Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
جنت کے اعمال | اشراق
Font size +/-

جنت کے اعمال

تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

۱۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’مَنْ مَاتَ وَہُوَ یَعْلَمُ۲ أَنَّہُ لَا إِلٰہٰ إِلَّا اللّٰہُ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ‘.۳
۲۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ:۴ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ۔ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَدِیْفُہُ عَلَی الرَّحَْلِ۔ ’قَالَ: یَا مُعَاذُ‘، قَالَ: لَبَّیْکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ، قَالَ: ’یَا مُعَاذُ‘، قَالَ: لَبَّیْکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ، قَالَ: ’یَا مُعَاذُ‘، قَالَ: لَبَّیْکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ، قَالَ: ’مَا مِنْ عَبْدٍ یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہٰ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ [مُوْقِنًا مِنْ قَلْبِہِ]۵ إِلَّا حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ‘،۶ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَفَلاَ أُخْبِرُ بِہَا النَّاسَ فَیَسْتَبْشِرُوْا؟ قَالَ: ’إِذًا یَتَّکِلُوْا‘.۷ فَأَخْبَرَ بِہَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِہِ تَأَثُّمًا.
۳۔عَنْ عُبَادَۃِ بْنِ الصَّامِتِ،۸ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’مَنْ قَالَ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہٰ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، وَأَنَّ عِیْسٰی عَبْدُ اللّٰہِ [وَرَسُوْلُہُ]،۹ وَابْنُ أَمَتِہِ، وَکَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلٰی مَرْیَمَ، وَرُوْحٌ مِّنْہُ، وَأَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ، [وَأَنَّ الْبَعْثَ حَقٌّ]۱۰ أَدْخَلَہُ اللّٰہُ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃِ شَاءَ،[عَلٰی مَا کَانَ مِنَ الْعَمَلِ‘]. ۱۱
۴۔عَنْ جَابِرٍ قَالَ:۱۲ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَرَأَیْتَ إِذَا صَلَّیْتُ الْمَکْتُوْبَۃَ،۱۳ [وَصُمْتُ رَمَضَانَ]،۱۴ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلاَلَ،۱۵ [وَلَمْ أَزِدْ عَلٰی ذٰلِکَ شَیْءًا]،۱۶ أَ أَدْخُلُ الْجَنَّۃَ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’نَعَمْ‘. [قَالَ: وَاللّٰہِ لَا أَزِیْدُ عَلٰی ذٰلِکَ شَیْءًا]. ۱۷
۵۔ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ:۱۸ أَنَّ أَعْرَابِیًّا۱۹ عَرَضَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ [بَیْنَ عَرَفَۃَ وَالْمُزْدَلِفَۃِ]۲۰ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِہِ أَوْ بِزِمَامِہَا، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَوْ یَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِیْ بِمَا یُقَرِّبُنِیْ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَمَا یُبَاعِدُنِیْ مِنَ النَّارِ [فَقَالَ الْقَوْمُ: مَا لَہُ مَا لَہُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’أَرَبٌ مَا لَہُ‘]،۲۱ فَکَفَّ النَّبِیُّ، ثُمَّ نَظَرَ فِیْ أَصْحَابِہِ، ثُمَّ قَالَ: ’لَقَدْ وُفِّقَ، أَوْ لَقَدْ ہُدِیَ‘. قَالَ: کَیْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَأَعَادَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: [’وَاللّٰہِ لَءِنْ کُنْتَ أَوْجَزْتَ الْمَسْأَلَۃَ، لَقَدْ عَظَّمْتَ أَوْ أَطْوَلْتَ]،۲۲ تَعْبُدُ اللّٰہَ،۲۳ لَا تُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا، [وَتُقِیْمُ الصَّلٰوۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ، وَتُؤْتِی الزَّکٰوۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ، وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ]،۲۴ [وَتَحُجُّ الْبَیْتَ]،۲۵ وَتَصِلُ الرَّحِمَ،۲۶ [وَتُحِبُّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِکَ، وَتَکْرَہُ لَہُمْ مَا تَکْرَہُ لِنَفْسِکَ]،۲۷ دَعِ النَّاقَۃَ‘. [قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ، لَا أَزِیْدُ عَلٰی ہٰذَا].۲۸ [فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’إِنْ تَمَسَّکَ بِمَا أُمِرَ بِہِ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ‘].۲۹

۱۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موت اِس حالت میں آئے کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے،۱ وہ جنت میں داخل ہو گا۔۲
۲۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے کہ آپ نے اُن کو مخاطب کرکے فرمایا: اے معاذ، معاذ نے عرض کیا: میں آپ کی خدمت کے لیے ہر وقت حاضر ہوں، یارسول اللہ۔ آپ نے پھر فرمایا: اے معاذ، معاذ نے پھر عرض کیا: میں خدمت کے لیے حاضر ہوں، یا رسول اللہ۔ آپ نے پھر فرمایا: اے معاذ، معاذنے عرض کیا: میں موجود ہوں آپ کی خدمت کے لیے، اے اللہ کے رسول۔۳ آپ نے فرمایا:ہر وہ بندہ جو دل کے پورے یقین کے ساتھ اِس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۴، اللہ اُس پر دوزخ کو حرام کر دے گا۔ معاذ نے عرض کیا: یا رسول اللہ،میں یہ بات لوگوں کو بتا نہ دوں کہ وہ خوش ہو جائیں۔ آپ نے فرمایا:ایسا کرو گے تو لوگ اِسی پر بھروسا کرکے بیٹھ جائیں گے۵۔چنانچہ معاذ نے یہ بات اپنی موت کے وقت بیان کی اور وہ بھی اِس اندیشے سے کہ وہ گناہ گار نہ ٹھیرا دیے جائیں۶۔
۳۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جو یہ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ یکتا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں، اور عیسیٰ بھی اُس کے بندے اور اُس کے رسول ،اُس کی بندی کے بیٹے اور اُس کا ایک قول ہیں جو اُس نے مریم کی طرف القا فرمایا تھا اور اُس کی جانب سے ایک روح جو اُس میں پھونک دی گئی تھی۷، اور گواہی دیتا ہوں کہ جنت برحق ہے،دوزخ برحق ہے اور قیامت میں اٹھایا جانا برحق ہے۸، اللہ اُسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ،جس سے وہ چاہے گا، داخل کرے گا، خواہ اُس کے اعمال کچھ ہوں۹۔
۴۔جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اُنھوں نے فرمایا: نعمان بن قوقل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول، آپ کیا فرمائیں گے، اگر میں فرض نمازیں پڑھوں، رمضان کے روزے رکھوں، حرام چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھیراؤں اور حلال کو حلال جانوں، پھر اِن پر اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہ کروں تو کیا جنت میں داخل ہوجاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِ س کے جواب میں فرمایا: ہاں۔۱۰ نعمان بن قوقل نے کہا:خدا کی قسم، میں اپنی طرف سے اِن پرکوئی اضافہ نہیں کروں گا۔
