Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  [email protected]
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
جنت کے اعمال (۶) | اشراق
Font size +/-

جنت کے اعمال (۶)

تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

— ۱ —

قَالَ حُذَیْفَۃُ:۱ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُوْلُ: ’’إِنَّ رَجُلاً مِمَّنْ کَانَ قَبلَکُمْ أَتَاہُ مَلَکٌ لِیَقْبِضَ نَفْسَہُ،۲ فَقَالَ لَہُ: ہَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَیْرٍ؟۳ فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ، قِیْلَ لَہُ: انْظُرْ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَیْئًا غَیْرَ أَنِّيْ کُنْتُ أُبایِعُ النَّاسَ وَأُجَازِفُہُمْ،۴ فَأُنْظِرُ الْمُوْسِرَ، وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسَرِ،۵ فَأَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ‘‘.۶
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: تمھارے اگلوں میں سے ایک شخص کے پاس خدا کا فرشتہ آیا کہ اُس کی روح قبض کرے اور اُس سے دریافت کیاکہ کیا تم نے کبھی نیکی کا کوئی کام کیا ہے؟ اُس نے جواب دیا:مجھے یادنہیں۔ کہا گیا: غور کرو۔ اُس شخص نے کہا :اتنا ہی یادہے کہ میں لوگوں کو چیزیں بیچتااور اُن کے ساتھ خرید و فرخت کا معاملہ کرتا تھا تو خوش حال لوگوں کو مہلت دیتا اور جو تنگ دست ہوتے تھے، اُن سے درگذر کر لیتا تھا۔ سو اللہ نے (اِسی بنا پر) اُس کو جنت میں داخل کرنے کا فیصلہ کر دیا۔ ۱

