Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

​جوابی بیانیہ اور قومی بیانیہ — ایک تقابلی جائزہ | اشراق
Font size +/-

​جوابی بیانیہ اور قومی بیانیہ — ایک تقابلی جائزہ

حال ہی میں وزیر اعظم کی جانب سے ’جوابی بیانیے‘ کے تجدیدِ مطالبہ کے نتیجے میں چھڑنے والی بحث کے استقصا سے پتا چلا کہ مفتی منیب الرحمٰن صاحب کی جانب سے ایک ’قومی بیانیہ‘ ۲۰۱۵ء میں ہی تیار ہو چکا تھا۔ بنیادی ڈھانچہ اگرچہ مفتی صاحب ہی کا تھا، تاہم اُن کی رُوداد کے مطابق تمام مکاتبِ فکر کے نمایندہ علما کی جانب سے حذف و اضافے کی تضمیم و توثیق کے بعد متفقہ مسودہ متعلقہ وفاقی اداروں کو ارسال بھی کر دیا گیا تھا۔ ہماری بدقسمتی کہ یہ اہم ترین پیش رفت شاید گم نامی اور شاید کوتاہ بینی سے علم میں اب تک نہ آسکی تھی۔ خیر اب چونکہ یہ مسودہ جس کا بے چینی سے انتظار تھا، جسے مسلمانوں اور خصوصاً پاکستانیوں کو درپیش مہلک عالم گیر نظریاتی وباؤں کے لیے نسخۂ کیمیا بننا تھا، جب نمودار ہو چکا تو اب یہ ایک دیانت دارانہ علمی تجزیے کا متقاضی ہے۔

۲۰۱۵ء ہی کے آغاز میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کا مسودہ ’’اسلام اور ریاست — ایک جوابی بیانیہ‘‘ اس سے پہلے ہی شائع ہو چکا تھا۔ چنانچہ اب جب کہ یہ دونوں بیانیے — یعنی علما کا قومی بیانیہ اور غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ — منظر عام پرآ چکے، لہٰذا اب ان دونوں کا تقابل و تجزیہ آسان بھی ہو گیا ہے اور ضروری بھی تاکہ یہ پرکھا جا سکے کہ کون سے وہ نظریات ہیں جو اب اس منتشر قافلے کی شیرازہ بندی کے لیے بانگ درا بننے کے اہل ہیں۔

یہ بات کوئی محتاج بیان نہیں کہ حکومت یا اہلِ علم و دانش جس بیانیے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اُ س کے موضوعات و مندرجات کی نوعیت کیا ہونی چاہیے، کیونکہ یہ تو آپ سے ہویدا ہے کہ اُن کی مراد اُن بنیادی مذہبی نظریات — جن کا پرچار دہشت گرد اور انتہا پسند کرتے ہیں — کے جواب میں ایسے نئے یا درست دینی نظریات ہیں جو قوم اور امت کی سمت و احوال میں بہتری کی طرف گامزن کرنے کا موجب بنیں۔ بہر حال اس بات کا بیان یہاں کر دینا مناسب معلوم پڑا۔

تجزیے کے لیے آئیے پہلے مفتی منیب صاحب کے قومی بیانیے کا ایک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں کہ غامدی صاحب کے جوابی بیانیے پر تو بعض پہلوؤں سے بہت کلام (ہرچند ناکافی) اب تک ہو چکا ہے، اور پھر یہ دیکھتے ہیں کہ جس تناظر میں اور جن امراض کے علاج کے لیے یہ لکھے گئے ہیں، یہ دونوں بیانیے کس حد تک اُن کی رگ معدن معین اور اُن کی تشخیص کر پائے ہیں، اور کس تشخیص کے نتیجے میں قافلے کے رخ میں درستگی کے لیے کس قدر رہنمائی مل پائے گی۔