۵۔ابو ایوب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان کسی جگہ تھے کہ ایک دیہاتی سامنے آگیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی، پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول، یا عرض کیا: اے محمد، مجھے وہ چیز بتائیے جو مجھے جنت سے قریب اور جہنم سے دور کر دے۔۱۱ (آپ کی سواری اِس طرح روک لینے پر لوگوں کو تعجب ہوا)۔چنانچہ وہ کہنے لگے: اِسے کیا ہوا، اِسے کیا ہوا ہے؟ اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِسے کوئی ضرورت لاحق ہے۔پھر آپ نے سواری روک لی(اور اُس کی بات سنی)، پھر اپنے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: اِسے توفیق ارزانی ہوئی ہے یا فرمایا: اِسے ہدایت نصیب ہوئی ہے، (یہ دین کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہے)۔۱۲ آپ نے اُس سے کہا: تم نے ابھی کیا کہا تھا؟۱۳ راوی کا بیان ہے کہ اُس نے اپنی بات دہرائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے جواب میں فرمایا: بخدا تمھارا سوال اگرچہ مختصر ہے،لیکن بات بہت بڑی ہے۔ تم اللہ کی بندگی کرو گے، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھیراؤ گے،فرض نماز کا اہتمام رکھو گے،لازمی زکوٰۃ ادا کرو گے،رمضان کے روزے رکھو گے،بیت اللہ کا حج کرو گے، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا رویہ اختیار کرو گے،۴۱ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، وہی لوگوں کے لیے پسند کروگے،اورجو اپنے لیے پسند نہیں کرتے،اُسے لوگوں کے لیے بھی پسندنہیں کرو گے۔۱۵ اچھا، اب میری اونٹنی کو جانے دو۔۱۶ اُس نے کہا :اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے،آپ نے جو کچھ ہدایت فرمائی ہے، میں اُس پراپنی طرف سے کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ و ہ نکیل چھوڑ کر جانے کے لیے پلٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِسے جو کچھ بتایا گیا ہے، یہ اُس پر عمل پیرا رہا تو جنت میں جائے گا ۔۱۷

ترجمے کے حواشی

۱۔یعنی پورے شعور کے ساتھ اِس بات کو سمجھتا ہو کہ نہ کوئی خدا کی ذات سے ہے، نہ خدا کسی کی ذات سے ہے اور نہ خلق میں یا مخلوقات کی تدبیر امور میں کسی کا کوئی حصہ ہے۔ لہٰذا اللہ ہی تنہا معبود ہے، اُس کا کوئی ہم سر نہیں ہے۔
۲۔ یہی بشارت قرآن میں بھی دی گئی ہے۔ چنانچہ سورۂ نساء (۴) کی آیت ۴۸ میں فرمایا ہے: ’اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ، وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ‘ ’’اللہ اِس بات کو نہیں بخشے گا کہ (جانتے بوجھتے) کسی کو اُس کا شریک ٹھیرایا جائے۔ اِس کے نیچے، البتہ جس کے لیے جو گناہ چاہے گا، (اپنے قانون کے مطابق) بخش دے گا۔‘‘
اِس کی وجہ کیا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

’’...جس طرح تمام خیر کا منبع توحید ہے، یعنی خدا کی ذات، صفات اور اُس کے حقوق میں کسی کو ساجھی نہ ٹھیرانا، اِسی طرح تمام شر کا منبع شرک ہے، یعنی خدا کی ذات، صفات اور اُس کے حقوق میں کسی کو شریک ٹھیرانا۔ توحید پر قائم رہتے ہوئے انسان اگر کوئی ٹھوکر کھاتا ہے تو وہ غلبۂ نفس و جذبات سے اتفاقی ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی غلطی ہی کو اوڑھنا بچھونا بنا لے۔ اِس وجہ سے وہ گرنے کے بعد لازماً اٹھتا ہے۔ برعکس اِس کے شرک کے ساتھ اگر کسی سے کوئی نیکی ہوتی ہے تو وہ اتفاقی ہوتی ہے جس کا اصل منبع خیر ، یعنی خدا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اِس وجہ سے وہ بے بنیادہوتی ہے۔ مشرک خدا سے کٹ جانے کی وجہ سے لازماً اپنی باگ نفس اور شیطان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے، اِس وجہ سے وہ درجہ بدرجہ صرا ط مستقیم سے اتنا دور ہو جاتا ہے کہ اُس کے لیے خدا کی طرف لوٹنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جاتا تا آنکہ وہ شرک سے توبہ کرے۔ اِس وجہ سے خدا کے ہاں شرک کی معافی نہیں ہے۔ البتہ توحید کے ساتھ اگر کسی سے گناہ ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے گا، معاف فرما دے گا۔‘‘(تدبرقرآن۲/ ۳۸۷)

۳۔ آپ کویہ تردد لاحق تھا کہ آپ جو بات فرمانے والے ہیں، اُس سے لوگ کہیں غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔یہ دو تین مرتبہ پکارنا اُسی تردد کا اظہار ہے۔
