے۔غامدی صاحب جس تصو ف کومستردکرتے ہیں، یہ وہ تصوف ہے جس میں وحدت الوجود ہے؛ جہاں خالق مخلوق کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے؛ جس میں تصورشیخ ہے؛ جس میں ’صلاۃ معکوس‘ (الٹا لٹک کر نماز پڑھنا ہے)؛ جس میں الااللہ کی ضربیں ہیں؛ حبس انفاس ہے؛ درد دِلَکھی ہے؛ دعائے گنج العرش ہے؛ ختم خواجگان ہے؛ جس میں مزعومہ اولیاء اللہ کے شجرے پڑھے جاتے ہیں،ان سے برکت حاصل کی جاتی اور بلائیں ٹالی جاتی ہیں؛ جس میں پیرومرشدکومثل خدا سمجھا جاتا ہے۔ مولاناروم (۶۷۳ھ) کے مطابق پیراورذات باری تعالیٰ برابر ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

پیر کامل صورت ظلِ علا          یعنی دید پیر دید کبریا
ہر کہ پیر و ذات را یکجا ندید          نے مریدونے مریدونے مرید

’’پیراللہ کے سایہ کی صورت ہے اورپیرکودیکھناخودذات کبریاکودیکھناہے۔جومریدپیراورذات باری کو ’’ایک‘‘ نہ دیکھے، وہ مریدہی نہیں، مریدہی نہیں، مریدہی نہیں۔‘‘
جس کی تعلیم ہے: بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیرمغاں گوید(پیرکہے تو جائے نمازکوشراب سے رنگین کر دو)۔ یہ وہ تصوف ہے جس میں منصورکی ’أنا الحق‘ ہے، امداد اللہ مہاجر مکی کا اپنے جبہ کو لپیٹ کر بیٹھنا اور ’ما في جبتي إلا اللّٰہ‘ کہنا ہے۔ جس میں بایزیدبسطامی کا ادعائے ’سبحاني ما أعظم شأني‘ ہے۔ جس میں چِلے ہیں ، قبروں اور مزاروں پر مراقبے ہیں۔کوہوں اورغاروں میں پناہ لینا،نفس کشی اورزندگی اوراس کے مسائل سے فرارہے۔ جس میں بزرگوں کے تصرفات، استمداد بالا رواح اور حلول ہے اورجس میں علم کو حجاب اکبر سمجھا جاتا ہے۔ اگراِس تصوف کوغامدی صاحب عالم گیر ضلالت کہتے ہیں تو کیا غلط کہتے ہیں!کیاان میں کسی ایک چیز کی سندبھی قرآن میں ہے؟ رسول اللہ کے اسوہ میں ہے ،صحابہ کرام کے عمل میں ہے، ائمۂ دین سے ثابت ہے؟ ’قرون مشہود لہا بالخیر‘ میں ان میں سے کوئی چیزنہیں پائی جاتی ۔یہ سب بعدکی بدعات ہیں ۔دین کی بنیادقرآن وسنت ہیں۔ انھی کی سندپر کوئی چیز قبول اور رد کی جائے گی۔ یہاںیہ نہیں دیکھاجائے گاکہ مسلمانوں کی اکثریت کا عمل کیاہے اوروہ کن کن کے درپرجھکی ہوئی ہے۔دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل کر دیا گیا اور کہہ دیا گیا: ’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا‘، ’’میں نے تمھارا دین تمھارے لیے مکمل کر دیا، اپنی نعمت تم پر پوری کردی اور اسلام کو تمھارے لیے دین منتخب کر لیا‘‘ (المائدہ ۵: ۳)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ترکت فیکم أمرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما: کتاب اللّٰہ وسنتي‘، ’’میں نے تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ دی ہیں جب تک ان سے تمسک کیے رکھوگے گمراہ نہ ہوگے وہ ہیں: اللہ کی کتاب اورمیری سنت‘‘(مسلم، رقم ۲۱۳۷)۔
محترم انصاری صاحب نے اسماعیل شہید کی ’’عبقات‘‘ کی پیروی کی دہائی دی ہے۔ حضور، کچھ خبربھی ہے کہ اسماعیل شہید کا کہنا ہے کہ ’’رسول اللہ کے بعددین میں کسی اضافہ کی بات کہنا کفر ہے‘‘ (پروفیسر ثریا حسین، سرسید اور ان کا عہد: ۲۰۱۵ء ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، ص ۶۲)۔
اصلاح ودعوت کی تاریخ میں ہمیشہ منکرات وبدعات پر شدیدالفاظ میں تنقیدکی جاتی رہی ہے، خصوصاًاگراس کا تعلق عقائدوعبادات سے ہو، ابن جوزی کی ’’تلبیس ابلیس‘‘ دیکھ لیجیے، ابن تیمیہ کی ’’اقتضاء الصراط المستقیم ومخالفۃ اصحاب الجحیم‘‘ اور ’’منہاج الاعتدال‘‘، نیز ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ دیکھ لیں۔ مجدد الف ثانی کے مکتوبات اورشاہ ولی اللہ کے رسائل (جن میں انھوں نے علما، فقہا اور صوفیا کو خطاب کیا ہے) پڑھ لیں۔ ہرجگہ یہ نظارہ دکھائی دے گا۔
انصاری صاحب کی جتنی تحریریں ہم نے پڑھیں، ایسامحسوس ہوتاہے کہ ان کوغامدی صاحب سے اللہ واسطے کا بیر ہے، اس لیے وہ تنقیدکے اس اصول کوجان بوجھ کرنظرانداز کرتے ہیں کہ ’’جس موقف پر آپ نقدکررہے ہیں، اس کو بلا کم و کاست صاحب موقف کے لفظوں میں نقل کریں، تب اس پر نقدکریں۔اورکسی شخص کا موقف وہی سمجھا جائے گا جو اس نے صراحتاً اپنے کلام میں بتادیاہے‘‘ ۔وہ اپنے طورپر ایک نتیجہ اخذکرتے ہیں،زبردستی اوردھاندلی سے اس کو غامدی صاحب کے سرمنڈھتے ہیں، پھر اس پر تبصرہ بازی کا شوق فرماتے ہیں۔یہ علمی نقد نہیں، لفظوں سے کھیلنا ہے، بلکہ ’یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِہِ‘ کا مصداق ہے۔ اگربدعات ومنکرات پر اہل علم کے غیظ و غضب کے اظہار کو تکفیر قراردیاجارہاہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کے بارے میں جناب کی راے عالی کیاہے؟ ’من أحدث في أمرنا ہذا فہورد‘ ( متفق علیہ) اور ’کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ في النار‘ (رواہ مسلم)۔ یادرہے کہ یہ وعیدآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبوں میں شامل ہوتی تھی، اور آج بھی جمعہ کے خطبوں میں پڑھی جاتی ہے۔

________
* رسرچ ایسوسی ایٹ مرکزبرائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند، علی گڑھ، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ انڈیا۔
۱؂ ملاحظہ ہو مولانا ابو الحسن علی ندوی، تاریخ دعوت وعزیمت ۳/ ۷۴، مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤ۔
۲؂ مشکوٰۃ المصابیح، ولی الدین تبریزی ۵۹ طبع رشیدیہ دہلی۔
۳؂ مولاناابوالحسن علی ندوی، تاریخ دعوت وعزیمت ۴/ ۱۵۵۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List