خلاصۂ قومی بیانیہ از مفتی منیب الرحمٰن

مفتی صاحب نے مملکتِ پاکستان کی اسلامی اساسوں کی نشان دہی کے بعد موجودہ ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کا مطالبہ دہرایا اور نفاذِ شریعت کی جدوجہد ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہونے کی یاددہانی بھی کرائی۔ تاہم انھوں نے یہ واضح فرمایا کہ نفاذِ شریعت کی یہ جدوجہد پرامن ہونی چاہیے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں، جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، حرامِ قطعی ہیں، شریعت کی رو سے ممنوع ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں۔ریاست ان متشدد تحریکوں کو کچلنے کے لیے جو فوجی آپریشن کر رہی ہے، علما اُن کی مکمل حمایت کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ علما کو اکیسویں آئینی ترمیم میں جس طرح دہشت گردی کو ’’مذہب و مسلک کے نام پر ہونے والی دہشت گردی‘‘ کے ساتھ خاص کر دیا گیا تھا، پر تحفظات تھے۔ انھوں نے خودکش حملوں کے حرامِ قطعی ہونے کا اعادہ بھی فرمایا اورضربِ عضب کا دائرہ لسانی، علاقائی اور قومیت کے نام پر مصروف عمل مسلح گروہوں تک وسیع کرنے کا مطالبہ کیا۔ فرقہ واریت کی بنیاد پر نفرت انگیزی اور مسلح تصادم کو ناجائز و جرم قرار دیتے ہوئے انھیں مسالک و مکاتبِ فکر سے ممیز کیا، اور مؤخرالذکر کو تعلیم و تحقیق کے موضوعات ہونے کی وجہ سے اسلامی علمی سرمائے کا حصہ بتلایا۔ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ میڈیا کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق بنا کر انھیں ان موضوعات پر گفتگو کے لیے قانونی حدود کا پابند کیا جائے تا کہ انتشار نہ پھیلے۔پھر مفتی صاحب نے بالعموم درس گاہوں کے حوالے سے حکومت کو ذمہ داری کا احساس دلایا کہ اگر کہیں بھی عسکریت یا نفرت انگیزی کی تعلیم دی جارہی ہو تو اس کے خلاف اقدام کیا جائے۔ جہاں تک مدرسوں کا معاملہ ہے، مفتی صاحب نے اُن کا دفاع کیا، ہر قسم کی حکومتی آڈٹ کی پیش کش کی اور شکوہ کیا کہ اُن پر بے جا الزامات بند ہونے چاہییں۔ انھوں نے دعوت و تبلیغ اور اظہارِ رائے کی آزادی کی توثیق کرتے ہوئے آرٹیکل ۲۹۵ کا حوالہ دے کر اس آزادی کو قانون کے دائرے میں رکھنے کی تاکید فرمائی۔ مفتی صاحب نے صریح الفاظ میں واضح کیا کہ مفتیان اور علما کا اختیار کفر کو کفر کہنے اور سائل کو شرعی حکم بتانے تک محدود ہے۔ کسی شخص پر اس کے اطلاق اور اُس کے کفر و اسلام کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف حکومت و عدالت کو ہے۔پھر دنیاوی تعلیم کے پرائیویٹ اداروں کے لیے کچھ اصلاحات تجویز فرمائیں۔ مفتی صاحب نے یہ نکتہ بھی واضح فرمایا کہ علما غیر مسلم شہریوں کے انسانی، شہری اور مذہبی حقوق کی توثیق اور اُن کے تحفظ کی پاس داری کا عہد کرتے ہیں۔ آخری نکتے میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے اُن کی وراثت، تعلیم، شادی اور حق راے دہی جیسے حقوق کی پاس داری کی تاکید کی اور حکومت کو قانون کی طاقت سے ان کی رکھوالی کی نصیحت فرمائی۔

قومی بیانیے کا طائرانہ جائزہ

سب سے پہلے مفتی منیب الرحمٰن صاحب بمع مساعد علما شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے حکومت و عوام کی معاونت کی خاطر یہ مفصل بیانیہ مرحمت فرمایا۔ اُن کی یہ کاوش قابل ستایش و توصیف ہے۔ پھر جس دو ٹوک، بلااستثنا اور بے لاگ انداز میں محارب گروہوں کی قتل و غارت گری کو حرام لکھا ہے، یہ بھی لائق تحسین ہے ۔اب آئیے اس کے تجزیے کی طرف۔

اس بیانیے کا سب سے پہلا اور اہم ترین پہلویہ سامنے آتا ہے کہ علما کی رائے میں روایتی مذہبی فکر یا اس پر مبنی مروّجہ مذہبی بیانیہ اور اس دور کے مفسدین کے نظریات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ یعنی وہ اس کے قائل ہیں کہ مروّجہ مذہبی بیانیے میں کوئی شے ایسی نہیں جو انتہاپسندی یا دہشت گردی کا باعث بن رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایسے مذہبی نظریے یا استدلال سے تعارض جو متشدد تحریکیں اپنی تائید میں اکثر پیش کرتی رہتی ہیں، اس بیانیے میں سرے سے جگہ ہی نہ بنا سکا۔ ہاں مفسدین کے اعمال کی مذمت انھوں نے دہرائی ہے، تاہم شاید ہی کوئی حلقۂ دانش یا مکتب فکر ایسا ہو جس نے اس کی مذمت بارہا نہ دہرائی ہو؛ الغرض تحصیل حاصل۔ شاید اسی لیے انھوں نے اس کا نام مذہبی بیانیہ کے بجاے قومی بیانیہ رکھا ہے۔ چنانچہ یہ واضح ہوا کہ علما کے نزدیک محارب گروہوں کے مذہبی بیانیے کا کوئی پہلو لائق تنقیح نہیں۔ اہل علم و دانش کے لیے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں پھر کچھ مانع نہیں کہ اِن محارب گروہوں کے نظریات و اہداف کی تو علما توثیق کرتے ہیں، فقط طریقۂ کار سے اختلاف ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ بنیادی نظریات پر بحث یا اُن کی وضاحت کے بجاے یہ بیانیہ مختلف شعبہ ہاے ریاست و حکومت سے متعلق مجوّزہ اصلاحات پر مرتکز نظر آتا ہے۔ پس اپنے مقصد کے اعتبار سے یہ بیانیہ کم اور مسوّدۂِ انتظامی اصلاحات زیادہ معلوم پڑتا ہے۔ باوجود اس کے، حکومت کو تجویز کردہ اِن گراں قدر اصلاحات پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ یہ خیر کا باعث بہر حال بن سکتی ہیں۔ جیسے فتووں کے لزومی و التزامی تخصیص کے باب میں کسی مفتی کی حدود کا تعین اور حکومت و عدالت کے اختیارات کی توضیح موجبِ اصلاح تجویز ہے۔