۴۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ جان لینے کے بعد کہ آپ خدا کے رسول ہیں، خدا کو ماننے والا کوئی شخص آپ کا انکار نہیں کر سکتا۔گویا پہلی روایت میں جو بات مضمر تھی، یہاں اُسے کھول دیا گیا ہے۔
۵۔ یعنی عمل کو چھوڑ کر گناہوں پر جری ہو جائیں گے۔ چنانچہ خدا کے مقابلے میں سرکشی کے مجرم قرار پائیں گے جس کی معافی آسان نہیں ہے۔
۶۔ یعنی اِس بات کے گناہ گار کہ اُنھوں نے لوگوں کو ایک خوش خبری سے محروم رکھا، دراں حالیکہ اب وہ علم و عمل میں ایسے پختہ ہو چکے تھے کہ اُن کے کسی غلط فہمی میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ نہیں رہا تھا۔
۷۔ یہ اضافہ مخاطبین کی رعایت سے ہے جو غالباً یہودونصاریٰ ہوں گے۔ اُن کے لیے ، ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے ساتھ مسیح علیہ السلام کے بارے میں اِن حقائق کا اقرار بھی ضروری تھا، اِس لیے کہ اِس سے پہلے وہ اِن حقائق کے منکر یا اِن سے متعلق بعض غلط فہمیوں میں مبتلا رہے تھے۔
۸۔خدا پر ایمان کا ایک لازمی تقاضا آخرت پر ایمان بھی ہے۔یہاں چونکہ تفصیل کا موقع ہے،اِس لیے آپ نے اِس کو بھی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے۔
۹۔ دوسری روایتوں میں تصریح ہے کہ اگرچہ اُس نے چوری کی ہو یا زنا کا ارتکاب کیا ہو۔ اِس کی وجہ وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ کسی سچے موحد کے بارے میں یہ تصور بھی محال ہے کہ ایسے بڑے گناہوں کا مرتکب ہوجانے کے بعد اُس کے دل و دماغ ندامت کے احساس اور توبہ و اصلاح کے ارادے سے خالی رہے ہوں۔ یہ بشارت اِسی طرح کے موحدین کے لیے اور اُسی صورت میں ہے، جب اِس سے کسی کے ساتھ بے انصافی نہ ہورہی ہو۔ قرآن میں تصریح ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ذرہ برابر بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی کی حق تلفی کے ازالے یا اُس کے جان و مال اور آبرو کے خلاف زیادتی کی تلافی کے بغیر کسی مجرم کو معاف کر دیا جائے۔
۱۰۔ یہ جواب مخاطب کے لحاظ سے ہے۔ اُس نے زکوٰۃ اور حج کا ذکر غالباً اِس لیے نہیں کیا کہ زکوٰۃ مال کے ساتھ ہے اور حج اُسی وقت فرض ہوتا ہے، جب کوئی شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ نعمان بن قوقل جو کچھ کرسکتے تھے، اُنھوں نے اُسی کا ذکر کرکے پوچھا ہے ا ور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب بھی اُسی کے لحاظ سے دیا ہے۔ اِس طرح کے موقعوں پر ہر چیز کا احاطہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
۱۱۔دین میں جس چیز کو نصب العین کی حیثیت حاصل ہے، وہ یہی ہے۔ خدا کے پیغمبر اِسی نصب العین تک پہنچنے کی دعوت کے لیے مبعوث کیے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و تبلیغ اور قرآن کے انذار نے یہ نصب العین اپنے مخاطبین کے لیے کس درجہ واضح کر دیا تھا، اِس کا کچھ اندازہ اِس سوال سے کیا جا سکتا ہے۔
۱۲۔ یعنی خدا نے اِسے توفیق ارزانی کی یا اِس کی رہنمائی فرمائی ہے کہ یہ مجھ سے وہی چیز لینے آیا ہے جو لوگوں کو میرے پاس لینے کے لیے آنا چاہیے۔
۱۳۔ یہ آپ نے اِس لیے فرمایا کہ دوسرے بھی سن لیں اور اُنھیں یاددہانی ہو کہ پوچھنے کی اصل بات کیا ہے۔
۱۴۔ یعنی اُن کا حق پہچانو گے اور اُن کے ساتھ حسن سلوک کرو گے۔
۱۵۔ یہ جامع ترین تعبیر ہے جس نے تمام اخلاقیات کا احاطہ کر لیا ہے۔ انسان کی فطرت میں برائی اور بھلائی کا جو شعور ودیعت کیا گیا ہے، یہ اُسی کا ظہور ہے۔ اِس کی بنیاد پر، ہم اگر چاہیں تو اُن سب اوامر و نواہی کی فہرست خود مرتب کر سکتے ہیں جو اِس باب میں بیان ہوئے ہیں۔
۱۶۔ یہ غایت درجہ محبت کا اسلوب ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کریم النفسی پر دلالت کرتا ہے۔