۱۔اصل الفاظ ہیں:’فَأَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ‘۔اِن میں فعل فیصلۂ فعل کے معنی میں ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی لحاظ سے کیا ہے۔اِس طرح کی چیزیں انبیا علیہم السلام کو بالعموم رؤیا میں دکھائی جاتی ہیں اور اِن سے کسی برائی سے اجتناب یا نیکی اختیار کرنے کی ترغیب مقصود ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان و اسلام کے بعد بندہ اگر ظلم و عدوان اور فواحش کے ارتکاب جیسے بڑے گناہوں سے بچتا ہے تو اِس نوعیت کی کوئی ایک نیکی اور اُس پر مداومت بھی اُس کو جنت میں لے جانے کا باعث بن سکتی ہے۔ اِس کو اللہ کی رحمت سے بعید نہیں سمجھنا چاہیے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن مسند احمد ،رقم ۲۲۷۴۱ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔اُن سے اِس روایت کو درج ذیل کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے:
مسند ابی حنیفہ،رقم۲۰۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۲۴۱۶، ۲۲۵۷۹۔مسند احمد، رقم۲۲۷۷۲۔سنن دارمی، رقم ۲۴۶۶۔ صحیح بخاری، رقم۱۹۴۵، ۲۲۲۷۔صحیح مسلم، رقم۲۹۲۵،۲۹۲۶، ۲۹۲۷، ۲۹۲۸۔سنن ابن ماجہ،رقم۲۴۱۳۔مسند بزار، رقم ۲۴۷۷، ۲۴۸۰۔مستخرج ابی عوانہ، رقم ۴۱۸۵، ۴۱۸۸، ۴۱۸۹۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۴۰۸۱، ۱۴۰۹۱۔المعجم الصغیر، طبرانی، رقم۱۱۶۱۔ السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۱۰۱۴۴۔السنن الصغریٰ،بیہقی،رقم۹۱۰۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔اُن سے اِس کے مصادر درج ذیل ہیں:
مسند طیالسی، رقم۲۶۲۳۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۱۵۷۹، ۲۲۴۱۳، ۲۲۴۱۶۔مسند احمد،رقم ۷۳۹۷،۸۵۳۰، ۱۶۷۳۵، ۲۲۷۷۲۔صحیح بخاری،رقم۱۹۴۶، ۲۲۲۷، ۳۲۴۵۔صحیح مسلم،رقم۲۹۲۹،۲۹۳۰۔سنن ترمذی، رقم۱۲۲۴۔ مسند بزار، رقم۲۴۸۰۔ السنن الکبریٰ، رقم۶۰۷۴، ۶۰۷۵۔السنن الصغریٰ، رقم ۴۶۴۱، ۴۶۴۲۔مستخرج ابی عوانہ، رقم ۴۱۸۲، ۴۱۸۷۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۱۵۱،،۵۱۵۵۔المعجم الکبیر، رقم۱۴۱۰۵، ۱۴۰۹۱۔مسند شامیین، طبرانی، رقم۱۷۴۲۔
۲۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۱۵۷۹میں روایت کی ابتدا اِن الفاظ سے ہوئی ہے:’کَانَ رَجُلٌ فِیمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ أَتَاہُ الْمَلَکُ لِیَقْبِضَ رُوْحَہُ‘’’تمھارے اگلوں میں سے ایک آدمی تھا ۔فرشتہ اُس کی روح قبض کرنے کے لیے اُس کے پاس آیا ‘‘۔صحیح مسلم، رقم ۲۹۲۸میں اِس کا آغاز اِس طرح ہوا ہے:’أُتِيَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِہِ، آتَاہُ اللّٰہُ مَالاً‘’’اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں لایا گیا ،جسے اللہ نے مال عطا فرمایاتھا‘‘۔ صحیح مسلم، رقم۲۹۲۷میں اِ س جگہ یہ الفاظ ہیں:’أَنَّ رَجُلاً مَاتَ، فَدَخَلَ الْجَنَّۃَ‘’’ایک شخص دنیا سے رخصت ہوا اور جنت میں داخل ہوگیا‘‘۔ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول بعض طرق ،مثلاً صحیح مسلم،رقم ۲۹۲۹میں روایت اِن الفاظ سے شروع ہوتی ہے:’حُوْسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ‘’’ایک شخص کو حساب کتاب کے لیے پیش کیا گیا،جو تمھارے اگلوں میں سے تھا‘‘۔
۳۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۱۷۵۹میں یہ سوال اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے: ’فَقَالَ: ہَلْ عَمِلْتَ خَیْرًا؟‘ ’’کیا تم نے کوئی اچھا کام کیا تھا؟‘‘۔صحیح مسلم، رقم۲۹۲۸ میں اِس جگہ یہ الفاظ ہیں: ’فَقَال لَہُ: مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْیَا؟‘ ’’فرشتے نے اُس سے کہا :تم نے دنیا میں کون سا عمل کیا تھا؟‘‘ ۔صحیح مسلم، رقم۲۹۲۸ میں اِس سوال کے بعد یہ تبصرہ بھی نقل ہوا ہے:’وَلَا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدِیْثًا‘ ’’اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپانہیں سکیں گے‘‘۔
۴۔ مصنف ابن ابی شیبہ ،رقم۲۱۵۷۹میں ’کُنْتُ أُبایِعُ النَّاسَ وَأُجَازِفُہُمْ‘ کے بجاے ’أَنِّيْ کُنْتُ رَجُلاً أُجَازِفُ النَّاسَ وَأُخَالِطُہُمْ‘نقل ہوا ہے ،یعنی میں ایک ایسا شخص تھا جو لوگوں سے خرید و فروخت اور شراکت کے معاملات کیا کرتا تھا۔صحیح مسلم ،رقم۲۹۲۵ میں اِس جگہ ’کُنْتُ أُدَایِنُ النَّاسَ‘ ہے، یعنی میں لوگوں سے قرض کا معاملہ کرتا تھا۔صحیح مسلم،رقم۲۹۲۶میں یہاں ’إِلَّا أَنِّيْ کُنْتُ رَجُلاً ذَا مَالٍ، فَکُنْتُ أُطَالِبُ بِہِ النَّاسَ‘ نقل ہوا ہے، یعنی مگر یہ کہ میں صاحب ثروت تھا، لہٰذا قرض دیتا تو مجھے لوگوں سے اُس کی واپسی کا تقاضا کرنے کی ضرورت بھی پڑتی تھی۔ ابن مسعود انصاری سے منقول بعض طرق ،مثلاً مسند احمد، رقم ۱۶۷۵۳میں ’کُنْتُ أُبایِعُ النَّاسَ وَأُجَازِفُہُم‘ کے بعد اِن الفاظ کا اضافہ ہے: ’فَکَانَ یَقُوْلُ لِغِلْمَانِہِ‘ ’’تو وہ اپنے ہاں کام کرنے والے لڑکوں سے کہتا تھا‘‘۔صحیح مسلم ،ر قم ۲۹۳۰میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے اِس جگہ ’لِغِلْمَانِہِ‘ کے بجاے ’لِفَتَاہُ‘ منقول ہے۔صحیح مسلم ،رقم ۸ ۲۹۲ میں اِس مقام پر یہ اضافہ نقل ہوا ہے: ’وَکَانَ مِنْ خُلُقِيْ‘’’اور یہ میری عادت تھی‘‘۔