تیسرا پہلو یہ ہے کہ یہ بیانیہ بین السّطور اور مبہم الفاظ میں اِن باغی گروہوں کے تولد و وجود کی اصل ذمہ داری حکومت پر ڈالتا ہے، اور اس کا سبب شریعت کے نفاذ سے رُوگردانی یا کوتاہی کو قرار دیتا ہے۔ اسی لیے اس بیانیے کی مجوّزہ اصلاحِ اقدامات کا بشکلِ کبیر رُخ حکومت کی طرف ہے اور متشدد گروہوں کی جانب نسبتاً کہیں کم۔

چوتھا پہلو یہ ہے کہ یہ بیانیہ باغی گروہوں کے ظالمانہ اعمال کی مذمت و تحریم تو کرتا ہے، پر اس کے لیے بھی کوئی دینی استدلال فراہم نہیں کرتا۔ بیانیے کا مقصد ہر کوئی جانتا ہے کہ فقط یہ تو نہیں تھا کہ مفسدین کی لفظاً مذمت کر دی جائے یا حرام کو حرام اور حلال کو محض حلال کہہ دیا جائے، بلکہ یہ تھا کہ ایسے مذہبی استدلال، خواہ اجمال سے ہی سہی، پیش کیے جائیں جن سے اُن کے فاسد نظریات جو اُن کے مہلک افعال کا سر چشمہ ہیں، کی تصحیح اور سادہ لوح عام عوام اور مخلص مسلمانوں کی رہنمائی ممکن ہو سکے۔ مثلاً پہلے ہی نکتے میں قرآن و سنت کے مطابق قوانین بنانے میں ’کوتاہی‘ کے نتیجے میں حکومت یا فوج کو غیر مسلم قرار دینے اور اُن کے خلاف مسلح کارروائی کی ممانعت تو لکھی، پر اِس کے لیے کوئی شرعی جواز فراہم نہیں کیا؛ باوجود اس کے کہ یہ ’کوتاہی‘ کا دعویٰ سراسر ایک موضوعی راے ہے جسے کوئی دوسرا ’سرکشی‘ پر محمول کر کے ’وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ‘ ۱؂ کے زمرے میں لے آسکتا ہے، اور جب کہ باغی گروہ اس استدلال کا سہارا ہر حملے کے فوراً بعد نشر کیے جانے والے بیانات میں بہ تکرار لیتے بھی نظر آتے ہیں۔ پس کسی قسم کے دینی استدلال سے خالی یہ بیانیہ علمی طور سے کمزوری کا مظہر نظر آتا ہے۔

پانچواں اور آخری اہم پہلو یہ ہے کہ بیانیہ تحریر و پیش کرنے والے قابل صد احترام مفتی صاحب کا تعلق جس مسلک سے ہے، سب اہل علم جانتے ہیں کہ اِس مسلک کے عقائد و نظریات اور پیروکار — ایک تحفظ ناموس رسالت کے زمرے کے کچھ متجاوز اقدامات کے ماسوا — کبھی دہشت گردی کے واقعات میں ملوّث و منسوب نہیں پائے گئے۔ یہ تو چند اور مسالک ہیں جس کے کچھ متبعین اس ناسور سے گھائل ہوئے اور ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ چنانچہ اِن کے قلم سے تسوید خیالات سے مخاصمین کی اصلاح کی امید کچھ اتنی ہی ہے جتنی اُس خط سے ہونی چاہیے جو پوپ (pope)نے تعدد ازواج کی مذمت پر مبنی مورمونوں (Mormons) کے نام ارسال کیا ہو۔ اگرچہ مفتی صاحب نے دوسرے مسالک کے پیشواؤں اور اُن کے نمایندوں کے موثق و ہم نوا ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم فدوی کو یہ خوف ہے کہ کہیں غائبانہ توثیق اس اہم معاملے میں ناکافی نہ سمجھی جائے۔ پس انھیں بہ بانگ دہل اس کی تائید میں سامنے آنا ہو گا۔

اب آئیے اُن نکات کے ذیل میں دونوں بیانیوں کی تشخیص کی موزونیت ماپتے ہیں جن کو مخاصمین مذہبی بیانیے کی حیثیت سے اپنائے ہوئے ہیں اور وقتاً فوقتاً پوری قوّت و چیلنج کے ساتھ اُن کی نمایش بھی وہ کرتے رہتے ہیں۔ نظریات کی یہ تالیف ظاہر ہے کہ میرا انتخاب ہے اور اس میں حذف و اضافہ ممکن، تاہم مجھے اپنی تحقیق کے جامع ہونے پر اعتماد ہے۔

دہشت گردوں کا بیانیہ

دہشت گردوں کا بیانیہ نکتہ ۱:

اسلام کا نظام فقط خلافت ہے جو یہ تقاضاکرتا ہے کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کی ایک ہی سلطنت اور اُن کا ایک ہی خلیفہ ہونا چاہیے۔ ہر مسلمان پر اس کے قیام کی جدوجہد کرنا واجب ہے۔ موجودہ دَور کی متفرق ریاستوں کے عوام اور اِن کے حکمران اس حکم کی صریح خلاف ورزی کر کے، اور خلافت کے مقابل میں جمہوریت جیسے کفریہ نظام کو اپنا کے، شدید گناہ گار ہو رہے ہیں۔ پس جو کوئی اس ’ایک اسلامی خلافت‘ کے قیام میں حائل ہو رہا ہو یا اس گناہ پر مطمئن ہو، وہ گمراہ، بعض صورتوں میں فاسق اور بعض میں کافر اور حلال الدّم بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارے سب جارحانہ اقدامات اسی تناظر میں ہیں۔

دہشت گردوں کا بیانیہ نکتہ ۲:

تمام مسلمان ایک قوم ہیں۔ اسلام میں قومیت کی بنیاد صرف ہمارا مذہب ہی ہو سکتا ہے۔ موجودہ دَور کی ریاستیں چونکہ مذہب کے علاوہ دوسرے مشترکات، جیسے زبان، رنگ، نسل، علاقہ وغیرہ کی بنیاد پر بنی ہیں، اس لیے حرام ہیں، اور اِن سرحدوں کا مٹا دینا دین کا تقاضا۔ویسے بھی سرحدوں کی یہ لکیریں کافروں کی کھینچی ہوئی ہیں، اس لیے باطل منذ البدایۃ (void ab initio) پس ناقابل قبول ہیں۔ لہٰذا اللہ کی زمین کو اِن ناجائز و بدعی سرحدوں سے پاک کر دینا یا کم از کم اس کی جدو جہد کرنا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔جو مسلمان یہ نہیں کر رہے، وہ شدید گناہ گار ہو رہے ہیں۔

دہشت گردوں کا بیانیہ نکتہ ۳:

کفر و شرک کو دنیا میں رہنے کی اجازت تو دی جا سکتی ہے، پر کسی خطۂ ارض پر حکومت کرنے کی نہیں۔ یہ زمین جس طرح صرف خداے واحد کی ملک ہے، اسی طرح یہاں امر (حکومت) کا اختیار بھی صرف اُسی کو ہے۔ پس مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ پوری زمین کو خداے واحد کی حکمرانی میں لانے کے لیے ہر لمحہ کافر و مشرک اقوام سے برسرپیکار رہیں، اور اس مقصد کے حصول کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے مثال پکڑتے ہوئے دعوت، تبلیغ، مجادلہ اور جارحانہ اقدامات سب اپنائے جا سکتے ہیں۔ ایک دِن تو ایسا آنے ہی والا ہے جب پوری زمین پر صرف اسلام کا بول بالا ہو گا، پر اِس دن کو لانے کی جدو جہد کرنا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔

دہشت گردوں کا بیانیہ نکتہ ۴:

اسلام کی رُو سے کافر کی جان کو فی الحقیقت کوئی حرمت حاصل نہیں۔ ہاں، اگر انھیں کسی مسلمان یا معاہد قوم یا اُن کے ارباب اقتدار نے امان دے رکھی ہو تو ایک طرح کی عارضی حرمت اِن کے باب میں بھی قائم ہو جاتی ہے۔ تاہم، چونکہ کوئی ایسی اسلامی حکومت نہ تو پاکستان میں اور نہ ہی دوسرے اسلامی ممالک میں قائم ہے جو اسلامی حکومت کہلانے کی لائق یا اہل ہو تو اس سبب اِن کی دی ہوئی امان بھی باطل و ناکارہ ہے۔ پس کہیں بھی غیر مسلموں کی بے دریغ گردن زدنی کرنا دینی اعتبار سے بالفعل جائز ہے۔

دہشت گردوں کا بیانیہ نکتہ ۵:

ارتداد کی سزا اسلام میں موت ہے۔ یہ سزا دینے کا اصل اختیار اور ذمہ داری حکومت ہی کے پاس ہے۔ پر جب نہ تو حکومت خود ہی اسلامی کہلانے کی اہل ہو اور یا اس سزا کے اطلاق میں ناکامی یا عدم دل چسپی کا مظاہرہ کررہی ہو، تو مخلص مسلمانوں کی یہ ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اللہ کی اس حد کی پاس داری و نفاذ کریں۔ اس سبب وہ فرقے جو اپنے بعض عقائد (جیسے اسلاف سے شرکیہ عقیدت، تحقیر صحابہ وغیرہ)، یا افعال (جیسے ہجوِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کی اعانت وغیرہ) کے باعث مرتد ہو چکے ہیں، اُن کی گردن زدنی جائز ہی نہیں، بلکہ واجب ہو جاتی ہے۔

دہشت گردوں کا بیانیہ نکتہ ۶:

نفاذِشریعت کی جدوجہد ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔ پاکستان تو بنا ہی اسلام کے نام پر تھا۔ پس جو حکمران اور معاون حکومتی ادارے، یہاں تک کہ اُن کی معاونت کرنے یا اُن کے ساتھ اس انحراف میں تسامح برتنے والے علما، جو کوئی بھی پاکستان یا دنیا کے کسی اور مسلم ملک میں نفاذِ شریعت (جس میں نماز، زکوٰۃ، حدود، ڈاڑھی، پردہ، آلات موسیقی کی ممانعت، غیر مسلموں کی اذل شہریت اور اُن سے جزیہ وغیرہ جیسے اسلامی قوانین اور شعائر کی پابندی شامل ہے) سے انحراف یا پس وپیش سے کام لے رہا ہے، وہ اللہ کا مجرم ہے اور سورۂ مائدہ کی آیات ۴۴، ۴۵ اور ۴۷ کے تحت سرکش و کافر ہو چکا ہے۔