۱۷۔یہ توحید و رسالت پر ایمان کے تقاضے ہیں جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے لیے ایمان کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے، الاّ یہ کہ کسی شخص کو اللہ اُس کے کسی خیر کے پیش نظر معاف فرما دے، جیسا کہ قرآن کی بعض آیتوں اور اوپر کی روایتوں سے متبادر ہوتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اس حدیث کا متن اصلاًصحیح مسلم ،رقم۴۱سے لیا گیا ہے ۔اِس کے راوی عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ۔اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:
مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۱۰۶۴۱۔مسند احمد، رقم۴۵۱، ۴۸۴۔السنن الکبریٰ، نسائی رقم ۱۰۴۳۹۔ ۱۰۴۴۰۔صحیح ابن حبان، رقم۲۰۳۔مستخرج،ابی عوانہ،رقم۸۔المعجم الاوسط ،طبرانی، رقم۱۶۹۸۔
اِسی مضمون کو جن دوسرے صحابہ نے نقل کیا ہے ،وہ یہ ہیں: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ،انس بن مالک رضی اللہ عنہ،ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ،جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ،ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ،سہل بن بیضاء رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ،ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ۔
اِن صحابہ سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:
مسند طیالسی، رقم ۴۴۰۔ مسند اسحاق، رقم ۱۷۳۔ مسند احمد، رقم ۱۳۲۹۹، ۲۱۴۶۷، ۲۰۸۹۳، ۲۲۹۰۳، ۳۴۹۴، ۱۰۴۵۹، ۱۰۸۹۸، ۱۱۵۴۱، ۱۵۴۲۴، ۱۹۱۶۰۔ صحیح بخاری، رقم ۱۱۶۷، ۳۰۰۱۔ صحیح مسلم، رقم ۱۴۰۔۱۴۱۔ سنن ابوداؤد، رقم ۲۷۱۱۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۶۶۸۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۴۱۴۳۔ مسند شاشی، رقم ۱۰۷۷، ۱۳۰۱۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۸۲۷۲، ۱۶۵۱۸، ۹۹۲۳۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۷۹۶، ۶۶۹۶، ۲۱۸۰۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم، ۱۹۱۲۴، ۱۹۱۲۵۔ مسند حمیدی، رقم۳۶۴۔
۲۔عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی بعض طرق ،مثلاً السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۱۰۴۳۹ میں ’یَعْلَمُ‘ کے بجاے ’یَشْہَدُ‘ ’’وہ گواہی دیتا ہے‘‘ نقل ہوا ہے۔ اُنھی سے مروی بعض طرق، مثلاًابن خزیمہ کی التوحید، رقم، ۵۱۷ میں ’عَلِمَ‘ بھی منقول ہے۔
۳۔مستخرج ابی عوانہ ،رقم۹کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت دو دفعہ دہرائی ۔
۴۔اِس حدیث کا متن اصلاًصحیح مسلم،رقم۵۰سے لیا گیاہے۔اِس کے راوی انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے اِس روایت کو جن کتابوں میں نقل کیا گیا ہے ،وہ درج ذیل ہیں:
مسند احمد، رقم ۱۲۱۵۶، ۱۵۱۴۶، ۲۱۴۳۹۔ صحیح بخاری، رقم۱۲۶۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۸۴۷۳، ۱۰۴۶۰۔ صحیح ابن حبان، رقم ۲۲۴، ۳۰۳۶۔ مسند شاشی، رقم۱۲۶۰۔
یہی مضمون جن دوسرے صحابہ سے نقل ہوا ہے،وہ یہ ہیں:معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ابو عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ۔
اِن صحابہ سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں منقول ہے:
مسند طیالسی ،رقم ۲۰۶۴۔مسند احمد،رقم۲۱۴۳۹۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۳۱۸۲۔ السنن الکبریٰ، نسائی،رقم۱۰۴۶۰۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۶۵۲۱، ۱۶۵۳۵، ۱۶۶۷۳۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم ۷۳۵، ۲۰۶۴۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۱۵۲۱۔