۵۔فرشتوں کے سوال پر اُس شخص کا جواب کیا تھا؟اِس میں الفاظ کا فرق بھی ہے اور راویوں نے بہت کچھ الٹ پلٹ بھی کر دیا ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم ،رقم ۵ ۲۹۲ میں یہ جواب اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے:’أَنْ یُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ، وَیَتَجَوَّزُوْا عَنِ الْمُوْسِرِ‘’’ تنگ دست لوگوں کو مہلت دیں اورجو خوش حال ہوں،اُن سے درگذر کریں‘‘۔ صحیح مسلم، رقم۲۹۲۸میں اِس جگہ ’فَکُنْتُ أَتَیَسَّرُ عَلَی الْمُوْسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ‘ کے الفاظ ہیں ،یعنی ’’میں خوش حال لوگوں سے نرمی برتتا تھا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تھا‘‘۔صحیح مسلم ،رقم۲۹۲۷ہی میں یہاں ’فَکُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، وَأَتَجَوَّزُ فِي السِّکَّۃِ، أَوْ فِي النَّقْدِ‘ کے الفاظ ہیں، یعنی میں تنگ دست کو مہلت دیتا تھا اور سکوںیا نقود کے معاملے میں کسی نقص یا کمی کو بھی گوارا کرتا تھا ‘‘۔صحیح بخاری، رقم۲۲۲۷میں اِس جگہ ’فَأَتَجَوَّزُ عَنِ الْمُوْسِرِ وَأُخَفِّفُ عَنِ الْمُعْسِرِ‘ نقل ہوا ہے ،یعنی ’’مال داروں سے درگذر کرتا اورتنگ دست کے لیے نرمی کردیتا تھا‘‘۔صحیح مسلم، رقم ۲۹۲۶ میں یہاں ’فَکُنْتُ أَقْبَلُ الْمَیْسُوْرَ، وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمَعْسُوْرِ‘ ہے، یعنی جو کچھ آسانی سے ملتا، اُسے قبول کر لیتا تھا او رجہاں مشکل ہوتی،اُس سے در گذر کرتا تھا۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت میں اِس جگہ یہ الفاظ ہیں:’وَکُنْتُ أُدَایِنُ النَّاسَ فَإِذَا بَعَثْتُہُ لِیَتَقَاضٰی، قُلْتُ لَہُ: خُذْ مَا تَیَسَّرَ وَاتْرُکْ مَا عَسُرَ‘ ’’میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا،چنانچہ جب اپنے کسی ملازم کو وصولی کے لیے بھیجتا تو نصیحت کرتا تھاکہ جو آسانی سے ملے لے آنا ،اور جہاں مشکل درپیش ہو، اُسے چھوڑ دینا‘‘۔ملاحظہ ہو: السنن الکبریٰ، النسائی، رقم ۴۶۴۱۔
۶۔صحیح مسلم، رقم ۲۹۲۸میں اِس جگہ یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:’فَقَالَ اللّٰہُ: أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْکَ، تَجَاوَزُوْا عَنْ عَبْدِيْ‘’’تو اللہ نے فرمایا: میں تم سے زیادہ مجھے زیبا ہے کہ یہی کروں۔ (پھر حکم دیا کہ) میرے اِس بندے کو معاف کردو‘‘۔ صحیح بخاری رقم۲۲۲۷میں یہاں’فَغُفِرَ لَہُ‘ کے الفاظ ہیں، یعنی پھر اُس کو بخش دیا گیا۔
صحیح بخاری،رقم۱۹۴۶میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے:

’’عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’کَانَ تَاجِرٌ یُدَایِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَی مُعْسِرًا، قَالَ لِفِتْیَانِہِ: تَجَاوَزُوا عَنْہُ، لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یَتَجَاوَزَ عَنَّا فَتَجَاوَزَ اللّٰہُ عَنْہُ‘‘۔
’’عبید اللہ سے روایت ہے کہ اُنھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تاجر تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔اُس کا طریقہ یہ تھا کہ جب کسی تنگ دست سے معاملہ ہوتا تو اپنے ملازمین سے کہتا تھا :اِس سے درگذر کرو ،شاید اللہ بھی ہم سے درگذر کرے ۔ سو اللہ نے بھی درگذر فرمایا اور اُس کو معاف کر دیا۔‘‘

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.
ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.
ابن ماجۃ. ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.
ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح.ط۳.تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.
بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.
السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.
الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.
محمد القضاعي الکلبي المزي.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.
مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت).صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.
النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.
النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List