دہشت گردوں کا بیانیہ نکتہ ۷:

جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے۔ یہ اصلاً دینِ اسلام کو تمام دنیا پر نافذ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے (کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا)۔ پھر مزید اِس وقت جو صورت حال مسلم ممالک پر غیر مسلم عالمی قوتوں کے ہاتھوں حملوں اور قبضوں کے باعث درپیش ہے، یہ بھی اِن حربیوں کے خلاف قتال اور ’ہلکے ہو یا بوجھل، اللہ کی راہ میں نکلو‘ کا تقاضا کرتی ہے۔پس ہر سالم عقل و بدن مسلمان کی یہ دینی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف غیر مسلم قوتوں کے ہر ہر معاون (فوجی، حکمران، ریاستی اداروں، جنگ پر گرمانے والے لکھاریوں، حتیٰ کہ ٹیکس کے ذریعے بالواسطہ معاونت کرنے والے عوام) کے خلاف ہر جلی و خفی طریقے سے جنگ کریں، بلکہ جو مسلمان افراد یا ممالک بھی معاونت علی الاثم کے اس جرم میں اُن کے شریک کار ہیں، اِن سب کو بھی غیر مسلموں میں سے ہی شمار کر تے ہوئے اِن کی بھی بیخ کنی سر انجام دیں، اور فقط نام کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان سے کوئی رُو رعایت نہ برتیں۔ یہی آیت ’وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ۲؂ ‘ کا تقاضا ہے۔

یہ ہے وہ بیانیہ اور بالعموم وہ بنیادی نظریات جن کے دہشت گرد قائل اور جن کی اشاعت و تبلیغ اُن کی جانب سے بارہا ہو چکی ہے۔ اور کوئی محقق بھی بشکل مستقل ذاتی طور پر یہ باور کر سکتا ہے کہ دہشت گردوں کے ہر ظالمانہ فعل کا اصولی کُھرا انھی نکات میں سے کسی ایک تک پہنچتا ہے۔پس آئیے اب دیکھتے ہیں کہ علما اور غامدی صاحب کے مدون بیانیے اِن سے کس طور تعارض کرتے ہیں۔

تعارض

نکتہ۱:

جوابی بیانیہ: نکتہ نمبر ۲ خلافت کے نظریے کو اپنی بنیاد سے ہدف بنا کر یہ واضح کرتا ہے کہ نہ تو خلافت دین اسلام کی کوئی اصطلاح ہے اور نہ ہی اس کا کسی عالم گیر سطح پر قیام مسلمانوں سے کوئی دینی تقاضا۔ خلافت کا اصطلاح بننا اور اس کے لوازمات کا شمار بعد کے ادوار میں ہوا۔ اولین ماخذوں میں حکم تھا تو فقط اتنا کہ اگر کسی قطعۂ ارض میں بھی حکومت مسلمانوں کے پاس آ جائے تو اُن کی ذمہ داری ہے کہ اللہ کے احکامات کی پاس داری کریں، انصاف سے معاملات چلائیں، اور اپنے پورے نظام کو باہمی مشاورت پر استوار کریں۔ اسی طرح نکتہ نمبر ۸ جمہوریت کو گناہ تو کجا باہمی مشاورت اور منشاء الٰہی کی ایک مجسّم اور قابلِ عمل موجودہ صورت بتاتا ہے اور اس کے لیے دلائل بھی فراہم کرتا ہے۔ پھر اِن دونوں نکات کی مزید وضاحت اور علما کے اعتراضات کے جوابات کے لیے دو پورے مضامین بھی اس جوابی بیانیے کے ضمیمہ کے طور پر فراہم کرتا ہے۔ الغرض یہ بیانیہ دہشت گردوں کے نظریے کی بنیاد ہی کا استیصال اور ’قضی علیہ فی المھد‘ کر دیتا ہے۔ پس مسلمانوں کا مجرم یا گناہ گار ہونا تو درکنار اُن کے دورِ حاضر کی ریاست و جمہوریت کا وفادار بن کے رہنے کو ہی عین مطلوب اسلام ثابت کرتا ہے۔

قومی بیانیہ: قومی بیانیہ اس نکتے سے تعرض ہی نہیں کرتا۔

نکتہ ۲:

جوابی بیانیہ: نکتہ نمبر ۳ پورے ارتکاز سے اس خیال کی تردید کرتا ہے کہ مسلمانوں کا متفرق اقوام میں بٹ جانا دین کے کسی حکم یا موصی بہ کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام کی تعلیم فقط یہ ہے کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں، ایک دوسرے کے ہمدرد اور مددگار ہیں۔ ایک جسم کے مانند ہیں۔ چنانچہ چاہے وہ ایک سلطنت کے باسی ہوں اور چاہے سینکڑوں، چاہے مشرق میں رہتے ہوں اور چاہے مغرب میں، اُن کا ایک دوسرے کو بھائی سمجھنے میں اور دکھ درد میں شریک ہونے میں کوئی شے مانع نہیں۔ اسی طرح وطن اور ملک کا قیام جس طرح مذہب کے اشتراک کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے، اسی طرح دوسرے مشترک خصائص، جیسے رنگ، نسل، زبان، جغرافیہ کی بنیاد پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر قرآن و حدیث میں اس کے بر عکس کوئی حکم ہے تو پیش کیا جائے۔