۵۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۱۰۴۶۰۔
۶۔مسند احمد ،رقم ۱۲۱۵۲ میں ’فَلَنْ تَطْعَمَہُ النَّار‘ ’’تو اُس کو آگ ہرگز نہیں کھائے گی ‘‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت جبریل امین نے دی اور آپ نے آگے صحابہ کو دے دی۔ مسند شامیین، طبرانی، رقم ۵۲۵ میں یہ واقعہ اِس طرح بیان ہوا ہے کہ صحابہ ایک غزوہ میں شریک تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا ،اور اُن کی طرف مسکرا کر دیکھا۔آپ نے دو مرتبہ ایسا ہی کیا، پھر فرمایا:جانتے ہو ،میں نے اللہ اکبر کیوں کہا اور کیوں مسکرایا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اُس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ابھی جبریل آئے تھے ،اُنھوں نے میری سواری کی لگام تھامی اور کہا:اے محمد ،اپنی امت کو خوش خبری دے دو کہ جس شخص کو موت اِس حالت میں آئے کہ وہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ یکتا ہے،اُس کا کوئی شریک نہیں اور محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں ، اللہ اُس پر دوزخ کو حرام کردے گا۔
۷۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول بعض روایات، مثلاً صحیح مسلم ،رقم ۴۹میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس بشارت کے اعلان عام کی اجازت دے دی تھی،مگر عمر رضی اللہ عنہ نے یہی بات کہہ کر آپ سے درخواست کی کہ یہ نہ کریں۔اُن کے الفاظ ہیں: ’فَإِنِّیْ أَخْشٰی أَنْ یَتَّکِلَ النَّاسُ‘ ’’مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اِسی پر بھروسا کر کے نہ بیٹھ رہیں‘‘۔ چنانچہ آپ رک گئے۔اِس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ معاذ بن جبل سے یہ گفتگو غالباً اِس واقعہ کے بعد ہوئی ہے۔
انس بن مالک سے مروی بعض طرق، مثلاً صحیح مسلم،رقم ۴۶ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مکالمہ اِس طرح نقل ہوا ہے:

’قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟ قُلْتُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ یَعْبُدُوْہُ وَلَا یُشْرِکُوْا بِہِ شَیْءًا، ثُمَّ سَارَ سَاعَۃً، قَالَ: یَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّیْکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ، قَالَ:ہَلْ تَدْرِیْ مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ، إِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ؟ قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ لَّا یُعَذِّبَہُمْ‘
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ سے فرمایا:کیا تم جانتے ہوکہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟معاذ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا :اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا :تو سنو، وہ یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھیرایا جائے۔کچھ دیر توقف کے بعد آپ نے کہا :اے معاذ،ِ ِِمعاذ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول،میں آپ کی خدمت کے لیے موجود ہوں۔آپ نے فرمایا: جانتے ہو، جب بندے یہ کر لیں تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟معاذ نے پھر عرض کیا:اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا:یہ کہ اللہ اُنھیں عذاب نہ دے۔‘‘

۸۔اِس روایت کا متن اصلاًصحیح مسلم ،رقم۴۴سے لیا گیا ہے ۔اِس کے راوی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت جن مصادر میں نقل ہوئی ہے، وہ درج ذیل ہیں:
مسنداحمد، رقم۲۲۰۶۹۔صحیح بخاری، رقم۳۲۰۴۔السنن الکبریٰ ،نسائی ،رقم۱۰۴۵۷،۱۰۶۱۹۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۷۔ مسند شاشی،رقم ۱۱۵۸۔صحیح ابن حبان،رقم۲۲۰۶۹۔مسند شامیین ،طبرانی،رقم۳۲۔