قومی بیانیہ: اس اہم نظریے پر بھی یہ بیانیہ سکوت اختیار کیے ہوئے ہے۔

نکتہ ۳:

جوابی بیانیہ: اس بیانیے کا کوئی نکتہ براہِ راست اس نظریے کو موضوع نہیں بناتا۔ تاہم، اس سے تعارض کے لیے اصل بنیادی مقدمہ وہی ہے جسے جوابی بیانیے کے نکتہ نمبر ۵ اور ۶ پیش کرتے ہیں۔ یعنی اسلام کی رُو سے یہ باور کرایا جائے کہ اگرچہ کفر و شرک ابدی جرائم ہیں، مگر اِن جرائم کو اختیار کرنے کی اللہ نے اس زندگی میں ہر کسی کو کھلی اجازت دے رکھی ہے۔ اس دنیا کی حد تک یہ قابلِ دست اندازی جرائم سرے سے ہیں ہی نہیں۔ کافر و مشرک یہاں فقط مخاطبِ دعوت ہیں۔ ان جرائم پر محاسبہ صرف آخرت میں اللہ خود کرے گا۔ اور اگر دنیا میں مثال بنانے کے لیے اللہ نے اس پر محاسبہ کیا بھی ہے تو ایک پورا نظام اس کے لیے وضع فرما کر قرآن میں تفصیل سے بیان کر دیا ہے، جس کے تحت یہ دروازہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔پس جس طرح ان کفار و مشرکین کو دنیا میں اپنے مذاہب پر قائم رہنے کی پوری آزادی ہے، اسی طرح حکومت بنانے کی بھی پوری اجازت۔ اور رہی بات اسلام ان تک پہنچانے کی غرض، تو اس مقصد کے لیے صرف دعوت و تبلیغ کا رویہ اپنایا جا سکتا ہے۔ جہاد و قتال دینی اعتبار سے صرف اور صرف ظلم و عدوان، جسے شرعی اصطلاح میں ’فتنہ‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، کے خلاف جائز و روا ہے۔تاہم، یہ تبصرہ ضروری ہے کہ جوابی بیانیہ اس نظریے سے پورے ارتکاز اور شد و مد سے تعارض کرنے اور استدلال کو سینگوں سے پکڑنے میں کچھ ناقص دِکھتا ہے۔

قومی بیانیہ: اس نظریے سے تعارض بھی قومی بیانیے میں جگہ نہ بنا سکا۔

نکتہ ۴:

جوابی بیانیہ: جوابی بیانیے کا نکتہ نمبر ۵ اس نظریے سے بھی مماسی تعارض اس طرح کرتا ہے کہ جب کفر و شرک وغیرہ ایسے جرائم ہی نہیں جو اس دنیا میں قابلِ دست اندازی و سزا ہوں تو پھر کفارو مشرکین کی جان کی حرمت اس طرح کے اٹکل پچوؤں سے حلال کرنا سراسر زیادتی اور اللہ کے دین کے ساتھ مذاق ہے۔ تاہم یہاں بھی جوابی بیانیہ انسانی جان کی مطلق حرمت پر مبنی کسی دلیل کے ذریعے جو اس فاسد نظریے کا استیصال کر دیتی براہِ راست تعارض میں کمزور ہے۔

قومی بیانیہ: قومی بیانیے نے اس نکتے کو کسی حد تک براہِ راست اور کسی حد تک مماسی موضوع بنایا ہے، اور نکتہ نمبر ۱ میں بتا یا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ اگر اسلام کے نفاذ میں ان سے کوتاہی ہو رہی ہے تو یہ بے عملی ہے اور اس کوتاہی کی وجہ سے ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک، حکومت وقت یا فوج کو غیر مسلم قرار دینے اور ان کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ پس اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اِن کی دی ہوئی امان پوری طرح سالم اور قائم ہے۔ پھر نکتہ ۱۴ میں غیر مسلموں کے کچھ حقوق کے تحفط اور مذہب پر عمل کرنے کے پورے حق کی توثیق فرمائی۔ تاہم کافر کی جان کو فی الحقیقت حرمت نہ حاصل ہونے جیسے سنگین نظریے سے کسی قسم کا کوئی تعارض یہاں بھی مفقود ہے۔

نکتہ۵:

جوابی بیانیہ: نکتہ نمبر ۴ اور ۵ اس نظریے کو مرکز پارہ بنا کر پوری طرح نابود کر دیتے ہیں۔ یہ نکات یہ بات واضح کرتے ہیں کہ اوّل تو کفر و شرک کی طرح ارتداد بھی اس دنیا کی حد تک قابلِ سزا جرم ہی نہیں۔ اِس کا محاسبہ بھی موضوعِ آخرت ہے۔ اور دوم، یہ حق اللہ نے کسی انسان کو دیا ہی نہیں کہ وہ دوسروں کے کفر و اسلام کا فیصلہ کر سکیں، کجا کہ اس پر سزا کا موقع آئے۔ جو مسلمان اپنے اقرار سے مسلمان ہوں، مگر کچھ گمراہ عقائد یا اعمال اپنائے ہوئے ہوں تو اُن کے متعلق علما کی ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ اُن کو علمی انداز میں اُن کی غلطی کا احساس دلایا جائے اور بس۔ اور رہا اللہ کے حدود کا نفاذ تو نکتہ نمبر ۹ اور ۱۰ یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ اجتماعی احکامات ارباب حل و عقد ہی سے متعلق اور وہی ان کے مخاطب ہیں۔ اسی لیے اگر وہ کسی ثابت شدہ حد (نہ کہ ارتداد کی سزا جس کا حد ہونا ہی اُن کے مطابق بے بنیاد ہے)کے نفاذ میں بھی کوتاہی یا سرکشی کریں تو کسی کو یہ حق نہیں کہ جتھا بندی کر کے خود حدود کا نفاذ شروع کر دیں۔

قومی بیانیہ: ارتداد جیسے اہم موضوع سے بھی کوئی اصولی تعارض نہیں کیا گیا۔ ہاں ارتداد کے اطلاق میں نکتہ نمبر ۱ اور ۱۲ کے ذیل میں یہ بات البتہ واضح کی گئی ہے کہ نہ تو حکومتِ پاکستان کو مرتد کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی فرد یا ادارے پر اس کا اطلاق عدالت کے سوا کوئی کر سکتا ہے۔ تاہم، اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی شرعی دلیل مرحمت نہیں فرمائی۔ بایں ہمہ، اس طرزِ گفتگو سے انھوں نے اس تاثر کو قوت بخشی ہے کہ کسی کو مرتد قرار دینا مذہبی اعتبار سے بر حق ہے اور اس کی سزا موت ہی ہے، مگر اس کا طریقۂ کار وہ نہیں ہے جو مفسدین اپنائے ہوئے ہیں۔

نکتہ۶:

جوابی بیانیہ: جوابی بیانیہ شاید اس نفاذِ شریعت کے نظریے پر سب سے تفصیل سے کلام کرتا ہے اور اس کے نکات ۹ اور ۱۰ مختلف جہتوں سے اس کی مفصل وضاحت کرتے ہیں۔ یہ نکات بتاتے ہیں کہ نفاذِ شریعت کی اصطلاح ہی مغالطہ انگیز ہے، اِس لیے کہ اِس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں حکومت کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ شریعت کے تمام احکام ریاست کی طاقت سے لوگوں پر نافذ کر دے، دراں حالیکہ قرآن و حدیث میں یہ حق کسی حکومت کے لیے بھی ثابت نہیں ہے۔ اس لیے اسے شریعت پر عمل کی دعوت کہنا چاہیے۔پھر مزید یہ بیانیہ تفصیل کے طور پر پورے تعین اور تحدید کے ساتھ ایک فہرست بنا کر بتاتا ہے کہ وہ کون سے انفرادی اور اجتماعی دینی احکام ہیں جن کے نفاذ کا اختیار اسلام کی رُو سے حکومت کو حاصل ہے اور جن کے نفاذ کا مطالبہ وعظ، نصیحت اور انذار کے ذریعے حکمرانوں سے عوام کر سکتے ہیں۔ پھر اس پر ایک مزید توضیحی مضمون ’’قانون کی بنیاد‘‘ کے عنوان سے بھی مرحمت فرمایا جو اس سلسلے میں اساسی اشکالات رفع کرتا ہے۔ میری راے میں اس نظریے سے تعارض جوابی بیانیے کا ذروۂِ سنام ہے۔

قومی بیانیہ: نفاذِ شریعت کی تعبیر یا تفصیل کے متعلق پھر قومی بیانیہ خاموش ہے، پر علما کی جانب سے نفاذِ شریعت کا مطالبہ حکومت سے اس بیانیے میں بھی دہرایا گیا ہے۔ ہاں اس تخصیص کے ساتھ کہ اس نفاذ کی جدوجہد صرف پُر امن طریقوں ہی سے ممکن ہے۔ اور جو طاقت کا استعمال وہ کر رہے ہیں اور اس کے نام پر قتل و غارت گری مفسدین نے مچا رکھی ہے، وہ قطعی حرام ہے۔تاہم، حسبِ معمول کوئی شرعی دلیل اس حرمت پر بھی غیر مذکور ہے۔

نکتہ ۷:

جوابی بیانیہ: نکات ۶اور ۷ جہاد کے اس طرح کے نظریات کے تفصیلی ردّ پر مشتمل ہیں اور باحسن و خوبی اس کی انجام دہی کرتے ہیں۔ یہ بیانیہ بتاتا ہے کہ جہاد فقط ظلم و عدوان کے خلاف ممکن ہے۔ یہ صرف مقاتلین (combatants) کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس کے دوران اخلاقیات ہمیشہ مقدم ہیں۔ اور جہاں تک اختیار کا تعلق ہے تو قرآن و حدیث میں جہاد کا اختیار صرف نظمِ اجتماعی کو حاصل ہے۔ وہی اِن احکام کے مخاطب ہیں۔ اس لیے کوئی فرد یا گروہ جہاد کے فیصلے کا ذاتی اختیار رکھتا ہی نہیں ۔ ہاں البتہ مسلمانوں کا غیر مسلم اقوام کو مسلمان اقوام کے خلاف معاونت مہیا کرنے کی صورت میں یہ بیانیہ امکان، جواز، عدم جوازوغیرہ جیسے موضوعات پر بحث کے معاملے میں کچھ تشنہ رہ گیا ہے۔میرے نزدیک یہ ایک بڑی تشنگی ہے۔

قومی بیانیہ: جہاد کے موضوع سے بھی کوئی قابلِ ذکر تعارض اس بیانیے میں نہیں۔ نکتہ نمبر ۴ اور ۶ میں خود کش حملوں کی حرمت کی تکرار اور فرقہ وارانہ مسلح تصادم کو ناجائز و جرم لکھا ہے۔ پر یہ اس نظریۂ جہاد کے چند اطلاقات سے کلالہ تعارض سے زیادہ کچھ نہیں۔

اختتامیہ

دہشتگردوں اور انتہاپسندوں کے جو بیانیۂ نظریات ہر غیر جانب دار محقق کے مطابق مولد فساد ہیں، اُن کے مقابل میں ایک ایسے بیانیے کی ضرورت تھی جو ان فاسد نظریات کے متعلق دین اسلام کے صحیح نظریات مدلل انداز میں پیش کر کے مفسدین، امت مسلمہ اور غیر مسلم اقوام کے سامنے اسلام کے بے داغ نظریات پیش کر دیں، اور امت مسلمہ کو وہ فکری ہتھیار مہیا کریں جن کی ترویج و اشاعت سے مفسدین کو متواتر بہم پہنچنے والی انسانی کمک تھم سکے اور اس جاری و ساری مذہب کے نام پر فساد کا خاتمہ ممکن ہو۔

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ تقریباً اُن سارے ہی نظریات سے تعارض کرتا اور بڑے پُر مغز انداز میں اُن کی غلطی واضح کرتا اور اُن کی فکری بنیادیں منہدم کرتا ہے۔ اور امت مسلمہ اور اُن کی حکومتوں کو وہ دلائل فراہم کرتا ہے جن کی بنیاد پر وہ اپنے قافلے کو دشتِ ہلاکت سے شاہراہِ ہدایت پر لا سکتے ہیں۔ اس میں اگرچہ بہتری کی گنجایش موجود ہے، پر بنیادی مسوّدے کی حیثیت سے یہ پوری طرح جامع ہے۔

اس کے مقابل میں قومی بیانیے کے متعلق حیرانی سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس نے تقریباً اُن سارے ہی نظریات کو نظر انداز کر دیا ہے جو صرف یہی نہیں کہ محققین فساد کی رگِ معدن بتا رہے ہیں، بلکہ مفسدین خود بھی پورے خلوص و یقین سے اس کا اقرار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اِن نظریات سے دامن بچا کر علما نے ’تقویٰ‘ کا مظاہرہ کیا ہے یا ’تقیہ‘ کا، پر یہ معلوم ہے کہ یہ موقع اِن دونوں کا نہیں تھا۔ اس سے تو یہ تاثر ناقابل تجاہل ہو جائے گا کہ علما چاہے طریقۂ کار کی درستگی پر کچھ نصیحتیں کررہے ہیں، پر مفسدین کے بنیادی نظریات کی خاموش توثیق کرتے ہیں۔

بہر حال اب یہ دو بیانیے عیاں ہو چکے۔ اب حکومت کو چاہیے کہ اپنی سرپرستی اور حفاظت میں بحث و مباحثہ کا ماحول اور فورم مہیا کرے، تاکہ ان بیانیوں کی بحث کے نتائج سے وہ اپنے لیے ایک حتمی بیانیہ تسوید کر سکے۔ یہ صرف چند لفظوں کی جنگ نہیں، مسلمانوں کے بقا کی جنگ ہے۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس معاملے میں اضمحلال، عدم دل چسپی یا تاخیر سے حکومت اللہ کے سامنے مجرم قرار پا رہی ہے۔

یہ یاد رہے کہ مذہب اس فساد کے سکے کا مگر ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ سیاست ہے۔ ہمیں اپنی داخلی و خارجہ پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنی ہے اور اس کے لیے بھی ایک ایسے بیانیے کی ضرورت ہے جو ہمیں عالمی قوتوں کی طاقت سے مجبور ہو کر بھی اندرونی یا بیرونی کسی ایسی پالیسی کا حصہ نہ بننے دے جو پاکستان کے شہریوں کو مذہب سے لاتعلق ہونے یا اُس کا غلط استعمال کرنے یا اخلاقی ضوابط کو طاقِ نسیاں کے سپرد کرنے پر مجبور کرے۔ کسی اصولی اخلاقی وجہ سے نہیں تو کم از کم اس کے مہلک نتائج سے ہی کچھ سبق سیکھ کر ہمیں اپنی پیمانہ بندی کر نی ہے۔

_____

۱؂ المائدہ ۵: ۴۴۔

۲؂ المائدہ ۵: ۵۱۔

____________




 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List