۹۔صحیح بخاری،رقم۳۲۰۴۔
۱۰۔مسند شامیین،طبرانی ،رقم۵۴۳۔
۱۱۔صحیح بخاری،رقم۳۲۰۴۔بعض دوسری روایات ،مثلاً صحیح بخاری،رقم ۱۱۶۷ میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے یہ بات نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:جو شخص اللہ کو الٰہ مانے اور اِس بات کا اقرار کرے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، وہ بہرکیف جنت میں جائے گا،اگرچہ اُس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو۔
۱۲۔ اِس روایت کا متن اصلاً صحیح مسلم، رقم ۲۰سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:
مسند احمد، رقم۱۴۳۹۴، ۱۴۷۴۷۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۱۹۴۰، ۲۲۹۵۔مستخرج ابی عوانہ،رقم۵۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۷۸۶۰۔ مستخرج ابی نعیم، رقم ۹۶۔۹۷۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۹۷۰۵۔
۱۳۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۵ میں ’إِنْ صَلَّیْتُ الْمَکْتُوْبَاتِ‘ ’’ اگر میں لازمی نمازیں پڑھوں ‘‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔
۱۴۔صحیح مسلم ،رقم ۲۱۔
۱۵۔ بعض روایتوں،مثلاً صحیح مسلم، رقم ۲۱ میں ’وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ‘ ’’میں حلال کو حلال جانوں‘‘ مقدم ذکر ہوا ہے اور ’وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ‘ ’’حرام چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھیراؤں‘‘ موخر ہے۔
۱۶۔صحیح مسلم، رقم ۲۱۔
۱۷۔صحیح مسلم رقم۲۱۔
۱۸۔اِس روایت کا متن اصلاً صحیح مسلم، رقم ۱۷ سے لیا گیا ہے ۔اِس کے راوی ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔
اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں منقول ہے:
مسند احمد، رقم۲۲۹۱۷،۲۲۹۲۹ ۔ صحیح بخاری، رقم،۵۵۵۱ ۔ السنن الصغریٰ،نسائی،رقم۴۶۴۔ مسند شاشی، رقم ۱۰۴۸۔صحیح ابن حبان، رقم۴۴۲، ۳۳۲۷ ۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۳۸۲۶۔۳۸۲۷۔
یہی مضمون متعدد صحابہ سے نقل ہوا ہے۔ اُن کے نام یہ ہیں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، صخر بن قعقاع رضی اللہ عنہ، عبداللہ سلمی رضی اللہ عنہ،اسد بن کرز رضی اللہ عنہ،عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ۔
اِن صحابہ سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:
مسنداحمد۸۳۱۱۔صحیح بخاری،رقم۵۵۵۱۔صحیح مسلم،رقم۱۹۔المعجم الکبیر،طبرانی،رقم۷۱۳۳۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۶۶۸۶۔
۱۹۔یہ اعرابی کون تھے؟اِس میں اختلاف ہے ۔طبرانی کی المعجم الکبیر، رقم۷۱۳۳کے مطابق اِن کا نام صخر بن قعقاع تھا۔ اِس کے بر خلاف عبداللہ سلمی اور اسد بن کرز کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اُن کے ساتھ پیش آیا تھا۔چنانچہ حتمی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ متعدد واقعات ہیں یا ایک ہی شخص کاواقعہ ہے جس کے نام کی تعیین میں اختلاف ہو گیا ہے۔
۲۰۔ یہ اضافہ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۷۱۳۳ میں صخر بن قعقاع رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے۔بعض دوسری روایات، مثلاًمعرفۃ الصحابہ،رقم۴۰۰۷ میں عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ عرفات میں تھے۔
۲۱۔صحیح بخاری ،رقم۵۵۵۱ ۔
۲۲۔المعجم الکبیر،طبرانی ،رقم۳ ۷۱۳۔
۲۳۔صحیح ابن حبان،رقم۳۳۲۷میں یہاں ’تَعْبُدُ‘ ’’تم اللہ کی عبادت کرو گے ‘‘کے بجائے ’أُعْبُدِ اللّٰہَ‘ ’’تم اللہ کی عبادت کرو‘‘ بہ صیغۂ امر روایت ہوا ہے۔
۲۴۔یہ اضافہ صحیح بخاری، رقم۱۳۱۵ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے۔بعض روایات ،مثلاً المعجم الکبیر، رقم۷۱۳۳ میں یہاں صخربن قعقاع رضی اللہ عنہ سے ’أَقِمِ الصَّلٰوۃَ‘ ’’تم نماز قائم کرو ‘‘ اور’أَدِّ الزَّکٰوۃَ‘ ’’ تم زکوٰۃ ادا کرو‘‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔
۲۵۔یہ اضافہ معجم الصحابہ ،رقم۷۸۷ میں عبداللہ سلمی رضی اللہ عنہ کی روایت سے لیا گیا ہے۔
۲۶۔صحیح مسلم ،رقم ۱۸میں یہاں ’وَتَصِلُ ذَا رَحِمِک‘ ’’اور اپنے رشتہ داروں سے صلح رحمی کا رویہ اختیار کرو‘‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
۲۷۔معجم الصحابہ ،رقم۷۸۷ ۔
۲۸۔یہ اضافہ صحیح بخاری ، رقم۱۳۱۵ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے۔
۲۹۔ صحیح مسلم،رقم۱۸ ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول بعض روایات، مثلاً صحیح بخاری،رقم۱۳۱۵ میں اِس جگہ یہ الفاظ ہیں: ’مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَّنْظُرَ إِلٰی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، فَلْیَنْظُرْ إِلٰی ہٰذَا‘ ’’جوشخص جنت کے لوگوں میں سے کسی کو دیکھنا چاہتا ہے ،وہ اِس آدمی کو دیکھ لے‘‘۔

المصادر والمراجع

إبن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
إبن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلانی. (۱۳۷۹ہ). فتح الباری شرح صحیح البخاری. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی. بیروت: دار المعرفۃ.
إبن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدی محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفی الباز.
إبن ماجہ. ابن ماجۃ القزوینی.(د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی. بیروت: دار الفکر.
إبن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقی. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم. (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدنی. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیبانی. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربی.
أحمد بن محمد بن حنبل الشیبانی.(د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط ۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربی.
البخاری، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح.ط۳.تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار إبن کثیر.
بدر الدین العینی. عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربی.
البیہقی، أحمد بن الحسین البیہقی.(۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبریٰ لبیہقی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.
السیوطی، جلال الدین السیوطی. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو اسحٰق الحوینی الأثری. السعودیۃ: دار إبن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشی، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشی.ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
محمد القضاعی الکلبی المزی.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال فی أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت).صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی. بیروت: دار إحیاء التراث العربی.
النسائی، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). سنن النسائی الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبدالفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النسائی.أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبریٰ للنسائی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداری، سید کسروی حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List